حدیث نمبر: 602
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنِي وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ الْوَاسِطِيُّ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ يَعْنِي الْيَمَامِيَّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ الْيَمَامِيِّ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ زَيْدِ بْنِ حَسَنٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : كُنْتُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَقْبَلَ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، فَقَالَ : " يَا عَلِيُّ ، هَذَانِ سَيِّدَا كُهُولِ أَهْلِ الْجَنَّةِ وَشَبَابِهَا بَعْدَ النَّبِيِّينَ وَالْمُرْسَلِينَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں موجود تھا کہ سامنے سے حضرات شیخین رضی اللہ عنہما آتے ہوئے دکھائی دیئے ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”علی ! یہ دونوں حضرات انبیاء و مرسلین کے علاوہ جنت کے تمام بوڑھوں اور جوانوں کے سردار ہیں ۔ “
حدیث نمبر: 603
(حديث مرفوع) أخبرنا سُفْيَانُ ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ رَجُلٍ ، سَمِعَ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، يَقُولُ : أَرَدْتُ أَنْ أَخْطُبَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ابْنَتَهُ ، فَقُلْتُ : مَا لِي مِنْ شَيْءٍ ، فَكَيْفَ ؟ ثُمَّ ذَكَرْتُ صِلَتَهُ وَعَائِدَتَهُ ، فَخَطَبْتُهَا إِلَيْهِ ، فَقَالَ : " هَلْ لَكَ مِنْ شَيْءٍ ؟ " ، قُلْتُ : لَا ، قَالَ : " فَأَيْنَ دِرْعُكَ الْحُطَمِيَّةُ الَّتِي أَعْطَيْتُكَ يَوْمَ كَذَا وَكَذَا ؟ " ، قَالَ : هِيَ عِنْدِي ، قَالَ : " فَأَعْطِنيِهَا " ، قال : فأَعَطْيُتها إِيَّاهُ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی کے لئے پیغام نکاح بھیجنے کا ارادہ کیا تو دل میں سوچا کہ میرے پاس تو کچھ ہے نہیں ، پھر یہ کیسے ہو گا ؟ پھر مجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مہربانی اور شفقت یاد آئی چنانچہ میں نے پیغام نکاح بھیج دیا ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہارے پاس کچھ ہے بھی ؟ میں نے عرض کیا : نہیں ! فرمایا : ”تمہاری وہ حطمیہ کی زرہ کیا ہوئی جو میں نے تمہیں فلاں دن دی تھی ؟“ عرض کیا کہ وہ تو میرے پاس ہے ؟ فرمایا : ”پھر وہی دے دو“ ، چنانچہ میں نے وہ لا کر انہی کو دے دی ۔
حدیث نمبر: 604
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّ فَاطِمَةَ أَتَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَسْتَخْدِمُهُ ، فَقَالَ : " أَلَا أَدُلُّكِ عَلَى مَا هُوَ خَيْرٌ لَكِ مِنْ ذَلِكَ ؟ تُسَبِّحِينَ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ ، وَتُكَبِّرِينَ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ ، وَتَحْمَدِينَ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ " ، أَحَدُهَا أَرْبَعًا وَثَلَاثِينَ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں خادم کی درخواست لے کر آئیں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”کیا تمہیں اس سے بہتر چیز نہ بتاؤں ؟ ٣٣ مرتبہ سبحان اللہ ، ٣٣ مرتبہ اللہ اکبر اور ٣٣ مرتبہ الحمدللہ کہہ لیا کرو ، ان میں سے کوئی ایک ٣٤ مرتبہ کہہ لیا کرو ۔“
حدیث نمبر: 605
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ النَّرْسِيُّ ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مَسْلَمَةُ الرَّازِيُّ ، عَنْ أَبِي عَمْرٍو الْبَجَلِيِّ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ سُفْيَانَ الثَّقَفِيِّ ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ ، عَنْ مُحَمَّدِ ابْنِ الْحَنَفِيَّةِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْعَبْدَ الْمُؤْمِنَ الْمُفَتَّنَ التَّوَّابَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”اللہ تعالیٰ اس بندہ مومن کو پسند کرتا ہے جو آزمائش میں مبتلا ہونے کے بعد توبہ کر لے ۔ “
حدیث نمبر: 606
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنِ الْمُنْذِرِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : كُنْتُ رَجُلًا مَذَّاءً ، فَكُنْتُ أَسْتَحِي أَنْ أَسْأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِمَكَانِ ابْنَتِهِ ، فَأَمَرْتُ الْمِقْدَادَ فَسَأَلَهُ ، فَقَالَ : " يَغْسِلُ ذَكَرَهُ وَيَتَوَضَّأُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھے بکثرت مذی آتی تھی ، چونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی میرے نکاح میں تھیں اس لئے مجھے خود یہ مسئلہ پوچھتے ہوئے شرم آتی تھی ، میں نے سیدنا مقداد رضی اللہ عنہ سے کہا کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ مسئلہ پوچھیں ، چنانچہ انہوں نے یہ مسئلہ پوچھا: تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایسا شخص اپنی شرمگاہ کو دھو کر وضو کر لیا کرے ۔
حدیث نمبر: 607
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنِي عُقْبَةُ بْنُ مُكَرَّمٍ الْكُوفِيُّ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ . ح وَعَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَا : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي ، لَأَمَرْتُهُمْ بِالسِّوَاكِ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابوہریرہ اور سیدنا علی رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”اگر مجھے اپنی امت پر مشقت کا خوف نہ ہوتا تو میں انہیں ہر نماز کے وقت مسواک کرنے کا حکم دیتا ۔ “
حدیث نمبر: 608
