حدیث نمبر: 1122
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَيْرٍ ، قَالَ شَرِيكٌ : قُلْتُ لَهُ : عَمَّنْ يَا أَبَا عُمَيْرٍ ؟ عَمَّنْ حَدَّثَهُ ؟ ، قَالَ : عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " ضَخْمَ الْهَامَةِ ، مُشْرَبًا حُمْرَةً ، شَثْنَ الْكَفَّيْنِ وَالْقَدَمَيْنِ ، ضَخْمَ اللِّحْيَةِ ، طَوِيلَ الْمَسْرُبَةِ ، ضَخْمَ الْكَرَادِيسِ ، يَمْشِي فِي صَبَبٍ ، يَتَكَفَّأُ فِي الْمِشْيَةِ ، لَا قَصِيرٌ وَلَا طَوِيلٌ ، لَمْ أَرَ قَبْلَهُ مِثْلَهُ وَلَا بَعْدَهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا سر مبارک بڑا، رنگ سرخی مائل سفید اور داڑھی گھنی تھی، ہڈیوں کے جوڑ بہت مضبوط تھے، ہتھیلیاں اور پاؤں بھرے ہوئے تھے، سینے سے لے کر ناف تک بالوں کی ایک لمبی سی دھاری تھی، سر کے بال گھنے اور ہلکے گھنگھریالے تھے، چلتے وقت چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتے تھے، ایسا محسوس ہوتا تھا گویا کہ کسی گھاٹی سے اتر رہے ہیں، بہت زیادہ لمبے تھے اور نہ بہت زیادہ چھوٹے قد کے، میں نے ان سے پہلے یا ان کے بعد ان جیسا کوئی نہ دیکھا، صلی اللہ علیہ وسلم۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 1122
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن لغيره، شريك النخعي قد توبع
حدیث نمبر: 1123
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلِمَةَ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يُقْرِئُنَا الْقُرْآنَ مَا لَمْ يَكُنْ جُنُبًا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں مستقل قرآن پڑھاتے رہتے تھے الا یہ کہ جنبی ہو جاتے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 1123
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن لغيره، ابن أبى ليلى- وهو محمد بن عبدالرحمن - قد توبع
حدیث نمبر: 1124
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ ، أَخْبَرَنَا عَاصِمُ بْنُ كُلَيْبٍ الْجَرْمِيُّ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ أَبِي مُوسَى ، قَالَ : كُنْتُ جَالِسًا مَعَ أَبِي ، فَجَاءَ عَلِيٌّ ، فَقَامَ عَلَيْنَا فَسَلَّمَ ، ثُمَّ أَمَرَ أَبَا مُوسَى بِأُمُورٍ مِنْ أُمُورِ النَّاسِ ، قَالَ : ثُمَّ قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : قَال لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " سَلْ اللَّهَ الْهُدَى وَأَنْتَ تَعْنِي بِذَلِكَ هِدَايَةَ الطَّرِيقِ ، وَاسْأَلْ اللَّهَ السَّدَادَ وَأَنْتَ تَعْنِي بِذَلِكَ تَسْدِيدَكَ السَّهْمَ " ، وَنَهَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَنْ أَجْعَلَ خَاتَمِي فِي هَذِهِ أَوْ هَذِهِ : السَّبَّابَةِ وَالْوُسْطَى " ، قَالَ : فَكَانَ قَائِمًا ، فَمَا أَدْرِي فِي أَيَّتِهِمَا ، قَالَ : وَنَهَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " عَنِ الْمِيثَرَةِ وَعَنِ الْقَسِّيَّةِ " . قُلْنَا لَهُ : يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ، وَأَيُّ شَيْءٍ الْمِيثَرَةُ ؟ قَالَ : شَيْءٌ يَصْنَعُهُ النِّسَاءُ لِبُعُولَتِهِنَّ عَلَى رِحَالِهِنَّ ، قَالَ : قُلْنَا : وَمَا الْقَسِّيَّةُ ؟ قَالَ : ثِيَابٌ تَأْتِينَا مِنْ قِبَلِ الشَّامِ مُضَلَّعَةٌ ، فِيهَا أَمْثَالُ الْأُتْرُجِّ ، قَالَ : قَالَ أَبُو بُرْدَةَ : فَلَمَّا رَأَيْتُ السَّبَنِيَّ عَرَفْتُ أَنَّهَا هِيَ .
مولانا ظفر اقبال
ابوبردہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں اپنے والد کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ تشریف لے آئے، انہوں نے آ کر ہمیں سلام کیا اور میرے والد صاحب کو لوگوں کا کوئی معاملہ سپرد فرمایا، اور فرمانے لگے کہ مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تھا: ”اللہ سے ہدایت کی دعا مانگا کرو، اور ہدایت سے ہدایت الطریق مراد لے لیا کرو، اور اللہ سے درستگی اور سداد کی دعا کیا کرو، اور آپ اس سے تیر کی درستگی مراد لے لیا کرو۔“ نیز نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے شہادت یا درمیان والی انگلی میں انگوٹھی پہننے سے منع فرمایا ہے، راوی کہتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے تھے اس لئے انگلیوں کا اشارہ میں صحیح طور پر سمجھ نہ سکا، پھر انہوں نے فرمایا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے سرخ دھاری دار اور ریشمی کپڑوں سے منع فرمایا ہے، ہم نے پوچھا: امیر المومنین! ”میثرہ“ (یہ لفظ حدیث میں استعمال ہوا ہے) سے کیا مراد ہے؟ یہ کیا چیز ہوتی ہے؟ فرمایا: عورتیں اپنے شوہروں کی سواری کے کجاوے پر رکھنے کے لئے ایک چیز بناتی تھیں (جسے زین پوش کہا جاتا ہے) اس سے وہ مراد ہے، پھر ہم نے پوچھا کہ ”قسیہ“ سے کیا مراد ہے؟ انہوں نے فرمایا: شام کے وہ کپڑے جن میں اترج جیسے نقش و نگار بنے ہوتے تھے۔ ابوبردہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ جب میں نے کتان کے بنے ہوئے کپڑے دیکھے تو میں سمجھ گیا کہ یہ وہی ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 1124
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده قوي، م: 2078
حدیث نمبر: 1125
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنِي وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ الْوَاسِطِيُّ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ مَيْسَرَةَ ، وَزَاذَانَ ، قَالَا : شَرِبَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَائِمًا ، ثُمَّ قَالَ : " إِنْ أَشْرَبْ قَائِمًا ، فَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَشْرَبُ قَائِمًا ، وَإِنْ أَشْرَبْ جَالِسًا ، فَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَشْرَبُ جَالِسًا " .
