حدیث نمبر: 562
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَيَّاشِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ عَلِيٍّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : وَقَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَفَةَ ، فَقَالَ : " هَذَا الْمَوْقِفُ ، وَعَرَفَةُ كُلُّهَا مَوْقِفٌ " ، وَأَفَاضَ حِينَ غَابَتْ الشَّمْسُ ، ثُمَّ أَرْدَفَ أُسَامَةَ ، فَجَعَلَ يُعْنِقُ عَلَى بَعِيرِهِ ، وَالنَّاسُ يَضْرِبُونَ يَمِينًا وَشِمَالًا ، يَلْتَفِتُ إِلَيْهِمْ ، وَيَقُولُ : " السَّكِينَةَ أَيُّهَا النَّاسُ " ، ثُمَّ أَتَى جَمْعًا فَصَلَّى بِهِمْ الصَّلَاتَيْنِ : الْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ ، ثُمَّ بَاتَ حَتَّى أَصْبَحَ ، ثُمَّ أَتَى قُزَحَ ، فَوَقَفَ عَلَى قُزَحَ ، فَقَالَ : " هَذَا الْمَوْقِفُ ، وَجَمْعٌ كُلُّهَا مَوْقِفٌ " ، ثُمَّ سَارَ حَتَّى أَتَى مُحَسِّرًا ، فَوَقَفَ عَلَيْهِ ، فَقَرَعَ نَاقَتَهُ ، فَخَبَّتْ حَتَّى جَازَ الْوَادِيَ ، ثُمَّ حَبَسَهَا ، ثُمَّ أَرْدَفَ الْفَضْلَ ، وَسَارَ حَتَّى أَتَى الْجَمْرَةَ فَرَمَاهَا ، ثُمَّ أَتَى الْمَنْحَرَ ، فَقَالَ : " هَذَا الْمَنْحَرُ ، وَمِنًى كُلُّهَا مَنْحَرٌ " ، قَالَ : وَاسْتَفْتَتْهُ جَارِيَةٌ شَابَّةٌ مِنْ خَثْعَمَ ، فَقَالَتْ : إِنَّ أَبِي شَيْخٌ كَبِيرٌ قَدْ أَفْنَدَ ، وَقَدْ أَدْرَكَتْهُ فَرِيضَةُ اللَّهِ فِي الْحَجِّ ، فَهَلْ يُجْزِئُ عَنْهُ أَنْ أُؤَدِّيَ عَنْهُ ؟ قَالَ : " نَعَمْ ، فَأَدِّي عَنْ أَبِيكِ " ، قَالَ : وَقَدْ لَوَى عُنُقَ الْفَضْلِ ، فَقَالَ لَهُ الْعَبَّاسُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لِمَ لَوَيْتَ عُنُقَ ابْنِ عَمِّكَ ؟ قَالَ : " رَأَيْتُ شَابًّا وَشَابَّةً فَلَمْ آمَنْ الشَّيْطَانَ عَلَيْهِمَا " ، قَالَ : ثُمَّ جَاءَهُ رَجُلٌ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، حَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَنْحَرَ ؟ قَالَ : " انْحَرْ وَلَا حَرَجَ " ، ثُمَّ أَتَاهُ آخَرُ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي أَفَضْتُ قَبْلَ أَنْ أَحْلِقَ ؟ قَالَ : " احْلِقْ ، أَوْ قَصِّرْ وَلَا حَرَجَ " ، ثُمَّ أَتَى الْبَيْتَ فَطَافَ بِهِ ، ثُمَّ أَتَى زَمْزَمَ ، فَقَالَ : " يَا بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ، سِقَايَتَكُمْ ، وَلَوْلَا أَنْ يَغْلِبَكُمْ النَّاسُ عَلَيْهَا لَنَزَعْتُ بِهَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر میدان عرفات میں وقوف کیا اور فرمایا : کہ یہ وقوف کی جگہ ہے اور پورا عرفہ ہی وقوف کی جگہ ہے ، پھر غروب شمس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم روانہ ہوئے اپنے پیچھے سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ کو بٹھا لیا اور اپنی سواری کی رفتار تیز کر دی ، لوگ دائیں بائیں بھاگنے لگے ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کی طرف متوجہ ہو کر فرمانے لگے، لوگو ! سکون اور اطمینان اختیار کرو۔ پھر آپ مزدلفہ پہنچے تو مغرب اور عشاء کی نمازیں اکٹھی پڑھیں اور رات بھر وہیں رہے صبح ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم جبل قزح پر تشریف لائے وہاں وقوف کیا اور فرمایا کہ یہ وقوف کی جگہ ہے اور پورا مزدلفہ ہی وقوف کی جگہ ہے ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم چلتے ہوئے وادی محسر پہنچے ، وہاں ایک لمحے کے لئے رکے پھر اپنی اونٹنی کو سرپٹ دوڑا دیا تاآنکہ اس وادی سے نکل گئے (کیونکہ یہ عذاب کی جگہ تھی) ۔ پھر سواری روک کر اپنے پیچھے سیدنا فضل رضی اللہ عنہ کو بٹھا لیا اور چلتے چلتے منیٰ پہنچ کر جمرہ عقبہ آئے اور اسے کنکریاں ماریں پھر قربان گاہ تشریف لائے اور فرمایا کہ یہ قربان گاہ ہے اور منیٰ پورا ہی قربان گاہ ہے ، اتنی دیر میں بنوخثعم کی ایک نوجوان عورت کوئی مسئلہ پوچھنے کے لئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور کہنے لگی کہ میرے والد بہت بوڑھے ہیں وہ تقریباً ختم ہو چکے ہیں لیکن ان پر حج بھی فرض ہے کیا میں ان کی طرف سے حج کر سکتی ہوں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”ہاں ! تم اپنے والد کی طرف سے حج کر سکتی ہو“ ، یہ کہتے ہوئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا فضل رضی اللہ عنہ کی گردن موڑ دی (کیونکہ وہ اس عورت کو دیکھنے لگے تھے ) ۔ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے یہ دیکھ کر پوچھا: یا رسول اللہ ! آپ نے اس کی گردن کس حکمت کی بنا پر موڑی ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”میں نے دیکھا کہ دونوں نوجوان ہیں ، مجھے ان کے بارے شیطان سے امن نہ ہوا اس لئے دونوں کا رخ پھیر دیا“ ، بہرحال تھوڑی دیر بعد ایک اور آدمی آیا اور کہنے لگا کہ یا رسول اللہ ! میں نے قربانی کرنے سے پہلے بال کٹوا لیے ، اب کیا کروں ؟ فرمایا : ”اب قربانی کر لو ، کوئی حرج نہیں“ ، ایک اور شخص نے آ کر عرض کیا یا رسول اللہ ! میں نے حلق سے پہلے طواف زیارت کر لیا ، فرمایا : ”کوئی بات نہیں اب حلق یا قصر کرلو ۔“ اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم طواف زیارت کے لئے حرم شریف پہنچے ، طواف کیا ، زمزم پیا اور فرمایا : ”بنو عبدالمطلب ! حاجیوں کو پانی پلانے کی ذمہ داری پوری کرتے رہو اگر لوگ تم پر غالب نہ آ جاتے تو میں بھی اس میں سے ڈول کھینچ کھینچ کر نکالتا ۔“
حدیث نمبر: 563
