حدیث نمبر: 1042
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ إِسْرَائِيلَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ حَارِثَةَ بْنِ مُضَرِّبٍ ، عَنْ عَلِيٍّ ، قَالَ : " لَمَّا حَضَرَ الْبَأْسُ يَوْمَ بَدْرٍ اتَّقَيْنَا بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَكَانَ مِنْ أَشَدِّ النَّاسِ ، مَا كَانَ ، أَوْ لَمْ يَكُنْ أَحَدٌ أَقْرَبَ إِلَى الْمُشْرِكِينَ مِنْهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ غزوہ بدر کے دن جب جنگ شروع ہوئی تو ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی پناہ میں آجاتے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہماری نسبت دشمن سے زیادہ قریب تھے، اور اس دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سب سے زیادہ سخت جنگ کی تھی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 1042
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 1043
(حديث مرفوع) قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ : عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ . ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ يَعْنِي ابْنَ عِيسَى ، أَخْبَرَنِي مَالِكٌ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُنَيْنٍ ، قَالَ إِسْحَاقُ : عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ " لُبْسِ الْقَسِّيِّ وَالْمُعَصْفَرِ ، وَعَنْ تَخَتُّمِ الذَّهَبِ ، وَعَنْ قِرَاءَةِ الْقُرْآنِ فِي الرُّكُوعِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سونے کی انگوٹھی، ریشمی لباس یا عصفر سے رنگا ہوا کپڑا پہننے اور رکوع کی حالت میں قرآن کریم کی تلاوت سے منع کیا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 1043
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناد حديث إسحاق بن عيسي صحيح، وإسناد عبدالرحمن بن مهدي فيه انقطاع، إبراهيم بن عبدالله بن حنين لم يسمع من علي، م: 2078
حدیث نمبر: 1044
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، وَأَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَا : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أخبرنا أَيُّوبُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ فُلَانِ بْنِ حُنَيْنٍ ، عَنْ جَدِّهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُنَيْنٍ ، قَالَ : قَالَ عَلِيٌّ : " نَهَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ لُبْسِ الْمُعَصْفَرِ ، وَعَنِ الْقَسِّيِّ ، وَعَنْ خَاتَمِ الذَّهَبِ ، وَعَنِ الْقِرَاءَةِ فِي الرُّكُوعِ " ، قَالَ أَيُّوبُ : أَوْ قَالَ : " أَنْ أَقْرَأَ وَأَنَا رَاكِعٌ " ، قَالَ أَبُو خَيْثَمَةَ فِي حَدِيثِهِ : حُدِّثْتُ أَنَّ إِسْمَاعِيلَ رَجَعَ : عَنْ جَدِّهِ حُنَيْنٍ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے سونے کی انگوٹھی، ریشمی لباس یا عصفر سے رنگا ہوا کپڑا پہننے اور رکوع کی حالت میں قرآن کریم کی تلاوت سے منع کیا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 1044
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح، وذكر حنين فيه غير محفوظ، وانظر ما قبله
حدیث نمبر: 1045
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ رَجُلٍ ، عَنْ الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ عَلِيٍّ ، أَنَّهُ قَالَ : أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَبِيعَ غُلَامَيْنِ أَخَوَيْنِ ، فَبِعْتُهُمَا ، فَفَرَّقْتُ بَيْنَهُمَا ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " أَدْرِكْهُمَا فَارْتَجِعْهُمَا ، وَلَا تَبِعْهُمَا إِلَّا جَمِيعًا ، وَلَا تُفَرِّقْ بَيْنَهُمَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ مجھے دو غلاموں کو بیچنے کا حکم دیا، وہ دونوں آپس میں بھائی تھے، میں نے ان دونوں کو دو الگ الگ آدمیوں کے ہاتھ فروخت کر دیا اور آ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی اطلاع دی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”واپس جا کر ان دونوں کو واپس لو، اور اکٹھا ایک ہی آدمی کے ہاتھ ان دونوں کو فروخت کرو (تاکہ دونوں کو ایک دوسرے سے کچھ تو قرب اور انس رہے)۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 1045
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن لغيره، وإسناده ضعيف لجهالة الرجل الراوي عن الحكم
حدیث نمبر: 1046
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ الْبَزَّارُ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي حَيَّةَ ، قَالَ : رَأَيْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ " يَتَوَضَّأُ ، فَغَسَلَ كَفَّيْهِ حَتَّى أَنْقَاهُمَا ، ثُمَّ مَضْمَضَ ثَلَاثًا ، ثُمَّ اسْتَنْشَقَ ثَلَاثًا ، وَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا ، وَذِرَاعَيْهِ ثَلَاثًا ، وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ ، وَغَسَلَ قَدَمَيْهِ إِلَى الْكَعْبَيْنِ ، وَأَخَذَ فَضْلَ طَهُورِهِ فَشَرِبَ وَهُوَ قَائِمٌ ، ثُمَّ قَالَ : أَحْبَبْتُ أَنْ أُرِيَكُمْ كَيْفَ كَانَ طُهُورُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
مولانا ظفر اقبال
ابوحیہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو وضو کرتے ہوئے دیکھا، پہلے انہوں نے اپنے دونوں ہاتھوں کو دھو کر صاف کیا، پھر تین مرتبہ کلی کی، تین مرتبہ ناک میں پانی ڈالا، تین مرتبہ چہرہ دھویا، تین مرتبہ کہنیوں سمیت ہاتھ دھوئے، سر کا مسح کیا اور ٹخنوں سمیت دونوں پاؤں دھوئے، اور وضو کا بچا ہوا پانی لے کر کھڑے کھڑے پی گئے اور فرمایا کہ میں تمہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ وضو دکھانا چاہتا تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 1046
