حدیث نمبر: 1082
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَيُّوبَ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّهُ قَالَ : " إِذَا حُدِّثْتُمْ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِحَدِيثٍ فَظُنُّوا بِهِ الَّذِي هُوَ أَهْدَى ، وَالَّذِي هُوَ أَتْقَى ، وَالَّذِي هُوَ أَهْيَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب تمہارے سامنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی حدیث بیان کی جائے تو اس کے بارے وہ گمان کرو جو راہ راست پر ہو، جو اس کے مناسب ہو اور جو تقوی پر مبنی ہو۔
حدیث نمبر: 1083
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ حُصَيْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، يَقُولُ : بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَبَا مَرْثَدٍ ، وَالزُّبَيْرَ بْنَ الْعَوَّامِ ، وَكُلُّنَا فَارِسٌ ، فَقَالَ : " انْطَلِقُوا حَتَّى تَأْتُوا رَوْضَةَ خَاخٍ " ، كَذَا قَالَ ابْنُ أَبِي شَيْبَةَ : خَاخٍ ، وقَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ فِي حَدِيثِهِ : رَوْضَةَ كَذَا وَكَذَا ، وَحَدَّثَنَاهُ عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، عَنْ حُصَيْنٍ ، مِثْلَهُ ، قَالَ : رَوْضَةَ خَاخٍ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا حاطب بن ابی بلتعہ رضی اللہ عنہ کے خط سے متعلق یہ روایت مختلف رواۃ سے مروی ہے جو اس جگہ کا نام کبھی روضہ خاخ بتاتے ہیں، بعض صرف خاخ بتاتے ہیں، اور بعض روضہ کذا و کذا کہتے ہیں۔
حدیث نمبر: 1084
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ ، وَسُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي حَصِينٍ ، عَنْ عُمَيْرِ بْنِ سَعِيدٍ ، قَالَ : قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : " مَا كُنْتُ لِأُقِيمَ عَلَى رَجُلٍ حَدًّا فَيَمُوتَ فَأَجِدُ فِي نَفْسِي مِنْهُ إِلَّا صَاحِبَ الْخَمْرِ ، فَلَوْ مَاتَ وَدَيْتُهُ " ، وَزَادَ سُفْيَانُ : " وَذَلِكَ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَسُنَّهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جس شخص پر بھی میں نے کوئی شرعی سزا نافذ کی ہو، اس کے متعلق مجھے اپنے دل میں کوئی کھٹک محسوس نہیں ہوتی، سوائے شرابی کے کہ اگر اس کی سزا اسی کوڑے جاری کرنے کے بعد کوئی شخص مر جائے تو میں اس کی دیت ادا کرتا ہوں، کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی کوئی حد مقرر نہیں فرمائی (کہ چالیس کوڑے مارے جائیں یا اسی)۔
حدیث نمبر: 1085
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ . ح وَحَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي الْخَلِيلِ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَجُلًا يَسْتَغْفِرُ لِأَبَوَيْهِ ، وَهُمَا مُشْرِكَانِ ، فَقُلْتُ : تَسْتَغْفِرُ لِأَبَوَيْكَ وَهُمَا مُشْرِكَانِ ؟ فَقَالَ : أَلَيْسَ قَدْ اسْتَغْفَرَ إِبْرَاهِيمُ لِأَبِيهِ وَهُوَ مُشْرِكٌ ؟ قَالَ : فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَنَزَلَتْ : " مَا كَانَ لِلنَّبِيِّ وَالَّذِينَ آمَنُوا أَنْ يَسْتَغْفِرُوا لِلْمُشْرِكِينَ سورة التوبة آية 113 " ، إِلَى آخِرِ الْآيَتَيْنِ ، قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ : فَأَنْزَلَ اللَّهُ : " وَمَا كَانَ اسْتِغْفَارُ إِبْرَاهِيمَ لأَبِيهِ إِلا عَنْ مَوْعِدَةٍ وَعَدَهَا إِيَّاهُ سورة التوبة آية 114 " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے ایک آدمی کو اپنے مشرک والدین کے لئے دعا مغفرت کرتے ہوئے سنا تو میں نے کہا کہ کیا تم اپنے مشرک والدین کے لئے دعا مغفرت کر رہے ہو؟ اس نے کہا کہ کیا سیدنا ابراہیم علیہ السلام اپنے مشرک باپ کے لئے دعا مغفرت نہیں کرتے تھے؟ میں نے یہ بات نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کی تو اس پر یہ آیت نازل ہوئی: «﴿مَا كَانَ لِلنَّبِيِّ وَالَّذِينَ آمَنُوا أَنْ يَسْتَغْفِرُوا لِلْمُشْرِكِينَ .....﴾ [التوبة : 113]» ”پیغمبر اور اہل ایمان کے لئے مناسب نہیں ہے کہ وہ مشرکین کے لئے دعا مغفرت کریں۔“
حدیث نمبر: 1086
