حدیث نمبر: 1162
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ سُمَيْعٍ ، حَدَّثَنِي مَالِكُ بْنُ عُمَيْرٍ ، قَالَ : جَاءَ زَيْدُ بْنُ صُوحَانَ إِلَى عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، فَقَالَ : حَدِّثْنِي مَا نَهَاكَ عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " نَهَانِي عَنِ الْحَنْتَمِ ، وَالدُّبَّاءِ ، وَالنَّقِيرِ ، وَالْجِعَةِ ، وَعَنْ خَاتَمِ الذَّهَبِ ، أَوْ قَالَ : حَلْقَةِ الذَّهَبِ ، وَعَنِ الْحَرِيرِ ، وَالْقَسِّيِّ ، وَالْمِيثَرَةِ الْحَمْرَاءِ " ، قَالَ : وَأُهْدِيَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُلَّةُ حَرِيرٍ فَكَسَانِيهَا ، فَخَرَجْتُ فِيهَا ، فَأَخَذَهَا فَأَعْطَاهَا فَاطِمَةَ ، أَوْ عَمَّتَهُ ، إِسْمَاعِيلُ يَقُولُ ذَلِكَ " .
مولانا ظفر اقبال
مالک بن عمیر کہتے ہیں کہ ایک دن سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں زید بن صوحان آ گئے اور سلام کر کے کہنے لگے: امیر المومنین! نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جن چیزوں سے آپ لوگوں کو روکا تھا ہمیں بھی ان سے روکیے، انہوں نے فرمایا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں کدو کی تونبی، سبز مٹکے، لک کے برتن، لکڑی کو کھود کر بنائے گئے برتن کو استعمال کرنے اور جو کی نبیذ سے منع فرمایا (کیونکہ ان میں شراب کشید کی جاتی تھی)، نیز ریشم، سرخ زین پوش، خالص ریشم اور سونے کے حلقوں سے منع فرمایا۔ پھر فرمایا کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ایک ریشمی جوڑا عنایت فرمایا، میں وہ پہن کر باہر نکلا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دیکھ کر وہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا یا ان کی پھوپھی کو بھجوا دیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 1162
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده قوي
حدیث نمبر: 1163
حَدَّثَنَاه يُونُسُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ ، فَذَكَرَهُ بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : جَاءَ صَعْصَعَةُ بْنُ صُوحَانَ إِلَى عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث ایک اور سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 1163
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده قوي
حدیث نمبر: 1164
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارٍ ، حَدَّثَنَا حِبَّانُ بْنُ عَلِيٍّ ، عَنْ ضِرَارِ بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ حُصَيْنٍ الْمُزَنِيِّ ، قَالَ : قَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَلَى الْمِنْبَرِ : أَيُّهَا النَّاسُ ، إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " لَا يَقْطَعُ الصَّلَاةَ إِلَّا الْحَدَثُ " ، لَا أَسْتَحْيِيكُمْ مِمَّا لَا يَسْتَحْيِي مِنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " وَالْحَدَثُ : أَنْ يَفْسُوَ أَوْ يَضْرِطَ " .
مولانا ظفر اقبال
ایک مرتبہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے منبر پر لوگوں سے مخاطب ہو کر فرمایا: لوگو! میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ”نماز حدث کے علاوہ کسی اور چیز سے نہیں ٹوٹتی“، اور میں تم سے اس چیز کو بیان کرنے میں شرم نہیں کروں گا جس سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے شرم محسوس نہیں فرمائی، حدث کا مطلب یہ ہے کہ آدمی کی ہوا نکل جائے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 1164
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف حبان بن على و جهالة حصين المزني
حدیث نمبر: 1165
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنِي قَطَنُ بْنُ نُسَيْرٍ أَبُو عَبَّادٍ الذَّارِعُ ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنَا عُتَيْبَةُ الضَّرِيرُ ، حَدَّثَنَا بُرَيْدُ بْنُ أَصْرَمَ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، يَقُولُ : مَاتَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الصُّفَّةِ ، وَتَرَكَ دِينَارًا وَدِرْهَمًا ، فَقِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، تَرَكَ دِينَارًا وَدِرْهَمًا ، فَقَالَ : " كَيَّتَانِ ، صَلُّوا عَلَى صَاحِبِكُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اہل صفہ میں سے ایک صاحب کا انتقال ہو گیا، کسی شخص نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا: یا رسول اللہ! انہوں نے ترکہ میں ایک دینار اور ایک درہم چھوڑے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ جہنم کے دو انگارے ہیں جن سے داغا جائے گا، تم اپنے ساتھی کی نماز جنازہ خود پڑھ لو۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 1165
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناد ضعيف لجهالة عتيبة و بريد بن أصرم
حدیث نمبر: 1166
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ سَلَمَةَ يَعْنِي ابْنَ أَبِي الْحُسَامِ ، حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، عَنْ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ عَادَ مَرِيضًا مَشَى فِي خِرَافِ الْجَنَّةِ ، فَإِذَا جَلَسَ عِنْدَهُ اسْتَنْقَعَ فِي الرَّحْمَةِ ، فَإِذَا خَرَجَ مِنْ عِنْدِهِ وُكِّلَ بِهِ سَبْعُونَ أَلْفَ مَلَكٍ يَسْتَغْفِرُونَ لَهُ ذَلِكَ الْيَوْمَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص کسی مریض کی عیادت کے لئے جاتا ہے گویا وہ جنت کے باغات میں چلتا ہے، جب وہ بیمار کے پاس بیٹھتا ہے تو اللہ کی رحمت کے سمندر میں غوطے کھاتا ہے، اور جب وہاں سے واپس روانہ ہوتا ہے تو اس کے لئے ستر ہزار فرشتے مقرر کر دیئے جاتے ہیں جو اس دن اس کے لئے بخشش کی دعا مانگتے رہتے ہیں۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 1166
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن، والصحيح وقفه، و هذا إسناد ضعيف لجهالة الرجل من الانصار
حدیث نمبر: 1167
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ . ح وَحَجَّاجٌ ، أخبرنا شُعْبَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ الْمُنْكَدِرِ ، قَالَ : سَمِعْتُ مَسْعُودَ بْنَ الْحَكَمِ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ حَجَّاجٌ : قَالَ : حَدَّثَنَا عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " قَامَ فِي جَنَازَةٍ فَقُمْنَا ، وَرَأَيْتُهُ قَعَدَ فَقَعَدْنَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پہلے جنازہ دیکھ کر کھڑے ہو جاتے تھے تو ہم بھی کھڑے ہو جاتے تھے، پھر بعد میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود بھی بیٹھے رہنے لگے تو ہم بھی بیٹھنے لگے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 1167
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م : 962
حدیث نمبر: 1168
