حدیث نمبر: 922
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنِي وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ الْوَاسِطِيُّ ، أَنْبَأَنَا خَالِدٌ ، عَنْ عَطَاءٍ يَعْنِي ابْنَ السَّائِبِ ، عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِ هَذِهِ الْأُمَّةِ بَعْدَ نَبِيِّهَا ؟ أَبُو بَكْرٍ ، وَخَيْرُهَا بَعْدَ أَبِي بَكْرٍ عُمَرُ ، ثُمَّ يَجْعَلُ اللَّهُ الْخَيْرَ حَيْثُ أَحَبَّ " .
مولانا ظفر اقبال
ایک مرتبہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کیا میں تمہیں یہ نہ بتاؤں کہ اس امت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سب سے بہترین شخص کون ہے؟ وہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ہیں، اور سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے بعد اس امت میں سب بہترین شخص سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ہیں، اس کے بعد اللہ جہاں چاہتا ہے اپنی محبت پیدا فرما دیتا ہے۔
حدیث نمبر: 923
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرزاق ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَمَّنْ سَمِعَ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، وَابْنَ مَسْعُودٍ ، يَقُولَانِ : " قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْجِوَارِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی اور سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حق جوار پر فیصلہ فرمایا ہے۔
حدیث نمبر: 924
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُنَيْنٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : نَهَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " عَنِ التَّخَتُّمِ بِالذَّهَبِ ، وَعَنْ لِبَاسِ الْقَسِّيِّ ، وَعَنِ الْقِرَاءَةِ فِي الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ ، وَعَنْ لِبَاسِ الْمُعَصْفَرِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے سونے کی انگوٹھی، ریشمی لباس یا عصفر سے رنگا ہوا کپڑا پہننے اور رکوع یا سجدہ کی حالت میں قرآن کریم کی تلاوت سے منع فرمایا ہے۔
حدیث نمبر: 925
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْحَارِثِ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : جَاءَ ثَلَاثَةُ نَفَرٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ أَحَدُهُمْ : كَانَتْ لِي مِائَةُ أُوقِيَّةٍ فَأَنْفَقْتُ مِنْهَا عَشْرَةَ أَوَاقٍ ، وَقَالَ الْآخَرُ : كَانَتْ لِي مِائَةُ دِينَارٍ فَتَصَدَّقْتُ مِنْهَا بِعَشَرَةِ دَنَانِيرَ ، وَقَالَ الْآخَرُ : كَانَتْ لِي عَشَرَةُ دَنَانِيرَ فَتَصَدَّقْتُ مِنْهَا بِدِينَارٍ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَنْتُمْ فِي الْأَجْرِ سَوَاءٌ ، كُلُّ إِنْسَانٍ مِنْكُمْ تَصَدَّقَ بِعُشْرِ مَالِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ تین آدمی بارگارہ رسالت میں حاضر ہوئے، ان میں سے ایک نے کہا: میرے پاس سو اوقیے تھے جن میں سے دس اوقیے میں نے اللہ کے راستہ میں خرچ کر دیئے، دوسرے نے کہا: میرے پاس سو دینار تھے جن میں سے دس دینار میں نے اللہ کے راستہ میں خرچ کر دیئے، تیسرے نے کہا : میرے پاس دس دینار تھے جن میں سے ایک دینار میں نے اللہ کے راستہ میں خرچ کر دیا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم سب اجر و ثواب میں برابر ہو، کیونکہ تم میں سے ہر ایک نے اپنے مال کا دسواں حصہ خرچ کیا ہے۔“
حدیث نمبر: 926
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنِي وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ الْوَاسِطِيُّ ، أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ حُصَيْنٍ ، عَنِ الْمُسَيَّبِ بْنِ عَبْدِ خَيْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَامَ عَلِيٌّ ، فَقَالَ : " خَيْرُ هَذِهِ الْأُمَّةِ بَعْدَ نَبِيِّهَا أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ ، وَإِنَّا قَدْ أَحْدَثْنَا بَعْدَهُمْ أَحْدَاثًا يَقْضِي اللَّهُ تَعَالَى فِيهَا مَا شَاءَ " .
مولانا ظفر اقبال
ایک مرتبہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کھڑے ہو کر فرمایا: اس امت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سب سے بہترین شخص سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ ہیں، ان کے بعد ہم نے ایسی چیزیں ایجاد کر لی ہیں جن میں اللہ جو چاہے گا فیصلہ فرما دے گا۔
حدیث نمبر: 927
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، وَالثَّوْرِيُّ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ ، عَنْ عَلِيٍّ ، قَالَ : " لَيْسَ الْوَتْرُ بِحَتْمٍ كَهَيْئَةِ الْمَكْتُوبَةِ ، وَلَكِنَّهُ سُنَّةٌ سَنَّهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ وتر فرض نماز کی طرح قرآن کریم سے حتمی ثبوت نہیں رکھتے، لیکن ان کا وجوب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت سے ثابت ہے۔
حدیث نمبر: 928
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ الْجَرْمِيُّ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ ، عَنْ عَلِيٍّ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " تَوَضَّأَ ثَلَاثًا ثَلَاثًا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کرتے ہوئے اعضاء وضو کو تین تین مرتبہ دھویا تھا۔
حدیث نمبر: 929
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَنْبَأَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْحَارِثِ ، عَنْ عَلِيٍّ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ " يُوتِرُ عِنْدَ الْأَذَانِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم وتر کی نماز اذان فجر کے قریب پڑھتے تھے۔
حدیث نمبر: 930
(حديث قدسي) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ رَبِيعَةَ ، قَالَ مَرَّةً : قَالَ عَبْدُ الرَّازِقِ : وَأَكْثَرُ ذَاكَ يَقُولُ : أَخْبَرَنِي مَنْ شَهِدَ عَلِيًّا حِينَ رَكِبَ ، فَلَمَّا وَضَعَ رِجْلَهُ فِي الرِّكَابِ ، قَالَ : بِسْمِ اللَّهِ ، فَلَمَّا اسْتَوَى ، قَالَ : الْحَمْدُ لِلَّهِ ، ثُمَّ قَالَ : سُبْحَانَ الَّذِي سَخَّرَ لَنَا هَذَا وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِينَ ، وَإِنَّا إِلَى رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُونَ ، ثُمَّ حَمِدَ ثَلَاثًا ، وَكَبَّرَ ثَلَاثًا ، ثُمَّ قَالَ : اللَّهُمَّ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ ، ظَلَمْتُ نَفْسِي فَاغْفِرْ لِي ، إِنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ ، ثُمَّ ضَحِكَ ، قَالَ : فَقِيلَ : مَا يُضْحِكُكَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ؟ قَالَ : رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَلَ مِثْلَ مَا فَعَلْتُ ، وَقَالَ مِثْلَ مَا قُلْتُ ، ثُمَّ ضَحِكَ ، فَقُلْنَا : مَا يُضْحِكُكَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ ؟ قَالَ : " الْعَبْدُ ، أَوْ قَالَ : عَجِبْتُ لِلْعَبْدِ ، إِذَا قَالَ : لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ ، ظَلَمْتُ نَفْسِي فَاغْفِرْ لِي ، إِنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ ، يَعْلَمُ أَنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا هُوَ " .
مولانا ظفر اقبال
علی بن ربیعہ کہتے ہیں کہ میں نے ایک مرتبہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ ان کے پاس سواری کے لئے ایک جانور لایا گیا، جب انہوں نے اپنا پاؤں اس کی رکاب میں رکھا تو بسم اللہ کہا، جب اس پر بیٹھ گئے تو یہ دعا پڑھی: الْحَمْدُ لِلّٰہِ ، «سُبْحَانَ الَّذِي سَخَّرَ لَنَا هَذَا وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِينَ وَإِنَّا إِلَى رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُونَ» ”تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہیں، پاک ہے وہ ذات جس نے اس جانور کو ہمارا تابع فرمان بنا دیا، ہم تو اسے اپنے تابع نہیں کر سکتے تھے اور بیشک ہم اپنے رب کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں۔“ پھر تین مرتبہ الحمدللہ اور تین مرتبہ اللہ اکبر کہہ کر فرمایا: «اَللّٰهُمَّ لَا إِلٰهَ إِلَّا أَنْتَ ظَلَمْتُ نَفْسِي فَاغْفِرْ لِي إِنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ» ”اے اللہ! آپ کے علاوہ کوئی معبود نہیں، میں نے اپنی جان پر ظلم کیا پس مجھے معاف فرما دیجئے، کیونکہ آپ کے علاوہ کوئی بھی گناہوں کو معاف نہیں کر سکتا۔“ پھر مسکرا دیئے۔ میں نے پوچھا کہ امیر المومنین! اس موقع پر مسکرانے کی کیا وجہ ہے؟ فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی اسی طرح کرتے ہوئے دیکھا تھا جیسے میں نے کیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی مسکرائے تھے، اور میں نے بھی ان سے اس کی وجہ پوچھی تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ ”جب بندہ یہ کہتا ہے کہ پروردگار! مجھے معاف فرما دے، تو مجھے خوشی ہوتی ہے کہ وہ جانتا ہے کہ اللہ کے علاوہ اس کے گناہ کوئی معاف نہیں کر سکتا۔“
حدیث نمبر: 931
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ هَانِئِ بْنِ هَانِئٍ ، وَهُبَيْرَةَ بْنِ يَرِيمَ ، عَنْ عَلِيٍّ أَنَّ ابْنَةَ حَمْزَةَ تَبِعَتْهُمْ تُنَادِي : يَا عَمُّ ، يَا عَمُّ ، فَتَنَاوَلَهَا عَلِيٌّ فَأَخَذَ بِيَدِهَا ، وَقَالَ لِفَاطِمَةَ : دُونَكِ ابْنَةَ عَمِّكِ فَحَوِّلِيهَا ، فَاخْتَصَمَ فِيهَا عَلِيٌّ ، وَزَيْدٌ ، وَجَعْفَرٌ ، فَقَالَ عَلِيٌّ : أَنَا أَخَذْتُهَا وَهِيَ ابْنَةُ عَمِّي ، وَقَالَ جَعْفَرٌ : ابْنَةُ عَمِّي وَخَالَتُهَا تَحْتِي ، وَقَالَ زَيْدٌ : ابْنَةُ أَخِي ، فَقَضَى بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِخَالَتِهَا ، وَقَالَ : " الْخَالَةُ بِمَنْزِلَةِ الْأُمِّ " ، ثُمَّ قَالَ لِعَلِيٍّ : " أَنْتَ مِنِّي وَأَنَا مِنْكَ " ، وَقَالَ لِجَعْفَرٍ : " أَشْبَهْتَ خَلْقِي وَخُلُقِي " ، وَقَالَ لِزَيْدٍ : " أَنْتَ أَخُونَا وَمَوْلَانَا " ، فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَلَا تَزَوَّجُ ابْنَةَ حَمْزَةَ ؟ فَقَالَ : " إِنَّهَا ابْنَةُ أَخِي مِنَ الرَّضَاعَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب ہم مکہ مکرمہ سے نکلنے لگے تو سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی چچا جان! چچا جان! پکارتی ہوئی ہمارے پیچھے لگ گئی، میں نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا اور اسے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے حوالے کر دیا، اور ان سے کہا کہ اپنی چچا زاد بہن کو سنبھالو، (جب ہم مدینہ منورہ پہنچے) تو اس بچی کی پرورش کے سلسلے میں میرا، سیدنا جعفر اور سیدنا زید بن حارثہ رضی اللہ عنہما کا جھگڑا ہو گیا۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا یہ کہنا تھا کہ اسے میں لے کر آیا ہوں اور یہ میرے چچا کی بیٹی ہے، سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ کا موقف یہ تھا کہ یہ میرے چچا کی بیٹی ہے اور اس کی خالہ یعنی سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا میرے نکاح میں ہیں، لہٰذا اس کی پرورش میرا حق ہے، سیدنا زید رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ یہ میری بھتیجی ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا فیصلہ کرتے ہوئے فرمایا: ”جعفر! آپ تو صورت اور سیرت میں میرے مشابہہ ہیں، علی! آپ مجھ سے ہیں اور میں آپ سے ہوں، اور زید! آپ ہمارے بھائی اور ہمارے مولیٰ (آزاد کردہ غلام) ہیں، بچی اپنی خالہ کے پاس رہے گی کیونکہ خالہ بھی ماں کے مرتبہ میں ہوتی ہے۔“ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ اس سے نکاح کیوں نہیں کر لیتے؟ فرمایا: ”اس لئے کہ یہ میری رضاعی بھتیجی ہے۔“
حدیث نمبر: 932
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : " خَيْرُ هَذِهِ الْأُمَّةِ بَعْدَ نَبِيِّهَا أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اس امت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سب سے بہترین شخص سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ ہیں۔
حدیث نمبر: 933
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، وَشُعْبَةَ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّهُ قَالَ : " أَلَا أُنَبِّئُكُمْ بِخَيْرِ هَذِهِ الْأُمَّةِ بَعْدَ نَبِيِّهَا ؟ أَبُو بَكْرٍ ، ثُمَّ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا " .
مولانا ظفر اقبال
ایک مرتبہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کیا میں تمہیں یہ نہ بتاؤں کہ اس امت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سب سے بہترین شخص کون ہے؟ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ۔
حدیث نمبر: 934
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنِي سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا الصُّبَيُّ بْنُ الْأَشْعَثِ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : " أَلَا أُنَبِّئُكُمْ بِخَيْرِ هَذِهِ الْأُمَّةِ بَعْدَ نَبِيِّهَا ؟ أَبُو بَكْرٍ ، وَالثَّانِي عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، وَلَوْ شِئْتُ سَمَّيْتُ الثَّالِثَ " ، قَالَ أَبُو إِسْحَاقَ : فَتَهَجَّاهَا عَبْدُ خَيْرٍ لِكَيْ لَا يَمْتَرُوا فِيمَا قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ .
مولانا ظفر اقبال
ایک مرتبہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کیا میں تمہیں یہ نہ بتاؤں کہ اس امت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سب سے بہترین شخص کون ہے؟ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ ہیں، اور اگر میں چاہوں تو تیسرے کا نام بھی بتا سکتا ہوں۔
حدیث نمبر: 935
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ أَبِي الصَّعْبَةِ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ هَمْدَانَ يُقَالُ لَهُ : أَبُو أَفْلَحَ ، عَنْ ابْنِ زُرَيْرٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، يَقُولُ : إِنَّ نَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَذَ حَرِيرًا فَجَعَلَهُ فِي يَمِينِهِ ، وَأَخَذَ ذَهَبًا فَجَعَلَهُ فِي شِمَالِهِ ، ثُمَّ قَالَ : " إِنَّ هَذَيْنِ حَرَامٌ عَلَى ذُكُورِ أُمَّتِي " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دائیں ہاتھ میں سونا اور بائیں ہاتھ میں ریشم پکڑا اور فرمایا کہ ”یہ دونوں چیزیں میری امت کے مردوں پر حرام ہیں۔“
حدیث نمبر: 936
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ يَعْنِي الْمَقْبُرِيَّ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سُلَيْمٍ الزُّرَقِيِّ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّهُ قَالَ : خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، حَتَّى إِذَا كُنَّا بِالْحَرَّةِ بِالسُّقْيَا الَّتِي كَانَتْ لِسَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " ائْتُونِي بِوَضُوءٍ " ، فَلَمَّا تَوَضَّأَ ، قَامَ فَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ ، ثُمَّ كَبَّرَ ، ثُمَّ قَالَ : " اللَّهُمَّ إِنَّ إِبْرَاهِيمَ كَانَ عَبْدَكَ وَخَلِيلَكَ دَعَا لِأَهْلِ مَكَّةَ بِالْبَرَكَةِ ، وَأَنَا مُحَمَّدٌ عَبْدُكَ وَرَسُولُكَ أَدْعُوكَ لِأَهْلِ الْمَدِينَةِ أَنْ تُبَارِكَ لَهُمْ فِي مُدِّهِمْ وَصَاعِهِمْ ، مِثْلَيْ مَا بَارَكْتَ لِأَهْلِ مَكَّةَ ، مَعَ الْبَرَكَةِ بَرَكَتَيْنِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر پر روانہ ہوئے، جب ہم حرہ میں اس سیراب کی ہوئی زمین پر پہنچے جو سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کی ملکیت میں تھی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے لئے وضو کا پانی لاؤ۔“ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم وضو کر چکے تو قبلہ رخ ہو کر کھڑے ہو گئے اور اللہ اکبر کہہ کر فرمایا: ”اے اللہ! ابراہیم جو آپ کے بندے اور آپ کے خلیل تھے، انہوں نے اہل مکہ کے لئے برکت کی دعا کی تھی، اور میں محمد آپ کا بندہ اور آپ کا رسول ہوں، میں آپ سے اہل مدینہ کے حق میں دعا مانگتا ہوں کہ اہل مدینہ کے مد اور صاع میں اہل مکہ کی نسبت دوگنی برکت عطا فرما۔“
حدیث نمبر: 937
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَنْبَأَنَا أَبُو عَامِرٍ الْمُزَنِيُّ ، حَدَّثَنَا شَيْخٌ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ ، قَالَ : خَطَبَنَا عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَوْ قَالَ : قَالَ عَلِيٌّ : يَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ عَضُوضٌ ، يَعَضُّ الْمُوسِرُ عَلَى مَا فِي يَدَيْهِ ، قَالَ : وَلَمْ يُؤْمَرْ بِذَلِكَ ، قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : وَلا تَنْسَوُا الْفَضْلَ بَيْنَكُمْ سورة البقرة آية 237 وَيَنْهَدُ الْأَشْرَارُ ، وَيُسْتَذَلُّ الْأَخْيَارُ ، وَيُبَايِعُ الْمُضْطَرُّونَ ، قَالَ : وَقَدْ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " عَنْ بَيْع الْمُضْطَرِّينَ ، وَعَنْ بَيْعِ الْغَرَرِ ، وَعَنْ بَيْعِ الثَّمَرَةِ قَبْلَ أَنْ تُدْرِكَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: لوگوں پر ایک کاٹ کھانے والا زمانہ آنے والا ہے، حتی کہ جسے مالی کشادگی دی گئی ہے وہ بھی اپنے ہاتھوں کو کاٹ کھائے گا، حالانکہ اسے یہ حکم نہیں دیا گیا، اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ «﴿وَلَا تَنْسَوُا الْفَضْلَ بَيْنَكُمْ﴾ [البقرة : 237]» ”اپنے درمیان حاجت مندوں کو بھول نہ جانا۔“ اس زمانے میں شریروں کا مرتبہ بلند ہو جائے گا، نیک اور بہترین لوگوں کو ذلیل کیا جائے گا، اور مجبوروں کو اپنی پونجی فروخت کرنے پر مجبور کیا جائے گا، حالانکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے، نیز اس بیع سے بھی منع فرمایا ہے جس میں کسی نوعیت کا بھی دھوکہ ہو، اور پکنے سے قبل یا قبضہ سے قبل پھلوں کی بیع سے بھی منع فرمایا ہے۔
حدیث نمبر: 938
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ . ح وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ وَوَكِيعٌ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " خَيْرُ نِسَائِهَا خَدِيجَةُ ، وَخَيْرُ نِسَائِهَا مَرْيَمُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: ”بہترین عورت سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا ہیں اور بہترین عورت سیدہ مریم بنت عمران علیہا السلام ہیں۔“
حدیث نمبر: 939
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الْمُبَارَكِيُّ سُلَيْمَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو شِهَابٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : نَهَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " عَنْ خَاتَمِ الذَّهَبِ ، وَعَنْ لُبْسِ الْحَمْرَاءِ ، وَعَنِ الْقِرَاءَةِ فِي الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے سونے کی انگوٹھی، ریشمی کپڑے پہننے، اور رکوع کی حالت میں قرآن کریم کی تلاوت سے منع فرمایا ہے۔
حدیث نمبر: 940
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَنْبَأَنَا يُونُسُ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " رُفِعَ الْقَلَمُ عَنْ ثَلَاثَةٍ : عَنِ الصَّغِيرِ حَتَّى يَبْلُغَ ، وَعَنِ النَّائِمِ حَتَّى يَسْتَيْقِظَ ، وَعَنِ الْمُصَابِ حَتَّى يُكْشَفَ عَنْهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تین طرح کے لوگ مرفوع القلم ہیں: (1) بچہ جب تک بالغ نہ ہو جائے، (2) سویا ہوا شخص جب تک بیدار نہ ہوجائے، (3) مصیبت زدہ شخص جب تک اس کی پریشانی دور نہ ہو جائے۔“
حدیث نمبر: 941
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ سَالِمٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، قَالَ : أُتِيَ عَلِيٌّ بِزَانٍ مُحْصَنٍ ، فَجَلَدَهُ يَوْمَ الْخَمِيسِ مِائَةَ ، ثُمَّ رَجَمَهُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ ، فَقِيلَ لَهُ : جَمَعْتَ عَلَيْهِ حَدَّيْنِ ؟ فَقَالَ : " جَلَدْتُهُ بِكِتَابِ اللَّهِ ، وَرَجَمْتُهُ بِسُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
مولانا ظفر اقبال
ایک مرتبہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس ایک شادی شدہ بدکار کو لایا گیا، انہوں نے جمعرات کے دن اسے سو کوڑے مارے اور جمعہ کے دن اسے سنگسار کر دیا، کسی نے ان سے پوچھا کہ آپ نے اس پر دو سزائیں جمع کیوں کیں؟ انہوں نے فرمایا: میں نے کوڑے قرآن کریم کی وجہ سے مارے، اور سنگسار سنت کی وجہ سے کیا۔
حدیث نمبر: 942
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عبد الله : حدثني أبي ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ . ح وَأَبُو إِبْرَاهِيمَ الْمُعَقِّبُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هُشَيْمٍ ، أخبرنا حُصَيْنٌ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، قَالَ : أُتِيَ عَلِيٌّ بِمَوْلَاةٍ لِسَعِيدِ بْنِ قَيْسٍ مُحْصَنَةٍ قَدْ فَجَرَتْ ، قَالَ : فَضَرَبَهَا مِائَةً ثُمَّ رَجَمَهَا ، ثُمَّ قَالَ : " جَلَدْتُهَا بِكِتَابِ اللَّهِ ، وَرَجَمْتُهَا بِسُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
مولانا ظفر اقبال
ایک مرتبہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس سعید بن قیس کی ایک شادی شدہ باندی کو لایا گیا جس نے بدکاری کی تھی، انہوں نے اسے سو کوڑے مارے اور پھر اسے سنگسار کر دیا اور فرمایا: میں نے کوڑے قرآن کریم کی وجہ سے مارے، اور سنگسار سنت کی وجہ سے کیا۔
حدیث نمبر: 943
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ ، عَنْ شَرِيكٍ ، عَنِ السُّدِّيِّ ، عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ ، قَالَ : رَأَيْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ دَعَا بِمَاءٍ لِيَتَوَضَّأَ ، فَتَمَسَّحَ بِهِ تَمَسُّحًا ، وَمَسَحَ عَلَى ظَهْرِ قَدَمَيْهِ ، ثُمَّ قَالَ : هَذَا وُضُوءُ مَنْ لَمْ يُحْدِثْ ، ثُمَّ قَالَ : لَوْلَا أَنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " مَسَحَ عَلَى ظَهْرِ قَدَمَيْهِ " ، رَأَيْتُ أَنَّ بُطُونَهُمَا أَحَقُّ ، ثُمَّ شَرِبَ فَضْلَ وَضُوئِهِ وَهُوَ قَائِمٌ ، ثُمَّ قَالَ : أَيْنَ الَّذِينَ يَزْعُمُونَ أَنَّهُ لَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ أَنْ يَشْرَبَ قَائِمًا ؟ ! .
مولانا ظفر اقبال
عبدخیر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک دفعہ میں نے دیکھا کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے وضو کرنے کے لئے پانی منگوایا، پانی سے ہاتھ تر کئے اور اپنے پاؤں کے اوپر والے حصے پر انہیں پھیر لیا، اور فرمایا کہ یہ اس شخص کا وضو ہے جو بےوضو نہ ہو۔ پھر فرمایا کہ اگر میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مسح علی الخفین میں پاؤں کے اوپر والے حصے پر مسح کرتے ہوئے نہ دیکھا ہوتا تو میں یہی رائے دیتا کہ پاؤں کا نچلا حصہ مسح کا زیادہ مستحق ہے، پھر آپ نے وضو کا بچا ہوا پانی کھڑے ہو کر پی لیا اور فرمایا کہ کہاں ہیں وہ لوگ جو یہ سمجھتے ہیں کہ کسی صورت میں بھی کھڑے ہو کر پانی پینا جائز نہیں ہے؟
حدیث نمبر: 944
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حَكِيمٍ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَإِسْمَاعِيلُ ابْنُ بنت السدي ، قَالَوا : حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّهُ وَصَفَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَال : كَانَ " عَظِيمَ الْهَامَةِ ، أَبْيَضَ ، مُشْرَبًا بِحُمْرَةٍ ، عَظِيمَ اللِّحْيَةِ ، ضَخْمَ الْكَرَادِيسِ ، شَثْنَ الْكَفَّيْنِ وَالْقَدَمَيْنِ ، طَوِيلَ الْمَسْرُبَةِ ، كَثِيرَ شَعَرِ الرَّأْسِ رَجِلَهُ ، يَتَكَفَّأُ فِي مِشْيَتِهِ كَأَنَّمَا يَنْحَدِرُ فِي صَبَبٍ ، لَا طَوِيلٌ ، وَلَا قَصِيرٌ ، لَمْ أَرَ مِثْلَهُ لَا قَبْلَهُ وَلَا بَعْدَهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " ، وَقَالَ عَلِيُّ بْنُ حَكِيمٍ فِي حَدِيثِهِ : وَوَصَفَ لَنَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : " كَانَ ضَخْمَ الْهَامَةِ ، حَسَنَ الشَّعَرِ رَجِلَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا سر مبارک بڑا ، رنگ سرخی مائل سفید اور داڑھی گھنی تھی، ہڈیوں کے جوڑ بہت مضبوط تھے، ہتھیلیاں اور پاؤں بھرے ہوئے تھے، سینے سے لے کر ناف تک بالوں کی ایک لمبی سی دھاری تھی، سر کے بال گھنے اور ہلکے گھنگھریالے تھے، چلتے وقت چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتے تھے، ایسا محسوس ہوتا تھا گویا کسی گھاٹی سے اتر رہے ہیں، بہت زیادہ لمبے تھے اور نہ بہت زیادہ چھوٹے قد کے، میں نے ان سے پہلے یا ان کے بعد ان جیسا کوئی نہ دیکھا، صلی اللہ علیہ وسلم۔
حدیث نمبر: 945
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ الْجَرْمِيُّ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " تَوَضَّأَ ثَلَاثًا ثَلَاثًا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ وضو کرتے ہوئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اعضاء وضو کو تین تین مرتبہ دھویا۔
حدیث نمبر: 946
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنِي سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْأُمَوِيُّ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ صَالِحِ بْنِ سُعَيْدٍ ، أَوْ سَعِيدٍ ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " لَا قَصِيرٌ وَلَا طَوِيلٌ ، عَظِيمَ الرَّأْسِ رَجِلَهُ ، عَظِيمَ اللِّحْيَةِ ، مُشْرَبًا حُمْرَةً ، طَوِيلَ الْمَسْرُبَةِ ، عَظِيمَ الْكَرَادِيسِ ، شَثْنَ الْكَفَّيْنِ وَالْقَدَمَيْنِ ، إِذَا مَشَى تَكَفَّأَ كَأَنَّمَا يَهْبِطُ فِي صَبَبٍ ، لَمْ أَرَ قَبْلَهُ وَلَا بَعْدَهُ مِثْلَهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بہت زیادہ لمبے تھے اور نہ بہت زیادہ چھوٹے، سر مبارک بڑا، بال ہلکے گھنگھریالے اور داڑھی گھنی تھی، ہتھیلیاں اور پاؤں بھرے ہوئے تھے، چہرہ مبارک میں سرخی کی آمیزش تھی، سینے سے لے کر ناف تک بالوں کی ایک لمبی سی دھاری تھی، ہڈیوں کے جوڑ بہت مضبوط تھے، چلتے وقت چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتے تھے، ایسا محسوس ہوتا تھا گویا کہ کسی گھاٹی سے اتر رہے ہیں، میں نے ان سے پہلے یا ان کے بعد ان جیسا کوئی نہ دیکھا، صلی اللہ علیہ وسلم۔
حدیث نمبر: 947
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنِي أَبُو الشَّعْثَاءِ عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ سُلَيْمَانُ بْنُ حَيَّانَ ، عَنْ حَجَّاجٍ ، عَنْ عُثْمَانَ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الْمَكِّيِّ ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ، قَالَ : سُئِلَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ صِفَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " لَا قَصِيرٌ وَلَا طَوِيلٌ ، مُشْرَبًا لَوْنُهُ حُمْرَةً ، حَسَنَ الشَّعَرِ رَجِلَهُ ، ضَخْمَ الْكَرَادِيسِ ، شَثْنَ الْكَفَّيْنِ ، ضَخْمَ الْهَامَةِ ، طَوِيلَ الْمَسْرُبَةِ ، إِذَا مَشَى تَكَفَّأَ كَأَنَّمَا يَنْحَدِرُ مِنْ صَبَبٍ ، لَمْ أَرَ مِثْلَهُ قَبْلَهُ وَلَا بَعْدَهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بہت زیادہ لمبے تھے اور نہ بہت زیادہ چھوٹے، سر مبارک بڑا اور داڑھی گھنی تھی، ہتھیلیاں اور پاؤں بھرے ہوئے تھے، چہرہ مبارک میں سرخی کی آمیزش تھی، سینے سے لے کر ناف تک بالوں کی ایک لمبی سی دھاری تھی، ہڈیوں کے جوڑ بہت مضبوط تھے، چلتے وقت چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتے تھے، ایسا محسوس ہوتا تھا گویا کہ کسی گھاٹی سے اتر رہے ہیں، میں نے ان سے پہلے یا ان کے بعد ان جیسا کوئی نہ دیکھا، صلی اللہ علیہ وسلم۔
حدیث نمبر: 948
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ حَارِثَةَ بْنِ مُضَرِّبٍ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : لَمَّا قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ أَصَبْنَا مِنْ ثِمَارِهَا ، فَاجْتَوَيْنَاهَا وَأَصَابَنَا بِهَا وَعْكٌ ، وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَخَبَّرُ عَنْ بَدْرٍ ، فَلَمَّا بَلَغَنَا أَنَّ الْمُشْرِكِينَ قَدْ أَقْبَلُوا ، سَارَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى بَدْرٍ ، وَبَدْرٌ بِئْرٌ ، فَسَبَقَنَا الْمُشْرِكُونَ إِلَيْهَا ، فَوَجَدْنَا فِيهَا رَجُلَيْنِ مِنْهُمْ : رَجُلًا مِنْ قُرَيْشٍ ، وَمَوْلًى لِعُقْبَةَ بْنِ أَبِي مُعَيْطٍ ، فَأَمَّا الْقُرَشِيُّ فَانْفَلَتَ ، وَأَمَّا مَوْلَى عُقْبَةَ فَأَخَذْنَاهُ ، فَجَعَلْنَا نَقُولُ لَهُ : كَمْ الْقَوْمُ ؟ فَيَقُولُ : هُمْ وَاللَّهِ كَثِيرٌ عَدَدُهُمْ ، شَدِيدٌ بَأْسُهُمْ ، فَجَعَلَ الْمُسْلِمُونَ إِذْا قَالَ ذَلِكَ ضَرَبُوهُ ، حَتَّى انْتَهَوْا بِهِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ لَهُ : " كَمْ الْقَوْمُ ؟ " ، قَالَ : هُمْ وَاللَّهِ كَثِيرٌ عَدَدُهُمْ ، شَدِيدٌ بَأْسُهُمْ ، فَجَهَدَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُخْبِرَهُ كَمْ هُمْ ، فَأَبَى ، ثُمَّ إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَأَلَهُ : " كَمْ يَنْحَرُونَ مِنَ الْجُزُرِ ؟ " ، فَقَالَ : عَشْرًا كُلَّ يَوْمٍ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْقَوْمُ أَلْفٌ ، كُلُّ جَزُورٍ لِمِائَةٍ وَتَبِعَهَا " ، ثُمَّ إِنَّهُ أَصَابَنَا مِنَ اللَّيْلِ طَشٌّ مِنْ مَطَرٍ ، فَانْطَلَقْنَا تَحْتَ الشَّجَرِ وَالْحَجَفِ نَسْتَظِلُّ تَحْتَهَا مِنَ الْمَطَرِ ، وَبَاتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُو رَبَّهُ عَزَّ وَجَلَّ ، وَيَقُولُ : " اللَّهُمَّ إِنَّكَ إِنْ تُهْلِكْ هَذِهِ الْفِئَةَ لَا تُعْبَدْ " ، قَالَ : فَلَمَّا طَلَعَ الْفَجْرُ نَادَى : " الصَّلَاةَ عِبَادَ اللَّهِ " ، فَجَاءَ النَّاسُ مِنْ تَحْتِ الشَّجَرِ وَالْحَجَفِ ، فَصَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَحَرَّضَ عَلَى الْقِتَالِ ، ثُمَّ قَالَ : " إِنَّ جَمْعَ قُرَيْشٍ تَحْتَ هَذِهِ الضِّلَعِ الْحَمْرَاءِ مِنَ الْجَبَلِ " ، فَلَمَّا دَنَا الْقَوْمُ مِنَّا وَصَافَفْنَاهُمْ ، إِذَا رَجُلٌ مِنْهُمْ عَلَى جَمَلٍ لَهُ أَحْمَرَ يَسِيرُ فِي الْقَوْمِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا عَلِيُّ نَادِ لِي حَمْزَةَ ، وَكَانَ أَقْرَبَهُمْ مِنَ الْمُشْرِكِينَ : مَنْ صَاحِبُ الْجَمَلِ الْأَحْمَرِ ، وَمَاذَا يَقُولُ لَهُمْ ؟ " ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنْ يَكُنْ فِي الْقَوْمِ أَحَدٌ يَأْمُرُ بِخَيْرٍ ، فَعَسَى أَنْ يَكُونَ صَاحِبَ الْجَمَلِ الْأَحْمَرِ " ، فَجَاءَ حَمْزَةُ فَقَالَ : هُوَ عُتْبَةُ بْنُ رَبِيعَةَ ، وَهُوَ يَنْهَى عَنِ الْقِتَالِ ، وَيَقُولُ لَهُمْ : يَا قَوْمُ ، إِنِّي أَرَى قَوْمًا مُسْتَمِيتِينَ لَا تَصِلُونَ إِلَيْهِمْ وَفِيكُمْ خَيْرٌ ، يَا قَوْمُ ، اعْصِبُوهَا الْيَوْمَ بِرَأْسِي ، وَقُولُوا : جَبُنَ عُتْبَةُ بْنُ رَبِيعَةَ ، وَقَدْ عَلِمْتُمْ أَنِّي لَسْتُ بِأَجْبَنِكُمْ ، قَالَ : فَسَمِعَ ذَلِكَ أَبُو جَهْلٍ ، فَقَالَ : أَنْتَ تَقُولُ هَذَا ؟ وَاللَّهِ لَوْ غَيْرُكَ يَقُولُ هَذَا لَأَعْضَضْتُهُ ، قَدْ مَلَأَتْ رِئَتُكَ جَوْفَكَ رُعْبًا ، فَقَالَ عُتْبَةُ : إِيَّايَ تُعَيِّرُ يَا مُصَفِّرَ اسْتِهِ ؟ سَتَعْلَمُ الْيَوْمَ أَيُّنَا الْجَبَانُ ، قَالَ : فَبَرَزَ عُتْبَةُ وَأَخُوهُ شَيْبَةُ وَابْنُهُ الْوَلِيدُ حَمِيَّةً ، فَقَالُوا : مَنْ يُبَارِزُ ؟ فَخَرَجَ فِتْيَةٌ مِنَ الْأَنْصَارِ سِتَّةٌ ، فَقَالَ عُتْبَةُ لَا نُرِيدُ هَؤُلَاءِ ، وَلَكِنْ يُبَارِزُنَا مِنْ بَنِي عَمِّنَا ، مِنْ بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " قُمْ يَا عَلِيُّ ، وَقُمْ يَا حَمْزَةُ ، وَقُمْ يَا عُبَيْدَةُ بْنَ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ " ، فَقَتَلَ اللَّهُ تَعَالَى عُتْبَةَ وَشَيْبَةَ ابْنَيْ رَبِيعَةَ ، وَالْوَلِيدَ بْنَ عُتْبَةَ ، وَجُرِحَ عُبَيْدَةُ ، فَقَتَلْنَا مِنْهُمْ سَبْعِينَ ، وَأَسَرْنَا سَبْعِينَ ، فَجَاءَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ قَصِيرٌ بِالْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ أَسِيرًا ، فَقَالَ الْعَبَّاسُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ هَذَا وَاللَّهِ مَا أَسَرَنِي ، لَقَدْ أَسَرَنِي رَجُلٌ أَجْلَحُ ، مِنْ أَحْسَنِ النَّاسِ وَجْهًا ، عَلَى فَرَسٍ أَبْلَقَ ، مَا أُرَاهُ فِي الْقَوْمِ ، فَقَالَ الْأَنْصَارِيُّ : أَنَا أَسَرْتُهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَقَالَ : " اسْكُتْ ، فَقَدْ أَيَّدَكَ اللَّهُ تَعَالَى بِمَلَكٍ كَرِيمٍ " ، فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : فَأَسَرْنَا وَأَسَرْنَا مِنْ بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ : الْعَبَّاسَ ، وعَقِيلًا ، وَنَوْفَلَ بْنَ الْحَارِثِ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب ہم لوگ مدینہ منورہ ہجرت کر کے آئے اور ہم نے یہاں کے پھل کھائے تو ہمیں پیٹ کی بیماری لاحق ہو گئی، جس سے بڑھتے بڑھتے ہم شدید قسم کے بخار میں مبتلا ہو گئے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بدر کے حالات معلوم کرتے رہتے تھے، جب ہمیں معلوم ہوا کہ مشرکین مقام بدر کی طرف بڑھ رہے ہیں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی بدر کی طرف روانہ ہو گئے، جو کہ ایک کنوئیں کا نام تھا، ہم مشرکین سے پہلے وہاں پہنچ گئے، وہاں ہمیں دو آدمی ملے، ایک قریش کا اور دوسرا عقبہ بن ابی معیط کا غلام، قریشی تو ہمیں دیکھتے ہی بھاگ گیا اور عقبہ کے غلام کو ہم نے پکڑ لیا۔ ہم نے اس سے پوچھا کہ ان کے لشکر کی تعداد کتنی ہے؟ اس نے کہا: واللہ! ان کی تعداد بہت زیادہ اور ان کا سامان حرب بہت مضبوط ہے، جب اس نے یہ کہا تو مسلمانوں نے اسے مارنا شروع کر دیا، اور مارتے مارتے اسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے آئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اس سے مشرکین مکہ کی تعداد پوچھی، اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی وہی جواب دیا جو پہلے دیا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے ان کی صحیح تعداد معلوم کرنے کی پوری کوشش کی لیکن اس نے بتانے سے انکار کر دیا، بالآخر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا کہ ”وہ لوگ روزانہ کتنے اونٹ ذبح کرتے ہیں؟“ اس نے جواب دیا: روزانہ دس اونٹ ذبح کرتے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی وقت فرمایا: ”ان کی تعداد ایک ہزار ہے، کیونکہ ایک اونٹ کم از کم سو آدمیوں کو کفایت کر جاتا ہے۔“ رات ہوئی تو ہلکی ہلکی بارش ہونے لگی، ہم بارش سے بچنے کے لئے درختوں اور ڈھالوں کے نیچے چلے گئے، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسی حالت میں ساری رات اپنے پروردگار سے یہ دعا کرتے رہے: «اَللّٰهُمَّ إِنَّكَ إِنْ تُهْلِكْ هَذِهِ الْفِئَةَ لَا تُعْبَدْ» ”اے اللہ! اگر یہ گروہ ختم ہو گیا تو آپ کی عبادت نہیں ہو سکے گی۔“ بہرحال! طلوع فجر کے وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نداء کروائی کہ اللہ کے بندو! نماز تیار ہے، لوگوں نے درختوں اور سائبانوں کو چھوڑا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جمع ہو گئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی اور اس کے بعد جہاد کی ترغیب دینے لگے، پھر فرمایا کہ ”قریش کا لشکر اس پہاڑ کی سرخ ڈھلوان میں ہے۔“ جب لشکر قریش ہمارے قریب آگیا اور ہم نے بھی صف بندی کر لی، تو اچانک ان میں سے ایک آدمی سرخ اونٹ پر سوار ہو کر نکلا اور اپنے لشکر میں چکر لگانے لگا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”علی! حمزہ سے پکار کر کہو - جو کہ مشرکین مکہ کے سب سے زیادہ قریب تھے - یہ سرخ اونٹ والا کون ہے اور کیا کہہ رہا ہے؟“ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر لشکر قریش میں کوئی آدمی بھلائی کا حکم دے سکتا ہے تو وہ یہ سرخ اونٹ پر سوار ہی ہو سکتا ہے۔“ اتنی دیر میں سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ آگئے اور فرمانے لگے کہ یہ عتبہ بن ربیعہ ہے جو کہ لوگوں کو جنگ سے روک رہا ہے اور کہہ رہا ہے کہ اے میری قوم! میں ایسے لوگوں کو دیکھ رہا ہوں جو ڈھیلے پڑ چکے ہیں، اگر تم میں ذرا سی بھی صلاحیت ہو تو یہ تم تک کبھی نہیں پہنچ سکیں گے، اے میری قوم! آج کے دن میرے سر پر پٹی باندھ دو اور کہہ دو کہ عتبہ بن ربیعہ بزدل ہو گیا حالانکہ تم جانتے ہو کہ میں بزدل نہیں ہوں۔ ابوجہل نے جب یہ بات سنی تو کہنے لگا کہ یہ بات تم کہہ رہے ہو؟ واللہ! اگر یہ بات تمہارے علاوہ کسی اور نے کہی ہوتی تو میں اس سے کہتا کہ جا کر اپنے باپ کی شرمگاہ چوس (گالی دیتا)، تمہارے پھیپھڑوں نے تمہارے پیٹ میں رعب بھر دیا ہے، عتبہ کہنے لگا کہ او پیلے سرین والے! تو مجھے عار دلاتا ہے، آج تجھے پتہ چل جائے گا کہ ہم میں سے بزدل کون ہے؟ اس کے بعد جوش میں آکر عتبہ، اس کا بھائی شیبہ اور اس کا بیٹا ولید میدان جنگ میں نکل کر مبارز طلبی کرنے لگے، ان کے مقابلے میں چھ انصاری نوجوان نکلے، عتبہ کہنے لگا کہ ہم ان سے نہیں لڑنا چاہتے، ہمارے مقابلے میں ہمارے بنو عم نکلیں جن کا تعلق بنو عبدالمطلب سے ہو، یہ سن کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی، سیدنا حمزہ اور سیدنا عبیدہ بن حارث بن مطلب رضی اللہ عنہم کو اٹھنے اور مقابلہ کرنے کا حکم دیا۔ اس مقابلے میں عتبہ، شیبہ اور ولید تینوں مارے گئے اور مسلمانوں میں سیدنا عبیدہ رضی اللہ عنہ زخمی ہوئے۔ اس طرح ہم نے ان کے ستر آدمی مارے اور ستر ہی کو قیدی بنا لیا، اسی اثناء میں ایک چھوٹے قد کا انصاری نو جوان عباس بن عبدالمطلب کو - جو بعد میں صحابی بنے - قیدی بنا کر لے آیا، عباس کہنے لگے: یا رسول اللہ! واللہ اس نے مجھے قیدی نہیں بنایا، مجھے تو اس شخص نے قید کیا ہے جس کے سر کے دونوں جانب بال نہ تھے، وہ بڑا خوبصورت چہرہ رکھتا تھا اور ایک چتکبرے گھوڑے پر سوار تھا، جو مجھے اب آپ لوگوں میں نظر نہیں آ رہا، اس پر انصاری نے کہا: یا رسول اللہ! انہیں میں نے ہی گرفتار کیا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں خاموشی کی تلقین کرتے ہوئے فرمایا کہ ”ایک معزز فرشتے کے ذریعے اللہ نے تمہاری مدد کی ہے۔“ سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ بنو عبدالمطلب میں سے ہم نے عباس، عقیل اور فوفل بن حارث کو گرفتار کیا تھا۔
حدیث نمبر: 949
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : سَأَلْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، فَقُلْتُ : أَخْبِرِينِي بِرَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْأَلُهُ عَنِ الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ ، فَقَالَتْ : ائْتِ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَسَلْهُ ، فَإِنَّهُ كَانَ يَلْزَمُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : فَأَتَيْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَسَأَلْتُهُ ، فَقَالَ : أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " بِالْمَسْحِ عَلَى خِفَافِنَا إِذَا سَافَرْنَا " .
مولانا ظفر اقبال
شریح بن ہانی کہتے ہیں کہ میں نے موزوں پر مسح کے حوالے سے سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے کسی مرد صحابی کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ یہ سوال تم سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے پوچھو کیونکہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر میں بھی رہتے تھے، چنانچہ میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا، تو انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا ہے کہ جب سفر پر جائیں تو اپنے موزوں پر مسح کر لیا کریں۔
حدیث نمبر: 950
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَكِيمٍ الْأَوْدِيُّ ، أَنْبَأَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ وَهْبٍ ، وَعَنْ زَيْدِ بْنِ يُثَيْعٍ ، قَالَا : نَشَدَ عَلِيٌّ النَّاسَ فِي الرَّحَبَةِ : مَنْ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ يَوْمَ غَدِيرِ خُمٍّ إِلَّا قَامَ ، قَالَ : فَقَامَ مِنْ قِبَلِ سَعِيدٍ سِتَّةٌ ، وَمِنْ قِبَلِ زَيْدٍ سِتَّةٌ ، فَشَهِدُوا أَنَّهُمْ سَمِعُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لِعَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَوْمَ غَدِيرِ خُمٍّ : " أَلَيْسَ اللَّهُ أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ ؟ " ، قَالُوا : بَلَى ، قَالَ : " اللَّهُمَّ مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ ، اللَّهُمَّ وَالِ مَنْ وَالَاهُ ، وَعَادِ مَنْ عَادَاهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سعید بن وہب اور زید بن یثیع کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے صحن کوفہ میں لوگوں کو قسم دے کر فرمایا کہ جس شخص نے غدیر خم کے موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا میرے حوالے سے کوئی ارشاد سنا ہو تو وہ کھڑا ہو جائے، اس پر سعید کی رائے کے مطابق بھی چھ آدمی کھڑے ہو گئے اور زید کی رائے کے مطابق بھی چھ آدمی کھڑے ہو گئے، اور ان سب نے اس بات کی گواہی دی کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو غدیر خم کے موقع پر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے متعلق یہ فرماتے ہوئے سنا تھا کہ ”کیا اللہ کو مومنین پر کوئی حق نہیں ہے؟“ سب نے عرض کیا: کیوں نہیں! فرمایا: ”اے اللہ! جس کا میں مولیٰ ہوں، علی بھی اس کے مولیٰ ہیں، اے اللہ! جو علی سے دوستی کرے تو اس سے دوستی فرما، اور جو اس سے دشمنی کرے تو اس سے دشمنی فرما۔“
حدیث نمبر: 951
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَكِيمٍ ، أَنْبَأَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عَمْرٍو ذِي مُرٍّ ، بِمِثْلِ حَدِيثِ أَبِي إِسْحَاقَ ، يَعْنِي عَنْ سَعِيدٍ وَزَيْدٍ وَزَادَ فِيهِ : " وَانْصُرْ مَنْ نَصَرَهُ ، وَاخْذُلْ مَنْ خَذَلَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ روایت ایک دوسری سند سے بھی مروی ہے، جس کے آخر میں یہ اضافہ بھی ہے کہ ”جو علی کی مدد کرے تو اس کی مدد فرما، اور جو انہیں تنہا چھوڑ دے تو اسے تنہا فرما۔“
حدیث نمبر: 952
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنَا عَلِيٌّ ، أخبرنا شَرِيكٌ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، مِثْلَهُ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ روایت اس دوسری سند سے سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے۔
حدیث نمبر: 953
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ هَانِئِ بْنِ هَانِئٍ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : لَمَّا وُلِدَ الْحَسَنُ جاء رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : " أَرُونِي ابْنِي ، مَا سَمَّيْتُمُوهُ ؟ " ، قُلْتُ : سَمَّيْتُهُ حَرْبًا قَالَ : " بَلْ هُوَ حَسَنٌ " ، فَلَمَّا وُلِدَ الْحُسَيْنُ ، قَالَ : " أَرُونِي ابْنِي ، مَا سَمَّيْتُمُوهُ ؟ " ، قُلْتُ : سَمَّيْتُهُ حَرْبًا ، قَالَ : " بَلْ هُوَ حُسَيْنٌ " ، فَلَمَّا وَلَدْتُ الثَّالِثَ جَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " أَرُونِي ابْنِي ، مَا سَمَّيْتُمُوهُ ؟ " ، قُلْتُ : حَرْبًا ، قَالَ : " بَلْ هُوَ مُحَسِّنٌ " ، ثُمَّ قَالَ : " سَمَّيْتُهُمْ بِأَسْمَاءِ وَلَدِ هَارُونَ : شَبَّرُ وَشَبِيرُ وَمُشَبِّرُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب حسن کی پیدائش ہوئی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور فرمایا: ”مجھے میرا بیٹا تو دکھاؤ، تم نے اس کا کیا نام رکھا ہے؟“ میں نے عرض کیا: حرب۔ فرمایا: ”نہیں، اس کا نام حسن ہے۔“ پھر جب حسین پیدا ہوئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور فرمایا: ”مجھے میرا بیٹا تو دکھاؤ، تم نے اس کا کیا نام رکھا ہے؟“ میں نے پھر عرض کیا: حرب۔ فرمایا: ”نہیں، اس کا نام حسین ہے۔“ تیسرے بیٹے کی پیدائش پر بھی اسی طرح ہوا، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا نام بدل کر محسن رکھ دیا، پھر فرمایا: ”میں نے ان بچوں کے نام حضرت ہارون علیہ السلام کے بچوں کے نام پر رکھے ہیں، جن کے نام شبر، شبیر اور مشبر تھے۔“
حدیث نمبر: 954
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، سَمِعْتُ الْقَاسِمَ بْنَ أَبِي بَزَّةَ يُحَدِّثُ ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ ، قَالَ : سُئِلَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : هَلْ خَصَّكُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَيْءٍ ؟ فَقَالَ : مَا خَصَّنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَيْءٍ لَمْ يَعُمَّ بِهِ النَّاسَ كَافَّةً ، إِلَّا مَا كَانَ فِي قِرَابِ سَيْفِي هَذَا ، قَالَ : فَأَخْرَجَ صَحِيفَةً مَكْتُوبٌ فِيهَا : " لَعَنَ اللَّهُ مَنْ ذَبَحَ لِغَيْرِ اللَّهِ ، وَلَعَنَ اللَّهُ مَنْ سَرَقَ مَنَارَ الْأَرْضِ ، وَلَعَنَ اللَّهُ مَنْ لَعَنَ وَالِدَهُ ، وَلَعَنَ اللَّهُ مَنْ آوَى مُحْدِثًا " .
مولانا ظفر اقبال
ابوالطفیل کہتے ہیں کہ کسی نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ ہمیں کوئی ایسی بات بتائیے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خصوصیت کے ساتھ آپ سے کی ہو؟ فرمایا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے ایسی کوئی خصوصی بات نہیں کی جو دوسرے لوگوں سے چھپائی ہو، البتہ میری اس تلوار کے نیام میں ایک چیز ہے، یہ کہہ کر انہوں نے اس میں سے ایک صحیفہ نکالا جس میں لکھا تھا کہ ”اس شخص پر اللہ کی لعنت ہو جو غیر اللہ کے نام پر کسی جانور کو ذبح کرے، اس شخص پر اللہ کی لعنت ہو جو کسی بدعتی کو ٹھکانہ دے، اس شخص پر اللہ کی لعنت ہو جو اپنے والدین پر لعنت کرے، اور اس شخص پر اللہ کی لعنت ہو جو زمین کے بیج چوری کرے۔“
حدیث نمبر: 955
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، وَعَفَّانُ ، قَالَا : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ ، قَالَ عَفَّانُ : قَالَ : أخبرنا يَعْلَى بْنُ عَطَاءٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ ، أَنَّهُ عَادَ حَسَنًا ، وَعِنْدَهُ عَلِيٌّ ، فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : يا عَمْرو ، أَتَعُودُ حَسَنًا ، وَفِي النَّفْسِ مَا فِيهَا ؟ قَالَ : نَعَمْ ، إِنَّكَ لَسْتَ بِرَبِّ قَلْبِي فَتَصْرِفَهُ حَيْثُ شِئْتَ ، فَقَالَ : أَمَا إِنَّ ذَلِكَ لَا يَمْنَعُنِي أَنْ أُؤَدِّيَ إِلَيْكَ النَّصِيحَةَ ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَعُودُ مُسْلِمًا إِلَّا ابْتَعَثَ اللَّهُ سَبْعِينَ أَلْفَ مَلَكٍ يُصَلُّونَ عَلَيْهِ أَيَّ سَاعَةٍ مِنَ النَّهَارِ كَانَتْ حَتَّى يُمْسِيَ ، وَأَيَّ سَاعَةٍ مِنَ اللَّيْلِ كَانَتْ حَتَّى يُصْبِحَ " .
مولانا ظفر اقبال
عبداللہ بن یسار کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ عمرو بن حریث سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ کی عیادت کے لئے آئے، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا: یوں تو آپ حسن کی بیمار پرسی کے لئے آئے ہیں اور اپنے دل میں جو کچھ چھپا رکھا ہے اس کا کیا ہوگا؟ عمرو نے کہا کہ آپ میرے رب نہیں ہیں کہ جس طرح چاہیں میرے دل میں تصرف کرنا شروع کر دیں، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: لیکن اس کے باوجود ہم تم سے نصیحت کی بات کہنے سے نہیں رکیں گے، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ”جو مسلمان اپنے کسی بھائی کی عیادت کے لیے جاتا ہے، اللہ اس کے لئے ستر ہزار فرشتے مقرر فرما دیتا ہے جو شام تک دن کے ہر لمحے میں اس کے لئے دعا مغفرت کرتے رہتے ہیں، اور اگر شام کو گیا ہو تو صبح تک رات کی ہر گھڑی اس کے لئے دعا کرتے رہتے ہیں۔“
حدیث نمبر: 956
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، وَحَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَا : حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ الْبَصْرِيِّ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " رُفِعَ الْقَلَمُ عَنْ ثَلَاثَةٍ : عَنِ النَّائِمِ حَتَّى يَسْتَيْقِظَ ، وَعَنِ الْمَعْتُوهِ ، أَوْ قَالَ : الْمَجْنُونِ ، حَتَّى يَعْقِلَ ، وَعَنِ الصَّغِيرِ حَتَّى يَشِبَّ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تین طرح کے لوگ مرفوع القلم ہیں: (1) سویا ہوا شخص، جب تک بیدار نہ ہوجائے، (2) مجنون، جب تک اس کی عقل نہ لوٹ آئے، (3) بچہ، جب تک بالغ نہ ہوجائے۔“
حدیث نمبر: 957
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، وَأَبُو كَامِلٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، قَالَ بَهْزٌ : قَالَ : ، أخبرنا هِشَامُ بْنُ عَمْرٍو الْفَزَارِيُّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ الْمَخْزُومِيِّ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ فِي آخِرِ وِتْرِهِ : " اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِرِضَاكَ مِنْ سَخَطِكَ ، وَأَعُوذُ بِمُعَافَاتِكَ مِنْ عُقُوبَتِكَ ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْكَ ، لَا أُحْصِي ثَنَاءً عَلَيْكَ ، أَنْتَ كَمَا أَثْنَيْتَ عَلَى نَفْسِكَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وتر کے آخر میں یوں فرماتے تھے: «اَللّٰهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِرِضَاكَ مِنْ سَخَطِكَ وَأَعُوذُ بِمُعَافَاتِكَ مِنْ عُقُوبَتِكَ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْكَ وَلَا أُحْصِي ثَنَاءً عَلَيْكَ أَنْتَ كَمَا أَثْنَيْتَ عَلَى نَفْسِكَ.» ”اے اللہ! میں تیری رضا کے ذریعے تیری ناراضگی سے پناہ مانگتا ہوں، تیری درگزر کے ذریعے تیری سزا سے، اور تیری ذات کے ذریعے تجھ سے پناہ مانگتا ہوں، میں تیری تعریف کا احاطہ نہیں کر سکتا، تو اسی طرح ہے جس طرح تو نے اپنی تعریف خود کی ہے۔“
حدیث نمبر: 958
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَبَّاسِ الْبَاهِلِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، أَخْبَرَنِي أَبُو بِشْرٍ ، سَمِعْتُ مُجَاهِدًا يُحَدِّثُ ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، سَمِعْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، يَقُولُ : " أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِحُلَّةِ حَرِيرٍ ، فَبَعَثَ بِهَا إِلَيَّ فَلَبِسْتُهَا ، فَرَأَيْتُ الْكَرَاهِيَةَ فِي وَجْهِهِ ، فَأَمَرَنِي فَأَطَرْتُهَا خُمُرًا بَيْنَ النِّسَاءِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کہیں سے ہدیہ کے طور پر ایک ریشمی جوڑا آیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ میرے پاس بھیج دیا، میں نے اسے زیب تن کر لیا، لیکن جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے روئے انور پر ناراضگی کے اثرات دیکھے تو میں نے اسے اپنی عورتوں میں دوپٹے کے طور پر تقسیم کر دیا۔
حدیث نمبر: 959
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، أَنْبَأَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَبِي حَسَّانَ ، أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ كَانَ يَأْمُرُ بِالْأَمْرِ فَيُؤْتَى قَالَ : فَقَالَ لَهُ الْأَشْتَرُ : إِنَّ هَذَا الَّذِي تَقُولُ قَدْ تَفَشَّغَ فِي النَّاسِ ، أَفَشَيْءٌ عَهِدَهُ إِلَيْكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : مَا عَهِدَ إِلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا خَاصَّةً دُونَ النَّاسِ ، إِلَّا شَيْءٌ سَمِعْتُهُ مِنْهُ فَهُوَ فِي صَحِيفَةٍ فِي قِرَابِ سَيْفِي ، قَالَ : فَلَمْ يَزَالُوا بِهِ حَتَّى أَخْرَجَ الصَّحِيفَةَ ، قَالَ : فَإِذَا فِيهَا : " مَنْ أَحْدَثَ حَدَثًا ، أَوْ آوَى مُحْدِثًا ، فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ ، لَا يُقْبَلُ مِنْهُ صَرْفٌ وَلَا عَدْلٌ " ، قَالَ : وَإِذَا فِيهَا : " إِنَّ إِبْرَاهِيمَ حَرَّمَ مَكَّةَ ، وَإِنِّي أُحَرِّمُ الْمَدِينَةَ ، حَرَامٌ مَا بَيْنَ حَرَّتَيْهَا وَحِمَاهَا كُلُّهُ ، لَا يُخْتَلَى خَلَاهَا ، وَلَا يُنَفَّرُ صَيْدُهَا ، وَلَا تُلْتَقَطُ لُقَطَتُهَا ، إِلَّا لِمَنْ أَشَارَ بِهَا ، وَلَا تُقْطَعُ مِنْهَا شَجَرَةٌ إِلَّا أَنْ يَعْلِفَ رَجُلٌ بَعِيرَهُ ، وَلَا يُحْمَلُ فِيهَا السِّلَاحُ لِقِتَالٍ " ، قَالَ : وَإِذَا فِيهَا : " الْمُؤْمِنُونَ تَتَكَافَأُ دِمَاؤُهُمْ ، وَيَسْعَى بِذِمَّتِهِمْ أَدْنَاهُمْ ، وَهُمْ يَدٌ عَلَى مَنْ سِوَاهُمْ ، أَلَا لَا يُقْتَلُ مُؤْمِنٌ بِكَافِرٍ ، وَلَا ذُو عَهْدٍ فِي عَهْدِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
ابوحسان کہتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ جب بھی کوئی حکم دیتے اور لوگ آکر کہتے کہ ہم نے اس اس طرح کر لیا تو وہ کہتے کہ اللہ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا۔ ایک دن اشتر نامی ایک شخص نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ آپ جو یہ جملہ کہتے ہیں، لوگوں میں بہت پھیل چکا ہے، کیا یہ کوئی ایسی چیز ہے جس کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو وصیت کی ہے؟ فرمایا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو چھوڑ کر خصوصیت کے ساتھ مجھے کوئی وصیت نہیں فرمائی، البتہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے جو کچھ سنا ہے وہ ایک صحیفہ میں لکھ کر اپنی تلوار کے میان میں رکھ لیا ہے۔ لوگوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے وہ صحیفہ دکھانے پر اصرار کیا، انہوں نے وہ نکالا تو اس میں لکھا تھا کہ ”جو شخص کوئی بدعت ایجاد کرے، یا کسی بدعتی کو ٹھکانہ دے اس پر اللہ کی، فرشتوں کی اور تمام لوگوں کی لعنت ہے، اس کا کوئی فرض یا نفل قبول نہ ہوگا۔“ نیز اس میں یہ بھی لکھا تھا کہ ”سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے مکہ مکرمہ کو حرم قرار دیا تھا اور میں مدینہ منورہ کو حرم قرار دیتا ہوں، اس کے دونوں کونوں کے درمیان کی جگہ قابل احترام ہے، اس کی گھاس نہ کاٹی جائے، اس کے شکار کو نہ بھگایا جائے، اور یہاں کی گری پڑی چیز کو نہ اٹھایا جائے، البتہ وہ شخص اٹھا سکتا ہے جو مالک کو اس کا پتہ بتا دے، یہاں کا کوئی درخت نہ کاٹا جائے البتہ اگر کوئی آدمی اپنے جانور کو چارہ کھلائے تو بات جدا ہے، اور یہاں لڑائی کے لئے اسلحہ نہ اٹھایا جائے۔“ نیز اس میں یہ بھی لکھا تھا کہ ”مسلمانوں کی جانیں آپس میں برابر ہیں، ان میں سے اگر کوئی ادنیٰ بھی کسی کو امان دے دے تو اس کی امان کا لحاظ کیا جائے، اور مسلمان اپنے علاوہ لوگوں پر ید واحد کی طرح ہیں، خبردار! کسی کافر کے بدلے میں کسی مسلمان کو قتل نہ کیا جائے، اور نہ ہی کسی ذمی کو اس وقت تک قتل کیا جائے جب تک کہ وہ معاہدے کی مدت میں ہو اور اس کی شرائط پر برقرار ہو۔“
حدیث نمبر: 960
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا رَكَعَ قَالَ : " اللَّهُمَّ لَكَ رَكَعْتُ ، وَبِكَ آمَنْتُ ، وَلَكَ أَسْلَمْتُ ، أَنْتَ رَبِّي ، خَشَعَ سَمْعِي وَبَصَرِي وَمُخِّي وَعَظْمِي وَعَصَبِي ، وَمَا اسْتَقَلَّتْ بِهِ قَدَمِي ، لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب رکوع میں جاتے تو یہ دعا پڑھتے: «اَللّٰهُمَّ لَكَ رَكَعْتُ وَبِكَ آمَنْتُ وَلَكَ أَسْلَمْتُ أَنْتَ رَبِّي خَشَعَ سَمْعِي وَبَصَرِي وَمُخِّي وَعَظْمِي وَعَصَبِي وَمَا اسْتَقَلَّتْ بِهِ قَدَمِي لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ.» ”اے اللہ! میں نے تیرے لئے رکوع کیا، تجھ پر ایمان لایا، تیرا تابع فرمان ہوا، تو ہی میرا رب ہے، میرے کان، آنکھیں، دماغ، ہڈیاں اور پٹھے تیرے سامنے جھکے ہوئے ہیں اور میرے قدم بھی اللہ رب العالمین کی خاطر جھکے ہوئے ہیں۔“
حدیث نمبر: 961
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ أَرْقَمَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، قَالَ : شَهِدْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي الرَّحَبَةِ يَنْشُدُ النَّاسَ : أَنْشُدُ اللَّهَ مَنْ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ يَوْمَ غَدِيرِ خُمٍّ : " مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ " ، لَمَّا قَامَ فَشَهِدَ ، قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ : فَقَامَ اثْنَا عَشَرَ بَدْرِيًّا ، كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى أَحَدِهِمْ ، فَقَالُوا : نَشْهَدُ أَنَّا سَمِعْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ يَوْمَ غَدِيرِ خُمٍّ : " أَلَسْتُ أَوْلَى بِالْمسلمين مِنْ أَنْفُسِهِمْ ، وَأَزْوَاجِي أُمَّهَاتُهُمْ ؟ " ، فَقُلْنَا : بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " فَمَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ ، اللَّهُمَّ وَالِ مَنْ وَالَاهُ ، وَعَادِ مَنْ عَادَاهُ " .
مولانا ظفر اقبال
عبدالرحمن بن ابی لیلی کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے صحن کوفہ میں لوگوں کو قسم دے کر فرمایا کہ جس نے غدیر خم کے موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد سنا ہو تو وہ کھڑا ہو جائے، کہ ”میں جس کا مولیٰ ہوں، علی بھی اس کے مولیٰ ہیں۔“ اس پر بارہ بدری صحابہ رضی اللہ عنہم کھڑے ہو گئے اور ان سب نے اس بات کی گواہی دی کہ ہم سب نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو غدیر خم کے موقع پر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے متعلق یہ فرماتے ہوئے سنا تھا کہ ”کیا اللہ کو مومنین پر کوئی حق نہیں؟“ سب نے عرض کیا: کیوں نہیں! فرمایا: ”جس کا میں مولیٰ ہوں، علی بھی اس کے مولیٰ ہیں، اے اللہ! جو علی سے دوستی کرے تو اس سے دوستی فرما، اور جو اس سے دشمنی کرے تو اس سے دشمنی فرما۔“
…