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ . ح وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ خَيْثَمَةَ ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ ، قَالَ : قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : إِذَا حَدَّثْتُكُمْ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثًا ، فَلَأَنْ أَخِرَّ مِنَ السَّمَاءِ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَكْذِبَ عَلَيْهِ ، وَإِذَا حَدَّثْتُكُمْ فِيمَا بَيْنِي وَبَيْنَكُمْ فَإِنَّ الْحَرْبَ خَدْعَةٌ ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " يَخْرُجُ قَوْمٌ فِي آخِرِ الزَّمَانِ أَحْدَاثُ الْأَسْنَانِ سُفَهَاءُ ، وَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ : أَسْفَاهُ ، الْأَحْلَامِ ، يَقُولُونَ مِنْ خير قَوْلِ الْبَرِيَّةِ ، يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ حَنَاجِرَهُمْ ، قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ : لَا يُجَاوِزُ إِيمَانُهُمْ حَنَاجِرَهُمْ ، يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ ، فَإِذَا لَقِيتُمُوهُمْ فَاقْتُلُوهُمْ ، فَإِنَّ فِي قَتْلِهِمْ أَجْرًا لِمَنْ قَتَلَهُمْ عِنْدَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " ، قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ : " فَإِذَا لَقِيتَهُمْ فَاقْتُلْهُمْ ، فَإِنَّ قَتْلَهُمْ أَجْرٌ لِمَنْ قَتَلَهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
سوید بن غفلہ کہتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ فرمایا: جب میں تم سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے کوئی حدیث بیان کروں تو میرے نزدیک آسمان سے گر جانا ان کی طرف جھوٹی نسبت کرنے سے زیادہ پسندیدہ ہے، اور جب کسی اور کے حوالے سے کوئی بات کروں تو میں جنگجو آدمی ہوں اور جنگ تو نام ہی تدبیر اور چال کا ہے۔ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ”قیامت کے قریب ایسی اقوام نکلیں گی جن کی عمر تھوڑی ہوگی اور عقل کے اعتبار سے وہ بیوقوف ہوں گے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی باتیں کریں گے، لیکن ایمان ان کے گلے سے آگے نہیں جائے گا، تم انہیں جہاں بھی پاؤ قتل کر دو، کیونکہ ان کا قتل کرنا قیامت کے دن باعث ثواب ہوگا۔“
حدیث نمبر: 1087
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ ، عَنْ إِسْرَائِيلَ ، عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " وَتَجْعَلُونَ رِزْقَكُمْ سورة الواقعة آية 82 ، قَالَ : شُكْرَكُمْ ، أَنَّكُمْ تُكَذِّبُونَ سورة الواقعة آية 82 ، قَالَ : تَقُولُونَ : مُطِرْنَا بِنَوْءِ كَذَا وَكَذَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”قرآن کریم میں یہ جو فرمایا گیا ہے: «﴿وَتَجْعَلُونَ رِزْقَكُمْ أَنَّكُمْ تُكَذِّبُونَ﴾ [الواقعة : 82]» ”تم نے اپنا حصہ یہ بنا رکھا ہے کہ تم تکذیب کرتے رہو“، اس کا مطلب یہ ہے کہ تم یہ کہتے ہو: فلاں فلاں ستارے کے طلوع و غروب سے بارش ہوئی ہے۔“
حدیث نمبر: 1088
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : أُرَاهُ رَفَعَهُ ، قَالَ : " مَنْ كَذَبَ فِي حُلْمِهِ ، كُلِّفَ عَقْدَ شَعِيرَةٍ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ جو شخص جھوٹا خواب بیان کرتا ہے، اسے قیامت کے دن جو کے دانے میں گرہ لگانے کا مکلف بنایا جائے گا (حکم دیا جائے گا)۔
حدیث نمبر: 1089
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ الْمُقْرِئُ الْبَاهِلِيّ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ كَذَبَ فِي الرُّؤْيَا مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ جو شخص جھوٹا خواب بیان کرتا ہے اسے جہنم میں اپنا ٹھکانہ بنا لینا چاہئے۔
حدیث نمبر: 1090
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، حَدَّثَنَا حُصَيْنٌ ، حَدَّثَنِي سَعْدُ بْنُ عُبَيْدَةَ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَالزُّبَيْرَ ، وَأَبَا مَرْثَدٍ وَكُلُّنَا فَارِسٌ ، فَقَالَ : " انْطَلِقُوا حَتَّى تَبْلُغُوا رَوْضَةَ حَاجٍ ، كَذَا قَالَ أَبُو عَوَانَةَ ، فَإِنَّ فِيهَا امْرَأَةً مَعَهَا صَحِيفَةٌ مِنْ حَاطِبِ بْنِ أَبِي بَلْتَعَةَ إِلَى الْمُشْرِكِينَ " ، وَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا حاطب بن ابی بلتعہ رضی اللہ عنہ کے خط والی روایت اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حدیث نمبر: 1091
