حدیث نمبر: 1281
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ . ح وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَكِيمٍ الْأَوْدِيُّ . ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْوَرَكَانِيُّ . ح وَحَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى زَحْمَوَيْهِ . ح وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَامِرِ بْنِ زُرَارَةَ الْحَضْرَمِيُّ . ح وَحَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ عَمْرٍو الضَّبِّيُّ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ حَنَشٍ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : بَعَثَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْيَمَنِ قَاضِيًا ، فَقُلْتُ : تَبْعَثُنِي إِلَى قَوْمٍ وَأَنَا حَدَثُ السِّنِّ ، وَلَا عِلْمَ لِي بِالْقَضَاءِ ؟ فَوَضَعَ يَدَهُ عَلَى صَدْرِي ، فَقَالَ : " ثَبَّتَكَ اللَّهُ وَسَدَّدَكَ ، إِذَا جَاءَكَ الْخَصْمَانِ فَلَا تَقْضِ لِلْأَوَّلِ حَتَّى تَسْمَعَ مِنَ الْآخَرِ ، فَإِنَّهُ أَجْدَرُ أَنْ يَبِينَ لَكَ الْقَضَاءُ " ، قَالَ : فَمَا زِلْتُ قَاضِيًا ، وَهَذَا لَفْظُ حَدِيثِ دَاوُدَ بْنِ عَمْرٍو الضَّبِّيِّ ، وَبَعْضُهُمْ أَتَمُّ كَلَامًا مِنْ بَعْضٍ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جب مجھے یمن کی طرف بھیجا تو میں اس وقت نوخیز تھا، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ میں نو عمر ہوں اور مجھے فیصلہ کرنے کا قطعا کوئی علم نہیں ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے سینے پر اپنا ہاتھ مار کر فرمایا: ”اللہ تمہاری زبان کو صحیح راستے پر چلائے گا اور تمہارے دل کو مضبوط رکھے گا، جب تمہارے پاس دو فریق آئیں تو دوسرے فریق کی بات سنے بغیر پہلے کے حق میں فیصلہ نہ کرنا، اس طرح تمہارے لئے فیصلہ کرنا آسان ہوجائے گا۔“ وہ کہتے ہیں کہ اس کے بعد میں مسلسل قاضی بنتا رہا۔
حدیث نمبر: 1282
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ لُوَيْنٌ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَابِرٍ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ حَنَشٍ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : بَعَثَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَاضِيًا إِلَى الْيَمَنِ ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ ، قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ مُثَبِّتٌ قَلْبَكَ ، وَهَادٍ فُؤَادَكَ " ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث ایک دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حدیث نمبر: 1283
قَالَ لُوَيْنٌ : وَحَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ حَنَشٍ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ مَعْنَاهُ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث ایک دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حدیث نمبر: 1284
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ ، حَدَّثَنَا السَّكَنُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا الْأَشْعَثُ بْنُ سَوَّارٍ ، عَنِ ابْنِ أَشْوَعَ ، عَنْ حَنَشٍ الْكِنَانِيِّ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : أَنَّهُ بَعَثَ عَامِلَ شُرْطَتِهِ ، فَقَالَ لَهُ : أَتَدْرِي عَلَى مَا أَبْعَثُكَ ؟ عَلَى مَا بَعَثَنِي عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَنْ أَنْحِتَ كُلَّ يَعْنِي صُورَةً ، وَأَنْ أُسَوِّيَ كُلَّ قَبْرٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے حوالے سے مروی ہے کہ انہوں نے اپنے رفیق حیان کو مخاطب کر کے فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ میں تمہیں اس کام کے لئے بھیج رہا ہوں جس کام کے لئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بھیجا تھا؟ انہوں نے مجھے ہر قبر کو برابر کرنے اور ہر بت کو مٹا ڈالنے کا حکم دیا تھا۔
حدیث نمبر: 1285
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حدثني أبي . ح وحَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالاَ : حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ ، عَنْ زَائِدَةَ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ حَنَشٍ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا تَقَاضَى إِلَيْكَ رَجُلَانِ ، فَلَا تَقْضِ لِلْأَوَّلِ حَتَّى تَسْمَعَ مَا يَقُولُ الْآخَرُ ، فَإِنَّكَ سَوْفَ تَرَى كَيْفَ تَقْضِي " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے ارشاد فرمایا: ”جب تمہارے پاس دو فریق آئیں تو صرف کسی ایک کی بات سن کر فیصلہ نہ کرنا بلکہ دونوں کی بات سننا، تم دیکھو گے کہ تم کس طرح فیصلہ کرتے ہو۔“
حدیث نمبر: 1286
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنِي عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ أَبِي الْحَسْنَاءِ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ حَنَشٍ ، قَالَ : رَأَيْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يُضَحِّي بِكَبْشَيْنِ ، فَقُلْتُ لَهُ : مَا هَذَا ؟ فَقَالَ : أَوْصَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَنْ أُضَحِّيَ عَنْهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حنش کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو دو مینڈھے ذبح کرتے ہوئے دیکھا، میں نے اس کی وجہ پوچھی تو انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ مجھے اپنی طرف سے قربانی کرنے کا حکم دیا، (چنانچہ میں آخر دم تک ان کی طرف سے قربانی کرتا رہوں گا)۔
حدیث نمبر: 1287
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرٍ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ حَمَّادٍ ، عَنْ أَسْبَاطِ بْنِ نَصْرٍ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ حَنَشٍ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ بَعَثَهُ بِبَرَاءَةٌ ، فَقَالَ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، إِنِّي لَسْتُ بِاللَّسِنِ وَلَا بِالْخَطِيبِ ، قَالَ : " مَا بُدٌّ أَنْ أَذْهَبَ بِهَا أَنَا ، أَوْ تَذْهَبَ بِهَا أَنْتَ " ، قَالَ : فَإِنْ كَانَ وَلَا بُدَّ فَسَأَذْهَبُ أَنَا ، قَالَ : " فَانْطَلِقْ ، فَإِنَّ اللَّهَ يُثَبِّتُ لِسَانَكَ ، وَيَهْدِي قَلْبَكَ " ، قَالَ : ثُمَّ وَضَعَ يَدَهُ عَلَى فَمِهِ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں مشرکین سے اعلان براءت کے لئے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پیچھے بھیجا تو انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں تو کوئی فصیح و بلیغ آدمی نہیں ہوں، اور نہ ہی کوئی خطیب ہوں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کے علاوہ کوئی چارہ کار نہیں ہے کہ یا تم چلے جاؤ یا میں چلا جاؤں۔“ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ اگر یہی ضروری ہے تو پھر میں ہی چلا جاتا ہوں، فرمایا: ”تم جاؤ، اللہ تعالیٰ تمہاری زبان کو جما دے گا اور تمہارے دل کو صحیح راہ پر رکھے گا۔“ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ ان کے منہ پر رکھا۔
حدیث نمبر: 1288
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنَّ عَاصِمَ بْنَ بَهْدَلَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ زِرًّا يُحَدِّثُ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ يَوْمَ أُحُدٍ : " شَغَلُونَا عَنْ صَلَاةِ الْوُسْطَى ، حَتَّى آبَتِ الشَّمْسُ مَلَأَ اللَّهُ قُبُورَهُمْ وَبُيُوتَهُمْ وَبُطُونَهُمْ نَارًا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ غزوہ احد کے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ ان کے گھروں اور قبروں کو آگ سے بھر دے کہ انہوں نے ہمیں نماز عصر نہیں پڑھنے دی یہاں تک کہ سورج غروب ہو گیا۔“
حدیث نمبر: 1289
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ الشَّعْبِيَّ يُحَدِّثُ ، عَنِ الْحَارِثِ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّهُ قَالَ : لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " آكِلَ الرِّبَا ، وَمُوكِلَهُ ، وَشَاهِدَيْهِ ، وَكَاتِبَهُ ، وَالْوَاشِمَةَ وَالْمُتَوَشِّمَةَ ، وَالْمُحِلَّ وَالْمُحَلَّلَ لَهُ ، وَمَانِعَ الصَّدَقَةِ ، وَنَهَى عَنِ النَّوْحِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دس قسم کے لوگوں پر لعنت فرمائی ہے، سود خور، سود کھلانے والا، سودی معاملات لکھنے والا، سودی معاملات کے گواہ، حلالہ کرنے والا، حلالہ کروانے والا، زکوٰۃ روکنے والا، جسم گودنے والی اور جسم گدوانے والی پر لعنت فرمائی ہے، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نوحہ کرنے سے منع فرماتے تھے۔
حدیث نمبر: 1290
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ نُجَيٍّ يُحَدِّثُ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : كَانَتْ لِي سَاعَةٌ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ اللَّيْلِ يَنْفَعُنِي اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِمَا شَاءَ أَنْ يَنْفَعَنِي بِهَا ، قَالَ : فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَدْخُلُ الْمَلَائِكَةُ بَيْتًا فِيهِ صُورَةٌ وَلَا كَلْبٌ وَلَا جُنُبٌ " ، قَالَ : " فَنَظَرْتُ فَإِذَا جِرْوٌ لِلْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ تَحْتَ السَّرِيرِ ، فَأَخْرَجْتُهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں رات کو ایک مخصوص وقت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوتا تھا، جس سے اللہ مجھے خوب فائدہ پہنچاتا تھا، ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس گھر میں فرشتے داخل نہیں ہوتے جہاں کوئی کتا، کوئی جنبی یا کوئی تصویر اور مورتی ہو، میں نے دیکھا تو چارپائی کے نیچے کتے کا ایک پلہ نطر آیا جو حسن کا تھا، میں نے اسے باہر نکال دیا۔“
حدیث نمبر: 1291
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا بُرْدَةَ يُحَدِّثُ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : نَهَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَنْ أَضَعَ الْخَاتَمَ فِي الْوُسْطَى " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے درمیان والی انگلی میں انگوٹھی پہننے سے منع فرمایا ہے۔
حدیث نمبر: 1292
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَخْطُبُ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَكْذِبُوا عَلَيَّ ، فَإِنَّهُ مَنْ يَكْذِبْ عَلَيَّ يَلِجْ النَّارَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میری طرف جھوٹی بات کی نسبت نہ کرو، کیونکہ جو شخص میری طرف کسی بات کی جھوٹی نسبت کرے گا، وہ جہنم میں داخل ہوگا۔“
حدیث نمبر: 1293
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ جُرَيَّ بْنَ كُلَيْبٍ يُحَدِّثُ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، يَقُولُ : نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " عَنْ عَضْبَاءِ الْقَرْنِ وَالْأُذُنِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سینگ یا کان کٹے ہوئے جانور کی قربانی سے منع فرمایا ہے۔
حدیث نمبر: 1204
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنِي أَبُو خَيْثَمَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ جُرَيِّ بْنِ كُلَيْبٍ النَّهْدِيِّ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَنْ يُضَحَّى بِأَعْضَبِ الْقَرْنِ وَالْأُذُنِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سینگ یا کان کٹے ہوئے جانور کی قربانی سے منع فرمایا ہے۔
حدیث نمبر: 1295
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ النَّاجِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عَمْرٍو الْفَزَارِيِّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، كَانَ يَقُولُ فِي آخِرِ وِتْرِهِ : " اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِرِضَاكَ مِنْ سَخَطِكَ ، وَمُعَافَاتِكَ مِنْ عُقُوبَتِكَ ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْكَ ، لَا أُحْصِي ثَنَاءً عَلَيْكَ ، أَنْتَ كَمَا أَثْنَيْتَ عَلَى نَفْسِكَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وتر کے آخر میں یوں فرماتے تھے: «اَللّٰهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِرِضَاكَ مِنْ سَخَطِكَ وَمُعَافَاتِكَ مِنْ عُقُوبَتِكَ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْكَ لَا أُحْصِي ثَنَاءً عَلَيْكَ أَنْتَ كَمَا أَثْنَيْتَ عَلَى نَفْسِكَ» ”اے اللہ! میں تیری رضا کے ذریعے تیری ناراضگی سے پناہ مانگتا ہوں، تیری درگزر کے ذریعے تیری سزا سے، اور تیری ذات کے ذریعے تجھ سے پناہ مانگتا ہوں، میں تیری تعریف کا احاطہ نہیں کر سکتا، تو اسی طرح ہے جس طرح تو نے اپنی تعریف خود کی ہے۔“
حدیث نمبر: 1296
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنِي نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْأَزْدِيُّ ، أَخْبَرَنِي أَبِي ، عَنْ أَبِي سَلَّامٍ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مُسْلِمِ بْنِ سَلَّامٍ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ ظَبْيَانَ ، عَنْ حُكَيْمِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا أَرَادَ سَفَرًا ، قَالَ : " اللَّهُمَّ بِكَ أَصُولُ ، وَبِكَ أَحُولُ ، وَبِكَ أَسِيرُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی سفر پر روانہ ہونے کا ارادہ فرماتے تو یہ دعا پڑھتے: «اَللّٰهُمَّ بِكَ أَصُولُ وَبِكَ أَحُولُ وَبِكَ أَسِيرُ» ”اے اللہ! میں آپ ہی کے نام کی برکت سے حملہ کرتا ہوں، آپ ہی کے نام کی برکت سے حرکت کرتا ہوں، اور آپ ہی کے نام کی برکت سے چلتا ہوں۔“
حدیث نمبر: 1297
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ لُوَيْنٌ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَابِرٍ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ حَنَشٍ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : لَمَّا نَزَلَتْ عَشْرُ آيَاتٍ مِنْ بَرَاءَةٌ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، دَعَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، فَبَعَثَهُ بِهَا لِيَقْرَأَهَا عَلَى أَهْلِ مَكَّةَ ، ثُمَّ دَعَانِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ لِي : " أَدْرِكْ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، فَحَيْثُمَا لَحِقْتَهُ فَخُذْ الْكِتَابَ مِنْهُ ، فَاذْهَبْ بِهِ إِلَى أَهْلِ مَكَّةَ ، فَاقْرَأْهُ عَلَيْهِمْ " ، فَلَحِقْتُهُ بِالْجُحْفَةِ ، فَأَخَذْتُ الْكِتَابَ مِنْهُ ، وَرَجَعَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، نَزَلَ فِيَّ شَيْءٌ ؟ قَالَ : " لَا ، وَلَكِنَّ جِبْرِيلَ جَاءَنِي ، فَقَالَ : لَنْ يُؤَدِّيَ عَنْكَ إِلَّا أَنْتَ ، أَوْ رَجُلٌ مِنْكَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب سورہ براءۃ کی ابتدائی دس آیات نازل ہوئیں تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو بلایا اور انہیں اہل مکہ کی طرف بھیجا تاکہ وہ انہیں یہ پڑھ کر سنا دیں، ان کے جانے کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلایا اور فرمایا: ”سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پیچھے جاؤ، وہ تمہیں جہاں بھی ملیں ان سے وہ خط لے کر تم اہل مکہ کے پاس جاؤ اور انہیں وہ خط پڑھ کر سناؤ۔“ چنانچہ میں نے مقام جحفہ میں انہیں جا لیا اور ان سے وہ خط وصول کر لیا۔ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس واپس پہنچے تو عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا میرے بارے میں کوئی حکم نازل ہوا ہے؟ فرمایا: ”نہیں! اصل بات یہ ہے کہ میرے پاس جبرئیل علیہ السلام آئے تھے اور انہوں نے یہ کہا تھا کہ یہ پیغام آپ خود پہنچائیں یا آپ کے خاندان کا کوئی فرد، (اس لئے مجبورا مجھے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو اس خدمت پر مامور کرنا پڑا)۔“
حدیث نمبر: 1298
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ سُوَيْدٍ ، قَالَ : قِيلَ لِعَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : إِنَّ رَسُولَكُمْ كَانَ يَخُصُّكُمْ بِشَيْءٍ دُونَ النَّاسِ عَامَّةً ؟ قَالَ : مَا خَصَّنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَيْءٍ لَمْ يَخُصَّ بِهِ النَّاسَ ، إِلَّا بِشَيْءٍ فِي قِرَابِ سَيْفِي هَذَا ، فَأَخْرَجَ صَحِيفَةً فِيهَا شَيْءٌ مِنْ أَسْنَانِ الْإِبِلِ ، وَفِيهَا : " أَنَّ الْمَدِينَةَ حَرَمٌ مِنْ بَيْنِ ثَوْرٍ إِلَى عَائِرٍ ، مَنْ أَحْدَثَ فِيهَا حَدَثًا ، أَوْ آوَى مُحْدِثًا ، فَإِنَّ عَلَيْهِ لَعْنَةَ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ ، لَا يُقْبَلُ مِنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ صَرْفٌ وَلَا عَدْلٌ ، وَذِمَّةُ الْمُسْلِمِينَ وَاحِدَةٌ فَمَنْ أَخْفَرَ مُسْلِمًا ، فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ ، لَا يُقْبَلُ مِنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ صَرْفٌ وَلَا عَدْلٌ ، وَمَنْ تَوَلَّى مَوْلًى بِغَيْرِ إِذْنِهِمْ ، فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ ، لَا يُقْبَلُ مِنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ صَرْفٌ وَلَا عَدْلٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حارث بن سوید رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ کسی شخص نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عام لوگوں کو چھوڑ کر خصوصیت کے ساتھ آپ سے کوئی بات بیان فرمائی ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسرے لوگوں کو چھوڑ کر خصوصیت سے ہمیں کوئی بات نہیں بتائی، البتہ میری تلوار کے اس نیام میں جو کچھ ہے وہی ہے، پھر انہوں نے اس میں سے ایک صحیفہ نکالا جس میں اونٹوں کی عمریں درج تھیں اور لکھا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”عیر سے ثور تک مدینہ منورہ حرم ہے، جو شخص اس میں کوئی بدعت ایجاد کرے یا کسی بدعتی کو ٹھکانہ دے، اس پر اللہ کی، فرشتوں کی اور تمام لوگوں کی لعنت ہے، قیامت کے دن اللہ اس سے کوئی فرض یا نفلی عبادت قبول نہ کرے گا۔ اور جو غلام اپنے آقا کے علاوہ کسی اور کو اپنا آقا کہنا شروع کر دے، اس پر بھی اللہ کی، فرشتوں کی اور تمام لوگوں کی لعنت ہے، قیامت کے دن اللہ اس کا بھی کوئی فرض یا نفل قبول نہیں کرے گا، اور تمام مسلمانوں کی ذمہ داری ایک جیسی ہے، ایک عام آدمی بھی اگر کسی کو امان دے دے تو اس کا لحاظ کیا جائے گا، جو شخص کسی مسلمان کی ذمہ داری کو پامال کرتا ہے اس پر اللہ کی، فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہے اور قیامت کے دن اس کا بھی کوئی فرض یا نفل قبول نہیں ہوگا۔“
حدیث نمبر: 1299
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، عَنْ أَبِي الضُّحَى ، عَنْ شُتَيْرِ بْنِ شَكَلٍ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ يَوْمَ الْأَحْزَابِ : " حَبَسُونَا عَنْ صَلَاةِ الْوُسْطَى ، صَلَاةِ الْعَصْرِ ، حَتَّى غَرَبَتْ الشَّمْسُ ، مَلَأَ اللَّهُ قُبُورَهُمْ وَبُيُوتَهُمْ ، أَوْ قُبُورَهُمْ وَبُطُونَهُمْ ، نَارًا " ، قَالَ شُعْبَةُ : " مَلَأَ اللَّهُ قُبُورَهُمْ وَبُيُوتَهُمْ ، أَوْ قُبُورَهُمْ وَبُطُونَهُمْ نَارًا " ، لَا أَدْرِي أَفِي الْحَدِيثِ هُوَ أَمْ لَيْسَ فِي الْحَدِيثِ ؟ أَشُكُّ فِيهِ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ غزوہ خندق کے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ ان کے گھروں اور قبروں کو آگ سے بھر دے گا کہ انہوں نے ہمیں نماز عصر نہیں پڑھنے دی یہاں تک کہ سورج غروب ہو گیا۔“
حدیث نمبر: 1300
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ ، حَدَّثَنَا نُوحُ بْنُ قَيْسٍ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ قَيْسٍ ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَازِنٍ ، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، فَقَالَ : يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ، انْعَتْ لَنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، صِفْهُ لَنَا ، فَقَالَ : " كَانَ لَيْسَ بِالذَّاهِبِ طُولًا ، وَفَوْقَ الرَّبْعَةِ ، إِذَا جَاءَ مَعَ الْقَوْمِ غَمَرَهُمْ ، أَبْيَضَ شَدِيدَ الْوَضَحِ ، ضَخْمَ الْهَامَةِ ، أَغَرَّ أَبْلَجَ ، هَدِبَ الْأَشْفَارِ ، شَثْنَ الْكَفَّيْنِ وَالْقَدَمَيْنِ ، إِذَا مَشَى يَتَقَلَّعُ كَأَنَّمَا يَنْحَدِرُ فِي صَبَبٍ ، كَأَنَّ الْعَرَقَ فِي وَجْهِهِ اللُّؤْلُؤُ ، لَمْ أَرَ قَبْلَهُ وَلَا بَعْدَهُ مِثْلَهُ ، بِأَبِي وَأُمِّي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
مولانا ظفر اقبال
یوسف بن مازن کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے درخواست کی کہ امیر المومنین! ہمارے سامنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا حلیہ مبارک بیان کیجئے، فرمایا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم بہت زیادہ لمبے قد کے نہ تھے، درمیانے قد سے تھوڑے اونچے تھے، لیکن جب لوگوں کے ساتھ آ رہے ہوتے تو سب سے اونچے محسوس ہوتے، سفید کھلتا ہوا رنگ تھا، سر مبارک بڑا تھا، روشن کشادہ پیشانی تھی، پلکوں کے بال لمبے تھے، ہتھیلیاں اور پاؤں مبارک بھرے ہوئے تھے، جب چلتے تو پاؤں اٹھا کر چلتے، ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے کسی گھاٹی میں اتر رہے ہوں، پسینہ کے قطرات روئے انور پر موتیوں کی مانند محسوس ہوتے تھے، میں نے ان جیسا نہ ان سے پہلے دیکھا اور نہ ان کے بعد، میرے ماں باپ ان پر قربان ہوں، صلی اللہ علیہ وسلم۔
حدیث نمبر: 1301
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ ، حَدَّثَنَا نُوحُ بْنُ قَيْسٍ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ قَيْسٍ ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَازِنٍ ، عَنْ رَجُلٍ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّهُ قِيلَ لَهُ : انْعَتْ لَنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " كَانَ لَيْسَ بِالذَّاهِبِ طُولًا . . " ، فَذَكَرَ مِثْلَهُ سَوَاءً .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حدیث نمبر: 1302
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنِي نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دَاوُدَ ، عَنْ نُعَيْمِ بْنِ حَكِيمٍ ، عَنْ أَبِي مَرْيَمَ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " كَانَ عَلَى الْكَعْبَةِ أَصْنَامٌ ، فَذَهَبْتُ لِأَحْمِلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْهَا ، فَلَمْ أَسْتَطِعْ ، فَحَمَلَنِي ، فَجَعَلْتُ أَقْطَعُهَا ، وَلَوْ شِئْتُ لَنِلْتُ السَّمَاءَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ خانہ کعبہ پر بہت سے بت پڑے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے بیٹھنے کے لئے فرمایا اور خود میرے کندھوں پر چڑھ گئے، میں نے کھڑا ہونا چاہا لیکن نہ ہو سکا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم مجھے لے کر کھڑے ہو گئے اور میں بتوں کو توڑنے لگا، اس وقت مجھے ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ اگر میں چاہوں تو افق کو چھو لوں۔
حدیث نمبر: 1303
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنِي أَبُو خَيْثَمَةَ ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ بْنُ سَوَّارٍ ، حَدَّثَنِي نُعَيْمُ بْنُ حَكِيمٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو مَرْيَمَ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ قَوْمًا يَمْرُقُونَ مِنَ الْإِسْلَامِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ ، يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ تَرَاقِيَهُمْ ، طُوبَى لِمَنْ قَتَلَهُمْ وَقَتَلُوهُ ، عَلَامَتُهُمْ رَجُلٌ مُخْدَجُ الْيَدِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ایک قوم ایسی آئے گی جو اسلام سے ایسے نکل جائے گی جیسے تیر شکار سے نکل جاتا ہے، یہ لوگ قرآن تو پڑھتے ہوں گے لیکن وہ ان کے حلق سے نیچے نہیں اتر سکے گا، اس شخص کے لئے خوشخبری ہے جو انہیں قتل کرے یا ان کے ہاتھوں جام شہادت نوش کر لے، ان کی علامت وہ آدمی ہے جس کا ہاتھ نامکمل ہوگا۔“
حدیث نمبر: 1304
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنِي نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، قَالَا : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دَاوُدَ ، عَنْ نُعَيْمِ بْنِ حَكِيمٍ ، عَنْ أَبِي مَرْيَمَ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّ امْرَأَةَ الْوَلِيدِ بْنِ عُقْبَةَ أَتَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ الْوَلِيدَ يَضْرِبُهَا ، وَقَالَ نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ فِي حَدِيثِهِ : تَشْكُوهُ ، قَالَ : " قُولِي لَهُ : قَدْ أَجَارَنِي " ، قَالَ عَلِيٌّ : فَلَمْ تَلْبَثْ إِلَّا يَسِيرًا حَتَّى رَجَعَتْ ، فَقَالَتْ : مَا زَادَنِي إِلَّا ضَرْبًا ، فَأَخَذَ هُدْبَةً مِنْ ثَوْبِهِ ، فَدَفَعَهَا إِلَيْهَا ، وَقَالَ : " قُولِي لَهُ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَجَارَنِي " ، فَلَمْ تَلْبَثْ إِلَّا يَسِيرًا حَتَّى رَجَعَتْ ، فَقَالَتْ : مَا زَادَنِي إِلَّا ضَرْبًا ، فَرَفَعَ يَدَيْهِ ، وَقَالَ : " اللَّهُمَّ عَلَيْكَ الْوَلِيدَ ، أَثِمَ بِي مَرَّتَيْنِ " ، وَهَذَا لَفْظُ حَدِيثِ الْقَوَارِيرِيّ ، وَمَعْنَاهُمَا وَاحِدٌ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ولید بن عقبہ کی بیوی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا: یا رسول اللہ! ولید مجھے مارتا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ”اس سے جا کر کہنا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے پناہ دی ہے۔“ کچھ ہی عرصے بعد وہ دوبارہ آگئی اور کہنے لگی کہ اب تو اس نے مجھے اور زیادہ مارنا پیٹنا شروع کر دیا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کپڑے کا ایک کونہ پکڑ کر اسے دیا اور فرمایا: ”اسے جا کر کہنا کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پناہ دی ہے۔“ لیکن تھوڑے ہی عرصے بعد وہ واپس آگئی اور کہنے لگی کہ یا رسول اللہ! اس نے مجھے اور زیادہ مارنا شروع کر دیا ہے، اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے اور فرمایا: ”الہی! ولید سے سمجھ لے، اس نے دو مرتبہ میری نافرمانی کی ہے۔“
حدیث نمبر: 1305
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَا : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، أخبرنا نُعَيْمُ بْنُ حَكِيمٍ ، عَنْ أَبِي مَرْيَمَ ، عَنْ عَلِيٍّ ، أَنَّ امْرَأَةَ الْوَلِيدِ بْنِ عُقْبَةَ جَاءَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَشْتَكِي الْوَلِيدَ أَنَّهُ يَضْرِبُهَا . . . ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حدیث نمبر: 1306
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ الْجَزَّارِ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ كَانَ يَوْمَ الْأَحْزَابِ عَلَى فُرْضَةٍ مِنْ فُرَضِ الْخَنْدَقِ ، فَقَالَ : " شَغَلُونَا عَنْ صَلَاةِ الْوُسْطَى حَتَّى غَرَبَتْ الشَّمْسُ ، مَلَأَ اللَّهُ قُبُورَهُمْ وَبُيُوتَهُمْ ، أَوْ بُطُونَهُمْ وَبُيُوتَهُمْ نَارًا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ غزوہ خندق کے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم خندق کے کسی کنارے پر بیٹھے ہوئے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ ان کے گھروں اور قبروں کو آگ سے بھر دے کہ انہوں نے ہمیں نماز عصر نہیں پڑھنے دی یہاں تک کہ سورج غروب ہو گیا۔“
حدیث نمبر: 1307
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ الْقَاسِمَ بْنَ أَبِي بَزَّةَ يُحَدِّثُ ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ ، قَالَ : سُئِلَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، هَلْ خَصَّكُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَيْءٍ ؟ فَقَالَ : مَا خَصَّنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَيْءٍ لَمْ يَعُمَّ بِهِ النَّاسَ كَافَّةً ، إِلَّا مَا كَانَ فِي قِرَابِ سَيْفِي هَذَا ، قَالَ : فَأَخْرَجَ صَحِيفَةً فِيهَا مَكْتُوبٌ : " لَعَنَ اللَّهُ مَنْ ذَبَحَ لِغَيْرِ اللَّهِ ، لَعَنَ اللَّهُ مَنْ سَرَقَ مَنَارَ الْأَرْضِ ، وَلَعَنَ اللَّهُ مَنْ لَعَنَ وَالِدَهُ ، وَلَعَنَ اللَّهُ مَنْ آوَى مُحْدِثًا " .
مولانا ظفر اقبال
ابوالطفیل کہتے ہیں کہ کسی شخص نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ ہمیں کوئی ایسی بات بتایئے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خصوصیت کے ساتھ آپ سے بیان کی ہو؟ فرمایا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے ایسی کوئی خصوصی بات نہیں کی جو دوسرے لوگوں سے چھپائی ہو، البتہ میری تلوار کی نیام میں جو کچھ ہے وہ ہے، یہ کہہ کر انہوں نے ایک صحیفہ نکالا جس میں لکھا تھا کہ ”اس شخص پر اللہ کی لعنت ہو جو غیر اللہ کے نام پر کسی جانور کو ذبح کرے، اس شخص پر اللہ کی لعنت ہو جو کسی بدعت کو ٹھکانہ دے، اس شخص پر اللہ کی لعنت ہو جو اپنے والدین پر لعنت کرے، اور اس شخص پر اللہ کی لعنت ہو جو زمین کے بیج بدل دے۔“
حدیث نمبر: 1308
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي حَسَّانَ الْأَعْرَجِ ، عَنْ عَبِيدَةَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَوْمَ الْأَحْزَابِ : " اللَّهُمَّ امْلَأْ بُيُوتَهُمْ وَقُبُورَهُمْ نَارًا ، كَمَا شَغَلُونَا عَنْ صَلَاةِ الْوُسْطَى حَتَّى آبَتْ الشَّمْسُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ غزوہ خندق کے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے اللہ! ان (مشرکین) کے گھروں اور قبروں کو آگ سے بھر دے کہ انہوں نے ہمیں نماز عصر نہیں پڑھنے دی یہاں تک کہ سورج غروب ہو گیا۔“
حدیث نمبر: 1309
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ حُجَيَّةَ بْنَ عَدِيٍّ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، وَسَأَلَهُ رَجُلٌ عَنِ الْبَقَرَةِ ؟ فَقَالَ : عَنْ سَبْعَةٍ ، وَسَأَلَهُ عَنِ الْأَعْرَجِ ؟ فَقَالَ : إِذَا بَلَغَتْ الْمَنْسَكَ ، وَسُئِلَ عَنِ الْقَرَنِ ؟ فَقَالَ : لَا يَضُرُّهُ ، وَقَالَ عَلِيٌّ : أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَنْ نَسْتَشْرِفَ الْعَيْنَ وَالْأُذُنَ " .
مولانا ظفر اقبال
ایک آدمی نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے گائے کی قربانی کے حوالے سے سوال کیا، انہوں نے فرمایا کہ ایک گائے سات آدمیوں کی طرف سے کفایت کر جاتی ہے، اس نے پوچھا کہ اگر اس کا سینگ ٹوٹا ہوا ہو تو؟ فرمایا: کوئی حرج نہیں، اس نے کہا کہ اگر وہ لنگڑی ہو؟ فرمایا: اگر قربان گاہ تک خود چل کر جا سکے تو اسے ذبح کر لو، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا ہے کہ ”جانور کے آنکھ اور کان اچھی طرح دیکھ لیں۔“
حدیث نمبر: 1310
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، وَعَفَّانُ ، الْمَعْنَى ، قَالَا : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَخْبَرَنَا سِمَاكٌ ، عَنْ حَنَشِ بْنِ الْمُعْتَمِرِ ، أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ كَانَ بِالْيَمَنِ ، فَاحْتَفَرُوا زُبْيَةً لِلْأَسَدِ ، فَجَاءَ حَتَّى وَقَعَ فِيهَا رَجُلٌ ، وَتَعَلَّقَ بِآخَرَ ، وَتَعَلَّقَ الْآخَرُ بِآخَرَ ، وَتَعَلَّقَ الْآخَرُ بِآخَرَ ، حَتَّى صَارُوا أَرْبَعَةً ، فَجَرَحَهُمْ الْأَسَدُ فِيهَا ، فَمِنْهُمْ مَنْ مَاتَ فِيهَا ، وَمِنْهُمْ مَنْ أُخْرِجَ فَمَاتَ ، قَالَ : فَتَنَازَعُوا فِي ذَلِكَ حَتَّى أَخَذُوا السِّلَاحَ ، قَالَ : فَأَتَاهُمْ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، فَقَالَ : وَيْلَكُمْ ، تَقْتُلُونَ مِائَتَيْ إِنْسَانٍ فِي شَأْنِ أَرْبَعَةِ أَنَاسِيَّ ؟ تَعَالَوْا أَقْضِ بَيْنَكُمْ بِقَضَاءٍ ، فَإِنْ رَضِيتُمْ بِهِ ، وَإِلَّا فَارْتَفِعُوا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : فَقَضَى لِلْأَوَّلِ رُبُعَ دِيَتِه ، وَلِلثَّانِي ثُلُثَ دِيَتِه ، وَلِلثَّالِثِ نِصْفَ دِيَتِه ، وَلِلرَّابِعِ الدِّيَةَ كَامِلَةً ، قَالَ : فَرَضِيَ بَعْضُهُمْ ، وَكَرِهَ بَعْضُهُمْ ، وَجَعَلَ الدِّيَةَ عَلَى قَبَائِلِ الَّذِينَ ازْدَحَمُوا ، قَالَ : فَارْتَفَعُوا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ بَهْزٌ : قَالَ حَمَّادٌ : أَحْسَبُهُ قَالَ : كَانَ مُتَّكِئًا فَاحْتَبَى ، قَالَ : " سَأَقْضِي بَيْنَكُمْ بِقَضَاءٍ " ، قَالَ : فَأُخْبِرَ أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَضَى بِكَذَا وَكَذَا ، قَالَ : فَأَمْضَى قَضَاءَهُ ، قَالَ عَفَّانُ : " سَأَقْضِي بَيْنَكُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حنش کنانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یمن میں ایک قوم نے شیر کو شکار کرنے کے لئے ایک گڑھا کھود کر اسے ڈھانپ رکھا تھا، شیر اس میں گر پڑا، اچانک ایک آدمی بھی اس گڑھے میں گر پڑا، اس کے پیچھے دوسرا، تیسرا حتی کہ چار آدمی گر پڑے (اس گڑھے میں موجود شیر نے ان سب کو زخمی کر دیا، یہ دیکھ کر ایک آدمی نے جلدی سے نیزہ پکڑا اور شیر کو دے مارا، چنانچہ شیر ہلاک ہو گیا اور وہ چاروں آدمی بھی اپنے اپنے زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دنیا سے چل بسے)۔ مقتولین کے اولیاء اسلحہ نکال کر جنگ کے لئے ایک دوسرے کے آمنے سامنے آ گئے، اتنی دیر میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ آ پہنچے اور کہنے لگے: کیا تم چار آدمیوں کے بدلے دو سو آدمیوں کو قتل کرنا چاہتے ہو؟ میں تمہارے درمیان فیصلہ کرتا ہوں، اگر تم اس پر راضی ہو گئے تو سمجھو کہ فیصلہ ہو گیا، فیصلہ یہ ہے کہ جو شخص پہلے گر کر گڑھے میں شیر کے ہاتھوں زخمی ہوا، اس کے ورثاء کو چوتھائی دیت دے دو، اور چوتھے کو مکمل دیت دے دو، دوسرے کو ایک تہائی اور تیسرے کو نصف دیت دے دو، ان لوگوں نے یہ فیصلہ تسلیم کرنے سے انکار کر دیا (کیونکہ ان کی سمجھ میں ہی نہیں آیا)۔ چنانچہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تمہارے درمیان فیصلہ کرتا ہوں“، اتنی دیر میں ایک آدمی کہنے لگا: یا رسول اللہ! سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ہمارے درمیان یہ فیصلہ فرمایا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی کو نافذ کر دیا۔
حدیث نمبر: 1311
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ ، حَدَّثَنِي نُعَيْمُ بْنُ حَكِيمٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو مَرْيَمَ ، وَرَجُلٌ مِنْ جُلَسَاءِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنْ عَلِيٍّ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَوْمَ غَدِيرِ خُمٍّ : " مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ " ، قَالَ : فَزَادَ النَّاسُ بَعْدُ : " وَالِ مَنْ وَالَاهُ ، وَعَادِ مَنْ عَادَاهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے غدیر خم کے موقع پر یہ فرمایا تھا کہ ”جس کا میں مولیٰ ہوں علی بھی اس کے مولیٰ ہیں۔“ بعد میں لوگوں نے اس پر یہ اضافہ کر لیا کہ اے اللہ! جس کا یہ دوست ہو تو اس کا دوست بن جا، اور جس کا یہ دشمن ہو تو اس کا دشمن بن جا۔
حدیث نمبر: 1312
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أخبرنا سَلَمَةُ بْنُ كُهَيْلٍ ، عَنْ حُجَيَّةَ بْنِ عَدِيٍّ ، أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ سُئِلَ عَنِ الْبَقَرَةِ ؟ فَقَالَ : عَنْ سَبْعَةٍ ، وَسُئِلَ عَنِ الْمَكْسُورَةِ الْقَرْنِ ؟ فَقَالَ : لَا بَأْسَ ، وَسُئِلَ عَنِ الْعَرَجِ ؟ فَقَالَ : مَا بَلَغَتْ الْمَنْسَكَ ، ثُمَّ قَالَ : أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَنْ نَسْتَشْرِفَ الْعَيْنَيْنِ وَالْأُذُنَيْنِ " .
مولانا ظفر اقبال
ایک آدمی نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے گائے کی قربانی کے حوالے سے سوال کیا، انہوں نے فرمایا کہ ایک گائے سات آدمیوں کی طرف سے کفایت کر جاتی ہے، اس نے پوچھا کہ اگر اس کا سینگ ٹوٹا ہوا ہو تو؟ فرمایا: کوئی حرج نہیں، اس نے کہا کہ اگر وہ لنگڑی ہو؟ فرمایا: اگر قربان گاہ تک خود چل کر جا سکے تو اسے ذبح کر لو، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا ہے کہ ”جانور کے آنکھ اور کان اچھی طرح دیکھ لیں۔“
حدیث نمبر: 1313
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنِي الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ النَّرْسِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ الْجُرَيْرِيُّ ، عَنْ أَبِي الْوَرْدِ ، عَنِ ابْنِ أَعْبُدَ ، قَالَ : قَالَ لِي عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : يَا ابْنَ أَعْبُدَ ، هَلْ تَدْرِي مَا حَقُّ الطَّعَامِ ؟ قَالَ : قُلْتُ : وَمَا حَقُّهُ يَا ابْنَ أَبِي طَالِبٍ ؟ قَالَ : تَقُولُ : بِسْمِ اللَّهِ ، اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِيمَا رَزَقْتَنَا ، قَالَ : وَتَدْرِي مَا شُكْرُهُ إِذَا فَرَغْتَ ؟ قَالَ : قُلْتُ : وَمَا شُكْرُهُ ؟ قَالَ : تَقُولُ : الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَطْعَمَنَا وَسَقَانَا ، ثُمَّ قَالَ : أَلَا أُخْبِرُكَ عَنِّي وَعَنْ فَاطِمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ؟ كَانَتْ ابْنَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَكَانَتْ مِنْ أَكْرَمِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ ، وَكَانَتْ زَوْجَتِي ، فَجَرَتْ بِالرَّحَى حَتَّى أَثَّرَ الرَّحَى بِيَدِهَا ، وَأَسْتَقَتْ بِالْقِرْبَةِ حَتَّى أَثَّرَتْ الْقِرْبَةُ بِنَحْرِهَا ، وَقَمَّتْ الْبَيْتَ حَتَّى اغْبَرَّتْ ثِيَابُهَا ، وَأَوْقَدَتْ تَحْتَ الْقِدْرِ حَتَّى دَنِسَتْ ثِيَابُهَا ، فَأَصَابَهَا مِنْ ذَلِكَ ضُرٌ ، فَقُدِمَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَبْيٍ ، أَوْ خَدَمٍ ، قَالَ : فَقُلْتُ لَهَا : انْطَلِقِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَاسْأَلِيهِ خَادِمًا يَقِيكِ حَرَّ مَا أَنْتِ فِيهِ ، فَانْطَلَقَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَوَجَدَتْ عِنْدَهُ خَدَمًا ، أَوْ خُدَّامًا ، فَرَجَعَتْ وَلَمْ تَسْأَلْهُ . . . ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ ، فَقَالَ : " أَلَا أَدُلُّكِ عَلَى مَا هُوَ خَيْرٌ لَكِ مِنْ خَادِمٍ ؟ إِذَا أَوَيْتِ إِلَى فِرَاشِكِ سَبِّحِي ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ ، وَاحْمَدِي ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ ، وَكَبِّرِي أَرْبَعًا وَثَلَاثِينَ " ، قَالَ : فَأَخْرَجَتْ رَأْسَهَا ، فَقَالَتْ : رَضِيتُ عَنِ اللَّهِ وَرَسُولِهِ ، مَرَّتَيْنِ ، فَذَكَرَ مِثْلَ حَدِيثِ ابْنِ عُلَيَّةَ ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ ، أَوْ نَحْوَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
ابن اعبد کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے مجھ سے فرمایا: ابن اعبد! تمہیں معلوم ہے کہ کھانے کا کیا حق ہے؟ میں نے عرض کیا: آپ ہی بتائیے کہ اس کا حق کیا ہے؟ فرمایا: کھانے کا حق یہ ہے کہ اس کے آغاز میں یوں کہو: «بِسْمِ اللّٰهِ اَللّٰهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِيْمَا رَزَقْتَنَا» ”اللہ کے نام سے شروع کر رہا ہوں، اے اللہ! تو نے ہمیں جو عطاء فرما رکھا ہے اس میں برکت پیدا فرما۔“ پھر مجھ سے فرمایا کہ کھانے سے فراغت کے بعد اس کا شکر کیا ہے، تمہیں معلوم ہے؟ میں نے عرض کیا: آپ ہی بتایئے کہ اس کا شکر کیا ہے؟ فرمایا : تم یوں کہو: «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِيْ أَطْعَمَنَا وَسَقَانَا» ”اس اللہ کا شکر جس نے ہمیں کھلایا اور پلایا۔“ پھر فرمایا کہ کیا میں تمہیں اپنی اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی ایک بات نہ بتاؤں؟ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی بھی تھیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نگاہوں میں تمام بچوں سے زیادہ قابل عزت بھی تھیں، اور میری رفیقہ حیات بھی تھیں، انہوں نے اتنی چکی چلائی کہ ان کے ہاتھوں میں اس کے نشان پڑ گئے، اور اتنے مشکیزے ڈھوئے کہ ان کی گردن پر اس کے نشان پڑ گئے، گھر کو اتنا سنوارا کہ اپنے کپڑے غبار آلود ہو گئے، ہانڈی کے نیچے اتنی آگ جلائی کہ کپڑے بیکار ہو گئے جس سے انہیں جسمانی طور پر شدید اذیت ہوئی۔ اتفاقا انہی دنوں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ قیدی یا خادم آئے ہوئے تھے، میں نے ان سے کہا کہ جا کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک خادم کی درخواست کرو تاکہ اس گرمی سے تو بچ جاؤ، چنانچہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں، انہوں نے دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک یا کئی خادم موجود ہیں، لیکن وہ اپنی درخواست پیش نہ کر سکیں اور واپس آگئیں۔ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی اور آخر میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ذکر کیا کہ ”کیا میں تمہیں خادم سے بہتر چیز نہ بتاؤں؟ جب تم اپنے بستر پر لیٹو تو تینتیس مرتبہ سبحان اللہ، تینتیس مرتبہ الحمدللہ اور چونتیس مرتبہ اللہ اکبر پڑھ لیا کرو۔“ اس پر انہوں نے چادر سے اپنا سر نکال کر کہا کہ میں اللہ اور اس کے رسول سے راضی ہوں، پھر راوی نے مکمل حدیث ذکر کی۔
حدیث نمبر: 1314
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي حَسَّانَ ، عَنْ عَبِيدَةَ ، قَالَ : كُنَّا نَرَى أَنَّ صَلَاةَ الْوُسْطَى صَلَاةُ الصُّبْحِ ، قَالَ : فَحَدَّثَنَا عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّهُمْ يَوْمَ الْأَحْزَابِ اقْتَتَلُوا ، وَحَبَسُونَا عَنْ صَلَاةِ الْعَصْرِ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اللَّهُمَّ امْلَأْ قُبُورَهُمْ نَارًا ، أَوْ امْلَأْ بُطُونَهُمْ نَارًا ، كَمَا حَبَسُونَا عَنْ صَلَاةِ الْوُسْطَى " ، قَالَ : فَعَرَفْنَا يَوْمَئِذٍ أَنَّ صَلَاةَ الْوُسْطَى صَلَاةُ الْعَصْرِ .
مولانا ظفر اقبال
عبیدہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ہم صلوۃ وسطی فجر کی نماز کو سمجھتے تھے، پھر ایک دن سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث بیان کی کہ انہوں نے غزوہ احزاب کے موقع پر جنگ شروع کی تو مشرکین نے ہمیں نماز عصر پڑھنے سے روک دیا، اس موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے اللہ! ان کے پیٹوں اور قبروں کو آگ سے بھر دے کہ انہوں نے ہمیں نماز عصر نہیں پڑھنے دی یہاں تک کہ سورج غروب ہو گیا۔“ اس دن ہمیں پتہ چلا کہ صلوۃ وسطی سے مراد نماز عصر ہے۔
حدیث نمبر: 1315
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مَيْسَرَةَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ إِلَيْهِ حُلَّةً سِيَرَاءَ ، فَلَبِسَهَا ، وَخَرَجَ عَلَى الْقَوْمِ ، فَعَرَفَ الْغَضَبَ فِي وَجْهِهِ ، فَأَمَرَهُ " أَنْ يُشَقِّقَهَا بَيْنَ نِسَائِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ریشمی جوڑا میرے پاس بھیج دیا، میں نے اسے زیب تن کر لیا، لیکن جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے روئے انور پر ناراضگی کے اثرات دیکھے تو میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر اسے اپنی عورتوں میں تقسیم کر دیا۔
حدیث نمبر: 1316
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَيْسَرَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ النَّزَّالَ بْنَ سَبْرَةَ ، قَالَ : رَأَيْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ صَلَّى الظُّهْرَ ، ثُمَّ قَعَدَ لِحَوَائِجِ النَّاسِ ، فَلَمَّا حَضَرَتْ الْعَصْرُ ، " أُتِيَ بِتَوْرٍ مِنْ مَاءٍ ، فَأَخَذَ مِنْهُ كَفًّا ، فَمَسَحَ وَجْهَهُ وَذِرَاعَيْهِ وَرَأْسَهُ وَرِجْلَيْهِ ، ثُمَّ أَخَذَ فَضْلَهُ فَشَرِبَ قَائِمًا ، وَقَالَ : إِنَّ نَاسًا يَكْرَهُونَ هَذَا ، وَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُهُ ، وَهَذَا وُضُوءُ مَنْ لَمْ يُحْدِثْ " .
مولانا ظفر اقبال
نزال بن سبرہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ان کے سامنے سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ظہر کی نماز پڑھی، پھر مسجد کے صحن میں بیٹھ گئے تاکہ لوگوں کے مسائل حل کریں، جب نماز عصر کا وقت آیا تو ان کے پاس پانی کا ایک برتن لایا گیا، انہوں نے چلو بھر کر پانی لیا اور اپنے ہاتھوں، بازؤوں، چہرے، سر اور پاؤں پر پانی کا گیلا ہاتھ پھیرا، پھر کھڑے کھڑے وہ پانی پی لیا اور فرمایا کہ کچھ لوگ کھڑے ہو کر پانی پینے کو ناپسند سمجھتے ہیں، حالانکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اسی طرح کیا ہے جیسے میں نے کیا ہے، اور جو آدمی بےوضو نہ ہو بلکہ پہلے سے اس کا وضو موجود ہو، یہ اس شخص کا وضو ہے۔
حدیث نمبر: 1317
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ لِشَرَاحَةَ : لَعَلَّكِ اسْتُكْرِهْتِ ، لَعَلَّ زَوْجَكِ أَتَاكِ ، لَعَلَّكِ ؟ قَالَتْ : لَا ، فَلَمَّا وَضَعَتْ ، جَلَدَهَا ، ثُمَّ رَجَمَهَا ، فَقِيلَ لَهُ : لِمَ جَلَدْتَهَا ، ثُمَّ رَجَمْتَهَا ؟ قَالَ : " جَلَدْتُهَا بِكِتَابِ اللَّهِ ، وَرَجَمْتُهَا بِسُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
مولانا ظفر اقبال
امام شعبی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ شراحہ ہمدانیہ سے سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہو سکتا ہے تجھے زبردستی اس کام پر مجبور کیا گیا ہو؟ شاید وہ تمہارا شوہر ہی ہو؟ لیکن وہ ہر بات کے جواب میں ”نہیں“ کہتی رہی، چنانچہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے وضع حمل کے بعد اسے کوڑے مارے، اور پھر اس پر حد رجم جاری فرمائی، کسی نے پوچھا کہ آپ نے اسے دونوں سزائیں کیوں دیں؟ تو انہوں نے فرمایا کہ میں نے کتاب اللہ کی روشنی میں اسے کوڑے مارے ہیں اور سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی روشنی میں اسے رجم کیا ہے۔
حدیث نمبر: 1318
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ فُضَيْلُ بْنُ الْحُسَيْنِ . ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ حِسَابٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " خِيَارُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم میں سب سے بہترین وہ ہے جو قرآن سیکھے اور سکھائے۔“
حدیث نمبر: 1319
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنِي أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ الْقُرَشِيِّ ، عَنْ سَيَّارٍ أَبِي الْحَكَمِ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، قَالَ : أَتَى عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ رَجُلٌ ، فَقَالَ : يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ، إِنِّي عَجَزْتُ عَنْ مُكَاتَبَتِي فَأَعِنِّي ، فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : أَلَا أُعَلِّمُكَ كَلِمَاتٍ عَلَّمَنِيهِنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، لَوْ كَانَ عَلَيْكَ مِثْلُ جَبَلِ صِيرٍ دَنَانِيرَ لَأَدَّاهُ اللَّهُ عَنْكَ ؟ قُلْتُ : بَلَى ، قَالَ : قُلْ : " اللَّهُمَّ اكْفِنِي بِحَلَالِكَ عَنْ حَرَامِكَ ، وَأَغْنِنِي بِفَضْلِكَ عَمَّنْ سِوَاكَ " .
مولانا ظفر اقبال
ابووائل کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ایک شخص سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا کہ امیر المومنین! میں بدل کتابت ادا کرنے سے عاجز آ گیا ہوں، آپ میری مدد فرمائیے، انہوں نے فرمایا: کیا میں تمہیں وہ کلمات نہ سکھا دوں جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے سکھائے تھے؟ اگر تم پر جبل صیر کے برابر بھی دینار قرض ہوگا تو اللہ اسے ادا کروا دے گا، اس نے کہا: کیوں نہیں، فرمایا: یہ دعا پڑھتے رہا کرو: «اَللّٰهُمَّ اكْفِنِي بِحَلَالِكَ عَنْ حَرَامِكَ وَأَغْنِنِي بِفَضْلِكَ عَمَّنْ سِوَاكَ» ”اے اللہ! آپ اپنے حلال کے ذریعے حرام سے میری کفایت فرمائیے اور اپنی مہربانی سے مجھے اپنے علاوہ ہر ایک سے بےنیاز فرما دیجئے۔“
حدیث نمبر: 1320
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ ، وَرَوْحُ بْنُ عَبْدِ الْمُؤْمِنِ الْمُقْرِئُ . ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ حِسَابٍ ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " اللَّهُمَّ بَارِكْ لِأُمَّتِي فِي بُكُورِهَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کرتے ہوئے فرمایا: «اَللّٰهُمَّ بَارِكْ لِأُمَّتِي فِي بُكُورِهَا» ”اے اللہ! میری امت کے صبح کے اوقات میں برکت عطاء فرما۔“
…