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي حَرْبِ بْنِ أَبِي الْأَسْوَدِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " بَوْلُ الْغُلَامِ يُنْضَحُ عَلَيْهِ ، وَبَوْلُ الْجَارِيَةِ يُغْسَلُ " ، قَالَ قَتَادَةُ : هَذَا مَا لَمْ يَطْعَمَا ، فَإِذَا طَعِمَا ، غُسِلَ بَوْلُهُمَا .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”بچے کے پیشاب پر پانی کے چھینٹے مارنا بھی کافی ہے اور بچی کا پیشاب جس چیز پر لگ جائے اسے دھویا جائے گا“ ، قتادہ کہتے ہیں کہ یہ حکم اس وقت تک ہے جب انہوں نے کھانا پینا شروع نہ کیا ہو اور جب وہ کھانا پینا شروع کر دیں تو دونوں کا پیشاب جس چیز کو لگ جائے اسے دھونا ہی پڑے گا ۔
حدیث نمبر: 564
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ بْن أَحْمَد ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الْبَصْرِيُّ ، حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ الْمَخْزُومِيُّ ، حَدَّثَنِي أَبِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ ، عَنْ أَبِيهِ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَفَ بِعَرَفَةَ وَهُوَ مُرْدِفٌ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ ، فَقَالَ : " هَذَا الْمَوْقِفُ ، وَكُلُّ عَرَفَةَ مَوْقِفٌ " ، ثُمَّ دَفَعَ يَسِيرُ الْعَنَقَ ، وَجَعَلَ النَّاسُ يَضْرِبُونَ يَمِينًا وَشِمَالًا ، وَهُوَ يَلْتَفِتُ ، وَيَقُولُ : " السَّكِينَةَ أَيُّهَا النَّاسُ ، السَّكِينَةَ أَيُّهَا النَّاسُ " ، حَتَّى جَاءَ الْمُزْدَلِفَةَ وَجَمَعَ بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ ، ثُمَّ وَقَفَ بِالْمُزْدَلِفَةِ ، فَوَقَفَ عَلَى قُزَحَ ، وَأَرْدَفَ الْفَضْلَ بْنَ عَبَّاسٍ ، وَقَالَ : " هَذَا الْمَوْقِفُ ، وَكُلُّ الْمُزْدَلِفَةِ مَوْقِفٌ " ، ثُمَّ دَفَعَ وَجَعَلَ يَسِيرُ الْعَنَقَ ، وَالنَّاسُ يَضْرِبُونَ يَمِينًا وَشِمَالًا ، وَهُوَ يَلْتَفِتُ ، وَيَقُولُ : " السَّكِينَةَ ، السَّكِينَةَ أَيُّهَا النَّاسُ " ، حَتَّى جَاءَ مُحَسِّرًا ، فَقَرَعَ رَاحِلَتَهُ ، فَخَبَّتْ حَتَّى خَرَجَ ، ثُمَّ عَادَ لِسَيْرِهِ الْأَوَّلِ ، حَتَّى رَمَى الْجَمْرَةَ ، ثُمَّ جَاءَ الْمَنْحَرَ ، فَقَالَ : " هَذَا الْمَنْحَرُ ، وَكُلُّ مِنًى مَنْحَرٌ " ، ثُمَّ جَاءَتْهُ امْرَأَةٌ شَابَّةٌ مِنْ خَثْعَمَ ، فَقَالَتْ : إِنَّ أَبِي شَيْخٌ كَبِيرٌ ، وَقَدْ أَفْنَدَ ، وَأَدْرَكَتْهُ فَرِيضَةُ اللَّهِ فِي الْحَجِّ ، وَلَا يَسْتَطِيعُ أَدَاءَهَا ، فَيُجْزِئُ عَنْهُ أَنْ أُؤَدِّيَهَا عَنْهُ ؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " نَعَمْ " ، وَجَعَلَ يَصْرِفُ وَجْهَ الْفَضْلِ بْنِ الْعَبَّاسِ عَنْهَا ، ثُمَّ أَتَاهُ رَجُلٌ ، فَقَالَ : إِنِّي رَمَيْتُ الْجَمْرَةَ ، وَأَفَضْتُ ، وَلَبِسْتُ وَلَمْ أَحْلِقْ ؟ قَالَ : " فَلَا حَرَجَ ، فَاحْلِقْ " ، ثُمَّ أَتَاهُ رَجُلٌ آخَرُ ، فَقَالَ : إِنِّي رَمَيْتُ ، وَحَلَقْتُ ، وَلَبِسْتُ وَلَمْ أَنْحَرْ ؟ فَقَالَ : " لَا حَرَجَ ، فَانْحَرْ " ، ثُمَّ أَفَاضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَدَعَا بِسَجْلٍ مِنْ مَاءِ زَمْزَمَ ، فَشَرِبَ مِنْهُ وَتَوَضَّأَ ، ثُمَّ قَالَ : " انْزِعُوا يَا بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ، فَلَوْلَا أَنْ تُغْلَبُوا عَلَيْهَا لَنَزَعْتُ " ، قَالَ الْعَبَّاسُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي رَأَيْتُكَ تَصْرِفُ وَجْهَ ابْنِ أَخِيكَ ؟ قَالَ : " إِنِّي رَأَيْتُ غُلَامًا شَابًّا ، وَجَارِيَةً شَابَّةً ، فَخَشِيتُ عَلَيْهِمَا الشَّيْطَانَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر میدان عرفات میں وقوف کیا اور فرمایا کہ یہ وقوف کی جگہ ہے اور پورا عرفہ ہی وقوف کی جگہ ہے ، پھر غروب شمس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم روانہ ہوئے اپنے پیچھے سیدنا اسامہ کو بٹھا لیا اور اپنی سواری کی رفتار تیز کر دی ، لوگ دائیں بائیں بھاگنے لگے ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کی طرف متوجہ ہو کر فرمانے لگے، لوگو ! سکون اور اطمینان اختیار کرو ، پھر آپ مزدلفہ پہنچے تو مغرب اور عشاء کی نمازیں اکٹھی پڑھیں اور رات بھر وہیں رہے صبح ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم جبل قزح پر تشریف لائے وہاں وقوف کیا اور فرمایا کہ یہ وقوف کی جگہ ہے اور پورا مزدلفہ ہی وقوف کی جگہ ہے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم چلتے ہوئے وادی محسر پہنچے وہاں ایک لمحے کے لئے رکے پھر اپنی اونٹنی کو سرپٹ دوڑا دیا تاآنکہ اس وادی سے نکل گئے (کیونکہ یہ عذاب کی جگہ تھی) ۔ پھر سواری روک کر اپنے پیچھے سیدنا فضل رضی اللہ عنہ کو بٹھا لیا اور چلتے چلتے منیٰ پہنچ کر جمرہ عقبہ آئے اور اسے کنکریاں ماریں پھر قربان گاہ تشریف لائے اور فرمایا کہ یہ قربان گاہ ہے اور منیٰ پورا ہی قربان گاہ ہے ، اتنی دیر میں بنوخثعم کی ایک نوجوان عورت کوئی مسئلہ پوچھنے کے لئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور کہنے لگی کہ میرے والد بہت بوڑھے ہیں ، وہ تقریباً ختم ہو چکے ہیں لیکن ان پر حج بھی فرض ہے ، کیا میں ان کی طرف سے حج کر سکتی ہوں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”ہاں ! تم اپنے والد کی طرف سے حج کرسکتی ہو“ ، یہ کہتے ہوئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا فضل رضی اللہ عنہ کی گردن موڑ دی (کیونکہ وہ اس عورت کو دیکھنے لگے تھے ) ۔ تھوڑی دیر بعد ایک آدمی آیا اور کہنے لگا کہ میں نے جمرہ عقبہ کی رمی کر لی ، طواف زیارت کر لیا ، کپڑے پہن لئے لیکن حلق نہیں کروا سکا اب کیا کروں ؟ فرمایا : ”اب حلق کرلو ، کوئی حرج نہیں“ ، ایک اور شخص نے آ کر عرض کیا یا رسول اللہ ! میں نے قربانی سے پہلے جمرہ عقبہ کی رمی کر لی ، حلق کروا لیا ، کپڑے پہن لئے ؟ فرمایا : ”کوئی بات نہیں ، اب قربانی کرلو ۔“ اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم طواف زیارت کے لئے حرم شریف پہنچے ، طواف کیا ، زمزم پیا اور فرمایا : ”بنو عبدالمطلب ! حاجیوں کو پانی پلانے کی ذمہ داری پوری کرتے رہو ، اگر لوگ تم پر غالب نہ آ جاتے تو میں بھی اس میں سے ڈول کھینچ کھینچ کر نکالتا ۔“ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے پوچھا: یا رسول اللہ ! آپ نے اپنے بھتیجے کی گردن کس حکمت کی بناء پر موڑی ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”میں نے دیکھا کہ دونوں نوجوان ہیں ، مجھے ان کے بارے شیطان سے امن نہ ہوا اس لئے دونوں کا رخ پھیر دیا ۔ “
حدیث نمبر: 565
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ ، عَنِ الْحَارِثِ ، عَنْ عَلِيٍّ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا عَوَّذَ مَرِيضًا ، قَالَ : " أَذْهِبْ الْبَاسَ رَبَّ النَّاسِ ، اشْفِ أَنْتَ الشَّافِي ، لَا شِفَاءَ إِلَّا شِفَاؤُكَ ، شِفَاءً لَا يُغَادِرُ سَقَمًا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی مریض کی عیادت کے لئے تشریف لے جاتے تو یہ دعا کرتے کہ اے لوگوں کے رب ! اس پریشانی اور تکلیف کو دور فرما ، اسے شفاء عطاء فرما کیونکہ تو ہی شفاء دینے والا ہے ، تیرے علاوہ کہیں سے شفاء نہیں مل سکتی ، ایسی شفاء جو بیماری کا نام ونشان بھی نہ چھوڑے ۔
حدیث نمبر: 566
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ ، عَنِ الْحَارِثِ ، عَنْ عَلِيٍّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَوْ كُنْتُ مُؤَمِّرًا أَحَدًا دُونَ مَشُورَةِ الْمُؤْمِنِينَ ، لَأَمَّرْتُ ابْنَ أُمِّ عَبْدٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”اگر میں مسلمانوں کے مشورہ کے بغیر کسی کو امیر بناتا تو ابن ام عبد یعنی سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کو بناتا ۔ “
حدیث نمبر: 567
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ سَلَمَةَ بْنِ أَبِي الْحُسَامِ مَدَنِيٌّ مَوْلًى لِآلِ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سُلَيْمٍ ، عَنْ أُمِّهِ ، قَالَتْ : بَيْنَمَا نَحْنُ بِمِنًى إِذَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ هَذِهِ أَيَّامُ أَكْلٍ وَشُرْبٍ ، فَلَا يَصُومُهَا أَحَدٌ " ، وَاتَّبَعَ النَّاسَ عَلَى جَمَلِهِ يَصْرُخُ بِذَلِكَ .
مولانا ظفر اقبال
عمرو بن سلیم کی والدہ کہتی ہیں کہ ہم میدان منیٰ میں تھے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ یہ دن کھانے پینے کے ہیں اس لئے ان دنوں میں کوئی شخص روزہ نہ رکھے اور اپنی سواری پر جو کہ اونٹ تھا بیٹھ کر لوگوں میں یہ اعلان کرتے رہے ۔
حدیث نمبر: 568
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، وَرَفَعَهُ ، قَالَ : " مَنْ كَذَبَ فِي حُلْمِهِ ، كُلِّفَ عَقْدَ شَعِيرَةٍ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے کہ جو شخص جھوٹا خواب بیان کرتا ہے اسے قیامت کے دن جَو کے دانے میں گرہ لگانے کا مکلف بنایا جائے گا (حکم دیا جائے گا) ۔
حدیث نمبر: 569
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ ، وَحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْحَارِثِ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يُصَلِّي رَكْعَتَيْ الْفَجْرِ عِنْدَ الْإِقَامَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فجر کی دو سنتیں اقامت کے قریب پڑھتے تھے ۔
حدیث نمبر: 570
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ الثَّقَفِيُّ ، حَدَّثَنَا عُمَارَةُ بْنُ الْقَعْقَاعِ ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ يَزِيدَ الْعُكْلِيِّ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُجَيٍّ ، قَالَ : قَالَ عَلِي : كانت لي سَاعَةٌ مِنَ السَّحَرِ أَدْخُلُ فِيهَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَإِنْ كَانَ " قَائِمًا يُصَلِّي ، سَبَّحَ بِي ، فَكَانَ ذَاكَ إِذْنُهُ لِي ، وَإِنْ لَمْ يَكُنْ يُصَلِّي ، أَذِنَ لِي " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ سحری کے وقت ایک مخصوص گھڑی ہوتی تھی جس میں ، میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوتا تھا اگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت کھڑے ہو کر نماز پڑھ رہے ہوتے تو سبحان اللہ کہہ دیتے یہ اس بات کی علامت ہوتی کہ مجھے اندر آنے کی اجازت ہے اور اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت نماز نہ پڑھ رہے ہوتے تو یوں ہی اجازت دے دیتے ( اور سبحان اللہ کہنے کی ضرورت نہ رہتی)۔
حدیث نمبر: 571
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ أَبِي كَرِيمَةَ الْحَرَّانِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَلِيًّا ، يَقُولُ : أَتَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا نَائِمٌ وَفَاطِمَةُ ، وَذَلِكَ مِنَ السَّحَرِ ، حَتَّى قَامَ عَلَى الْبَابِ ، فَقَالَ : " أَلَا تُصَلُّونَ ؟ " ، فَقُلْتُ مُجِيبًا لَهُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّمَا نُفُوسُنَا بِيَدِ اللَّهِ ، فَإِذَا شَاءَ أَنْ يَبْعَثَنَا بَعَثَنا ، قَالَ : فَرَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يَرْجِعْ إِلَى الْكَلَامِ ، فَسَمِعْتُهُ حِينَ وَلَّى يَقُولُ وَضَرَبَ بِيَدِهِ عَلَى فَخِذِهِ : " وَكَانَ الإِنْسَانُ أَكْثَرَ شَيْءٍ جَدَلا سورة الكهف آية 54 " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے یہاں تشریف لائے ، میں اور فاطمہ رضی اللہ عنہا دونوں سو رہے تھے ، صبح کا وقت تھا ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم دروازے پر کھڑے ہو کر کہنے لگے کہ تم لوگ نماز کیوں نہیں پڑھتے ؟ میں نے جواب دیتے ہوئے عرض کیا : یا رسول اللہ ! ہماری روحیں اللہ کے قبضے میں ہیں جب وہ ہمیں اٹھانا چاہتا ہے اٹھا دیتا ہے ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سن کر مجھے کوئی جواب نہ دیا اور واپس چلے گئے ، میں نے کان لگا کر سنا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ران پر اپنا ہاتھ مارتے ہوئے کہہ رہے تھے کہ انسان بہت زیادہ جھگڑالو واقع ہوا ہے ۔
حدیث نمبر: 572
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ ، عَنِ الْحَارِثِ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَهْلُهُ " يَغْتَسِلُونَ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کی زوجہ محترمہ ایک ہی برتن سے غسل کر لیا کرتے تھے ۔
حدیث نمبر: 573
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، حَدَّثَنَا سِمَاكٌ ، عَنْ حَنَشٍ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْيَمَنِ ، فَانْتَهَيْنَا إِلَى قَوْمٍ قَدْ بَنَوْا زُبْيَةً لِلْأَسَدِ ، فَبَيْنَا هُمْ كَذَلِكَ يَتَدَافَعُونَ ، إِذْ سَقَطَ رَجُلٌ ، فَتَعَلَّقَ بِآخَرَ ، ثُمَّ تَعَلَّقَ رَجُلٌ بِآخَرَ ، حَتَّى صَارُوا فِيهَا أَرْبَعَةً ، فَجَرَحَهُمْ الْأَسَدُ ، فَانْتَدَبَ لَهُ رَجُلٌ بِحَرْبَةٍ فَقَتَلَهُ ، وَمَاتُوا مِنْ جِرَاحَتِهِمْ كُلُّهُمْ ، فَقَامُوا أَوْلِيَاءُ الْأَوَّلِ إِلَى أَوْلِيَاءِ الْآخِرِ ، فَأَخْرَجُوا السِّلَاحَ لِيَقْتَتِلُوا ، فَأَتَاهُمْ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَلَى تَفِيئَةِ ذَلِكَ ، فَقَالَ : تُرِيدُونَ أَنْ تَقَاتَلُوا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَيٌّ ؟ إِنِّي أَقْضِي بَيْنَكُمْ قَضَاءً ، إِنْ رَضِيتُمْ فَهُوَ الْقَضَاءُ ، وَإِلَّا حَجَزَ بَعْضُكُمْ عَنْ بَعْضٍ ، حَتَّى تَأْتُوا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَكُونَ هُوَ الَّذِي يَقْضِي بَيْنَكُمْ ، فَمَنْ عَدَا بَعْدَ ذَلِكَ ، فَلَا حَقَّ لَهُ ، اجْمَعُوا مِنْ قَبَائِلِ الَّذِينَ حَفَرُوا الْبِئْرَ رُبُعَ الدِّيَةِ ، وَثُلُثَ الدِّيَةِ ، وَنِصْفَ الدِّيَةِ ، وَالدِّيَةَ كَامِلَةً ، فَلِلْأَوَّلِ الرُّبُعُ ، لِأَنَّهُ هَلَكَ مَنْ فَوْقَهُ ، وَلِلثَّانِي ثُلُثُ الدِّيَةِ ، وَلِلثَّالِثِ نِصْفُ الدِّيَةِ ، فَأَبَوْا أَنْ يَرْضَوْا ، فَأَتَوْا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَهُوَ عِنْدَ مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ ، فَقَصُّوا عَلَيْهِ الْقِصَّةَ ، فَقَالَ : " أَنَا أَقْضِي بَيْنَكُمْ " ، وَاحْتَبَى ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ : إِنَّ عَلِيًّا قَضَى فِينَا ، فَقَصُّوا عَلَيْهِ الْقِصَّةَ ، فَأَجَازَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یمن بھیجا ، میں ایک ایسی قوم کے پاس پہنچا جنہوں نے شیر کو شکار کرنے کے لئے ایک گڑھا کھود کر اسے ڈھانپ رکھا تھا (شیر آیا اور اس میں گر پڑا) ابھی وہ یہ کام کر رہے تھے کہ اچانک ایک آدمی اس گڑھے میں گر پڑا ، اس کے پیچھے دوسرا ، تیسرا حتی کہ چار آدمی گر پڑے ، اس گڑھے میں موجود شیر نے ان سب کو زخمی کر دیا ، یہ دیکھ کر ایک آدمی نے جلدی سے نیزہ پکڑا اور شیر کو دے مارا ، شیر ہلاک ہو گیا اور وہ چاروں آدمی بھی اپنے اپنے زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دنیا سے چل بسے ۔ مقتولین کے اولیاء اسلحہ نکال کر جنگ کے لئے ایک دوسرے کے آمنے سامنے آ گئے ، اتنی دیر میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ آ پہنچے اور کہنے لگے کہ ابھی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم حیات ہیں تم ان کی حیات میں باہمی قتل و قتال کرو گے ؟ میں تمہارے درمیان فیصلہ کرتا ہوں ، اگر تم اس پر راضی ہو گئے تو سمجھو کہ فیصلہ ہو گیا اور اگر تم سمجھتے ہو کہ اس سے تمہاری تشفی نہیں ہوئی تو تم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جا کر اس کا فیصلہ کروا لینا ، وہ تمہارے درمیان اس کا فیصلہ کر دیں گے ، اس کے بعد جو حد سے تجاوز کرے گا وہ حق پر نہیں ہو گا ۔ فیصلہ یہ ہے کہ ان قبیلوں کے لوگوں نے اس گڑھے کی کھدائی میں حصہ لیا ہے ان سے چوتھائی دیت ، تہائی دیت ، نصف دیت اور کامل دیت لے کر جمع کرو اور جو شخص پہلے گر کر گڑھے میں شیر کے ہاتھوں زخمی ہوا ، اس کے ورثاء کو چوتھائی دیت دے دو ، دوسرے کو تہائی اور تیسرے کو نصف دیت دے دو ، ان لوگوں نے یہ فیصلہ تسلیم کرنے سے انکار کر دیا (کیونکہ ان کی سمجھ میں ہی نہیں آیا) چنانچہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ، اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم مقام ابراہیم کے پاس تھے ، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو سارا قصہ سنایا ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”میں تمہارے درمیان فیصلہ کرتا ہوں“ ، یہ کہہ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم گوٹ مار کر بیٹھ گئے ، اتنی دیر میں ایک آدمی کہنے لگا ، یا رسول اللہ ! سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ہمارے درمیان یہ فیصلہ فرمایا تھا ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی کو نافذ کر دیا ۔
حدیث نمبر: 574
حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، أخبرنا سِمَاكٌ ، عَنْ حَنَشٍ ، أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : وَلِلرَّابِعِ الدِّيَةُ كَامِلَةً .
مولانا ظفر اقبال
اس دوسری روایت کے مطابق چوتھے آدمی کے لئے سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے پوری دیت کا فیصلہ کیا تھا ۔
حدیث نمبر: 575
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، قَالَ : كَتَبَ إِلَيَّ قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ : كَتَبْتُ إِلَيْكَ بِخَطِّي ، وَخَتَمْتُ الْكِتَابَ بِخَاتَمِي ، يَذْكُرُ أَنَّ اللَّيْثَ بْنَ سَعْدٍ حَدَّثَهُمْ ، عَنْ عُقَيْلٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ ، أَنَّ الْحُسَيْنَ بْنَ عَلِيّ حَدَّثَهُ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَرَقَهُ وَفَاطِمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، فَقَالَ : " أَلَا تُصَلُّون ؟ " ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّمَا أَنْفُسُنَا بِيَدِ اللَّهِ ، فَإِذَا شَاءَ أَنْ يَبْعَثَنَا بَعَثَنَا ، وَانْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ قُلْتُ لَهُ ذَلِكَ ، ثُمَّ سَمِعْتُهُ وَهُوَ مُدْبِرٌ يَضْرِبُ فَخِذَهُ ، وَيَقُولُ : " وَكَانَ الإِنْسَانُ أَكْثَرَ شَيْءٍ جَدَلا سورة الكهف آية 54 " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کے وقت ہمارے یہاں تشریف لائے اور کہنے لگے کہ تم لوگ نماز کیوں نہیں پڑھتے ؟ میں نے جواب دیتے ہوئے عرض کیا : یا رسول اللہ ! ہماری روحیں اللہ کے قبضے میں ہیں ، جب وہ ہمیں اٹھانا چاہتا ہے اٹھا دیتا ہے ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سن کر مجھے کوئی جواب نہ دیا اور واپس چلے گئے ، میں نے کان لگا کر سنا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ران پر اپنا ہاتھ مارتے ہوئے کہہ رہے تھے کہ انسان بہت زیادہ جھگڑالو واقع ہوا ہے ۔
حدیث نمبر: 576
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنِي نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْأَزْدِيُّ ، أَخْبَرَنِي عَلِيُّ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ ، حَدَّثَنِي أَخِي مُوسَى بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ أَبِيهِ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَذَ بِيَدِ حَسَنٍ ، وَحُسَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، فَقَالَ : " مَنْ أَحَبَّنِي ، وَأَحَبَّ هَذَيْنِ ، وَأَبَاهُمَا ، وَأُمَّهُمَا ، كَانَ مَعِي فِي دَرَجَتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ حضرات حسنین رضی اللہ عنہما کا ہاتھ پکڑا اور فرمایا : ”جو شخص مجھ سے محبت کرے ، ان دونوں سے محبت کرے اور ان کے ماں باپ سے محبت کرے ، وہ قیامت کے دن میرے ساتھ میرے درجے میں ہو گا ۔“
حدیث نمبر: 577
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هُبَيْرَةَ السَّبَئِيُّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زُرَيْرٍ الْغَافِقِيِّ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تُنْكَحُ الْمَرْأَةُ عَلَى عَمَّتِهَا ، وَلَا عَلَى خَالَتِهَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”پھوپھی اور خالہ کی موجودگی میں اس کی بھتیجی یا بھانجی سے نکاح نہ کیا جائے ۔ “
حدیث نمبر: 578
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، وَأَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي هاشم ، قَالَا : حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هُبَيْرَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زُرَيْرٍ ، أَنَّهُ قَالَ : دَخَلْتُ عَلَى عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ حَسَنٌ : يَوْمَ الْأَضْحَى ، فَقَرَّبَ إِلَيْنَا خَزِيرَةً ، فَقُلْتُ : أَصْلَحَكَ اللَّهُ ، لَوْ قَرَّبْتَ إِلَيْنَا مِنْ هَذَا الْبَطِّ ، يَعْنِي : الْوَزَّ ، فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ أَكْثَرَ الْخَيْرَ ، فَقَالَ : يَا ابْنَ زُرَيْرٍ ، إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " لَا يَحِلُّ لِلْخَلِيفَةِ مِنْ مَالِ اللَّهِ إِلَّا قَصْعَتَانِ : قَصْعَةٌ يَأْكُلُهَا هُوَ وَأَهْلُهُ ، وَقَصْعَةٌ يَضَعُهَا بَيْنَ يَدَيْ النَّاسِ " .
مولانا ظفر اقبال
عبداللہ بن زریر کہتے ہیں کہ میں ایک مرتبہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا ، انہوں نے ہمارے سامنے خزیرہ (سالن مع گوشت و روٹی) پیش کیا ، میں نے بےتکلفی سے عرض کیا کہ اللہ آپ کا بھلا کرے ، اگر آپ یہ بطخ ہمارے سامنے پیش کرتے تو کیا ہو جاتا ، اب تو اللہ نے مال غنیمت کی بھی فراوانی فرما رکھی ہے ؟ فرمایا : ابن زریر ! میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ خلیفہ کے لئے اللہ کے مال میں سے صرف دو پیالے ہی حلال ہیں ایک وہ پیالہ جس میں سے وہ خود اور اس کے اہل خانہ کھا سکیں اور دوسرا پیالہ وہ جسے وہ لوگوں کے سامنے پیش کر دے ۔
حدیث نمبر: 579
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ مُغِيرَةَ ، عَنْ أُمِّ مُوسَى ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " مَا رَمِدْتُ مُنْذُ تَفَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي عَيْنِي " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا لعاب دہن میری آنکھوں میں لگایا ہے ، مجھے کبھی آشوب چشم کی بیماری نہیں ہوئی ۔
حدیث نمبر: 580
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، حَدَّثَنَا مُطَرِّفٌ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يُوتِرُ فِي أَوَّلِ اللَّيْلِ ، وَفِي وَسَطِهِ ، وَفِي آخِرِهِ ، ثُمَّ ثَبَتَ لَهُ الْوَتْرُ فِي آخِرِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کے ابتدائی ، درمیانے اور آخری ہر حصے میں وتر پڑھایا کرتے تھے ، تاہم آخر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم رات کے آخری حصے میں اس کی پابندی فرمانے لگے تھے ۔
حدیث نمبر: 581
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنِي أَبُو إِبْرَاهِيمَ التَّرْجُمَانِيُّ ، حَدَّثَنَا الْفَرَجُ بْنُ فَضَالَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ ، عَنْ أُمِّهِ فَاطِمَةَ بِنْتِ حُسَيْنٍ ، عَنْ حُسَيْنٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا تُدِيمُوا النَّظَرَ إِلَى الْمُجَذَّمِينَ ، وَإِذَا كَلَّمْتُمُوهُمْ ، فَلْيَكُنْ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهُمْ قِيدُ رُمْحٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”جن لوگوں کو کوڑھ کی بیماری ہو ، انہیں مت دیکھتے رہا کرو اور جب ان سے بات کیا کرو تو اپنے اور ان کے درمیان ایک نیزے کے برابر فاصلہ رکھا کرو ۔“
حدیث نمبر: 582
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ ، حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَلِيٍّ قَالَ : قَالَ لِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا عَلِيُّ ، أَسْبِغْ الْوُضُوءَ وَإِنْ شَقَّ عَلَيْكَ ، وَلَا تَأْكُلْ الصَّدَقَةَ ، وَلَا تُنْزِ الْحَمِيرَ عَلَى الْخَيْلِ ، وَلَا تُجَالِسْ أَصْحَابَ النُّجُومِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”علی ! وضو ! اچھی طرح کیا کرو اگرچہ تمہیں شاق ہی کیوں نہ گزرے (مثلاً سردی کے موسم میں) صدقہ مت کھایا کرو گدھوں کو گھوڑوں پر مت کدواؤ اور نجومیوں کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا مت رکھو ۔“
حدیث نمبر: 583
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَيْسَرَةَ ، عَنِ النَّزَّالِ بْنِ سَبْرَةَ ، قَالَ : أُتِيَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِكُوزٍ مِنْ مَاءٍ وَهُوَ فِي الرَّحْبَةِ ، " فَأَخَذَ كَفًّا مِنْ مَاءٍ فَمَضْمَضَ ، وَاسْتَنْشَقَ ، وَمَسَحَ وَجْهَهُ ، وَذِرَاعَيْهِ ، وَرَأْسَهُ ، ثُمَّ شَرِبَ وَهُوَ قَائِمٌ ، ثُمَّ قَالَ : هَذَا وُضُوءُ مَنْ لَمْ يُحْدِثْ ، هَكَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَلَ " .
مولانا ظفر اقبال
نزل بن سبرہ کہتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس ایک کوزے میں پانی لایا گیا وہ مسجد کے صحن میں تھے ، انہوں نے چلو بھر کر پانی لیا اور اس سے کلی کی ، ناک میں پانی ڈالا ، چہرے کا مسح کیا ، بازوؤں اور سر پر پانی کا گیلا ہاتھ پھیرا ، پھر کھڑے کھڑے وہ پانی پی لیا اور فرمایا کہ جو آدمی بےوضو نہ ہو بلکہ پہلے سے اس کا وضو موجود ہو ، یہ اس شخص کا وضو ہے اور میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح کرتے ہوئے دیکھا ہے ۔
حدیث نمبر: 584
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ حَبِيبٍ ، عَنْ ثَعْلَبَةَ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا ، فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”جو شخص جان بوجھ کر میری طرف کسی جھوٹی بات کی نسبت کرے ، اسے جہنم میں اپنا ٹھکانہ تیار کر لینا چاہیے ۔ “
حدیث نمبر: 585
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ ، عَنْ أُمِّ مُوسَى ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : كَانَ آخِرُ كَلَامِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الصَّلَاةَ الصَّلَاةَ ، اتَّقُوا اللَّهَ فِيمَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا اس دنیا سے رخصت ہوتے وقت آخری کلام یہ تھا کہ نماز کی پابندی کرنا اور اپنے غلاموں باندیوں کے بارے اللہ سے ڈرتے رہنا ۔
حدیث نمبر: 586
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ أَبِي مُوسَى عَنْ أَبِي مُوسَى ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : نَهَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَنْ أَجْعَلَ خَاتَمِي فِي هَذِهِ السَّبَّاحَةِ ، أَوْ الَّتِي تَلِيهَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ نے مجھے شہادت والی یا اس کے ساتھ والی انگلی میں انگوٹھی پہننے سے منع فرمایا : ہے ۔
حدیث نمبر: 587
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، أَنْبَأَنَا الزُّهْرِيُّ ، عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ مَوْلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، قَالَ : ثُمَّ شَهِدْتُ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بَعْدَ ذَلِكَ يَوْمَ عِيدٍ ، بَدَأَ بِالصَّلَاةِ قَبْلَ الْخُطْبَةِ ، وَصَلَّى بِلَا أَذَانٍ وَلَا إِقَامَةٍ ، ثُمَّ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " ينْهَى أَنْ يُمْسِكَ أَحَدٌ مِنْ نُسُكِهِ شَيْئًا فَوْقَ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ " .
مولانا ظفر اقبال
ابوعبید کہتے ہیں کہ . . . . ایک مرتبہ عید کے دن میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا ، انہوں نے خطبہ سے پہلے نماز پڑھائی ، اس میں اذان یا اقامت کچھ بھی نہ کہی اور فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو تین دن سے زیادہ قربانی کا گوشت اپنے پاس رکھنے سے منع فرماتے ہوئے سنا ہے ۔
حدیث نمبر: 588
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنِي سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ هَاشِمٍ يَعْنِي ابْنَ الْبَرِيدِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " خَيَّرَ نِسَاءَهُ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةَ ، وَلَمْ يُخَيِّرْهُنَّ الطَّلَاقَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ازواج مطہرات کو دنیا اور آخرت میں سے کسی ایک کے انتخاب کا اختیار دیا تھا لیکن اسے طلاق شمار نہیں کیا تھا اور نہ ہی انہیں طلاق کا اختیار دیا تھا ۔
حدیث نمبر: 589
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، قَالَ : وحَدَّثَنَاه يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ هَاشِمِ بْنِ الْبَرِيدِ ، فَذَكَرَ مِثْلَهُ ، وَقَالَ : " خَيَّرَ نِسَاءَهُ بَيْنَ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ ، وَلَمْ يُخَيِّرْهُنَّ الطَّلَاقَ " .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ روایت ایک اور سند سے بھی روایت کی گئی ہے ۔
حدیث نمبر: 590
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو يُوسُفَ الْمُؤَدِّبُ يَعْقُوبُ جَارُنَا ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ الْمُطَّلِبِ ، عَنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ قُتِلَ دُونَ مَالِهِ ، فَهُوَ شَهِيدٌ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”جو شخص اپنے مال کی حفاظت کرتا ہوا مارا جائے وہ شہید ہے ۔“
حدیث نمبر: 591
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي حَسَّانَ ، عَنْ عَبِيدَةَ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَوْمَ الْأَحْزَابِ : " مَلَأَ اللَّهُ بُيُوتَهُمْ وَقُبُورَهُمْ نَارًا كَمَا شَغَلُونَا عَنِ الصَّلَاةِ حَتَّى آبَتْ الشَّمْسُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ غزوہ خندق کے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”اللہ ان مشرکین کے گھروں اور قبروں کو آگ سے بھر دے کہ انہوں نے ہمیں نماز عصر نہیں پڑھنے دی یہاں تک کہ سورج غروب ہو گیا ۔“
حدیث نمبر: 592
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنِ حَسَنِ ، وَعَبْدِ اللَّهِ ابني محمد بن علي ، عَنْ أَبِيهِمَا ، وَكَانَ حَسَنٌ أَرْضَاهُمَا فِي أَنْفُسِنَا ، أَنَّ عَلِيًّا قَالَ لِابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنْ نِكَاحِ الْمُتْعَةِ ، وَعَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ الْأَهْلِيَّةِ زَمَنَ خَيْبَرَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ خیبر کے زمانے میں ہی نکاح متعہ اور پالتو گدھوں کے گوشت کی ممانعت فرما دی تھی ۔
حدیث نمبر: 593
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أُقَسِّمَ بُدْنَهُ أَقُومُ عَلَيْهَا ، وَأَنْ أُقَسِّمَ جُلُودَهَا وَجِلَالَهَا ، وَأَمَرَنِي أَنْ لَا أُعْطِيَ الْجَازِرَ مِنْهَا شَيْئًا ، وَقَالَ : " نَحْنُ نُعْطِيهِ مِنْ عِنْدِنَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ قربانی کے موقع پر آپ کے ساتھ موجود رہوں اور یہ کہ ان اونٹوں کی کھالیں اور جھولیں بھی تقسیم کر دوں اور گوشت بھی تقسیم کر دوں اور یہ بھی حکم دیا کہ قصاب کو ان میں سے کوئی چیز مزدوری کے طور پر نہ دوں اور فرمایا کہ اسے ہم اپنے پاس سے مزدوری دیتے تھے ۔
حدیث نمبر: 594
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أُثَيْعٍ رَجُلٍ مِنْ هَمْدَانَ ، سَأَلْنَا عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : بِأَيِّ شَيْءٍ بُعِثْتَ ؟ يَعْنِي : يَوْمَ بَعَثَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي الْحَجَّةِ ، قَالَ : بُعِثْتُ بِأَرْبَعٍ : " لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ إِلَّا نَفْسٌ مُؤْمِنَةٌ ، وَلَا يَطُوفُ بِالْبَيْتِ عُرْيَانٌ ، وَمَنْ كَانَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَهْدٌ ، فَعَهْدُهُ إِلَى مُدَّتِهِ ، وَلَا يَحُجُّ الْمُشْرِكُونَ وَالْمُسْلِمُونَ بَعْدَ عَامِهِمْ هَذَا " .
مولانا ظفر اقبال
مختلف راوی بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جب سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو امیر الحجاج بنا کر بھیجا تھا تو آپ کو کیا پیغام دے کر بھیجا گیا تھا ؟ فرمایا کہ مجھے چار پیغامات دے کر بھیجا گیا تھا ، ایک تو یہ کہ جنت میں مسلمانوں کے علاوہ کوئی شخص داخل نہ ہو سکے گا ، دوسرا یہ کہ آئندہ بیت اللہ کا طواف برہنہ ہو کر کوئی نہ کر سکے گا ، تیسرا یہ کہ جس شخص کا نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی معاہدہ ہو ، وہ مدت ختم ہونے تک برقرار رہے گا اور اس سال کے بعد مسلمانوں کے ساتھ مشرک حج نہ کرسکیں گے ۔
حدیث نمبر: 595
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْحَارِثِ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَضَى مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَنَّ الدَّيْنَ قَبْلَ الْوَصِيَّةِ ، وَأَنْتُمْ تَقْرَءُونَ الْوَصِيَّةَ قَبْلَ الدَّيْنِ ، وَأَنَّ أَعْيَانَ بَنِي الْأُمِّ يَتَوَارَثُونَ دُونَ بَنِي الْعَلَّاتِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فیصلہ فرمایا ہے کہ میت کے قرض کی ادائیگی اجراء نفاذ وصیت سے پہلے ہو گی جبکہ قرآن میں وصیت کا ذکر قرض سے پہلے ہے اور یہ کہ اخیافی بھائی تو وارث ہوں گے لیکن علاتی بھائی وارث نہ ہوں گے ۔ (فائدہ : ماں شریک بھائی کو اخیافی اور باپ شریک بھائی کو علاتی کہتے ہیں ۔)
حدیث نمبر: 596
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا أُعْطِيكُمْ ، وَأَدَعُ أَهْلَ الصُّفَّةِ تَلَوَّى بُطُونُهُمْ مِنَ الْجُوعِ " ، وَقَالَ مَرَّةً : " لَا أُخْدِمُكُمَا ، وَأَدَعُ أَهْلَ الصُّفَّةِ تَطْوَى " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ یہ نہیں ہو سکتا کہ میں تمہیں دیتا رہوں اور اہل صفہ کو چھوڑ دوں جن کے پیٹ بھوک کی وجہ سے اندر کو دھنس چکے ہیں ۔
حدیث نمبر: 597
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عبد الله ، حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي زِيَادٍ الْقَطْوَانِيُّ ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، أَخْبَرَنِي حَرْبٌ أَبُو سُفْيَانَ الْمِنْقَرِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ أَبُو جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنِي عَمِّي ، عَنْ أَبِيهِ : أَنَّهُ رَأَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَسْعَى بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ فِي الْمَسْعَى كَاشِفًا عَنْ ثَوْبِهِ ، قَدْ بَلَغَ إِلَى رُكْبَتَيْهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو انہوں نے ”مسعی“ میں صفا و مروہ کے درمیان اس حال میں سعی کرتے ہوئے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اوپر کی چادر جسم سے ہٹ کر گھٹنوں تک پہنچ گئی تھی ۔
حدیث نمبر: 598
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنِي أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَيُّوبَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ زَحْرٍ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ ، عَنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ ، قَالَ : قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : كُنْتُ آتِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَسْتَأْذِنُ ، " فَإِنْ كَانَ فِي صَلَاةٍ سَبَّحَ ، وَإِنْ كَانَ فِي غَيْرِ صَلَاةٍ أَذِنَ لِي " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوتا تھا اگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت کھڑے ہو کر نماز پڑھ رہے ہوتے تو سبحان اللہ کہہ دیتے یہ اس بات کی علامت ہوتی کہ مجھے اندر آنے کی اجازت ہے اور اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت نماز نہ پڑھ رہے ہوتے تو یوں ہی اجازت دے دیتے (اور سبحان اللہ کہنے کی ضرورت نہ رہتی)۔
حدیث نمبر: 599
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ ، قَالَ : سَأَلْنَا عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : هَلْ عِنْدَكُمْ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْءٌ بَعْدَ الْقُرْآنِ ؟ قَالَ : لَا وَالَّذِي فَلَقَ الْحَبَّةَ ، وَبَرَأَ النَّسَمَةَ ، إِلَّا فَهْمٌ يُؤْتِيهِ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ رَجُلًا فِي الْقُرْآنِ ، أَوْ مَا فِي الصَّحِيفَةِ ، قُلْتُ : وَمَا فِي الصَّحِيفَةِ ؟ قَالَ : " الْعَقْلُ ، وَفِكَاكُ الْأَسِيرِ ، وَلَا يُقْتَلُ مُسْلِمٌ بِكَافِرٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابوجحیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے سوال کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ سے قرآن کے علاوہ بھی آپ کو کچھ ملا ہے ؟ فرمایا : نہیں، اس ذات کی قسم جس نے دانے کو پھاڑا اور جانداروں کو تندرستی بخشی ، سوائے اس سمجھ اور فہم و فراست کے جو اللہ تعالیٰ کسی شخص کو فہم قرآن کے حوالے سے عطاء فرما دے یا وہ چیز جو اس صحیفہ میں ہے اور کچھ نہیں ملا ، میں نے پوچھا کہ اس صحیفے میں کیا ہے ؟ فرمایا : دیت کے احکام ، قیدیوں کو چھوڑنے کے مسائل اور یہ کہ کسی مسلمان کو کسی کافر کے بدلے قتل نہ کیا جائے ۔
حدیث نمبر: 600
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، قَالَ : أَخْبَرَنِي حَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ ، أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي رَافِعٍ ، وَقَالَ مَرَّةً : إِنَّ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي رَافِعٍ أَخْبَرَهُ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، يَقُولُ : بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَا وَالزُّبَيْرَ وَالْمِقْدَادَ ، فَقَالَ : " انْطَلِقُوا حَتَّى تَأْتُوا رَوْضَةَ خَاخٍ ، فَإِنَّ بِهَا ظَعِينَةً مَعَهَا كِتَابٌ ، فَخُذُوهُ مِنْهَا " ، فَانْطَلَقْنَا تَعَادَى بِنَا خَيْلُنَا حَتَّى أَتَيْنَا الرَّوْضَةَ ، فَإِذَا نَحْنُ بِالظَّعِينَةِ ، فَقُلْنَا : أَخْرِجِي الْكِتَابَ ، قَالَتْ : مَا مَعِي مِنْ كِتَابٍ ، قُلْنَا : لَتُخْرِجِنَّ الْكِتَابَ أَوْ لَنَقْلِبَنَّ الثِّيَابَ ، قَالَ : فَأَخْرَجَتْ الْكِتَابَ مِنْ عِقَاصِهَا ، فَأَخَذْنَا الْكِتَابَ ، فَأَتَيْنَا بِهِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَإِذَا فِيهِ : مِنْ حَاطِبِ بْنِ أَبِي بَلْتَعَةَ إِلَى نَاسٍ مِنَ الْمُشْرِكِينَ بِمَكَّةَ ، يُخْبِرُهُمْ بِبَعْضِ أَمْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا حَاطِبُ ، مَا هَذَا ؟ " ، قَالَ : لَا تَعْجَلْ عَلَيَّ ، إِنِّي كُنْتُ امْرَأً مُلْصَقًا فِي قُرَيْشٍ ، وَلَمْ أَكُنْ مِنْ أَنْفُسِهَا ، وَكَانَ مَنْ كَانَ مَعَكَ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ لَهُمْ قَرَابَاتٌ يَحْمُونَ أَهْلِيهِمْ بِمَكَّةَ ، فَأَحْبَبْتُ إِذْ فَاتَنِي ذَلِكَ مِنَ النَّسَبِ فِيهِمْ أَنْ أَتَّخِذَ فِيهِمْ يَدًا يَحْمُونَ بِهَا قَرَابَتِي ، وَمَا فَعَلْتُ ذَلِكَ كُفْرًا ، وَلَا ارْتِدَادًا عَنْ دِينِي ، وَلَا رِضًا بِالْكُفْرِ بَعْدَ الْإِسْلَامِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّهُ قَدْ صَدَقَكُمْ " ، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : دَعْنِي أَضْرِبْ عُنُقَ هَذَا الْمُنَافِقِ ، فَقَالَ : " إِنَّهُ قَدْ شَهِدَ بَدْرًا ، وَمَا يُدْرِيكَ لَعَلَّ اللَّهَ قَدْ اطَّلَعَ عَلَى أَهْلِ بَدْرٍ فَقَالَ : اعْمَلُوا مَا شِئْتُمْ ، فَقَدْ غَفَرْتُ لَكُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ، سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ اور سیدنا مقداد رضی اللہ عنہ کو ایک جگہ بھیجتے ہوئے فرمایا کہ تم لوگ روانہ ہو جاؤ ، جب تم روضہ خاخ میں پہنچو گے تو وہاں تمہیں ایک عورت ملے گی جس کے پاس ایک خط ہو گا تم اس سے وہ خط لے کر واپس آ جانا ، چنانچہ ہم لوگ روانہ ہو گئے ، ہمارے گھوڑے ہمارے ہاتھوں سے نکلے جاتے تھے ، یہاں تک کہ ہم روضہ خاخ جا پہنچے ، وہاں ہمیں واقعۃ ایک عورت ملی ، ہم نے اس سے کہا کہ تیرے پاس جو خط ہے وہ نکال دے ، اس نے کہا کہ میرے پاس تو کوئی خط نہیں ہم نے اس سے کہا کہ یا تو ، تو خود ہی خط نکال دے ورنہ ہم تجھے برہنہ کر دیں گے ۔ مجبور ہو کر اس نے اپنے بالوں کی چوٹی میں سے ایک خط نکال کر ہمارے حوالے کر دیا ، ہم وہ خط لے کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ، اس خط کو جب کھول کر دیکھا گیا تو پتہ چلا کہ وہ حاطب بن ابی بلتعہ کی طرف سے کچھ مشرکین مکہ کے نام تھا جس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک فیصلے کی خبر دی گئی تھی ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا کہ حاطب ! یہ کیا ہے ؟ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! میرے معاملے میں جلدی نہ کیجئے گا ، میں قریش سے تعلق نہیں رکھتا ، البتہ ان میں شامل ہو گیا ہوں ، آپ کے ساتھ جتنے بھی مہاجرین ہیں ، ان کے مکہ مکرمہ میں رشتہ دار موجود ہیں جن سے وہ اپنے اہل خانہ کی حفاظت کروا لیتے ہیں ، میں نے سوچا کہ میرا وہاں کوئی نسبی رشتہ دار تو موجود نہیں ہے ، اس لئے ان پر ایک احسان کر دوں تاکہ وہ اس کے عوض میرے رشتہ داروں کی حفاظت کریں ، میں نے یہ کام کافر ہو کر، یا مرتد ہو کر، یا اسلام کے بعد کفر کو پسند کرتے ہوئے نہیں کیا ہے ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”انہوں نے تم سے سچ بیان کیا“ ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے شدت جذبات سے مغلوب ہو کر فرمایا : مجھے اجازت دیجئے کہ اس منافق کی گردن اڑا دوں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”یہ غزوہ بدر میں شریک ہو چکے ہیں اور تمہیں کیا خبر کہ اللہ نے آسمان سے اہل بدر کو جھانک کر دیکھا اور فرمایا : تم جو کچھ کرتے رہو میں تمہیں معاف کرچکا ۔“
حدیث نمبر: 601
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ يُوسُفَ الشَّاعِرُ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ مُوسَى بْنِ سَالِمٍ أَبِي جَهْضَمٍ ، أَنَّ أَبَا جَعْفَرٍ حَدَّثَهُ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حَدَّثَهُمْ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَانِي عَنْ ثَلَاثَةٍ ، قَالَ : فَمَا أَدْرِي لَهُ خَاصَّةً ، أَمْ لِلنَّاسِ عَامَّةً : " نَهَانِي عَنِ الْقَسِّيِّ ، وَالْمِيثَرَةِ ، وَأَنْ أَقْرَأَ وَأَنَا رَاكِعٌ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ مجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تین چیزوں سے منع فرمایا ہے ، اب مجھے معلوم نہیں کہ ان کی ممانعت خصوصیت کے ساتھ میرے لئے ہے یا سب کے لئے عام ہے ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ریشم اور سرخ زین پوش سے منع فرمایا ہے اور رکوع میں قرآن پڑھنے سے منع فرمایا ہے ۔
…