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 1047
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ الْبَزَّارُ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، قَالَ : وَذَكَرَ عَبْدُ خَيْرٍ ، عَنْ عَلِيٍّ ، مِثْلَ حَدِيثِ أَبِي حَيَّةَ ، إِلَّا أَنَّ عَبْدَ خَيْرٍ قَالَ : كَانَ " إِذَا فَرَغَ مِنْ طُهُورِهِ أَخَذَ بِكَفَّيْهِ مِنْ فَضْلِ طَهُورِهِ فَشَرِبَ " .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے، البتہ اس کے آخر میں وضو کا پانی دونوں ہاتھوں سے لینے کا ذکر ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 1047
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 1048
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، قَالَ : سُئِلَ سَعِيدٌ عَنِ الْأَعْضَبِ : هَلْ يُضَحَّى بِهِ ؟ فَأَخْبَرَنَا ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ جُرَيِّ بْنِ كُلَيْبٍ ، رَجُلٍ مِنْ قَوْمِهِ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، يَقُولُ : نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ " يُضَحَّى بِأَعْضَبِ الْقَرْنِ وَالْأُذُنِ " ، قَالَ قَتَادَةُ : فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِسَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، فَقَالَ : الْعَضَبُ النِّصْفُ فَأَكْثَرُ مِنْ ذَلِكَ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سینگ یا کان کٹے ہوئے جانور کی قربانی سے منع فرمایا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 1048
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 1049
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ إِسْرَائِيلَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ هُبَيْرَةَ ، عَنْ عَلِيٍّ ، قَالَ : نَهَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ " التَّخَتُّمِ بِالذَّهَبِ ، وَعَنْ لُبْسِ الْقَسِّيِّ وَالْمَيَاثِرِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے سونے کی انگوٹھی، ریشمی لباس پہننے اور سرخ زین پوش سے منع فرمایا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 1049
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 1050
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ إِسْرَائِيلَ . ح وَعَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أخبرنا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي حَيَّةَ الْوَادِعِيِّ ، قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ : عَنْ أَبِي حَيَّةَ ، قَالَ : رَأَيْتُ عَلِيًّا بَالَ فِي الرَّحَبَةِ ، وَدَعَا بِمَاءٍ فَتَوَضَّأَ " فَغَسَلَ كَفَّيْهِ ثَلَاثًا ، وَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ ثَلَاثًا ، وَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا ، وَغَسَلَ ذِرَاعَيْهِ ثَلَاثًا ثَلَاثًا ، وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ ، وَغَسَلَ قَدَمَيْهِ ثَلَاثًا ثَلَاثًا ، ثُمَّ قَامَ فَشَرِبَ مِنْ فَضْلِ وَضُوئِهِ ، ثُمَّ قَالَ : إِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَلَ كَالَّذِي رَأَيْتُمُونِي فَعَلْتُ ، فَأَرَدْتُ أَنْ أُرِيَكُمُوهُ " .
مولانا ظفر اقبال
ابوحیہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو صحن میں پیشاب کرتے ہوئے دیکھا، پھر انہوں نے پانی منگوایا اور پہلے انہوں نے اپنے دونوں ہاتھوں کو دھو کر صاف کیا، پھر تین مرتبہ کلی کی، تین مرتبہ ناک میں پانی ڈالا، تین مرتبہ چہرہ دھویا، تین مرتبہ کہنیوں سمیت دونوں ہاتھ دھوئے، سر کا مسح کیا اور ٹخنوں سمیت دونوں پاؤں دھوئے، اور وضو کا بچا ہوا پانی لے کر کھڑے کھڑے پی گئے، اور فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح کرتے ہوئے دیکھا ہے، اور میں تمہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ وضو دکھانا چاہتا تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 1050
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 1051
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنِي أَبُو صَالِحٍ الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا شِهَابُ بْنُ خِرَاشٍ ، حَدَّثَنِي الْحَجَّاجُ بْنُ دِينَارٍ ، عَنْ أَبِي مَعْشَرٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ ، قَالَ : ضَرَبَ عَلْقَمَةُ بْنُ قَيْسٍ هَذَا الْمِنْبَرَ وَقَالَ : خَطَبَنَا عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَلَى هَذَا الْمِنْبَرِ ، فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ، وَذَكَرَ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَذْكُرَ ، وَقَالَ : " إِنَّ خَيْرَ النَّاسِ كَانَ بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبُو بَكْرٍ ، ثُمَّ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، ثُمَّ أَحْدَثْنَا بَعْدَهُمَا أَحْدَاثًا يَقْضِي اللَّهُ فِيهَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ایک دن بر سر منبر خطبہ دیتے ہوئے اللہ کی حمد و ثناء بیان کی اور جو اللہ کو منظور ہوا وہ کہا، پھر فرمایا کہ اس امت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سب سے بہترین شخص سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ تھے، ان کے بعد سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ تھے، اس کے بعد ہم نے ایسی چیزیں ایجاد کر لی ہیں جن میں اللہ جو چاہے گا سو کرے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 1051
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده قوي
حدیث نمبر: 1052