مولانا ظفر اقبال
میسرہ رحمہ اللہ اور زاذان کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کھڑے ہو کر پانی پیا، اور فرمایا: اگر میں نے کھڑے ہو کر پانی پیا ہے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ کر کیا ہے، اور اگر بیٹھ کر پیا ہے تو انہیں اس طرح بھی کرتے ہوئے دیکھا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 1125
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن لغيره، خالد بن عبدالله الواسطي روي عن عطاء بعد الاختلاط ، لكن توبع
حدیث نمبر: 1126
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ . ح وَعَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ قَيْسٍ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُخَيْمِرَةَ ، عَنْ شُرَيْحِ بْنِ هَانِئٍ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : جَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " لِلْمُسَافِرِ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ وَلَيَالِيَهُنَّ ، وَلِلْمُقِيمِ يَوْمًا وَلَيْلَةً " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مسافر کے لئے تین دن اور تین رات، اور مقیم کے لئے ایک دن اور ایک رات مسح کی اجازت دی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 1126
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 276
حدیث نمبر: 1127
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَوْنِ بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : " إِذَا حَدَّثْتُكُمْ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثًا ، فَلَأَنْ أَقَعَ مِنَ السَّمَاءِ إِلَى الْأَرْضِ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَقُولَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا لَمْ يَقُلْ ، وَلَكِنَّ الْحَرْبَ خَدْعَةٌ " .
مولانا ظفر اقبال
ابوجحیفہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ فرمایا: جب میں تم سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے کوئی حدیث بیان کروں تو میرے نزدیک آسمان سے گر جانا ان کی طرف جھوٹی نسبت کرنے سے زیادہ پسندیدہ ہے، اور جنگ تو نام ہی تدبیر اور چال کا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 1127
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6930، م: 1066
حدیث نمبر: 1128
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ زَاذَانَ ، أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ شَرِبَ قَائِمًا ، فَنَظَرَ النَّاسُ فَأَنْكَرُوا ذَلِكَ عَلَيْهِ ، فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : مَا تَنْظُرُونَ ؟ ! " إِنْ أَشْرَبْ قَائِمًا ، فَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَشْرَبُ قَائِمًا ، وَإِنْ أَشْرَبْ قَاعِدًا ، فَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَشْرَبُ قَاعِدًا " .
مولانا ظفر اقبال
زاذان کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کھڑے ہو کر پانی پیا، لوگ ان کی طرف تعجب سے دیکھنے لگے، انہوں نے فرمایا: مجھے کیوں گھور گھور کر دیکھ رہے ہو؟ اگر میں نے کھڑے ہو کر پانی پیا ہے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ کر کیا ہے، اور اگر بیٹھ کر پیا ہے تو انہیں اس طرح بھی کرتے ہوئے دیکھا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 1128
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 1129
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنِي أَبُو حَفْصٍ عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، أَخْبَرَنِي وَرْقَاءُ ، عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى ، عَنْ أَبِي جَمِيلَةَ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " احْتَجَمَ وَأَعْطَى الْحَجَّامَ أَجْرَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے جسم مبارک کی رگ سے زائد خون نکلوایا اور یہ کام کرنے والے کو - جسے حجام کہا جاتا تھا - اس کی مزدوری دے دی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 1129
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف عبد الأعلى الثعلبي
حدیث نمبر: 1130
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنِي أَبُو خَيْثَمَةَ ، حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ . ح قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ : وحَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي زِيَادٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، قَالَا : حَدَّثَنَا وَرْقَاءُ ، عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى ، عَنْ أَبِي جَمِيلَةَ ، عَنْ عَلِيٍّ ، قَالَ : " احْتَجَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَمَرَنِي فَأَعْطَيْتُ الْحَجَّامَ أَجْرَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے جسم مبارک کی رگ سے زائد خون نکلوایا، اور مجھے حکم دیا کہ یہ کام کرنے والے کو - جسے حجام کہا جاتا تھا - اس کی مزدوری دے دوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 1130
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف، وانظر ما قبله
حدیث نمبر: 1131