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا بُرْدَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " قُلْ : اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْهُدَى وَالسَّدَادَ ، وَاذْكُرْ بِالْهُدَى هِدَايَتَكَ الطَّرِيقَ ، وَاذْكُرْ بِالسَّدَادِ تَسْدِيدَكَ السَّهْمَ " ، قَالَ : وَنَهَى ، أَوْ نَهَانِي عَنِ الْقَسِّيِّ ، وَالْمِيثَرَةِ ، وَعَنِ الْخَاتَمِ فِي السَّبَّابَةِ ، أَوْ الْوُسْطَى .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ دعا پڑھا کرو: «اَللّٰهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْهُدَى وَالسَّدَادَ» ”اے اللہ! میں تجھ سے ہدایت اور سداد کا سوال کرتا ہوں“، اور ہدایت کا لفظ بولتے وقت راستے کی رہنمائی کو ذہن میں رکھا کرو، اور سداد کا لفظ بولتے وقت تیر کی درستگی کو ذہن میں رکھا کرو۔“ نیز سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ریشم، سرخ زین پوش اور سبابہ یا وسطی میں انگوٹھی پہننے سے منع فرمایا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 1168
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده قوي، م : 2078
حدیث نمبر: 1169
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي عَوْنٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا صَالِحٍ ، قَالَ : قَالَ عَلِيٌّ : ذَكَرْتُ ابْنَةَ حَمْزَةَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " إِنَّهَا ابْنَةُ أَخِي مِنَ الرَّضَاعَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی کا تذکرہ کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ میری رضاعی بھتیجی ہے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 1169
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 1170
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنِي أَبُو دَاوُدَ الْمُبَارَكِيُّ سُلَيْمَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو شِهَابٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ أَبِي الْمُوَرِّعِ ، عَنْ عَلِيٍّ ، قَالَ : كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي جَنَازَةٍ ، فَقَالَ : " مَنْ يَأْتِي الْمَدِينَةَ فَلَا يَدَعُ قَبْرًا إِلَّا سَوَّاهُ ، وَلَا صُورَةً إِلَّا طَلَخَهَا ، وَلَا وَثَنًا إِلَّا كَسَرَهُ ؟ " ، قَالَ : فَقَامَ رَجُلٌ ، فَقَالَ : أَنَا ، ثُمَّ هَابَ أَهْلَ الْمَدِينَةِ فَجَلَسَ ، قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : فَانْطَلَقْتُ ، ثُمَّ جِئْتُ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لَمْ أَدَعْ بِالْمَدِينَةِ قَبْرًا إِلَّا سَوَّيْتُهُ ، وَلَا صُورَةً إِلَّا طَلَخْتُهَا ، وَلَا وَثَنًا إِلَّا كَسَّرْتُهُ ، قَالَ : فَقَالَ : " مَنْ عَادَ فَصَنَعَ شَيْئًا مِنْ ذَلِكَ ، فَقَدْ كَفَرَ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ عَلَى مُحَمَّدٍ ، يَا عَلِيُّ ، لَا تَكُونَنَّ فَتَّانًا ، أَوْ قَالَ : مُخْتَالًا ، وَلَا تَاجِرًا إِلَّا تَاجِرَ الْخَيْرِ ، فَإِنَّ أُولَئِكَ هُمْ الْمُسَوِّفُونَ فِي الْعَمَلِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہم لوگ ایک جنازے میں شریک تھے، اس موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کون شخص مدینہ منورہ جائے گا کہ وہاں جا کر کوئی بت ایسا نہ چھوڑے جسے اس نے توڑ نہ دیا ہو، کوئی قبر ایسی نہ چھوڑے جسے برابر نہ کر دے، اور کوئی تصویر ایسی نہ دیکھے جس پر گارا اور کیچڑ نہ مل دے؟“ ایک شخص نے کھڑے ہو کر عرض کیا: یا رسول اللہ! میں یہ کام کروں گا، چنانچہ وہ آدمی روانہ ہو گیا، لیکن جب مدینہ منورہ پہنچا تو وہ اہل مدینہ سے مرعوب ہو کر واپس لوٹ آیا۔ یہ دیکھ کر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں جاتا ہوں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اجازت دے دی، چنانچہ جب وہ واپس آئے تو عرض کیا: یا رسول اللہ! میں نے جہاں بھی کسی نوعیت کا بت پایا اسے توڑ دیا، جو قبر بھی نظر آئی اسے برابر کر دیا، اور جو تصویر بھی دکھائی دی اس پر کیچڑ ڈال دیا۔ اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اب جو شخص ان کاموں میں سے کوئی کام دوبارہ کرے گا گویا وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل کردہ وحی کا انکار کرتا ہے۔“ نیز یہ بھی فرمایا کہ ”اے علی! تم لوگوں کو فتنہ میں ڈالنے والے، یا شیخی خورے مت بننا، صرف خیر ہی کے تاجر بننا، کیونکہ یہ وہی لوگ ہیں جن پر صرف عمل کے ذریعے ہی سبقت لے جانا ممکن ہے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 1170
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناد ضعيف لجهالة أبي المورع، وقصة طمس الصورة و تسوية القبر المشرف مضت باءسناد صحيح، برقم : 741
حدیث نمبر: 1171
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي عَوْنٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : أُهْدِيَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُلَّةٌ سِيَرَاءُ ، فَبَعَثَ بِهَا إِلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَخَرَجْتُ فِيهَا ، فَغَضِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى رَأَيْتُ الْغَضَبَ فِي وَجْهِهِ ، فَقَالَ : " إِنِّي لَمْ أُعْطِكَهَا لِتَلْبَسَهَا " ، قَالَ : فَأَمَرَنِي فَأَطَرْتُهَا بَيْنَ نِسَائِي .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کہیں سے ہدیہ کے طور پر ایک ریشمی جوڑا آیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ میرے پاس بھیج دیا، میں اسے پہن کر باہر نکلا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم غصہ میں آگئے حتی کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے روئے انور پر ناراضگی کے اثرات دیکھے، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے تمہیں یہ پہننے کے لئے نہیں دیا تھا۔“ پھر مجھے حکم دیا تو میں نے اسے اپنی عورتوں میں تقسیم کر دیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 1171
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ : 2614، م : 2071
حدیث نمبر: 1172
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُدْرِكٍ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُجَيٍّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الْمَلَائِكَةُ لَا تَدْخُلُ بَيْتًا فِيهِ صُورَةٌ ، وَلَا جُنُبٌ ، وَلَا كَلْبٌ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اس گھر میں رحمت کے فرشتے داخل نہیں ہوتے جس میں کوئی جنبی ہو، یا تصویر، یا کتا ہو۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 1172
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، دون ذكر الجنب، وهذا إسناد ضعيف لعلل
حدیث نمبر: 1173
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَيْسَرَةَ ، عَنِ النَّزَّالِ بْنِ سَبْرَةَ ، أَنَّهُ شَهِدَ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ " صَلَّى الظُّهْرَ ، ثُمَّ جَلَسَ فِي الرَّحَبَةِ فِي حَوَائِجِ النَّاسِ ، فَلَمَّا حَضَرَتْ الْعَصْرُ أُتِيَ بِتَوْرٍ ، فَأَخَذَ حَفْنَةَ مَاءٍ ، فَمَسَحَ يَدَيْهِ وَذِرَاعَيْهِ وَوَجْهَهُ وَرَأْسَهُ وَرِجْلَيْهِ ، ثُمَّ شَرِبَ فَضْلَهُ وَهُوَ قَائِمٌ ، ثُمَّ قَالَ : إِنَّ نَاسًا يَكْرَهُونَ أَنْ يَشْرَبُوا وَهُمْ قِيَامٌ ، وَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَنَعَ كَمَا صَنَعْتُ ، وَهَذَا وُضُوءُ مَنْ لَمْ يُحْدِثْ " .
مولانا ظفر اقبال
نزال بن سبرہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ان کے سامنے سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ظہر کی نماز پڑھی، پھر مسجد کے صحن میں بیٹھ گئے تاکہ لوگوں کے مسائل حل کریں، جب نماز عصر کا وقت آیا تو انہوں نے چلو بھر کر پانی لیا اور اپنے ہاتھوں، بازؤوں، چہرے، سر اور پاؤں پر پانی کا گیلا ہاتھ پھیرا، پھر کھڑے کھڑے وہ پانی پی لیا اور فرمایا کہ کچھ لوگ کھڑے ہو کر پانی پینے کو ناپسند سمجھتے ہیں، حالانکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اسی طرح کیا ہے جیسے میں نے کیا ہے، اور جو آدمی بےوضو نہ ہو بلکہ پہلے سے اس کا وضو موجود ہو، یہ اس شخص کا وضو ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 1173
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح ، خ : 5616
حدیث نمبر: 1174
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، أخبرنا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مَيْسَرَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ النَّزَّالَ بْنَ سَبْرَةَ قَالَ سَمِعْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : أُتِيَ بِكُوزٍ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث ایک دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 1174
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح كسابقه
حدیث نمبر: 1175
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : الْحَكَمُ أَخْبَرَنِي ، عَنْ أَبِي مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : بَعَثَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْمَدِينَةِ ، فَأَمَرَهُ أَنْ " يُسَوِّيَ الْقُبُورَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ انہیں مدینہ منورہ بھیجا اور تمام قبریں برابر کرنے کا حکم دیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 1175
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة آبي محمد الهذلي
حدیث نمبر: 1176
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنِي شَيْبَانُ أَبُو مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ، أخبرنا حَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ ، عَنِ الْحَكَمِ بنِ عُتَيْبَةَ ، عَنْ أَبِي مُحَمَّدٍ الْهُذَلِيِّ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ أَنْ يُسَوِّيَ كُلَّ قَبْرٍ ، وَأَنْ يُلَطِّخَ كُلَّ صَنَمٍ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي أَكْرَهُ أَنْ أَدْخُلَ بُيُوتَ قَوْمِي ، قَالَ : فَأَرْسَلَنِي ، فَلَمَّا جِئْتُ ، قَالَ : " يَا عَلِيُّ ، لَا تَكُونَنَّ فَتَّانًا ، وَلَا مُخْتَالًا ، وَلَا تَاجِرًا إِلَّا تَاجِرَ خَيْرٍ ، فَإِنَّ أُولَئِكَ مُسَوِّفُونَ ، أَوْ مَسْبُوقُونَ ، فِي الْعَمَلِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک انصاری آدمی کو بھیجا اور اسے حکم دیا کہ ”ہر قبر برابر کر دو، اور ہر بت پر گارا مل دو۔“ اس نے کہا: یا رسول اللہ! میں اپنی قوم کے گھروں میں داخل نہیں ہونا چاہتا، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بھیجا، جب میں واپس آیا تو فرمایا کہ ”تم لوگوں کو فتنہ میں ڈالنے والے یا شیخی خورے مت بننا، صرف خیر ہی کے تاجر بننا، کیونکہ یہ وہی لوگ ہیں جن پر صرف عمل کے ذریعے ہی سبقت لے جانا ممکن ہے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 1176
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناد ضعيف ، وانظر ما قبله
حدیث نمبر: 1177
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ ، قَالَ : وَأَهْلُ الْبَصْرَةِ يُكَنُّونَهُ أَبَا مُوَرِّعٍ ، قَالَ : وَكَانَ أَهْلُ الْكُوفَةِ يُكَنُّونَهُ بِأَبِي مُحَمَّد ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي جَنَازَةٍ ، فَذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ أَبِي دَاوُدَ ، عَنْ أَبِي شِهَابٍ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث ایک دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 1177
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناد ضعيف ، وانظر ما قبله
حدیث نمبر: 1178
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ . ح وحَجَّاجٌ ، قَالَ : حَدَّثَنِي شُعْبَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ مَالِكَ بْنَ عُرْفُطَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ خَيْرٍ ، قَالَ : رَأَيْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أُتِيَ بِكُرْسِيٍّ ، فَقَعَدَ عَلَيْهِ ، ثُمَّ أُتِيَ بِكُوزٍ ، قَالَ حَجَّاجٌ : بِتَوْرٍ مِنْ مَاءٍ ، قَالَ : " فَغَسَلَ يَدَيْهِ ثَلَاثًا ، وَمَضْمَضَ ثَلَاثًا مَعَ الِاسْتِنْشَاقِ بِمَاءٍ وَاحِدٍ ، وَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا ، وَغَسَلَ ذِرَاعَيْهِ ثَلَاثًا ، قَالَ حَجَّاجٌ : ثَلَاثًا ثَلَاثًا ، بِيَدٍ وَاحِدَةٍ ، وَوَضَعَ يَدَيْهِ فِي التَّوْرِ ، ثُمَّ مَسَحَ رَأْسَهُ ، قَالَ حَجَّاجٌ : فَأَشَارَ بِيَدَيْهِ مِنْ مُقَدَّمِ رَأْسِهِ إِلَى مُؤَخَّرِ رَأْسِهِ ، قَالَ : وَلَا أَدْرِي أَرَدَّهَا إِلَى مُقَدَّمِ رَأْسِهِ أَمْ لَا ، وَغَسَلَ رِجْلَيْهِ ثَلَاثًا ، قَالَ حَجَّاجٌ : ثَلَاثًا ثَلَاثًا ، ثُمّ قَالَ : مَنْ أَرَادَ أَنْ يَنْظُرَ إِلَى طُهُورِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَهَذَا طُهُورُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
مولانا ظفر اقبال
عبدخیر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس کرسی لائی گئی، میں نے انہیں اس پر بیٹھے ہوئے دیکھا، پھر ایک برتن لایا گیا، انہوں نے اپنے ہاتھوں کو تین مرتبہ دھویا، پھر ایک ہی پانی سے تین مرتبہ کلی کی، ناک میں پانی ڈالا، تین مرتبہ چہرہ دھویا، دونوں بازوؤں کو کہنیوں سمیت تین تین مرتبہ دھویا، پھر دوبارہ اپنے ہاتھوں کو برتن میں ڈالا اور دونوں ہتھیلیوں سے سر کا ایک مرتبہ آگے سے پیچھے کی طرف مسح کیا، اور ٹخنوں سمیت دونوں پاؤں تین تین مرتبہ دھوئے، پھر فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسی طرح وضو کیا کرتے تھے، جو شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ وضو دیکھنا چاہے تو وہ یہی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 1178
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 1179
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا جَمِيلُ بْنُ مُرَّةَ ، عَنْ أَبِي الْوَضِيءِ ، قَالَ : شَهِدْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حَيْثُ قَتَلَ أَهْلَ النَّهْرَوَانِ ، قَالَ : " الْتَمِسُوا إِلَيَّ الْمُخْدَجَ ، فَطَلَبُوهُ فِي الْقَتْلَى ، فَقَالُوا : لَيْسَ نَجِدُهُ ، فَقَالَ : ارْجِعُوا فَالْتَمِسُوا ، فَوَاللَّهِ مَا كَذَبْتُ وَلَا كُذِبْتُ ، فَرَجَعُوا فَطَلَبُوهُ ، فَرَدَّدَ ذَلِكَ مِرَارًا ، كُلُّ ذَلِكَ يَحْلِفُ بِاللَّهِ مَا كَذَبْتُ وَلَا كُذِبْتُ ، فَانْطَلَقُوا ، فَوَجَدُوهُ تَحْتَ الْقَتْلَى فِي طِينٍ فَاسْتَخْرَجُوهُ ، فَجِيءَ بِهِ " ، فَقَالَ أَبُو الْوَضِيءِ : فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِ : حَبَشِيٌّ عَلَيْهِ ثَدْيٌ قَدْ طَبَقَ إِحْدَى يَدَيْهِ ، مِثْلُ ثَدْيِ الْمَرْأَةِ ، عَلَيْهَا شَعَرَاتٌ مِثْلُ شَعَرَاتٍ تَكُونُ عَلَى ذَنَبِ الْيَرْبُوعِ .
مولانا ظفر اقبال
ابوالوضی کہتے ہیں کہ جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ اہل نہروان کے ساتھ جنگ میں مشغول تھے تو میں وہاں موجود تھا، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: مقتولین میں ایک ایسا آدمی تلاش کرو جس کا ہاتھ ناقص اور نامکمل ہو، لوگوں نے اسے لاشوں میں تلاش کیا لیکن وہ نہیں ملا، اور لوگ کہنے لگے کہ ہمیں نہیں مل رہا، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: دوبارہ جا کر تلاش کرو، واللہ! نہ میں تم سے جھوٹ بول رہا ہوں اور نہ مجھ سے جھوٹ بولا گیا۔ کئی مرتبہ اسی طرح ہوا اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ ہر مرتبہ لوگوں کو تلاش کرنے کے لئے دوبارہ بھیجتے رہے، اور ہر مرتبہ قسم کھا کر یہ فرماتے رہے کہ نہ میں تم سے جھوٹ بول رہا ہوں اور نہ مجھ سے جھوٹ بولا گیا۔ آخری مرتبہ جب لوگوں نے اسے تلاش کیا تو وہ انہیں مقتولین کی لاشوں کے نیچے مٹی میں پڑا ہوا مل گیا، انہوں نے اسے نکالا اور لا کر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں پیش کر دیا۔ ابوالوضی کہتے ہیں کہ مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے گویا میں اب بھی اسے اپنی نگاہوں کے سامنے دیکھ رہا ہوں، وہ ایک حبشی تھا جس کے ہاتھ پر عورت کی چھاتی جیسا نشان بنا ہوا تھا، اور اس چھاتی پر اسی طرح بال تھے جیسے کسی جنگلی چوہے کی دم پر ہوتے ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 1179
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 1180
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ سُوَيْدٍ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنِ الدُّبَّاءِ وَالْمُزَفَّتِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کدو کی تونبی اور لک سے بنے ہوئے برتن کو استعمال کرنے سے منع فرمایا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 1180
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح ، خ : 5594 ، م : 1994
حدیث نمبر: 1181
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَنَّهُ كَانَ فِي جَنَازَةٍ ، فَأَخَذَ عُودًا يَنْكُتُ فِي الْأَرْضِ فَقَالَ : " مَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ إِلَّا قَدْ كُتِبَ مَقْعَدُهُ مِنَ النَّارِ ، أَوْ مِنَ الْجَنَّةِ " ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَفَلَا نَتَّكِلُ ؟ قَالَ : " اعْمَلُوا فَكُلٌّ مُيَسَّرٌ : فَأَمَّا مَنْ أَعْطَى وَاتَّقَى وَصَدَّقَ بِالْحُسْنَى فَسَنُيَسِّرُهُ لِلْيُسْرَى ، وَأَمَّا مَنْ بَخِلَ وَاسْتَغْنَى وَكَذَّبَ بِالْحُسْنَى فَسَنُيَسِّرُهُ لِلْعُسْرَى سورة الليل آية 5 - 10 " ، قَالَ شُعْبَةُ : وَحَدَّثَنِي بِهِ مَنْصُورُ بْنُ الْمُعْتَمِرِ فَلَمْ أُنْكِرْ مِنْ حَدِيثِ سُلَيْمَانَ شَيْئًا .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک جنازے کے انتظار میں بیٹھے تھے، (آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دست مبارک میں ایک لکڑی تھی) جس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم زمین کو کرید رہے تھے، تھوڑی دیر بعد سر اٹھا کر فرمایا: ”تم میں سے ہر شخص کا ٹھکانہ - خواہ جنت ہو یا جہنم - اللہ کے علم میں موجود اور متعین ہے۔“ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم نے پوچھا: یا رسول اللہ! کیا ہم اسی پر بھروسہ نہ کر لیں؟ فرمایا: ”عمل کرتے رہو کیونکہ ہر ایک کے لئے وہی اعمال آسان کئے جائیں گے جن کے لئے اسے پیدا کیا گیا ہو گا۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن کی یہ آیت تلاوت فرمائی: «﴿فَأَمَّا مَنْ أَعْطَى وَاتَّقَى ، وَصَدَّقَ بِالْحُسْنَى ، فَسَنُيَسِّرُهُ لِلْيُسْرَى﴾ [الليل : 5-7]» ”جس شخص نے دیا، تقویٰ اختیار کیا، اور اچھی بات کی تصدیق کی تو یقینا ہم اسے آسان راستے کے لیے سہولت دیں گے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 1181
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح ، خ : 7552، م : 2647
حدیث نمبر: 1182
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ سُلَيْمَانَ يُحَدِّثُ ، عَنِ الْمُنْذِرِ الثَّوْرِيِّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : اسْتَحْيَيْتُ أَنْ أَسْأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْمَذْيِ مِنْ أَجْلِ فَاطِمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، فَأَمَرْتُ الْمِقْدَادَ بْنَ الْأَسْوَدِ ، فَسَأَلَ عَنْ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " فِيهِ الْوُضُوءُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھے بکثرت مذی آتی تھی، چونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی میرے نکاح میں تھیں، اس لئے مجھے خود یہ مسئلہ پوچھتے ہوئے شرم آتی تھی، میں نے سیدنا مقداد رضی اللہ عنہ سے کہا کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ مسئلہ پوچھیں، چنانچہ انہوں نے یہ مسئلہ پوچھا، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایسا شخص وضو کر لیا کرے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 1182
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح ، خ : 132 ، م : 303
حدیث نمبر: 1183
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَن قَتَادَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ أَرَادَ أَنْ يَرْجُمَ مَجْنُونَةً ، فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ : مَا لَكَ ذَلِكَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " رُفِعَ الْقَلَمُ عَنْ ثَلَاثَةٍ : عَنِ النَّائِمِ حَتَّى يَسْتَيْقِظَ ، وَعَنِ الطِّفْلِ حَتَّى يَحْتَلِمَ ، وَعَنِ الْمَجْنُونِ حَتَّى يَبْرَأَ ، أَوْ يَعْقِلَ " ، فَأَدْرَأَ عَنْهَا عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ .
مولانا ظفر اقبال
حسن رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے ایک دیوانی عورت کو رجم کرنے کا ارادہ کیا تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ”تین طرح کے لوگ مرفوع القلم ہیں: (1) سویا ہوا شخص، جب تک بیدار نہ ہو جائے، (2) بچہ، جب تک بالغ نہ ہو جائے، (3) مجنون، جب تک اس کی عقل لوٹ نہ آئے۔“ چنانچہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس کی سزا معطل کر دی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 1183
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره ، والحسن البصري لم يسمع من عمر ولا من علي
حدیث نمبر: 1184
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ الدَّانَاجِ ، عَنْ حُضَيْنٍ ، قَالَ : شُهِدَ عَلَى الْوَلِيدِ بْنِ عُقْبَةَ عِنْدَ عُثْمَانَ أَنَّهُ شَرِبَ الْخَمْرَ ، فَكَلَّمَ عَلِيٌّ عُثْمَانَ فِيهِ ، فَقَالَ : دُونَكَ ابْنُ عَمِّكَ فَاجْلِدْهُ ، فَقَالَ : قُمْ يَا حَسَنُ ، فَقَالَ : مَا لَكَ وَلِهَذَا ؟ وَلِّ هَذَا غَيْرَكَ ، فَقَالَ : بَلْ عَجَزْتَ وَوَهَنْتَ وَضَعُفْتَ ، قُمْ يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ جَعْفَرٍ ، فَجَلَدَهُ ، وَعَدَّ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، فَلَمَّا كَمَّلَ أَرْبَعِينَ ، قَالَ : حَسْبُكَ أَوْ أَمْسِكْ ، " جَلَدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعِينَ ، وَأَبُو بَكْرٍ أَرْبَعِينَ ، وَكَمَّلَهَا عُمَرُ ثَمَانِينَ ، وَكُلٌّ سُنَّةٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضین کہتے ہیں کہ کوفہ سے کچھ لوگ سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے، اور انہوں نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو ولید کی شراب نوشی کے حوالے سے کچھ خبریں بتائیں، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے بھی ان سے اس حوالے سے گفتگو کی تو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا کہ آپ کا چچا زاد بھائی آپ کے حوالے ہے، آپ اس پر سزا جاری فرمائیے، انہوں نے سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ حسن! کھڑے ہو کر اسے کوڑے مارو، انہوں نے کہا کہ آپ یہ کام نہیں کر سکتے، کسی اور کو اس کا حکم دیجئے، فرمایا: اصل میں تم کمزور اور عاجز ہوگئے ہو، اس لئے عبداللہ بن جعفر! تم کھڑے ہو کر اس پر سزا جاری کرو۔ چنانچہ سیدنا عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ کوڑے مارتے جاتے تھے اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ گنتے جاتے تھے، جب چالیس کوڑے ہوئے تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: بس کرو، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے شرابی کو چالیس کوڑے مارے تھے، سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے بھی چالیس کوڑے مارے تھے، لیکن سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اسی مارے تھے، اور دونوں ہی سنت ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 1184
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح ، م : 1707
حدیث نمبر: 1185
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ الشَّعْبِيِّ ، أَنَّ شَرَاحَةَ الْهَمْدَانِيَّةَ أَتَتْ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، فَقَالَتْ : إِنِّي زَنَيْتُ ، فَقَالَ : لَعَلَّكِ غَيْرَى ، لَعَلَّكِ رَأَيْتِ فِي مَنَامِكِ ، لَعَلَّكِ اسْتُكْرِهْتِ ؟ وكُلٌّ ذلك تَقُولُ : لَا ، فَجَلَدَهَا يَوْمَ الْخَمِيسِ ، وَرَجَمَهَا يَوْمَ الْجُمُعَةِ ، وَقَالَ : " جَلَدْتُهَا بِكِتَابِ اللَّهِ ، وَرَجَمْتُهَا بِسُنَّةِ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
مولانا ظفر اقبال
امام شعبی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ شراحہ ہمدانیہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس آئی اور کہنے لگی کہ مجھ سے بدکاری کا ارتکاب ہو گیا ہے اس لئے مجھے سزا دیجئے، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہو سکتا ہے تو نے خواب میں اس طرح کرتے ہوئے دیکھا ہو، شاید تجھے زبردستی اس کام پر مجبور کیا گیا ہو؟ لیکن وہ ہر بات کے جواب میں ”نہیں“ کہتی رہی، چنانچہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے جمعرات کے دن اسے کوڑے مارے، اور جمعہ کے دن اس پر حد رجم جاری فرمائی، اور فرمایا کہ میں نے کتاب اللہ کی روشنی میں اسے کوڑے مارے ہیں اور سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی روشنی میں اسے رجم کیا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 1185
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح ، وفي خ : 6812، وهو مختصر بقصة الرجم دون الجلد
حدیث نمبر: 1186
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، حدثني الزُّهْرِيُّ ، عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ مَوْلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، قَالَ : شَهِدْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَنْهَى أَنْ يُمْسِكَ أَحَدٌ مِنْ نُسُكِهِ شَيْئًا فَوْقَ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو تین دن سے زیادہ قربانی کا گوشت اپنے پاس رکھنے سے منع فرماتے ہوئے سنا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 1186
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 1187
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنِي أَبُو خَيْثَمَةَ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَسُفْيَانُ بْنُ وَكِيعِ بْنِ الْجَرَّاحِ ، قَالَا : حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنِ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ نُعَيْمِ بْنِ دِجَاجَةَ الْأَسَدِيِّ ، قَالَ : كُنْتُ عِنْدَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، فَدَخَلَ عَلَيْهِ أَبُو مَسْعُودٍ فَقَالَ لَهُ : يَا فَرُّوخُ ، أَنْتَ الْقَائِلُ : لَا يَأْتِي عَلَى النَّاسِ مِائَةُ سَنَةٍ وَعَلَى الْأَرْضِ عَيْنٌ تَطْرِفُ ؟ أَخْطَتْ اسْتُكَ الْحُفْرَةَ ! إِنَّمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَأْتِي عَلَى النَّاسِ مِائَةُ سَنَةٍ ، وَعَلَى الْأَرْضِ عَيْنٌ تَطْرِفُ مِمَّنْ هُوَ الْيَوْمَ حَيٌّ " ، وَإِنَّمَا رَخَاءُ هَذِهِ وَفَرَجُهَا بَعْدَ الْمِائَةِ .
مولانا ظفر اقبال
نعیم بن دجاجہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کیا آپ ہی نے یہ بات فرمائی ہے کہ لوگوں پر سو سال نہیں گذریں گے کہ زمین پر کوئی آنکھ ایسی باقی نہ بچے گی جس کی پلکیں جھپکتی ہوں، یعنی سب لوگ مرجائیں گے؟ آپ سے اس میں خطا ہوئی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جو بات فرمائی تھی وہ یہ ہے کہ ”آج جو لوگ زندہ ہیں سو سال گذرنے پر ان میں سے کسی کی آنکھ ایسی نہ رہے گی کہ جس کی پلکیں جھپکتی ہوں“، یعنی قیامت مراد نہیں ہے، واللہ! اس امت کو سو سال کے بعد تو سہولیات ملیں گی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 1187
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده قوي
حدیث نمبر: 1188
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا جَمِيلُ بْنُ مُرَّةَ ، عَنْ أَبِي الْوَضِيءِ ، قَالَ : شَهِدْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حِينَ قَتَلَ أَهْلَ النَّهْرَوَانِ ، قَالَ : " الْتَمِسُوا فِي الْقَتْلَى ، قَالُوا : لَمْ نَجِدْهُ ، قَالَ : اطْلُبُوهُ ، فَوَاللَّهِ مَا كَذَبْتُ وَلَا كُذِبْتُ ، حَتَّى اسْتَخْرَجُوهُ مِنْ تَحْتِ الْقَتْلَى " ، قَالَ أَبُو الْوَضِيءِ : فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِ : حَبَشِيٌّ إِحْدَى يَدَيْهِ مِثْلُ ثَدْيِ الْمَرْأَةِ ، عَلَيْهَا شَعَرَاتٌ مِثْلُ ذَنَبِ الْيَرْبُوعِ .
مولانا ظفر اقبال
ابوالوضی کہتے ہیں کہ جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ اہل نہروان کے ساتھ جنگ میں مشغول تھے تو میں وہاں موجود تھا، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: مقتولین میں ایک ایسا آدمی تلاش کرو جس کا ہاتھ ناقص اور نامکمل ہو، لوگوں نے اسے لاشوں میں تلاش کیا لیکن وہ نہیں ملا، اور لوگ کہنے لگے کہ ہمیں نہیں مل رہا، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: دوبارہ جا کر تلاش کرو، واللہ! نہ میں تم سے جھوٹ بول رہا ہوں اور نہ مجھ سے جھوٹ بولا گیا۔ آخری مرتبہ جب لوگوں نے اسے تلاش کیا تو وہ انہیں مقتولین کی لاشوں کے نیچے مٹی میں پڑا ہوا مل گیا، انہوں نے اسے نکالا اور لا کر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں پیش کر دیا۔ ابوالوضی کہتے ہیں کہ مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے گویا میں اب بھی اسے اپنی نگاہوں کے سامنے دیکھ رہا ہوں، وہ ایک حبشی تھا جس کے ہاتھ پر عورت کی چھاتی جیسا نشان بنا ہوا تھا اور اس چھاتی پر اسی طرح کے بال تھے جیسے کسی جنگلی چوہے کی دم پر ہوتے ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 1188
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 1189
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ يُوسُفَ الشَّاعِرُ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ ، أَنَّ أَبَا الْوَضِيءِ عَبَّادًا حَدَّثَهُ ، أَنَّهُ قَالَ : كُنَّا عَامِدِينَ إِلَى الْكُوفَةِ مَعَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، فَلَمَّا بَلَغْنَا مَسِيرَةَ لَيْلَتَيْنِ أَوْ ثَلَاثٍ مِنْ حَرُورَاءَ شَذَّ مِنَّا نَاسٌ كَثِيرٌ ، فَذَكَرْنَا ذَلِكَ لِعَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، فَقَالَ : لَا يَهُولَنَّكُمْ أَمْرُهُمْ فَإِنَّهُمْ سَيَرْجِعُونَ ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ ، قَالَ : فَحَمِدَ اللَّهَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، وَقَالَ : إِنَّ خَلِيلِي أَخْبَرَنِي : " أَنَّ قَائِدَ هَؤُلَاءِ رَجُلٌ مُخْدَجُ الْيَدِ ، عَلَى حَلَمَةِ ثَدْيِهِ شَعَرَاتٌ كَأَنَّهُنَّ ذَنَبُ الْيَرْبُوعِ " ، فَالْتَمَسُوهُ فَلَمْ يَجِدُوهُ ، فَأَتَيْنَاهُ ، فَقُلْنَا : إِنَّا لَمْ نَجِدْهُ ، فَقَالَ : الْتَمِسُوهُ ، فَوَاللَّهِ مَا كَذَبْتُ وَلَا كُذِبْتُ ، ثَلَاثًا ، فَقُلْنَا لَمْ نَجِدْهُ ، فَجَاءَ عَلِيٌّ بِنَفْسِهِ ، فَجَعَلَ يَقُولُ : اقْلِبُوا ذَا اقْلِبُوا ذَا ، حَتَّى جَاءَ رَجُلٌ مِنَ الْكُوفَةِ ، فَقَالَ : هُوَ ذَا ، قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : اللَّهُ أَكْبَرُ ، لَا يَأْتِيكُمْ أَحَدٌ يُخْبِرُكُمْ مَنْ أَبُوهُ ؟ فَجَعَلَ النَّاسُ يَقُولُونَ : هَذَا مَالِكٌ ، هَذَا مَالِكٌ ، يَقُولُ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : ابْنُ مَنْ هُوَ ؟ .
مولانا ظفر اقبال
ابوالوضی کہتے ہیں کہ ہم کوفہ کے ارادے سے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ روانہ ہوئے، جب ہم حروراء نامی جگہ سے دو یا تین راتوں کے فاصلے کے برابر رہ گئے تو ہم سے بہت سارے لوگ جدا ہو کر چلے گئے، سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے ہم نے اس کا تذکرہ کیا تو انہوں نے فرمایا کہ تم گھبراؤ مت، عنقریب یہ لوگ واپس لوٹ آئیں گے۔ اس کے بعد راوی نے مکمل حدیث ذکر کی اور آخر میں کہا کہ پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اللہ کا شکر ادا کیا اور فرمایا کہ میرے خلیل صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بتایا تھا کہ ان لوگوں کا قائد ایک ایسا آدمی ہوگا جس کا ہاتھ نامکمل ہوگا، اور اس کے ہاتھ پر عورت کی چھاتی جیسی گھنڈی بھی ہوگی جس پر اس طرح کے بال ہوں گے جیسے جنگلی چوہے کی دم ہوتی ہے، تم مقتولین میں اس کی لاش تلاش کرو۔ لوگوں نے اس کی تلاش شروع کی لیکن نہ مل سکی، ہم نے آ کر عرض کر دیا کہ ہمیں تو اس کی لاش نہیں مل رہی، تین مرتبہ اسی طرح ہوا، پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ خود بنفس نفیس اسے تلاش کرنے کے لئے کھڑے ہوئے اور فرمانے لگے: اسے پلٹو، اسے پلٹو، اتنی دیر میں کوفہ کا ایک آدمی آیا اور کہنے لگا کہ یہ رہا، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اسے دیکھ کر اللہ اکبر کا نعرہ لگایا اور فرمایا: تم میں سے کسی کو یہ معلوم نہیں ہے کہ اس کا باپ کون ہے؟ لوگ کہنے لگے کہ اس کا نام مالک ہے، اس کا نام مالک ہے، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے پوچھا: یہ کس کا بیٹا ہے؟ (تو اس کا کوئی جواب نہ مل سکا)۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 1189
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 1190
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أخبرنا سَلَمَةُ بْنُ كُهَيْلٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ لِشَرَاحَةَ : لَعَلَّكِ اسْتُكْرِهْتِ ، لَعَلَّ زَوْجَكِ أَتَاكِ ، لَعَلَّكِ ، لَعَلَّكِ ؟ قَالَتْ : لَا ، قَالَ : فَلَمَّا وَضَعَتْ مَا فِي بَطْنِهَا جَلَدَهَا ، ثُمَّ رَجَمَهَا ، فَقِيلَ لَهُ : جَلَدْتَهَا ثُمَّ رَجَمْتَهَا ؟ ! قَالَ : " جَلَدْتُهَا بِكِتَابِ اللَّهِ ، وَرَجَمْتُهَا بِسُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
مولانا ظفر اقبال
امام شعبی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ (شراحہ ہمدانیہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس آئی اور کہنے لگی کہ مجھ سے بدکاری کا ارتکاب ہو گیا ہے اس لئے سزا دیجئے)، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہو سکتا ہے تجھے زبردستی اس کام پر مجبور کیا گیا ہو؟ شاید وہ تمہارا شوہر ہی ہو، لیکن وہ ہر بات کے جواب میں ”نہیں“ کہتی رہی، چنانچہ وضع حمل کے بعد سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اسے کوڑے مارے، اور اس پر حد رجم جاری فرمائی۔ کسی شخص نے ان سے پوچھا کہ آپ نے اسے کوڑے بھی مارے اور رجم بھی کیا؟ انہوں نے فرمایا کہ میں نے کتاب اللہ کی روشنی میں اسے کوڑے مارے ہیں، اور سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی روشنی میں اسے رجم کیا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 1190
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح ، وفي خ : 6812، وهو مختصر بقصة الرجم دون الجلد
حدیث نمبر: 1191
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أخبرنا شُعْبَةُ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، عَنْ حَبَّةَ الْعُرَنِيِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، يَقُولُ : " أَنَا أَوَّلُ رَجُلٍ صَلَّى مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سب سے پہلا نماز پڑھنے والا آدمی میں ہی ہوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 1191
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناد ضعيف ، سلمة بن كهيل متروك الحديث وحبة العرني ضعيف
حدیث نمبر: 1192
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ . ح وَحَجَّاجُ ، عَنْ شُعْبَةُ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، قَالَ : سمعت حَبَّة العُرَني ، قَالَ : سَمِعْتُ عَلِيًّا ، يَقُولُ : " أَنَا أَوَّلُ مَنْ صَلَّى مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سب سے پہلا نماز پڑھنے والا آدمی میں ہی ہوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 1192
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناد ضعيف كسابقه
حدیث نمبر: 1193
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أخبرنا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ مَوْلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، قَالَ : . . . ثُمَّ شَهِدْتُهُ مَعَ عَلِيٍّ ، فَصَلَّى قَبْلَ أَنْ يَخْطُبَ بِلَا أَذَانٍ وَلَا إِقَامَةٍ ، ثُمَّ خَطَبَ ، فَقَالَ : يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ " نَهَى أَنْ تَأْكُلُوا نُسُكَكُمْ بَعْدَ ثَلَاثِ لَيَالٍ " ، فَلَا تَأْكُلُوهَا بَعْدُ .
مولانا ظفر اقبال
ابوعبید کہتے ہیں کہ عید الفطر اور عید الاضحی دونوں موقعوں پر مجھے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ شریک ہونے کا موقع ملا ہے، انہوں نے خطبہ سے پہلے بغیر اذان اور اقامت کے نماز پڑھائی، پھر خطبہ دیتے ہوئے فرمایا: لوگو! نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کا گوشت تین دن کے بعد کھانے سے منع فرمایا ہے، لہذا تین دن کے بعد اسے مت کھایا کرو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 1193
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 1194
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ ، عَنْ وَهْبِ بْنِ الْأَجْدَعِ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " لَا تُصَلُّوا بَعْدَ الْعَصْرِ إِلَّا أَنْ تُصَلُّوا وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عصر کی نماز کے بعد کوئی نماز نہ پڑھو، ہاں! اگر سورج صاف ستھرا دکھائی دے رہا ہو تو جائز ہے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 1194
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح
حدیث نمبر: 1195
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ " يُوَاصِلُ مِنَ السَّحَرِ إِلَى السَّحَرِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سحری سے سحری تک روزہ ملاتے تھے (غروب آفتاب کے وقت افطار نہ فرماتے تھے)۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 1195
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن لغيره ، وهذا إسناد ضعيف لضعف عبد الاعلي الثعلبي
حدیث نمبر: 1196
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أخبرنا ابْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سُوقَةَ ، عَنْ مُنْذِرٍ الثَّوْرِيِّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ ، قَالَ : " جَاءَ إِلَى عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ نَاسٌ مِنَ النَّاسِ فَشَكَوْا سُعَاةَ عُثْمَانَ ، قَالَ : فَقَالَ لِي أَبِي : اذْهَبْ بِهَذَا الْكِتَابِ إِلَى عُثْمَانَ ، فَقُلْ لَهُ : إِنَّ النَّاسَ قَدْ شَكَوْا سُعَاتَكَ ، وَهَذَا أَمْرُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الصَّدَقَةِ فَمُرْهُمْ فَلْيَأْخُذُوا بِهِ ، قَالَ : فَأَتَيْتُ عُثْمَانَ ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ ، قَالَ : فَلَوْ كَانَ ذَاكِرًا عُثْمَانَ بِشَيْءٍ لَذَكَرَهُ يَوْمَئِذٍ ، يَعْنِي : بِسُوءٍ " .
مولانا ظفر اقبال
محمد بن علی کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ کچھ لوگ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے مقرر کردہ کچھ گورنروں کی شکایت لے کر آئے، مجھ سے والد صاحب نے کہا کہ یہ خط سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس لے جاؤ اور ان سے کہو کہ لوگ آپ کے گورنروں کی شکایت لے کر آئے ہیں، زکوٰۃ کی وصولی میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے احکام اس خط میں درج ہیں، آپ اپنے گورنروں کو حکم جاری کر دیجئے کہ لوگوں سے اسی کے مطابق زکوٰۃ وصول کریں، چنانچہ میں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان کے سامنے ساری بات دہرا دی۔ راوی کہتے ہیں کہ اگر کوئی آدمی سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کا غیر مناسب انداز میں تذکرہ کرنا چاہتا تو اس دن کے حوالے سے کرتا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 1196
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح ، خ : 3111
حدیث نمبر: 1197
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أًبِي صَالِحٍ ، أَنَّ أَبَا الْوَضِيءِ عَبَّادًا حَدَّثَهُ ، أَنَّهُ قَالَ : كُنَّا عَامِدِينَ إِلَى الْكُوفَةِ مَعَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، فَذَكَرَ حَدِيثَ الْمُخْدَجِ ، قَالَ عَلِيٌّ : فَوَاللَّهِ مَا كَذَبْتُ وَلَا كُذِبْتُ ، ثَلَاثًا ، فَقَالَ عَلِيٌّ : أَمَا إِنَّ خَلِيلِي أَخْبَرَنِي : " ثَلَاثَةَ إِخْوَةٍ مِنَ الْجِنِّ : هَذَا أَكْبَرُهُمْ ، وَالثَّانِي لَهُ جَمْعٌ كَثِيرٌ ، وَالثَّالِثُ فِيهِ ضَعْفٌ " .
مولانا ظفر اقبال
ابوالوضی کہتے ہیں کہ ہم کوفہ کے ارادے سے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ روانہ ہوئے، پھر انہوں نے حدیث نمبر (1189) ذکر کی اور اس کے آخر میں یہ بھی کہا کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یاد رکھو! میرے خلیل صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بتا رکھا ہے کہ ”جنات میں تین بھائی ہیں، یہ ان میں سب سے بڑا ہے، دوسرے کے پاس بھی جم غفیر ہے، اور تیسرا کمزور ہے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 1197
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن ، هو مكرر 1189. وقوله : «أما ان خليلي.....» لم يرد إلا فى هذا الحديث
حدیث نمبر: 1198
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى زَحْمَوَيْهِ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ ، قَالَ : صَلَّيْنَا الْغَدَاةَ ، فَجَلَسْنَا إِلَى عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، " فَدَعَا بِوَضُوءٍ ، فَغَسَلَ يَدَيْهِ ثَلَاثًا ، وَمَضْمَضَ مَرَّتَيْنِ مِنْ كَفٍّ وَاحِدٍ ، ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا ، ثُمَّ غَسَلَ ذِرَاعَيْهِ ، ثُمَّ غَسَلَ قَدَمَيْهِ ثَلَاثًا ، ثُمَّ قَالَ : هَذَا وُضُوءُ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَاعْلَمُوا " .
مولانا ظفر اقبال
عبدخیر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ فجر کی نماز پڑھ کر ہم ان کے پاس ہی بیٹھ گئے، انہوں نے وضو کا پانی منگوایا، تین مرتبہ اپنے ہاتھوں کو دھویا، پھر ایک ہی کف سے دو مرتبہ کلی کی، تین مرتبہ چہرہ دھویا، دونوں بازؤوں کو کہنیوں سمیت تین تین مرتبہ دھویا، اور ٹخنوں سمیت دونوں پاؤں تین تین مرتبہ دھوئے، اور فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسی طرح وضو کیا کرتے تھے، اسے خوب سمجھ لو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 1198
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن ، شريك النخعي قد توبع
حدیث نمبر: 1199
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنَا أًبُو بَحْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ ، قَالَ : أَتَيْنَا عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَقَدْ صَلَّى ، " فَدَعَا بِكُوزٍ ، ثُمَّ تَمَضْمَضَ ثَلَاثًا ، وَاسْتَنْشَقَ ثَلَاثًا ، تَمَضْمَضَ مِنَ الْكَفِّ الَّذِي يَأْخُذُ ، وَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا ، وَيَدَهُ الْيُمْنَى ثَلَاثًا ، وَيَدَهُ الشِّمَالَ ثَلَاثًا ، ثُمَّ قَالَ : مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَعْلَمَ وُضُوءَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَهُوَ هَذَا " .
مولانا ظفر اقبال
عبدخیر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، وہ فجر کی نماز پڑھ چکے تھے، انہوں نے وضو کا پانی منگوایا، تین مرتبہ اپنے ہاتھوں کو دھویا، پھر ایک ہی کف سے تین مرتبہ کلی کی، تین مرتبہ چہرہ دھویا، دونوں بازؤوں کو کہنیوں سمیت تین تین مرتبہ دھویا، اور فرمایا کہ جو شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ وضو معلوم کرنا چاہتا ہے تو وہ یہی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 1199
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح ، ابو بحر البكراوي - وان كان فيه ضعف- قد توبع
حدیث نمبر: 1200
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ لَيْثٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ ، قَالَ : كُنَّا مَعَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، " فَمَرَّ بِهِ جَنَازَةٌ ، فَقَامَ لَهَا نَاسٌ ، فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : مَنْ أَفْتَاكُمْ هَذَا ؟ ! فَقَالُوا : أَبُو مُوسَى ، قَالَ : إِنَّمَا فَعَلَ ذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّةً ، وَكَانَ يَتَشَبَّهُ بِأَهْلِ الْكِتَابِ ، فَلَمَّا نُهِيَ انْتَهَى " .
مولانا ظفر اقبال
ابومعمر کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ موجود تھے، وہاں سے ایک جنازہ گذرا، لوگ اسے دیکھ کر کھڑے ہو گئے، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ تمہیں یہ مسئلہ کس نے بتایا ہے؟ لوگوں نے سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کا نام لیا، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طرح صرف ایک مرتبہ کیا تھا اور وہ بھی اس لئے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اہل کتاب کی مشابہت اختیار فرمایا کرتے تھے، لیکن جب اس کی ممانعت کر دی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم رک گئے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 1200
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح، ليث ضعيف وقد توبع
حدیث نمبر: 1201
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ ، عَنْ أَبِيهِ حُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ عَلِيٌّ : " أَصَبْتُ شَارِفًا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَغْنَمِ يَوْمَ بَدْرٍ ، وَأَعْطَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَارِفًا أُخْرَى ، فَأَنَخْتُهُمَا يَوْمًا عِنْدَ بَابِ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ ، وَأَنَا أُرِيدُ أَنْ أَحْمِلَ عَلَيْهِمَا إِذْخِرًا لِأَبِيعَهُ ، وَمَعِي صَائِغٌ مِنْ بَنِي قَيْنُقَاعَ لِأَسْتَعِينَ بِهِ عَلَى وَلِيمَةِ فَاطِمَةَ ، وَحَمْزَةُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ يَشْرَبُ فِي ذَلِكَ الْبَيْتِ ، فَثَارَ إِلَيْهِمَا حَمْزَةُ بِالسَّيْفِ فَجَبَّ أَسْنِمَتَهُمَا ، وَبَقَرَ خَوَاصِرَهُمَا ، ثُمَّ أَخَذَ مِنْ أَكْبَادِهِمَا ، قُلْتُ لِابْنِ شِهَابٍ : وَمِنْ السَّنَامِ ؟ قَالَ : جَبَّ أَسْنِمَتَهُمَا ، فَذَهَبَ بِهَا ، قَالَ : فَنَظَرْتُ إِلَى مَنْظَرٍ أَفْظَعَنِي ، فَأَتَيْتُ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعِنْدَهُ زَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ ، فَأَخْبَرْتُهُ الْخَبَرَ ، فَخَرَجَ وَمَعَهُ زَيْدٌ ، فَانْطَلَقَ مَعَهُ فَدَخَلَ عَلَى حَمْزَةَ فَتَغَيَّظَ عَلَيْهِ ، فَرَفَعَ حَمْزَةُ بَصَرَهُ ، فَقَالَ : هَلْ أَنْتُمْ إِلَّا عَبِيدٌ لِأَبِي ! فَرَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَهْقِرُ حَتَّى خَرَجَ عَنْهُمْ ، وَذَلِكَ قَبْلَ تَحْرِيمِ الْخَمْرِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ غزوہ بدر کے مال غنیمت سے مجھے ایک عمر رسیدہ اونٹنی حاصل ہوئی تھی اور ایک ایسی ہی اونٹنی مجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دی تھی، ایک دن میں نے ان دونوں کو ایک انصاری کے گھر کے دروازے پر بٹھایا، میرا ارادہ تھا کہ ان پر اذخر نامی گھاس کو لاد کر بازار لے جاؤں گا اور اسے بیچ دوں گا، میرے ساتھ بنو قینقاع کا ایک سنار بھی تھا، جس سے میں سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے ولیمے میں کام لینا چاہتا تھا۔ ادھر اس انصاری کے گھر میں سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ شراب پی رہے تھے (کیونکہ اس وقت تک شراب کی حرمت کا حکم نازل نہیں ہوا تھا)، اونٹنیوں کو دیکھ کر وہ اپنی تلوار لے کر ان پر پل پڑے، ان کے کوہان کاٹ ڈالے اور ان کی کوکھیں پھاڑ ڈالیں اور جگر نکال لئے اور انہیں اندر لے گئے، میں نے جب یہ منظر دیکھا تو میں بہت پریشان ہوا، میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سیدنا زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ بھی موجود تھے، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ساری بات بتائی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے ساتھ نکلے، سیدنا زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ بھی ساتھ تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچے اور ان سے خوب ناراضگی کا اظہار کیا، سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ نے آنکھیں اٹھا کر دیکھا اور فرمایا کہ تم سب میرے باپ کے غلام ہی تو ہو، یہ دیکھ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم الٹے پاؤں واپس چلے آئے، اور یہ واقعہ حرمت شراب کا حکم نازل ہونے سے پہلے کا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 1201
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح ، خ : 2375، م :1979