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنَا أَبُو صَالِحٍ الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا شِهَابُ بْنُ خِرَاشٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ بْنُ خَبَّابٍ ، عَنِ الْمُسَيَّبِ بْنِ عَبْدِ خَيْرٍ ، عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، يَقُولُ : " إِنَّ خَيْرَ هَذِهِ الْأُمَّةِ بَعْدَ نَبِيِّهَا أَبُو بَكْرٍ ، ثُمَّ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اس امت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سب سے بہترین شخص سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ تھے، ان کے بعد سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 1052
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف يونس بن خباب، لكن صح الأثر من طريق آخر عن المسيب، تقدم برقم: 926
حدیث نمبر: 1053
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا مُجَمِّعُ بْنُ يَحْيَى ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عِمْرَانَ الْأَنْصَارِيِّ ، عَنْ عَلِيٍّ . ح وَالْمَسْعُودِيُّ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ هُرْمُزَ ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " لَيْسَ بِالْقَصِيرِ ، وَلَا بِالطَّوِيلِ ، ضَخْمَ الرَّأْسِ وَاللِّحْيَةِ ، شَثْنَ الْكَفَّيْنِ وَالْقَدَمَيْنِ ، ضَخْمَ الْكَرَادِيسِ ، مُشْرَبًا وَجْهُهُ حُمْرَةً ، طَوِيلَ الْمَسْرُبَةِ ، إِذَا مَشَى تَكَفَّأَ تَكَفُّؤًا ، كَأَنَّمَا يَتَقَلَّعُ مِنْ صَخْرٍ ، لَمْ أَرَ قَبْلَهُ وَلَا بَعْدَهُ مِثْلَهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " ، وقَالَ أَبُو النَّضْرِ : الْمَسْرُبَةُ ، وَقَالَ أبو نعيم : المَسْرَبة ، وقَالَ : كَأَنَّمَا يَنْحَطُّ مِنْ صَبَبٍ ، وقَالَ أَبُو قَطَنٍ : الْمَسْرُبَةُ ، وقَالَ يَزِيدُ : الْمَسْرُبَةُ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بہت زیادہ لمبے تھے اور نہ بہت زیادہ چھوٹے، سر مبارک بڑا اور داڑھی گھنی تھی، ہتھیلیاں اور پاؤں بھرے ہوئے تھے، چہرہ مبارک میں سرخی کی آمیزش تھی، سینے سے لے کر ناف تک بالوں کی ایک لمبی سی دھاری تھی، ہڈیوں کے جوڑ بہت مضبوط تھے، چلتے وقت چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتے تھے، ایسا محسوس ہوتا تھا گویا کہ کسی گھاٹی سے اتر رہے ہیں، میں نے ان سے پہلے یا ان کے بعد ان جیسا کوئی نہ دیکھا، صلی اللہ علیہ وسلم۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 1053
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن لغيره، إسناد حديث وكيع عن المسعودي محتمل للتحسين، وأما عبدالله بن عمران الأنصاري فإنه فى عداد المجهولين، بينه وبين على رجل غير مسمى، كما ذكره ابن أبى حاتم وغيره
حدیث نمبر: 1054
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنَا أَبُو صَالِحٍ الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا شِهَابُ بْنُ خِرَاشٍ ، حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ دِينَارٍ ، عَنْ حُصَيْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ ، قَالَ : كُنْتُ أَرَى أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَفْضَلُ النَّاسِ بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ ، قُلْتُ : لَا وَاللَّهِ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ، إِنِّي لَمْ أَكُنْ أَرَى أَنَّ أَحَدًا مِنَ الْمُسْلِمِينَ بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَفْضَلُ مِنْكَ ، قَالَ : " أَفَلَا أُحَدِّثُكَ بِأَفْضَلِ النَّاسِ كَانَ بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : قُلْتُ : بَلَى ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، فَقَالَ : أَفَلَا أُخْبِرُكَ بِخَيْرِ النَّاسِ كَانَ بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَكْرٍ ؟ قُلْتُ : بَلَى ، قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ " .
مولانا ظفر اقبال
ابوجحیفہ سے مروی ہے کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو تمام لوگوں میں سب سے افضل سمجھتا تھا، . . . . . میں نے کہا: نہیں، واللہ اے امیر المومنین! میں نہیں سمجھتا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد مسلمانوں میں آپ سے افضل بھی کوئی ہوگا، انہوں نے فرمایا: کیا میں تمہیں یہ نہ بتاؤں کہ اس امت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعدسب سے افضل شخص کون ہے؟ میں نے کہا: کیوں نہیں، انہوں نے فرمایا: وہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ہیں، اور میں تمہیں بتاؤں کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے بعد اس امت میں سب سے بہترین شخص کون ہے؟ میں نے کہا: کیوں نہیں، انہوں نے فرمایا: وہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 1054
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده قوي
حدیث نمبر: 1055
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنِي سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ الْفَزَارِيُّ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ سَلْعٍ ، عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُهُ يَقُولُ : قَامَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَلَى الْمِنْبَرِ ، فَذَكَرَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاسْتُخْلِفَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، فَعَمِلَ بِعَمَلِهِ ، وَسَارَ بِسِيرَتِهِ ، حَتَّى قَبَضَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى ذَلِكَ ، ثُمَّ اسْتُخْلِفَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَلَى ذَلِكَ فَعَمِلَ بِعَمَلِهِمَا ، وَسَارَ بِسِيرَتِهِمَا ، حَتَّى قَبَضَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى ذَلِكَ " .