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنِي عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، عن مُحَمَّدِ بْنِ عُثْمَانَ ، عَنْ زَاذَانَ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : سَأَلَتْ خَدِيجَةُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ وَلَدَيْنِ مَاتَا لَهَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هُمَا فِي النَّارِ " ، قَالَ : فَلَمَّا رَأَى الْكَرَاهِيَةَ فِي وَجْهِهَا قَالَ : " لَوْ رَأَيْتِ مَكَانَهُمَا لَأَبْغَضْتِهِمَا " ، قَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَوَلَدِي مِنْكَ ؟ قَالَ : " فِي الْجَنَّةِ " ، قَالَ : ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ الْمُؤْمِنِينَ وَأَوْلَادَهُمْ فِي الْجَنَّةِ ، وَإِنَّ الْمُشْرِكِينَ وَأَوْلَادَهُمْ فِي النَّارِ " ، ثُمَّ قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " 0 وَالَّذِينَ آمَنُوا وَاتَّبَعَتْهُمْ ذُرِّيَّتُهُمْ بِإِيمَانٍ أَلْحَقْنَا بِهِمْ ذُرِّيَّاتِهِمْ 0 " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے ان دو بچوں کے متعلق پوچھا جو زمانہ جاہلیت میں فوت ہوگئے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ دونوں جہنم میں ہیں۔“ پھر جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے چہرے پر اس کے نا خوشگوار اثرات دیکھے تو فرمایا: ”اگر تم ان دونوں کا ٹھکانہ دیکھ لیتیں تو تمہیں بھی ان سے نفرت ہوجاتی۔“ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! پھر میرے ان بچوں کا کیا ہوگا جو آپ سے ہوئے ہیں؟ فرمایا: ”وہ جنت میں ہیں“، پھر فرمایا کہ ”مومنین اور ان کی اولاد جنت میں ہوگی، اور مشرکین اور ان کی اولاد جہنم میں ہوگی۔“ اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی: «﴿وَالَّذِينَ آمَنُوا وَاتَّبَعَتْهُمْ ذُرِّيَّتُهُمْ بِإِيمَانٍ أَلْحَقْنَا بِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ﴾ [الطور : 21]» ”وہ لوگ جو ایمان لائے اور اس ایمان لانے میں ان کی اولاد نے بھی ان کی پیروی کی، ہم انہیں ان کی اولاد سے ملا دیں گے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 1131
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، لجهالة محمد بن عثمان
حدیث نمبر: 1132
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ الْجَزَّارِ ، عَنْ عَلِيٍّ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ قَاعِدًا يَوْمَ الْخَنْدَقِ عَلَى فُرْضَةٍ مِنْ فُرَضِ الْخَنْدَقِ ، فَقَالَ : " شَغَلُونَا عَنِ الصَّلَاةِ الْوُسْطَى ، حَتَّى غَابَتْ الشَّمْسُ ، مَلَأَ اللَّهُ بُطُونَهُمْ وَبُيُوتَهُمْ نَارًا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ غزوہ خندق کے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم خندق کے کنارے پر بیٹھے ہوئے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ ان کے گھروں اور قبروں کو آگ سے بھر دے کہ انہوں نے ہمیں نماز عصر نہیں پڑھنے دی یہاں تک کہ سورج غروب ہو گیا۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 1132
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 627
حدیث نمبر: 1133
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ بْنُ قُدَامَةَ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ عَلْقَمَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ خَيْرٍ ، قَالَ : جَلَسَ عَلِيٌّ بَعْدَمَا صَلَّى الْفَجْرَ فِي الرَّحَبَةِ ، ثُمَّ قَالَ لِغُلَامِهِ : ائْتِنِي بِطَهُورٍ ، فَأَتَاهُ الْغُلَامُ بِإِنَاءٍ فِيهِ مَاءٌ وَطَسْتٍ ، قَالَ عَبْدُ خَيْرٍ : وَنَحْنُ جُلُوسٌ نَنْظُرُ إِلَيْهِ ، " فَأَخَذَ بِيَمِينِهِ الْإِنَاءَ فَأَكْفَأَهُ عَلَى يَدِهِ الْيُسْرَى ، ثُمَّ غَسَلَ كَفَّيْهِ ، ثُمَّ أَخَذَ بِيَدِهِ الْيُمْنَى الْإِنَاءَ فَأَفْرَغَ عَلَى يَدِهِ الْيُسْرَى ، ثُمَّ غَسَلَ كَفَّيْهِ ، فَعَلَهُ ثَلَاثَ مِرَارٍ ، قَالَ عَبْدُ خَيْرٍ : كُلُّ ذَلِكَ لَا يُدْخِلُ يَدَهُ فِي الْإِنَاءِ حَتَّى يَغْسِلَهَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ، ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ الْيُمْنَى فِي الْإِنَاءِ ، فَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ وَنَثَرَ بِيَدِهِ الْيُسْرَى ، فَعَلَ ذَلِكَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ، ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ الْيُمْنَى فِي الْإِنَاءِ ، فَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ، ثُمَّ غَسَلَ يَدَهُ الْيُمْنَى ثَلَاثَ مَرَّاتٍ إِلَى الْمِرْفَقِ ، ثُمَّ غَسَلَ يَدَهُ الْيُسْرَى ثَلَاثَ مَرَّاتٍ إِلَى الْمِرْفَقِ ، ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ الْيُمْنَى فِي الْإِنَاءِ حَتَّى غَمَرَهَا الْمَاءُ ، ثُمَّ رَفَعَهَا بِمَا حَمَلَتْ مِنَ الْمَاءِ ثُمَّ مَسَحَهَا بِيَدِهِ الْيُسْرَى ، ثُمَّ مَسَحَ رَأْسَهُ بِيَدَيْهِ كِلْتَيْهِمَا مَرَّةً ، ثُمَّ صَبَّ بِيَدِهِ الْيُمْنَى ثَلَاثَ مَرَّاتٍ عَلَى قَدَمِهِ الْيُمْنَى ، ثُمَّ غَسَلَهَا بِيَدِهِ الْيُسْرَى ، ثُمَّ صَبَّ بِيَدِهِ الْيُمْنَى عَلَى قَدَمِهِ الْيُسْرَى ، ثُمَّ غَسَلَهَا بِيَدِهِ الْيُسْرَى ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ، ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ الْيُمْنَى فَغَرَفَ بِكَفِّهِ فَشَرِبَ ، ثُمَّ قَالَ : هَذَا طُهُورُ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يَنْظُرَ إِلَى طُهُورِ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَهَذَا طُهُورُهُ " .