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْحَارِثِ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَضَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " بِالدَّيْنِ قَبْلَ الْوَصِيَّةِ ، وَأَنْتُمْ تَقْرَءُونَ : مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُوصَى بِهَا أَوْ دَيْنٍ سورة النساء آية 12 ، وَإِنَّ أَعْيَانَ بَنِي الْأُمِّ يَتَوَارَثُونَ دُونَ بَنِي الْعَلَّاتِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فیصلہ فرمایا ہے کہ میت کے قرض کی ادائیگی اجراء و نفاذ وصیت سے پہلے ہو گی، جبکہ قرآن میں وصیت کا ذکر قرض سے پہلے ہے، اور یہ کہ اخیافی بھائی تو وارث ہوں گے لیکن علاتی بھائی وارث نہ ہوں گے۔ فائدہ: ماں شریک بھائی کو اخیافی، اور باپ شریک بھائی کو علاتی کہتے ہیں۔
حدیث نمبر: 1092
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنِي أَبُو خَيْثَمَةَ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ ، قَالَ : قَالَ عَلِيٌّ : " إِذَا حُدِّثْتُمْ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثًا ، فَظُنُّوا بِهِ الَّذِي هُوَ أَهْيَا ، وَالَّذِي هُوَ أَهْدَى ، وَالَّذِي هُوَ أَتْقَى " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب تمہارے سامنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی حدیث بیان کی جائے تو اس کے بارے وہ گمان کرو جو راہ راست پر ہو، جو اس کے مناسب ہو اور جو تقوی پر مبنی ہو۔
حدیث نمبر: 1093
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ نَاجِيَةَ بْنِ كَعْبٍ ، عَنْ عَلِيٍّ ، قَالَ : لَمَّا مَاتَ أَبُو طَالِبٍ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقُلْتُ : إِنَّ عَمَّكَ الشَّيْخَ الضَّالَّ قَدْ مَاتَ ، فَقَالَ : " انْطَلِقْ فَوَارِهِ ، وَلَا تُحْدِثْ شَيْئًا حَتَّى تَأْتِيَنِي " ، قَالَ : فَانْطَلَقْتُ فَوَارَيْتُهُ ، فَأَمَرَنِي فَاغْتَسَلْتُ ، ثُمَّ دَعَا لِي بِدَعَوَاتٍ مَا أُحِبُّ أَنَّ لِي بِهِنَّ مَا عَرُضَ مِنْ شَيْءٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب ابوطالب کا انتقال ہو گیا تو میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ آپ کا بوڑھا اور گمراہ چچا مر گیا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جا کر اسے کسی گڑھے میں چھپا دو، اور میرے پاس آنے سے پہلے کسی سے کوئی بات نہ کرنا۔“ چنانچہ میں گیا اور اسے ایک گڑھے میں چھپا دیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بعد مجھے غسل کرنے کا حکم دیا اور مجھے اتنی دعائیں دیں کہ ان کے مقابلے میں کسی وسیع و عریض چیز کی میری نگاہوں میں کوئی حیثیت نہیں۔
حدیث نمبر: 1094
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ مَسْعُودِ بْنِ الْحَكَمِ ، عَنْ عَلِيٍّ ، قَالَ : " قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْجَنَازَةِ فَقُمْنَا ، ثُمَّ جَلَسَ فَجَلَسْنَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پہلے جنازہ دیکھ کر کھڑے ہو جاتے تھے تو ہم بھی کھڑے ہو جاتے تھے، پھر بعد میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے رہنے لگے تو ہم بھی بیٹھنے لگے۔
حدیث نمبر: 1095
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ زُبَيْدٍ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ ، عَنْ عَلِيٍّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا طَاعَةَ لِمَخْلُوقٍ فِي مَعْصِيَةِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اللہ کی نافرمانی میں کسی انسان کی اطاعت جائز نہیں ہے۔“
حدیث نمبر: 1096
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، قَالَ : قَالَ عَلِيٌّ : قُلْتُ لرَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى أَجْمَلِ فَتَاةٍ فِي قُرَيْشٍ ؟ قَالَ : " وَمَنْ هِيَ ؟ " ، قُلْتُ : ابْنَةُ حَمْزَةَ ، قَالَ : " أَمَا عَلِمْتَ أَنَّهَا ابْنَةُ أَخِي مِنَ الرَّضَاعَةِ ، إِنَّ اللَّهَ حَرَّمَ مِنَ الرَّضَاعَةِ مَا حَرَّمَ مِنَ النَّسَبِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا آپ کو قریش کی ایک خوبصورت ترین دوشیزہ کے بارے میں نہ بتاؤں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”وہ کون ہے؟“ میں نے عرض کیا: سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی، فرمایا: ”کیا تمہیں معلوم نہیں کہ وہ میری رضاعی بھتیجی ہے، اور اللہ تعالیٰ نے رضاعت کی وجہ سے بھی وہ تمام رشتے حرام قرار دئیے ہیں جو نسب کی وجہ سے حرام قرار دیئے ہیں۔“
حدیث نمبر: 1097
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْحَارِثِ ، عَنْ عَلِيٍّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " قَدْ عَفَوْتُ لَكُمْ عَنْ صَدَقَةِ الْخَيْلِ وَالرَّقِيقِ ، وَلَكِنْ هَاتُوا رُبُعَ الْعُشُورِ مِنْ كُلِّ أَرْبَعِينَ دِرْهَمًا دِرْهَمًا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میں نے تم سے گھوڑے اور غلام کی زکوٰۃ چھوڑ دی ہے اس لئے چاندی کی زکوٰۃ بہرحال تمہیں ادا کرنا ہو گی، جس کا نصاب یہ ہے کہ ہر چالیس پر ایک درہم واجب ہو گا۔“
حدیث نمبر: 1098
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، وَعُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، قَالَا : حَدَّثَنَا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ ، قَالَ وَكِيعٌ : قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ حُنَيْنٍ ، وَقَالَ عُثْمَانُ : عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُنَيْنٍ ، سَمِعْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، يَقُولُ : نَهَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَلَا أَقُولُ : نَهَاكُمْ ، " عَنِ الْمُعَصْفَرِ وَالتَّخَتُّمِ بِالذَّهَبِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے - میں یہ نہیں کہتا کہ تمہیں - سونے کی انگوٹھی اور عصفر سے رنگا ہوا کپڑا پہننے سے منع کیا ہے۔
حدیث نمبر: 1099
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَلِيٍّ ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا لِي أَرَاكَ تَنَوَّقُ فِي قُرَيْشٍ وَتَدَعُنَا ؟ قَالَ : " عِنْدَكَ شَيْءٌ ؟ " ، قُلْتُ : ابْنَةُ حَمْزَةَ ، قَالَ : " هِيَ ابْنَةُ أَخِي مِنَ الرَّضَاعَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے ایک مرتبہ بارگاہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم میں عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ ہمیں چھوڑ کر قریش کے دوسرے خاندانوں کو کیوں پسند کرتے ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارے پاس بھی کچھ ہے؟“ میں نے عرض کیا: جی ہاں! سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی، فرمایا: ”وہ تو میری رضاعی بھتیجی ہے۔“ (در اصل نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا امیر حمزہ رضی اللہ عنہ آپس میں رضاعی بھائی بھی تھے اور چچا بھتیجے بھی)۔
حدیث نمبر: 1100
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سَيْفُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْمَكِّيُّ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ عَلِيٍّ أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " لَمَّا نَحَرَ الْبُدْنَ أَمَرَنِي أَنْ أَتَصَدَّقَ بِلُحُومِهَا وَجُلُودِهَا وَجِلَالِهَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جب اونٹ ذبح کئے تو مجھے حکم دیا کہ ان اونٹوں کی کھالیں اور جھولیں بھی تقسیم کر دوں اور گوشت بھی تقسیم کر دوں۔
حدیث نمبر: 1101
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ : زَادَ سُفْيَانُ . ح وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ عَلِيٍّ ، قَالَ : أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ " لَا أُعْطِيَ الْجَازِرَ مِنْهَا عَلَى جِزَارَتِهَا شَيْئًا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ قصاب کو ان میں سے کوئی چیز مزدوری کے طور پر نہ دوں۔
حدیث نمبر: 1102
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ هُبَيْرَةَ ، عَنْ عَلِيٍّ ، قَالَ : نَهَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " عَنْ خَاتَمِ الذَّهَبِ ، وَعَنِ الْمِيثَرَةِ ، وَعَنِ الْقَسِّيِّ ، وَعَنِ الْجِعَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سونے کی انگوٹھی، ریشم اور سرخ زین پوش، اور جو کی نبیذ سے منع فرمایا ہے۔
حدیث نمبر: 1103
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ هُبَيْرَةَ ، عَنْ عَلِيٍّ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " إِذَا دَخَلَ الْعَشْرُ أَيْقَظَ أَهْلَهُ ، وَرَفَعَ الْمِئْزَرَ " ، قِيلَ لِأَبِي بَكْرٍ : مَا رَفَعَ الْمِئْزَرَ ؟ قَالَ : اعْتَزَلَ النِّسَاءَ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب رمضان کا آخری عشرہ شروع ہوتا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اہل خانہ کو بھی جگاتے اور تہہ بند کس لیتے۔ کسی نے راوی سے پوچھا کہ تہبند کس لینے سے کیا مراد ہے؟ تو انہوں نے بتایا کہ ازواج مطہرات سے جدا رہتے۔
حدیث نمبر: 1104
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنِي أَبُو خَيْثَمَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ سُفْيَانَ ، وَشُعْبَةَ ، وَإِسْرَائِيلَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ هُبَيْرَةَ ، عَنْ عَلِيٍّ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ " يُوقِظُ أَهْلَهُ فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے آخری عشرے میں اپنے اہل خانہ کو بھی رات جاگنے کے لئے اٹھایا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 1105
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنِي يُوسُفُ الصَّفَّارُ مَوْلَى بَنِي أُمَيَّةَ ، وَسُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ هُبَيْرَةَ بْنِ يَرِيمَ ، عَنْ عَلِيٍّ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " إِذَا دَخَلَ الْعَشْرُ الْأَوَاخِرُ شَدَّ الْمِئْزَرَ ، وَأَيْقَظَ نِسَاءَهُ " ، قَالَ ابْنُ وَكِيعٍ : " رَفَعَ الْمِئْزَرَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب رمضان کا آخری عشرہ شروع ہوتا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اہل خانہ کو بھی جگاتے اور تہہ بند کس لیتے تھے۔
حدیث نمبر: 1106
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو وَكِيعٍ الْجَرَّاحُ بْنُ مَلِيحٍ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ الْهَمْدَانِيِّ ، عَنْ هُبَيْرَةَ بْنِ يَرِيمَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، قَالَ : أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَنْ نَسْتَشْرِفَ الْعَيْنَ وَالْأُذُنَ فَصَاعِدًا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم فرمایا کہ قربانی کے جانوروں کی آنکھ اور کان اچھی طرح دیکھ لیں کہ کہیں ان میں کوئی عیب تو نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 1107
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ أَبِي هَاشِمِ بْنِ كَثِيرٍ ، عَنْ قَيْسٍ الْخَارِفِيِّ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَال : " سَبَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَصَلَّى أَبُو بَكْرٍ ، وَثَلَّثَ عُمَرُ ، ثُمَّ خَبَطَتْنَا فِتْنَةٌ ، فَهُوَ مَا شَاءَ اللَّهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سب سے پہلے تشریف لے گئے، دوسرے نمبر پر سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ چلے گئے، اور تیسرے نمبر پر سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ چلے گئے، اس کے بعد ہمیں امتحانات نے گھیر لیا، اب اللہ جو چاہے گا وہ ہوگا۔
حدیث نمبر: 1108
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عُثْمَانَ الثَّقَفِيِّ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَنْ نُنْزِيَ حِمَارًا عَلَى فَرَسٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں گھوڑوں پر گدھوں کو کدوانے سے (جفتی کروانے سے) منع فرمایا ہے۔
حدیث نمبر: 1109
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " خَيْرُ نِسَائِهَا خَدِيجَةُ ، وَخَيْرُ نِسَائِهَا مَرْيَمُ بِنْتُ عِمْرَانَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بہترین عورت سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا ہیں اور بہترین عورت سیدہ مریم بنت عمران علیہا السلام ہیں۔“
حدیث نمبر: 1110
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : كُنَّا جُلُوسًا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي جَنَازَةٍ ، أُرَاهُ قَالَ : بِبَقِيعِ الْغَرْقَدِ ، قَالَ : فَنَكَتَ فِي الْأَرْضِ ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ ، فَقَالَ : " مَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ إِلَّا وَقَدْ كُتِبَ مَقْعَدُهُ مِنَ الْجَنَّةِ وَمَقْعَدُهُ مِنَ النَّارِ " ، قَالَ : قُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَفَلَا نَتَّكِلُ ؟ قَالَ : " لَا ، اعْمَلُوا فَكُلٌّ مُيَسَّرٌ " ، ثُمَّ قَرَأَ : " فَأَمَّا مَنْ أَعْطَى وَاتَّقَى وَصَدَّقَ بِالْحُسْنَى فَسَنُيَسِّرُهُ لِلْيُسْرَى وَأَمَّا مَنْ بَخِلَ وَاسْتَغْنَى وَكَذَّبَ بِالْحُسْنَى فَسَنُيَسِّرُهُ لِلْعُسْرَى سورة الليل آية 5 - 10 " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دن ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ایک جنازے کے انتظار میں بیٹھے تھے (آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دست مبارک میں ایک لکڑی تھی) جس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم زمین کو کرید رہے تھے، تھوڑی دیر بعد سر اٹھا کر فرمایا: ”تم میں سے ہر شخص کا ٹھکانہ - خواہ جنت ہو یا جہنم - اللہ کے علم میں موجود اور متعین ہے۔“ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے پوچھا: یا رسول اللہ! کیا ہم اسی پر بھروسہ نہ کر لیں؟ فرمایا: ”عمل کرتے رہو کیونکہ ہر ایک کے لئے وہی اعمال آسان کئے جائیں گے جن کے لئے اسے پیدا کیا گیا ہوگا۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن کی یہ آیت تلاوت فرمائی: «﴿فَأَمَّا مَنْ أَعْطَى وَاتَّقَى ، وَصَدَّقَ بِالْحُسْنَى ، فَسَنُيَسِّرُهُ لِلْيُسْرَى﴾ [الليل : 5-7]» ”جس شخص نے دیا، تقویٰ اختیار کیا اور اچھی بات کی تصدیق کی تو یقینا ہم آسان راستے کے اسباب پیدا کر دیں گے۔“
حدیث نمبر: 1111
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنِي سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ الْحَسَنِ الْهِلَالِيُّ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ هُبَيْرَةَ بْنِ يَرِيمَ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " اطْلُبُوا لَيْلَةَ الْقَدْرِ فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ ، مِنْ رَمَضَانَ فَإِنْ غُلِبْتُمْ فَلَا تُغْلَبُوا عَلَى السَّبْعِ الْبَوَاقِي " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”شب قدر کو رمضان کے آخری عشرے میں تلاش کیا کرو، اگر پورے عشرے میں نہ کر سکو تو آخری سات راتوں میں اس کی تلاش سے مغلوب نہ ہو جانا (آخری سات راتوں میں اسے ضرور تلاش کرنا)۔“
حدیث نمبر: 1112
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ ، عَنْ رَجُلٍ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَنْ يُؤْمِنَ عَبْدٌ حَتَّى يُؤْمِنَ بِأَرْبَعٍ : يُؤْمِنُ بِاللَّهِ ، وَأَنَّ اللَّهَ بَعَثَنِي بِالْحَقِّ ، وَيُؤْمِنُ بِالْبَعْثِ بَعْدَ الْمَوْتِ ، وَيُؤْمِنُ بِالْقَدَرِ خَيْرِهِ وَشَرِّهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”کوئی شخص اس وقت تک کامل مومن نہیں ہو سکتا جب تک چار چیزوں پر ایمان نہ لے آئے، اللہ پر ایمان لائے، اور یہ کہ اس نے مجھے برحق نبی بنا کر بھیجا ہے، مرنے کے بعد دوبارہ اٹھائے جانے پر ایمان لائے، اور اچھی بری تقدیر پر ایمان رکھے۔“
حدیث نمبر: 1113
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عَبَّادٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، أَخْبَرَنِي أَبُو إِسْحَاقَ ، عَنْ هُبَيْرَةَ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " عَنْ خَاتَمِ الذَّهَبِ ، وَعَنْ لُبْسِ الْقَسِّيِّ ، وَعَنِ الْمِيثَرَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سونے کی انگوٹھی، ریشم اور سرخ زین پوش سے منع فرمایا ہے۔
حدیث نمبر: 1114
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنِي أَبُو مُوسَى مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو إِسْحَاقَ ، عَنْ هُبَيْرَةَ بْنِ يَرِيمَ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يُوقِظُ أَهْلَهُ فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ ، وَيَرْفَعُ الْمِئْزَرَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب رمضان کا آخری عشرہ شروع ہوتا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اہل خانہ کو بھی جگاتے اور تہہ بند کس لیتے تھے۔
حدیث نمبر: 1115
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنِي سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا سَلْمُ بْنُ قُتَيْبَةَ ، عَنْ شُعْبَةَ ، وَإِسْرَائِيلَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ هُبَيْرَةَ بْنِ يَرِيمَ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ " يُوقِظُ أَهْلَهُ فِي الْعَشْرِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے آخری عشرے میں اپنے اہل خانہ کو بھی رات جاگنے کے لئے اٹھایا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 1116
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حَكِيمٍ الْأَوْدِيُّ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ هُبَيْرَةَ بْنِ يَرِيمَ ، قَالَ : كُنَّا مَعَ عَلِيٍّ ، " فَدَعَا ابْنًا لَهُ يُقَالُ لَهُ : عُثْمَانُ ، لَهُ ذُؤَابَةٌ " .
مولانا ظفر اقبال
ہبیرہ بن یریم کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے، انہوں نے اپنے ایک بیٹے کو بلایا جس کا نام عثمان تھا، اس کے بالوں کی مینڈھیاں بنی ہوئی تھیں۔
حدیث نمبر: 1117
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنِ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، قَالَ : كَانَ أَبِي يَسْمُرُ مَعَ عَلِيٍّ ، فَكَانَ عَلِيٌّ يَلْبَسُ ثِيَابَ الصَّيْفِ فِي الشِّتَاءِ ، وَثِيَابَ الشِّتَاءِ فِي الصَّيْفِ ، فَقِيلَ لَي : لَوْ سَأَلْتَهُ عن هذا ؟ فَسَأَلَهُ ، فَقَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ إِلَيَّ ، وَأَنَا أَرْمَدُ ، يَوْمَ خَيْبَرَ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي رَمِدٌ ، فَتَفَلَ فِي عَيْنِي وَقَالَ : " اللَّهُمَّ أَذْهِبْ عَنْهُ الْحَرَّ وَالْبَرْدَ " ، فَمَا وَجَدْتُ حَرًّا وَلَا بَرْدًا بَعْدُ ، قَالَ : وَقَالَ : " لَأَبْعَثَنَّ رَجُلًا يُحِبُّهُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ ، وَيُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ ، لَيْسَ بِفَرَّارٍ " ، قَالَ : فَتَشَرَّفَ لَهَا النَّاسُ ، قَالَ : فَبَعَثَ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ .
مولانا ظفر اقبال
عبدالرحمن بن ابی لیلی کہتے ہیں کہ میرے والد صاحب سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ رات کے وقت مختلف امور پر بات چیت کیا کرتے تھے، سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی عجیب عادت تھی کہ وہ سردی کے موسم میں گرمی کے کپڑے اور گرمی کے موسم میں سردی کے کپڑے پہن لیا کرتے تھے، کسی نے میرے والد صاحب سے کہا کہ اگر آپ اس چیز کے متعلق سوال پوچھیں تو شاید وہ جواب دے دیں؟ چنانچہ والد صاحب کے سوال کرنے پر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ایک مرتبہ غزوہ خیبر کے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے پاس ایک قاصد بھیجا، مجھے آشوب چشم کی بیماری لاحق تھی، اس لئے میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے تو آشوب چشم ہوا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سن کر میری آنکھوں میں اپنا لعاب دہن ڈال دیا اور یہ دعا کی: «اَللّٰهُمَّ أَذْهِبْ عَنْهُ الْحَرَّ وَالْبَرْدَ» ”اے اللہ! اس کی گرمی سردی دور فرما۔“ اس دن سے آج تک مجھے کبھی گرمی اور سردی کا احساس ہی نہیں ہوا۔ اس موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا تھا کہ ”میں یہ جھنڈا اس شخص کو دوں گا جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہوگا اور خود اللہ اور اس کے رسول کی نگاہوں میں محبوب ہوگا، وہ بھاگنے والا نہ ہوگا۔“ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اس مقصد کے لئے اپنے آپ کو نمایاں کرنے لگے، لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ جھنڈا مجھے عنایت فرما دیا۔
حدیث نمبر: 1118
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنِي أَبُو السَّرِيِّ هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ . ح وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَكِيمٍ الْأَوْدِيُّ ، أخبرنا شَرِيكٌ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ هُبَيْرَةَ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ عَلِيُّ بْنُ حَكِيمٍ فِي حَدِيثِهِ : " أَمَا تَغَارُونَ أَنْ تخْرُجَ نِسَاؤُكُمْ ؟ " ، وَقَالَ هَنَّادٌ فِي حَدِيثِهِ : " أَلَا تَسْتَحْيُونَ أَوْ تَغَارُونَ ؟ فَإِنَّهُ بَلَغَنِي أَنَّ نِسَاءَكُمْ يَخْرُجْنَ فِي الْأَسْوَاقِ يُزَاحِمْنَ الْعُلُوجَ " .