مولانا ظفر اقبال
ایک مرتبہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ منبر پر کھڑے ہوئے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال ہوا تو سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو خلیفہ مقرر کر دیا گیا، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے اور ان کی سیرت پر چلتے ہوئے کام کرتے رہے، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں بھی اپنے پاس بلا لیا، پھر سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ خلیفہ مقرر ہوئے اور وہ ان دونوں حضرات کے طریقے اور سیرت پر چلتے ہوئے کام کرتے رہے، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں بھی اپنے پاس بلا لیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 1055
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 1056
(حديث قدسي) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ إِسْرَائِيلَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ رَبِيعَةَ ، قَالَ : كُنْتُ رِدْفَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، فَلَمَّا وَضَعَ رِجْلَهُ فِي الرِّكَابِ ، قَالَ : " بِسْمِ اللَّهِ " ، فَلَمَّا اسْتَوَى ، قَالَ : " الْحَمْدُ لِلَّهِ ، سُبْحَانَ الَّذِي سَخَّرَ لَنَا هَذَا وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِينَ ، وَإِنَّا إِلَى رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُونَ " ، وَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ : ثُمَّ " حَمِدَ اللَّهَ ثَلَاثًا ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ ثَلَاثًا " ، ثُمَّ قَالَ : " سُبْحَانَ اللَّهِ ثَلَاثًا " ، ثُمَّ قَالَ : " لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ " ، ثُمَّ رَجَعَ إِلَى حَدِيثِ وَكِيعٍ ، " سُبْحَانَكَ إِنِّي ظَلَمْتُ نَفْسِي فَاغْفِرْ لِي ، إِنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ ، ثُمَّ ضَحِكَ ، قُلْتُ : مَا يُضْحِكُكَ ؟ قَالَ : كُنْتُ رِدْفًا لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَفَعَلَ كَالَّذِي رَأَيْتَنِي فَعَلْتُ ، " ثُمَّ ضَحِكَ " ، قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا يُضْحِكُكَ ؟ قَالَ : " قَالَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى : عَجَبٌ لِعَبْدِي ، يَعْلَمُ أَنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ غَيْرِي " .
مولانا ظفر اقبال
علی بن ربیعہ کہتے ہیں کہ میں ایک مرتبہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا ردیف تھا، جب انہوں نے اپنا پاؤں رکاب میں رکھا تو بسم اللہ کہا، جب اس پر بیٹھ گئے تو یہ دعا پڑھی: «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ ، سُبْحَانَ الَّذِي سَخَّرَ لَنَا هَذَا وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِينَ وَإِنَّا إِلَى رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُونَ» ”تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہیں، پاک ہے وہ ذات جس نے اس جانور کو ہمارا تابع فرمان بنا دیا، ہم تو اسے اپنے تابع نہیں کر سکتے تھے، اور بیشک ہم اپنے رب کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں۔“ پھر تین مرتبہ الحمدللہ اور تین مرتبہ اللہ اکبر کہہ کر فرمایا: اے اللہ! آپ پاک ہیں، آپ کے علاوہ کوئی معبود نہیں، میں نے اپنی جان پر ظلم کیا، پس مجھے معاف فرما دیجئے، پھر مسکرا دئیے۔ میں نے پوچھا کہ امیر المومنین! اس موقع پر مسکرانے کی کیا وجہ ہے؟ فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی اسی طرح کرتے ہوئے دیکھا تھا جیسے میں نے کیا، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی مسکرائے تھے، اور میں نے بھی ان سے اس کی وجہ پوچھی تھی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ ”جب بندہ یہ کہتا ہے کہ پروردگار! مجھے معاف فرما دے، تو پروردگار کو خوشی ہوتی ہے اور وہ کہتا ہے کہ میرا بندہ جانتا ہے کہ میرے علاوہ اس کے گناہ کوئی معاف نہیں کر سکتا۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 1056
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن لغيره، أبو إسحاق دلسه فحذف منه رجلين بينه وبين على بن ربيعة
حدیث نمبر: 1057
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلِمَةَ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : اشْتَكَيْتُ ، فَأَتَانِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَقُولُ : اللَّهُمَّ إِنْ كَانَ أَجَلِي قَدْ حَضَرَ فَأَرِحْنِي ، وَإِنْ كَانَ مُتَأَخِّرًا فَاشْفِنِي أَوْ عَافِنِي ، وَإِنْ كَانَ بَلَاءً فَصَبِّرْنِي ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كَيْفَ قُلْتَ ؟ " ، قَالَ : فَأَعَدْتُ عَلَيْهِ ، قَالَ : فَمَسَحَ بِيَدِهِ ، ثُمَّ قَالَ : " اللَّهُمَّ اشْفِهِ ، أَوْ عَافِهِ " ، قَالَ : فَمَا اشْتَكَيْتُ وَجَعِي ذَاكَ بَعْدُ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا میرے پاس سے گزر ہوا، میں اس وقت بیمار تھا اور یہ دعا کر رہا تھا کہ اے اللہ! اگر میری موت کا وقت قریب آگیا ہے تو مجھے اس بیماری سے راحت عطاء فرما اور مجھے اپنے پاس بلا لے، اگر اس میں دیر ہو تو شفاء عطا فرما دے، اور اگر یہ کوئی آزمائش ہو تو مجھے صبر عطاء فرما۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم کیا کہہ رہے ہو؟“ میں نے اپنی بات دہرا دی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ پر ہاتھ پھیر کر دعا فرمائی: «اَللّٰهُمَّ اشْفِهِ أَوْ عَافِهِ» ”اے اللہ! اسے عافیت اور شفاء عطاء فرما۔“ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اس کے بعد مجھے وہ تکلیف کبھی نہیں ہوئی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 1057
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 1058
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ هُبَيْرَةَ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ " يُوقِظُ أَهْلَهُ فِي الْعَشْرِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے آخری عشرے میں اپنے اہل خانہ کو بھی رات کو جاگنے کے لئے اٹھایا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 1058
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 1059
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّه ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ سَلْعٍ ، عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، يَقُولُ : " قَبَضَ اللَّهُ نَبِيَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى خَيْرِ مَا قُبِضَ عَلَيْهِ نَبِيٌّ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ عَلَيْهِمْ السَّلَام ، ثُمَّ اسْتُخْلِفَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، فَعَمِلَ بِعَمَلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسُنَّةِ نَبِيِّهِ ، وَعُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ كَذَلِكَ " .
مولانا ظفر اقبال
ایک مرتبہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا کہ تمام انبیاء علیہم السلام میں سب سے زیادہ بہترین طریقے سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال ہوا ہے، ان کے بعد سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو خلیفہ مقرر کر دیا گیا، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے اور ان کی سیرت پر چلتے ہوئے کام کرتے رہے، پھر سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ خلیفہ مقرر ہوئے، اور وہ ان دونوں حضرات کے طریقے اور سیرت پر چلتے ہوئے کام کرتے رہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 1059
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 1060
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى زَحْمَوَيْهِ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ مُجَاشِعٍ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، يَقُولُ عَلَى الْمِنْبَرِ : " خَيْرُ هَذِهِ الْأُمَّةِ بَعْدَ نَبِيِّهَا أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ، وَلَوْ شِئْتُ أَنْ أُسَمِّيَ الثَّالِثَ لَسَمَّيْتُهُ " ، فَقَالَ رَجُلٌ لِأَبِي إِسْحَاقَ : إِنَّهُمْ يَقُولُونَ : إِنَّكَ تَقُولُ : أَفْضَلُ فِي الشَّرِّ ، فَقَالَ : أَحَرُورِيٌّ ؟ ! .
مولانا ظفر اقبال
عبدخیر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے ایک مرتبہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو (دوران خطبہ یہ) کہتے ہوئے سنا کہ اس امت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سب سے بہترین شخص سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ ہیں، اور اگر میں چاہوں تو تیسرے آدمی کا نام بھی بتا سکتا ہوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 1060
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره
حدیث نمبر: 1061
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ إِسْرَائِيلَ ، وَعَلِيِّ بْنِ صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ شُرَيْحِ بْنِ النُّعْمَانِ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ " نَسْتَشْرِفَ الْعَيْنَ وَالْأُذُنَ ، وَلَا نُضَحِّيَ بِشَرْقَاءَ ، وَلَا خَرْقَاءَ ، وَلَا مُقَابَلَةٍ ، وَلَا مُدَابَرَةٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا ہے کہ قربانی کے جانور کی آنکھ اور کان اچھی طرح دیکھ لیں، اور ایسے جانور کی قربانی سے منع فرمایا ہے جس کا کان آگے یا پیچھے سے کٹا ہوا ہو، یا اس میں سوراخ ہو، یا وہ پھٹ گیا ہو، یا جسم کے دیگر اعضاء کٹے ہوئے ہوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 1061
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن، أبو إسحاق لم يسمع هذا الحديث من شريح بن النعمان
حدیث نمبر: 1062
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : عَهِدَ إِلَيَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَنَّهُ لَا يُحِبُّكَ إِلَّا مُؤْمِنٌ ، وَلَا يُبْغِضُكَ إِلَّا مُنَافِقٌ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے یہ بات ذکر فرمائی تھی کہ ”تم سے بغض کوئی منافق ہی کر سکتا ہے، اور تم سے محبت کوئی مومن ہی کر سکتا ہے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 1062
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 78
حدیث نمبر: 1063
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ حَنَشٍ الْكِنَانِيِّ ، أَنَّ قَوْمًا بِالْيَمَنِ حَفَرُوا زُبْيَةً لِأَسَدٍ ، فَوَقَعَ فِيهَا ، فَتَكَابَّ النَّاسُ عَلَيْهِ ، فَوَقَعَ فِيهَا رَجُلٌ فَتَعَلَّقَ بِآخَرَ ، ثُمَّ تَعَلَّقَ الْآخَرُ بِآخَرَ ، حَتَّى كَانُوا فِيهَا أَرْبَعَةً ، فَتَنَازَعَ فِي ذَلِكَ حَتَّى أَخَذَ السِّلَاحَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ ، فَقَالَ لَهُمْ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : أَتَقْتُلُونَ مِائَتَيْنِ فِي أَرْبَعَةٍ ؟ وَلَكِنْ سَأَقْضِي بَيْنَكُمْ بِقَضَاءٍ إِنْ رَضِيتُمُوهُ : لِلْأَوَّلِ رُبُعُ الدِّيَةِ ، وَلِلثَّانِي ثُلُثُ الدِّيَةِ ، وَلِلثَّالِثِ نِصْفُ الدِّيَةِ ، وَلِلرَّابِعِ الدِّيَةُ ، فَلَمْ يَرْضَوْا بِقَضَائِهِ ، فَأَتَوُا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " سَأَقْضِي بَيْنَكُمْ بِقَضَاءٍ " ، قَالَ : فَأُخْبِرَ بِقَضَاءِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، فَأَجَازَهُ .
مولانا ظفر اقبال
حنش کنانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یمن میں ایک قوم نے شیر کو شکار کرنے کے لئے ایک گڑھا کھود کر اسے ڈھانپ رکھا تھا، شیر اس میں گر پڑا، اچانک ایک آدمی بھی اس گڑھے میں گر پڑا، اس کے پیچھے دوسرا، تیسرا حتی کہ چار آدمی گر پڑے۔ (اس گڑھے میں موجود شیر نے ان سب کو زخمی کر دیا، یہ دیکھ کر ایک آدمی نے جلدی سے نیزہ پکڑا اور شیر کو دے مارا، چنانچہ شیر ہلاک ہو گیا اور وہ چاروں آدمی بھی اپنے اپنے زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دنیا سے چل بسے)۔ مقتولین کے اولیاء اسلحہ نکال کر جنگ کے لئے ایک دوسرے کے آمنے سامنے آگئے، اتنی دیر میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ آ پہنچے اور کہنے لگے: کیا تم چار آدمیوں کے بدلے دو سو آدمیوں کو قتل کرنا چاہتے ہو؟ میں تمہارے درمیان فیصلہ کرتا ہوں، اگر تم اس پر راضی ہو گئے تو سمجھو کہ فیصلہ ہو گیا۔ فیصلہ یہ ہے کہ جو شخص پہلے گر کر گڑھے میں شیر کے ہاتھوں زخمی ہوا، اس کے ورثاء کو چوتھائی دیت دے دو، اور چوتھے کو مکمل دیت دے دو، دوسرے کو ایک تہائی اور تیسرے کو نصف دیت دے دو۔ ان لوگوں نے یہ فیصلہ تسلیم کرنے سے انکار کر دیا (کیونکہ ان کی سمجھ میں ہی نہیں آیا)۔ چنانچہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تمہارے درمیان فیصلہ کرتا ہوں۔“ اتنی دیر میں ایک آدمی کہنے لگا: یا رسول اللہ! سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ہمارے درمیان یہ فیصلہ فرمایا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی کو نافذ کر دیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 1063
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف حنش
حدیث نمبر: 1064
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ حَبِيبٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ أَبِي الْهَيَّاجِ ، قَالَ : قَالَ لِي عَلِيٌّ ، َقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ : إِنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لِأَبِي الْهَيَّاجِ : أَبْعَثُكَ عَلَى مَا بَعَثَنِي عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَنْ " لَا تَدَعَ قَبْرًا مُشْرِفًا إِلَّا سَوَّيْتَهُ ، وَلَا تِمْثَالًا إِلَّا طَمَسْتَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے حوالے سے مروی ہے کہ انہوں نے اپنے رفیق ابوالہیاج کو مخاطب کر کے فرمایا: میں تمہیں اس کام کے لئے بھیج رہا ہوں، جس کام کے لئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بھیجا تھا، انہوں نے مجھے ہر قبر کو برابر کرنے اور ہر بت کو مٹا ڈالنے کا حکم دیا تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 1064
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 969
حدیث نمبر: 1065
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ زُبَيْدٍ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا طَاعَةَ لِبَشَرٍ فِي مَعْصِيَةِ اللَّهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اللہ کی نافرمانی میں کسی انسان کی اطاعت جائز نہیں ہے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 1065
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 4340 ، م : 1840
حدیث نمبر: 1066
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ جُرَيَّ بْنَ كُلَيْبٍ يُحَدِّثُ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ " عَضَبِ الْأُذُنِ وَالْقَرْنِ " ، قَالَ : فَسَأَلْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ مَا الْعَضَبُ ؟ فَقَالَ : النِّصْفُ فَمَا فَوْقَ ذَلِكَ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سینگ یا کان کٹے ہوئے جانور کی قربانی سے منع فرمایا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 1066
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 1067
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : كُنَّا مَعَ جَنَازَةٍ فِي بَقِيعِ الْغَرْقَدِ ، فَأَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَلَسَ وَجَلَسْنَا حَوْلَهُ ، وَمَعَهُ مِخْصَرَةٌ يَنْكُتُ بِهَا ، ثُمَّ رَفَعَ بَصَرَهُ ، فَقَالَ : " مَا مِنْكُمْ مِنْ نَفْسٍ مَنْفُوسَةٍ إِلَّا وَقَدْ كُتِبَ مَقْعَدُهَا مِنَ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ ، إِلَّا قَدْ كُتِبَتْ شَقِيَّةً أَوْ سَعِيدَةً " ، فَقَالَ الْقَوْمُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَفَلَا نَمْكُثُ عَلَى كِتَابِنَا وَنَدَعُ الْعَمَلَ ، فَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ السَّعَادَةِ فَسَيَصِيرُ إِلَى السَّعَادَةِ ، وَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الشِّقْوَةِ فَسَيَصِيرُ إِلَى الشِّقْوَةِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " بَلْ اعْمَلُوا ، فَكُلٌّ مُيَسَّرٌ ، أَمَّا مَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الشِّقْوَةِ فَإِنَّهُ يُيَسَّرُ لِعَمَلِ الشِّقْوَةِ ، وَأَمَّا مَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ السَّعَادَةِ فَإِنَّهُ يُيَسَّرُ لِعَمَلِ السَّعَادَةِ " ، ثُمَّ قَرَأَ : فَأَمَّا مَنْ أَعْطَى وَاتَّقَى وَصَدَّقَ بِالْحُسْنَى فَسَنُيَسِّرُهُ لِلْيُسْرَى وَأَمَّا مَنْ بَخِلَ وَاسْتَغْنَى وَكَذَّبَ بِالْحُسْنَى فَسَنُيَسِّرُهُ لِلْعُسْرَى سورة الليل آية 5 - 10 .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دن ہم لوگ کسی جنازے کے ساتھ بقیع میں تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے اور بیٹھ گئے، ہم بھی ان کے گرد بیٹھ گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دست مبارک میں ایک لکڑی تھی جس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم زمین کو کرید رہے تھے، تھوڑی دیر بعد سر اٹھا کر فرمایا: ”تم میں سے ہر شخص کا ٹھکانہ - خواہ جنت ہو یا جہنم - اللہ کے علم میں موجود اور متعین ہے، اور یہ لکھا جا چکا ہے کہ وہ شقی ہے یا سعید؟“ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے پوچھا: یا رسول اللہ! پھر ہم اپنی کتاب پر بھروسہ کر کے عمل کو چھوڑ نہ دیں؟ کیونکہ جو اہل سعادت میں سے ہو گا وہ سعادت حاصل کر لے گا، اور جو اہل شقاوت میں سے ہو گا وہ شقاوت پا لے گا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عمل کرتے رہو کیونکہ ہر ایک کے لئے وہی اعمال آسان کئے جائیں گے جن کے لئے اسے پیدا کیا گیا ہو گا۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن کی یہ آیت تلاوت فرمائی: «﴿فَأَمَّا مَنْ أَعْطَى وَاتَّقَى ، وَصَدَّقَ بِالْحُسْنَى ، فَسَنُيَسِّرُهُ لِلْيُسْرَى﴾ [الليل : 5-7]» ”جس شخص نے دیا، تقویٰ اختیار کیا اور اچھی بات کی تصدیق کی تو یقینا ہم آسان راستے کے اسباب پیدا کر دیں گے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 1067
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1362، م: 2647
حدیث نمبر: 1068
حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْبَكَّائِيُّ ، حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : كُنَّا مَعَ جَنَازَةٍ فِي بَقِيعِ الْغَرْقَدِ ، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث ایک دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 1068
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، وهو مكرر ما قبله
حدیث نمبر: 1069
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ " يَصُومُ يَوْمَ عَاشُورَاءَ ، وَيَأْمُرُ بِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خود بھی یوم عاشورہ کا روزہ رکھتے تھے اور دوسروں کو بھی اس کا ترغیبی حکم دیتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 1069
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف جابر الجعفي
حدیث نمبر: 1070
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، قَالَ : وحَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ الْبَزَّارُ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ كَذَبَ عَلَى عَيْنَيْهِ ، كُلِّفَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَقْدًا بَيْنَ طَرَفَيْ شَعِيرَةٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ جو شخص جھوٹا خواب بیان کرتا ہے، اسے قیامت کے دن جو کے دانے میں گرہ لگانے کا مکلف بنایا جائے گا (حکم دیا جائے گا)۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 1070
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف عبد الأعلى
حدیث نمبر: 1071
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنِي أَبُو بَحْرٍ عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ غِيَاثٍ الْبَصْرِيُّ . ح وَحَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، وَسُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ . ح وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَيُّوبَ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ أَبِي حَصِينٍ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّهُ قَالَ : كُنْتُ رَجُلًا مَذَّاءً ، فَاسْتَحْيَيْتُ أَنْ أَسْأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَنَّ ابْنَتَهُ كَانَتْ عِنْدِي ، فَأَمَرْتُ رَجُلًا فَسَأَلَهُ ، فَقَالَ : " مِنْهُ الْوُضُوءُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھے بکثرت مذی آتی تھی، چونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی میرے نکاح میں تھیں اس لئے مجھے خود یہ مسئلہ پوچھتے ہوئے شرم آتی تھی، میں نے سیدنا مقداد رضی اللہ عنہ سے کہا کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ مسئلہ پوچھیں، چنانچہ انہوں نے یہ مسئلہ پوچھا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایسا شخص وضو کر لیا کرے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 1071
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 1072
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ ابْنِ الْحَنَفِيَّةِ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مِفْتَاحُ الصَّلَاةِ الْوُضُوءُ ، وَتَحْرِيمُهَا التَّكْبِيرُ ، وَتَحْلِيلُهَا التَّسْلِيمُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”نماز کی کنجی طہارت ہے، نماز میں حلال چیزوں کو حرام کرنے والی چیز تکبیر تحریمہ ہے، اور انہیں حلال کرنے والی چیز سلام پھیرنا ہے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 1072
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 1073
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، وَشُعْبَةَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ هِلَالٍ ، عَنْ وَهْبِ بْنِ الْأَجْدَعِ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تُصَلُّوا بَعْدَ الْعَصْرِ إِلَّا أَنْ تُصَلُّوا وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عصر کی نماز کے بعد کوئی نماز نہ پڑھو، ہاں! اگر سورج صاف ستھرا دکھائی دے رہا ہو تو جائز ہے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 1073
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح
حدیث نمبر: 1074
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى زَحْمَوَيْهِ . ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارٍ . ح وَحَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ أَبُو مَعْمَرٍ ، وَسُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ يَزِيدَ الْأَصَمُّ ، قَالَ أَبُو مَعْمَرٍ : مَوْلَى قُرَيْشٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي السُّدِّيُّ ، وَقَالَ زَحْمَوَيْهِ فِي حَدِيثِهِ : قَالَ : سَمِعْتُ السُّدِّيَّ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : لَمَّا تُوُفِّيَ أَبُو طَالِبٍ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقُلْتُ : إِنَّ عَمَّكَ الشَّيْخَ قَدْ مَاتَ ، قَالَ : " اذْهَبْ فَوَارِهِ ، وَلَا تُحْدِثْ مِنْ أَمْرِهِ شَيْئًا حَتَّى تَأْتِيَنِي " ، فَوَارَيْتُهُ ثُمَّ أَتَيْتُهُ ، فَقَالَ : " اذْهَبْ فَاغْتَسِلْ ، وَلَا تُحْدِثْ شَيْئًا حَتَّى تَأْتِيَنِي " ، فَاغْتَسَلْتُ ثُمَّ أَتَيْتُهُ ، فَدَعَا لِي بِدَعَوَاتٍ مَا يَسُرُّنِي بِهِنَّ حُمْرُ النَّعَمِ وَسُودُهَا ، وقَالَ ابْنُ بَكَّارٍ فِي حَدِيثِهِ : قَالَ السُّدِّيُّ : وَكَانَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِذَا غَسَلَ مَيِّتًا اغْتَسَلَ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب ابوطالب کی وفات ہو گئی تو میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ آپ کا بوڑھا چچا مر گیا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جا کر انہیں کسی گڑھے میں چھپا دو، اور میرے پاس آنے سے پہلے کوئی دوسرا کام نہ کرنا۔“ چنانچہ جب میں انہیں کسی گڑھے میں اتار کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس واپس آیا تو مجھ سے فرمایا: ”جا کر غسل کرو، اور میرے پاس آنے سے پہلے کوئی دوسرا کام نہ کرنا۔“ چنانچہ میں غسل کر کے بارگاہ رسالت میں حاضر ہوا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اتنی دعائیں دیں کہ مجھے ان کے بدلے سرخ یا سیاہ اونٹ ملنے پر اتنی خوشی نہ ہوتی۔ راوی کہتے ہیں کہ اس کے بعد سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے جب بھی کسی میت کو غسل دیا تو خود بھی غسل کر لیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 1074
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، قاله أحمد شاكر
حدیث نمبر: 1075
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ النَّرْسِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص جان بوجھ کر میری طرف کسی جھوٹی بات کی نسبت کرے، اسے جہنم میں اپنا ٹھکانہ تیار کر لینا چاہیے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 1075
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف عبد الأعلى الثعلبي، لكن متن الحديث صحيح متواتر، خ: 106، م: (في المقدمة): 1
حدیث نمبر: 1076
(حديث مرفوع) قَالَ : حَدَّثَنَاه إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " لَا تُصَلُّوا بَعْدَ الْعَصْرِ ، إِلَّا أَنْ تُصَلُّوا وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ " ، قَالَ سُفْيَانُ : فَمَا أَدْرِي بِمَكَّةَ يَعْنِي أَوْ بِغَيْرِهَا ؟ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عصر کی نماز کے بعد کوئی نماز نہ پڑھو، ہاں! اگر سورج صاف ستھرا دکھائی دے رہا ہو تو جائز ہے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 1076
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 1077
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ ، عَنْ أَبِي عَوْنٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ الْحَنَفِيِّ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّ أُكَيْدِرَ دُومَةَ أَهْدَى لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُلَّةً أَوْ ثَوْبَ حَرِيرٍ ، قَالَ : فَأَعْطَانِيهِ ، وَقَالَ : " شَقِّقْهُ خُمُرًا بَيْنَ النِّسْوَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ دومۃ الجندل - جو شام اور مدینہ کے درمیان ایک علاقہ ہے - کے بادشاہ اکیدر نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک ریشمی جوڑا بطور ہدیہ کے بھیجا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ مجھے عطاء کر کے فرمایا: ”اس کے دوپٹے بنا کر عورتوں میں تقسیم کر دو۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 1077
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2614، م: 2071
حدیث نمبر: 1078
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَبُعٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، يَقُولُ : لَتُخْضَبَنَّ هَذِهِ مِنْ هَذَا ، فَمَا يَنْتَظِرُ بِي الْأَشْقَى ؟ ! قَالُوا : يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ، فَأَخْبِرْنَا بِهِ نُبِيرُ عِتْرَتَهُ ، قَالَ : إِذًا تَالَلَّهِ تَقْتُلُونَ بِي غَيْرَ قَاتِلِي ، قَالُوا : فَاسْتَخْلِفْ عَلَيْنَا ، قَالَ : لَا ، وَلَكِنْ أَتْرُكُكُمْ إِلَى مَا تَرَكَكُمْ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالُوا : فَمَا تَقُولُ لِرَبِّكَ إِذَا أَتَيْتَهُ ؟ وَقَالَ وَكِيعٌ مَرَّةً : إِذَا لَقِيتَهُ ؟ قَالَ : أَقُولُ : " اللَّهُمَّ تَرَكْتَنِي فِيهِمْ مَا بَدَا لَكَ ، ثُمَّ قَبَضْتَنِي إِلَيْكَ وَأَنْتَ فِيهِمْ ، فَإِنْ شِئْتَ أَصْلَحْتَهُمْ ، وَإِنْ شِئْتَ أَفْسَدْتَهُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
عبداللہ بن سبع کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ یہ داڑھی اس سر کے خون سے رنگین ہو کر رہے گی، وہ شقی جو مجھے قتل کرے گا نہ جانے کس چیز کا انتظار کر رہا ہے؟ لوگوں نے کہا: امیر المومنین! ہمیں اس کا نام پتہ بتائیے، ہم اس کی نسل تک مٹا دیں گے، فرمایا: واللہ! اس طرح تو تم میرے قاتل کے علاوہ کسی اور کو قتل کر دو گے، لوگوں نے عرض کیا کہ پھر ہم پر اپنا نائب ہی مقرر کر دیجئے، فرمایا: نہیں، میں تمہیں اسی کیفیت پر چھوڑ کر جاؤں گا جس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے چھوڑا تھا۔ لوگوں نے عرض کیا کہ پھر آپ جب اپنے رب سے ملیں گے تو اسے کیا جواب دیں گے (کہ آپ نے کسے خلیفہ مقرر کیا؟)، فرمایا: میں عرض کروں گا کہ اے اللہ! جب تک آپ کی مشیت ہوئی، آپ نے مجھے ان میں چھوڑے رکھا، پھر آپ نے مجھے اپنے پاس بلا لیا تب بھی آپ ان میں موجود تھے، اب اگر آپ چاہیں تو ان میں اصلاح رکھیں اور اگر آپ چاہیں تو ان میں پھوٹ ڈال دیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 1078
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة عبدالله بن سبع
حدیث نمبر: 1079
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ هَانِئِ بْنِ هَانِئٍ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَجَاءَهُ عَمَّارٌ فَاسْتَأْذَنَ ، فَقَالَ : " ائْذَنُوا لَهُ ، مَرْحَبًا بِالطَّيِّبِ الْمُطَيَّبِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھا، اتنی دیر میں سیدنا عمار رضی اللہ عنہ آ کر اجازت طلب کرنے لگے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انہیں اجازت دے دو، خوش آمدید اس شخص کو جو پاکیزہ ہے اور پاکیزگی کا حامل ہے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 1079
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، قاله أحمد شاكر
حدیث نمبر: 1080
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " إِذَا حُدِّثْتُمْ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثًا فَظُنُّوا بِهِ الَّذِي هُوَ أَهْيَا ، وَالَّذِي هُوَ أَهْدَى ، وَالَّذِي هُوَ أَتْقَى " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب تمہارے سامنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی حدیث بیان کی جائے تو اس کے بارے وہ گمان کرو جو راہ راست پر ہو، جو اس کے مناسب ہو اور جو تقوی پر مبنی ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 1080
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، إلا أنه مرسل، أبو البختري روايته عن على مرسلة، لكن السند الذى بعده موصول
حدیث نمبر: 1081
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، مِثْلَهُ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 1081
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح