حدیث نمبر: 1241
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ يَعْنِي الرَّازِيَّ ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ سِتَّ عَشْرَةَ رَكْعَةً سِوَى الْمَكْتُوبَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرائض کے علاوہ رات کو سولہ رکعتیں پڑھتے تھے۔
حدیث نمبر: 1242
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنِي أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ الرَّازِيُّ ، عَنْ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ ، وَالْعَلَاءِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ ، قَالَ : أَتَيْنَا عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، فَقُلْنَا : يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ، أَلَا تُحَدِّثُنَا عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، تَطَوُّعَهُ ؟ فَقَالَ : وَأَيُّكُمْ يُطِيقُهُ ؟ قَالُوا : نَأْخُذُ مِنْهُ مَا أَطَقْنَا ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يُصَلِّي مِنَ النَّهَارِ سِتَّ عَشْرَةَ رَكْعَةً سِوَى الْمَكْتُوبَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
عاصم بن ضمرہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم دن کے وقت کس طرح نوافل پڑھتے تھے؟ فرمایا: تم اس طرح پڑھنے کی طاقت نہیں رکھتے، ہم نے عرض کیا: آپ بتا دیجئے، ہم اپنی طاقت اور استطاعت کے بقدر اس پر عمل کرنے کی کوشش کریں گے، فرمایا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرائض کے علاوہ دن کو سولہ رکعتیں پڑھتے تھے۔
حدیث نمبر: 1243
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، وَشَرِيكٌ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْحَارِثِ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " عَفَوْتُ لَكُمْ عَنْ صَدَقَةِ الْخَيْلِ وَالرَّقِيقِ ، فَأَدُّوا رُبُعَ الْعُشُورِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میں نے تم سے گھوڑے اور غلام کی زکوٰۃ چھوڑ دی ہے، اس لئے چاندی کی زکوٰۃ بہرحال تمہیں ادا کرنا ہوگی، جس کا نصاب یہ ہے کہ ہر چالیس پر ایک درہم واجب ہوگا۔“
حدیث نمبر: 1244
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ ، عَنِ الْحَارِثِ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا عَلِيُّ ، إِنِّي أُحِبُّ لَكَ مَا أُحِبُّ لِنَفْسِي ، وَأَكْرَهُ لَكَ مَا أَكْرَهُ لِنَفْسِي ، لَا تَقْرَأْ وَأَنْتَ رَاكِعٌ ، وَلَا وَأَنْتَ سَاجِدٌ ، وَلَا تُصَلِّ وَأَنْتَ عَاقِصٌ شَعْرَكَ ، فَإِنَّهُ كِفْلُ الشَّيْطَانِ ، وَلَا تُقْعِ بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ ، وَلَا تَعْبَثْ بِالْحَصَى ، وَلَا تَفْتَرِشْ ذِرَاعَيْكَ ، وَلَا تَفْتَحْ عَلَى الْإِمَامِ ، وَلَا تَتَخَتَّمْ بِالذَّهَبِ ، وَلَا تَلْبَسْ الْقَسِّيَّ ، وَلَا تَرْكَبْ عَلَى الْمَيَاثِرِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے ارشاد فرمایا: ”علی! میں تمہارے لئے وہی پسند کرتا ہوں جو اپنے لئے پسند کرتا ہوں، اور تمہارے لئے وہی چیز ناپسند کرتا ہوں جو اپنے لئے ناپسند کرتا ہوں، رکوع یا سجدے کی حالت میں قرآن کریم کی تلاوت نہ کیا کرو، بالوں کی مینڈھیاں بنا کر نماز نہ پڑھو کیونکہ یہ شیطان کا طریقہ ہے، دو سجدوں کے درمیان اپنی سرین پر مت بیٹھو، کنکریوں کے ساتھ دوران نماز مت کھیلو، سجدے میں اپنے بازو زمین پر مت بچھاؤ، امام کو لقمہ مت دو، سونے کی انگوٹھی مت پہنو، ریشمی لباس مت پہنو، اور سرخ زین پوش پر مت سوار ہوا کرو۔“
حدیث نمبر: 1245
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ قَيْسٍ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُخَيْمِرَةَ ، عَنْ شُرَيْحِ بْنِ هَانِئٍ ، قَالَ : أَتَيْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَسْأَلُهَا عَنِ الْخُفَّيْنِ ، فَقَالَتْ : عَلَيْكَ بِابْنِ أَبِي طَالِبٍ فَاسْأَلْهُ ، فَإِنَّهُ كَانَ يُسَافِرُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَتَيْتُهُ ، فَسَأَلْتُهُ ، فَقَالَ : جَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ وَلَيَالِيَهُنَّ لِلْمُسَافِرِ ، وَيَوْمًا وَلَيْلَةً لِلْمُقِيمِ " .
مولانا ظفر اقبال
شریح بن ہانی کہتے ہیں کہ میں نے موزوں پر مسح کے حوالے سے سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے ایک سوال پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ یہ سوال تم سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے پوچھو، انہیں اس مسئلے کا زیادہ علم ہوگا کیونکہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر میں بھی رہتے تھے، چنانچہ میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا، تو انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”مسافر کے لئے تین دن اور تین رات موزوں پر مسح کرنے کی اجازت ہے، اور مقیم کے لئے ایک دن اور ایک رات۔“
حدیث نمبر: 1246
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي الضُّحَى ، عَنْ شُتَيْرِ بْنِ شَكَلٍ الْعَبْسِيِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، يَقُولُ : لَمَّا كَانَ يَوْمُ الْأَحْزَابِ ، صَلَّيْنَا الْعَصْرَ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " شَغَلُونَا عَنِ الصَّلَاةِ الْوُسْطَى صَلَاةِ الْعَصْرِ ، مَلَأَ اللَّهُ قُبُورَهُمْ وَأَجْوَافَهُمْ نَارًا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ غزوہ خندق کے دن ہم نے عصر کی نماز مغرب اور عشاء کے درمیان پڑھی، جس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ ان کے گھروں اور قبروں کو آگ سے بھر دے کہ انہوں نے ہمیں نماز عصر نہیں پڑھنے دی یہاں تک کہ سورج غروب ہو گیا۔“
حدیث نمبر: 1247
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ أَبُو مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ ذَكْوَانَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ خَالِدٍ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " أَتَانِي جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام ، فَلَمْ يَدْخُلْ عَلَيَّ " ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا مَنَعَكَ أَنْ تَدْخُلَ ؟ قَالَ : إِنَّا لَا نَدْخُلُ بَيْتًا فِيهِ صُورَةٌ وَلَا بَوْلٌ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جبرئیل میرے پاس آئے لیکن گھر میں داخل نہیں ہوئے“، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ ”اندر کیوں نہیں آئے؟ انہوں نے عرض کیا کہ ہم اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جہاں کوئی تصویر ہو یا پیشاب ہو۔“
حدیث نمبر: 1248
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، قَالَ : وحَدَّثَنَاه شَيْبَانُ مَرَّةً أُخْرَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، عَنْ حُسَيْنِ بْنِ ذَكْوَانَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ خَالِدٍ ، عَنْ حَبَّةَ بْنِ أَبِي حَبَّةَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " أَتَانِي جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام يُسَلِّمُ عَلَيَّ " ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ مِثْلَهُ نَحْوَهُ ، قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ : وَكَانَ أَبِي لَا يُحَدِّثُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ خَالِدٍ ، يَعْنِي : كَانَ حَدِيثُهُ لَا يَسْوَى عِنْدَهُ شَيْئًا .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حدیث نمبر: 1249
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ أَبُو خَالِدٍ الْبَيْسَرِيُّ الْقُرَشِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي حَبِيبُ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تُبْرِزْ فَخِذَكَ ، وَلَا تَنْظُرْ إِلَى فَخِذِ حَيٍّ وَلَا مَيِّتٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے ارشاد فرمایا: ”علی! اپنی ران کسی کے سامنے ظاہر نہ کرو، اور کسی زندہ یا مردہ شخص کی ران پر نگاہ مت ڈالو۔“
حدیث نمبر: 1250
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، وَحُسَيْنٌ ، وَأَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ هُبَيْرَةَ بْنِ يَرِيمَ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قُلْتُ لِفَاطِمَةَ : لَوْ أَتَيْتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلْتِهِ خَادِمًا ، فَقَدْ أَجْهَدَكِ الطَّحْنُ وَالْعَمَلُ ؟ قَالَ حُسَيْنٌ : إِنَّهُ قَدْ جَهَدَكِ الطَّحْنُ وَالْعَمَلُ ، وَكَذَلِكَ قَالَ أَبُو أَحْمَدَ ، قَالَتْ : فَانْطَلِقْ مَعِي ، قَالَ : فَانْطَلَقْتُ مَعَهَا فَسَأَلْنَاهُ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَلَا أَدُلُّكُمَا عَلَى مَا هُوَ خَيْرٌ لَكُمَا مِنْ ذَلِكَ ؟ إِذَا أَوَيْتُمَا إِلَى فِرَاشِكُمَا ، فَسَبِّحَا اللَّهَ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ ، وَاحْمَدَاهُ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ ، وَكَبِّرَاهُ أَرْبَعًا وَثَلَاثِينَ ، فَتِلْكَ مِائَةٌ عَلَى اللِّسَانِ ، وَأَلْفٌ فِي الْمِيزَانِ " ، فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : مَا تَرَكْتُهَا بَعْدَمَا سَمِعْتُهَا مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ رَجُلٌ : وَلَا لَيْلَةَ صِفِّينَ ؟ قَالَ : وَلَا لَيْلَةَ صِفِّينَ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے کہا کہ آٹا پیس پیس کر تمہارے ہاتھوں میں نشان پڑگئے ہیں، اگر تم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جا کر ان سے ایک خادم کی درخواست کرتیں (تو شاید کچھ بہتر ہو جاتا)، انہوں نے کہا کہ آپ بھی میرے ساتھ چلیں، چنانچہ میں ان کے ساتھ چلا گیا اور ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے درخواست پیش کر دی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا میں تمہیں ایسی چیز نہ بتاؤں جو تمہارے لئے خادم سے بہتر ہو؟ جب تم اپنے بستر پر لیٹا کرو تو تینتیس مرتبہ سبحان اللہ، تینتیس مرتبہ الحمدللہ اور چونتیس مرتبہ اللہ اکبر کہہ لیا کرو، کہنے کو تو یہ سو ہوں گے لیکن میزان عمل میں ایک ہزار کے برابر ہوں گے۔“ چنانچہ اس دن کے بعد سے میں نے انہیں کبھی ترک نہیں کیا، ایک سائل نے پوچھا کہ جنگ صفین کی رات بھی نہیں؟ فرمایا: ہاں! جنگ صفین کی رات بھی نہیں۔
حدیث نمبر: 1251
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، قَالَ : دَخَلْتُ عَلَى أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ وَقَدْ صَلَّى الْفَجْرَ ، وَهُوَ جَالِسٌ فِي الْمَجْلِسِ ، فَقُلْتُ : لَوْ قُمْتَ إِلَى فِرَاشِكَ كَانَ أَوْطَأَ لَكَ ؟ فَقَالَ : سَمِعْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " مَنْ صَلَّى الْفَجْرَ ثُمَّ جَلَسَ فِي مُصَلَّاهُ ، صَلَّتْ عَلَيْهِ الْمَلَائِكَةُ ، وَصَلَاتُهُمْ عَلَيْهِ : اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ ، اللَّهُمَّ ارْحَمْهُ ، وَمَنْ يَنْتَظِرُ الصَّلَاةَ صَلَّتْ عَلَيْهِ الْمَلَائِكَةُ ، وَصَلَاتُهُمْ عَلَيْهِ : اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ ، اللَّهُمَّ ارْحَمْهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جب کوئی شخص نماز کے بعد اپنی جائے نماز پر بیٹھا رہتا ہے تو فرشتے اس پر صلوٰۃ پڑھتے رہتے ہیں، اور فرشتوں کی صلوٰۃ یہ دعا ہے کہ اے اللہ! اسے معاف فرما دے، اے اللہ! اس پر رحم فرما دے، اسی طرح اگر وہ بیٹھ کر اگلی نماز کا انتظار کرتا رہے تو فرشتے اس پر بھی صلوٰۃ پڑھتے ہیں، اور ان کی صلوٰۃ یہی دعا ہے کہ اے اللہ! اسے معاف فرما دے، اے اللہ اس پر رحم فرما دے۔“
حدیث نمبر: 1252
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنِي أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا الْمُحَارِبِيُّ ، عَنْ فُضَيْلِ بْنِ مَرْزُوقٍ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الضُّحَى حِينَ كَانَتْ الشَّمْسُ مِنَ الْمَشْرِقِ في مَكَانِهَا مِنَ الْمَغْرِبِ صَلَاةَ الْعَصْرِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم چاشت کی نماز اس وقت پڑھتے تھے جب سورج مشرق سے اتنا نکل آتا جتنا عصر کے وقت مغرب سے قریب ہوتا۔
حدیث نمبر: 1253
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ أَبِي سَمِينَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ ذَكْوَان ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ سَأَلَ مَسْأَلَةً عَنْ ظَهْرِ غِنًى ، اسْتَكْثَرَ بِهَا مِنْ رَضْفِ جَهَنَّمَ " ، قَالُوا : مَا ظَهْرُ غِنًى ؟ قَالَ : " عَشَاءُ لَيْلَةٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص ظہرغنی کی موجودگی میں کسی سے سوال کرتا ہے تو وہ اپنے پیٹ میں جہنم کے انگاروں کی تعداد بڑھاتا ہے۔“ لوگوں نے پوچھا کہ ظہرغنی سے کیا مراد ہے؟ تو فرمایا: ”رات کا کھانا۔“
حدیث نمبر: 1254
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، عَنْ عَبْدِ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ ذَكْوَانَ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنْ كُلِّ ذِي نَابٍ مِنَ السَّبُعِ ، وَكُلِّ ذِي مِخْلَبٍ مِنَ الطَّيْرِ ، وَعَنْ ثَمَنِ الْمَيْتَةِ ، وَعَنْ لَحْمِ الْحُمُرِ الْأَهْلِيَّةِ ، وَعَنْ مَهْرِ الْبَغِيِّ ، وَعَنْ عَسْبِ الْفَحْلِ ، وَعَنِ الْمَيَاثِرِ الْأُرْجُوَانِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر اس درندے کو کھانے سے منع فرمایا ہے جو کچلی والے دانتوں سے شکار کرتا ہو، اور ہر وہ پرندہ جو اپنے پنجوں سے شکار کرتا ہو، نیز مردار کی قیمت کھانے سے، پالتو گدھوں کے گوشت سے، فاحشہ عورت کی کمائی سے، سانڈ کو جفتی پر دے کر اس سے حاصل ہونے والی کمائی سے، اور سرخ زین پوشوں سے منع فرمایا ہے۔
حدیث نمبر: 1255
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الْأَعْلَى ، عَنْ طَارِقِ بْنِ زِيَادٍ ، قَالَ : سَارَ عَلِيٌّ إِلَى النَّهْرَوَانِ فَقَتَلَ الْخَوَارِجَ ، فَقَالَ : اطْلُبُوا ، فَإِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " سَيَجِيءُ قَوْمٌ يَتَكَلَّمُونَ بِكَلِمَةِ الْحَقِّ لَا يُجَاوِزُ حُلُوقَهُمْ ، يَمْرُقُونَ مِنَ الْإِسْلَامِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ ، سِيمَاهُمْ ، أَوْ فِيهِمْ رَجُلٌ أَسْوَدُ مُخْدَجُ الْيَدِ ، فِي يَدِهِ شَعَرَاتٌ سُودٌ " ، إِنْ كَانَ فِيهِمْ فَقَدْ قَتَلْتُمْ شَرَّ النَّاسِ ، وَإِنْ لَمْ يَكُنْ فِيهِمْ فَقَدْ قَتَلْتُمْ خَيْرَ النَّاسِ ، قَالَ : ثُمَّ إِنَّا وَجَدْنَا الْمُخْدَجَ ، قَالَ : فَخَرَرْنَا سُجُودًا ، وَخَرَّ عَلِيٌّ سَاجِدًا مَعَنَا .
مولانا ظفر اقبال
طارق بن زیاد کہتے ہیں کہ ہم سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ خوارج سے جنگ کے لئے نکلے، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ان سے قتال کیا، اور فرمایا: دیکھو! نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”عنقریب ایک ایسی قوم کا خروج ہوگا جو بات تو صحیح کرے گی لیکن وہ ان کے حلق سے آگے نہیں بڑھے گی، وہ لوگ حق سے اس طرح نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے نکل جاتا ہے، ان کی علامت یہ ہوگی کہ ان میں ایک شخص کا ہاتھ ناتمام ہوگا، اس کے ہاتھ (ہتھیلی) میں کالے بال ہوں گے۔“ اب اگر ایسا ہی ہے تو تم نے ایک بدترین آدمی کے وجود سے دنیا کو پاک کر دیا، اور اگر ایسا نہ ہوا تو تم نے ایک بہترین آدمی کو قتل کر دیا، یہ سن کر ہم رونے لگے، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اسے تلاش کرو، چنانچہ ہم نے اسے تلاش کیا تو ہمیں ناقص ہاتھ والا ایک آدمی مل گیا، جسے دیکھ کر ہم سجدے میں گر پڑے، سیدنا علی رضی اللہ عنہ بھی ہمارے ساتھ ہی سربسجود ہو گئے۔
حدیث نمبر: 1256
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سُفْيَانَ ، قَالَ : خَطَبَ رَجُلٌ يَوْمَ الْبَصْرَةِ حِينَ ظَهَرَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، فَقَالَ عَلِيٌّ : هَذَا الْخَطِيبُ الشَّحْشَحُ ، " سَبَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَصَلَّى أَبُو بَكْرٍ ، وَثَلَّثَ عُمَرُ ، ثُمَّ خَبَطَتْنَا فِتْنَةٌ بَعْدَهُمْ ، يَصْنَعُ اللَّهُ فِيهَا مَا شَاءَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سب سے پہلے تشریف لے گئے، دوسرے نمبر پر سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ چلے گئے، اور تیسرے نمبر پر سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ چلے گئے، اس کے بعد ہمیں امتحانات نے گھیر لیا، اب اللہ جو چاہے گا سو کرے گا۔
حدیث نمبر: 1257
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ ، عَنْ أَبِي عَوْنٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ الْحَنَفِيِّ ، عَنْ عَلِيٍّ ، قَالَ : قِيلَ لِعَلِيٍّ وَلِأَبِي بَكْرٍ يَوْمَ بَدْرٍ : " مَعَ أَحَدِكُمَا جِبْرِيلُ ، وَمَعَ الْآخَرِ مِيكَائِيلُ ، وَإِسْرَافِيلُ مَلَكٌ عَظِيمٌ يَشْهَدُ الْقِتَالَ ، أَوْ قَالَ : يَشْهَدُ الصَّفَّ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ مجھے اور سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو غزوہ بدر کے موقع پر بتایا گیا کہ آپ میں سے ایک کے ساتھ حضرت جبرئیل علیہ السلام اور دوسرے کے ساتھ حضرت میکائیل علیہ السلام ہیں اور حضرت اسرافیل علیہ السلام بھی - جو ایک عظیم فرشتہ ہیں - میدان کار زار میں موجود ہیں۔
حدیث نمبر: 1258
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " صَلَّى أَرْبَعًا قَبْلَ الظُّهْرِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر سے پہلے چار رکعتیں پڑھی ہیں۔
حدیث نمبر: 1259
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ كَثِيرٍ أَبِي هَاشِمٍ بَيَّاعِ السَّابِرِيِّ ، عَنْ قَيْسٍ الْخَارِفِيِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، يَقُولُ عَلَى هَذَا الْمِنْبَرِ : " سَبَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَصَلَّى أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، وَثَلَّثَ عُمَرُ ، ثُمَّ خَبَطَتْنَا فِتْنَةٌ أَوْ أَصَابَتْنَا فِتْنَةٌ ، فَكَانَ مَا شَاءَ اللَّهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سب سے پہلے تشریف لے گئے، دوسرے نمبر پر سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ چلے گئے، اور تیسرے نمبر پر سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ چلے گئے، اس کے بعد ہمیں امتحانات نے گھیر لیا، اب اللہ جو چاہے گا سو کرے گا۔
حدیث نمبر: 1260
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عَبْدُوَيْهِ أَبُو مُحَمَّدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " مِنْ كُلِّ اللَّيْلِ قَدْ أَوْتَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مِنْ أَوَّلِهِ ، وَأَوْسَطِهِ ، وَآخِرِهِ ، وَانْتَهَى وِتْرُهُ إِلَى آخِرِ اللَّيْلِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کے ابتدائی، درمیانے اور آخری ہر حصے میں وتر پڑھ لیا کرتے تھے، تاہم آخر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم رات کے آخری حصے میں اس کی پابندی فرمانے لگے تھے۔
حدیث نمبر: 1261
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنِي عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ خُثَيْمٍ أَبُو مَعْمَرٍ الْهِلَالِيُّ ، حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ مَرْزُوقٍ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يُصَلِّي مِنَ التَّطَوُّعِ ثَمَانِيَ رَكَعَاتٍ ، وَبِالنَّهَارِ ثِنْتَيْ عَشْرَةَ رَكْعَةً " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آٹھ رکعت نفل پڑھتے تھے اور دن میں بارہ رکعتیں پڑھتے تھے۔
حدیث نمبر: 1262
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَنْدَلٍ ، وَسُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، جَمِيعًا فِي سَنَةِ سِتٍّ وَعِشْرِينَ وَمِائَتَيْنِ ، قَالَا : حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ السَّلُولِيِّ ، قَالَ : قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : أَلَا إِنَّ الْوَتْرَ لَيْسَ بِحَتْمٍ كَصَلَاتِكُمْ الْمَكْتُوبَةِ ، وَلَكِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْتَرَ ، ثُمَّ قَالَ : " أَوْتِرُوا يَا أَهْلَ الْقُرْآنِ ، أَوْتِرُوا فَإِنَّ اللَّهَ وَتْرٌ يُحِبُّ الْوَتْرَ " ، وَهَذَا لَفْظُ حَدِيثِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَنْدَلٍ ، وَمَعْنَاهُمَا وَاحِدٌ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وتر فرض نماز کی طرح یقینی نہیں ہیں (قرآن سے اس کا ثبوت نہیں)، البتہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے چونکہ وتر پڑھے ہیں اس لئے اے اہل قرآن! تم بھی وتر پڑھا کرو، کیونکہ اللہ بھی وتر ہے اور طاق عدد ہی کو پسند کرتا ہے۔
حدیث نمبر: 1263
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا فِطْرٌ ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ نَافِعٍ النَّوَّاءِ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مُلَيْلٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّهُ لَمْ يَكُنْ قَبْلِي نَبِيٌّ إِلَّا قَدْ أُعْطِيَ سَبْعَةَ رُفَقَاءَ نُجَبَاءَ وُزَرَاءَ ، وَإِنِّي أُعْطِيتُ أَرْبَعَةَ عَشَرَ : حَمْزَةُ ، وَجَعْفَرٌ ، وَعَلِيٌّ ، وَحَسَنٌ ، وَحُسَيْنٌ ، وَأَبُو بَكْرٍ ، وَعُمَرُ ، وَالْمِقْدَادُ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ ، وَأَبُو ذَرٍّ ، وَحُذَيْفَةُ ، وَسَلْمَانُ ، وَعَمَّارٌ ، وَبِلَالٌ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”مجھ سے پہلے ہر نبی کو سات رفقاء، نجباء اور وزراء دیئے گئے ہیں جبکہ مجھے چودہ دیئے گئے ہیں۔“ سیدنا حمزہ، سیدنا جعفر، سیدنا علی، سیدنا حسن، سیدنا حسین، سیدنا ابوبکر صدیق، سیدنا عمر فاروق، سیدنا مقداد، سیدنا عبداللہ بن مسعود، سیدنا ابوذر غفاری، سیدنا حذیفہ، سیدنا سلمان، سیدنا عمار اور سیدنا بلال رضوان اللہ علیہم اجمعین۔
حدیث نمبر: 1264
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ ، قَالَ : رَأَيْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ " تَوَضَّأَ ، وَمَسَحَ عَلَى النَّعْلَيْنِ ، ثُمَّ قَالَ : لَوْلَا أَنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَلَ كَمَا رَأَيْتُمُونِي فَعَلْتُ ، لَرَأَيْتُ أَنَّ بَاطِنَ الْقَدَمَيْنِ هُوَ أَحَقُّ بِالْمَسْحِ مِنْ ظَاهِرِهِمَا " .
مولانا ظفر اقبال
عبدخیر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے ایک مرتبہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو وضو کرتے ہوئے دیکھا، انہوں نے نعلین پر مسح کیا اور فرمایا: اگر میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو پاؤں کا اوپر والا حصہ دھوتے ہوئے نہ دیکھا ہوتا تو میری رائے یہ تھی کہ پاؤں کا نچلا حصہ دھوئے جانے کا زیادہ حق دار ہے (کیونکہ وہ زمین کے ساتھ زیادہ لگتا ہے)۔
حدیث نمبر: 1265
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنِي عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " لَيْسَ فِي مَالٍ زَكَاةٌ حَتَّى يَحُولَ عَلَيْهِ الْحَوْلُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ انسان کے مال پر اس وقت تک زکوٰۃ واجب نہیں ہوتی جب تک اس پر پورا سال نہ گذر جائے۔
حدیث نمبر: 1266
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنِي عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ ، قَالَ : قُلْتُ لِلْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ : " إِنَّ الشِّيعَةَ يَزْعُمُونَ أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَرْجِعُ ! قَالَ : كَذَبَ أُولَئِكَ الْكَذَّابُونَ ، لَوْ عَلِمْنَا ذَاكَ مَا تَزَوَّجَ نِسَاؤُهُ ، وَلَا قَسَمْنَا مِيرَاثَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
عاصم بن ضمرہ کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ سے عرض کیا کہ شیعوں کا یہ خیال ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ دوبارہ واپس آئیں گے؟ فرمایا: یہ کذاب لوگ جھوٹ بولتے ہیں، اگر ہمیں اس بات کا یقین ہوتا تو ان کی بیویاں دوسرے شوہروں سے نکاح نہ کرتیں اور ہم ان کی میراث تقسیم نہ کرتے۔
حدیث نمبر: 1267
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَيُّوبَ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنِّي قَدْ عَفَوْتُ لَكُمْ عَنِ الْخَيْلِ وَالرَّقِيقِ ، وَلَا صَدَقَةَ فِيهِمَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میں نے تم سے گھوڑے اور غلام کی زکوٰۃ چھوڑ دی ہے، اس لئے ان میں زکوٰۃ نہیں ہے۔“
حدیث نمبر: 1268
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ الرَّقِّيُّ ، حَدَّثَنَا حَفْصٌ أَبُو عُمَرَ ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ زَاذَانَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ قَرَأَ الْقُرْآنَ فَاسْتَظْهَرَهُ ، شُفِّعَ فِي عَشَرَةٍ مِنْ أَهْلِ بَيْتِهِ قَدْ وَجَبَتْ لَهُمْ النَّارُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جس شخص نے قرآن پڑھا اور وہ اس پر غالب آگیا تو قیامت کے دن اس کے اہل خانہ میں سے دس ایسے افراد کے حق میں اس کی سفارش قبول کی جائے گی جن کے لئے جہنم واجب ہو چکی ہو گی۔“
حدیث نمبر: 1269
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِشْكَابٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُبَيْدَةَ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَال َرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " عَفَوْتُ عَنِ الْخَيْلِ وَالرَّقِيقِ فِي الصَّدَقَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میں نے تم سے گھوڑے اور غلام کی زکوٰۃ چھوڑ دی ہے۔“
حدیث نمبر: 1270
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنَا أَبُو سَلْمٍ خَلِيلُ بْنُ سَلْمٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ ذَكْوَانَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ خَالِدٍ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّ جِبْرِيلَ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " إِنَّا لَا نَدْخُلُ بَيْتًا فِيهِ صُورَةٌ أَوْ كَلْبٌ " ، وَكَانَ كَلْبُ لِلْحَسَنِ فِي الْبَيْتِ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت جبرئیل علیہ السلام نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے کہ ہم اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جہاں کوئی تصویر یا کتا ہو۔ اس وقت گھر میں سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کا ایک چھوٹا سا کتا تھا۔
حدیث نمبر: 1271
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ أَبُو مَعْمَرٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ عُبَادٍ ، قَالَ : قُلْتُ لِعَلِيٍّ : " أَرَأَيْتَ مَسِيرَكَ هَذَا ، عَهْدٌ عَهِدَهُ إِلَيْكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَمْ رَأْيٌ رَأَيْتَهُ ؟ قَالَ : مَا تُرِيدُ إِلَى هَذَا ؟ قُلْتُ : دِينَنَا دِينَنَا ، قَالَ : مَا عَهِدَ إِلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِ شَيْئًا ، وَلَكِنْ رَأْيٌ رَأَيْتُهُ " .
مولانا ظفر اقبال
قیس بن عباد کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے ایک سفر کے دوران پوچھا کہ یہ تو بتایئے، کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو اس سفر کی وصیت کی تھی یا یہ آپ کی رائے پر مبنی ہے؟ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ اس سوال سے تمہارا کیا مقصد ہے؟ میں نے عرض کیا کہ صرف دین، فرمایا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اس کی کوئی وصیت نہیں کی تھی، یہ تو ایک رائے ہے۔
حدیث نمبر: 1272
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي الْخَلِيلِ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " كَانَ لِلْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ رُمْحٌ ، فَكُنَّا إِذَا خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزَاةٍ خَرَجَ بِهِ مَعَهُ ، فَيَرْكُزُهُ فَيَمُرُّ النَّاسُ عَلَيْهِ فَيَحْمِلُونَهُ ، فَقُلْتُ : لَئِنْ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَأُخْبِرَنَّهُ ، فَقَالَ : إِنَّكَ إِنْ فَعَلْتَ لَمْ تَرْفَعْ ضَالَّةً " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کے پاس ایک نیزہ تھا، ہم جب بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کسی غزوے کے لئے نکلتے تو وہ اس نیزے کو بھی اپنے ساتھ لے کر جاتے تھے، وہ اسے گاڑ دیتے، لوگ وہاں سے گذرتے تو انہیں اٹھا کر پکڑا دیتے، میں نے یہ دیکھ کر اپنے دل میں سوچا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ساری صورت حال ضرور بتاؤں گا، (چنانچہ جب میں نے ذکر کیا تو) نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تم ایسا کرنے لگے تو کوئی گمشدہ چیز اس کے مالک تک پہنچانے کے لئے نہیں اٹھائی جائے گی۔“
حدیث نمبر: 1273
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي حَيَّةَ بْنِ قَيْسٍ ، قَالَ : " تَوَضَّأَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ثَلَاثًا ثَلَاثًا ، ثُمَّ شَرِبَ فَضْلَ وَضُوئِهِ ، ثُمَّ قَالَ : هَكَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ " .
مولانا ظفر اقبال
ایک مرتبہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے وضو کرتے ہوئے اعضاء وضو کو تین تین مرتبہ دھویا اور وضو سے بچا ہوا پانی پی لیا، پھر فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح کرتے ہوئے دیکھا ہے۔
حدیث نمبر: 1274
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي حَفْصَةَ ، قَالَ : بَلَغَنِي عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُلَيْلٍ ، فَغَدَوْتُ إِلَيْهِ ، فَوَجَدْتُهُمْ فِي جَنَازَةٍ ، فَحَدَّثَنِي رَجُلٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُلَيْلٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، يَقُولُ : " أُعْطِيَ كُلُّ نَبِيٍّ سَبْعَةَ نُجَبَاءَ ، وَأُعْطِيَ نَبِيُّكُمْ أَرْبَعَةَ عَشَرَ نَجِيبًا ، مِنْهُمْ أَبُو بَكْرٍ ، وَعُمَرُ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ ، وَعَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”مجھ سے پہلے ہر نبی کو سات رفقاء، نجباء اور وزراء دیئے گئے ہیں جبکہ مجھے چودہ دیئے گئے ہیں، جن میں ابوبکر صدیق، عمر فاروق، عبداللہ بن مسعود اور عمار رضوان اللہ علیہم اجمعین شامل ہیں۔“
حدیث نمبر: 1275
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، أَخْبَرَنَا أَبُو إِسْحَاقَ ، عَنْ شُرَيْحِ بْنِ النُّعْمَانِ ، قَالَ : وَكَانَ رَجُلَ صِدْقٍ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَنْ نَسْتَشْرِفَ الْعَيْنَ وَالْأُذُنَ ، وَأَنْ لَا نُضَحِّيَ بِعَوْرَاءَ ، وَلَا مُقَابَلَةٍ ، وَلَا مُدَابَرَةٍ ، وَلَا شَرْقَاءَ ، وَلَا خَرْقَاءَ " ، قَالَ زُهَيْرٌ : فَقُلْتُ لِأَبِي إِسْحَاقَ : أَذَكَرَ عَضْبَاءَ ؟ قَالَ : لَا ، قُلْتُ : مَا الْمُقَابَلَةُ ؟ قَالَ : هِيَ الَّتِي يُقْطَعُ طَرَفُ أُذُنِهَا ، قُلْتُ : فَالْمُدَابَرَةُ ؟ قَالَ : الَّتِي يُقْطَعُ مُؤَخَّرُ الْأُذُنِ ، قُلْتُ : مَا الشَّرْقَاءُ ؟ قَالَ : الَّتِي يُشَقُّ أُذُنُهَا ، قُلْتُ : فَمَا الْخَرْقَاءُ ؟ قَالَ : الَّتِي تَخْرِقُ أُذُنَهَا السِّمَةُ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا تھا کہ ”قربانی کے جانور کے کان اور آنکھ اچھی طرح دیکھ لیں، کانے جانور کی قربانی نہ کریں، مقابلہ، مدابرہ، شرقاء یا خرقاء کی قربانی نہ کریں۔“ راوی کہتے ہیں کہ میں نے ابواسحاق سے پوچھا: سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے عضباء کا ذکر بھی کیا تھا یا نہیں؟ انہوں نے کہا: نہیں۔ پھر میں نے پوچھا کہ مقابلہ سے کیا مراد ہے؟ فرمایا: وہ جانور جس کے کان کا ایک کنارہ کٹا ہوا ہو، پھر میں نے پوچھا کہ مدابرہ سے کیا مراد ہے؟ فرمایا: وہ جانور جس کا کان پیچھے سے کٹا ہوا ہو، میں نے شرقاء کا معنی پوچھا تو فرمایا: جس کا کان چیرا ہوا ہو، میں نے خرقاء کا معنی پوچھا تو انہوں بتایا: وہ جانور جس کا کان پھٹ گیا ہو۔
حدیث نمبر: 1276
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ حُسَيْنٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ مَوْلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، يَقُولُ : نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَنْ تَحْبِسُوا لُحُومَ الْأَضَاحِيِّ بَعْدَ ثَلَاثٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تین دن سے زیادہ قربانی کا گوشت اپنے پاس رکھنے سے منع فرمایا تھا۔
حدیث نمبر: 1277
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُخَيْمِرَةَ ، عَنْ شُرَيْحِ بْنِ هَانِئٍ ، قَالَ : سَأَلْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنِ الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ ، فَقَالَتْ : سَلْ عَلِيًّا فَهُوَ أَعْلَمُ بِهَذَا مِنِّي ، هُوَ كَانَ يُسَافِرُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَسَأَلْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، فَقَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لِلْمُقِيمِ يَوْمٌ وَلَيْلَةٌ ، وَلِلْمُسَافِرِ ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ وَلَيَالِيهِنَّ " .
مولانا ظفر اقبال
شریح بن ہانی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے موزوں پر مسح کے حوالے سے سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے ایک سوال پوچھا، تو انہوں نے فرمایا کہ یہ سوال تم سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے پوچھو، انہیں اس مسئلے کا زیادہ علم ہوگا کیونکہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر میں بھی رہتے تھے، چنانچہ میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا، تو انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”مسافر کے لئے تین دن اور تین رات موزوں پر مسح کرنے کی اجازت ہے، اور مقیم کے لئے ایک دن اور ایک رات۔“
حدیث نمبر: 1278
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارٍ ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ سُلَيْمَانَ يَعْنِي أَبَا عُمَرَ الْقَارِئَ ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ زَاذَانَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ فَاسْتَظْهَرَهُ وَحَفِظَهُ ، أَدْخَلَهُ اللَّهُ الْجَنَّةَ ، وَشَفَّعَهُ فِي عَشَرَةٍ مِنْ أَهْلِ بَيْتِهِ كُلُّهُمْ قَدْ وَجَبَتْ لَهُمْ النَّارُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جس شخص نے قرآن پڑھا اور وہ اس پر غالب آگیا تو قیامت کے دن اس کے اہل خانہ میں سے دس ایسے افراد کے حق میں اس کی سفارش قبول کی جائے گی جن کے لئے جہنم واجب ہو چکی ہو گی۔“
حدیث نمبر: 1279
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْمُحَارِبِيُّ ، قَالَا : حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ أَبِي الْحَسْنَاءِ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ حَنَشٍ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ " أُضَحِّيَ عَنْهُ بِكَبْشَيْنِ " ، فَأَنَا أُحِبُّ أَنْ أَفْعَلَهُ ، وَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْمُحَارِبِيُّ فِي حَدِيثِهِ : " ضَحَّى عَنْهُ بِكَبْشَيْنِ : وَاحِدٌ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَالْآخَرُ عَنْهُ ، فَقِيلَ لَهُ : فَقَالَ : إِنَّهُ أَمَرَنِي فَلَا أَدَعُهُ أَبَدًا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ مجھے اپنی طرف سے دو مینڈھوں کی قربانی کرنے کا حکم دیا، چنانچہ میں آخر دم تک ان کی طرف سے قربانی کرتا رہوں گا۔
حدیث نمبر: 1280
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنِي مُحْرِزُ بْنُ عَوْنِ بْنِ أَبِي عَوْنٍ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ حَنَشٍ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَاضِيًا ، فَقَالَ : " إِذَا جَاءَكَ الْخَصْمَانِ ، فَلَا تَقْضِ عَلَى أَحَدِهِمَا حَتَّى تَسْمَعَ مِنَ الْآخَرِ ، فَإِنَّهُ يَبِينُ لَكَ الْقَضَاءُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے قاضی بنا کر بھیجا اور ارشاد فرمایا: ”جب تمہارے پاس دو فریق آئیں تو صرف کسی ایک کی بات سن کر فیصلہ نہ کرنا بلکہ دونوں کی بات سننا، تم دیکھو گے کہ تم کس طرح فیصلہ کرتے ہو۔“
…