حدیث نمبر: 1002
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي حَسَنُ بْنُ مُسْلِمٍ ، وَعَبْدُ الْكَرِيمِ ، أن مجاهدا أخبرهما ، أن عبد الرحمن بن أبي ليلى أخبره ، أن عليا رضي الله عنه أخبره ، أن النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَهُ أَنْ " يَقُومَ عَلَى بُدْنِهِ ، وَأَمَرَهُ أَنْ يَقْسِمَ بُدْنَهُ كُلَّهَا لُحُومَهَا ، وَجُلُودَهَا ، وَجِلَالَهَا ، وَلَا يُعْطِيَ فِي جِزَارَتِهَا مِنْهَا شَيْئًا .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ قربانی کے موقع پر آپ کے ساتھ موجود رہوں، اور یہ کہ ان اونٹوں کی کھالیں اور جھولیں بھی تقسیم کر دوں اور گوشت بھی تقسیم کر دوں، اور یہ بھی حکم دیا کہ قصاب کو ان میں سے کوئی چیز مزدوری کے طور پر نہ دوں۔
حدیث نمبر: 1003
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ ، وَقَالَ : " نَحْنُ نُعْطِيهِ مِنْ عِنْدِنَا الْأَجْرَ " .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حدیث نمبر: 1004
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ ، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُنَيْنٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : نَهَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " عَنْ خَاتَمِ الذَّهَبِ ، وَأَنْ أَقْرَأَ وَأَنَا رَاكِعٌ ، وَعَنِ الْقَسِّيِّ ، وَالْمُعَصْفَرِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے رکوع کی حالت میں قرآن کریم کی تلاوت، سونے کی انگوٹھی، ریشی کپڑے اور عصفر سے رنگے ہوئے کپڑے پہننے سے منع فرمایا ہے۔
حدیث نمبر: 1005
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنِي شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَيْسَرَةَ ، عَنِ النَّزَّالِ بْنِ سَبْرَةَ ، أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ لَمَّا صَلَّى الظُّهْرَ ، دَعَا بِكُوزٍ مِنْ مَاءٍ فِي الرَّحَبَةِ ، فَشَرِبَ وَهُوَ قَائِمٌ ، ثُمّ قَالَ : إِنَّ رِجَالًا يَكْرَهُونَ هَذَا ، وَإِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَلَ كَالَّذِي رَأَيْتُمُونِي فَعَلْتُ ، ثُمَّ تَمَسَّحَ بِفَضْلِهِ ، وَقَالَ : " هَذَا وُضُوءُ مَنْ لَمْ يُحْدِثْ " .
مولانا ظفر اقبال
نزال بن سبرہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ نماز ظہر کے بعد سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس ایک کوزے میں پانی لایا گیا، وہ مسجد کے صحن میں تھے، انہوں نے کھڑے کھڑے وہ پانی پی لیا اور فرمایا کہ کچھ لوگ اسے ناپسند سمجھتے ہیں حالانکہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح کرتے ہوئے دیکھا ہے جیسے تم نے مجھے کرتے ہوئے دیکھا ہے، پھر انہوں نے باقی پانی سے مسح کر لیا اور فرمایا: جو آدمی بےوضو نہ ہو بلکہ پہلے سے اس کا وضو موجود ہو، یہ اس شخص کا وضو ہے۔
حدیث نمبر: 1006
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ ابْنِ الْحَنَفِيَّةِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " مِفْتَاحُ الصَّلَاةِ الطُّهُورُ ، وَتَحْرِيمُهَا التَّكْبِيرُ ، وَتَحْلِيلُهَا التَّسْلِيمُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”نماز کی کنجی طہارت ہے، نماز میں حلال چیزوں کو حرام کرنے والی چیز تکبیر تحریمہ ہے، اور انہیں حلال کرنے والی چیز سلام پھیرنا ہے۔“
حدیث نمبر: 1007
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عُقْبَةَ أَبُو كِبْرَانَ الْمُرَادِيُّ ، سَمِعْتُ عَبْدَ خَيْرٍ ، يَقُولُ : قَالَ عَلِيٌّ : أَلَا أُرِيكُمْ وُضُوءَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ ثُمَّ " تَوَضَّأَ ثَلَاثًا ثَلَاثًا " .
مولانا ظفر اقبال
عبدخیر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کیا میں تمہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرح وضو کر کے نہ دکھاؤں؟ پھر انہوں نے اپنے اعضاء وضو کو تین تین مرتبہ دھویا۔
حدیث نمبر: 1008
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا مُسْهِرُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ سَلْعٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ سَلْعٍ ، قَالَ : كَانَ عَبْدُ خَيْرٍ يَؤُمُّنَا فِي الْفَجْرِ ، فَقَالَ : صَلَّيْنَا يَوْمًا الْفَجْرَ خَلْفَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، فَلَمَّا سَلَّمَ قَامَ وَقُمْنَا مَعَهُ ، فَجَاءَ يَمْشِي حَتَّى انْتَهَى إِلَى الرَّحَبَةِ ، فَجَلَسَ وَأَسْنَدَ ظَهْرَهُ إِلَى الْحَائِطِ ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَقَالَ : يَا قَنْبَرُ ، ائْتِنِي بِالرَّكْوَةِ وَالطَّسْتِ ، ثُمَّ قَالَ لَهُ : صُبَّ ، فَصَبَّ عَلَيْهِ ، " فَغَسَلَ كَفَّهُ ثَلَاثًا ، وَأَدْخَلَ كَفَّهُ الْيُمْنَى فَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ ثَلَاثًا ، ثُمَّ أَدْخَلَ كَفَّيْهِ فَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا ، ثُمَّ أَدْخَلَ كَفَّهُ الْيُمْنَى فَغَسَلَ ذِرَاعَهُ الْأَيْمَنَ ثَلَاثًا ، ثُمَّ غَسَلَ ذِرَاعَهُ الْأَيْسَرَ ثَلَاثًا ، فَقَالَ : هَذَا وُضُوءُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
مولانا ظفر اقبال
ابوعبدالملک کہتے ہیں کہ نماز فجر میں عبدخیر رحمہ اللہ ہماری امامت کرتے تھے، ایک دن ہمیں نماز فجر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پیچھے پڑھنے کا موقع ملا، سلام پھیر کر جب وہ کھڑے ہوئے تو ہم بھی کھڑے ہو گئے، یہاں تک کہ وہ چلتے ہوئے صحن مسجد میں آ گئے اور بیٹھ کر دیوار سے ٹیک لگا لی، پھر سر اٹھا کر اپنے غلام سے کہا: قنبر! ڈول اور طشت لاؤ، پھر فرمایا کہ پانی ڈالو، اس نے پانی ڈالنا شروع کیا، چنانچہ پہلے انہوں نے اپنی ہتھیلی کو تین مرتبہ دھویا، پھر دایاں ہاتھ برتن میں ڈالا اور پانی نکال کر کلی کی اور تین ہی مرتبہ ناک میں پانی ڈالا، پھر دونوں ہاتھ ڈال کر پانی نکالا، تین مرتبہ چہرہ دھویا، پھر دایاں ہاتھ ڈال کر پانی نکالا اور تین مرتبہ دائیں ہاتھ کو دھویا، پھر بائیں ہاتھ کو تین مرتبہ دھویا اور فرمایا کہ یہ ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا وضو۔
حدیث نمبر: 1009
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَالَ عَلِيٌّ : كُنْتُ رَجُلًا مَذَّاءً ، وَكُنْتُ أَسْتَحِي أَنْ أَسْأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِمَكَانِ ابْنَتِهِ ، فَأَمَرْتُ الْمِقْدَادَ فَسَأَلَهُ ، فَقَالَ : " يَغْسِلُ ذَكَرَهُ وَأُنْثَيَيْهِ وَيَتَوَضَّأُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھے بکثرت مذی آتی تھی، چونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی میرے نکاح میں تھیں اس لئے مجھے خود یہ مسئلہ پوچھتے ہوئے شرم آتی تھی، میں نے سیدنا مقداد رضی اللہ عنہ سے کہا کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ مسئلہ پوچھیں، چنانچہ انہوں نے یہ مسئلہ پوچھا، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایسا شخص اپنی شرمگاہ کو دھو کر وضو کر لیا کرے۔“
حدیث نمبر: 1010
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ مُنْذِرٍ أَبِي يَعْلَى ، عَنْ ابْنِ الْحَنَفِيَّةِ ، أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَمَرَ الْمِقْدَادَ فَسَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْمَذْيِ ، فَقَالَ : " يَتَوَضَّأُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے سیدنا مقداد رضی اللہ عنہ سے کہا کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مذی کا حکم پوچھیں، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایسا شخص وضو کر لیا کرے۔“
حدیث نمبر: 1011
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلِمَةَ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَقْضِي الْحَاجَةَ ، فَيَأْكُلُ مَعَنَا اللَّحْمَ ، وَيَقْرَأُ الْقُرْآنَ ، وَلَمْ يَكُنْ يَحْجِزُهُ أَوْ يَحْجُبُهُ ، إِلَّا الْجَنَابَةُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم قضاء حاجت کے بعد وضو کیے بغیر باہر تشریف لا کر قرآن کریم کی تلاوت شروع کر دیتے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ساتھ گوشت بھی تناول فرما لیا کرتے تھے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جنابت کے علاوہ کوئی چیز قرآن سے نہیں روکتی تھی۔
حدیث نمبر: 1012
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يُصَلِّي عَلَى كُلِّ أَثَرِ صَلَاةٍ مَكْتُوبَةٍ رَكْعَتَيْنِ ، إِلَّا الْفَجْرَ وَالْعَصْرَ " ، وَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ : فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فجر اور عصر کے علاوہ ہر فرض نماز کے بعد دو رکعت نماز پڑھتے تھے۔
حدیث نمبر: 1013
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، وَأَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَا : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ ، عَنْ عَلِيٍّ ، قَالَ : كُنْتُ أَرَى أَنَّ بَاطِنَ الْقَدَمَيْنِ أَحَقُّ بِالْمَسْحِ مِنْ ظَاهِرِهِمَا ، حَتَّى رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَمْسَحُ ظَاهِرَهُمَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میری رائے یہ تھی کہ مسح علی الخفین کے لئے موزوں کا وہ حصہ زیادہ موزوں ہے جو زمین کے ساتھ لگتا ہے بہ نسبت اس حصے کے جو پاؤں کے اوپر رہتا ہے، حتی کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو جب اوپر کے حصے پر مسح کرتے ہوئے دیکھ لیا تو میں نے اپنی رائے کو ترک کر دیا۔
حدیث نمبر: 1014
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي السَّوْدَاءِ ، عَنْ ابْنِ عَبْدِ خَيْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : رَأَيْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ تَوَضَّأَ فَغَسَلَ ظُهُورَ قَدَمَيْهِ ، وَقَالَ : لَوْلَا أَنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَغْسِلُ ظُهُورَ قَدَمَيْهِ " ، لَظَنَنْتُ أَنَّ بُطُونَهُمَا أَحَقُّ بِالْغَسْلِ .
مولانا ظفر اقبال
عبدخیر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے ایک مرتبہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو وضو کرتے ہوئے دیکھا، انہوں نے پاؤں کے اوپر والے حصے کو دھویا اور فرمایا: اگر میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو پاؤں کا اوپر والا حصہ دھوتے ہوئے نہ دیکھا ہوتا تو میری رائے یہ تھی کہ پاؤں کا نچلا حصہ دھوئے جانے کا زیادہ حق دار ہے (کیونکہ وہ زمین کے ساتھ زیادہ لگتا ہے)۔
حدیث نمبر: 1015
(حديث موقوف) (حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ مَرَّةً أُخْرَى ، قَالَ : رَأَيْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ تَوَضَّأَ " فَمَسَحَ ظُهُورَهُمَا " .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے جس میں ہے کہ میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو وضو کرتے ہوئے دیکھا، انہوں نے پاؤں کے اوپر والے حصے پر مسح کیا۔
حدیث نمبر: 1016
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عُقْبَةَ أَبُو كِبْرَانَ ، عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ ، يَعْنِي : هَذَا وُضُوءُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ " تَوَضَّأَ ثَلَاثًا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ وضو کرتے ہوئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اعضاء وضو کو تین تین مرتبہ دھویا۔
حدیث نمبر: 1017
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : مَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُفَدِّي أَحَدًا بِأَبَوَيْهِ إِلَّا سَعْدَ بْنَ مَالِكٍ ، فَإِنِّي سَمِعْتُهُ يَقُولُ لَهُ يَوْمَ أُحُدٍ : " ارْمِ سَعْدُ ، فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی کسی کے لئے - سوائے سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کے - اپنے والدین کو جمع کرتے ہوئے نہیں سنا۔ غزوہ احد کے دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے فرما رہے تھے: ”سعد! تیر پھینکو، تم پر میرے ماں باپ قربان ہوں۔“
حدیث نمبر: 1018
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : بَعَثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَرِيَّةً ، وَأَمَّرَ عَلَيْهِمْ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ ، وَأَمَرَهُمْ أَنْ يَسْمَعُوا لَهُ وَيُطِيعُوا ، قَالَ : فَأَغْضَبُوهُ فِي شَيْءٍ ، فَقَالَ : اجْمَعُوا لِي حَطَبًا ، فَجَمَعُوا حَطَبًا ، ثُمَّ قَالَ : أَوْقِدُوا نَارًا ، فَأَوْقَدُوا لَهُ نَارًا ، فَقَالَ : أَلَمْ يَأْمُرْكُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تَسْمَعُوا لِي وَتُطِيعُوا ؟ قَالُوا : بَلَى ، قَالَ : فَادْخُلُوهَا ، قَالَ : فَنَظَرَ بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ ، فَقَالُوا : إِنَّمَا فَرَرْنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَجْلِ النَّارِ ، فَكَانُوا كَذَلِكَ إِذْ سَكَنَ غَضَبُهُ ، وَطَفِئَتْ النَّارُ ، قَالَ : فَلَمَّا قَدِمُوا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرُوا ذَلِكَ لَهُ ، فَقَالَ : " لَوْ دَخَلُوهَا مَا خَرَجُوا مِنْهَا ، إِنَّمَا الطَّاعَةُ فِي الْمَعْرُوفِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لشکر روانہ فرمایا اور ایک انصاری کو ان کا امیر مقرر کر دیا، اور لوگوں کو اس کی بات سننے اور اطاعت کرنے کا حکم دیا، جب وہ لوگ روانہ ہوئے تو راستے میں اس انصاری کو کسی بات پر غصہ آگیا، اس نے کہا کہ لکڑیاں اکٹھی کرو، اس کے بعد اس نے آگ منگوا کر لکڑیوں میں آگ لگا دی اور کہا: کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے میری بات سننے اور اطاعت کرنے کا حکم نہیں دیا تھا؟ لوگوں نے کہا: کیوں نہیں، اس نے کہا: پھر اس آگ میں داخل ہو جاؤ۔ لوگ ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے اور کہنے لگے کہ آگ ہی سے تو بھاگ کر ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دامن سے وابستہ ہوئے ہیں۔ تھوڑی دیر بعد اس کا غصہ بھی ٹھنڈا ہو گیا اور آگ بجھ گئی۔ جب وہ لوگ واپس آئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو سارا واقعہ بتایا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تم اس میں ایک مرتبہ داخل ہو جاتے تو پھر کبھی اس میں سے نکل نہ سکتے، یاد رکھو! اطاعت کا تعلق تو صرف نیکی کے کاموں سے ہے۔“
حدیث نمبر: 1019
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ . ح وَعَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أخبرنا سُفْيَانُ ، عَنْ عَاصِمٍ يَعْنِي ابْنَ كُلَيْبٍ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : نَهَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَنْ أَجْعَلَ الْخَاتَمَ فِي هَذِهِ أَوْ فِي هَذِهِ " ، قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ : لِأُصْبُعَيْهِ : السَّبَّابَةِ وَالْوُسْطَى .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے درمیانی یا شہادت والی انگلی میں انگوٹھی پہننے سے منع فرمایا ہے۔
حدیث نمبر: 1020
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ أَبِي هَاشِمٍ الْقَاسِمِ بْنِ كَثِيرٍ ، عَنْ قَيْسٍ الْخَارِفِيِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، يَقُولُ : " سَبَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَصَلَّى أَبُو بَكْرٍ ، وَثَلَّثَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، ثُمَّ خَبَطَتْنَا ، أَوْ أَصَابَتْنَا فِتْنَةٌ ، فَمَا شَاءَ اللَّهُ جَلَّ جَلَالُهُ " ، قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ : قَالَ أَبِي : قَوْلُهُ : " ثُمَّ خَبَطَتْنَا فِتْنَةٌ " ، أَرَادَ أَنْ يَتَوَاضَعَ بِذَلِكَ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سب سے پہلے تشریف لے گئے، دوسرے نمبر پر سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ چلے گئے، اور تیسرے نمبر پر سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ چلے گئے، اس کے بعد ہمیں امتحانات نے گھیر لیا، اللہ جسے چاہے گا اسے معاف فرما دے گا۔
حدیث نمبر: 1021
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، وَشُعْبَةَ ، وَحَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، عَنْ حُجَيَّةَ بْنِ عَدِيٍّ ، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ الْبَقَرَةِ ؟ فَقَالَ : عَنْ سَبْعَةٍ ، قَالَ : الْقَرَنُ ؟ قَالَ : لَا يَضُرُّكَ ، قَالَ : الْعَرْجَاءُ ؟ قَالَ : إِذَا بَلَغَتْ الْمَنْسَكَ ، قَالَ : وَأَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَنْ نَسْتَشْرِفَ الْعَيْنَ وَالْأُذُنَ " .
مولانا ظفر اقبال
ایک آدمی نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے گائے کی قربانی کے حوالے سے سوال کیا، انہوں نے فرمایا کہ ایک گائے سات آدمیوں کی طرف سے کفایت کر جاتی ہے، اس نے پوچھا کہ اگر اس کا سینگ ٹوٹا ہوا ہو تو؟ فرمایا: کوئی حرج نہیں، اس نے کہا کہ اگر وہ لنگڑی ہو؟ فرمایا: اگر قربان گاہ تک خود چل کر جا سکے تو اسے ذبح کر لو، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا ہے کہ ”جانور کے آنکھ اور کان اچھی طرح دیکھ لیں۔“
حدیث نمبر: 1022
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ حُجَيَّةَ بْنَ عَدِيٍّ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْه ، وَسَأَلَهُ رَجُلٌ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حدیث نمبر: 1023
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ حَارِثَةَ بْنِ مُضَرِّبٍ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : مَا كَانَ فِينَا فَارِسٌ يَوْمَ بَدْرٍ غَيْرُ الْمِقْدَادِ ، وَلَقَدْ رَأَيْتُنَا وَمَا فِينَا إِلَّا نَائِمٌ ، إِلَّا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " تَحْتَ شَجَرَةٍ يُصَلِّي ، وَيَبْكِي ، حَتَّى أَصْبَحَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ غزوہ بدر کے موقع پر سیدنا مقداد رضی اللہ عنہ کے علاوہ ہم میں گھڑ سوار کوئی نہ تھا، اور ہمارے درمیان ہر شخص سو جاتا تھا سوائے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے جو ایک درخت کے نیچے نماز پڑھتے جاتے تھے اور روتے جاتے تھے یہاں تک کہ صبح ہو گئی۔
حدیث نمبر: 1024
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ أَبِي حَصِينٍ ، عَنْ عُمَيْرِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " مَا مِنْ رَجُلٍ أَقَمْتُ عَلَيْهِ حَدًّا فَمَاتَ فَأَجِدُ فِي نَفْسِي إِلَّا الْخَمْرَ ، فَإِنَّهُ لَوْ مَاتَ لَوَدَيْتُهُ ، لِأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَسُنَّهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جس شخص پر بھی میں نے کوئی شرعی سزا نافذ کی ہو، اس کے متعلق مجھے اپنے دل میں کوئی کھٹک محسوس نہیں ہوتی، سوائے شراب کے کہ اگر اس کی سزا اسی کوڑے جاری کرنے کے بعد کوئی شخص مر جائے تو میں اس کی دیت ادا کرتا ہوں، کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی کوئی حد مقرر نہیں فرمائی (کہ چالیس کوڑے مارے جائیں یا اسی)۔
حدیث نمبر: 1025
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي حَيَّةَ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ " يَتَوَضَّأُ ثَلَاثًا ثَلَاثًا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ وضو کرتے ہوئے اعضاء وضو کو تین تین مرتبہ دھویا۔
حدیث نمبر: 1026
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ زَائِدَةَ بْنِ قُدَامَةَ ، عَنْ أَبِي حَصِينٍ الْأَسَدِيِّ . ح وَابْنُ أَبِي بُكَيْرٍ ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، أَنْبَأَنَا أَبُو حَصِينٍ الْأَسَدِيُّ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : كُنْتُ رَجُلًا مَذَّاءً ، وَكَانَتْ تَحْتِي ابْنَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَمَرْتُ رَجُلًا فَسَأَلَهُ ، فَقَالَ : " تَوَضَّأْ وَاغْسِلْهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھے بکثرت مذی آتی تھی، چونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی میرے نکاح میں تھیں اس لئے مجھے خود یہ مسئلہ پوچھتے ہوئے شرم آتی تھی، میں نے ایک آدمی سے کہا کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ مسئلہ پوچھیں، چنانچہ انہوں نے یہ مسئلہ پوچھا، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایسا شخص اپنی شرمگاہ کو دھو کر وضو کر لیا کرے۔“
حدیث نمبر: 1027
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْوَرَكَانِيُّ ، أَنْبَأَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ ، قَالَ : صَلَّيْنَا الْغَدَاةَ فَأَتَيْنَاهُ فَجَلَسْنَا إِلَيْهِ فَدَعَا بِوَضُوءٍ ، فَأُتِيَ بِرَكْوَةٍ فِيهَا مَاءٌ وَطَسْتٍ ، قَالَ : " فَأَفْرَغَ الرَّكْوَةَ عَلَى يَدِهِ الْيُمْنَى ، فَغَسَلَ يَدَيْهِ ثَلَاثًا ، وَتَمَضْمَضَ ثَلَاثًا ، وَاسْتَنْثَرَ ثَلَاثًا ، بِكَفٍّ كَفٍّ ، ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا ، وَذِرَاعَيْهِ ثَلَاثًا ثَلَاثًا ، ثُمَّ وَضَعَ يَدَهُ فِي الرَّكْوَةِ فَمَسَحَ بِهَا رَأْسَهُ بِكَفَّيْهِ جَمِيعًا مَرَّةً وَاحِدَةً ، ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَيْه ِثلاثاً ثَلَاثًا ، ثُمّ قَالَ : هَذَا وُضُوءُ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاعْلَمُوهُ " .
مولانا ظفر اقبال
عبدخیر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم فجر کی نماز پڑھ کر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس جا کر بیٹھ گئے، انہوں نے وضو کا پانی منگوایا، چنانچہ ایک ڈول میں پانی اور ایک طشت لایا گیا، پھر انہوں نے دائیں ہاتھ پر ڈول سے پانی بہایا اور اپنی ہتھیلی کو تین مرتبہ دھویا، پھر دایاں ہاتھ برتن میں ڈالا اور پانی نکال کر کلی کی اور تین ہی مرتبہ ناک میں پانی ڈالا، پھر تین مرتبہ چہرہ دھویا، تین تین مرتبہ دونوں بازؤوں کو دھویا، پھر دایاں ہاتھ ڈال کر پانی نکالا اور دونوں ہتھیلیوں سے ایک ہی مرتبہ سر کا مسح کر لیا، پھر تین تین مرتبہ دونوں پاؤں دھوئے اور فرمایا کہ یہ ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا وضو، اسے خوب سمجھ لو۔
حدیث نمبر: 1028
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، عَنْ الرُّكَيْنِ بْنِ الرَّبِيعِ ، عَنْ حُصَيْنِ بْنِ قَبِيصَةَ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : كُنْتُ رَجُلًا مَذَّاءً ، فَسَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : " إِذَا رَأَيْتَ الْمَذْيَ فَتَوَضَّأْ وَاغْسِلْ ذَكَرَكَ ، وَإِذَا رَأَيْتَ فَضْخَ الْمَاءِ فَاغْتَسِلْ " ، فَذَكَرْتُهُ لِسُفْيَانَ ، فَقَالَ : قَدْ سَمِعْتُهُ مِنْ رُكَيْنٍ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میرے جسم سے خروج مذی بکثرت ہوتا تھا، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا تو فرمایا: ”جب مذی دیکھو تو اپنی شرمگاہ کو دھو لیا کرو اور نماز جیسا وضو کر لیا کرو، اور اگر منی خارج ہو تو غسل کر لیا کرو۔“
حدیث نمبر: 1029
حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ ، وَابْنُ أَبِي بُكَيْرٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، حَدَّثَنَا الرُّكَيْنُ بْنُ الرَّبِيعِ بْنِ عَمِيلَةَ الْفَزَارِيُّ ، فَذَكَرَ مِثْلَهُ ، وَقَالَا : فَضْخَ الْمَاءِ ، وَحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي بُكَيْرٍ ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، وَقَالَ : فَضْخَ أَيْضًا .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حدیث نمبر: 1030
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنِي وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ ، أخبرنا خَالِدٌ ، عَنْ عَطَاءٍ يَعْنِي ابْنَ السَّائِبِ ، عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِ هَذِهِ الْأُمَّةِ بَعْدَ نَبِيِّهَا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ أَبُو بَكْرٍ ، ثُمَّ خَيْرُهَا بَعْدَ أَبِي بَكْرٍ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، ثُمَّ يَجْعَلُ اللَّهُ الْخَيْرَ حَيْثُ أَحَبَّ " .
مولانا ظفر اقبال
ایک مرتبہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کیا میں تمہیں یہ نہ بتاؤں کہ اس امت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سب سے بہترین شخص کون ہے؟ وہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ہیں، اور سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے بعد اس امت میں سب سے بہترین شخص سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ہیں، اس کے بعد اللہ جہاں چاہتا ہے اپنی محبت پیدا فرما دیتا ہے۔
حدیث نمبر: 1031
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنِي أَبُو بَحْرٍ عَبْدُ الْوَاحِدِ الْبَصْرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ ، قَالَ : قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ لَمَّا فَرَغَ مِنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ : " إِنَّ خَيْرَ هَذِهِ الْأُمَّةِ بَعْدَ نَبِيِّهَا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبُو بَكْرٍ ، وَبَعْدَ أَبِي بَكْرٍ عُمَرُ ، وَأَحْدَثْنَا أَحْدَاثًا يَصْنَعُ اللَّهُ فِيهَا مَا شَاءَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ جب اہل بصرہ سے فارغ ہوئے تو فرمایا: اس امت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سب سے بہترین شخص سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ تھے، ان کے بعد سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ تھے، اس کے بعد ہم نے ایسی چیزیں ایجاد کر لی ہیں جن میں اللہ جو چاہے گا سو کرے گا۔
حدیث نمبر: 1032
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنِي وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ الْوَاسِطِيُّ ، أخبرنا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ حُصَيْنٍ ، عَنِ الْمُسَيَّبِ بْنِ عَبْدِ خَيْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَامَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، فَقَالَ : " خَيْرُ هَذِهِ الْأُمَّةِ بَعْدَ نَبِيِّهَا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ ، وَإِنَّا قَدْ أَحْدَثْنَا بَعْدُ أَحْدَاثًا يَقْضِي اللَّهُ فِيهَا مَا شَاءَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اس امت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سب سے بہترین شخص سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ تھے، ان کے بعد سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ تھے، اس کے بعد ہم نے ایسی چیزیں ایجاد کر لی ہیں جن میں اللہ جو چاہے گا سو کرے گا۔
حدیث نمبر: 1033
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ هَانِئِ بْنِ هَانِئٍ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : جَاءَ عَمَّارٌ يَسْتَأْذِنُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " ائْذَنُوا لَهُ ، مَرْحَبًا بِالطَّيِّبِ الْمُطَيَّبِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ (ایک مرتبہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھا) اتنی دیر میں سیدنا عمار رضی اللہ عنہ آ کر اجازت طلب کرنے لگے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انہیں اجازت دے دو، خوش آمدید اس شخص کو جو پاکیزہ ہے اور پاکیزگی کا حامل ہے۔“
حدیث نمبر: 1034
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ ذِي حُدَّانَ ، حَدَّثَنِي مَنْ ، سَمِعَ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، يَقُولُ : سَمَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " الْحَرْبَ خَدْعَةً " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ کو ”چال“ قرار دیا ہے۔
حدیث نمبر: 1035
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ هِشَامٍ ، أَخْبَرَنِي أَبِي ، أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لِلْمِقْدَادِ : سَلْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الرَّجُلِ يَدْنُو مِنَ الْمَرْأَةِ فَيُمْذِي ، فَإِنِّي أَسْتَحْيِي مِنْهُ ، لِأَنَّ ابْنَتَهُ عِنْدِي ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَغْسِلُ ذَكَرَهُ وَأُنْثَيَيْهِ وَيَتَوَضَّأُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے سیدنا مقداد رضی اللہ عنہ سے کہا کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ مسئلہ پوچھیں: اگر کوئی آدمی اپنی بیوی کے قریب جائے اور اس سے مذی خارج ہو تو کیا حکم ہے؟ مجھے خود یہ مسئلہ پوچھتے ہوئے شرم آتی ہے، کیونکہ ان کی صاحبزادی میرے نکاح میں ہیں، چنانچہ انہوں نے یہ مسئلہ پوچھا، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایسا شخص اپنی شرمگاہ کو دھو کر وضو کر لیا کرے۔“
حدیث نمبر: 1036
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنِ أَبِي الضُّحَى ، عَنْ شُتَيْرِ بْنِ شَكَلٍ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : شَغَلُونَا يَوْمَ الْأَحْزَابِ عَنْ صَلَاةِ الْعَصْرِ ، حَتَّى سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " شَغَلُونَا عَنْ صَلَاةِ الْوُسْطَى ، صَلَاةِ الْعَصْرِ ، مَلَأَ اللَّهُ قُبُورَهُمْ وَبُيُوتَهُمْ وَأَجْوَافَهُمْ نَارًا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ غزوہ خندق کے دن مشرکین نے ہمیں نماز عصر پڑھنے کا موقع نہیں دیا حتی کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”اللہ ان کے گھروں اور قبروں کو آگ سے بھر دے کہ انہوں نے ہمیں نماز عصر نہیں پڑھنے دی یہاں تک کہ سورج غروب ہو گیا۔“
حدیث نمبر: 1037
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : مَا عِنْدَنَا شَيْءٌ إِلَّا كِتَابَ اللَّهِ تَعَالَى ، وَهَذِهِ الصَّحِيفَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْمَدِينَةُ حَرَامٌ مَا بَيْنَ عَائِرٍ إِلَى ثَوْرٍ ، مَنْ أَحْدَثَ فِيهَا حَدَثًا أَوْ آوَى مُحْدِثًا ، فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ ، لَا يُقْبَلُ مِنْهُ عَدْلٌ وَلَا صَرْفٌ ، وَقَالَ : ذِمَّةُ الْمُسْلِمِينَ وَاحِدَةٌ ، فَمَنْ أَخْفَرَ مُسْلِمًا فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ ، لَا يُقْبَلُ مِنْهُ صَرْفٌ وَلَا عَدْلٌ ، وَمَنْ تَوَلَّى قَوْمًا بِغَيْرِ إِذْنِ مَوَالِيهِ ، فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ ، لَا يَقْبَلُ اللَّهُ مِنْهُ صَرْفًا وَلَا عَدْلًا " .
مولانا ظفر اقبال
ایک مرتبہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا: ہمارے پاس کتاب اللہ اور اس صحیفے کے علاوہ کچھ نہیں ہے، اس صحیفے میں یہ بھی لکھا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”عیر سے ثور تک مدینہ منورہ حرم ہے، جو شخص اس میں کوئی بدعت ایجاد کرے یا کسی بدعتی کو ٹھکانہ دے، اس پر اللہ کی، فرشتوں کی اور تمام لوگوں کی لعنت ہے، قیامت کے دن اللہ اس سے کوئی فرض یا نفلی عبادت قبول نہ کرے گا، اور تمام مسلمانوں کی ذمہ داری ایک جیسی ہے، جو شخص کسی مسلمان کی پناہ کو توڑے اس پر اللہ کی، فرشتوں کی اور تمام لوگوں کی لعنت ہے، اور اس کا کوئی فرض یا نفل قبول نہیں ہوگا۔ اور غلام اپنے آقا کے علاوہ کسی اور کو اپنا آقا کہنا شروع کر دے، اس پر بھی اللہ کی، فرشتوں کی اور تمام لوگوں کی لعنت ہے، قیامت کے دن اس کا بھی کوئی فرض یا نفل قبول نہیں کیا جائے گا۔“
حدیث نمبر: 1038
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا لِي أَرَاكَ تَنَوَّقُ فِي قُرَيْشٍ ، وَتَدَعُنَا أَنْ تَزَوَّجَ إِلَيْنَا ؟ قَالَ : " وَعِنْدَكَ شَيْءٌ ؟ " ، قَالَ : قُلْتُ : ابْنَةُ حَمْزَةَ ، قَالَ : " إِنَّهَا ابْنَةُ أَخِي مِنَ الرَّضَاعَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے ایک مرتبہ بارگاہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم میں عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ ہمیں چھوڑ کر قریش کے دوسرے خاندانوں کو کیوں پسند کرتے ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارے پاس بھی کچھ ہے؟“ میں نے عرض کیا: جی ہاں! سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی۔ فرمایا: ”وہ تو میری رضاعی بھتیجی ہے۔“ (دراصل نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا امیر حمزہ رضی اللہ عنہ آپس میں رضاعی بھائی بھی تھے اور چچا بھتیجے بھی)۔
حدیث نمبر: 1039
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ ، قَالَ : قَالَ عَلِيٌّ : " إِذَا حَدَّثْتُكُمْ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثًا ، فَظُنُّوا بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَهْيَاهُ ، وَأَهْدَاهُ ، وَأَتْقَاهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب تمہارے سامنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی حدیث بیان کی جائے تو اس کے بارے وہ گمان کرو جو راہ راست پر ہو، جو اس کے مناسب ہو اور جو تقوی پر مبنی ہو۔
حدیث نمبر: 1040
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، وَشُعْبَةَ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ ، عَنْ عَلِيٍّ ، أَنَّهُ قَالَ : " أَلَا أُنَبِّئُكُمْ بِخَيْرِ هَذِهِ الْأُمَّةِ بَعْدَ نَبِيِّهَا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ أَبُو بَكْرٍ ، ثُمَّ عُمَرُ " .
مولانا ظفر اقبال
ایک مرتبہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کیا میں تمہیں یہ نہ بتاؤں کہ اس امت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سب سے بہترین شخص کون ہے؟ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ۔
حدیث نمبر: 1041
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنِي عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُطَّلِبُ بْنُ زِيَادٍ ، عَنِ السُّدِّيِّ ، عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ ، عَنْ عَلِيٍّ فِي قَوْلِهِ : إِنَّمَا أَنْتَ مُنْذِرٌ وَلِكُلِّ قَوْمٍ هَادٍ سورة الرعد آية 7 ، قَالَ : " رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمُنْذِرُ ، وَالْهَادِ رَجُلٌ مِنْ بَنِي هَاشِمٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ قرآن کریم میں یہ جو فرمایا گیا ہے: «﴿إِنَّمَا أَنْتَ مُنْذِرٌ وَلِكُلِّ قَوْمٍ هَادٍ﴾ [الرعد : 7]» ”آپ تو صرف ڈرانے والے ہیں، اور ہر قوم میں ایک ہادی آیا ہے۔“ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کے متعلق فرمایا: ”ڈرانے والا اور رہنمائی کرنے والا بنو ہاشم کا ایک آدمی ہے۔“
…