حدیث نمبر: 962
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ مُخَارِقٍ ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : رَأَيْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَلَى الْمِنْبَرِ يَخْطُبُ ، وَعَلَيْهِ سَيْفٌ حِلْيَتُهُ حَدِيدٌ ، فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ : وَاللَّهِ " مَا عِنْدَنَا كِتَابٌ نَقْرَؤُهُ عَلَيْكُمْ إِلَّا كِتَابَ اللَّهِ تَعَالَى وَهَذِهِ الصَّحِيفَةَ ، أَعْطَانِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فِيهَا فَرَائِضُ الصَّدَقَةِ " ، قَالَ : لِصَحِيفَةٍ مُعَلَّقَةٍ بسَيْفِهِ .
مولانا ظفر اقبال
طارق بن شہاب کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو منبر پر یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ واللہ! ہمارے پاس قرآن کریم کے علاوہ کوئی ایسی کتاب نہیں ہے جسے ہم پڑھتے ہوں، یا پھر یہ صحیفہ ہے جو تلوار سے لٹکا ہوا ہے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دیا تھا، اس میں زکوٰۃ کے حصص کی تفصیل درج ہے۔ مذکورہ صحیفہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی اس تلوار سے لٹکا رہتا تھا جس کے حلقے لوہے کے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 962
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف شريك
حدیث نمبر: 963
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ ، أَنْبَأَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ سُمَيْعٍ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، قَالَ : كُنْتُ قَاعِدًا عِنْدَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : فَجَاءَ صَعْصَعَةُ بْنُ صُوحَانَ فَسَلَّمَ ، ثُمَّ قَامَ فَقَالَ : يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ، انْهَنَا عَمَّا نَهَاكَ عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : نَهَانَا " عَنِ الدُّبَّاءِ ، وَالْحَنْتَمِ ، وَالْمُزَفَّتِ ، وَالنَّقِيرِ ، وَنَهَانَا عَنِ الْقَسِّيِّ ، وَالْمِيثَرَةِ الْحَمْرَاءِ ، وَعَنِ الْحَرِيرِ ، وَالْحِلَقِ الذَّهَبِ " ، ثُمَّ قَالَ : كَسَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُلَّةً مِنْ حَرِيرٍ ، فَخَرَجْتُ فِيهَا لِيَرَ النَّاسُ عَلَيَّ كِسْوَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : فَرَآنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، " فَأَمَرَنِي بِنَزْعِهِمَا ، فَأَرْسَلَ بِإِحْدَاهُمَا إِلَى فَاطِمَةَ ، وَشَقَّ الْأُخْرَى بَيْنَ نِسَائِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
مالک بن عمیر کہتے ہیں کہ میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر تھا، اچانک صعصعہ بن صوحان آ گئے اور سلام کر کے کہنے لگے: امیر المومنین! نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جن چیزوں سے آپ کو روکا تھا ہمیں بھی ان سے روکیے، انہوں نے فرمایا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تو ہمیں کدو کی تونبی، سبز مٹکے، لک کے برتن، لکڑی کو کھود کر بنائے گئے برتن کو استعمال کرنے سے منع فرمایا (کیونکہ ان میں شراب کشید کی جاتی تھی)، نیز ریشم، سرخ زین پوش، خالص ریشم اور سونے کے حلقوں سے منع فرمایا۔ پھر فرمایا کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ایک ریشمی جوڑا عنایت فرمایا، میں وہ پہن کر باہر نکلا تاکہ لوگ دیکھ لیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے جو جوڑا دیا تھا وہ میں نے پہن لیا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جب مجھے دیکھا تو اسے اتارنے کا حکم دیا اور اس کا ایک حصہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو بھجوا دیا اور دوسرا حصہ پھاڑ کر اپنی عورتوں میں تقسیم کر دیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 963
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، على بن عاصم ضعيف، وقد توبع
حدیث نمبر: 964
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُمَرَ الْوَكِيعِيُّ ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ عُقْبَةَ بْنِ نِزَارٍ الْعَنْسِيُّ ، حَدَّثَنِي سِمَاكُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ الْوَلِيدِ الْعَبْسِيُّ ، قَالَ : دَخَلْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى فَحَدَّثَنِي أَنَّهُ شَهِدَ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي الرَّحَبَةِ قَالَ : أَنْشُدُ اللَّهَ رَجُلًا سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَشَهِدَهُ يَوْمَ غَدِيرِ خُمٍّ إِلَّا قَامَ ، وَلَا يَقُومُ إِلَّا مَنْ قَدْ رَآهُ ، فَقَامَ اثْنَا عَشَرَ رَجُلًا ، فَقَالُوا : قَدْ رَأَيْنَاهُ وَسَمِعْنَاهُ حَيْثُ أَخَذَ بِيَدِهِ يَقُولُ : " اللَّهُمَّ وَالِ مَنْ وَالَاهُ ، وَعَادِ مَنْ عَادَاهُ ، وَانْصُرْ مَنْ نَصَرَهُ ، وَاخْذُلْ مَنْ خَذَلَهُ " ، فَقَامَ إِلَّا ثَلَاثَةٌ لَمْ يَقُومُوا ، فَدَعَا عَلَيْهِمْ ، فَأَصَابَتْهُمْ دَعْوَتُهُ .
مولانا ظفر اقبال
عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے صحن کوفہ میں لوگوں کو قسم دے کر فرمایا: جس نے غدیر خم کے موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے میرے حوالے سے کوئی ارشاد سنا ہو تو وہ کھڑا ہو جائے، اور وہی کھڑا ہو جس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہو، اس پر بارہ آدمی کھڑے ہو گئے اور کہنے لگے کہ ہم نے خود دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑا، اور ہم نے انہیں یہ فرماتے ہوئے سنا: ”اے اللہ! جو علی سے دوستی کرے تو اس سے دوستی فرما، اور جو اس سے دشمنی کرے تو اس سے دشمنی فرما، جو علی کی مدد کرے تو اس کی مدد فرما، اور جو اسے تنہا چھوڑے تو اسے تنہا فرما۔“ اس موقع پر تین آدمی ایسے بھی تھے جو کھڑے نہیں ہوئے، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے انہیں بد دعا دی اور وہ اس کا شکار ہو گئے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 964
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن لغيره، دون قوله: وانصر من نصره واخذل من خذله وهذا إسناد ضعيف لجهالة الوليد بن عتبة وسماك بن عبيد
حدیث نمبر: 965
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ أَخُو حَجَّاجِ بْنِ مِنْهَالٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، قَالَ : كَانَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِذَا سَمِعَ الْمُؤَذِّنَ يُؤَذِّنُ قَالَ كَمَا يَقُولُ ، فَإِذَا قَالَ : أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ ، قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : " أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ ، وَأَنَّ الَّذِينَ جَحَدُوا مُحَمَّدًا هُمْ الْكَاذِبُونَ " .
مولانا ظفر اقبال
عبدالرحمن بن ابی لیلی کہتے ہیں کہ جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ مؤذن کو اذان دیتے ہوئے سنتے تو وہی کلمات دہراتے جو مؤذن کہتا، اور «اَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُوْلُ اللّٰهِ» کے جواب میں «اَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُوْلُ اللّٰهِ» کہنے کے بعد یہ بھی فرماتے کہ جو لوگ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا انکار کرتے ہیں وہ جھوٹے ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 965
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف عبدالرحمن بن إسحاق الواسطي، وأبو سعيد لم نتبينه
حدیث نمبر: 966
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي الْحَكَمُ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُخَيْمِرَةَ ، عَنْ شُرَيْحِ بْنِ هَانِئٍ ، قَالَ : سَأَلْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنِ الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ ، قَالَتْ : سَلْ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، فَإِنَّهُ كَانَ يُسَافِرُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَسَأَلْتُهُ ، فَقَالَ : " لِلْمُسَافِرِ ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ وَلَيَالِيهِنَّ ، وَلِلْمُقِيمِ يَوْمٌ وَلَيْلَةٌ " ، قَالَ يَحْيَى : وَكَانَ يَرْفَعُهُ ، يَعْنِي : شُعْبَةَ ، ثُمَّ تَرَكَهُ .
مولانا ظفر اقبال
شریح بن ہانی کہتے ہیں کہ میں نے موزوں پر مسح کے حوالے سے سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے ایک سوال پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ یہ سوال تم سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے پوچھو، انہیں اس مسئلے کا زیادہ علم ہوگا کیونکہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر میں بھی رہتے تھے، چنانچہ میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا، تو انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”مسافر کے لئے تین دن اور تین رات موزوں پر مسح کرنے کی اجازت ہے، اور مقیم کے لئے ایک دن اور ایک رات۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 966
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 276
حدیث نمبر: 967
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيُّ ، عَنْ عَطَاءٍ مَوْلَى أُمِّ صُبَيَّةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي ، لَأَمَرْتُهُمْ بِالسِّوَاكِ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ ، وَلَأَخَّرْتُ عِشَاءَ الْآخِرَةِ إِلَى ثُلُثِ اللَّيْلِ الْأَوَّلِ ، فَإِنَّهُ إِذَا مَضَى ثُلُثُ اللَّيْلِ الْأَوَّلُ هَبَطَ اللَّهُ تَعَالَى إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا ، فَلَمْ يَزَلْ هُنَاكَ حَتَّى يَطْلُعَ الْفَجْرُ ، فَيَقُولَ قَائِلٌ : أَلَا سَائِلٌ يُعْطَى ، أَلَا دَاعٍ يُجَابُ ، أَلَا سَقِيمٌ يَسْتَشْفِي فَيُشْفَى ، أَلَا مُذْنِبٌ يَسْتَغْفِرُ فَيُغْفَرَ لَهُ ؟ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: ”اگر مجھے اپنی امت پر مشقت کا اندیشہ نہ ہوتا تو میں انہیں ہر نماز کے وقت مسواک کرنے کا حکم دیتا، اور عشاء کی نماز تہائی رات تک مؤخر کرتا کیونکہ رات کی جب پہلی تہائی گذر جاتی ہے تو اللہ تعالیٰ (اپنی شان کے مطابق) آسمان دنیا پر نزول فرماتے ہیں اور طلوع فجر تک وہیں رہتے ہیں، اور ایک منادی نداء لگاتا رہتا ہے کہ ہے کوئی مانگنے والا، کہ اسے دیا جائے؟ ہے کوئی دعا کرنے والا، کہ اس کی دعا قبول کی جائے؟ ہے کوئی بیمار جو شفاء حاصل کرنا چاہتا ہو، کہ اسے شفاء مل جائے؟ ہے کوئی گناہگار جو اپنے گناہوں کی معافی مانگے، کہ اسے بخش دیا جائے؟“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 967
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة عطاء المدني مولى أم صبية
حدیث نمبر: 968
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي عَمِّي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَسَارٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، مِثْلَ حَدِيثِ أَبِي هُرَيْرَةَ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے، اس کے الفاظ یہی ہیں لیکن سند مختلف ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 968
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 969
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : سُئِلَ عَنِ الْوَتْرِ ، أَوَاجِبٌ هُوَ ؟ قَالَ : " أَمَّا كَالْفَرِيضَةِ فَلَا ، وَلَكِنَّهَا سُنَّةٌ صَنَعَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ حَتَّى مَضَوْا عَلَى ذَلِكَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے کسی شخص نے وتر کے متعلق پوچھا کہ آیا یہ فرض ہیں؟ انہوں نے فرمایا کہ وتر فرض نماز کی طرح قرآن کریم سے حتمی ثبوت نہیں رکھتے، لیکن ان کا وجوب نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے صحابہ رضی اللہ عنہم کی سنت سے ثابت ہے، اور انہوں نے اسے ہمیشہ ادا کیا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 969
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث قوي، والحجاج قد توبع
حدیث نمبر: 970
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ الْأَشْجَعِيِّ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنِ السُّدِّيِّ ، عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : أَنَّهُ دَعَا بِكُوزٍ مِنْ مَاءٍ ، ثُمَّ قَالَ : أَيْنَ هَؤُلَاءِ الَّذِينَ يَزْعُمُونَ أَنَّهُمْ يَكْرَهُونَ الشُّرْبَ قَائِمًا ؟ قَالَ : فَأَخَذَهُ " فَشَرِبَ وَهُوَ قَائِمٌ ، ثُمَّ تَوَضَّأَ وُضُوءًا خَفِيفًا ، وَمَسَحَ عَلَى نَعْلَيْهِ ، ثُمَّ قَالَ : هَكَذَا وُضُوءُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلطَّاهِرِ مَا لَمْ يُحْدِثْ " .
مولانا ظفر اقبال
عبدخیر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک دفعہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے وضو کرنے کے لئے پانی منگوایا اور فرمایا: کہاں ہیں وہ لوگ جو یہ سمجھتے ہیں کہ کسی صورت میں بھی کھڑے ہو کر پانی پینا جائز نہیں ہے؟ پھر انہوں نے وہ برتن لے کر کھڑے کھڑے اس کا پانی پی لیا، پھر ہلکا سا وضو کیا، جوتوں پر مسح کیا اور فرمایا: اس طاہر آدمی کا جو بےوضو نہ ہو، یہی وضو ہے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسی طرح کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 970
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 971
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي حَيَّةَ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : أَنَّهُ " تَوَضَّأَ ثَلَاثًا ثَلَاثًا ، وَشَرِبَ فَضْلَ وَضُوئِهِ ، ثُمَّ قَالَ : هَكَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَلَ " .
مولانا ظفر اقبال
ایک مرتبہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے وضو کرتے ہوئے اعضاء وضو کو تین تین مرتبہ دھویا اور وضو سے بچا ہوا پانی پی لیا، پھر فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح کرتے ہوئے دیکھا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 971
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 972
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ عِيسَى ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا عَطَسَ أَحَدُكُمْ فَلْيَقُلْ : الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ ، وَلْيَقُلْ مَنْ حَوْلَهُ : يَرْحَمُكَ اللَّهُ ، وَلْيَقُلْ هُوَ : يَهْدِيكُمُ اللَّهُ وَيُصْلِحُ بَالَكُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جب تم میں سے کسی شخص کو چھینک آئے تو اسے چاہئے کہ «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» کہے، اس کے آس پاس جو لوگ ہوں وہ «يَرْحَمُكَ اللّٰهُ» کہیں، اور چھینکنے والا انہیں یہ جواب دے «يَهْدِيْكُمُ اللّٰهُ وَيُصْلِحُ بَالَكُمْ»۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 972
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن لغيره ، ابن أبى ليلي سيء الحفظ، لكن للحديث طريق أخرى عن على يحسن بها
حدیث نمبر: 973
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ عَمْرٍو الضَّبِّيُّ ، حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ أَبِي الْأَسْوَدِ ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنِ الْحَكَمِ ، أَوْ عِيسَى ، شَكَّ مَنْصُورٌ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا عَطَسَ أَحَدُكُمْ فَلْيَقُلْ : الْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى كُلِّ حَالٍ ، وَلْيَقُلْ لَهُ مَنْ عِنْدَهُ : يَرْحَمُكَ اللَّهُ ، وَيَرُدُّ عَلَيْهِمْ : يَهْدِيكُمُ اللَّهُ وَيُصْلِحُ بَالَكُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جب تم میں سے کسی شخص کو چھینک آئے تو اسے چاہئے کہ «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ عَلَي كُلِّ حَالٍ» کہے، اس کے آس پاس جو لوگ ہوں وہ «يَرْحَمُكَ اللّٰهُ» کہیں، اور چھینکنے والا انہیں یہ جواب دے: «يَهْدِيْكُمُ اللّٰهُ وَيُصْلِحُ بَالَكُمْ»۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 973
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن لغيره، وانظر ما قبله
حدیث نمبر: 974
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا غَسَّانُ بْنُ الرَّبِيعِ ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْرَائِيلَ ، عَنِ السُّدِّيِّ ، عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ ، قَالَ : خَرَجَ عَلَيْنَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَنَحْنُ فِي الْمَسْجِدِ ، فَقَالَ : أَيْنَ السَّائِلُ عَنِ الْوَتْرِ ؟ فَمَنْ كَانَ مِنَّا فِي رَكْعَةٍ شَفَعَ إِلَيْهَا أُخْرَى حَتَّى اجْتَمَعْنَا إِلَيْهِ ، فَقَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ " يُوتِرُ فِي أَوَّلِ اللَّيْلِ ، ثُمَّ أَوْتَرَ فِي وَسَطِهِ ، ثُمَّ أَثْبَتَ الْوَتْرَ فِي هَذِهِ السَّاعَةِ " ، قَالَ : وَذَلِكَ عِنْدَ طُلُوعِ الْفَجْرِ .
مولانا ظفر اقبال
عبدخیر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ تشریف لے آئے، اور فرمایا کہ وتر کے متعلق سوال کرنے والا کہاں ہے؟ ہم میں سے جس شخص نے ایک رکعت پڑھ لی تھی، اس نے جلدی سے دوسری رکعت ملائی اور ہم سب سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس اکٹھے ہو گئے، انہوں نے فرمایا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم ابتداءً رات کے پہلے حصے میں وتر پڑھتے تھے، پھر درمیان والے حصے میں پڑھنے لگے، پھر اس وقت مستقل پڑھنے لگے، اس وقت طلوع فجر ہونے والی تھی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 974
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف أبى إسرائيل
حدیث نمبر: 975
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نَافِعٍ ، قَالَ : عَادَ أَبُو مُوسَى الْأَشْعَرِيُّ الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ ، فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : أَعَائِدًا جِئْتَ أَمْ زَائِرًا ؟ فَقَالَ أَبُو مُوسَى : بَلْ جِئْتُ عَائِدًا ، فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " مَنْ عَادَ مَرِيضًا بَكَرًا شَيَّعَهُ سَبْعُونَ أَلْفَ مَلَكٍ ، كُلُّهُمْ يَسْتَغْفِرُ لَهُ حَتَّى يُمْسِيَ ، وَكَانَ لَهُ خَرِيفٌ فِي الْجَنَّةِ ، وَإِنْ عَادَهُ مَسَاءً شَيَّعَهُ سَبْعُونَ أَلْفَ مَلَكٍ ، كُلُّهُمْ يَسْتَغْفِرُ لَهُ حَتَّى يُصْبِحَ ، وَكَانَ لَهُ خَرِيفٌ فِي الْجَنَّةِ " .
مولانا ظفر اقبال
عبداللہ بن نافع رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ کی عیادت کے لئے آئے، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا: عیادت کی نیت سے آئے ہو یا ملاقات کے لئے آئے ہو؟ انہوں نے کہا کہ میں تو عیادت کی نیت سے آیا ہوں، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ”جب کوئی شخص صبح کے وقت اپنے کسی مسلمان بھائی کی عیادت کرتا ہے تو ستر ہزار فرشتے اس کی مشایعت کرتے ہیں، اور ان میں سے ہر ایک اس کے لئے شام تک بخشش کی دعائیں کرتا ہے، اور جنت میں اس کا ایک باغ مقرر ہو جاتا ہے، اور اگر شام کو عیادت کرے تب بھی ستر ہزار فرشتے اس کی مشایعت کرتے ہیں، اور ان میں سے ہر ایک اس کے لئے صبح تک بخشش کی دعائیں کرتا ہے، اور جنت میں اس کا ایک باغ مقرر ہو جاتا ہے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 975
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن، إلا أن الصحيح وقفه كما تقدم برقم: (612). وهذا إسناد ضعيف لجهالة عبدالله بن نافع الهاشمي
حدیث نمبر: 976
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نَافِعٍ ، قَالَ : عَادَ أَبُو مُوسَى الْأَشْعَرِيُّ الْحَسَنَ بْنَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : أَعَائِدًا جِئْتَ أَمْ زَائِرًا ؟ قَالَ : لَا ، بَلْ جِئْتُ عَائِدًا ، قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : أَمَا إِنَّهُ " مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَعُودُ مَرِيضًا إِلَّا خَرَجَ مَعَهُ سَبْعُونَ أَلْفَ مَلَكٍ ، كُلُّهُمْ يَسْتَغْفِرُ لَهُ ، إِنْ كَانَ مُصْبِحًا حَتَّى يُمْسِيَ ، وَكَانَ لَهُ خَرِيفٌ فِي الْجَنَّةِ ، وَإِنْ كَانَ مُمْسِيًا خَرَجَ مَعَهُ سَبْعُونَ أَلْفَ مَلَكٍ ، كُلُّهُمْ يَسْتَغْفِرُ لَهُ حَتَّى يُصْبِحَ ، وَكَانَ لَهُ خَرِيفٌ فِي الْجَنَّةِ " .
مولانا ظفر اقبال
عبداللہ بن نافع رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ کی عیادت کے لئے آئے، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا: عیادت کی نیت سے آئے ہو یا ملاقات کے لئے آئے ہو؟ انہوں نے کہا کہ میں تو عیادت کی نیت سے آیا ہوں، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ”جب کوئی شخص صبح کے وقت اپنے کسی مسلمان بھائی کی عیادت کرتا ہے تو ستر ہزار فرشتے اس کی مشایعت کرتے ہیں، اور ان میں سے ہر ایک اس کے لئے شام تک بخشش کی دعائیں کرتا ہے اور جنت میں اس کا ایک باغ مقرر ہو جاتا ہے، اور اگر شام کو عیادت کرے تب بھی ستر ہزار فرشتے اس کی مشایعت کرتے ہیں، اور ان میں سے ہر ایک اس کے لئے صبح تک بخشش کی دعائیں کرتا ہے اور جنت میں اس کا ایک باغ مقرر ہو جاتا ہے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 976
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن، وانظر ما قبله
حدیث نمبر: 977
(حديث مرفوع) حَدَّثنَا عبد الله ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ أَبُو مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُسْلِمٍ يَعْنِي أَبَا زَيْدٍ الْقَسْمَلِيَّ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : كُنْتُ رَجُلًا مَذَّاءً ، فَسَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ ، فَقَالَ : " فِي الْمَذْيِ الْوُضُوءُ ، وَفِي الْمَنِيِّ الْغُسْلُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھے خروج مذی کثرت کے ساتھ ہونے کا مرض لاحق تھا، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا حکم پوچھا تو فرمایا: ”منی میں تو غسل واجب ہے، اور مذی میں صرف وضو واجب ہے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 977
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف يزيد بن أبى زياد
حدیث نمبر: 978
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ مُجَالِدٍ ، حَدَّثَنَا عَامِرٌ ، قَالَ : كَانَ لِشَرَاحَةَ زَوْجٌ غَائِبٌ بِالشَّامِ ، وَإِنَّهَا حَمَلَتْ ، فَجَاءَ بِهَا مَوْلَاهَا إِلَى عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، فَقَالَ : إِنَّ هَذِهِ زَنَتْ ، فَاعْتَرَفَتْ ، فَجَلَدَهَا يَوْمَ الْخَمِيسِ مِائَةً ، وَرَجَمَهَا يَوْمَ الْجُمُعَةِ ، وَحَفَرَ لَهَا إِلَى السُّرَّةِ وَأَنَا شَاهِدٌ ، ثُمَّ قَالَ : " إِنَّ الرَّجْمَ سُنَّةٌ سَنَّهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " ، وَلَوْ كَانَ شَهِدَ عَلَى هَذِهِ أَحَدٌ لَكَانَ أَوَّلَ مَنْ يَرْمِي ، الشَّاهِدُ يَشْهَدُ ، ثُمَّ يُتْبِعُ شَهَادَتَهُ حَجَرَهُ ، وَلَكِنَّهَا أَقَرَّتْ ، فَأَنَا أَوَّلُ مَنْ رَمَاهَا ، فَرَمَاهَا بِحَجَرٍ ، ثُمَّ رَمَى النَّاسُ ، وَأَنَا فِيهِمْ ، قَالَ : فَكُنْتُ وَاللَّهِ فِيمَنْ قَتَلَهَا .
مولانا ظفر اقبال
عامر کہتے ہیں کہ شراحہ نامی ایک عورت کا شوہر اس کے پاس موجود نہ تھا، وہ شام گیا ہوا تھا، یہ عورت امید سے ہو گئی، اس کا آقا اسے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں لے کر حاضر ہوا اور کہنے لگا کہ اس عورت نے بدکاری کی ہے، اس عورت نے بھی اعتراف کر لیا، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اسے پہلے پچاس کوڑے لگائے، پھر جمعہ کے دن اس پر حد رجم جاری فرمائی، اور اس کے لئے ناف تک ایک گڑھا کھدوایا، میں بھی اس وقت موجود تھا۔ پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رجم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے، اگر اس کا یہ جرم کسی گواہ کی شہادت سے ثابت ہوتا تو اسے پتھر مارنے کا آغاز وہی کرتا کیونکہ گواہ پہلے گواہی دیتا ہے اور اس کے بعد پتھر مارتا ہے، لیکن چونکہ اس کا یہ جرم اس کے اقرار سے ثابت ہوا ہے اس لئے اب میں اسے سب سے پہلے پتھر ماروں گا، چنانچہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اس کا آغاز کیا، بعد میں لوگوں نے اسے پتھر مارنا شروع کئے، ان میں میں بھی شامل تھا اور واللہ! اس عورت کو اللہ کے پاس بھیجنے والوں میں میں بھی تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 978
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح، وفي خ: 6812، وهو مختصر بقصة الرجم دون الجلد، وهذا إسناد ضعيف لضعف مجالد
حدیث نمبر: 979
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، أَنْبَأَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَمِّهِ ، قَالَ : قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَسُئِلَ : يَرْكَبُ الرَّجُلُ هَدْيَهُ ؟ فَقَالَ : لَا بَأْسَ بِهِ ، قَدْ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَمُرُّ بِالرِّجَالِ يَمْشُونَ ، فَيَأْمُرُهُمْ يَرْكَبُونَ هَدْيَهُ ، َهَدْيَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " ، قَالَ : وَلَا تَتَّبِعُونَ شَيْئًا أَفْضَلَ مِنْ سُنَّةِ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
مولانا ظفر اقبال
ایک مرتبہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے کسی نے پوچھا کہ کیا آدمی حج کے موقع پر قربانی کا جو جانور لے کر جارہا ہو - جسے ہدی کہتے ہیں - اس پر سوار ہو سکتا ہے؟ فرمایا: کوئی حرج نہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا جب پیدل چلنے والوں کے پاس سے گذر ہوتا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم انہیں ہدی کے جانور پر سوار ہونے کا حکم دیتے، اور تم اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت سے زیادہ افضل کسی چیز کی پیروی نہ کر سکو گے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 979
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة محمد بن عبيدالله
حدیث نمبر: 980
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا عَامِرٌ ، عَنْ الْحَارِثِ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " آكِلَ الرِّبَا ، وَمُطْعِمَهُ ، وَشَاهِدَيْهِ ، وَكَاتِبَهُ ، وَمَانِعَ الصَّدَقَةِ ، وَالْوَاشِمَةَ ، وَالْمُسْتَوْشِمَةَ ، وَالْحَالَّ ، وَالْمُحَلَّلَ لَهُ ، قَالَ : وَكَانَ يَنْهَى عَنِ النَّوْحِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سود خور، سود کھلانے والا، سودی معاملات لکھنے والا، سودی معاملات کے گواہ، حلالہ کرنے والا، حلالہ کروانے والا، زکوٰۃ روکنے والا، جسم گودنے والی اور جسم گدوانے والی پر لعنت فرمائی ہے، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نوحہ کرنے سے منع فرماتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 980
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف الحارث الأعور
حدیث نمبر: 981
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَنْبَأَنَا هِشَامٌ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَبِيدَةَ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " نُهِيَ عَنْ مَيَاثِرِ الْأُرْجُوَانِ ، وَلُبْسِ الْقَسِّيِّ ، وَخَاتَمِ الذَّهَبِ " ، قَالَ مُحَمَّدٌ : فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِأَخِي يَحْيَى بْنِ سِيرِينَ ، فَقَالَ : أَوَلَمْ تَسْمَعْ هَذَا ؟ نَعَمْ ، " وَكِفَافِ الدِّيبَاجِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ سرخ رنگ کے پھول دار کپڑوں، ریشمی کپڑوں اور سونے کی انگوٹھی سے منع کیا گیا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 981
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 982
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، أَنْبَأَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَبِيدَةَ ، قَالَ : ذَكَرَ عَلِيٌّ أَهْلَ النَّهْرَوَانِ ، فَقَالَ : " فِيهِمْ رَجُلٌ مُودَنُ الْيَدِ ، أَوْ مَثْدُونُ الْيَدِ ، أَوْ مُخْدَجُ الْيَدِ ، لَوْلَا أَنْ تَبْطَرُوا لَنَبَّأْتُكُمْ بِمَا وَعَدَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ الَّذِينَ يَقْتُلُونَهُمْ عَلَى لِسَانِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " ، قَالَ : قُلْتُ : أَأَنْتَ سَمِعْتَ مِنْهُ ؟ قَالَ : إِي وَرَبِّ الْكَعْبَةِ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے سامنے ایک مرتبہ خوارج کا ذکر ہوا تو فرمایا کہ ان میں ایک آدمی ناقص الخلقت بھی ہوگا، اگر تم حد سے آگے نہ بڑھ جاتے تو میں تم سے وہ وعدہ بیان کرتا جو اللہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی ان کے قتل کرنے والوں سے فرما رکھا ہے۔ راوی کہتے ہیں کہ میں نے ان سے پوچھا: کیا آپ نے واقعی نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس سلسلے میں کوئی فرمان سنا ہے؟ تو انہوں نے فرمایا: ہاں! رب کعبہ کی قسم۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 982
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح. م: 1066
حدیث نمبر: 983
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ يَحْيَى الْأَبَحُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَبِيدَةَ ، قَالَ : لَمَّا قَتَلَ عَلِيٌّ أَهْلَ النَّهْرَوَانِ ، قَالَ : الْتَمِسُوهُ ، فَوَجَدُوهُ فِي حُفْرَةٍ تَحْتَ الْقَتْلَى ، فَاسْتَخْرَجُوهُ ، وَأَقْبَلَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَلَى أَصْحَابِهِ ، فَقَالَ : " لَوْلَا أَنْ تَبْطَرُوا لَأَخْبَرْتُكُمْ مَا وَعَدَ اللَّهُ مَنْ يَقْتُلُ هَؤُلَاءِ عَلَى لِسَانِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " ، قُلْتُ : أَنْتَ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : إِي وَرَبِّ الْكَعْبَةِ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے جب اہل نہروان سے قتال کیا تو ایک مخصوص آدمی کے متعلق حکم دیا کہ اسے تلاش کرو، لوگوں کو وہ مقتولین میں ایک گڑھے میں مل گیا، انہوں نے اسے باہر نکالا تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اپنے ساتھیوں کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا: اگر تم حد سے آگے نہ بڑھ جاتے تو میں تم میں سے وہ وعدہ بیان کرتا جو اللہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی ان کے قتل کرنے والوں سے فرما رکھا ہے۔ راوی کہتے ہیں کہ میں نے ان سے پوچھا: کیا آپ نے واقعی نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس سلسلے میں کوئی فرمان سنا ہے؟ تو انہوں نے فرمایا: ہاں! رب کعبہ کی قسم۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 983
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن، وانظر ما قبله
حدیث نمبر: 984
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْحَارِثِ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " عَفَوْتُ لَكُمْ عَنْ صَدَقَةِ الْخَيْلِ وَالرَّقِيقِ ، وَفِي الرِّقَةِ رُبُعُ عُشْرِهَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میں نے تم سے گھوڑے اور غلام کی زکوٰۃ چھوڑ دی ہے اس لئے چاندی کی زکوٰۃ بہرحال تمہیں ادا کرنا ہوگی، جس کا نصاب یہ ہے کہ ہر چالیس پر ایک درہم واجب ہوگا۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 984
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وإسناد ضعيف لضعف الحارث الأعور
حدیث نمبر: 985
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " إِذَا حُدِّثْتُمْ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثًا ، فَظُنُّوا بِهِ الَّذِي هُوَ أَهْدَى ، وَالَّذِي هُوَ أَهْيَا ، وَالَّذِي هُوَ أَتْقَى " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب تمہارے سامنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی حدیث بیان کی جائے تو اس کے بارے وہ گمان کرو جو راہ راست پر ہو، جو اس کے مناسب ہو اور جو تقوی پر مبنی ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 985
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح، وهذا إسناد ضعيف للانقطاع، أبو البختري لم يدرك عليا، بينهما أبو عبدالرحمن السلمي كما فى الحديث الذى بعد هذا
حدیث نمبر: 986
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ مِسْعَرٍ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ ، عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " إِذَا حُدِّثْتُمْ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثًا ، فَظُنُّوا بِهِ الَّذِي أَهْيَاهُ ، وَأَهْدَاهُ ، وَأَتْقَاهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب تمہارے سامنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی حدیث بیان کی جائے تو اس کے بارے وہ گمان کرو جو راہ راست پر ہو، جو اس کے مناسب ہو اور جو تقوی پر مبنی ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 986
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 987
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " إِذَا حُدِّثْتُمْ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثًا ، فَظُنُّوا بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَهْيَاهُ ، وَأَتْقَاهُ ، وَأَهْدَاهُ " ، وَخَرَجَ عَلِيٌّ عَلَيْنَا حِينَ ثَوَّبَ الْمُثَوِّبُ ، فَقَالَ : أَيْنَ السَّائِلُ عَنِ الْوِتْرِ ؟ " هَذَا حِينُ وِتْرٍ حَسَنٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب تمہارے سامنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی حدیث بیان کی جائے تو اس کے بارے وہ گمان کرو جو راہ راست پر ہو، جو اس کے مناسب ہو اور جو تقوی پر مبنی ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 987
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، وانظر ما قبله
حدیث نمبر: 988
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَلِيٍّ الْمُقَدَّمِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، وَهِشَامٍ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَبِيدَةَ ، أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ذَكَرَ أَهْلَ النَّهْرَوَانِ ، فَقَالَ : " فِيهِمْ رَجُلٌ مُودَنُ الْيَدِ أَوْ مَثْدُونُ الْيَدِ أَوْ مُخْدَجُ الْيَدِ ، لَوْلَا أَنْ تَبْطَرُوا لَنَبَّأْتُكُمْ مَا وَعَدَ اللَّهُ الَّذِيَ يَقْتُلُونَهُمْ عَلَى لِسَانِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " ، فَقُلْتُ لِعَلِيٍّ : أَأَنْتَ سَمِعْتَهُ ؟ قَالَ : إِي وَرَبِّ الْكَعْبَةِ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے سامنے ایک مرتبہ خوارج کا ذکر ہوا تو فرمایا کہ ان میں ایک آدمی ناقص الخلقت بھی ہو گا، اگر تم حد سے آگے نہ بڑھ جاؤ تو میں تم میں سے وہ وعدہ بیان کرتا جو اللہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی ان کے قتل کرنے والوں سے فرما رکھا ہے۔ راوی کہتے ہیں کہ میں نے ان سے پوچھا: کیا آپ نے واقعی نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس سلسلے میں کوئی فرمان سنا ہے؟ تو انہوں نے فرمایا: ہاں! رب کعبہ کی قسم۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 988
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح. م: 1066
حدیث نمبر: 989
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، حَدَّثَنِي مَالِكُ بْنُ عُرْفُطَةَ ، سَمِعْتُ عَبْدَ خَيْرٍ ، قَالَ : كُنْتُ عِنْدَ عَلِيٍّ ، فَأُتِيَ بِكُرْسِيٍّ وَتَوْرٍ ، قَالَ : " فَغَسَلَ كَفَّيْهِ ثَلَاثًا ، وَوَجْهَهُ ثَلَاثًا ، وَذِرَاعَيْهِ ثَلَاثًا ، وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ ، وَصَفَ يَحْيَى : فَبَدَأَ بِمُقَدَّمِ رَأْسِهِ إِلَى مُؤَخَّرِهِ ، وَقَالَ : وَلَا أَدْرِي أَرَدَّ يَدَهُ أَمْ لَا ، وَغَسَلَ رِجْلَيْهِ ، ثُمَّ قَالَ : مَنْ أَحَبَّ أَنْ يَنْظُرَ إِلَى وُضُوءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَهَذَا وُضُوءُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " ، قَالَ لَنَا أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ : هَذَا أَخْطَأَ فِيهِ شُعْبَةُ ، إِنَّمَا هُوَ عَنْ خَالِدِ بْنِ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ .
مولانا ظفر اقبال
عبدخیر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس تھا، ان کی خدمت میں ایک کرسی اور ایک برتن پیش کیا گیا، انہوں نے اپنی ہتھیلیوں کو تین مرتبہ دھویا، تین مرتبہ چہرہ دھویا، دونوں بازؤوں کو کہنیوں سمیت تین تین مرتبہ دھویا، اور دونوں ہتھیلیوں سے سر کا ایک مرتبہ مسح کیا، اور ٹخنوں سمیت دونوں پاؤں دھوئے، پھر فرمایا کہ جو شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا وضو دیکھنا چاہتا ہے تو یہ ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا وضو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 989
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 990
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنِي أَبُو إِسْحَاقَ التِّرْمِذِيُّ ، حَدَّثَنَا الْأَشْجَعِيُّ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ ، عَنْ عَبِيدَةَ السَّلْمَانِيِّ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : كُنَّا نُرَاهَا الْفَجْرَ ، فَقَالَ : رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هِيَ صَلَاةُ الْعَصْرِ " ، يَعْنِي : صَلَاةَ الْوُسْطَى .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم نماز فجر کو صلاۃ وسطی سمجھتے تھے، لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”اس سے مراد نماز عصر ہے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 990
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، أبو إسحاق الترمذي - وهو إبراهيم بن أبى الليث نصر - ضعفوه بل كذبه بعضهم
حدیث نمبر: 991
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ بْنِ أَبِي حَزْمٍ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَامِرٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي حَسَّانَ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " الْمُؤْمِنُونَ تَكَافَأُ دِمَاؤُهُمْ ، وَهُمْ يَدٌ عَلَى مَنْ سِوَاهُمْ ، يَسْعَى بِذِمَّتِهِمْ أَدْنَاهُمْ ، أَلَا لَا يُقْتَلُ مُؤْمِنٌ بِكَافِرٍ ، وَلَا ذُو عَهْدٍ فِي عَهْدِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسلمانوں کی جانیں آپس میں برابر ہیں، ان میں سے اگر کوئی ادنیٰ بھی کسی کو امان دے دے تو اس کی امان کا لحاظ کیا جائے، اور مسلمان اپنے علاوہ لوگوں پر ید واحد کی طرح ہیں، خبردار! کسی کافر کے بدلے میں کسی مسلمان کو قتل نہ کیا جائے، اور نہ ہی کسی ذمی کو قتل کیا جائے گا جب تک کہ وہ معاہدے کی مدت میں ہو، اور اس کی شرائط پر برقرار ہو۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 991
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، أبو حسان الأعرج روايته عن على مرسلة
حدیث نمبر: 992
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَسْعُودٍ ، عَنْ جَدَّتِهِ ، أَنَّ رَجُلًا مَرَّ بِهِمْ عَلَى بَعِيرٍ يُوضِعُهُ بِمِنًى فِي " أَيَّامِ التَّشْرِيقِ : إِنَّهَا أَيَّامُ أَكْلٍ وَشُرْبٍ " ، فَسَأَلْتُ عَنْهُ ، فَقَالُوا : عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ .
مولانا ظفر اقبال
یوسف بن مسعود کی دادی کہتی ہیں کہ ایک آدمی اپنے اونٹ پر ان کے پاس سے گذرا جو منی کے میدان میں ایام تشریق میں اپنا اونٹ دوڑا رہا ہے اور کہتا جارہا ہے کہ یہ تو کھانے پینے اور ذکر کے دن ہیں، میں نے لوگوں سے اس کے متعلق پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ یہ سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 992
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، يوسف بن مسعود روى عنه اثنان، وذكره ابن حبان فى الثقات، وقد توبع
حدیث نمبر: 993
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ عُبَادٍ ، قَالَ : انْطَلَقْتُ أَنَا وَالْأَشْتَرُ إِلَى عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، فَقُلْنَا : هَلْ عَهِدَ إِلَيْكَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا لَمْ يَعْهَدْهُ إِلَى النَّاسِ عَامَّةً ؟ قَالَ : لَا ، إِلَّا مَا فِي كِتَابِي هَذَا ، قَالَ : وَكِتَابٌ فِي قِرَابِ سَيْفِهِ ، فَإِذَا فِيهِ : " الْمُؤْمِنُونَ تَكَافَأُ دِمَاؤُهُمْ ، وَهُمْ يَدٌ عَلَى مَنْ سِوَاهُمْ ، وَيَسْعَى بِذِمَّتِهِمْ أَدْنَاهُمْ ، أَلَا لَا يُقْتَلُ مُؤْمِنٌ بِكَافِرٍ ، وَلَا ذُو عَهْدٍ فِي عَهْدِهِ ، مَنْ أَحْدَثَ حَدَثًا ، أَوْ آوَى مُحْدِثًا ، فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ " .
مولانا ظفر اقبال
قیس بن عباد کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں اور اشتر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ان سے پوچھا: کیا کوئی ایسی چیز ہے جس کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو وصیت کی ہو اور عام لوگوں کو اس میں شامل نہ کیا ہو؟ فرمایا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو چھوڑ کر خصوصیت کے ساتھ مجھے کوئی وصیت نہیں فرمائی، البتہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے جو کچھ سنا ہے وہ ایک صحیفہ میں لکھ کر اپنی تلوار کے میان میں رکھ لیا ہے۔ انہوں نے وہ نکالا تو اس میں لکھا تھا کہ ”مسلمانوں کی جانیں آپس میں برابر ہیں، ان میں سے اگر کوئی ادنی بھی کسی کو امان دے دے تو اس کی امان کا لحاظ کیا جائے، اور مسلمان اپنے علاوہ لوگوں پر ید واحد کی طرح ہیں، خبردار! کسی کافر کے بدلے میں کسی مسلمان کو قتل نہ کیا جائے اور نہ ہی کسی ذمی کو قتل کیا جائے گا جب تک کہ وہ معاہدے کی مدت میں ہو اور اس کی شرائط پر برقرار ہو۔“ نیز یہ کہ ”جو شخص کوئی بدعت ایجاد کرے یا کسی بدعتی کو ٹھکانہ دے تو اس پر اللہ کی، فرشتوں کی اور تمام لوگوں کی لعنت ہے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 993
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 994
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَبِيدَةَ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَوْمَ الْخَنْدَقِ : " شَغَلُونَا عَنِ الصَّلَاةِ الْوُسْطَى حَتَّى غَرَبَتْ الشَّمْسُ ، أَوْ كَادَتْ الشَّمْسُ أَنْ تَغْرُبَ ، مَلَأَ اللَّهُ أَجْوَافَهُمْ ، أَوْ قُبُورَهُمْ نَارًا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ غزوہ خندق کے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ ان (مشرکین) کے گھروں اور قبروں کو آگ سے بھر دے کہ انہوں نے ہمیں نماز عصر نہیں پڑھنے دی یہاں تک کہ سورج غروب ہو گیا۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 994
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح. خ : 4533,م : 627
حدیث نمبر: 995
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، حَدَّثَنِي أَخِي ، عَنْ أَبِي ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا عَطَسَ أَحَدُكُمْ فَلْيَقُلْ : الْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى كُلِّ حَالٍ ، وَلْيُقَلْ لَهُ : يَرْحَمُكُمْ اللَّهُ ، وَلْيَقُلْ هُوَ : يَهْدِيكُمُ اللَّهُ ، وَيُصْلِحُ بَالَكُمْ " ، فَقُلْتُ لَهُ : عَنْ أَبِي أَيُّوبَ ؟ قَالَ : عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جب تم میں سے کسی شخص کو چھینک آئے تو اسے چاہئے کہ «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ عَلَى كُلِّ حَالٍ» کہے، اس کے آس پاس جو لوگ ہوں وہ «يَرْحَمُكَ اللّٰهُ» کہیں اور چھینکنے والا انہیں یہ جواب دے: «يَهْدِيْكُمُ اللّٰهُ وَيُصْلِحُ بَالَكُمْ»۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 995
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن لغيره، ابن أبى ليلى سيء الحفظ وقد توبع
حدیث نمبر: 996
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ ، حَدَّثَنَا أَزْهَرُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَبِيدَةَ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : اشْتَكَتْ إِلَيَّ فَاطِمَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا مَجْلَ يَدَيْهَا مِنَ الطَّحْنِ ، فَأَتَيْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَاطِمَةُ تَشْتَكِي إِلَيْكَ مَجْلَ يَدَيْهَا مِنَ الطَّحْنِ ، وَتَسْأَلُكَ خَادِمًا ، فَقَالَ : " أَلَا أَدُلُّكُمَا عَلَى مَا هُوَ خَيْرٌ لَكُمَا مِنْ خَادِمٍ ؟ " ، فَأَمَرَنَا " عِنْدَ مَنَامِنَا بِثَلَاثٍ وَثَلَاثِينَ ، وَثَلَاثٍ وَثَلَاثِينَ ، وَأَرْبَعٍ وَثَلَاثِينَ ، مِنْ تَسْبِيحٍ ، وَتَحْمِيدٍ ، وَتَكْبِير " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے مجھ سے شکایت کی کہ چکی چلا چلا کر ہاتھوں میں گٹے پڑ گئے ہیں، چنانچہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! فاطمہ آپ کے پاس چکی چلانے کی وجہ سے ہاتھوں میں پڑ جانے والے گٹوں کی شکایت لے کر آئی ہیں اور آپ سے ایک خادم کی درخواست کر رہی ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا میں تمہیں ایسی چیز نہ بتاؤں جو تم دونوں کے لئے خادم سے بہتر ہو؟“ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں سوتے وقت تینتیس مرتبہ سبحان اللہ، تینتیس مرتبہ الحمدللہ اور چونتیس مرتبہ اللہ اکبر پڑھنے کا حکم دیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 996
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده قوي
حدیث نمبر: 997
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، قَالَ : وَجَدْتُ فِي كِتَابِ أَبِي ، قَالَ : أُخْبِرْتُ ، عَنْ سِنَانِ بْنِ هَارُونَ ، حَدَّثَنَا بَيَانٌ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " إِذَا رَكَعَ لَوْ وُضِعَ قَدَحٌ مِنْ مَاءٍ عَلَى ظَهْرِهِ لَمْ يُهَرَاقْ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس طرح رکوع فرماتے تھے کہ اگر پانی سے بھرا ہوا کوئی پیالہ بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی پشت پر رکھ دیا جاتا تو وہ نہ گرتا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 997
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لجهالة الشيخ الذى روى عنه أحمد، ولضعف سنان بن هارون
حدیث نمبر: 998
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : تَوَضَّأَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ " فَتَمَضْمَضَ ثَلَاثًا ، وَاسْتَنْشَقَ ثَلَاثًا مِنْ كَفٍّ وَاحِدٍ ، وَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا ، ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ فِي الرَّكْوَةِ ، فَمَسَحَ رَأْسَهُ ، وَغَسَلَ رِجْلَيْهِ ، ثُمَّ قَالَ : هَذَا وُضُوءُ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
مولانا ظفر اقبال
عبدخیر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے وضو کیا تو اس میں ایک ہی کف سے تین مرتبہ کلی کی، اور تین مرتبہ ناک میں پانی ڈالا، تین مرتبہ چہرہ دھویا، پھر اس برتن میں ہاتھ ڈال کر سر کا مسح کیا اور پاؤں دھو لئے، پھر فرمایا کہ تمہاے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا وضو یہی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 998
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، شريك النخعي قد توبع
حدیث نمبر: 999
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ شُعْبَةَ ، حَدَّثَنِي أَبُو إِسْحَاقَ ، عَنْ هَانِئِ بْنِ هَانِئٍ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّ عَمَّارًا اسْتَأْذَنَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " الطَّيِّبُ الْمُطَيَّبُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ سیدنا عمار رضی اللہ عنہ آکر اجازت طلب کرنے لگے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”یہ پاکیزہ ہے اور پاکیزگی کا حامل ہے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 999
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، قاله أحمد شاكر
حدیث نمبر: 1000
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ ، عَنْ شُعْبَةَ . ح وَحَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، قَالَ يَحْيَى : قَالَ : حَدَّثَنِي مَنْصُورٌ ، عَنْ رِبْعِيٍّ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَكْذِبُوا عَلَيَّ ، فَإِنَّهُ مَنْ يَكْذِبْ عَلَيَّ يَلِجْ النَّارَ " ، قَالَ حَجَّاجٌ : قُلْتُ لِشُعْبَةَ : هَلْ أَدْرَكَ عَلِيًّا ؟ قَالَ : نَعَمْ ، حَدَّثَنِي عَنْ عَلِيٍّ ، وَلَمْ يَقُلْ : سَمِعَ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میری طرف جھوٹی بات کی نسبت نہ کرو، کیونکہ جو شخص میری طرف کسی بات کی جھوٹی نسبت کرے گا، وہ جہنم میں داخل ہوگا۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 1000
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، والحديث متواتر ، خ: 106، م : (في المقدمة): 1
حدیث نمبر: 1001
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ : أَنَّهُ سَمِعَ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَخْطُبُ يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَكَرَ مِثْلَهُ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 1001
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، والحديث متواتر ، وانظر ما قبله