مولانا ظفر اقبال
عبدخیر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ فجر کی نماز پڑھ کر رحبہ کے پاس بیٹھ گئے، پھر اپنے غلام سے وضو کا پانی لانے کے لئے فرمایا، وہ ایک برتن لایا جس میں پانی تھا اور ایک طشت، انہوں نے دائیں ہاتھ سے برتن پکڑا اور بائیں ہاتھ پر پانی انڈیلنے لگے، پھر دونوں ہتھیلیوں کو دھویا (پھر دائیں ہاتھ سے اسی طرح کیا)، تین مرتبہ اس طرح کرنے کے بعد داہنا ہاتھ برتن میں داخل کر کے کلی کی، ناک میں پانی ڈالا اور بائیں ہاتھ سے ناک صاف کی، تین مرتبہ اس طرح کرنے کے بعد داہنا ہاتھ برتن میں داخل کر کے تین مرتبہ چہرہ دھویا، پھر تین مرتبہ داہنا ہاتھ کہنی سمیت دھویا، پھر بایاں ہاتھ تین مرتبہ کہنی سمیت دھویا، پھر داہنا ہاتھ برتن میں اچھی طرح ڈبو کر باہر نکالا اور اس پر جو پانی لگ گیا تھا بائیں ہاتھ پر مل کر دونوں ہاتھوں سے ایک مرتبہ سر کا مسح کیا، پھر دائیں ہاتھ سے دائیں پاؤں پر تین مرتبہ پانی بہایا اور بائیں ہاتھ سے اسے مل کر دھویا، پھر بائیں ہاتھ سے بائیں پاؤں پر تین مرتبہ پانی بہایا اور بائیں ہاتھ سے اسے مل کر دھویا، تین مرتبہ اسی طرح کیا، پھر داہنا ہاتھ برتن میں ڈال کر چلو بھر پانی نکالا اور اسے پی کر فرمایا: یہ ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا وضو، جو شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ وضو دیکھنا چاہتا ہے تو وہ یہی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 1133
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 1134
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي حَسَّانَ الْأَعْرَجِ ، عَنْ عَبِيدَةَ السَّلْمَانِيِّ ، عَنْ عَلِيٍّ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَوْمَ الْأَحْزَابِ : " اللَّهُمَّ امْلَأْ بُيُوتَهُمْ وَقُبُورَهُمْ نَارًا كَمَا شَغَلُونَا عَنْ صَلَاةِ الْوُسْطَى حَتَّى آبَتْ الشَّمْسُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ غزوہ خندق کے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ ان کے گھروں اور قبروں کو آگ سے بھر دے کہ انہوں نے ہمیں نماز عصر نہیں پڑھنے دی یہاں تک کہ سورج غروب ہو گیا۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 1134
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 4533، م : 627
حدیث نمبر: 1135
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَنْبَأَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، قَالَ : قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : جُعْتُ مَرَّةً بِالْمَدِينَةِ جُوعًا شَدِيدًا ، فَخَرَجْتُ أَطْلُبُ الْعَمَلَ فِي عَوَالِي الْمَدِينَةِ ، فَإِذَا أَنَا بِامْرَأَةٍ قَدْ جَمَعَتْ مَدَرًا ، فَظَنَنْتُهَا تُرِيدُ بَلَّهُ ، فَأَتَيْتُهَا فَقَاطَعْتُهَا كُلَّ ذَنُوبٍ عَلَى تَمْرَةٍ ، فَمَدَدْتُ سِتَّةَ عَشَرَ ذَنُوبًا ، حَتَّى مَجَلَتْ يَدَايَ ، ثُمَّ أَتَيْتُ الْمَاءَ فَأَصَبْتُ مِنْهُ ، ثُمَّ أَتَيْتُهَا فَقُلْتُ : بِكَفَّيَّ هَكَذَا ، بَيْنَ يَدَيْهَا ، وَبَسَطَ إِسْمَاعِيلُ يَدَيْهِ وَجَمَعَهُمَا ، فَعَدَّتْ لِي سِتَّةَ عَشْرَ تَمْرَةً ، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْتُهُ ، " فَأَكَلَ مَعِي مِنْهَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ بھوک کی شدت سے تنگ آ کر میں اپنے گھر سے نکلا، میں ایک عورت کے پاس سے گذرا جس نے کچھ گارا اکٹھا کر رکھا تھا، میں سمجھ گیا کہ یہ اسے پانی سے تر بتر کرنا چاہتی ہے، میں نے اس کے پاس آ کر اس سے یہ معاہدہ کیا کہ ایک ڈول کھینچنے کے بدلے تم مجھے ایک کھجور دوگی، چنانچہ میں نے سولہ ڈول کھینچے یہاں تک کہ میرے ہاتھ تھک گئے، پھر میں نے پانی کے پاس آ کر پانی پیا، اس کے بعد اس عورت کے پاس آ کر اپنے دونوں ہاتھوں کو پھیلا دیا اور اس نے گن کر سولہ کھجوریں میرے ہاتھ پر رکھ دیں، میں وہ کھجوریں لے کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور انہیں یہ سارا واقعہ بتایا، اور کچھ کھجوریں میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کھلا دیں اور کچھ خود کھا لیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 1135
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لانقطاعه، مجاهد بن جبر لم يسمع عليا
حدیث نمبر: 1136
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ . ح وحَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ أَبِي جَنَابٍ ، عَنْ أَبِي جَمِيلَةَ الطُّهَوِيِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، يَقُولُ : احْتَجَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ قَالَ لِلْحَجَّامِ حِينَ فَرَغَ : " كَمْ خَرَاجُكَ ؟ " ، قَالَ : صَاعَانِ ، فَوَضَعَ عَنْهُ صَاعًا ، وَأَمَرَنِي فَأَعْطَيْتُهُ صَاعًا .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پچھنے لگوائے، فراغت کے بعد پچھنے لگانے والے سے اس کی مزدوری پوچھی، اس نے دو صاع بتائے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے ایک صاع کم کر دیا اور مجھے ایک صاع اس کے حوالے کرنے کا حکم دیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 1136
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف أبى جناب
حدیث نمبر: 1137
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِسماعيل ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ . ح وحَدَّثَنِي أَبُو خَيْثَمَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى الثَّعْلَبِيِّ ، عَنْ أَبِي جَمِيلَةَ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّ خَادِمًا لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَرَتْ ، فَأَمَرَنِي أَنْ أُقِيمَ عَلَيْهَا الْحَدَّ ، فَوَجَدْتُهَا لَمْ تَجِفَّ مِنْ دَمِهَا ، فَأَتَيْتُهُ ، فَذَكَرْتُ لَهُ ، فَقَالَ : " إِذَا جَفَّتْ مِنْ دَمِهَا فَأَقِمْ عَلَيْهَا الْحَدَّ ، أَقِيمُوا الْحُدُودَ عَلَى مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ " ، وَهَذَا لَفْظُ حَدِيثِ إِسْحَاقَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک خادمہ سے بدکاری کا گناہ سرزد ہو گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اس پر حد جاری کرنے کا حکم دیا، میں نے دیکھا کہ اس کا تو خون ہی بند نہیں ہو رہا، میں نے آ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات ذکر کی، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب اس کا خون بند ہو جائے تب اس پر حد جاری کر دینا، یاد رکھو! اپنے غلاموں اور باندیوں پر بھی حد جاری کیا کرو۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 1137
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف عبد الأعلى الثعلبي
حدیث نمبر: 1138
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَالْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ النَّرسي ، قَالَا : حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ ، عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى ، عَنْ أَبِي جَمِيلَةَ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : أُخْبِرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَمَةٍ لَهُ فَجَرَتْ ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 1138
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف عبد الأعلى الثعلبي ، وانظر ما قبله
حدیث نمبر: 1139
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ ، عَنْ مَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ ، أَنَّهُ قَالَ : شَهِدْتُ عَلِيًّا وَعُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا بَيْنَ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةِ ، وَعُثْمَانُ يَنْهَى عَنِ الْمُتْعَةِ ، وَأَنْ يُجْمَعَ بَيْنَهُمَا ، فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، " أَهَلَّ بِهِمَا ، فَقَالَ : لَبَّيْكَ بِعُمْرَةٍ وَحَجٍّ مَعًا ، فَقَالَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : تَرَانِي أَنْهَى النَّاسَ عَنْهُ ، وَأَنْتَ تَفْعَلُهُ ؟ قَالَ : لَمْ أَكُنْ أَدَعُ سُنَّةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِقَوْلِ أَحَدٍ مِنَ النَّاسِ " .
مولانا ظفر اقبال
مروان بن حکم سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں مکہ اور مدینہ کے درمیان سیدنا عثمان غنی اور سیدنا علی رضی اللہ عنہما کے ساتھ موجود تھا، سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ حج تمتع یعنی حج اور عمرہ کو ایک ہی سفر میں جمع کرنے سے منع فرماتے تھے، یہ دیکھ کر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے دونوں کا احرام باندھ لیا، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا کہ کیا آپ کے علم میں نہیں ہے کہ میں نے اس کی ممانعت کا حکم جاری کر دیا ہے، اور آپ پھر بھی اس طرح کر رہے ہیں؟ فرمایا: لیکن کسی کی بات کے آگے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بات کو نہیں چھوڑ سکتا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 1139
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1563
حدیث نمبر: 1140
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، وَإِسَحَاقُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، قَالَا : حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ . ح وحَدَّثَنِي سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ ، حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، جَمِيعًا ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ مَيْسَرَةَ ، رَأَيْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ شَرِبَ قَائِمًا ، فَقُلْتُ : تَشْرَبُ وَأَنْتَ قَائِمٌ ؟ ! قَالَ : " إِنْ أَشْرَبْ قَائِمًا ، فَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَشْرَبُ قَائِمًا ، وَإِنْ أَشْرَبْ قَاعِدًا ، فَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَشْرَبُ قَاعِدًا " .
مولانا ظفر اقبال
میسرہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے دیکھا کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کھڑے ہو کر پانی پیا، میں نے ان سے کہا کہ آپ کھڑے ہو کر پانی پی رہے ہیں؟ انہوں نے فرمایا: اگر میں نے کھڑے ہو کر پانی پیا ہے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ کر کیا ہے، اور اگر بیٹھ کر پیا ہے تو انہیں اس طرح بھی کرتے ہوئے دیکھا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 1140
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 1141
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْحَكَمِ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي لَيْلَى ، حَدَّثَنَا عَلِيٌّ ، أَنَّ فَاطِمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا اشْتَكَتْ مَا تَلْقَى مِنْ أَثَرِ الرَّحَى فِي يَدِهَا ، وَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبْيٌ ، فَانْطَلَقَتْ فَلَمْ تَجِدْهُ ، وَلَقِيَتْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، فَأَخْبَرَتْهَا ، فَلَمَّا جَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهُ عَائِشَةُ بِمَجِيءِ فَاطِمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا إِلَيْهَا ، فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ أَخَذْنَا مَضَاجِعَنَا ، فَذَهَبْنَا لِنَقُومَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " عَلَى مَكَانِكُمَا " ، فَقَعَدَ بَيْنَنَا حَتَّى وَجَدْتُ بَرْدَ قَدَمَيْهِ عَلَى صَدْرِي ، فَقَالَ : " أَلَا أُعَلِّمُكُمَا خَيْرًا مِمَّا سَأَلْتُمَا ؟ إِذَا أَخَذْتُمَا مَضَاجِعَكُمَا أَنْ تُكَبِّرَا اللَّهَ أَرْبَعًا وَثَلَاثِينَ ، وَتُسَبِّحَاهُ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ ، وَتَحْمَدَاهُ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ ، فَهُوَ خَيْرٌ لَكُمَا مِنْ خَادِمٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایت کی کہ آٹا پیس پیس کر ہاتھوں میں نشان پڑگئے ہیں، اس دوران نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کہیں سے کچھ قیدی آئے، سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو پتہ چلا تو وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک خادم کی درخواست لے کر حاضر ہوئیں، لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نہ ملے، تو وہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو بتا کر واپس آگئیں۔ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم واپس آئے تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے انہیں سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے آنے کی اطلاع دی، چنانچہ رات کو جب ہم اپنے بستروں پر لیٹ چکے تھے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، ہم نے کھڑا ہونا چاہا لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنی جگہ رہو“، یہ کہہ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس بیٹھ گئے - حتی کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں کی ٹھنڈک محسوس کی - اور فرمایا: ”کیا میں تمہیں ایسی چیز نہ بتاؤں جو تمہارے لئے خادم سے بہتر ہو؟ جب تم اپنے بستر پر لیٹا کرو تو تینتیس مرتبہ سبحان اللہ، تینتیس مرتبہ الحمدللہ اور چونتیس مرتبہ اللہ اکبر کہہ لیا کرو۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 1141
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3705، م: 2727
حدیث نمبر: 1142
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ ، وَأَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، قَالَا : حَدَّثَنَا أَبُو وَكِيعٍ الْجَرَّاحُ بْنُ مَلِيحٍ ، عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى الثَّعْلَبِيِّ ، عَنْ أَبِي جَمِيلَةَ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، وَقَالَ أَبُو الرَّبِيعِ فِي حَدِيثِهِ : عَنْ مَيْسَرَةَ أَبِي جَمِيلَةَ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّهُ قَالَ : أَرْسَلَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أَمَةٍ لَهُ سَوْدَاءَ زَنَتْ لِأَجْلِدَهَا الْحَدَّ ، قَالَ : فَوَجَدْتُهَا فِي دِمَائِهَا ، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَخْبَرْتُهُ بِذَلِكَ ، فَقَالَ لِي : " إِذَا تَعَالَتْ مِنْ نُفَاسِهَا ، فَاجْلِدْهَا خَمْسِينَ " ، وَقَالَ أَبُو الرَّبِيعِ فِي حَدِيثِهِ : قَالَ : فَأَخْبَرْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : " إِذَا جَفَّتْ مِنْ دِمَائِهَا فَحُدَّهَا " ، ثُمَّ قَالَ : " أَقِيمُوا الْحُدُودَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک سیاہ فام خادمہ سے بدکاری کا گناہ سرزد ہو گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اس پر حد جاری کرنے کا حکم دیا، میں نے دیکھا کہ اس کا تو خون ہی بند نہیں ہو رہا، میں نے آ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات ذکر کی، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب اس کا خون بند ہو جائے تب اس پر حد جاری کر دینا، یاد رکھو! اپنے غلاموں اور باندیوں پر بھی حد جاری کیا کرو۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 1142
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف عبد الأعلى الثعلبي
حدیث نمبر: 1143
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عُمَرَ بْنِ عَلِيٍّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ كَانَ " يَسِيرُ حَتَّى إِذَا غَرَبَتْ الشَّمْسُ وَأَظْلَمَ ، نَزَلَ فَصَلَّى الْمَغْرِبَ ، ثُمَّ صَلَّى الْعِشَاءَ عَلَى أَثَرِهَا ، ثُمَّ يَقُولُ : هَكَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ (جب سفر پر روانہ ہوتے تو) چلتے رہتے تھے یہاں تک کہ جب سورج غروب ہو جاتا اور اندھیرا چھا جاتا تو وہ اتر کر مغرب کی نماز اس کے آخر وقت میں ادا کرتے، اور اس کے فورا بعد ہی عشاء کی نماز اس کے اول وقت میں ادا کر لیتے، اور فرماتے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی اسی طرح کرتے ہوئے دیکھا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 1143
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده جيد
حدیث نمبر: 1144
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، أَخْبَرَنَا الْحَكَمُ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي لَيْلَى ، أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حَدَّثَهُمْ ، أَنَّ فَاطِمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا شَكَتْ إِلَى أَبِيهَا مَا تَلْقَى مِنْ يَدَيْهَا مِنَ الرَّحَى ، فَذَكَرَ مَعْنَى حَدِيثِ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ ، عَنْ شُعْبَةَ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 1144
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3705، م: 2727
حدیث نمبر: 1145
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا الْبَخْتَرِيِّ الطَّائِيَّ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي مَنْ ، سَمِعَ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، يَقُولُ : لَمَّا بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْيَمَنِ ، فَقُلْتُ : تَبْعَثُنِي وَأَنَا رَجُلٌ حَدِيثُ السِّنِّ ، وَلَيْسَ لِي عِلْمٌ بِكَثِيرٍ مِنَ الْقَضَاءِ ؟ قَالَ : فَضَرَبَ صَدْرِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَقَالَ : " اذْهَبْ ، فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ سَيُثَبِّتُ لِسَانَكَ ، وَيَهْدِي قَلْبَكَ " ، قَالَ : فَمَا أَعْيَانِي قَضَاءٌ بَيْنَ اثْنَيْنِ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جب مجھے یمن کی طرف بھیجا تو میں اس وقت نوخیز تھا، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ میں نو عمر ہوں اور مجھے فیصلہ کرنے کا قطعا کوئی علم نہیں ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے سینے پر اپنا ہاتھ مار کر فرمایا: ”اللہ تمہاری زبان کو صحیح راستے پر چلائے گا اور تمہارے دل کو مضبوط رکھے گا۔“ سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اس کے بعد کبھی بھی دو آدمیوں کے درمیان فیصلہ کرنے میں مجھے کوئی شک نہیں ہوا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 1145
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة الواسطة بين أبى البختري و بين علي
حدیث نمبر: 1146
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، قَالَ : " اجْتَمَعَ عَلِيٌّ ، وَعُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا بِعُسْفَانَ ، فَكَانَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَنْهَى عَنِ الْمُتْعَةِ وَالْعُمْرَةِ ، فقال علي رضي الله عنه : ما تريد إلى أمر فعله رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَنْهَى عَنْهَا ؟ فَقَالَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : دَعْنَا مِنْكَ " .
مولانا ظفر اقبال
سعید بن مسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا علی اور سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہما مقام عسفان میں اکٹھے ہو گئے، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ حج تمتع سے روکتے تھے، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ان سے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جس کام کو کیا ہو، اس سے روکنے میں آپ کا کیا مقصد ہے؟ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یہ مسئلہ رہنے ہی دیجئے۔ (کیونکہ میں نے اس کا حکم نہیں دیا، صرف مشورہ کے طور پر یہ بات کہی ہے)۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 1146
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1569 م:1223
حدیث نمبر: 1147
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ . ح وَحَجَّاجٌ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ شَدَّادٍ ، يَقُولُ : قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَمَعَ أَبَوَيْهِ لِأَحَدٍ غَيْرِ سَعْدِ بْنِ مَالِكٍ ، فَإِنَّ يَوْمَ أُحُدٍ جَعَلَ يَقُولُ : " ارْمِ ، فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی کسی کے لئے - سوائے سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کے - اپنے والدین کو جمع کرتے ہوئے نہیں سنا، غزوہ احد کے دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے فرما رہے تھے کہ ”سعد! تیر پھینکو، تم پر میرے ماں باپ قربان ہوں۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 1147
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 4059، م: 2411
حدیث نمبر: 1148
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ بُنْدَارٌ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، وحَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، قَالَ : وحَدَّثَنِي أَبُو خَيْثَمَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، وَمُعَاذٌ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي حَرْبِ بْنِ أَبِي الْأَسْوَدِ ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ ، وَقَالَ أَبُو خَيْثَمَةَ فِي حَدِيثِهِ : ابْنُ أَبِي الْأَسْوَدِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " بَوْلُ الْغُلَامِ الرَّضِيعِ يُنْضَحُ ، وَبَوْلُ الْجَارِيَةِ يُغْسَلُ " ، قَالَ قَتَادَةُ : وَهَذَا مَا لَمْ يَطْعَمَا الطَّعَامَ ، فَإِذَا طَعِمَا الطَّعَامَ غُسِلَا جَمِيعًا ، قَالَ عَبْد اللَّهِ : وَلَمْ يَذْكُرْ أَبُو خَيْثَمَةَ فِي حَدِيثِهِ قَوْلَ قَتَادَةَ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”بچے کے پیشاب پر پانی کے چھینٹے مارنا بھی کافی ہے، اور بچی کا پیشاب جس چیز پر لگ جائے اسے دھویا جائے گا۔“ قتادہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ یہ حکم اس وقت تک ہے جب انہوں نے کھانا پینا شروع نہ کیا ہو، اور جب وہ کھانا پینا شروع کر دیں تو دونوں کا پیشاب جس چیز کو لگ جائے اسے دھونا ہی پڑے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 1148
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 1149
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي حَرْبِ بْنِ أَبِي الْأَسْوَدِ الدِّيْلِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي الرَّضِيعِ : " يُنْضَحُ بَوْلُ الْغُلَامِ ، وَيُغْسَلُ بَوْلُ الْجَارِيَةِ " ، قَالَ قَتَادَةُ : وَهَذَا مَا لَمْ يَطْعَمَا الطَّعَامَ ، فَإِذَا طَعِمَا غُسِلَا جَمِيعًا .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شیرخوار بچے کے متعلق ارشاد فرمایا: ”بچے کے پیشاب پر پانی کے چھینٹے مارنا بھی کافی ہے، اور بچی کا پیشاب جس چیز پر لگ جائے اسے دھویا جائے گا۔“ قتادہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ یہ حکم اس وقت تک ہے جب تک انہوں نے کھانا پینا شروع نہ کیا ہو، اور جب وہ کھانا پینا شروع کر دیں تو دونوں کا پیشاب جس چیز کو لگ جائے اسے دھونا ہی پڑے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 1149
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح كسابقه
حدیث نمبر: 1150
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي حَسَّانَ الْأَعْرَجِ ، عَنْ عَبِيدَةَ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْأَحْزَابِ : " شَغَلُونَا عَنْ صَلَاةِ الْوُسْطَى حَتَّى آبَتْ الشَّمْسُ ، مَلَأَ اللَّهُ قُبُورَهُمْ نَارًا ، وْبُيُوتَهُمْ ، أَوْ بُطُونَهُمْ " ، شَكَّ شُعْبَةُ فِي الْبُيُوتِ وَالْبُطُونِ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ غزوہ خندق کے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ ان (مشرکین) کے گھروں اور قبروں کو آگ سے بھر دے کہ انہوں نے ہمیں نماز عصر نہیں پڑھنے دی یہاں تک کہ سورج غروب ہو گیا۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 1150
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 4533، م: 627
حدیث نمبر: 1151
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنِي شُعْبَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ قَتَادَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا حَسَّانَ يُحَدِّثُ ، عَنْ عَبِيدَةَ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْأَحْزَابِ : " شَغَلُونَا عَنِ الصَّلَاةِ الْوُسْطَى حَتَّى آبَتْ الشَّمْسُ ، مَلَأَ اللَّهُ قُبُورَهُمْ ، وَبُيُوتَهُمْ ، أَوْ بُطُونَهُمْ نَارًا " ، شَكَّ فِي الْبُيُوتِ وَالْبُطُونِ ، فَأَمَّا الْقُبُورُ فَلَيْسَ فِيهِ شَكٌّ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ غزوہ خندق کے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ ان (مشرکین) کے گھروں اور قبروں کو آگ سے بھر دے کہ انہوں نے ہمیں نماز عصر نہیں پڑھنے دی یہاں تک کہ سورج غروب ہو گیا۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 1151
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، وانظر ما قبله
حدیث نمبر: 1152
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " مِنْ كُلِّ اللَّيْلِ أَوْتَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مِنْ أَوَّلِهِ ، وَأَوْسَطِهِ ، وَآخِرِهِ ، وَانْتَهَى وِتْرُهُ إِلَى آخِرِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کے ابتدائی، درمیانے اور آخری ہر حصے میں وتر پڑھ لیا کرتے تھے، تاہم آخر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم رات کے آخری حصے میں اس کی پابندی فرمانے لگے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 1152
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده قوي
حدیث نمبر: 1153
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ هُبَيْرَةَ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ " يُوقِظُ أَهْلَهُ فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے آخری عشرے میں اپنے اہل خانہ کو بھی رات جاگنے کے لئے اٹھایا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 1153
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 1154
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ هُبَيْرَةَ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُهْدِيَتْ لَهُ حُلَّةٌ مِنْ حَرِيرٍ فَكَسَانِيهَا ، قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : فَخَرَجْتُ فِيهَا ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَسْتُ أَرْضَى لَكَ مَا أَكْرَهُ لِنَفْسِي " ، قَالَ : فَأَمَرَنِي فَشَقَقْتُهَا بَيْنَ نِسَائِي خُمُرًا بَيْنَ فَاطِمَةَ ، وَعَمَّتِهِ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کہیں سے ہدیہ کے طور پر ایک ریشمی جوڑا آیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ میرے پاس بھیج دیا، میں اسے پہن کر باہر نکلا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو چیز میں اپنے لئے ناپسند سمجھتا ہوں، تمہارے لئے بھی اسے پسند نہیں کر سکتا۔“ چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر میں نے اسے اپنی عورتوں یعنی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا اور اس کی پھوپھی میں تقسیم کر دیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 1154
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ :2614، م: 2071
حدیث نمبر: 1155
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ حِسَابٍ ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنَا عُتَيْبَةُ وَهُوَ الضَّرِيرُ ، عَنْ بُرَيْدِ بْنِ أَصْرَمَ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، يَقُولُ : مَاتَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الصُّفَّةِ ، فَقِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، تَرَكَ دِينَارًا وَدِرْهَمًا ، فَقَالَ : " كَيَّتَانِ ، صَلُّوا عَلَى صَاحِبِكُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اہل صفہ میں سے ایک صاحب کا انتقال ہو گیا، کسی شخص نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا: یا رسول اللہ! انہوں نے ترکہ میں ایک دینار اور ایک درہم چھوڑے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ جہنم کے دو انگارے ہیں جن سے داغا جائے گا، تم اپنے ساتھی کی نماز جنازہ خود پڑھ لو۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 1155
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناد ضعيف لجهالة عتيبة و بريد بن أصرم
حدیث نمبر: 1156
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، قَالَ : وحَدَّثَنِي أَبُو خَيْثَمَةَ ، حَدَّثَنَا حَبَّانُ بْنُ هِلَالٍ ، حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ ، فَذَكَرَ مِثْلَهُ ، نَحْوَهُ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 1156
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف كسابقه
حدیث نمبر: 1157
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنِي شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ جُرَيَّ بْنَ كُلَيْبٍ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، يَقُولُ : نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ " عَضَبِ الْقَرْنِ وَالْأُذُنِ " ، قَالَ قَتَادَةُ : فَسَأَلْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ ، قَالَ : قُلْتُ : مَا عَضَبُ الْأُذُنِ ؟ فَقَالَ : إِذَا كَانَ النِّصْفَ أَوْ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نصف یا اس سے زیادہ سینگ یا کان کٹے ہوئے جانور کی قربانی سے منع فرمایا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 1157
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 1158
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ جُرَيِّ بْنِ كُلَيْبٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، يَقُولُ : نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَنْ يُضَحَّى بِأَعْضَبِ الْقَرْنِ ، وَالْأُذُنِ " ، قَالَ قَتَادَةُ : فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِسَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، فَقَالَ : نَعَمْ ، الْعَضَبُ : النِّصْفُ أَوْ أَكْثَرُ مِنْ ذَلِكَ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نصف یا اس سے زیادہ سینگ یا کان کٹے ہوئے جانور کی قربانی سے منع فرمایا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 1158
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن كسابقه
حدیث نمبر: 1159
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ هُبَيْرَةَ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى ، أَوْ نَهَانِي عَنِ الْمِيثَرَةِ ، وَالْقَسِّيِّ ، وَخَاتَمِ الذَّهَبِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سونے کی انگوٹھی، ریشم اور سرخ زین پوش سے منع فرمایا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 1159
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 1160
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ هَانِئِ بْنِ هَانِئٍ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّ عَمَّارًا اسْتَأْذَنَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " الطَّيِّبُ الْمُطَيَّبُ ، ائْذَنْ لَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھا، اتنی دیر میں سیدنا عمار رضی اللہ عنہ آ کر اجازت طلب کرنے لگے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”انہیں اجازت دے دو، خوش آمدید اس شخص کو جو پاکیزہ ہے، اور پاکیزگی کا حامل ہے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 1160
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، قاله أحمد شاكر
حدیث نمبر: 1161
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، قَالَ : سَمِعْتُ حَارِثَةَ بْنَ مُضَرِّبٍ يُحَدِّثُ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : لَقَدْ رَأَيْتُنَا لَيْلَةَ بَدْرٍ وَمَا مِنَّا إِنْسَانٌ إِلَّا نَائِمٌ ، إِلَّا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِنَّهُ كَانَ " يُصَلِّي إِلَى شَجَرَةٍ ، وَيَدْعُو حَتَّى أَصْبَحَ " ، وَمَا كَانَ مِنَّا فَارِسٌ يَوْمَ بَدْرٍ غَيْرَ الْمِقْدَادِ بْنِ الْأَسْوَدِ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ غزوہ بدر کے موقع پر ہم نے دیکھا ہے کہ ہمارے درمیان ہر شخص سو جاتا تھا، سوائے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے جو ایک درخت کے نیچے نماز پڑھتے جاتے تھے اور روتے جاتے تھے یہاں تک کہ صبح ہو گئی، اور غزوہ بدر کے دن سیدنا مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ کے علاوہ ہم میں کوئی گھڑ سوار نہ تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 1161
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح