حدیث نمبر: 1361
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ سَلَمَةَ بْنِ أَبِي الْحُسَامِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ الْأَكْبَرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَاهُ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أُعْطِيتُ أَرْبَعًا لَمْ يُعْطَهُنَّ أَحَدٌ مِنْ أَنْبِيَاءِ اللَّهِ : أُعْطِيتُ مَفَاتِيحَ الْأَرْضِ ، وَسُمِّيتُ أَحْمَدَ ، وَجُعِلَ التُّرَابُ لِي طَهُورًا ، وَجُعِلَتْ أُمَّتِي خَيْرَ الْأُمَمِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”مجھے چار چیزیں ایسی دی گئی ہیں، جو مجھ سے پہلے کسی نبی کو نہیں دی گئیں، مجھے زمین کے خزانے دیئے گئے ہیں، میرا نام احمد رکھا گیا ہے، مٹی کو میرے لئے پانی کی طرح پاک کرنے والا قرار دیا گیا ہے اور میری امت کو بہترین امت کا خطاب دیا گیا ہے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 1361
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن ، و تقدم برقم : 763 الا انه ذكر هناك فى الحديث خامسة، وهى قوله : «نصرت بالرعب»
حدیث نمبر: 1362
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ أَبِي ظَبْيَانَ ، أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لِعُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ، أَمَا سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " رُفِعَ الْقَلَمُ عَنْ ثَلَاثَةٍ : عَنِ النَّائِمِ حَتَّى يَسْتَيْقِظَ ، وَعَنِ الصَّغِيرِ حَتَّى يَكْبَرَ ، وَعَنِ الْمُبْتَلَى حَتَّى يَعْقِلَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے عرض کیا: اے امیر المومنین! کیا آپ نے نہیں سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تین طرح کے لوگ مرفوع القلم ہیں: (1) سویا ہوا شخص جب تک بیدار نہ ہو جائے، (2) بچہ جب تک بالغ نہ ہو جائے، (3) مجنون جب تک اس کی عقل لوٹ نہ آئے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 1362
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا اِسناد منقطع، ابو ظبيان لم يدرك عمر
حدیث نمبر: 1363
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَلَا أُعَلِّمُكَ كَلِمَاتٍ إِذَا قُلْتَهُنَّ غُفِرَ لَكَ ، عَلَى أَنَّهُ مَغْفُورٌ لَكَ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ ، لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَلِيمُ الْكَرِيمُ ، سُبْحَانَ اللَّهِ رَبِّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ ، الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کہ ”کیا میں تمہیں ایسے کلمات نہ سکھا دوں کہ جب تم انہیں زبان سے ادا کر لو تو تمہارے گناہ معاف کر دیئے جائیں حالانکہ تمہارے گناہ معاف ہو چکے، یہ کلمات کہہ لیا کرو: «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ لَا إِلٰهَ إِلَّا هُوَ الْحَلِيمُ الْكَرِيمُ سُبْحَانَ اللّٰهِ رَبِّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ.» ”اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے، وہ حلیم و کریم ہے، اللہ ہر عیب اور نقص سے پاک ہے، وہ عرش عظیم کا رب ہے، تمام تعریفیں اس اللہ کے لئے ہیں جو تمام جہانوں کو پالنے والا ہے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 1363
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن
حدیث نمبر: 1364
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، حَدَّثَنَا حُصَيْنُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنِ الْحَارِثِ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَعَنَ آكِلَ الرِّبَا ، وَمُوكِلَهُ ، وَشَاهِدَيْهِ ، وَكَاتِبَهُ ، وَالْمُحِلَّ وَالْمُحَلَّلَ لَهُ ، وَالْوَاشِمَةَ وَالْمُسْتَوْشِمَةَ ، وَمَانِعَ الصَّدَقَةِ ، وَنَهَى عَنِ النَّوْحِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دس قسم کے لوگوں پر لعنت فرمائی ہے: سود خور، سود کھلانے والا، سودی معاملات لکھنے والا، سودی معاملات کے گواہ، حلالہ کرنے والا، حلالہ کروانے والا، زکوٰۃ روکنے والا، جسم گودنے والی اور جسم گدوانے والی پر لعنت فرمائی ہے، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نوحہ کرنے سے منع فرماتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 1364
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن لغيره، وهذا اِسناد ضعيف لضعف الحارث الأعور
حدیث نمبر: 1365
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، قَالَ : يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ أَخْبَرَنِي ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ أَذْنَبَ فِي الدُّنْيَا ذَنْبًا فَعُوقِبَ بِهِ ، فَاللَّهُ أَعْدَلُ مِنْ أَنْ يُثَنِّيَ عُقُوبَتَهُ عَلَى عَبْدِهِ ، وَمَنْ أَذْنَبَ ذَنْبًا فِي الدُّنْيَا فَسَتَرَ اللَّهُ عَلَيْهِ ، وَعَفَا عَنْهُ ، فَاللَّهُ أَكْرَمُ مِنْ أَنْ يَعُودَ فِي شَيْءٍ قَدْ عَفَا عَنْهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص دنیا میں کسی گناہ کا ارتکاب کر بیٹھے اور اسے اس کی سزا بھی مل جائے تو اللہ تعالیٰ اس سے بہت عادل ہے کہ اپنے بندے کو دوبارہ سزا دے، اور جو شخص دنیا میں کوئی گناہ کر بیٹھے اور اللہ اس کی پردہ پوشی کرتے ہوئے اسے معاف فرما دے تو اللہ تعالیٰ اس سے بہت کریم ہے کہ جس چیز کو وہ معاف کر چکا ہو اس کا معاملہ دوبارہ کھولے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 1365
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 1366
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنِي أَبُو خَيْثَمَةَ . ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، قَالَا : حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَيْسَرَةَ ، عَنِ النَّزَّالِ بْنِ سَبْرَةَ ، قَالَ : صَلَّيْنَا مَعَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ الظُّهْرَ ، فَانْطَلَقَ إِلَى مَجْلِسٍ لَهُ يَجْلِسُهُ فِي الرَّحَبَةِ ، فَقَعَدَ وَقَعَدْنَا حَوْلَهُ ، ثُمَّ حَضَرَتْ الْعَصْرُ ، " فَأُتِيَ بِإِنَاءٍ ، فَأَخَذَ مِنْهُ كَفًّا ، فَتَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ وَمَسَحَ بِوَجْهِهِ وَذِرَاعَيْهِ ، وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ ، وَمَسَحَ بِرِجْلَيْهِ ، ثُمَّ قَامَ فَشَرِبَ فَضْلَ إِنَائِهِ ، ثُمَّ قَالَ : إِنِّي حُدِّثْتُ أَنَّ رِجَالًا يَكْرَهُونَ أَنْ يَشْرَبَ أَحَدُهُمْ وَهُوَ قَائِمٌ ، إِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَلَ كَمَا فَعَلْتُ " .
مولانا ظفر اقبال
نزال بن سبرہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ ظہر کی نماز پڑھی، پھر وہ اپنی نشست پر تشریف لے گئے جہاں وہ باب الرحبہ کے قریب بیٹھتے تھے، وہ بیٹھے تو ہم بھی ان کے ارد گرد بیٹھ گئے، جب عصر کی نماز کا وقت آیا تو ان کے پاس ایک برتن لایا گیا، انہوں نے اس سے ایک چلو بھرا، کلی کی، ناک میں پانی ڈالا، چہرے اور ہاتھوں پر پھیرا، سر اور پاؤں پر پھیرا، اور کھڑے ہو کر بچا ہوا پانی پی لیا، اور فرمایا کہ مجھے معلوم ہوا ہے کہ کچھ لوگ کھڑے ہو کر پانی پینے کو مکروہ سمجھتے ہیں، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح کرتے ہوئے دیکھا ہے جیسے میں نے کیا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 1366
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: اِسناد صحيح، خ : 5616
حدیث نمبر: 1367
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ الْقُرَظِيِّ ، أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " لَقَدْ رَأَيْتُنِي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَإِنِّي لَأَرْبُطُ الْحَجَرَ عَلَى بَطْنِي مِنَ الْجُوعِ ، وَإِنَّ صَدَقَتِي الْيَوْمَ لَأَرْبَعُونَ أَلْفًا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مجھ پر ایسا وقت بھی گذرا ہے کہ بھوک کی شدت سے میں اپنے پیٹ پر پتھر باندھتا تھا، اور آج میرے مال کی صرف زکوٰۃ چالیس ہزار دینار بنتی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 1367
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لا نقطاعه، محمد بن كعب القرظي لم يسمع من علي، و شريك النخعي سي الحفظ
حدیث نمبر: 1368
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ الْقُرَظِيِّ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ . . . ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ ، وَقَالَ فِيهِ : " وَإِنَّ صَدَقَةَ مَالِي لَتَبْلُغُ أَرْبَعِينَ أَلْفَ دِينَارٍ " .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 1368
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف كسابقه
حدیث نمبر: 1369
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ أَبِي الطُّفَيْلِ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تُتْبِعْ النَّظَرَ النَّظَرَ ، فَإِنَّ الْأُولَى لَكَ ، وَلَيْسَتْ لَكَ الْآخِرَةُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”علی! پہلی نظر کسی نا محرم پر پڑنے کے بعد اس پر دوسری نظر نہ ڈالنا، کیونکہ پہلی نظر تو تمہیں معاف ہوگی، دوسری نہیں ہوگی۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 1369
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن لغيره، وهذا اِسناد ضعيف ، محمد بن اسحاق مدلس وقد عنعن
حدیث نمبر: 1370
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ ، أخبرنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : لَمَّا وُلِدَ الْحَسَنُ سَمَّاهُ حَمْزَةَ ، فَلَمَّا وُلِدَ الْحُسَيْنُ سَمَّاهُ بِعَمِّهِ جَعْفَرٍ ، قَالَ : فَدَعَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " إِنِّي أُمِرْتُ أَنْ أُغَيِّرَ اسْمَ هَذَيْنِ " ، فَقُلْتُ : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ ، فَسَمَّاهُمَا حَسَنًا وَحُسَيْنًا .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب حسن کی پیدائش ہوئی تو ان کا نام حمزہ رکھا گیا، اور جب حسین کی پیدائش ہوئی تو ان کا نام ان کے چچا کے نام پر جعفر رکھا گیا، بعد میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلایا اور فرمایا: ”مجھے حکم دیا گیا ہے کہ ان دونوں کے نام بدل دوں۔“ میں نے عرض کیا کہ اللہ اور اس کے رسول ہی بہتر جانتے ہیں، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا نام علی الترتیب حسن اور حسین رکھ دیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 1370
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 1371
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ أَبِي صَادِقٍ ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ نَاجِذٍ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : جَمَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَوْ دَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ، فِيهِمْ رَهْطٌ كُلُّهُمْ يَأْكُلُ الْجَذَعَةَ ، وَيَشْرَبُ الْفَرَقَ ، قَالَ : فَصَنَعَ لَهُمْ مُدًّا مِنْ طَعَامٍ ، فَأَكَلُوا حَتَّى شَبِعُوا ، قَالَ : وَبَقِيَ الطَّعَامُ كَمَا هُوَ كَأَنَّهُ لَمْ يُمَسَّ ، ثُمَّ دَعَا بِغُمَرٍ ، فَشَرِبُوا حَتَّى رَوَوْا ، وَبَقِيَ الشَّرَابُ كَأَنَّهُ لَمْ يُمَسَّ أَوْ لَمْ يُشْرَبْ ، فَقَالَ : " يَا بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ، إِنِّي بُعِثْتُ لَكُمْ خَاصَّةً ، وَإِلَى النَّاسِ بِعَامَّةٍ ، وَقَدْ رَأَيْتُمْ مِنْ هَذِهِ الْآيَةِ مَا رَأَيْتُمْ ، فَأَيُّكُمْ يُبَايِعُنِي عَلَى أَنْ يَكُونَ أَخِي وَصَاحِبِي ؟ " ، قَالَ : فَلَمْ يَقُمْ إِلَيْهِ أَحَدٌ ، قَالَ : فَقُمْتُ إِلَيْهِ ، وَكُنْتُ أَصْغَرَ الْقَوْمِ ، قَالَ : فَقَالَ : " اجْلِسْ " ، قَالَ : ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ، كُلُّ ذَلِكَ أَقُومُ إِلَيْهِ ، فَيَقُولُ لِي : " اجْلِسْ " ، حَتَّى كَانَ فِي الثَّالِثَةِ ضَرَبَ بِيَدِهِ عَلَى يَدِي .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو عبدالمطلب کو دعوت پر جمع فرمایا، ان میں سے کچھ لوگ تو ایسے تھے کہ پورا پورا بکری کا بچہ کھا جاتے اور سولہ رطل کے برابر پانی پی جاتے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سب کی دعوت میں صرف ایک مد (آسانی کے لئے ایک کلو فرض کر لیں) کھانا تیار کروایا، ان لوگوں نے کھانا شروع کیا تو اتنے سے کھانے میں وہ سب لوگ سیر ہوگئے اور کھانا ویسے ہی بچا رہا، محسوس ہوتا تھا کہ اسے کسی نے چھوا تک نہیں ہے، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تھوڑا سا پانی منگوایا، وہ ان سب نے سیراب ہو کر پیا لیکن پانی اسی طرح بچا رہا اور ایسا محسوس ہوتا تھا کہ اسے کسی نے ہاتھ تک نہیں لگایا۔ ان تمام مراحل سے فراغت پا کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے مخاطب ہو کر فرمایا: ”اے بنو عبدالمطلب! مجھے خصوصیت کے ساتھ تمہاری طرف اور عمومیت کے ساتھ پوری انسانیت کی طرف مبعوث کیا گیا ہے، اور تم نے کھانے کا یہ معجزہ تو دیکھ ہی لیا ہے، اب تم میں سے کون مجھ سے اس بات پر بیعت کرتا ہے کہ وہ میرا بھائی اور میرا ساتھی بنے؟“ اس پر کوئی بھی کھڑا نہ ہوا، یہ دیکھ کر - کہ اگرچہ میں سب سے چھوٹا ہوں - میں کھڑا ہو گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بیٹھ جانے کا حکم دیا اور تین مرتبہ اپنی بات کو دہرایا، اور تینوں مرتبہ اسی طرح ہوا کہ میں کھڑا ہو جاتا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم مجھے بیٹھنے کا حکم دے دیتے، یہاں تک کہ تیسری مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ میرے ہاتھ پر مارا (بیعت فرما لیا)۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 1371
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لجهالة ربيعة بن ناجذ
حدیث نمبر: 1372
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَيْسَرَةَ ، عَنِ النَّزَّالِ بْنِ سَبْرَةَ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّهُ " شَرِبَ وَهُوَ قَائِمٌ ، ثُمَّ قَالَ : هَكَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
مولانا ظفر اقبال
نزال بن سبرہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے وضو کا بچا ہوا پانی کھڑے ہو کر پیا اور فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح کرتے ہوئے دیکھا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 1372
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ : 5616
حدیث نمبر: 1373
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ أَبِي الطُّفَيْلِ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُ : " يَا عَلِيُّ ، إِنَّ لَكَ كَنْزًا مِنَ الْجَنَّةِ ، وَإِنَّكَ ذُو قَرْنَيْهَا ، فَلَا تُتْبِعْ النَّظْرَةَ النَّظْرَةَ ، فَإِنَّمَا لَكَ الْأُولَى وَلَيْسَتْ لَكَ الْآخِرَةُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”اے علی! جنت میں تمہارے لئے ایک خزانہ رکھا گیا ہے اور تم اس کے دو سینگوں والے ہو (مکمل مالک ہو)، اس لئے اگر کسی نا محرم پر نظر پڑ جائے تو دوبارہ اس پر نظر مت ڈالو، کیونکہ پہلی نظر تو تمہیں معاف ہو جائے گی لیکن دوسری معاف نہیں ہوگی۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 1373
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف، محمد بن اسحاق مدلس وقد عنعن
حدیث نمبر: 1374
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي نَجِيحٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : لَمَّا نَحَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بُدْنَهُ ، نَحَرَ بِيَدِهِ ثَلَاثِينَ ، وَأَمَرَنِي فَنَحَرْتُ سَائِرَهَا ، وَقَالَ : " اقْسِمْ لُحُومَهَا بَيْنَ النَّاسِ وَجُلُودَهَا وَجِلَالَهَا ، وَلَا تُعْطِيَنَّ جَازِرًا مِنْهَا شَيْئًا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی شروع کی تو اپنے دست مبارک سے تیس اونٹ ذبح کئے اور مجھے حکم دیا تو باقی کے اونٹ میں نے ذبح کئے، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان اونٹوں کی کھالیں اور جھولیں بھی تقسیم کر دو اور گوشت بھی تقسیم کر دو، اور یہ کہ قصاب کو ان میں سے کوئی چیز مزدوری کے طور پر نہ دو۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 1374
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لانقطاعه، محمد بن اسحاق مدلس وقد عنعنه، بينه و بين ابن ابي نجيح فيه رجل مبهم كما فى رواية برقم : 2359 ثم هو مخالف لما فى صحيح مسلم : 1218 من حديث جابر : ... فنحر ثلاثاً و ستين بيده ثم اعطي علياً، فنحر ما غبر.
حدیث نمبر: 1375
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَاصِمَ بْنَ ضَمْرَةَ ، يَقُولُ : سَأَلْنَا عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ النَّهَارِ ، فَقَالَ : إِنَّكُمْ لَا تُطِيقُونَ ذَلِكَ ، قُلْنَا : مَنْ أَطَاقَ مِنَّا ذَلِكَ ، قَالَ " إِذَا كَانَتْ الشَّمْسُ مِنْ هَاهُنَا كَهَيْئَتِهَا مِنْ هَاهُنَا عِنْدَ الْعَصْرِ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ ، وَإِذَا كَانَتْ الشَّمْسُ مِنْ هَاهُنَا كَهَيْئَتِهَا مِنْ هَاهُنَا عِنْدَ الظُّهْرِ صَلَّى أَرْبَعًا ، وَيُصَلِّي قَبْلَ الظُّهْرِ أَرْبَعًا ، وَبَعْدَهَا رَكْعَتَيْنِ ، وَقَبْلَ الْعَصْرِ أَرْبَعًا ، وَيَفْصِلُ بَيْنَ كُلِّ رَكْعَتَيْنِ بِالتَّسْلِيمِ عَلَى الْمَلَائِكَةِ الْمُقَرَّبِينَ وَالنَّبِيِّينَ ، وَمَنْ تَبِعَهُمْ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُسْلِمِينَ " .
مولانا ظفر اقبال
عاصم بن ضمرہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم دن کے وقت کس طرح نوافل پڑھتے تھے؟ فرمایا: تم اس طرح پڑھنے کی طاقت نہیں رکھتے، ہم نے عرض کیا: آپ بتا دیجئے، ہم اپنی طاقت اور استطاعت کے بقدر اس پر عمل کرنے کی کوشش کریں گے، فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فجر کی نماز پڑھ کر تھوڑی دیر انتظار فرماتے، جب سورج مشرق سے اس مقدار میں نکل آتا جتنا عصر کی نماز کے بعد مغرب کی طرف ہوتا ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو کر دو رکعت نماز پڑھتے۔ پھر تھوڑی دیر انتظار فرماتے اور جب سورج مشرق سے اتنی مقدار میں نکل آتا جتنا ظہر کی نماز کے بعد مغرب کی طرف ہوتا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو کر چار رکعت نماز پڑھتے، پھر سورج ڈھلنے کے بعد چار رکعتیں ظہر سے پہلے، دو رکعتیں ظہر کے بعد اور چار رکعتیں عصر سے پہلے پڑھتے تھے، اور ہر دو رکعتوں میں ملائکہ مقربین، انبیاء کرام علیہم السلام اور ان کی پیروی کرنے والے مسلمانوں اور مومنین کے لئے سلام کے کلمات کہتے (تشہد پڑھتے)۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 1375
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده قوي
حدیث نمبر: 1376
(حديث مرفوع) قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ : حَدَّثَنِي سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ أَبُو الْحَارِثِ ، حَدَّثَنَا أَبُو حَفْصٍ الْأَبَّارُ ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ حَصِيرَةَ ، عَنْ أَبِي صَادِقٍ ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ نَاجِذٍ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ لِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فِيكَ مَثَلٌ مِنْ عِيسَى ، أَبْغَضَتْهُ يَهُودُ حَتَّى بَهَتُوا أُمَّهُ ، وَأَحَبَّتْهُ النَّصَارَى حَتَّى أَنْزَلُوهُ بِالْمَنْزِلَةِ الَّتِي لَيْسَ بِهِ " ، ثُمَّ قَالَ : يَهْلِكُ فِيَّ رَجُلَانِ : مُحِبٌّ مُفْرِطٌ يُقَرِّظُنِي بِمَا لَيْسَ فِيَّ ، وَمُبْغِضٌ يَحْمِلُهُ شَنَآنِي عَلَى أَنْ يَبْهَتَنِي .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”تمہارے معاملہ میں وہی ہوگا جیسا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ ہوا، یہودیوں نے ان سے بغض کیا یہاں تک کہ ان کی والدہ پر گناہ کا بہتان باندھا، اور عیسائیوں نے ان سے اتنی محبت کی کہ انہیں اس مقام پر پہنچا دیا جو ان کا مقام و مرتبہ نہ تھا۔“ پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میرے متعلق دو قسم کے لوگ ہلاک ہوں گے، ایک وہ محبت میں حد سے آگے بڑھ جانے والے جو مجھے اس مقام پر فائز کر دیں گے جو میرا مقام نہیں ہے، اور دوسرے وہ بغض رکھنے والے جو میری عداوت میں آ کر مجھ پر ایسے بہتان باندھیں گے جن کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 1376
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف الحكم بن عبدالمك القرشي، ولجهالة ربيعة بن ناجذ
حدیث نمبر: 1377
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنِي أَبُو مُحَمَّدٍ سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعِ بْنِ الْجَرَّاحِ بْنِ مَلِيحٍ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو غَيْلَانَ الشَّيْبَانِيُّ ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ حَصِيرَةَ ، عَنْ أَبِي صَادِقٍ ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ نَاجِدٍ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : دَعَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " إِنَّ فِيكَ مِنْ عِيسَى مَثَلًا ، أَبْغَضَتْهُ يَهُودُ حَتَّى بَهَتُوا أُمَّهُ ، وَأَحَبَّتْهُ النَّصَارَى حَتَّى أَنْزَلُوهُ بِالْمَنْزِلِ الَّذِي لَيْسَ بِهِ " ، أَلَا وَإِنَّهُ يَهْلِكُ فِيَّ اثْنَانِ : مُحِبٌّ يُقَرِّظُنِي بِمَا لَيْسَ فِيَّ ، وَمُبْغِضٌ يَحْمِلُهُ شَنَآنِي عَلَى أَنْ يَبْهَتَنِي ، أَلَا إِنِّي لَسْتُ بِنَبِيٍّ ، وَلَا يُوحَى إِلَيَّ ، وَلَكِنِّي أَعْمَلُ بِكِتَابِ اللَّهِ وَسُنَّةِ نَبِيِّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا اسْتَطَعْتُ ، فَمَا أَمَرْتُكُمْ مِنْ طَاعَةِ اللَّهِ ، فَحَقٌّ عَلَيْكُمْ طَاعَتِي فِيمَا أَحْبَبْتُمْ وَكَرِهْتُمْ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلا کر فرمایا: ”تمہارے معاملہ میں وہی ہوگا جیسا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ ہوا، یہودیوں نے ان سے بغض کیا یہاں تک کہ ان کی والدہ پر گناہ کا بہتان باندھا، اور عیسائیوں نے ان سے اتنی محبت کی کہ انہیں اس مقام پر پہنچا دیا جو ان کا مقام و مرتبہ نہ تھا۔“ پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میرے متعلق دو قسم کے لوگ ہلاک ہوں گے، ایک وہ محبت میں حد سے آگے بڑھ جانے والے جو مجھے اس مقام پر فائز کر دیں گے جو میرا مقام نہیں ہے، اور دوسرے وہ بغض رکھنے والے جو میری عداوت میں آ کر مجھ پر ایسے بہتان باندھیں جن کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ خبردار! میں نبی نہیں ہوں اور نہ ہی مجھ پر وحی آتی ہے، میں تو حسب استطاعت صرف کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر عمل پیرا ہوں، اس لئے اللہ کی اطاعت کے حوالے سے میں تمہیں جو حکم دوں - خواہ وہ تمہیں اچھا لگے یا برا - اس میں تم پر میری اطاعت کرنا میرا حق بنتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 1377
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف كسابقه
حدیث نمبر: 1378
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنِي أَبُو خَيْثَمَةَ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ مَالِكٍ الْمُزَنِيُّ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، فَقَالَ : إِنِّي دَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَيْسَ عِنْدَهُ أَحَدٌ إِلَّا عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، فَقَالَ : " يَا ابْنَ أَبِي طَالِبٍ ، كَيْفَ أَنْتَ وَقَوْمَ كَذَا وَكَذَا ؟ " ، قَالَ : قُلْتُ : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ ، قَالَ : " قَوْمٌ يَخْرُجُونَ مِنَ الْمَشْرِقِ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ ، لَا يُجَاوِزُ تَرَاقِيَهُمْ ، يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ مُرُوقَ السَّهْمِ مِنَ الرَّمِيَّةِ ، فَمِنْهُمْ رَجُلٌ مُخْدَجُ الْيَدِ ، كَأَنَّ يَدَيْهِ ثَدْيُ حَبَشِيَّةٍ " .
مولانا ظفر اقبال
کلیب کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا تو انہوں نے فرمایا کہ ایک مرتبہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اس وقت سوائے سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کوئی اور نہ تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دیکھ کر فرمایا: ”اے ابن ابی طالب! تمہارا اس وقت کیا حال ہوگا جب ایسی ایسی قوم سے تمہارا پالا پڑے گا؟“ میں نے عرض کیا کہ اللہ اور اس کا رسول ہی زیادہ جانتے ہیں، فرمایا: ”ایک قوم ہوگی جو مشرق سے نکلے گی، وہ لوگ قرآن تو پڑھتے ہوں گے لیکن وہ ان کے حلق سے آگے نہ جا سکے گا، وہ لوگ دین سے اس طرح نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے نکل جاتا ہے، ان میں ایک آدمی ایسا بھی ہوگا جس کا ہاتھ ناقص ہوگا، اور اس کے ہاتھ ایک حبشی عورت کی چھاتی کی طرح محسوس ہوں گے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 1378
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده جيد
حدیث نمبر: 1379
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ أَبُو مَعْمَرٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ ، حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ كُلَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، إِذْ دَخَلَ عَلَيْهِ رَجُلٌ عَلَيْهِ ثِيَابُ السَّفَرِ ، فَاسْتَأْذَنَ عَلَى عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَهُوَ يُكَلِّمُ النَّاسَ ، فَشُغِلَ عَنْهُ ، فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : إِنِّي دَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعِنْدَهُ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، فَقَالَ لِي : " كَيْفَ أَنْتَ وَقَوْمَ كَذَا وَكَذَا ؟ " ، فَقُلْتُ : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ ، ثُمَّ عَادَ ، فَقُلْتُ : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ ، قَالَ : فَقَالَ : " قَوْمٌ يَخْرُجُونَ مِنْ قِبَلِ الْمَشْرِقِ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ تَرَاقِيَهُمْ ، يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ ، فِيهِمْ رَجُلٌ مُخْدَجُ الْيَدِ ، كَأَنَّ يَدَهُ ثَدْيُ حَبَشِيَّةٍ " ، أَنْشُدُكُمْ بِاللَّهِ هَلْ أَخْبَرْتُكُمْ أَنَّ فِيهِمْ ، . . . ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ .
مولانا ظفر اقبال
کلیب کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا، ایک آدمی ان کے پاس آیا جس پر سفر کے کپڑے تھے، اس نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے - جو کہ لوگوں سے گفتگو فرما رہے تھے - اندر آنے کی اجازت لی، سیدنا علی رضی اللہ عنہ اس سے منہ پھیرنے کے بعد فرمانے لگے کہ ایک مرتبہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اس وقت سوائے سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کوئی اور نہ تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دیکھ کر فرمایا: ”اے ابن ابی طالب! تمہارا اس وقت کیا حال ہوگا جب ایسی ایسی قوم سے تمہارا پالا پڑے گا؟“ میں نے عرض کیا کہ اللہ اور اس کا رسول ہی زیادہ جانتے ہیں، دو مرتبہ اسی طرح ہوا ، پھر فرمایا: ”ایک قوم ہوگی جو مشرق سے نکلے گی، وہ لوگ قرآن تو پڑھتے ہوں گے لیکن وہ ان کے حلق سے آگے نہ جا سکے گا، وہ لوگ دین سے اس طرح نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے نکل جاتا ہے، ان میں ایک آدمی ایسا بھی ہوگا جس کا ہاتھ ناقص ہوگا، اور اس کے ہاتھ ایک حبشی عورت کی چھاتی کی طرح محسوس ہوں گے۔“ . . . . . اس کے بعد انہوں نے مکمل حدیث ذکر کی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 1379
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده جيد
حدیث نمبر: 1380
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنِي سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعِ بْنِ الْجَرَّاحِ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي حَيَّةَ الْوَادِعِيِّ ، وعَمْرٍو ذِي مُرٍّ ، قَالَ : أَبْصَرْنَا عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ " تَوَضَّأَ فَغَسَلَ يَدَيْهِ ، وَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ ، قَالَ : وَأَنَا أَشُكُّ فِي الْمَضْمَضَةِ وَالِاسْتِنْشَاقِ ثَلَاثًا ، ذَكَرَهَا أَمْ لَا ؟ وَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا ، وَيَدَيْهِ ثَلَاثًا ، كُلَّ وَاحِدَةٍ مِنْهُمَا ثَلَاثًا ، وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ وَأُذُنَيْهِ ، قَالَ أَحَدُهُمَا : ثُمَّ أَخَذَ غَرْفَةً فَمَسَحَ بِهَا رَأْسَهُ ، ثُمَّ قَامَ فَشَرِبَ فَضْلَ وَضُوئِهِ ، ثُمَّ قَالَ : هَكَذَا كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ " .
مولانا ظفر اقبال
عبدخیر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ہمیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ وضو سکھایا، چنانچہ سب سے پہلے انہوں نے اپنے ہاتھوں کو دھویا، کلی کی، ناک میں پانی ڈالا، تین مرتبہ چہرہ دھویا، دونوں بازوؤں کو کہنیوں سمیت تین تین مرتبہ دھویا، پھر دوبارہ اپنے ہاتھوں کو برتن میں ڈالا اور اپنے ہاتھ کو اس کے نیچے ڈبو دیا، پھر اسے باہر نکال کر دوسرے ہاتھ پر مل لیا اور دونوں ہتھیلیوں سے سر کا ایک مرتبہ مسح کیا، اور ٹخنوں سمیت دونوں پاؤں تین تین مرتبہ دھوئے، پھر ہتھیلی سے چلو بنا کر تھوڑا سا پانی لیا اور اسے پی گئے، اور فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسی طرح وضو کیا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 1380
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن لغيره، وإسناده ضعيف لضعف سفيان بن وكيع وقد توبع، و عمرو ذومر مجهول وتابعه هنا ابوحية الوادعي
حدیث نمبر: 1380M
آخِرُ مُسْنَدِ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ‏.‏
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 1380M