حدیث نمبر: 1202
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ ، قَالَ : قَالَ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِ عَلِيٍّ لِعَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : أَلَا تُحَدِّثُنَا بِصَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالنَّهَارِ وَالتَّطَوُّعِ ، فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : إِنَّكُمْ وَاللَّهِ لَا تُطِيقُونَهَا ، فَقَالُوا لَهُ : أَخْبِرْنَا بِهَا نَأْخُذْ مِنْهَا مَا أَطَقْنَا . . . فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ .
مولانا ظفر اقبال
حدیث نمبر (650) یہاں اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حدیث نمبر: 1203
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ فُضَيْلُ بْنُ الْحُسَيْنِ إِمْلَاءً عَلَيَّ مِنْ كِتَابِهِ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالنَّهَارِ ، فَقَالَ : كَانَ " يُصَلِّي سِتَّ عَشْرَةَ رَكْعَةً ، قَالَ : يُصَلِّي إِذَا كَانَتْ الشَّمْسُ مِنْ هَاهُنَا كَهَيْئَتِهَا مِنْ هَاهُنَا كَصَلَاةِ الْعَصْرِ رَكْعَتَيْنِ ، وَكَانَ يُصَلِّي إِذَا كَانَتْ الشَّمْسُ مِنْ هَاهُنَا كَهَيْئَتِهَا مِنْ هَاهُنَا كَصَلَاةِ الظُّهْرِ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ ، وَكَانَ يُصَلِّي قَبْلَ الظُّهْرِ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ ، وَبَعْدَ الظُّهْرِ رَكْعَتَيْنِ ، وَقَبْلَ الْعَصْرِ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ " .
مولانا ظفر اقبال
عاصم بن ضمرہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ کسی شخص نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم دن کے وقت کس طرح نوافل پڑھتے تھے؟ انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کل سولہ رکعتیں پڑھتے تھے، فجر کی نماز پڑھ کر تھوڑی دیر انتظار فرماتے، جب سورج مشرق سے اس مقدار میں نکل آتا جتنا عصر کی نماز کے بعد مغرب کی طرف ہوتا ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو کر دو رکعت نماز پڑھتے، پھر تھوڑی دیر انتظار فرماتے، اور جب سورج مشرق سے اتنی مقدار میں نکل آتا جتنا ظہر کی نماز کے بعد مغرب کی طرف ہوتا ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو کر چار رکعت نماز پڑھتے، پھر سورج ڈھلنے کے بعد چار رکعتیں ظہر سے پہلے، دو رکعتیں ظہر کے بعد اور چار رکعتیں عصر سے پہلے پڑھتے تھے۔
حدیث نمبر: 1204
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنِ الْحَسَنِ ، وَعَبْدِ اللَّهِ ابني محمد بن علي ، عَنْ أَبِيهِمَا مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَاهُ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ لِابْنِ عَبَّاسٍ ، وَبَلَغَهُ أَنَّهُ رَخَّصَ فِي مُتْعَةِ النِّسَاءِ ، فَقَالَ لَهُ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ " نَهَى عَنْهَا يَوْمَ خَيْبَر ، وَعَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ الْأَهْلِيَّةِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ خیبر کے زمانے میں ہی نکاح متعہ اور پالتو گدھوں کے گوشت کی ممانعت فرما دی تھی، سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو پتہ چلا تھا کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما عورتوں سے متعہ کرنے کی اجازت دیتے ہیں۔
حدیث نمبر: 1205
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي حَيَّةَ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّهُ " تَوَضَّأَ ثَلَاثًا ثَلَاثًا ، ثُمَّ مَسَحَ بِرَأْسَهُ ، ثُمَّ شَرِبَ فَضْلَ وَضُوئِهِ ، ثُمَّ قَالَ : مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَنْظُرَ إِلَى وُضُوءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلْيَنْظُرْ إِلَى هَذَا " .
مولانا ظفر اقبال
ایک مرتبہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے وضو کرتے ہوئے اعضاء وضو کو تین تین مرتبہ دھویا، اور وضو سے بچا ہوا پانی پی لیا، پھر فرمایا کہ جو شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ وضو دیکھنا چا ہے وہ اسے دیکھ لے۔
حدیث نمبر: 1206
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ شَيْخٍ لَهُمْ يُقَالُ لَهُ : سَالِمٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُلَيْلٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، يَقُولُ : " أُعْطِيَ كُلُّ نَبِيٍّ سَبْعَةَ نُجَبَاءَ مِنْ أُمَّتِهِ ، وَأُعْطِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعَةَ عَشَرَ نَجِيبًا مِنْ أُمَّتِهِ ، مِنْهُمْ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا " .
مولانا ظفر اقبال
عبداللہ بن ملیل رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جتنے بھی انبیاء کرام علیہم السلام تشریف لائے ہیں، ان میں سے ہر ایک کو سات نقباء، وزراء، نجباء دیئے گئے، جب کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو خصوصیت کے ساتھ چودہ وزراء، نقباء، نجباء دیئے گئے جن میں سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما بھی ہیں۔
حدیث نمبر: 1207
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ عُبَادٍ ، قَالَ : كُنَّا مَعَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، فَكَانَ " إِذَا شَهِدَ مَشْهَدًا ، أَوْ أَشْرَفَ عَلَى أَكَمَةٍ ، أَوْ هَبَطَ وَادِيًا ، قَالَ : سُبْحَانَ اللَّهِ ، صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ ، فَقُلْتُ لِرَجُلٍ مِنْ بَنِي يَشْكُرَ : انْطَلِقْ بِنَا إِلَى أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ حَتَّى نَسْأَلَهُ عَنْ قَوْلِهِ : صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ ، قَالَ : فَانْطَلَقْنَا إِلَيْهِ ، فَقُلْنَا : يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ، رَأَيْنَاكَ إِذَا شَهِدْتَ مَشْهَدًا ، أَوْ هَبَطْتَ وَادِيًا ، أَوْ أَشْرَفْتَ عَلَى أَكَمَةٍ ، قُلْتَ : صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ ، فَهَلْ عَهِدَ رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكَ شَيْئًا فِي ذَلِكَ ؟ قَالَ : فَأَعْرَضَ عَنَّا وَأَلْحَحْنَا عَلَيْهِ ، فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ ، قَالَ : وَاللَّهِ مَا عَهِدَ إِلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَهْدًا إِلَّا شَيْئًا عَهِدَهُ إِلَى النَّاسِ ، وَلَكِنَّ النَّاسَ وَقَعُوا عَلَى عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، فَقَتَلُوهُ ، فَكَانَ غَيْرِي فِيهِ أَسْوَأَ حَالًا وَفِعْلًا مِنِّي ، ثُمَّ إِنِّي رَأَيْتُ أَنِّي أَحَقُّهُمْ بِهَذَا الْأَمْرِ ، فَوَثَبْتُ عَلَيْهِ ، فَاللَّهُ أَعْلَمُ أَصَبْنَا أَمْ أَخْطَأْنَا " .
مولانا ظفر اقبال
قیس بن عباد کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے، وہ جب بھی لوگوں کے کسی مجمع کو دیکھتے، یا کسی ٹیلے پر چڑھتے، یا کسی وادی میں اترتے تو فرماتے: «سُبْحَانَ اللّٰهِ، صَدَقَ اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهُ.» میں نے بنو یشکر کے ایک آدمی سے کہا کہ آؤ، ذرا امیر المومنین سے یہ بات پوچھتے ہیں کہ «صَدَقَ اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهُ» سے ان کی کیا مراد ہوتی ہے؟ چنانچہ ہم دونوں ان کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: امیر المومنین! ہم دیکھتے ہیں کہ جب آپ کسی مجمع کو دیکھیں، کسی وادی میں اتریں، یا کسی ٹیلے پر چڑھیں تو آپ «صَدَقَ اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهُ» کہتے ہیں، کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حوالے سے آپ کو کچھ بتا رکھا ہے؟ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ہمارا سوال سن کر اعراض فرمایا، لیکن ہم نے بہت اصرار کیا، جب انہوں نے ہمارا اصرار دیکھا تو فرمایا کہ اگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کوئی بات بتائی ہے تو وہ لوگوں کو بھی بتائی ہے، لیکن لوگ سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے پیچھے پڑ گئے یہاں تک کہ انہیں شہید کر کے ہی دم لیا، اب میرے علاوہ دوسرے لوگوں کا حال بھی کچھ بہتر نہ تھا اور کام بھی، پھر میں نے یہ بھی محسوس کیا کہ مجھے خلافت کا حق بھی پہنچتا ہے اس لئے میں اس سواری پر سوار ہو گیا، اب اللہ جانتا ہے کہ ہم نے صحیح کیا یا غلط؟
حدیث نمبر: 1208
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، وَأَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَا : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ . ح قَالَ عَبْد اللَّهِ : حَدَّثَنِي أَبِي ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، وَإِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ ، قَالَ : سَأَلْنَا عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ تَطَوُّعِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالنَّهَارِ ؟ قَالَ : قَالَ عَلِيٌّ : " تِلْكَ سِتَّ عَشْرَةَ رَكْعَةً تَطَوُّعُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالنَّهَارِ ، وَقَلَّ مَنْ يُدَاوِمُ عَلَيْهَا " .
مولانا ظفر اقبال
عاصم بن ضمرہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم دن کے وقت کس طرح نوافل پڑھتے تھے؟ فرمایا: پورے دن میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نوافل کی سولہ رکعتیں ہوتی تھیں لیکن ان پر دوام کرنے والے بہت کم ہیں۔
حدیث نمبر: 1208M
حَدَّثَني عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَني أَبِي ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ : وَقَالَ أَبِي قَالَ حَبِيبُ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ : يَا أَبَا إِسْحَاقَ ، مَا أُحِبُّ أَنّ لِي بِحَدِيثِكَ هَذَا مِلْءَ مَسْجِدِكَ هَذَا ذَهَبًا .
مولانا ظفر اقبال
حبیب بن ابی ثابت نے گزشتہ حدیث بیان کر کے فرمایا: اے ابواسحاق! مجھے یہ بات پسند نہیں ہے کہ آپ کی اس حدیث کے عوض مجھے یہ مسجد سونے سے بھر کر دے دی جائے۔
حدیث نمبر: 1209
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَنْ أَقُومَ عَلَى بُدْنِهِ ، وَأَنْ أَتَصَدَّقَ بِجُلُودِهَا وَجِلَالِهَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ قربانی کے موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ موجود رہوں، اور یہ کہ ان اونٹوں کی کھالیں اور جھولیں بھی تقسیم کر دوں۔
حدیث نمبر: 1210
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ ، أَخْبَرَنَا مُجَالِدٌ ، عَنْ عَامِرٍ ، قَالَ : حَمَلَتْ شُرَاحَةُ وَكَانَ زَوْجُهَا غَائِبًا ، فَانْطَلَقَ بِهَا مَوْلَاهَا إِلَى عَلِيٍّ ، فَقَالَ لَهَا عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : لَعَلَّ زَوْجَكِ جَاءَكِ ، أَوْ لَعَلَّ أَحَدًا اسْتَكْرَهَكِ عَلَى نَفْسِكِ ؟ قَالَتْ : لَا ، وَأَقَرَّتْ بِالزِّنَا ، فَجَلَدَهَا عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَوْمَ الْخَمِيسِ أَنَا شَاهِدُهُ ، وَرَجَمَهَا يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَأَنَا شَاهِدُهُ ، فَأَمَرَ بِهَا فَحُفِرَ لَهَا إِلَى السُّرَّةِ ، ثُمَّ قَالَ : " إِنَّ الرَّجْمَ سُنَّةٌ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَقَدْ كَانَتْ نَزَلَتْ آيَةُ الرَّجْمِ ، فَهَلَكَ مَنْ كَانَ يَقْرَؤُهَا وَآيًا مِنَ الْقُرْآنِ بِالْيَمَامَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
امام شعبی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ شراحہ ہمدانیہ بچے کی امید سے ہو گئی، حالانکہ اس کا شوہر موجود نہیں تھا، چنانچہ اس کا آقا اسے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس لے کر آیا، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہو سکتا ہے وہ تمہارا شوہر ہی ہو، شاید تجھے زبردستی اس کام پر مجبور کیا گیا ہو؟ لیکن وہ ہر بات کے جواب میں ”نہیں“ کہتی رہی، چنانچہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے جمعرات کے دن اسے کوڑے مارے، اور جمعہ کے دن اس پر حد رجم جاری فرمائی، اور میں دونوں موقعوں پر موجود تھا، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ناف تک اس کے لئے گڑھا کھودنے کا حکم دیا، اور فرمایا کہ رجم سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہے اور آیت رجم کا نزول بھی ہوا تھا، بعد میں یمامہ کے وہ لوگ جو آیت رجم اور قرآن کی دیگر آیات پڑھتے تھے، وہ ہلاک ہو گئے۔
حدیث نمبر: 1211
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ ، عَنْ زَائِدَةَ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ حَنَشٍ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا تَقَاضَى إِلَيْكَ رَجُلَانِ ، فَلَا تَقْضِ لِلْأَوَّلِ حَتَّى تَسْمَعَ مَا يَقُولُ الْآخَرُ ، فَسَوُفَ تَرَى كَيْفَ تَقْضِي " ، قَالَ : فَمَا زِلْتُ بَعْدُ قَاضِيًا .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے ارشاد فرمایا: ”جب تمہارے پاس دو فریق آئیں تو صرف کسی ایک کی بات سن کر فیصلہ نہ کرنا، بلکہ دونوں کی بات سننا، تم دیکھو گے کہ تم کس طرح فیصلہ کرتے ہو۔“ سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اس کے بعد میں مسلسل عہدہ قضاء پر فائز رہا۔
حدیث نمبر: 1212
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ جَعْفَرٍ حَدَّثَهُ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " خَيْرُ نِسَائِهَا مَرْيَمُ بِنْتُ عِمْرَانَ ، وَخَيْرُ نِسَائِهَا خَدِيجَةُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: ”بہترین عورت سیدہ مریم بنت عمران علیہا السلام ہیں، اور بہترین عورت سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا ہیں۔“
حدیث نمبر: 1213
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ يَعْنِي الصَّنْعَانِيَّ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ سَرَّهُ أَنْ يُمَدَّ لَهُ فِي عُمْرِهِ ، وَيُوَسَّعَ لَهُ فِي رِزْقِهِ ، وَيُدْفَعَ عَنْهُ مِيتَةُ السُّوءِ ، فَلْيَتَّقِ اللَّهَ ، وَلْيَصِلْ رَحِمَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص اس بات کو پسند کرتا ہو کہ اس کی عمر لمبی ہو، اس کے رزق میں کشادگی ہو اور اسے بری موت سے محفوظ رکھا جائے، اسے چاہئے کہ اللہ سے ڈرے اور صلہ رحمی کرے۔“
حدیث نمبر: 1214
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنِي أَبُو خَيْثَمَةَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وِتْرٌ يُحِبُّ الْوَتْرَ ، فَأَوْتِرُوا يَا أَهْلَ الْقُرْآنِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اے اہل قرآن! وتر پڑھا کرو کیونکہ اللہ تعالیٰ طاق ہے، اور طاق عدد کو پسند کرتا ہے۔“
حدیث نمبر: 1215
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنِي شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " مِنْ كُلِّ اللَّيْلِ قَدْ أَوْتَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مِنْ أَوَّلِهِ ، وَأَوْسَطِهِ ، وَآخِرِهِ ، وَانْتَهَى وِتْرُهُ إِلَى آخِرِ اللَّيْلِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کے ابتدائی، درمیانے اور آخری ہر حصے میں وتر پڑھ لیا کرتے تھے، تاہم آخر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم رات کے آخری حصے میں اس کی پابندی فرمانے لگے تھے۔
حدیث نمبر: 1216
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الْحُرِّ ، حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ عُتَيْبَةَ ، عَنْ رَجُلٍ يُدْعَى : حَنَشًا ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " كَسَفَتْ الشَّمْسُ فَصَلَّى عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ لِلنَّاسِ ، فَقَرَأَ : يس أَوْ نَحْوَهَا ، ثُمَّ رَكَعَ نَحْوًا مِنْ قَدْرِ السُّورَةِ ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ ، فَقَالَ : سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ ، ثُمَّ قَامَ قَدْرَ السُّورَةِ يَدْعُو وَيُكَبِّرُ ، ثُمَّ رَكَعَ قَدْرَ قِرَاءَتِهِ أَيْضًا ، ثُمَّ قَالَ : سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ ، ثُمَّ قَامَ أَيْضًا قَدْرَ السُّورَةِ ، ثُمَّ رَكَعَ قَدْرَ ذَلِكَ أَيْضًا ، حَتَّى صَلَّى أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ ، ثُمَّ قَالَ : سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ ، ثُمَّ سَجَدَ ، ثُمَّ قَامَ فِي الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ فَفَعَلَ كَفِعْلِهِ فِي الرَّكْعَةِ الْأُولَى ، ثُمَّ جَلَسَ يَدْعُو وَيَرْغَبُ ، حَتَّى انْكَشَفَتْ الشَّمْسُ ، ثُمَّ حَدَّثَهُمْ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَذَلِكَ فَعَلَ " .
مولانا ظفر اقبال
حنش کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سورج گرہن ہوا تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نماز کسوف پڑھانے کے لئے کھڑے ہوئے، انہوں نے سورہ یٓس یا اس جیسی کوئی سورت تلاوت فرمائی، پھر سورت کے بقدر رکوع کیا، پھر سر اٹھا کر «سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» کہا اور سورت کی تلاوت کے بقدر کھڑے رہے اور دعا کرتے رہے، پھر تکبیر کہہ کر دوبارہ اتنا ہی طویل رکوع کیا جو سورت کی تلاوت کے بقدر تھا، پھر «سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» کہہ کر مزید اتنی ہی دیر کھڑے رہے، اس طرح انہوں نے چار رکوع کئے، پھر سجدہ کیا اور دوسری رکعت کے لئے کھڑے ہوئے اور پہلی رکعت کی طرح یہ دوسری رکعت بھی پڑھی، پھر بیٹھ کر دعا کرتے رہے یہاں تک کہ سورج گرہن ختم ہو گیا، پھر فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ایک مرتبہ اسی طرح کیا تھا۔
حدیث نمبر: 1217
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنِي أَبُو خَيْثَمَةَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ ، عَنْ عَلِيٍّ ، قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " لَا يُصَلِّي صَلَاةً إِلَّا صَلَّى بَعْدَهَا رَكْعَتَيْنِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم (فجر اور عصر کے علاوہ) ہر فرض نماز کے بعد دو رکعت نماز پڑھتے تھے۔
حدیث نمبر: 1218
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنِي أَبُو خَيْثَمَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ ، عَنْ عَلِيٍّ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يُوتِرُ فِي أَوَّلِ اللَّيْلِ ، وَفِي أَوْسَطِهِ ، وَفِي آخِرِهِ ، ثُمَّ ثَبَتَ لَهُ الْوَتْرُ فِي آخِرِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کے ابتدائی، درمیانے اور آخری ہر حصے میں وتر پڑھ لیا کرتے تھے، تاہم آخر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم رات کے آخری حصے میں اس کی پابندی فرمانے لگے تھے۔
حدیث نمبر: 1219
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا جَلَسَ فِي مُصَلَّاهُ بَعْدَ الصَّلَاةِ ، صَلَّتْ عَلَيْهِ الْمَلَائِكَةُ ، وَصَلَاتُهُمْ عَلَيْهِ : اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ ، اللَّهُمَّ ارْحَمْهُ ، وَإِنْ جَلَسَ يَنْتَظِرُ الصَّلَاةَ ، صَلَّتْ عَلَيْهِ الْمَلَائِكَةُ ، وَصَلَاتُهُمْ عَلَيْهِ : اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ ، اللَّهُمَّ ارْحَمْهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جب کوئی شخص نماز کے بعد اپنی جائے نماز پر بیٹھا رہتا ہے تو فرشتے اس پر صلوٰۃ پڑھتے رہتے ہیں، اور فرشتوں کی صلوٰۃ یہ دعا ہے کہ اے اللہ! اسے معاف فرما دے، اے اللہ! اس پر رحم فرما دے۔ اسی طرح اگر وہ بیٹھ کر اگلی نماز کا انتظار کرتا رہے تو فرشتے اس پر بھی صلوٰۃ پڑھتے ہیں، اور ان کی صلوٰۃ یہی دعا ہے کہ اے اللہ! اسے معاف فرما دے، اے اللہ! اس پر رحم فرما دے۔“
حدیث نمبر: 1220
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَكِيمٍ الْأَوْدِيُّ ، أَخْبَرَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " الْوَتْرُ لَيْسَ بِحَتْمٍ ، وَلَكِنَّهُ سُنَّةٌ سَنَّهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ وتر فرض نماز کی طرح قرآن کریم سے حتمی ثبوت نہیں رکھتے، لیکن ان کا وجوب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت سے ثابت ہے۔
حدیث نمبر: 1221
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيْدُ ، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَبِيدَةَ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْخَنْدَقِ : " مَا لَهُمْ ، مَلَأَ اللَّهُ بُيُوتَهُمْ وَقُبُورَهُمْ نَارًا كَمَا حَبَسُونَا عَنْ صَلَاةِ الْوُسْطَى حَتَّى غَابَتْ الشَّمْسُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ غزوہ خندق کے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ ان (مشرکین) کے گھروں اور قبروں کو آگ سے بھر دے کہ انہوں نے ہمیں نماز عصر نہیں پڑھنے دی یہاں تک کہ سورج غروب ہو گیا۔“
حدیث نمبر: 1222
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا زَكَرِيَّا ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْحَارِثِ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : إِنَّكُمْ تَقْرَءُونَ : مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُوصَى بِهَا أَوْ دَيْنٍ سورة النساء آية 12 ، وَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " قَضَى بِالدَّيْنِ قَبْلَ الْوَصِيَّةِ ، وَإِنَّ أَعْيَانَ بَنِي الْأُمِّ يَتَوَارَثُونَ دُونَ بَنِي الْعَلَّاتِ ، يَرِثُ الرَّجُلُ أَخَاهُ لِأَبِيهِ ، وَأُمِّهِ دُونَ أَخِيهِ لِأَبِيهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فیصلہ فرمایا ہے کہ ”میت کے قرض کی ادائیگی اجراء و نفاذ وصیت سے پہلے ہو گی“، جبکہ قرآن میں وصیت کا ذکر قرض سے پہلے ہے، اور یہ کہ ”اخیافی بھائی تو وارث ہوں گے لیکن علاتی بھائی وارث نہ ہوں گے“، انسان کا حقیقی بھائی تو اس کا وارث ہوگا لیکن صرف باپ شریک بھائی وارث نہ ہوگا۔ فائدہ: ماں شریک بھائی کو اخیافی اور باپ شریک بھائی کو علاتی کہتے ہیں۔
حدیث نمبر: 1223
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا مِسْعَرٌ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَيْسَرَةَ ، عَنِ النَّزَّالِ بْنِ سَبْرَةَ ، قَالَ : أُتِيَ عَلِيٌّ بِإِنَاءٍ مِنْ مَاءٍ ، " فَشَرِبَ وَهُوَ قَائِمٌ ، ثُمَّ قَالَ : إِنَّهُ بَلَغَنِي أَنَّ أَقْوَامًا يَكْرَهُونَ أَنْ يَشْرَبَ أَحَدُهُمْ وَهُوَ قَائِمٌ ، وَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَلَ مِثْلَ مَا فَعَلْتُ ، ثُمَّ أَخَذَ مِنْهُ فَتَمَسَّحَ ، ثُمَّ قَالَ : هَذَا وُضُوءُ مَنْ لَمْ يُحْدِثْ " .
مولانا ظفر اقبال
نزال بن سبرہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ نماز ظہر کے بعد سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس ایک کوزے میں پانی لایا گیا، وہ مسجد کے صحن میں تھے، انہوں نے کھڑے کھڑے وہ پانی پی لیا اور فرمایا کہ کچھ لوگ اسے ناپسند سمجھتے ہیں حالانکہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح کرتے ہوئے دیکھا ہے جیسے تم نے مجھے کرتے ہوئے دیکھا ہے، پھر انہوں نے باقی پانی سے مسح کر لیا اور فرمایا: جو آدمی بےوضو نہ ہو بلکہ پہلے سے اس کا وضو موجود ہو، یہ اس شخص کا وضو ہے۔
حدیث نمبر: 1224
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَبِيدَةَ ، قَالَ : قَالَ عَلِيٌّ لِأَهْلِ النَّهْرَوَانِ : " فِيْهُمْ رَجُلٌ مَثْدُونُ الْيَدِ ، أَوْ مُودَنُ الْيَدِ ، أَوْ مُخْدَجُ الْيَدِ ، لَوْلَا أَنْ تَبْطَرُوا لَأَنْبَأْتُكُمْ مَا قَضَى اللَّهُ عَلَى لِسَانِ نَبِيِّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِمَنْ قَتَلَهُمْ ، قَالَ عَبِيدَةُ : فَقُلْتُ لِعَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : آنْتَ سَمِعْتَهُ ؟ قَالَ : نَعَمْ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ ، يَحْلِفُ عَلَيْهَا ثَلَاثًا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے سامنے ایک مرتبہ خوارج کا ذکر ہوا تو فرمایا کہ ان میں ایک آدمی ناقص الخلقت بھی ہوگا، اگر تم حد سے آگے نہ بڑھ جاتے تو میں تم میں سے وہ وعدہ بیان کرتا جو اللہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی ان کے قتل کرنے والوں سے فرما رکھا ہے، راوی کہتے ہیں کہ میں نے ان سے پوچھا: کیا آپ نے واقعی نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس سلسلے میں کوئی فرمان سنا ہے؟ تو انہوں نے تین مرتبہ فرمایا: ہاں! رب کعبہ کی قسم۔
حدیث نمبر: 1225
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ ، عَنْ عَلِيٍّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ اللَّهَ وِتْرٌ يُحِبُّ الْوَتْرَ ، فَأَوْتِرُوا يَا أَهْلَ الْقُرْآنِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اے اہل قرآن! وتر پڑھا کرو، کیونکہ اللہ تعالیٰ طاق ہے اور طاق عدد کو پسند کرتا ہے۔“
حدیث نمبر: 1226
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ السَّلُولِيِّ ، عَنْ عَلِيٍّ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يُصَلِّي عَلَى أَثَرِ كُلِّ صَلَاةٍ مَكْتُوبَةٍ رَكْعَتَيْنِ ، إِلَّا الْفَجْرَ وَالْعَصْرَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فجر اور عصر کے علاوہ ہر فرض نماز کے بعد دو رکعت نماز پڑھتے تھے۔
حدیث نمبر: 1227
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلِ بْنِ غَزْوَانَ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ ، عَنْ عَلِيٍّ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " لَا يُصَلِّي صَلَاةً يُصَلَّى بَعْدَهَا ، إِلَّا صَلَّى بَعْدَهَا رَكْعَتَيْنِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم (فجر اور عصر کے علاوہ) ہر فرض نماز کے بعد دو رکعت نماز پڑھتے تھے۔
حدیث نمبر: 1228
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنِي عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ اللَّهَ وِتْرٌ يُحِبُّ الْوَتْرَ ، فَأَوْتِرُوا يَا أَهْلَ الْقُرْآنِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اے اہل قرآن! وتر پڑھا کرو، کیونکہ اللہ تعالیٰ طاق ہے اور طاق عدد کو پسند کرتا ہے۔“
حدیث نمبر: 1229
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا الْعَوَّامُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ عَلِيٍّ ، قَالَ : أَتَانَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ حَتَّى وَضَعَ قَدَمَهُ بَيْنِي وَبَيْنَ فَاطِمَةَ ، فَعَلَّمَنَا مَا نَقُولُ إِذَا أَخَذْنَا مَضَاجِعَنَا : " ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ تَسْبِيحَةً ، وَثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ تَحْمِيدَةً ، وَأَرْبَعًا وَثَلَاثِينَ تَكْبِيرَةً " ، قَالَ عَلِيٌّ : فَمَا تَرَكْتُهَا بَعْدُ ، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ : وَلَا لَيْلَةَ صِفِّينَ ؟ قَالَ : وَلَا لَيْلَةَ صِفِّينَ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ رات کو جب ہم اپنے بستروں پر لیٹ چکے تھے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، اور میرے اور فاطمہ کے درمیان قدم مبارک رکھ کر ہمیں بستر پر لیٹنے کے بعد یہ کلمات پڑھنے کے لئے سکھائے: ”تینتیس مرتبہ سبحان اللہ، تینتیس مرتبہ الحمدللہ اور چونتیس مرتبہ اللہ اکبر۔“ سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ پھر میں نے ان کلمات کو کبھی ترک نہیں کیا، کسی نے پوچھا: صفین کی رات میں بھی نہیں؟ فرمایا: ہاں!۔
حدیث نمبر: 1230
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ الدَّانَاجِ ، عَنْ حُضَيْنِ بْنِ الْمُنْذِرِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ وَعْلَةَ ، أَنَّ الْوَلِيدَ بْنَ عُقْبَةَ صَلَّى بِالنَّاسِ الصُّبْحَ أَرْبَعًا ، ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَيْهِمْ ، فَقَالَ : أَزِيدُكُمْ ؟ ! فَرُفِعَ ذَلِكَ إِلَى عُثْمَانَ ، فَأَمَرَ بِهِ أَنْ يُجْلَدَ ، فَقَالَ عَلِيٌّ لِلْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ : قُمْ يَا حَسَنُ فَاجْلِدْهُ ، قَالَ : وَفِيمَ أَنْتَ وَذَاكَ ؟ ! فَقَالَ عَلِيٌّ : بَلْ عَجَزْتَ وَوَهَنْتَ ، قُمْ يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ جَعْفَرٍ فَاجْلِدْهُ ، فَقَامَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ فَجَلَدَهُ ، وَعَلِيٌّ يَعُدُّ ، فَلَمَّا بَلَغَ أَرْبَعِينَ ، قَالَ لَهُ : أَمْسِكْ ، ثُمَّ قَالَ : " ضَرَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْخَمْرِ أَرْبَعِينَ ، وَضَرَبَ أَبُو بَكْرٍ أَرْبَعِينَ وَعُمَرُ صَدْرًا مِنْ خِلَافَتِهِ ، ثُمَّ أَتَمَّهَا عُمَرُ ثَمَانِينَ ، وَكُلٌّ سُنَّةٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضین رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ولید بن عقبہ نے لوگوں کو فجر کی نماز میں دو کی بجائے چار رکعتیں پڑھا دیں، پھر لوگوں کی طرف متوجہ ہو کر کہا کہ شاید میں نے نماز کی رکعتوں میں اضافہ کردیا ہے؟ یہ معاملہ سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے سامنے پیش ہوا تو انہوں نے ولید پر شراب نوشی کی سزا جاری کرنے کا حکم دے دیا، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ حسن! کھڑے ہو کر اسے کوڑے مارو، انہوں نے کہا کہ آپ یہ کام نہیں کر سکتے، کسی اور کو اس کا حکم دیجئے، فرمایا: اصل میں تم کمزور اور عاجز ہوگئے ہو، اس لئے عبداللہ بن جعفر! تم کھڑے ہو کر اس پر سزا جاری کرو۔ چنانچہ سیدنا عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ کوڑے مارتے جاتے تھے اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ گنتے جاتے تھے، جب چالیس کوڑے ہوئے تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: بس کرو، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے شرابی کو چالیس کوڑے مارے تھے، سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے بھی چالیس کوڑے مارے تھے، لیکن سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اسی مارے تھے، اور دونوں ہی سنت ہیں۔
حدیث نمبر: 1231
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى الثَّعْلَبِيِّ ، عَنْ أَبِي جَمِيلَةَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّ جَارِيَةً لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نُفِسَتْ مِنَ الزِّنَا ، فَأَرْسَلَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأُقِيمَ عَلَيْهَا الْحَدَّ ، فَوَجَدْتُهَا فِي الدَّمِ لَمْ يَجِفَّ عَنْهَا ، فَرَجَعْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَخْبَرْتُهُ ، فَقَالَ لِي : " إِذَا جَفَّ الدَّمُ عَنْهَا فَاجْلِدْهَا الْحَدَّ " ، ثُمَّ قَالَ : " أَقِيمُوا الْحُدُودَ عَلَى مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک خادمہ سے بدکاری کا گناہ سرزد ہو گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اس پر حد جاری کرنے کا حکم دیا، میں نے دیکھا کہ اس کا تو خون ہی بند نہیں ہو رہا، میں نے آکر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات ذکر کی، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب اس کا خون بند ہو جائے تو اس پر حد جاری کر دینا، اور یاد رکھو! اپنے غلاموں اور باندیوں پر بھی حد جاری کیا کرو۔“
حدیث نمبر: 1232
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بُكَيْرٍ النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دَاوُدَ الْخُرَيْبِيُّ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " إِنَّ الْوَتْرَ لَيْسَ بِحَتْمٍ ، وَلَكِنَّهُ سُنَّةٌ سَنَّهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَوْتِرُوا يَا أَهْلَ الْقُرْآنِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ وتر فرض نماز کی طرح قرآن کریم سے حتمی ثبوت نہیں رکھتے، لیکن ان کا وجوب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت سے ثابت ہے، اس لئے اہل قرآن! وتر پڑھا کرو۔
حدیث نمبر: 1233
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنِي الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ النَّرْسِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ ، عَنْ عَلِيٍّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " عَفَوْتُ لَكُمْ عَنِ الْخَيْلِ وَالرَّقِيقِ ، فَأَدُّوا صَدَقَةَ الرِّقَةِ مِنْ كُلِّ أَرْبَعِينَ دِرْهَمًا دِرْهَمًا ، وَلَيْسَ فِي تِسْعِينَ وَمِائَةٍ شَيْءٌ ، فَإِذَا بَلَغَتْ مِائَتَيْنِ فَفِيهَا خَمْسَةُ دَرَاهِمَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میں نے تم سے گھوڑے اور غلام کی زکوٰۃ چھوڑ دی ہے اس لئے چاندی کی زکوٰۃ بہرحال تمہیں ادا کرنا ہوگی، جس کا نصاب یہ ہے کہ ہر چالیس پر ایک درہم واجب ہوگا، ایک سو نوے درہم تک کچھ واجب نہ ہوگا، لیکن جب ان کی تعداد دو سو تک پہنچ جائے تو اس پر پانچ درہم واجب ہوں گے۔“
حدیث نمبر: 1234
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنِي الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ ، قَالَ : سُئِلَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : كَانَ " يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ سِتَّ عَشْرَةَ رَكْعَةً " .
مولانا ظفر اقبال
عاصم بن ضمرہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ کسی شخص نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح نوافل پڑھتے تھے؟ انہوں نے فرمایا کہ پوری رات میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نوافل کی سولہ رکعتیں ہوتی تھیں۔
حدیث نمبر: 1235
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ بْنُ يُونُسَ ، عَنْ ثُوَيْرِ بْنِ أَبِي فَاخِتَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " أَهْدَى كِسْرَى لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَبِلَ مِنْهُ ، وَأَهْدَى قَيْصَرُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَبِلَ مِنْهُ ، وَأَهْدَتْ الْمُلُوكُ فَقَبِلَ مِنْهُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ کسری نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ہدیہ بھیجا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبول فرما لیا، اسی طرح قیصر نے ہدیہ بھیجا تو وہ بھی قبول فرما لیا، اور دیگر بادشاہوں نے بھیجا تو وہ بھی قبول فرما لیا۔
حدیث نمبر: 1236
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ النَّابِغَةِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَلِيٍّ ، قَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ ، وَعَنِ الْأَوْعِيَةِ ، وَأَنْ تُحْبَسَ لُحُومُ الْأَضَاحِيِّ بَعْدَ ثَلَاثٍ ، ثُمَّ قَالَ : " إِنِّي كُنْتُ نَهَيْتُكُمْ عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ فَزُورُوهَا ، فَإِنَّهَا تُذَكِّرُكُمْ الْآخِرَةَ ، وَنَهَيْتُكُمْ عَنِ الْأَوْعِيَةِ فَاشْرَبُوا فِيهَا ، وَاجْتَنِبُوا كُلَّ مَا أَسْكَرَ ، وَنَهَيْتُكُمْ عَنْ لُحُومِ الْأَضَاحِيِّ أَنْ تَحْبِسُوهَا بَعْدَ ثَلَاثٍ ، فَاحْبِسُوا مَا بَدَا لَكُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابتداء قبرستان جانے سے، مخصوص برتنوں کے استعمال سے، اور تین دن سے زیادہ قربانی کا گوشت اپنے پاس رکھنے سے منع فرما دیا تھا، اس کے بعد فرمایا کہ ”میں نے پہلے تمہیں قبرستان جانے سے روکا تھا، اب اجازت دیتا ہوں اس لئے قبرستان جایا کرو کیونکہ اس سے آخرت کی یاد آتی ہے، میں نے تمہیں مخصوص برتن استعمال کرنے سے بھی روکا تھا، اب انہیں پینے کے لئے استعمال کر لیا کرو لیکن نشہ آور چیزوں سے بچتے رہو، اور میں نے تمہیں تین دن سے زیادہ قربانی کا گوشت رکھنے سے بھی منع کیا تھا، اب تہیں اجازت ہے کہ جب تک چاہو رکھو۔“
حدیث نمبر: 1237
حَدَّثَنَاه عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ النَّابِغَةِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَلِيٍّ ، قَالَ : نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ " ، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : " وَإِيَّاكُمْ وَكُلَّ مُسْكِرٍ " .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حدیث نمبر: 1238
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا شَرِيكٌ ، عَنِ الرُّكَيْنِ بْنِ الرَّبِيعِ ، عَنْ حُصَيْنِ بْنِ قَبِيصَةَ ، عَنْ عَلِيٍّ ، قَالَ : كُنْتُ رَجُلًا مَذَّاءً ، فَاسْتَحْيَيْتُ أَنْ أَسْأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَجْلِ ابْنَتِهِ ، فَأَمَرْتُ الْمِقْدَادَ ، فَسَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الرَّجُلِ يَجِدُ الْمَذْيَ ، فَقَالَ : " ذَلِكَ مَاءُ الْفَحْلِ ، وَلِكُلِّ فَحْلٍ مَاءٌ ، فَلْيَغْسِلْ ذَكَرَهُ وَأُنْثَيَيْهِ ، وَلْيَتَوَضَّأْ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میرے جسم سے خروج مذی بکثرت ہوتا تھا، مجھے خود سے یہ مسئلہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھتے ہوئے شرم آتی تھی کہ ان کی صاحبزادی میرے نکاح میں تھیں، چنانچہ میں نے سیدنا مقداد رضی اللہ عنہ سے کہا، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ مسئلہ پوچھا، تو انہوں نے فرمایا کہ ”یہ تو مرد کا پانی ہے اور ہر طاقتور مرد کا پانی ہوتا ہے، اس لئے جب مذی دیکھو تو اپنی شرمگاہ کو دھو لیا کرو اور نماز جیسا وضو کر لیا کرو۔“
حدیث نمبر: 1239
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا أَشْعَثُ بْنُ سَوَّارٍ ، عَنْ ابْنِ أَشْوَعَ ، عَنْ حَنَشِ بْنِ الْمُعْتَمِرِ ، أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بَعَثَ صَاحِبَ شُرْطَهِ ، فَقَالَ : أَبْعَثُكَ لِمَا بَعَثَنِي لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَدَعْ قَبْرًا إِلَّا سَوَّيْتَهُ ، وَلَا تِمْثَالًا إِلَّا وَضَعْتَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے حوالے سے مروی ہے کہ انہوں نے اپنے رفیق حیان کو مخاطب کر کے فرمایا: میں تمہیں اس کام لئے بھیج رہا ہوں، جس کام کے لئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بھیجا تھا، کوئی قبر برابر کئے بغیر نہ چھوڑنا، اور کوئی تصویر مٹائے بغیر نہ چھوڑنا۔
حدیث نمبر: 1240
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنِي عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فِيمَا سَقَتْ السَّمَاءُ فَفِيهِ الْعُشْرُ ، وَمَا سُقِيَ بِالْغَرْبِ وَالدَّالِيَةِ فَفِيهِ نِصْفُ الْعُشْرِ " ، قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ : فَحَدَّثْتُ أَبِي بِحَدِيثِ عُثْمَانَ ، عَنْ جَرِيرٍ ، فَأَنْكَرَهُ جَدّاً ، وَكَانَ أَبِي لَا يُحَدِّثُنَا ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَالِمٍ لِضَعْفِهِ عِنْدَهُ ، وَإِنْكَارِهِ لِحَدِيثِهِ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو زمین بارش کے پانی سے سیراب ہوتی ہو اس میں عشر واجب ہے، اور جو زمین ڈول یا رہٹ سے سیراب ہوتی ہو اس میں نصف عشر واجب ہے۔“
…