مولانا ظفر اقبال
ایک مرتبہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے لوگوں سے مخاطب ہو کر فرمایا: تمہیں شرم یا غیرت نہیں آتی کہ تمہاری عورتیں گھروں سے باہر نکلیں، مجھے پتہ چلا ہے کہ تمہاری عورتیں بازاروں میں نکل کر طاقتور لوگوں کی بھیڑ میں گھس جاتی ہیں (ان کا جسم مردوں سے ٹکراتا ہے اور انہیں کچھ خبر نہیں ہوتی کہ ان کے جسم کا کون سا حصہ مرد کے جسم کے کون سے حصے سے ٹکراتا ہے)۔
حدیث نمبر: 1119
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْحَكَمِ ، قَالَ : سَمِعْتُ الْقَاسِمَ بْنَ مُخَيْمِرَةَ يُحَدِّثُ ، عَنْ شُرَيْحِ بْنِ هَانِئٍ : أَنَّهُ سَأَلَ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنِ الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ ؟ فَقَالَتْ : سَلْ عَنْ ذَلِكَ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، فَإِنَّهُ كَانَ يَغْزُو مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَسَأَلَهُ ، فَقَالَ : " لِلْمُسَافِرِ ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ وَلَيَالِيهِنَّ ، وَلِلْمُقِيمِ يَوْمٌ وَلَيْلَةٌ " ، قِيلَ لِمُحَمَّدٍ كَانَ يَرْفَعُهُ ؟ فَقَالَ : كَانَ يَرَى أَنَّهُ مَرْفُوعٌ ، وَلَكِنَّهُ كَانَ يَهَابُهُ .
مولانا ظفر اقبال
شریح بن ہانی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے موزوں پر مسح کے حوالے سے سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے ایک سوال پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ یہ سوال تم سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے پوچھو، انہیں اس مسئلے کا زیادہ علم ہوگا کیونکہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر میں بھی رہتے تھے، چنانچہ میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا، تو انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”مسافر کے لئے تین دن اور تین رات موزوں پر مسح کرنے کی اجازت ہے، اور مقیم کے لئے ایک دن اور ایک رات۔“
حدیث نمبر: 1120
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، قَالَ : لَعَنَ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " آكِلَ الرِّبَا ، وَمُوكِلَهُ ، وَكَاتِبَهُ ، وَشَاهِدَهُ ، وَالْوَاشِمَةَ وَالْمُتَوَشِّمَةَ ، قَالَ ابْنُ عَوْنٍ : قُلْتُ إِلَّا مِنْ دَاءٍ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، وَالْحَالَّ وَالْمُحَلَّلَ لَهُ ، وَمَانِعَ الصَّدَقَةِ ، وَقَالَ : وَكَانَ يَنْهَى عَنِ النَّوْحِ " ، وَلَمْ يَقُلْ : لَعَنَ ، فَقُلْتُ : مَنْ حَدَّثَكَ ؟ قَالَ : الْحَارِثُ الْأَعْوَرُ الْهَمْدَانِيُّ .
مولانا ظفر اقبال
امام شعبی رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دس قسم کے لوگوں پر لعنت فرمائی ہے: سود خور، سود کھلانے والا، سودی معاملات لکھنے والا، سودی معاملات کے گواہ، حلالہ کرنے والا، حلالہ کروانے والا، زکوٰۃ روکنے والا، جسم گودنے والی، اور جسم گدوانے والی پر لعنت فرمائی ہے، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نوحہ کرنے سے منع فرماتے تھے۔
حدیث نمبر: 1121
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ النَّاجِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ أَبَانَ بْنِ عِمْرَانَ الْوَاسِطِيُّ ، قَالَا : حدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، وَهَذَا لَفْظُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبَانَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ زَاذَانَ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " مَنْ تَرَكَ مَوْضِعَ شَعَرَةٍ مِنْ جَنَابَةٍ لَمْ يُصِبْهَا الْمَاءُ ، فُعِلَ بِهِ كَذَا وَكَذَا مِنَ النَّارِ " ، قَالَ عَلِيٌّ : فَمِنْ ثَمَّ عَادَيْتُ شَعْرِي كَمَا تَرَوْنَ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ”جو شخص جنابت کی حالت میں غسل کرتے ہوئے ایک بال کے برابر بھی جگہ خالی چھوڑ دے جہاں پانی نہ پہنچا ہو، اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ جہنم میں ایسا ایسا معاملہ کریں گے۔“ بس اسی وقت سے میں نے اپنے بالوں کے ساتھ دشمنی پال لی۔
…