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ ، حَدَّثَنَا مُغِيرَةُ بْنُ مِقْسَمٍ ، حَدَّثَنَا الْحَارِثُ الْعُكْلِيُّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُجَيٍّ ، قَالَ : قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : كَانَ لِي مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَدْخَلَانِ بِاللَّيْلِ وَالنَّهَارِ ، وَكُنْتُ إِذَا دَخَلْتُ عَلَيْهِ وَهُوَ يُصَلِّي تَنَحْنَحَ ، فَأَتَيْتُهُ ذَاتَ لَيْلَةٍ ، فَقَالَ : " أَتَدْرِي مَا أَحْدَثَ الْمَلَكُ اللَّيْلَةَ ؟ كُنْتُ أُصَلِّي ، فَسَمِعْتُ خَشْفَةً فِي الدَّارِ ، فَخَرَجْتُ ، فَإِذَا جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام ، فَقَالَ : مَا زِلْتُ هَذِهِ اللَّيْلَةَ أَنْتَظِرُكَ ، إِنَّ فِي بَيْتِكَ كَلْبًا ، فَلَمْ أَسْتَطِعْ الدُّخُولَ ، وَإِنَّا لَا نَدْخُلُ بَيْتًا فِيهِ كَلْبٌ ، وَلَا جُنُبٌ ، وَلَا تِمْثَالٌ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں روزانہ صبح و شام دو مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوتا تھا اگر میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں داخل ہونا چاہتا اور وہ نماز پڑھ رہے ہوتے تو کھانس دیا کرتے تھے ، ایک مرتبہ میں رات کے وقت حاضر ہوا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”تمہیں پتہ ہے آج رات فرشتے نے کیا کیا ؟ میں نماز پڑھ رہا تھا کہ مجھے کسی کی آہٹ گھر میں محسوس ہوئی ، میں گھبرا کر باہر نکلا تو سامنے جبرئیل علیہ السلام کھڑے تھے وہ کہنے لگے کہ میری ساری رات آپ کے انتظار میں گزر گئی ، آپ کے کمرے میں کہیں سے کتا آ گیا ہے اس لئے میں اندر نہیں آ سکتا ، کیونکہ ہم لوگ اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جہاں کوئی کتا ، کوئی جنبی یا کوئی تصویر اور مورتی ہو ۔“
حدیث نمبر: 609
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ ، عَنْ شُرَيْحِ بْنِ النُّعْمَانِ الْهَمْدَانِيِّ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَنْ يُضَحَّى بِالْمُقَابَلَةِ ، أَوْ بِمُدَابَرَةٍ ، أَوْ شَرْقَاءَ ، أَوْ خَرْقَاءَ ، أَوْ جَدْعَاءَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے جانور کی قربانی سے منع فرمایا ہے جس کا کان آگے یا پیچھے سے کٹا ہوا ہو یا اس میں سوراخ ہو یا وہ پھٹ گیا ہو یا جسم کے دیگر اعضاء کٹے ہوئے ہوں ۔
حدیث نمبر: 610
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ هِلَالٍ ، عَنْ وَهْبِ بْنِ الْأَجْدَعِ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يُصَلَّى بَعْدَ الْعَصْرِ إِلَّا أَنْ تَكُونَ الشَّمْسُ بَيْضَاءَ مُرْتَفِعَةً " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”عصر کی نماز کے بعد کوئی نماز نہ پڑھی جائے ، ہاں ! اگر سورج صاف ستھرا دکھائی دے رہا ہو تو جائز ہے ۔ “
حدیث نمبر: 611
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ ، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُنَيْنٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : نَهَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَنْ أَقْرَأَ وَأَنَا رَاكِعٌ ، وَعَنْ خَاتَمِ الذَّهَبِ ، وَعَنِ الْقَسِّيِّ ، وَالْمُعَصْفَرِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے رکوع کی حالت میں قرآن کریم کی تلاوت ، سونے کی انگوٹھی ، ریشی کپڑے اور عصفر سے رنگے ہوئے کپڑے پہننے سے منع فرمایا ہے ۔
حدیث نمبر: 612
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، قَالَ : جَاءَ أَبُو مُوسَى إِلَى الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ يَعُودُهُ ، فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : أَعَائِدًا جِئْتَ أَمْ شَامِتًا ؟ قَالَ : لَا ، بَلْ عَائِدًا ، قَالَ : فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : إِنْ كُنْتَ جِئْتَ عَائِدًا ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِذَا عَادَ الرَّجُلُ أَخَاهُ الْمُسْلِمَ ، مَشَى فِي خِرَافَةِ الْجَنَّةِ حَتَّى يَجْلِسَ ، فَإِذَا جَلَسَ ، غَمَرَتْهُ الرَّحْمَةُ ، فَإِن كَانَ غُدْوَةً ، صَلَّى عَلَيْهِ سَبْعُونَ أَلْفَ مَلَكٍ حَتَّى يُمْسِيَ ، وَإِنْ كَانَ مَسَاءً ، صَلَّى عَلَيْهِ سَبْعُونَ أَلْفَ مَلَكٍ حَتَّى يُصْبِحَ " .
مولانا ظفر اقبال
عبدالرحمن بن ابی لیلی کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ عنہ ، سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی عیادت کے لئے آئے ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا : عیادت کی نیت سے آئے ہو یا اس کے بیمار ہونے پر خوشی کا اظہار کرنے کے لئے آئے ہو ؟ انہوں نے کہا کہ میں تو عیادت کی نیت سے آیا ہوں ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اگر واقعی عیادت کی نیت سے آئے ہو تو میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جب کوئی شخص اپنے کسی مسلمان بھائی کی عیادت کرتا ہے تو وہ جنت کے باغات میں چلتا ہے یہاں تک کہ بیٹھ جائے ، اس کے بیٹھنے پر اللہ کی رحمت اسے ڈھانپ لیتی ہے ، پھر اگر صبح کو جائے تو شام تک اور شام کو جائے تو صبح تک ستر ہزار فرشتے اس کے لئے دعاء مغفرت کرتے رہتے ہیں ۔
حدیث نمبر: 613
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، فِي سَنَةِ سِتٍّ وَعِشْرِينَ وَمِائَتَيْنِ ، حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ الزَّنْجِيُّ ، قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ : قُلْتُ لِسُوَيْدٍ : وَلِمَ سُمِّيَ الزَّنْجِيَّ ؟ قَالَ : كَانَ شَدِيدَ السَّوَادِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبي رَافِعٍ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَفَ بِعَرَفَةَ ، وَهُوَ مُرْدِفٌ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ ، فَقَالَ : " هَذَا مَوْقِفٌ ، وَكُلُّ عَرَفَةَ مَوْقِفٌ " ، ثُمَّ دَفَعَ ، فَجَعَلَ يَسِيرُ الْعَنَقَ ، وَالنَّاسُ يَضْرِبُونَ يَمِينًا وَشِمَالًا ، وَهُوَ يَلْتَفِتُ وَيَقُولُ : " السَّكِينَةَ أَيُّهَا النَّاسُ ، السَّكِينَةَ أَيُّهَا النَّاسُ " ، حَتَّى جَاءَ الْمُزْدَلِفَةَ ، فَجَمَعَ بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ ، ثُمَّ وَقَفَ بِالْمُزْدَلِفَةِ ، فَأَرْدَفَ الْفَضْلَ بْنَ عَبَّاسٍ ، ثُمَّ وَقَفَ عَلَى قُزَحَ ، فَقَالَ : " هَذَا الْمَوْقِفُ ، وَكُلُّ الْمُزْدَلِفَةِ مَوْقِفٌ " ، ثُمَّ دَفَعَ ، فَجَعَلَ يَسِيرُ الْعَنَقَ ، وَالنَّاسُ يَضْرِبُونَ يَمِينًا وَشِمَالًا ، وَهُوَ يَلْتَفِتُ ، وَيَقُولُ : " السَّكِينَةَ أَيُّهَا النَّاسُ ، السَّكِينَةَ أَيُّهَا النَّاسُ " ، فَلَمَّا وَقَفَ عَلَى مُحَسِّرٍ ، قَرَعَ رَاحِلَتَهُ فَخَبَّتْ بِهِ ، حَتَّى خَرَجَتْ مِنَ الْوَادِي ، ثُمَّ سَارَ سِيرَتَهُ ، حَتَّى أَتَى الْجَمْرَةَ ، ثُمَّ دَخَلَ الْمَنْحَرَ ، فَقَالَ : " هَذَا الْمَنْحَرُ ، وَكُلُّ مِنًى مَنْحَرٌ " ، فَذَكَرَ مِثْلَ حَدِيثِ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَةَ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، مِثْلَهُ ، أَوْ نَحْوَهُ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر میدان عرفات میں وقوف کیا اور فرمایا کہ یہ وقوف کی جگہ ہے اور پورا عرفہ ہی وقوف کی جگہ ہے ، پھر غروب شمس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم روانہ ہوئے اپنے پیچھے سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ کو بٹھا لیا اور اپنی سواری کی رفتار تیز کر دی ، لوگ دائیں بائیں بھاگنے لگے ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کی طرف متوجہ ہو کر فرمانے لگے لوگو ! سکون اور اطمینان اختیار کرو ۔ پھر آپ مزدلفہ پہنچے تو مغرب اور عشاء کی نمازیں اکٹھی پڑھیں اور رات بھر وہیں رہے ، صبح ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم جبل قزح پر تشریف لائے ، وہاں وقوف کیا اور فرمایا کہ یہ وقوف کی جگہ ہے اور پورا مزدلفہ ہی وقوف کی جگہ ہے ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم چلتے ہوئے وادی محسر پہنچے ، وہاں ایک لمحے کے لئے رکے پھر اپنی اونٹنی کو سرپٹ دوڑا دیا تاآنکہ اس وادی سے نکل گئے (کیونکہ یہ عذاب کی جگہ تھی) ۔ پھر سواری روک کر اپنے پیچھے سیدنا فضل رضی اللہ عنہ کو بٹھا لیا اور چلتے چلتے منیٰ پہنچ کر جمرہ عقبہ آئے اور اسے کنکریاں ماریں پھر قربان گاہ تشریف لائے اور فرمایا کہ یہ قربان گاہ ہے اور منیٰ پورا ہی قربان گاہ ہے پھر راوی نے مکمل حدیث ذکر کی ۔
حدیث نمبر: 614
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ أَبُو مَعْمَرٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ جَبِيرَةَ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يُبْغِضُ الْعَرَبَ إِلَّا مُنَافِقٌ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”عرب سے نفرت کرنے والا کوئی منافق ہی ہو سکتا ہے ۔ “
حدیث نمبر: 615
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : خَطَبَنَا عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، فَقَالَ : مَنْ زَعَمَ أَنَّ عِنْدَنَا شَيْئًا نَقْرَؤُهُ إِلَّا كِتَابَ اللَّهِ وَهَذِهِ الصَّحِيفَةَ ، صَحِيفَةٌ فِيهَا أَسْنَانُ الْإِبِلِ وَأَشْيَاءُ مِنَ الْجِرَاحَاتِ ، فَقَدْ كَذَبَ ، قَالَ : وَفِيهَا : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْمَدِينَةُ حَرَمٌ مَا بَيْنَ عَيْرٍ إِلَى ثَوْرٍ ، فَمَنْ أَحْدَثَ فِيهَا حَدَثًا ، أَوْ آوَى مُحْدِثًا ، فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ ، لَا يَقْبَلُ اللَّهُ مِنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَدْلًا وَلَا صَرْفًا ، وَمَنْ ادَّعَى إِلَى غَيْرِ أَبِيهِ ، أَوْ تَوَلَّى غَيْرَ مَوَالِيهِ ، فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ ، لَا يَقْبَلُ اللَّهُ مِنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ صَرْفًا وَلَا عَدْلًا ، وَذِمَّةُ الْمُسْلِمِينَ وَاحِدَةٌ ، يَسْعَى بِهَا أَدْنَاهُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
ابراہیم تیمی اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا : جو شخص یہ سمجھتا ہے کہ ہمارے پاس کتاب اللہ اور اس صحیفے جس میں اونٹوں کی عمریں اور زخموں کی کچھ تفصیلات ہیں کے علاوہ بھی کچھ اور ہے جو ہم پڑھتے ہیں تو وہ جھوٹا ہے ، اس صحیفے میں یہ بھی لکھا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”عیر سے ثور تک مدینہ منورہ حرم ہے ، جو شخص اس میں کوئی بدعت ایجاد کرے یا کسی بدعتی کو ٹھکانہ دے ، اس پر اللہ کی ، فرشتوں کی اور تمام لوگوں کی لعنت ہے ، قیامت کے دن اللہ اس سے کوئی فرض یا نفلی عبادت قبول نہ کرے گا ۔ اور جو شخص اپنے باپ کے علاوہ کسی اور کی طرف اپنی نسبت کرے (کسی دوسرے شخص کو اپنا باپ کہنا شروع کر دے ) یا کوئی غلام اپنے آقا کے علاوہ کسی اور کو اپنا آقا کہنا شروع کر دے ، اس پر بھی اللہ کی ، فرشتوں کی اور تمام لوگوں کی لعنت ہے ، قیامت کے دن اللہ اس کا بھی کوئی فرض یا نفل قبول نہیں کرے گا اور تمام مسلمانوں کی ذمہ داری ایک جیسی ہے ، ایک عام آدمی بھی اگر کسی کو امان دے دے تو اس کا لحاظ کیا جائے گا ۔“
حدیث نمبر: 616
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ خَيْثَمَةَ ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ ، قَالَ : قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : إِذَا حَدَّثْتُكُمْ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثًا ، فَلَأَنْ أَخِرَّ مِنَ السَّمَاءِ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَكْذِبَ عَلَيْهِ ، وَإِذَا حَدَّثْتُكُمْ عَنْ غَيْرِهِ ، فَإِنَّمَا أَنَا رَجُلٌ مُحَارِبٌ ، وَالْحَرْبُ خَدْعَةٌ ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " يَخْرُجُ فِي آخِرِ الزَّمَانِ أَقْوَامٌ أَحْدَاثُ الْأَسْنَانِ ، سُفَهَاءُ الْأَحْلَامِ ، يَقُولُونَ مِنْ قَوْلِ خَيْرِ الْبَرِيَّةِ ، لَا يُجَاوِزُ إِيمَانُهُمْ حَنَاجِرَهُمْ ، فَأَيْنَمَا لَقِيتُمُوهُمْ فَاقْتُلُوهُمْ ، فَإِنَّ قَتْلَهُمْ أَجْرٌ لِمَنْ قَتَلَهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
سوید بن غفلہ کہتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ فرمایا : جب میں تم سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے کوئی حدیث بیان کروں تو میرے نزدیک آسمان سے گر جانا ان کی طرف جھوٹی نسبت کرنے سے زیادہ پسندیدہ ہے اور جب کسی اور کے حوالے سے کوئی بات کروں تو میں جنگجو آدمی ہوں اور جنگ تو نام ہی تدابیر اور چال کا ہے ۔ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ قیامت کے قریب ایسی اقوام نکلیں گی جن کی عمر تھوڑی ہو گی اور عقل کے اعتبار سے وہ بیوقوف ہوں گے ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی باتیں کریں گے ، لیکن ایمان ان کے گلے سے آگے نہیں جائے گا ، تم انہیں جہاں بھی پاؤ قتل کر دو ، کیونکہ ان کا قتل کرنا قیامت کے دن باعث ثواب ہو گا ۔
حدیث نمبر: 617
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ مُسْلِمٍ ، عَنْ شُتَيْرِ بْنِ شَكَلٍ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْأَحْزَابِ : " شَغَلُونَا عَنْ صَلَاةِ الْوُسْطَى ، صَلَاةِ الْعَصْرِ ، مَلَأَ اللَّهُ قُبُورَهُمْ وَبُيُوتَهُمْ نَارًا " ، ثُمَّ صَلَّاهَا بَيْنَ الْعِشَاءَيْنِ : بَيْنِ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ غزوہ خندق کے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”اللہ ان کے گھروں اور قبروں کو آگ سے بھر دے کہ انہوں نے ہمیں نماز عصر نہیں پڑھنے دی یہاں تک کہ سورج غروب ہو گیا ، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کی نماز مغرب اور عشاء کے درمیان ادا فرمائی ۔ “
حدیث نمبر: 618
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنِ مُنْذِرِ أَبِي يَعْلَى ، عَنْ مُحَمَّدِ ابْنِ الْحَنَفِيَّةِ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : كَانَ رَجُلًا مَذَّاءً ، فَاسْتَحْيَا أَنْ يَسْأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمَذْيِ ، قَالَ : فَقَالَ لِلْمِقْدَاد : سَلْ لِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْمَذْيِ ، قَالَ : فَسَأَلَهُ ، قَالَ : فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فِيهِ الْوُضُوءُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھے بکثرت مذی آتی تھی ، مجھے خود یہ مسئلہ پوچھتے ہوئے شرم آتی تھی ، میں نے سیدنا مقداد رضی اللہ عنہ سے کہا کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ مسئلہ پوچھیں چنانچہ انہوں نے یہ مسئلہ پوچھا: تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”ایسا شخص وضو کر لیا کرے ۔ “
حدیث نمبر: 619
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْحَارِثِ ، عَنِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَنْ يَقْرَأَ الرَّجُلُ وَهُوَ رَاكِعٌ ، أَوْ سَاجِدٌ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع یا سجدہ کی حالت میں قرآن کریم کی تلاوت سے منع فرمایا ہے ۔
حدیث نمبر: 620
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنِ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا لَكَ تَنَوَّقُ فِي قُرَيْشٍ وَتَدَعُنَا ؟ قَالَ : " وَعِنْدَكُمْ شَيْءٌ ؟ " ، قَالَ : قُلْتُ : نَعَمْ ، ابْنَةُ حَمْزَةَ ، قَالَ : " إِنَّهَا لَا تَحِلُّ لِي ، هِيَ ابْنَةُ أَخِي مِنَ الرَّضَاعَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے ایک مرتبہ بارگاہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم میں عرض کیا یا رسول اللہ ! آپ ہمیں چھوڑ کر قریش کے دوسرے خاندانوں کو کیوں پسند کرتے ہیں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہارے پاس بھی کچھ ہے ؟ میں نے عرض کیا جی ہاں ! سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی ! تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ تو میرے لئے حلال نہیں ہے کیونکہ وہ میری رضاعی بھتیجی ہے ۔ (دراصل نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا امیرحمزہ آپس میں رضاعی بھائی بھی تھے اور چچا بھتیجے بھی)۔
حدیث نمبر: 621
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ جَالِسًا ، وَفِي يَدِهِ عُودٌ يَنْكُتُ بِهِ ، قَالَ : فَرَفَعَ رَأْسَهُ ، فَقَالَ : " مَا مِنْكُمْ مِنْ نَفْسٍ إِلَّا وَقَدْ عُلِمَ مَنْزِلُهَا مِنَ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ " ، قَالَ : فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَلِمَ نَعْمَلُ ؟ قَالَ : " اعْمَلُوا ، فَكُلٌّ مُيَسَّرٌ لِمَا خُلِقَ لَهُ ، فَأَمَّا مَنْ أَعْطَى وَاتَّقَى وَصَدَّقَ بِالْحُسْنَى فَسَنُيَسِّرُهُ لِلْيُسْرَى وَأَمَّا مَنْ بَخِلَ وَاسْتَغْنَى وَكَذَّبَ بِالْحُسْنَى فَسَنُيَسِّرُهُ لِلْعُسْرَى سورة الليل آية 5 - 10 " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما تھے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دست مبارک میں ایک لکڑی تھی جس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم زمین کو کرید رہے تھے ، تھوڑی دیر بعد سر اٹھا کر فرمایا : ”تم میں سے ہر شخص کا ٹھکانہ خواہ جنت ہو یا جہنم اللہ کے علم میں موجود اور متعین ہے“ ، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے پوچھا: یا رسول اللہ ! پھر ہم عمل کیوں کریں ؟ فرمایا : ”عمل کرتے رہو کیونکہ ہر ایک کے لئے وہی اعمال آسان کئے جائیں گے جن کے لئے اسے پیدا کیا گیا ہو گا“ ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن کی یہ آیت تلاوت فرمائی کہ جس شخص نے دیا ، تقویٰ اختیار کیا اور اچھی بات کی تصدیق کی تو ہم اس کے لئے آسانی کے اسباب پیدا کر دیں گے اور جو شخص بخل اختیار کرے اپنے آپ کو مستغنی ظاہر کرے اور اچھی بات کی تکذیب کرے تو ہم اس کے لئے تنگی کے اسباب پیدا کر دیں گے ۔
حدیث نمبر: 622
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَرِيَّةً ، وَاسْتَعْمَلَ عَلَيْهِمْ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ ، قَالَ : فَلَمَّا خَرَجُوا ، قَالَ : وَجَدَ عَلَيْهِمْ فِي شَيْءٍ ، قَالَ : فَقَالَ لَهُمْ : أَلَيْسَ قَدْ أَمَرَكُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تُطِيعُونِي ؟ قَالَ : قَالُوا : بَلَى ، قَالَ : فَقَالَ : اجْمَعُوا حَطَبًا ، ثُمَّ دَعَا بِنَارٍ فَأَضْرَمَهَا فِيهِ ، ثُمَّ قَالَ : عَزَمْتُ عَلَيْكُمْ لَتَدْخُلُنَّهَا ، قَالَ : فَهَمَّ الْقَوْمُ أَنْ يَدْخُلُوهَا ، قَالَ : فَقَالَ لَهُمْ شَابٌّ مِنْهُمْ : إِنَّمَا فَرَرْتُمْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ النَّارِ ، فَلَا تَعْجَلُوا حَتَّى تَلْقَوْا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَإِنْ أَمَرَكُمْ أَنْ تَدْخُلُوهَا فَادْخُلُوها ، قَالَ : فَرَجَعُوا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَخْبَرُوهُ ، فَقَالَ لَهُمْ : " لَوْ دَخَلْتُمُوهَا مَا خَرَجْتُمْ مِنْهَا أَبَدًا ، إِنَّمَا الطَّاعَةُ فِي الْمَعْرُوفِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لشکر روانہ فرمایا اور ایک انصاری کو ان کا امیر مقرر کر دیا ، جب وہ لوگ روانہ ہوئے تو راستے میں اس انصاری کو کسی بات پر غصہ آ گیا اور اس نے ان سے کہا کہ پھر لکڑیاں اکٹھی کرو ، اس کے بعد اس نے آگ منگوا کر لکڑیوں میں آگ لگا دی اور کہا کہ میں تمہیں قسم دیتاہوں کہ اس آگ میں داخل ہو جاؤ ۔ لوگ ابھی اس میں چھلانگ لگانے کی سوچ ہی رہے تھے کہ ایک نوجوان کہنے لگا کہ آگ ہی سے تو بھاگ کر تم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دامن سے وابستہ ہوئے ہو ، اس میں جلد بازی مت کرو پہلے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مل کر پوچھ لو ، اگر وہ تمہیں اس میں چھلانگ لگانے کا حکم دیں تو ضرور ایسا ہی کرو ۔ چنانچہ لوگ رک گئے اور واپس آ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو سارا واقعہ بتایا ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”اگر تم اس میں ایک مرتبہ داخل ہو جاتے تو پھر کبھی اس میں سے نکل نہ سکتے ، یاد رکھو ! اطاعت کا تعلق تو صرف نیکی کے کاموں سے ہے ۔ “
حدیث نمبر: 623
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : حَدَّثَنِي وَاقِدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ ، قَالَ : شَهِدْتُ جَنَازَةً فِي بَنِي سَلِمَةَ ، فَقُمْتُ ، فَقَالَ لِي نَافِعُ بْنُ جُبَيْرٍ : اجْلِسْ ، فَإِنِّي سَأُخْبِرُكَ فِي هَذَا بِثَبْتٍ : حَدَّثَنِي مَسْعُودُ بْنُ الْحَكَمِ الزُّرَقِيُّ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِرَحَبَةِ الْكُوفَةِ ، وَهُوَ يَقُولُ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَمَرَنَا بِالْقِيَامِ فِي الْجِنَازَةِ ، ثُمَّ جَلَسَ بَعْدَ ذَلِكَ وَأَمَرَنَا بِالْجُلُوسِ " .
مولانا ظفر اقبال
واقد بن عمرو کہتے ہیں کہ میں بنوسلمہ کے کسی جنازے میں شریک تھا ، میں جنازے کو دیکھ کر کھڑا ہو گیا ، تو نافع بن جبیر مجھ سے کہنے لگے کہ بیٹھ جاؤ ، میں تمہیں اس سلسلے میں ایک مضبوط بات بتاتا ہوں ، مجھے مسعود بن حکم نے بتایا ہے کہ انہوں نے جامع کوفہ کے صحن میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پہلے ہمیں جنازہ دیکھ کر کھڑے ہونے کا حکم دیتے تھے ، پھر بعد میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود بھی بیٹھے رہنے لگے اور ہمیں بھی بیٹھے رہنے کا حکم دیا ۔
حدیث نمبر: 624
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ الدَّانَاجِ ، عَنْ حُضَيْنٍ أَبِي سَاسَانَ الرَّقَاشِيِّ ، قَالَ : أَنَّهُ قَدِمَ نَاسٌ مِنْ أَهْلِ الْكُوفَةِ عَلَى عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، فَأَخْبَرُوهُ بِمَا كَانَ مِنْ أَمْرِ الْوَلِيدِ ، أَيْ : بِشُرْبِهِ الْخَمْرَ ، فَكَلَّمَهُ عَلِيٌّ فِي ذَلِكَ ، فَقَالَ : دُونَكَ ابْنَ عَمِّكَ ، فَأَقِمْ عَلَيْهِ الْحَدَّ ، فَقَالَ : يَا حَسَنُ ، قُمْ فَاجْلِدْهُ ، قَالَ : مَا أَنْتَ مِنْ هَذَا فِي شَيْءٍ ، وَلِّ هَذَا غَيْرَكَ ، قَالَ : بَلْ ضَعُفْتَ وَوَهَنْتَ وَعَجَزْتَ ، قُمْ يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ جَعْفَرٍ ، فَجَعَلَ عَبْدُ اللَّهِ يَضْرِبُهُ ، وَيَعُدُّ عَلِيٌّ ، حَتَّى بَلَغَ أَرْبَعِينَ ، ثُمَّ قَالَ : أَمْسِكْ ، أَوْ قَالَ : كُفَّ ، " جَلَدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعِينَ ، وَأَبُو بَكْرٍ أَرْبَعِينَ ، وَكَمَّلَهَا عُمَرُ ثَمَانِينَ ، وَكُلٌّ سُنَّةٌ " .
مولانا ظفر اقبال
ابوساسان رقاشی کہتے ہیں کہ کوفہ سے کچھ لوگ سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انہوں نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو ولید کی شراب نوشی کے حوالے سے کچھ خبریں بتائیں ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے بھی ان سے اس حوالے پر گفتگو کی تو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا کہ آپ کا چچازاد بھائی آپ کے حوالے ہے ، آپ اس پر سزا جاری فرمائیے انہوں نے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ حسن ! کھڑے ہو کر اسے کوڑے مارو ، اس نے کہا کہ آپ یہ کام نہیں کر سکتے ، کسی اور کو اس کا حکم دیجئے ، فرمایا : اصل میں تم کمزور اور عاجز ہو گئے ہو ، اس لئے عبداللہ بن جعفر ! تم کھڑے ہو کر اس پر سزا جاری کرو ، چنانچہ سیدنا عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ کوڑے مارتے جاتے تھے اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ گنتے جاتے تھے ، جب چالیس کوڑے ہوئے تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : بس کرو ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے شرابی کو چالیس کوڑے مارے تھے ، سیدنا ابوبکرضی اللہ عنہ نے بھی چالیس کوڑے مارے تھے ، لیکن سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اسی مارے تھے اور دونوں ہی سنت ہیں ۔
حدیث نمبر: 625
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ بْنِ يَزِيدَ بْنِ رُكَانَةَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ الْخَوْلَانِيِّ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : دَخَلَ عَلَيَّ عَلِيٌّ بَيْتِي ، فَدَعَا بِوَضُوءٍ ، فَجِئْتُهُ بِقَعْبٍ يَأْخُذُ الْمُدَّ أَوْ قَرِيبَهُ ، حَتَّى وُضِعَ بَيْنَ يَدَيْهِ ، وَقَدْ بَالَ ، فَقَالَ : يَا ابْنَ عَبَّاسٍ ، أَلَا أَتَوَضَّأُ لَكَ وُضُوءَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قُلْتُ : بَلَى ، فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي ، قَالَ : فَوُضِعَ لَهُ إِنَاءٌ ، " فَغَسَلَ يَدَيْهِ ، ثُمَّ مَضْمَضَ ، وَاسْتَنْشَقَ ، وَاسْتَنْثَرَ ، ثُمَّ أَخَذَ بِيَدَيْهِ فَصَكَّ بِهِمَا وَجْهَهُ ، وَأَلْقَمَ إِبْهَامَهُ مَا أَقْبَلَ مِنْ أُذُنَيْهِ ، قَالَ : ثُمَّ عَادَ فِي مِثْلِ ذَلِكَ ثَلَاثًا ، ثُمَّ أَخَذَ كَفًّا مِنْ مَاءٍ بِيَدِهِ الْيُمْنَى ، فَأَفْرَغَهَا عَلَى نَاصِيَتِهِ ، ثُمَّ أَرْسَلَهَا تَسِيلُ عَلَى وَجْهِهِ ، ثُمَّ غَسَلَ يَدَهُ الْيُمْنَى ، إِلَى الْمِرْفَقِ ثَلَاثًا ، ثُمَّ يَدَهُ الْأُخْرَى مِثْلَ ذَلِكَ ، ثُمَّ مَسَحَ بِرَأْسِهِ وَأُذُنَيْهِ مِنْ ظُهُورِهِمَا ، ثُمَّ أَخَذَ بِكَفَّيْهِ مِنَ الْمَاءِ ، فَصَكَّ بِهِمَا عَلَى قَدَمَيْهِ ، وَفِيهِمَا النَّعْلُ ، ثُمَّ قَلَبَهَا بِهَا ، ثُمَّ عَلَى الرِّجْلِ الْأُخْرَى مِثْلَ ذَلِكَ ، قَالَ : فَقُلْتُ : وَفِي النَّعْلَيْنِ ؟ قَالَ : وَفِي النَّعْلَيْنِ ، قُلْتُ : وَفِي النَّعْلَيْنِ ؟ قَالَ : وَفِي النَّعْلَيْنِ ، قُلْتُ : وَفِي النَّعْلَيْنِ ؟ قَالَ : وَفِي النَّعْلَيْنِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ میرے گھر تشریف لائے ، انہوں نے وضو کے لئے پانی منگوایا ، ہم ان کے پاس ایک پیالہ لائے جس میں ایک مد یا اس کے قریب پانی آتا تھا اور وہ لا کر ان کے سامنے رکھ دیا ، اس وقت وہ پیشاب سے فارغ ہو چکے تھے ، انہوں نے مجھ سے فرمایا : اے ابن عباس ! کیا میں تمہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم جیسا وضو کر کے نہ دکھاؤں ؟ میں نے کہا: کیوں نہیں ؟ میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ۔ چنانچہ ان کے وضو کے لئے برتن رکھا گیا ، پہلے انہوں نے دونوں ہاتھ دھوئے ، کلی کی ، ناک میں پانی ڈال کر اسے صاف کیا ، پھر دونوں ہاتھوں میں پانی لے کر چہرے پر مارا اپنے انگوٹھے کا پانی کان کے سامنے والے حصے پر ڈالا تین مرتبہ اسی طرح کیا ، پھر دائیں ہاتھ سے ایک چلو بھر کر پانی لیا اور اسے پیشانی پر ڈال لیا ، تاکہ وہ چہرے پر بہہ جائے ، پھر دائیں ہاتھ کو کہنی سمیت تین مرتبہ دھویا ، بائیں ہاتھ کو بھی اسی طرح دھویا ، سر اور کانوں کا مسح کیا ، پھر دونوں ہاتھوں میں پانی لے کر اپنے قدموں پر ڈالا ، جبکہ انہوں نے جوتی پہن رکھی تھی ، پھر جوتی کو ہلایا اور دوسرے پاؤں کے ساتھ بھی اسی طرح کیا ۔ میں نے عرض کیا کہ جوتی پہنے ہوئے بھی وضو ہو سکتا ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ ہاں ! ہو سکتا ہے ۔ یہ سوال جواب تین مرتبہ ہوئے ۔
حدیث نمبر: 626
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَبِيدَةَ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : ذُكِرَ الْخَوَارِجُ ، فَقَالَ : " فِيهِمْ مُخْدَجُ الْيَدِ ، أَوْ مُودَنُ الْيَدِ ، أَوْ مُثَدَّنُ الْيَدِ ، لَوْلَا أَنْ تَبْطَرُوا ، لَحَدَّثْتُكُمْ بِمَا وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ يَقْتُلُونَهُمْ عَلَى لِسَانِ مُحَمَّدٍ " ، قُلْتُ : أَنْتَ سَمِعْتَهُ مِنْ مُحَمَّدٍ ؟ قَالَ : إِي وَرَبِّ الْكَعْبَةِ ، إي ورب الكعبة ، إي ورب الكعبة .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے سامنے ایک مرتبہ خوارج کا ذکر ہوا تو فرمایا کہ ان میں ایک آدمی ناقص الخلقت بھی ہو گا ، اگر تم حد سے آگے نہ بڑھ جاؤ تو میں تم سے وہ وعدہ بیان کرتا جو اللہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی ان کے قتل کرنے والوں سے فرما رکھا ہے ، راوی ہے کہتے ہیں کہ میں نے ان سے پوچھا کہ آپ نے واقعی نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس سلسلے میں کوئی فرمان سنا ہے ؟ تو انہوں نے تین مرتبہ فرمایا : ہاں ! رب کعبہ کی قسم ۔
حدیث نمبر: 627
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَمَةَ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يُقْرِئُنَا الْقُرْآنَ مَا لَمْ يَكُنْ جُنُبًا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں قرآن کریم پڑھایا کرتے تھے ، بشرطیکہ اختیاری طور پر غسل کے ضرورت مند نہ ہوتے ۔
حدیث نمبر: 628
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِذَا بَعَثْتَنِي ، أَكُونُ كَالسِّكَّةِ الْمُحْمَاةِ ، أَمْ الشَّاهِدُ يَرَى مَا لَا يَرَى الْغَائِبُ ؟ قَالَ : " الشَّاهِدُ يَرَى مَا لَا يَرَى الْغَائِبُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا ، جب آپ مجھے کہیں بھیجتے ہیں تو میں ڈھلا ہوا سکہ بن کر جایا کروں یا وہاں کے حالات دیکھ کر فیصلہ کیا کروں کیونکہ موقع پر موجود شخص وہ دیکھتا ہے جو غائب نہیں دیکھتا ؟ فرمایا : ”بلکہ یہ بات سامنے رکھو کہ موقع پر موجود شخص وہ دیکھتا ہے جو غائب نہیں دیکھتا ( اور حالات دیکھ کر فیصلہ کیا کرو)۔ “
حدیث نمبر: 629
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ شُعْبَةَ ، حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ ، قَالَ : سَمِعْتُ رِبْعِيًّا ، قَالَ : سَمِعْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَكْذِبُوا عَلَيَّ ، فَإِنَّهُ مَنْ يَكْذِبْ عَلَيَّ ، يَلِجْ النَّارَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”میری طرف جھوٹی بات کی نسبت نہ کرو ، کیونکہ جو شخص میری طرف کسی بات کی جھوٹی نسبت کرے گا ، وہ جہنم میں داخل ہو گا ۔ “
حدیث نمبر: 630
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَاهُ حُسَيْنٌ عَنْ شُعْبَةُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَلِيًّا ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَكْذِبُوا عَلَيَّ ، فَإِنَّهُ مَنْ يَكْذِبْ عَلَيَّ ، يَلِجْ النَّارَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”میری طرف جھوٹی بات کی نسبت نہ کرو ، کیونکہ جو شخص میری طرف کسی بات کی جھوٹی نسبت کرے گا ، وہ جہنم میں داخل ہو گا ۔ “
حدیث نمبر: 631
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ شُعْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ مَسْعُودِ بْنِ الْحَكَمِ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَدْ رَأَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " قَامَ فَقُمْنَا ، وَقَعَدَ فَقَعَدْنَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ پہلے ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو جنازے کے احترام میں کھڑے ہوتے ہوئے دیکھا تو ہم بھی کھڑے ہونے لگے ، بعد میں بیٹھے ہوئے دیکھا تو ہم بھی بیٹھنے لگے ۔
حدیث نمبر: 632
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ شُعْبَةَ ، حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ مُدْرِكٍ ، عَنْ أَبِى زُرْعَةَ ، عَنِ ابْنِ نُجَيٍّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَدْخُلُ الْمَلَائِكَةُ بَيْتًا فِيهِ جُنُبٌ ، وَلَا صُورَةٌ ، وَلَا كَلْبٌ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”اس گھر میں رحمت کے فرشتے داخل نہیں ہوتے جس میں کوئی جنبی ہو یا تصویر یا کتا ہو ۔ “
حدیث نمبر: 633
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ هِشَامٍ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ جُرَيِّ بْنِ كُلَيْبٍ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَنْ يُضَحَّى بِعَضْبَاءِ الْقَرْنِ وَالْأُذُنِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سینگ یا کان کٹے ہوئے جانور کی قربانی سے منع فرمایا ہے ۔
حدیث نمبر: 634
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ سُوَيْدٍ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " عَنِ الدُّبَّاءِ ، وَالْمُزَفَّتِ " ، قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ : سَمِعْت أَبِي ، يَقُولُ : لَيْسَ بِالْكُوفَةِ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حَدِيثٌ أَصَحُّ مِنْ هَذَا .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دباء اور مزفت سے منع فرمایا ہے ۔ (جن کی وضاحت پیچھے گزر چکی)۔
حدیث نمبر: 635
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ مُجَالِدٍ ، حَدَّثَنِي عَامِرٌ ، عَنْ الْحَارِثِ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشَرَةً : " آكِلَ الرِّبَا ، وَمُوكِلَهُ ، وَكَاتِبَهُ ، وَشَاهِدَيْهِ ، وَالْحَالَّ ، وَالْمُحَلَّلَ لَهُ ، وَمَانِعَ الصَّدَقَةِ ، وَالْوَاشِمَةَ ، وَالْمُسْتَوْشِمَةَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دس قسم کے لوگوں پر لعنت فرمائی ہے ، سود خور ، سود کھلانے والا ، سودی معاملات لکھنے والا ، سودی معاملات کے گواہ ، حلالہ کرنے والا ، حلالہ کروانے والا ، زکوٰۃ روکنے والا ، جسم گودنے والی اور جسم گدوانے والی عورتوں پر ۔
حدیث نمبر: 636
(حديث مرفوع) حَدَّثَنِي يَحْيَى ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْيَمَنِ وَأَنَا حَدِيثُ السِّنِّ ، قَالَ : قُلْتُ : تَبْعَثُنِي إِلَى قَوْمٍ يَكُونُ بَيْنَهُمْ أَحْدَاثٌ ، وَلَا عِلْمَ لِي بِالْقَضَاءِ ؟ قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ سَيَهْدِي لِسَانَكَ ، وَيُثَبِّتُ قَلْبَكَ " ، قَالَ : فَمَا شَكَكْتُ فِي قَضَاءٍ بَيْنَ اثْنَيْنِ بَعْدُ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جب مجھے یمن کی طرف بھیجا تو میں اس وقت نوخیز تھا ، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ آپ مجھے ایک ایسی قوم کی طرف بھیج رہے ہیں جہاں لوگوں میں آپس میں اختلافات اور جھگڑے بھی ہوں گے اور مجھے فیصلہ کرنے کا قطعاً کوئی علم نہیں ہے ؟ فرمایا : ”اللہ تمہاری زبان کو صحیح راستے پر چلائے گا اور تمہارے دل کو مضبوط رکھے گا ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اس کے بعد کبھی بھی دو آدمیوں کے درمیان فیصلہ کرنے میں مجھے کوئی شک نہیں ہوا ۔“
حدیث نمبر: 637
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ شُعْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَمَةَ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : مَرَّ بِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا وَجِعٌ ، وَأَنَا أَقُولُ : اللَّهُمَّ إِنْ كَانَ أَجَلِي قَدْ حَضَرَ ، فَأَرِحْنِي ، وَإِنْ كَانَ آجِلًا ، فَارْفَعْنِي ، وَإِنْ كَانَ بَلَاءً ، فَصَبِّرْنِي ، قَالَ : " مَا قُلْتَ ؟ " ، فَأَعَدْتُ عَلَيْهِ ، فَضَرَبَنِي بِرِجْلِهِ ، فَقَالَ : " مَا قُلْتَ ؟ " ، قَالَ : فَأَعَدْتُ عَلَيْهِ ، فَقَالَ : " اللَّهُمَّ عَافِهِ ، أَوْ اشْفِهِ " ، قَالَ : فَمَا اشْتَكَيْتُ ذَلِكَ الْوَجَعَ بَعْدُ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا میرے پاس سے گزر ہوا ، میں اس وقت بیمار تھا اور یہ دعا کر رہا تھا کہ اے اللہ ! اگر میری موت کا وقت قریب آ گیا ہے تو مجھے اس بیماری سے راحت عطا فرما اور مجھے اپنے پاس بلا لے ، اگر اس میں دیر ہو تو مجھے اٹھا لے اور اگر یہ کوئی آزمائش ہو تو مجھے صبر عطاء فرما ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ت”م کیا کہہ رہے ہو ؟“ میں نے اپنی بات پھر دہرا دی ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے پاؤں سے ٹھوکر ماری یعنی غصہ کا اظہار کیا اور فرمایا : ”کیا کہہ رہے ہو ؟“ میں نے پھر اپنی بات دہرا دی ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی : ”اے اللہ ! اسے عافیت اور شفاء عطاء فرما“ ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اس کے بعد مجھے وہ تکلیف کبھی نہیں ہوئی ۔
حدیث نمبر: 638
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَلَمَةَ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : كُنْتُ شَاكِيًا ، فَمَرَّ بِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . . . فَذَكَرَ مَعْنَاهُ ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : " اللَّهُمَّ عَافِهِ ، اللَّهُمَّ اشْفِهِ " ، فَمَا اشْتَكَيْتُ ذَلِكَ الْوَجَعَ بَعْدُ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ روایت ایک دوسری سند سے بھی مذکور ہے جو عبارت میں گزری ۔
حدیث نمبر: 639
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ شُعْبَةَ ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَمَةَ ، قَالَ : أَتَيْتُ عَلَى عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَا وَرَجُلَانِ ، فَقَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَقْضِي حَاجَتَهُ ، ثُمَّ يَخْرُجُ فَيَقْرَأُ الْقُرْآنَ ، وَيَأْكُلُ مَعَنَا اللَّحْمَ ، وَلَا يَحْجِزُهُ وَرُبَّمَا قَالَ : يَحْجُبُهُ ، مِنَ الْقُرْآنِ شَيْءٌ لَيْسَ الْجَنَابَةَ " .
مولانا ظفر اقبال
عبداللہ بن سلمہ کہتے ہیں کہ میں ایک آدمی کے ساتھ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا ، وہ فرمانے لگے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم قضاء حاجت کے بعد وضو کئے بغیر باہر تشریف لا کر قرآن کریم کی تلاوت شروع کر دیتے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ساتھ گوشت بھی تناول فرما لیا کرتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جنابت کے علاوہ کوئی چیز قرآن سے نہیں روکتی تھی ۔
حدیث نمبر: 640
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " خَيْرُ نِسَائِهَا مَرْيَمُ بِنْتُ عِمْرَانَ ، وَخَيْرُ نِسَائِهَا خَدِيجَةُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے بہترین عورت سیدہ مریم بنت عمران علیہا السلام ہیں اور بہترین عورت سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 641
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ الْكِنْدِيِّ ، عَنْ زَاذَانَ أَبِي عُمَرَ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَلِيًّا فِي الرَّحْبَةِ وَهُوَ يَنْشُدُ النَّاسَ : مَنْ شَهِدَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ غَدِيرِ خُمٍّ ، وَهُوَ يَقُولُ مَا قَالَ ؟ فَقَامَ ثَلَاثَةَ عَشَرَ رَجُلًا ، فَشَهِدُوا أَنَّهُمْ سَمِعُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَقُولُ : " مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ " .
مولانا ظفر اقبال
زاذان کہتے ہیں کہ میں نے صحن مسجد میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو لوگوں کو اللہ کی قسم دے کر یہ پوچھتے ہوئے سنا کہ غدیر خم کے موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کون حاضر تھا اور کس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان سنا تھا ؟ اس پر تیرہ آدمی کھڑے ہو گئے اور ان سب نے گواہی دی کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جس کا میں مولیٰ ہوں علی بھی اس کے مولیٰ ہیں ۔
…