حدیث نمبر: 1321
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو بُرْدَةَ بْنُ أَبِي مُوسَى ، قَالَ : كُنْتُ جَالِسًا مَعَ أَبِي مُوسَى فَأَتَانَا عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، فَقَامَ عَلَى أَبِي مُوسَى ، فَأَمَرَهُ بِأَمْرٍ مِنْ أَمْرِ النَّاسِ ، قَالَ : قَالَ عَلِيٌّ : قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " قُلْ : اللَّهُمَّ اهْدِنِي وَسَدِّدْنِي ، وَاذْكُرْ بِالْهُدَى هِدَايَتَكَ الطَّرِيقَ ، وَاذْكُرْ بِالسَّدَادِ تَسْدِيدَ السَّهْمِ " ، وَنَهَانِي أَنْ أَجْعَلَ خَاتَمِي فِي هَذِهِ ، وَأَهْوَى أَبُو بُرْدَةَ إِلَى السَّبَّابَةِ أَوْ الْوُسْطَى ، قَالَ عَاصِمٌ : أَنَا الَّذِي اشْتَبَهَ عَلَيَّ أَيَّتَهُمَا عَنَى ، وَنَهَانِي عَنِ الْمِيثَرَةِ ، وَالْقَسِّيَّةِ ، قَالَ أَبُو بُرْدَةَ : فَقُلْتُ : يَا أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ ، مَا الْمِيثَرَةُ وَمَا الْقَسِّيَّةُ ؟ قَالَ : أَمَّا الْمِيثَرَةُ : شَيْءٌ كَانَتْ تَصْنَعُهُ النِّسَاءُ لِبُعُولَتِهِنَّ يَجْعَلُونَهُ عَلَى رِحَالِهِمْ ، وَأَمَّا الْقَسِّيُّ : فَثِيَابٌ كَانَتْ تَأْتِينَا مِنَ الشَّامِ أَوْ الْيَمَنِ ، شَكَّ عَاصِمٌ ، فِيهَا حَرِيرٌ ، فِيهَا أَمْثَالُ الْأُتْرُجِّ ، قَالَ أَبُو بُرْدَةَ : فَلَمَّا رَأَيْتُ السَّبَنِيَّ عَرَفْتُ أَنَّهَا هِيَ .
مولانا ظفر اقبال
ابوبردہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں اپنے والد کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ تشریف لے آئے، انہوں نے آ کر ہمیں سلام کیا اور میرے والد صاحب کو لوگوں کا کوئی معاملہ سپرد فرمایا، اور فرمانے لگے کہ مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تھا: ”اللہ سے ہدایت کی دعا مانگا کرو اور ہدایت سے ہدایت الطریق مراد لے لیا کرو، اور اللہ سے درستگی اور سداد کی دعا کیا کرو اور اس سے تیر کی درستگی مراد لیا کرو۔“ نیز نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے شہادت یا درمیان والی انگلی میں انگوٹھی پہننے سے منع فرمایا ہے۔ راوی کہتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے تھے اس لئے انگلیوں کا اشارہ میں صحیح طور پر سمجھ نہ سکا، پھر انہوں نے فرمایا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے سرخ دھاری دار اور ریشمی کپڑوں سے منع فرمایا ہے، ہم نے پوچھا: امیر المومنین! «مِيثَرَة» (یہ لفظ حدیث میں استعمال ہوا ہے) سے کیا مراد ہے؟ یہ کیا چیز ہوتی ہے؟ فرمایا: عورتیں اپنے شوہروں کی سواری کے کجاوے پر رکھنے کے لئے ایک چیز بناتی تھیں (جسے زین پوش کہا جاتا ہے) اس سے وہ مراد ہے، پھر ہم نے پوچھا کہ «قِسِّيَّة» سے کیا مراد ہے؟ انہوں نے فرمایا: شام کے وہ کپڑے جن میں اترج جیسے نقش و نگار بنے ہوتے تھے۔ ابوبردہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ جب میں نے کتان کے بنے ہوئے کپڑے دیکھے تو میں سمجھ گیا کہ یہ وہی ہیں۔
حدیث نمبر: 1322
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ أَخُو حَجَّاجٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ : قَالَ رَجُلٌ لِعَلِيٍّ : يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ، أَيُّ شَهْرٍ تَأْمُرُنِي أَنْ أَصُومَ بَعْدَ رَمَضَانَ ؟ فَقَالَ : مَا سَمِعْتُ أَحَدًا سَأَلَ عَنْ هَذَا بَعْدَ رَجُلٍ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَيُّ شَهْرٍ تَأْمُرُنِي أَنْ أَصُومَ بَعْدَ رَمَضَانَ ؟ فَقَالَ : " إِنْ كُنْتَ صَائِمًا شَهْرًا بَعْدَ رَمَضَانَ فَصُمْ الْمُحَرَّمَ ، فَإِنَّهُ شَهْرُ اللَّهِ ، وَفِيهِ يَوْمٌ تَابَ عَلَى قَوْمٍ ، وَيَتُوبُ فِيهِ عَلَى قَوْمٍ " .
مولانا ظفر اقبال
نعمان بن سعد کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا: امیر المومنین! رمضان کے بعد آپ مجھے کس مہینے کے روزے رکھنے کی تاکید کرتے ہیں؟ فرمایا کہ میں نے صرف ایک آدمی کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسا سوال کرتے ہوئے سنا تھا، اس کے بعد یہ واحد آدمی ہے جس سے میں یہ سوال سن رہا ہوں، اس کے جواب میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: ”اگر تم رمضان کے بعد کسی مہینے کے روزے رکھنا چاہتے ہو تو ماہ محرم کے روزے رکھو، کیونکہ یہ اللہ کا مہینہ ہے، اس میں ایک دن ایسا ہے جس میں اللہ نے ایک قوم کی توبہ قبول کی تھی اور اللہ ایک قوم کی توبہ قبول کرے گا۔“
حدیث نمبر: 1323
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عَبْدِ الْمُؤْمِنِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ . ح وحَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اللَّهُمَّ بَارِكْ لِأُمَّتِي فِي بُكُورِهَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کرتے ہوئے فرمایا: «اَللّٰهُمَّ بَارِكْ لِأُمَّتِي فِي بُكُوْرِهَا» ”اے اللہ! میری امت کے صبح کے اوقات میں برکت عطاء فرما۔“
حدیث نمبر: 1324
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، أُرَاهُ عَنْ أَبِي عَوَانَةَ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ ، قَالَ : أَتَيْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَقَدْ صَلَّى ، فَدَعَا بِطَهُورٍ ، فَقُلْنَا : مَا يَصْنَعُ بِالطَّهُورِ وَقَدْ صَلَّى ؟ مَا يُرِيدُ إِلَّا أَنْ يُعَلِّمَنَا ، " فَأُتِيَ بِطَسْتٍ وَإِنَاءٍ ، فَرَفَعَ الْإِنَاءَ فَصَبَّ عَلَى يَدِهِ ، فَغَسَلَهَا ثَلَاثًا ، ثُمَّ غَمَسَ يَدَهُ فِي الْإِنَاءِ ، فَمَضْمَضَ وَاسْتَنْثَرَ ثَلَاثًا ، ثُمَّ تَمَضْمَضَ وَتَنَثَّرَ مِنَ الْكَفِّ الَّذِي أَخَذَ مِنْهُ ، ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا ، وَغَسَلَ يَدَهُ الْيُمْنَى ثَلَاثًا ، وَيَدَهُ الشِّمَالَ ثَلَاثًا ، ثُمَّ جَعَلَ يَدَهُ فِي الْمَاءِ ، فَمَسَحَ بِرَأْسِهِ مَرَّةً وَاحِدَةً ، ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَهُ الْيُمْنَى ثَلَاثًا ، وَرِجْلَهُ الشِّمَالَ ثَلَاثًا ، ثُمَّ قَالَ : مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَعْلَمَ طُهُورَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَهُوَ هَذَا " .
مولانا ظفر اقبال
عبدخیر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا تو وہ نماز پڑھ چکے تھے، انہوں نے پانی منگوایا، ہم سوچنے لگے کہ نماز پڑھنے کے بعد اب یہ پانی کا کیا کریں گے؟ ان کا مقصد صرف ہمیں تعلیم دینا تھا، چنانچہ ان کے پاس ایک طشت اور برتن لایا گیا، انہوں نے وہ برتن اٹھایا اور اپنے ہاتھوں پر پانی ڈالا، اور تین مرتبہ انہیں دھویا، پھر اسے برتن میں ڈالا، تین مرتبہ کلی کی، ناک میں پانی ڈالا، تین مرتبہ ناک صاف کی اور تین مرتبہ چہرہ دھویا، دونوں بازوؤں کو کہنیوں سمیت تین تین مرتبہ دھویا، پھر دوبارہ اپنے ہاتھوں کو برتن میں ڈالا اور دونوں ہتھیلیوں سے سر کا ایک مرتبہ مسح کیا، اور ٹخنوں سمیت دونوں پاؤں تین تین مرتبہ دھوئے، پھر فرمایا کہ جو شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ وضو معلوم کرنا چاہتا ہے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسی طرح وضو کیا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 1325
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُعَاذٌ ، أخبرنا زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ أَبُو خَيْثَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ الْجَزَرِيِّ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَقُومَ عَلَى بُدْنِهِ ، وَأَنْ أَتَصَدَّقَ بِلُحُومِهَا وَجُلُودِهَا وَأَجِلَّتِهَا ، وَأَنْ لَا أُعْطِيَ الْجَازِرَ مِنْهَا ، قَالَ : " نَحْنُ نُعْطِيهِ مِنْ عِنْدِنَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ قربانی کے موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ موجود رہوں، اور یہ کہ ان اونٹوں کی کھالیں اور جھولیں بھی تقسیم کر دوں اور گوشت بھی تقسیم کر دوں، اور یہ بھی حکم دیا کہ قصاب کو ان میں سے کوئی چیز مزدوری کے طور پر نہ دوں، اور فرمایا کہ اسے ہم اپنے پاس سے مزدوری دیتے تھے۔
حدیث نمبر: 1326
حَدَّثَنَا مُعَاذٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . . . مِثْلَ هَذَا ، إِلَّا أَنَّهُ لَمْ يَقُلْ : " نَحْنُ نُعْطِيهِ مِنْ عِنْدِنَا " .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث ایک دوسری سند سے بھی مروی ہے لیکن اس کے آخر میں یہ نہیں ہے کہ اس کی مزدوری ہم اپنے پاس سے دیتے تھے۔
حدیث نمبر: 1327
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، أخبرنا قَتَادَةُ ، عَنْ أَبِي حَسَّانَ ، عَنْ عَبِيدَةَ السَّلْمَانِيِّ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَوْمَ الْأَحْزَابِ : " مَلَأَ اللَّهُ بُيُوتَهُمْ وَقُبُورَهُمْ نَارًا ، كَمَا حَبَسُونَا عَنِ الصَّلَاةِ الْوُسْطَى حَتَّى غَابَتْ الشَّمْسُ " ، أَوْ قَالَ : " حَتَّى آبَتْ الشَّمْسُ " ، إِحْدَى الْكَلِمَتَيْنِ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ غزوہ خندق کے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ ان (مشرکین) کے گھروں اور قبروں کو آگ سے بھر دے کہ انہوں نے ہمیں نماز عصر نہیں پڑھنے دی یہاں تک کہ سورج غروب ہو گیا۔“
حدیث نمبر: 1328
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ أَبِي ظَبْيَانَ الْجَنْبِيِّ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أُتِيَ بِامْرَأَةٍ قَدْ زَنَتْ ، فَأَمَرَ بِرَجْمِهَا ، فَذَهَبُوا بِهَا لِيَرْجُمُوهَا ، فَلَقِيَهُمْ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، فَقَالَ : مَا هَذِهِ ؟ قَالُوا : زَنَتْ فَأَمَرَ عُمَرُ بِرَجْمِهَا ، فَانْتَزَعَهَا عَلِيٌّ مِنْ أَيْدِيهِمْ وَرَدَّهُمْ ، فَرَجَعُوا إِلَى عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، فَقَالَ : مَا رَدَّكُمْ ؟ قَالُوا رَدَّنَا عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : مَا فَعَلَ هَذَا عَلِيٌّ إِلَّا لِشَيْءٍ قَدْ عَلِمَهُ ، فَأَرْسَلَ إِلَى عَلِيٍّ ، فَجَاءَ وَهُوَ شِبْهُ الْمُغْضَبِ ، فَقَالَ : مَا لَكَ رَدَدْتَ هَؤُلَاءِ ؟ قَالَ : أَمَا سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " رُفِعَ الْقَلَمُ عَنْ ثَلَاثَةٍ : عَنِ النَّائِمِ حَتَّى يَسْتَيْقِظَ ، وَعَنِ الصَّغِيرِ حَتَّى يَكْبَرَ ، وَعَنِ الْمُبْتَلَى حَتَّى يَعْقِلَ " ، قَالَ : بَلَى ، قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : فَإِنَّ هَذِهِ مُبْتَلَاةُ بَنِي فُلَانٍ ، فَلَعَلَّهُ أَتَاهَا وَهُوَ بِهَا ، فَقَالَ عُمَرُ : لَا أَدْرِي ، قَالَ : وَأَنَا لَا أَدْرِي ، فَلَمْ يَرْجُمْهَا .
مولانا ظفر اقبال
ایک مرتبہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی خدمت میں ایک عورت لائی گئی جس نے بدکاری کی تھی، جرم ثابت ہو جانے پر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اسے رجم کرنے کا حکم دے دیا، لوگ اسے رجم کرنے کے لئے لے کر جا رہے تھے کہ راستے میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ مل گئے، انہوں نے اس کے متعلق دریافت کیا تو لوگوں نے بتایا کہ اس نے بدکاری کی ہے اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اسے رجم کرنے کا حکم دیا ہے، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اس عورت کو ان کے ہاتھوں سے چھڑا لیا اور ان لوگوں کو واپس بھیج دیا، وہ لوگ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے، انہوں نے پوچھا کہ تم لوگ واپس کیوں آ گئے؟ انہوں نے کہا کہ ہمیں سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے واپس بھیجا ہے، فرمایا: علی رضی اللہ عنہ نے یہ کام یوں ہی نہیں کیا ہوگا، انہیں ضرور اس کے متعلق کچھ علم ہوگا، چنانچہ انہوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو بلا بھیجا۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ تشریف لائے تو کچھ ناراض سے محسوس ہو رہے تھے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے لوگوں کو واپس بھیجنے کی وجہ دریافت فرمائی، تو انہوں نے کہا کہ کیا آپ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے نہیں سنا کہ ”تین طرح کے لوگ مرفوع القلم ہوتے ہیں: سویا ہوا شخص جب تک بیدار نہ ہو جائے، بچہ جب تک بالغ نہ ہو جائے، اور دیوانہ جب تک اس کی عقل واپس نہ آجائے؟“ فرمایا: کیوں نہیں، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ یہ عورت فلاں قبیلے کی دیوانی عورت ہے، ہو سکتا ہے کہ جس شخص نے اس سے بدکاری کی ہے، اس وقت یہ اپنے ہوش میں نہ ہو اور دیوانی ہو، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ بھائی! مجھے تو نہیں پتہ، انہوں نے کہا کہ پھر مجھے بھی نہیں پتہ، تاہم سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے پھر اس پر حد رجم جاری نہیں فرمائی۔
حدیث نمبر: 1329
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ . ح وحَدَّثَنِي رَوْحُ بْنُ عَبْدِ الْمُؤْمِنِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اللَّهُمَّ بَارِكْ لِأُمَّتِي فِي بُكُورِهَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کرتے ہوئے فرمایا: «اَللّٰهُمَّ بَارِكْ لِأُمَّتِي فِي بُكُوْرِهَا» ”اے اللہ! میری امت کے صبح کے اوقات میں برکت عطاء فرما۔“
حدیث نمبر: 1330
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، رَفَعَهُ ، أَنَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ يَقْرَأَ الْقُرْآنَ وَهُوَ رَاكِعٌ ، وَقَالَ : " إِذَا رَكَعْتُمْ فَعَظِّمُوا اللَّهَ ، وَإِذَا سَجَدْتُمْ فَادْعُوا ، فَقَمِنٌ أَنْ يُسْتَجَابَ لَكُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع کی حالت میں قرآن کریم کی تلاوت سے منع کیا ہے، اور فرمایا ہے کہ ”جب تم رکوع میں جاؤ تو اللہ کی عظمت بیان کیا کرو، اور جب سجدہ میں جاؤ تو اس سے دعا کیا کرو، امید ہے کہ تمہاری دعا قبول ہوگی۔“
حدیث نمبر: 1331
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنِي أَبُو مَعْمَرٍ ، حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اللَّهُمَّ بَارِكْ لِأُمَّتِي فِي بُكُورِهَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کرتے ہوئے فرمایا: «اَللّٰهُمَّ بَارِكْ لِأُمَّتِي فِي بُكُوْرِهَا» ”اے اللہ! میری امت کے صبح کے اوقات میں برکت عطاء فرما۔“
حدیث نمبر: 1332
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : قَالَ عَبِيدَةُ : لَا أُحَدِّثُكَ إِلَّا مَا سَمِعْتُ مِنْهُ ، قَالَ مُحَمَّدٌ ، فَحَلَفَ لَنَا عَبِيدَةُ ثَلَاثَ مِرَارٍ ، وَحَلَفَ لَهُ عَلِيٌّ ، قَالَ : قَالَ : " لَوْلَا أَنْ تَبْطَرُوا لَنَبَّأْتُكُمْ مَا وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ يَقْتُلُونَهُمْ عَنْ لِسَانِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : قُلْتُ : أَأَنْتَ سَمِعْتَهُ مِنْهُ ؟ قَالَ : إِي وَرَبِّ الْكَعْبَةِ ، إِي وَرَبِّ الْكَعْبَةِ ، إِي وَرَبِّ الْكَعْبَةِ ، فِيهِمْ رَجُلٌ مُخْدَجُ الْيَدِ ، أَوْ مَثْدُونُ الْيَدِ ، أَحْسَبُهُ قَالَ : أَوْ مُودَنُ الْيَدِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے سامنے ایک مرتبہ خوارج کا ذکر ہوا تو فرمایا کہ ان میں ایک آدمی ناقص الخلقت بھی ہوگا، اگر تم حد سے آگے نہ بڑھ جاتے تو میں تم سے وہ وعدہ بیان کرتا جو اللہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی ان کے قتل کرنے والوں سے فرما رکھا ہے، راوی کہتے ہیں کہ میں نے ان سے پوچھا کہ آپ نے واقعی نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس سلسلے میں کوئی فرمان سنا ہے؟ تو انہوں نے تین مرتبہ فرمایا: ہاں! رب کعبہ کی قسم۔
حدیث نمبر: 1333
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنِي سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا النُّعْمَانُ بْنُ سَعْدٍ ، قَالَ : كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، فَقَرَأَ هَذِهِ الْآيَةَ : " يَوْمَ نَحْشُرُ الْمُتَّقِينَ إِلَى الرَّحْمَنِ وَفْدًا سورة مريم آية 85 ، قَالَ : لَا وَاللَّهِ مَا عَلَى أَرْجُلِهِمْ يُحْشَرُونَ ، وَلَا يُحْشَرُ الْوَفْدُ عَلَى أَرْجُلِهِمْ ، وَلَكِنْ بِنُوقٍ لَمْ يَرَ الْخَلَائِقُ مِثْلَهَا ، عَلَيْهَا رَحَائِلُ مِنْ ذَهَبٍ ، فَيَرْكَبُونَ عَلَيْهَا حَتَّى يَضْرِبُوا أَبْوَابَ الْجَنَّةِ " .
مولانا ظفر اقبال
نعمان بن سعد کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، انہوں نے اس آیت کی تلاوت کی: «﴿يَوْمَ نَحْشُرُ الْمُتَّقِينَ إِلَى الرَّحْمَنِ وَفْدًا﴾ [مريم : 85]» ”قیامت کا دن وہ ہوگا جس میں ہم متقیوں کو رحمن کی بارگاہ میں ایک وفد کی صورت میں جمع کریں گے۔“ اور فرمایا کہ واللہ! انہیں پاؤں کے بل چلا کر جمع نہیں کیا جائے گا، بلکہ انہیں ایسی اونٹنیوں پر سوار کیا جائے گا جن کی مثل اس سے قبل مخلوق نے نہ دیکھی ہو گی، ان پر سونے کے کجاوے ہوں گے اور وہ اس پر سوار ہوں گے یہاں تک کہ جنت کے دروازے کھٹکھٹائیں گے۔
حدیث نمبر: 1334
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي أَبَانُ بْنُ صَالِحٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، قَالَ : وَقَفْتُ مَعَ الْحُسَيْنِ ، فَلَمْ أَزَلْ أَسْمَعُهُ يَقُولُ : لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ ، حَتَّى رَمَى الْجَمْرَةَ ، فَقُلْتُ : يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ ، مَا هَذَا الْإِهْلَالُ ؟ قَالَ : سَمِعْتُ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، يُهِلُّ حَتَّى انْتَهَى إِلَى الْجَمْرَةِ ، وَحَدَّثَنِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَهَلَّ حَتَّى انْتَهَى إِلَيْهَا " .
مولانا ظفر اقبال
عکرمہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ کے ساتھ مزدلفہ سے واپس ہوا تو میں نے انہیں مسلسل تلبیہ پڑھتے ہوئے سنا تاآنکہ انہوں نے جمرہ عقبہ کی رمی کر لی، میں نے ان سے اس حوالے سے پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ میں اپنے والد صاحب کے ساتھ مزدلفہ سے واپس ہوا تھا تو میں نے انہیں بھی جمرہ عقبہ کی رمی تک مسلسل تلبیہ پڑھتے ہوئے سنا تھا، اور انہوں نے مجھے بتایا تھا کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مزدلفہ سے واپس ہوا تو میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو جمرہ عقبہ کی رمی تک مسلسل تلبیہ پڑھتے ہوئے سنا۔
حدیث نمبر: 1335
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنِي زُهَيْرٌ أَبُو خَيْثَمَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَخْبِرْنِي بِشَهْرٍ أَصُومُهُ بَعْدَ رَمَضَانَ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنْ كُنْتَ صَائِمًا شَهْرًا بَعْدَ رَمَضَانَ فَصُمْ الْمُحَرَّمَ ، فَإِنَّهُ شَهْرُ اللَّهِ ، وَفِيهِ يَوْمٌ تَابَ فِيهِ عَلَى قَوْمٍ ، وَيُتَابُ فِيهِ عَلَى آخَرِينَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی بارگاہ رسالت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! رمضان کے علاوہ مجھے کوئی ایسا مہینہ بتائیے جس کے میں روزے رکھ سکوں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تم رمضان کے بعد کسی مہینے کے روزے رکھنا چاہتے ہو تو ماہ محرم کے روزے رکھو، کیونکہ یہ اللہ کا مہینہ ہے، اس میں ایک دن ایسا ہے جس میں اللہ نے ایک قوم کی توبہ قبول کی تھی، اور اللہ ایک قوم کی توبہ قبول کرے گا۔“
حدیث نمبر: 1336
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، أَخْبَرَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ رِبْعِيٍّ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : جَاءَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُنَاسٌ مِنْ قُرَيْشٍ ، فَقَالُوا : يَا مُحَمَّدُ ، إِنَّا جِيرَانُكَ وَحُلَفَاؤُكَ ، وَإِنَّ نَاسًا مِنْ عَبِيدِنَا قَدْ أَتَوْكَ لَيْسَ بِهِمْ رَغْبَةٌ فِي الدِّينِ ، وَلَا رَغْبَةٌ فِي الْفِقْهِ ، إِنَّمَا فَرُّوا مِنْ ضِيَاعِنَا وَأَمْوَالِنَا ، فَارْدُدْهُمْ إِلَيْنَا ، فَقَالَ لِأَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : " مَا تَقُولُ ؟ " ، قَالَ : صَدَقُوا ، إِنَّهُمْ جِيرَانُكَ ، قَالَ : فَتَغَيَّرَ وَجْهُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ قَالَ لِعُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : " مَا تَقُولُ ؟ " ، قَالَ : صَدَقُوا ، إِنَّهُمْ لَجِيرَانُكَ وَحُلَفَاؤُكَ ، فَتَغَيَّرَ وَجْهُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ قریش کے کچھ لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، اور کہنے لگے کہ ہم آپ کے پڑوسی اور آپ کے حلیف ہیں، ہمارے کچھ غلام آپ کے پاس آگئے ہیں، انہیں دین سے رغبت ہے اور نہ ہی اس کی سمجھ بوجھ سے کوئی دلچسپی ہے، اصل میں وہ ہماری جائیداد اور مال و دولت اپنے قبضہ میں کر کے فرار ہوگئے ہیں، اس لئے آپ انہیں ہمارے حوالے کر دیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ ”آپ کی کیا رائے ہے؟“ انہوں نے عرض کیا کہ ان کی یہ بات تو صحیح ہے کہ یہ آپ کے پڑوسی ہیں، اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے رخ انور کا رنگ بدل گیا، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے ان کی رائے پوچھی، تو انہوں نے بھی یہی کہا کہ یہ آپ کے پڑوسی اور حلیف تو واقعۃ ہیں، اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے کا رنگ تبدیل ہو گیا (کیونکہ فی الجملہ اس سے مشرکین کی بات کی تائید ہوتی تھی)۔
حدیث نمبر: 1337
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنِي سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ سَنَةَ سِتٍّ وَعِشْرِينَ وَمِائَتَيْنِ ، أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : سَأَلَهُ رَجُلٌ : أَقْرَأُ فِي الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ ؟ فقَالَ : قال رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنِّي نُهِيتُ أَنْ أَقْرَأَ فِي الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ ، فَإِذَا رَكَعْتُمْ فَعَظِّمُوا اللَّهَ ، وَإِذَا سَجَدْتُمْ فَاجْتَهِدُوا فِي الْمَسْأَلَةِ ، فَقَمِنٌ أَنْ يُسْتَجَابَ لَكُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
نعمان بن سعد کہتے ہیں کہ ایک شخص نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا میں رکوع اور سجدہ میں قرأت کر سکتا ہوں؟ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”مجھے رکوع اور سجدے کی حالت میں تلاوت قرآن سے منع کیا گیا ہے، جب تم رکوع کرو تو اللہ کی عظمت بیان کیا کرو، اور جب سجدہ کرو تو خوب توجہ سے دعا مانگو، امید ہے کہ تمہاری دعا قبول ہوگی۔“
حدیث نمبر: 1338
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنِي عَبَّادُ بْنُ يَعْقُوبَ الْأَسَدِيُّ أَبُو مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ فِي الْجَنَّةِ لَغُرَفًا يُرَى بُطُونُهَا مِنْ ظُهُورِهَا ، وَظُهُورُهَا مِنْ بُطُونِهَا ، فَقَالَ أَعْرَابِيٌّ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لِمَنْ هِيَ ؟ قَالَ : " لِمَنْ أَطَابَ الْكَلَامَ ، وَأَطْعَمَ الطَّعَامَ ، وَصَلَّى لِلَّهِ بِاللَّيْلِ وَالنَّاسُ نِيَامٌ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جنت میں ایسے بالاخانے بھی ہیں جن کا اندرونی حصہ باہر سے ہی نظر آتا ہے، اور بیرونی حصہ اندر سے نظر آتا ہے۔“ ایک دیہاتی نے پوچھا: یا رسول اللہ! یہ کس کے لئے ہیں؟ فرمایا: ”اس شخص کے لئے جو اچھی بات کرے، ضرورت مندوں کو کھانا کھلائے، اور جب لوگ رات کو سو رہے ہوں تو صرف رضاء الٰہی کے لئے نماز تہجد ادا کرے۔“
حدیث نمبر: 1339
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنِي رَوْحُ بْنُ عَبْدِ الْمُؤْمِنِ الْمُقْرِئُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، وحَدَّثَنِي عَبَّادُ بْنُ يَعْقُوبَ الْأَسَدِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ ، جَمِيعًا ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ : رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اللَّهُمَّ بَارِكْ لِأُمَّتِي فِي بُكُورِهَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کرتے ہوئے فرمایا: «اَللّٰهُمَّ بَارِكْ لِأُمَّتِي فِي بُكُوْرِهَا» ”اے اللہ! میری امت کے صبح کے اوقات میں برکت عطاء فرما۔“
حدیث نمبر: 1340
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، أخبرنا أَبُو بَكْرٍ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَبُعٍ ، قَالَ : خَطَبَنَا عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، فَقَالَ : " وَالَّذِي فَلَقَ الْحَبَّةَ ، وَبَرَأَ النَّسَمَةَ ، لَتُخْضَبَنَّ هَذِهِ مِنْ هَذِهِ ، قَالَ : قَالَ النَّاسُ : فَأَعْلِمْنَا مَنْ هُوَ ؟ وَاللَّهِ لَنُبِيرَنَّهُ ، أو لَنُبِيرَنَّ عِتْرَتَهُ ، قَالَ : أَنْشُدُكُمْ بِاللَّهِ أَنْ يُقْتَلَ غَيْرُ قَاتِلِي ، قَالُوا : إِنْ كُنْتَ قَدْ عَلِمْتَ ذَلِكَ اسْتَخْلِفْ إِذًا ، قَالَ : لَا ، وَلَكِنْ أَكِلُكُمْ إِلَى مَا وَكَلَكُمْ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
مولانا ظفر اقبال
عبداللہ بن سبع کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے خطبہ دیتے ہوئے فرمایا: اس ذات کی قسم جو دانے کو پھاڑتی اور جاندار کو پیدا کرتی ہے! یہ داڑھی اس سر کے خون سے رنگین ہو کر رہے گی۔ لوگوں نے کہا: امیر المومنین! ہمیں اس کا نام پتہ بتائیے، ہم اس کی نسل تک مٹا دیں گے، فرمایا: میں تمہیں اللہ کا واسطہ دیتا ہوں، کہیں میرے قاتل کے علاوہ کسی اور کو قتل نہ کر دینا، لوگوں نے عرض کیا کہ جب آپ کو یہ بات معلوم ہے تو پھر ہم پر اپنا نائب ہی مقرر کر دیجئے، فرمایا: نہیں، میں تمہیں اسی کیفیت پر چھوڑ کر جاؤں گا جس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے چھوڑا تھا۔
حدیث نمبر: 1341
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، أخبرنا زَائِدَةُ ، عَنِ السُّدِّيِّ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ ، قَالَ : خَطَبَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، أَقِيمُوا عَلَى أَرِقَّائِكُمْ الْحُدُودَ ، مَنْ أُحْصِنَ مِنْهُمْ ، وَمَنْ لَمْ يُحْصَنْ ، فَإِنَّ أَمَةً لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَنَتْ ، فَأَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أُقِيمَ عَلَيْهَا الْحَدَّ ، فَأَتَيْتُهَا فَإِذَا هِيَ حَدِيثُ عَهْدٍ بِنِفَاسٍ ، فَخَشِيتُ إِنْ أَنَا جَلَدْتُهَا أَنْ تَمُوتَ ، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ ، فَقَالَ " أَحْسَنْتَ " .
مولانا ظفر اقبال
ابوعبدالرحمن سلمی کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے خطبہ دیتے ہوئے فرمایا: لوگو! اپنے غلاموں، باندیوں پر بھی حدود جاری کیا کرو، خواہ وہ شادی شدہ ہوں یا غیر شادی شدہ، کیونکہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک باندی سے بدکاری کا ارتکاب ہو گیا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اس پر سزا جاری کرنے کا حکم دیا، جب میں اس پر حد جاری کرنے لگا تو پتہ چلا کہ ابھی اس کے نفاس کا زمانہ تازہ ہے، مجھے اندیشہ ہوا کہ کہیں کوڑے لگنے سے یہ مر ہی نہ جائے، چنانچہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور سارا معاملہ ذکر کر دیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے اچھا کیا۔“
حدیث نمبر: 1342
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ حَارِثَةَ بْنِ مُضَرِّبٍ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْيَمَنِ ، فَقُلْتُ : إِنَّكَ تَبْعَثُنِي إِلَى قَوْمٍ وَهُمْ أَسَنُّ مِنِّي لِأَقْضِيَ بَيْنَهُمْ ، فَقَالَ : " اذْهَبْ فَإِنَّ اللَّهَ سَيَهْدِي قَلْبَكَ وَيُثَبِّتُ لِسَانَكَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جب مجھے یمن کی طرف بھیجا تو میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ آپ مجھے ایک ایسی قوم کی طرف فیصلہ کرنے کے لئے بھیج رہے ہیں جو مجھ سے بڑی عمر کے ہیں، فرمایا: ”اللہ تمہاری زبان کو صحیح راستے پر چلائے گا، اور تمہارے دل کو مضبوط رکھے گا۔“
حدیث نمبر: 1343
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ فِي الْجَنَّةِ سُوقًا مَا فِيهَا بَيْعٌ وَلَا شِرَاءٌ ، إِلَّا الصُّوَرُ مِنَ النِّسَاءِ وَالرِّجَالِ ، فَإِذَا اشْتَهَى الرَّجُلُ صُورَةً دَخَلَ فِيهَا ، وَإِنَّ فِيهَا لَمَجْمَعًا لِلْحُورِ الْعِينِ يَرْفَعْنَ أَصْوَاتًا لَمْ يَرَ الْخَلَائِقُ مِثْلَهَا ، يَقُلْنَ : نَحْنُ الْخَالِدَاتُ فَلَا نَبِيدُ ، وَنَحْنُ الرَّاضِيَاتُ فَلَا نَسْخَطُ ، وَنَحْنُ النَّاعِمَاتُ فَلَا نَبْؤُسُ ، فَطُوبَى لِمَنْ كَانَ لَنَا وَكُنَّا لَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جنت میں ایک بازار ہوگا لیکن اس میں خرید و فروخت نہ ہوگی، اس میں صرف مردوں اور عورتوں کی صورتیں ہوں گی، جس آدمی کو جو صورت پسند ہوگی وہ اس میں داخل ہو جائے گا، نیز جنت میں حور عین کا ایک مجمع لگتا ہے جہاں وہ - کہ ان جیسا حسین خلائق عالم نے نہ دیکھا ہوگا - اپنی آوازیں بلند کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ ہم ہمیشہ رہنے والی ہیں، ہم کبھی فناء نہ ہوں گی، ہم ہمیشہ راضی رہنے والی ہیں، ہم کبھی ناراض نہ ہوں گی، ہم ناز و نعم میں پلی ہوئی ہیں اس لئے ہم تنگی میں نہیں رہیں گی، اس شخص کے لئے خوشخبری ہے جو ہمارا ہے اور جس کے ہم ہیں۔“
حدیث نمبر: 1344
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنِي زُهَيْرٌ أَبُو خَيْثَمَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ فِي الْجَنَّةِ سُوقًا " ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : " فَإِذَا اشْتَهَى الرَّجُلُ صُورَةً دَخَلَهَا ، قَالَ : وَفِيهَا مُجْتَمَعُ الْحُورِ الْعِينِ يَرْفَعْنَ أَصْوَاتًا . . . " ، فَذَكَرَ مِثْلَهُ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حدیث نمبر: 1345
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبَانَ الْبَلْخِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي حَيَّةَ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّهُ " تَوَضَّأَ ثَلَاثًا ثَلَاثًا ، ثُمَّ مَسَحَ بِرَأْسِهِ ، ثُمَّ شَرِبَ فَضْلَ وَضُوئِهِ ، ثُمَّ قَالَ : مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَنْظُرَ إِلَى وُضُوءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلْيَنْظُرْ إِلَى هَذَا " .
مولانا ظفر اقبال
ایک مرتبہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے وضو کرتے ہوئے اعضاء وضو کو تین تین مرتبہ دھویا، سر کا مسح کیا اور وضو سے بچا ہوا پانی پی لیا، پھر فرمایا کہ جو شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ وضو دیکھنا چاہتا ہے تو وہ یہ دیکھ لے۔
حدیث نمبر: 1346
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَكُونُ فِي آخِرِ الزَّمَانِ قَوْمٌ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ تَرَاقِيَهُمْ ، يَمْرُقُونَ مِنَ الْإِسْلَامِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ ، قِتَالُهُمْ حَقٌّ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ایک قوم ایسی آئے گی جو اسلام سے ایسے نکل جائے گی جیسے تیر شکار سے نکل جاتا ہے، یہ لوگ قرآن تو پڑھتے ہوں گے لیکن وہ ان کے حلق سے نیچے نہیں اتر سکے گا، ان سے قتال کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے۔“
حدیث نمبر: 1347
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ ، عَنْ حَارِثَةَ بْنِ الْمُضَرِّبِ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ . ح حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، وَأَبُو النَّضْرِ ، قَالَا : حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ حَارِثَةَ بْنِ مُضَرِّبٍ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : كُنَّا " إِذَا احْمَرَّ الْبَأْسُ ، وَلَقِيَ الْقَوْمُ الْقَوْمَ ، اتَّقَيْنَا بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَمَا يَكُونُ مِنَّا أَحَدٌ أَدْنَى مِنَ الْقَوْمِ مِنْهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ غزوہ بدر کے دن ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی پناہ میں آجاتے تھے، اس دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ ہم میں سے کوئی بھی دشمن کے اتنا قریب نہ تھا۔
حدیث نمبر: 1348
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَيَّاشٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ عَلِيٍّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : وَقَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَفَةَ ، فَقَالَ : " هَذَا الْمَوْقِفُ ، وَعَرَفَةُ كُلُّهَا مَوْقِفٌ " ، ثُمَّ أَرْدَفَ أُسَامَةَ ، فَجَعَلَ يُعْنِقُ عَلَى نَاقَتِهِ ، وَالنَّاسُ يَضْرِبُونَ الْإِبِلَ يَمِينًا وَشِمَالًا ، لَا يَلْتَفِتُ إِلَيْهِمْ ، وَيَقُولُ : " السَّكِينَةَ أَيُّهَا النَّاسُ " ، وَدَفَعَ حِينَ غَابَتْ الشَّمْسُ ، فَأَتَى جَمْعًا ، فَصَلَّى بِهَا الصَّلَاتَيْنِ ، يَعْنِي : الْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ ، ثُمَّ بَاتَ ، بِهَا فَلَمَّا أَصْبَحَ وَقَفَ عَلَى قُزَحَ ، فَقَالَ : " هَذَا قُزَحُ ، وَهُوَ الْمَوْقِفُ ، وَجَمْعٌ كُلُّهَا مَوْقِفٌ " ، قَالَ : ثُمَّ سَارَ ، فَلَمَّا أَتَى مُحَسِّرًا قَرَعَهَا فَخَبَّتْ ، حَتَّى جَازَ الْوَادِيَ ، ثُمَّ حَبَسَهَا وَأَرْدَفَ الْفَضْلَ ، ثُمَّ سَارَ حَتَّى أَتَى الْجَمْرَةَ فَرَمَاهَا ، ثُمَّ أَتَى الْمَنْحَرَ ، فَقَالَ : " هَذَا الْمَنْحَرُ ، وَمِنًى كُلُّهَا مَنْحَرٌ " ، ثُمَّ أَتَتْهُ امْرَأَةٌ شَابَّةٌ مِنْ خَثْعَمَ ، فَقَالَتْ : إِنَّ أَبِي شَيْخٌ قَدْ أَفْنَدَ ، وَقَدْ أَدْرَكَتْهُ فَرِيضَةُ اللَّهِ فِي الْحَجِّ ، فَهَلْ يُجْزِئُ أَنْ أَحُجَّ عَنْهُ ؟ قَالَ : " نَعَمْ ، فَأَدِّي عَنْ أَبِيكِ " ، قَالَ : وَلَوَى عُنُقَ الْفَضْلِ ، فَقَالَ لَهُ الْعَبَّاسُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا لَكَ لَوَيْتَ عُنُقَ ابْنِ عَمِّكَ ؟ قَالَ : " رَأَيْتُ شَابًّا وَشَابَّةً ، فَخِفْتُ الشَّيْطَانَ عَلَيْهِمَا " ، قَالَ : وَأَتَاهُ رَجُلٌ ، فَقَالَ : أَفَضْتُ قَبْلَ أَنْ أَحْلِقَ ؟ قَالَ : " فَاحْلِقْ ، أَوْ قَصِّرْ ، وَلَا حَرَجَ " ، قَالَ : وَأَتَى زَمْزَمَ ، فَقَالَ : " يَا بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ، سِقَايَتَكُمْ ، لَوْلَا أَنْ يَغْلِبَكُمْ النَّاسُ عَلَيْهَا لَنَزَعْتُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر میدان عرفات میں وقوف کیا اور فرمایا: ”یہ وقوف کی جگہ ہے اور پورا عرفہ ہی وقوف کی جگہ ہے۔“ پھر غروب شمس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم روانہ ہوئے، اپنے پیچھے سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ کو بٹھا لیا اور اپنی سواری کی رفتار تیز کر دی، لوگ دائیں بائیں بھاگنے لگے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کی طرف متوجہ ہو کر فرمانے لگے: ”لوگو! سکون اور اطمینان اختیار کرو۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم مزدلفہ پہنچے تو مغرب اور عشاء کی نمازیں اکٹھی پڑھیں، اور رات بھر وہیں رہے، صبح ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم جبل قزح پر تشریف لائے، وہاں وقوف کیا اور فرمایا کہ ”یہ وقوف کی جگہ ہے اور پورا مزدلفہ ہی وقوف کی جگہ ہے۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم چلتے ہوئے وادی محسر پہنچے، وہاں ایک لمحے کے لئے رکے پھر اپنی اونٹنی کو سرپٹ دوڑا دیا تاآنکہ اس وادی سے نکل گئے (کیونکہ یہ عذاب کی جگہ تھی)۔ پھر سواری روک کر اپنے پیچھے سیدنا فضل رضی اللہ عنہ کو بٹھا لیا، اور چلتے چلتے منیٰ پہنچ کر جمرہ عقبہ آئے اور اسے کنکریاں ماریں، پھر قربان گاہ تشریف لائے اور فرمایا کہ ”یہ قربان گاہ ہے اور منیٰ پورا ہی قربان گاہ ہے۔“ اتنی دیر میں بنو خثعم کی ایک نوجوان عورت کوئی مسئلہ پوچھنے کے لئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور کہنے لگی کہ میرے والد بہت بوڑھے ہیں، وہ تقریبا ختم ہو چکے ہیں لیکن ان پر حج بھی فرض ہے، کیا میں ان کی طرف سے حج کر سکتی ہوں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں! تم اپنے والد کی طرف سے حج کر سکتی ہو۔“ یہ کہتے ہوئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا فضل رضی اللہ عنہ کی گردن موڑ دی (کیونکہ وہ اس عورت کو دیکھنے لگے تھے)۔ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے یہ دیکھ کر پوچھا: یا رسول اللہ! آپ نے اس کی گردن کس حکمت کی بنا پر موڑی؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے دیکھا کہ دونوں نوجوان ہیں، مجھے ان کے بارے شیطان سے امن نہ ہوا، اس لئے دونوں کا رخ پھیر دیا۔“ بہرحال! تھوڑی دیر بعد ایک اور آدمی آیا اور کہنے لگا کہ یا رسول اللہ! میں نے قربانی کرنے سے پہلے بال کٹوا لئے، اب کیا کروں؟ فرمایا: ”اب قربانی کر لو، کوئی حرج نہیں۔“ ایک اور شخص نے آ کر عرض کیا: یا رسول اللہ! میں نے حلق سے پہلے طواف زیارت کر لیا، فرمایا: ”کوئی بات نہیں، اب حلق یا قصر کر لو۔“ اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم طواف زیارت کے لئے حرم شریف پہنچے، طواف کیا، زمزم پیا، اور فرمایا: ”بنو عبدالمطلب! حاجیوں کو پانی پلانے کی ذمہ داری پوری کرتے رہو، اگر لوگ تم پر غالب نہ آجاتے تو میں بھی اس میں سے ڈول کھینچ کھینچ کر نکالتا۔“
حدیث نمبر: 1349
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، حَدَّثَنَا هَاشِمٌ يَعْنِي ابْنَ الْبَرِيدِ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ الْحَنَفِيِّ ، عَنْ مُسْلِمٍ الْبَطِينِ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ ، قَالَ : أَخَذَ بِيَدِي عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، فَانْطَلَقْنَا نَمْشِي ، حَتَّى جَلَسْنَا عَلَى شَطِّ الْفُرَاتِ ، فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا مِنْ نَفْسٍ مَنْفُوسَةٍ إِلَّا قَدْ سَبَقَ لَهَا مِنَ اللَّهِ شَقَاءٌ أَوْ سَعَادَةٌ " ، فَقَامَ رَجُلٌ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فِيمَ إِذًا نَعْمَلُ ؟ قَالَ : " اعْمَلُوا فَكُلٌّ مُيَسَّرٌ لِمَا خُلِقَ لَهُ " ، ثُمَّ قَرَأَ هَذِهِ الْآيَةَ : " فَأَمَّا مَنْ أَعْطَى وَاتَّقَى وَصَدَّقَ بِالْحُسْنَى فَسَنُيَسِّرُهُ لِلْيُسْرَى وَأَمَّا مَنْ بَخِلَ وَاسْتَغْنَى وَكَذَّبَ بِالْحُسْنَى فَسَنُيَسِّرُهُ لِلْعُسْرَى سورة الليل آية 5 - 10 " .
مولانا ظفر اقبال
ابوعبدالرحمن سلمی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک دن سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے میرا ہاتھ پکڑا اور ہم چہل قدمی کرتے ہوئے چلتے رہے، حتی کہ فرات کے کنارے جا کر بیٹھ گئے، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے ہر شخص کا شقی یا سعید ہونا اللہ کے علم میں موجود اور متعین ہے۔“ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے پوچھا: یا رسول اللہ! پھر ہم عمل کیوں کریں؟ فرمایا: ”عمل کرتے رہو کیونکہ ہر ایک کے لئے وہی اعمال آسان کئے جائیں گے جن کے لئے اسے پیدا کیا گیا ہوگا۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن کی یہ آیت تلاوت فرمائی: «﴿فَأَمَّا مَنْ أَعْطَى وَاتَّقَى o وَصَدَّقَ بِالْحُسْنَى o فَسَنُيَسِّرُهُ لِلْيُسْرَى o وَأَمَّا مَنْ بَخِلَ وَاسْتَغْنَى o وَكَذَّبَ بِالْحُسْنَى o فَسَنُيَسِّرُهُ لِلْعُسْرَى﴾ [الليل : 5-10]» ”جس شخص نے دیا، تقویٰ اختیار کیا، اور اچھی بات کی تصدیق کی تو ہم اس کے لئے آسانی کے اسباب پیدا کر دیں گے، اور جو شخص بخل اختیار کرے، اپنے آپ کو مستغنی ظاہر کرے، اور اچھی بات کی تکذیب کرے، تو ہم اس کے لئے تنگی کے اسباب پیدا کر دیں گے۔“
حدیث نمبر: 1350
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي حَيَّةَ الْوَادِعِيِّ ، قَالَ : رَأَيْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بَالَ فِي الرَّحَبَةِ ، ثُمَّ " دَعَا بِمَاءٍ فَتَوَضَّأَ ، فَغَسَلَ كَفَّيْهِ ثَلَاثًا ، وَتَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ ثَلَاثًا ، وَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا ، وَغَسَلَ ذِرَاعَيْهِ ثَلَاثًا ثَلَاثًا ، وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ ، وَغَسَلَ قَدَمَيْهِ ثَلَاثًا ثَلَاثًا ، ثُمَّ قَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَلَ كَالَّذِي رَأَيْتُمُونِي فَعَلْتُ " .
مولانا ظفر اقبال
ابوحیہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو صحن میں پیشاب کرتے ہوئے دیکھا، پھر انہوں نے پانی منگوایا اور پہلے انہوں نے اپنے دونوں ہاتھوں کو دھو کر صاف کیا، پھر تین مرتبہ کلی کی، تین مرتبہ ناک میں پانی ڈالا، تین مرتبہ چہرہ دھویا، تین مرتبہ کہنیوں سمیت دونوں ہاتھ دھوئے، سر کا مسح کیا اور ٹخنوں سمیت دونوں پاؤں دھوئے، اور وضو کا بچا ہوا پانی لے کر کھڑے کھڑے پی گئے، اور فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح کرتے ہوئے دیکھا ہے جیسے تم نے مجھے کرتے ہوئے دیکھا ہے، اور میں تمہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ وضو دکھانا چاہتا تھا۔
حدیث نمبر: 1351
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنِي زُهَيْرٌ أَبُو خَيْثَمَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي حَيَّةَ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " تَوَضَّأَ ثَلَاثًا ثَلَاثًا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ وضو کرتے ہوئے اعضاء وضو کو تین تین مرتبہ دھویا۔
حدیث نمبر: 1352
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي حَيَّةَ ، قَالَ : رَأَيْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ " تَوَضَّأَ ، فَأَنْقَى كَفَّيْهِ ، ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا ، وَذِرَاعَيْهِ ثَلَاثًا ، وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ ، ثُمَّ غَسَلَ قَدَمَيْهِ إِلَى الْكَعْبَيْنِ ، ثُمَّ قَامَ فَشَرِبَ فَضْلَ وَضُوئِهِ ، ثُمَّ قَالَ : إِنَّمَا أَرَدْتُ أَنْ أُرِيَكُمْ طُهُورَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
مولانا ظفر اقبال
ابوحیہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے ایک مرتبہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو وضو کرتے ہوئے دیکھا، انہوں نے پہلے اپنی دونوں ہتھیلیوں کو صاف کیا، پھر تین مرتبہ چہرہ اور تین مرتبہ دونوں بازو دھوئے، سر کا مسح کیا، پھر ٹخنوں تک دونوں پاؤں دھوئے، پھر کھڑے ہو کر وضو سے بچا ہوا پانی پی لیا، اور فرمایا: میں تمہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ وضو دکھانا چاہتا تھا۔
حدیث نمبر: 1353
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنِي سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ الْفَزَارِيُّ ، عَنِ الْمُخْتَارِ بْنِ نَافِعٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو مَطَرٍ الْبَصْرِيُّ وَكَانَ قَدْ أَدْرَكَ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّ عَلِيًّا اشْتَرَى ثَوْبًا بِثَلَاثَةِ دَرَاهِمَ ، فَلَمَّا لَبِسَهُ ، قَالَ : " الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي رَزَقَنِي مِنَ الرِّيَاشِ مَا أَتَجَمَّلُ بِهِ فِي النَّاسِ ، وَأُوَارِي بِهِ عَوْرَتِي " ، ثُمَّ قَالَ : هَكَذَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ .
مولانا ظفر اقبال
ابومطر بصری - جنہوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو پایا تھا - سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے تین درہم کا ایک کپڑا خریدا، جب اسے پہنا تو یہ دعا پڑھی: «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِي رَزَقَنِي مِنْ الرِّيَاشِ مَا أَتَجَمَّلُ بِهِ فِي النَّاسِ وَأُوَارِي بِهِ عَوْرَتِي» ”اس اللہ کا شکر ہے جس نے مجھے یہ لباس عطاء فرمایا، جس سے میں لوگوں میں خوبصورت لگتا ہوں، اور اپنا ستر چھپاتا ہوں۔“ پھر فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی یہ دعا پڑھتے ہوئے سنا ہے۔
حدیث نمبر: 1354
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي حَيَّةَ الْهَمْدَانِيِّ ، قَالَ : قَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَنْظُرَ إِلَى وُضُوءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلْيَنْظُرْ إِلَيَّ ، قَالَ : " فَتَوَضَّأَ ثَلَاثًا ثَلَاثًا ، ثُمَّ مَسَحَ بِرَأْسِهِ ، ثُمَّ شَرِبَ فَضْلَ وَضُوئِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
ایک مرتبہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ جو شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا وضو دیکھنا چاہتا ہے وہ میری طرف دیکھے، پھر انہوں نے وضو کرتے ہوئے اعضاء وضو کو تین تین مرتبہ دھویا، سر کا مسح کیا اور وضو سے بچا ہوا پانی پی لیا۔
حدیث نمبر: 1355
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، حَدَّثَنَا مُخْتَارُ بْنُ نَافِعٍ التَّمَّارُ ، عَنْ أَبِي مَطَرٍ ، أَنَّهُ رَأَى عَلِيًّا أَتَى غُلَامًا حَدَثًا ، فَاشْتَرَى مِنْهُ قَمِيصًا بِثَلَاثَةِ دَرَاهِمَ ، وَلَبِسَهُ إِلَى مَا بَيْنَ الرُّصْغَيْنِ إِلَى الْكَعْبَيْنِ ، يَقُولُ وَلَبِسَهُ : الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي رَزَقَنِي مِنَ الرِّيَاشِ مَا أَتَجَمَّلُ بِهِ فِي النَّاسِ ، وَأُوَارِي بِهِ عَوْرَتِي ، فَقِيلَ : هَذَا شَيْءٌ تَرْوِيهِ عَنْ نَفْسِكَ ، أَوْ عَنْ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : هَذَا شَيْءٌ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُهُ عِنْدَ الْكُسْوَةِ : " الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي رَزَقَنِي مِنَ الرِّيَاشِ مَا أَتَجَمَّلُ بِهِ فِي النَّاسِ ، وَأُوَارِي بِهِ عَوْرَتِي " .
مولانا ظفر اقبال
ابومطر بصری جنہوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو پایا تھا ، سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے تین درہم کا ایک کپڑا خریدا، جب اسے پہنا تو یہ دعا پڑھی: «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِي رَزَقَنِي مِنْ الرِّيَاشِ مَا أَتَجَمَّلُ بِهِ فِي النَّاسِ وَأُوَارِي بِهِ عَوْرَتِي» ”اس اللہ کا شکر ہے جس نے مجھے یہ لباس عطاء فرمایا، جس سے میں لوگوں میں خوبصورت لگتا ہوں، اور اپنا ستر چھپاتا ہوں۔“ پھر فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی یہ دعا پڑھتے ہوئے سنا ہے۔
حدیث نمبر: 1356
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، حَدَّثَنَا مُخْتَارٌ ، عَنْ أَبِي مَطَرٍ ، قَالَ : بَيْنَا نَحْنُ جُلُوسٌ مَعَ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ عَلِيٍّ فِي الْمَسْجِدِ عَلَى بَابِ الرَّحَبَةِ جَاءَ رَجُلٌ ، فَقَالَ : أَرِنِي وُضُوءَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَهُوَ عِنْدَ الزَّوَالِ ، فَدَعَا قَنْبَرًا ، فَقَالَ : ائْتِنِي بِكُوزٍ مِنْ مَاءٍ ، " فَغَسَلَ كَفَّيْهِ وَوَجْهَهُ ثَلَاثًا ، وَتَمَضْمَضَ ثَلَاثًا ، فَأَدْخَلَ بَعْضَ أَصَابِعِهِ فِي فِيهِ ، وَاسْتَنْشَقَ ثَلَاثًا ، وَغَسَلَ ذِرَاعَيْهِ ثَلَاثًا ، وَمَسَحَ رَأْسَهُ وَاحِدَةً ، فَقَالَ : دَاخِلُهُمَا مِنَ الْوَجْهِ ، وَخَارِجُهُمَا مِنَ الرَّأْسِ ، وَرِجْلَيْهِ إِلَى الْكَعْبَيْنِ ثَلَاثًا ، وَلِحْيَتُهُ تَهْطِلُ عَلَى صَدْرِهِ ، ثُمَّ حَسَا حَسْوَةً بَعْدَ الْوُضُوءِ " ، ثُمَّ قَالَ : أَيْنَ السَّائِلُ عَنْ وُضُوءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ كَذَا كَانَ وُضُوءُ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
مولانا ظفر اقبال
ابومطر کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم امیر المومنین سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ زوال کے وقت مسجد میں باب الرحبہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک آدمی آیا اور کہنے لگا کہ مجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم جیسا وضو کر کے دکھائیے، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اپنے غلام قنبر کو بلا کر فرمایا: ایک کٹورے میں پانی لے کر آؤ، پھر انہوں نے اپنے ہاتھوں اور چہرے کو تین مرتبہ دھویا، تین مرتبہ کلی کی اور اپنی ایک انگلی منہ میں ڈالی، ناک میں تین مرتبہ پانی ڈالا، تین مرتبہ بازوؤں کو دھویا، ایک مرتبہ سر کا مسح کیا، چہرہ کی طرف سے اندر کے حصے کا اور سر کی طرف سے باہر کے حصے کا، اور تین مرتبہ ٹخنوں سمیت پاؤں دھوئے، اس وقت ان کی داڑھی سینے پر لٹک رہی تھی، پھر انہوں نے وضو کے بعد ایک گھونٹ پانی پیا اور فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کے متعلق سوال کرنے والا کہاں ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس طرح وضو فرماتے تھے۔
حدیث نمبر: 1357
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، وَأَبُو نُعَيْمٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ ابْنِ شَدَّادٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، يَقُولُ : " مَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَجْمَعُ أَبَاهُ وَأُمَّهُ لِأَحَدٍ إِلَّا لِسَعْدٍ " ، قَالَ أَبُو نُعَيْمٍ : أَبَوَيْهِ لِأَحَدٍ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی کسی کے لئے - سوائے سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کے - اپنے والدین کو جمع کرتے ہوئے نہیں سنا، غزوہ احد کے دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے فرما رہے تھے: ”سعد تیر پھینکو، تم پر میرے ماں باپ قربان ہوں۔“
حدیث نمبر: 1358
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا لَكَ تَنَوَّقُ فِي قُرَيْشٍ وَلَا تَزَوَّجُ إِلَيْنَا ؟ قَالَ : " وَعِنْدَكَ شَيْءٌ ؟ " ، قَالَ : قُلْتُ : نَعَمْ ، ابْنَةُ حَمْزَةَ ، قَالَ : " تِلْكَ ابْنَةُ أَخِي مِنَ الرَّضَاعَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے ایک مرتبہ بارگاہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم میں عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ ہمیں چھوڑ کر قریش کے دوسرے خاندانوں کو کیوں پسند کرتے ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارے پاس بھی کچھ ہے؟“ میں نے عرض کیا: جی ہاں! سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی۔ فرمایا: ”وہ تو میری رضاعی بھتیجی ہے۔“ (دراصل نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا امیر حمزہ رضی اللہ عنہ آپس میں رضاعی بھائی بھی تھے اور چچا بھتیجے بھی)۔
حدیث نمبر: 1359
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زُرَيْرٍ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : أُهْدِيَتْ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَغْلَةٌ فَرَكِبَهَا ، فَقَالَ بَعْضُ أَصْحَابِهِ : لَوْ اتَّخَذْنَا مِثْلَ هَذَا ؟ قَالَ : " أَتُرِيدُونَ أَنْ تُنْزُوا الْحَمِيرَ عَلَى الْخَيْلِ ؟ إِنَّمَا يَفْعَلُ ذَلِكَ الَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بطور ہدیہ کے ایک خچر پیش کیا گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس پر سوار ہوئے، کسی صحابی رضی اللہ عنہ نے پوچھا: اگر ہم بھی یہ جانور حاصل کرنا چاہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم گھوڑوں پر گدھوں کو کدوانا چاہتے ہو؟ یہ وہ لوگ کرتے ہیں جو جاہل ہیں۔“
حدیث نمبر: 1360
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بُكَيْرٍ النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا الْعَلَاءُ بْنُ هِلَالٍ الرَّقِّيُّ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي حَيَّةَ ، قَالَ : قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : أَلَا أُرِيكُمْ كَيْفَ كَانَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ ؟ قُلْنَا : بَلَى ، قَالَ : فَأْتُونِي بِطَسْتٍ وَتَوْرٍ مِنْ مَاءٍ ، " فَغَسَلَ يَدَيْهِ ثَلَاثًا ، وَاسْتَنْشَقَ ثَلَاثًا ، وَاسْتَنْثَرَ ثَلَاثًا ، وَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا ، وَغَسَلَ يَدَيْهِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ ثَلَاثًا ، وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ ثَلَاثًا ، وَغَسَلَ رِجْلَيْهِ ثَلَاثًا " .
مولانا ظفر اقبال
ابوحیہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کیا میں تمہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرح وضو کر کے نہ دکھاؤں؟ ہم نے عرض کیا: کیوں نہیں، انہوں نے فرمایا: پھر میرے پاس ایک طشت اور پانی کا ایک برتن لے کر آؤ، چنانچہ پہلے انہوں نے تین مرتبہ اپنے دونوں ہاتھوں کو دھویا، پھر تین مرتبہ کلی کی، تین مرتبہ ناک میں پانی ڈالا، تین مرتبہ چہرہ دھویا، تین مرتبہ کہنیوں سمیت ہاتھ دھوئے، سر کا مسح کیا، اور تین مرتبہ ٹخنوں سمیت دونوں پاؤں دھوئے۔
…