حدیث نمبر: 519
(حديث مرفوع) قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ : وَجَدْتُ فِي كِتَابِ أَبِي : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ حُصَيْنِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ مُخَارِقِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَابِرٍ الْأَحْمَسِيِّ ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ غَشَّ الْعَرَبَ لَمْ يَدْخُلْ فِي شَفَاعَتِي ، وَلَمْ تَنَلْهُ مَوَدَّتِي " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”جو شخص اہل عرب کو دھوکہ دے ، وہ میری شفاعت میں داخل نہیں ہو گا اور اسے میری محبت نصیب نہ ہو گی ۔ “
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 519
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف جدا، حصين بن عمر ضعفه أحمد وقال : إنه كان يكذب وقال البخاري : منكر الحديث وقال مسلم : متروك الحديث
حدیث نمبر: 520
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنِي عَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، وَأَبُو يَحْيَى الْبَزَّازُ ، قَالَا : حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ نُصَيْرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْعَوَّامِ بْنِ مُرَاجِمٍ مِنْ بَنِي قَيْسِ بْنِ ثَعْلَبَةَ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ ، عَنْ عُثْمَانَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّ الْجَمَّاءَ لَتُقَصُّ مِنَ الْقَرْنَاءِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”قیامت کے دن سینگ والی بکری سے بے سینگ والی بکری کا بھی قصاص لیا جائے گا ۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 520
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف حجاج بن نصیر
حدیث نمبر: 521
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ ، قَالَ : " شَهِدْتُ عُثْمَانَ يَأْمُرُ فِي خُطْبَتِهِ بِقَتْلِ الْكِلَابِ ، وَذَبْحِ الْحَمَامِ " .
مولانا ظفر اقبال
حسن بصری رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں ایک مرتبہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا ، وہ اپنے خطبے میں کتوں کو قتل کرنے اور کبوتروں کو ذبح کرنے کا حکم دے رہے تھے ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 521
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف مبارك بن فضالة
حدیث نمبر: 522
(حديث مقطوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنِي عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مُغِيرَةَ ، عَنْ أُمِّ مُوسَى ، قَالَتْ : " كَانَ عُثْمَانُ مِنْ أَجْمَلِ النَّاسِ " .
مولانا ظفر اقبال
ام موسیٰ کہتی ہیں کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ لوگوں میں سب سے زیادہ حسین و جمیل تھے ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 522
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 523
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : كُنْتُ أُصَلِّي ، فَمَرَّ رَجُلٌ بَيْنَ يَدَيَّ فَمَنَعْتُهُ ، فَأَبَى ، فَسَأَلْتُ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ ، فَقَالَ : " لَا يَضُرُّكَ يَا ابْنَ أَخِي " .
مولانا ظفر اقبال
ابراہیم بن سعد اپنے دادا سے نقل کرتے ہیں کہ میں ایک دن نماز پڑھ رہا تھا ، ایک آدمی میرے سامنے سے گزر نے لگا ، میں نے اسے روکنا چاہا لیکن وہ نہ مانا ، میں نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے اس کے متعلق پوچھا : تو انہوں نے فرمایا : بھتیجے ! اس میں تمہارا کوئی نقصان نہیں ہے ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 523
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: . صحيح، سويد بن سعيد- وإن كان فيه كلام - قد توبع
حدیث نمبر: 524
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنَا سُوَيْدٌ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَالَ عُثْمَانُ : " إِنْ وَجَدْتُمْ فِي كِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ تَضَعُوا رِجْلِي فِي الْقَيْدِ ، فَضَعُوهَا " .
مولانا ظفر اقبال
ایک مرتبہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اگر تمہیں کتاب اللہ میں یہ حکم مل جاتا ہے کہ میرے پاؤں میں بیڑیاں ڈال دو ، تو تم یہ بھی کر گزرو ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 524
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح، سويد بن سعيد قد توبع
حدیث نمبر: 525
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الْبَصْرِيُّ ، حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ الْمَخْزُومِيُّ ، حَدَّثَنِي أَبِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ ، عَنْ أَبِيهِ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَفَ بِعَرَفَةَ وَهُوَ مُرْدِفٌ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ ، فَقَالَ : " هَذَا الْمَوْقِفُ ، وَكُلُّ عَرَفَةَ مَوْقِفٌ " ، ثُمَّ دَفَعَ يَسِيرُ الْعَنَقَ ، وَجَعَلَ النَّاسُ يَضْرِبُونَ يَمِينًا وَشِمَالًا ، وَهُوَ يَلْتَفِتُ ، وَيَقُولُ : " السَّكِينَةَ أَيُّهَا النَّاسُ ، السَّكِينَةَ أَيُّهَا النَّاسُ " ، حَتَّى جَاءَ الْمُزْدَلِفَةَ ، وَجَمَعَ بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ ، ثُمَّ وَقَفَ بِالْمُزْدَلِفَةِ ، فَوَقَفَ عَلَى قُزَحَ ، وَأَرْدَفَ الْفَضْلَ بْنَ الْعَبَّاسِ ، وَقَالَ : " هَذَا الْمَوْقِفُ ، وَكُلُّ مُزْدَلِفَةَ مَوْقِفٌ " ، ثُمَّ دَفَعَ وَجَعَلَ يَسِيرُ الْعَنَقَ ، وَالنَّاسُ يَضْرِبُونَ يَمِينًا وَشِمَالًا ، وَهُوَ يَلْتَفِتُ ، وَيَقُولُ : " السَّكِينَةَ أَيُّهَا النَّاسُ ، السَّكِينَةَ " . . . وَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میدان عرفات میں وقوف کیا ، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کو اپنی سواری پر اپنے پیچھے بٹھا رکھا تھا اور فرمایا : ”یہ وقوف کی جگہ ہے اور پورا میدان عرفہ ہی وقوف کی جگہ ہے“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عرفہ سے کوچ کیا اور سواری کی رفتار تیز کر دی ، لوگ دائیں بائیں بھاگنے لگے ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا : ”لوگو ! مطمئن رہو“ ، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مزدلفہ آ پہنچے ، مغرب اور عشاء کی نمازیں اکٹھی پڑھیں ، پھر مزدلفہ میں وقوف فرمایا ۔ مزدلفہ کا وقوف آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جبل قزح پر فرمایا، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی سواری پر اپنے پیچھے سیدنا فضل بن عباس رضی اللہ عنہما کو بٹھا رکھا تھا اور فرمایا : ”یہ وقوف کی جگہ ہے اور پورا مزدلفہ ہی وقوف کی جگہ ہے“ ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزدلفہ سے کوچ کیا اور سواری کی رفتار تیز کر دی، لوگ پھر دائیں بائیں بھاگنے لگے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی دوبارہ لوگوں کو سکون کی تلقین فرمائی اور راوی نے مکمل حدیث ذکر کی ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 525
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 526
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ أَبِي الْيَعْفُورِ الْعَبْدِيُّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ مُسْلِمٍ أَبِي سَعِيدٍ مَوْلَى عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ : أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ أَعْتَقَ عِشْرِينَ مَمْلُوكًا ، وَدَعَا بِسَرَاوِيلَ ، فَشَدَّهَا عَلَيْهِ ، وَلَمْ يَلْبَسْهَا فِي جَاهِلِيَّةٍ وَلَا إِسْلَامٍ ، وَقَالَ : " إِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْبَارِحَةَ فِي الْمَنَامِ ، وَرَأَيْتُ أَبَا بَكْرٍ ، وَعُمَرَ ، وَإِنَّهُمْ قَالُوا لِي : اصْبِرْ ، فَإِنَّكَ تُفْطِرُ عِنْدَنَا الْقَابِلَةَ " ، ثُمَّ دَعَا بِمُصْحَفٍ فَنَشَرَهُ بَيْنَ يَدَيْهِ ، فَقُتِلَ وَهُوَ بَيْنَ يَدَيْهِ .
مولانا ظفر اقبال
مسلم کہتے ہیں کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے اپنی زندگی کے آخری دن اکٹھے بیس غلام آزاد کئے ، شلوار منگوا کر مضبوطی سے باندھ لی حالانکہ اس سے پہلے زمانہ جاہلیت یا زمانہ اسلام میں انہوں نے اسے کبھی نہ پہنا تھا اور فرمایا کہ میں نے آج رات خواب میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرات شیخین کو دیکھا ہے ، یہ حضرات مجھ سے کہہ رہے تھے کہ صبر کرو ، کل کا روزہ تم ہمارے ساتھ افطار کرو گے ، پھر انہوں نے قرآن شریف کا نسخہ منگوایا اور اسے کھول کر پڑھنے کے لئے بیٹھ گئے اور اسی حال میں انہیں شہید کر دیا گیا جب کہ قرآن کریم کا وہ نسخہ ان کے سامنے موجود تھا ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 526
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، قاله أحمد شاكر
حدیث نمبر: 527
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ ، وَأَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، قَالَا : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنِ الْحَجَّاجِ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ عُثْمَانَ ، قَالَ : " رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ ، فَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا ، وَيَدَيْهِ ثَلَاثًا ، وَغَسَلَ ذِرَاعَيْهِ ثَلَاثًا ثَلَاثًا ، وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ ، وَغَسَلَ رِجْلَيْهِ غَسْلًا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو وضو کرتے ہوئے دیکھا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ چہرہ دھویا ، تین مرتبہ ہاتھ دھوئے ، تین مرتبہ بازو دھوئے، سر کا مسح کیا اور پاؤں کو اچھی طرح دھویا ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 527
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، الحجاج مدلس وقد عنعن، وعطاء لم يدرك عثمان
حدیث نمبر: 528
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْمُسَيَّبِيُّ ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ ، عَنْ أَبِي مَوْدُودٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ ، عَنْ أَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ ، عَنْ عُثْمَانَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ قَالَ : بِسْمِ اللَّهِ الَّذِي لَا يَضُرُّ مَعَ اسْمِهِ شَيْءٌ فِي الْأَرْضِ وَلَا فِي السَّمَاءِ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ ، ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ، لَمْ تَفْجَأْهُ فَاجِئَةُ بَلَاءٍ حَتَّى اللَّيْلِ ، وَمَنْ قَالَهَا حِينَ يُمْسِي ، لَمْ تَفْجَأْهُ فَاجِئَةُ بَلَاءٍ حَتَّى يُصْبِحَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص تین مرتبہ صبح کے وقت یہ دعا پڑھ لیا کرے «بِسْمِ اللَّهِ الَّذِي لَا يَضُرُّ مَعَ اسْمِهِ شَيْءٌ فِي الْأَرْضِ وَلَا فِي السَّمَاءِ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ» اسے رات تک کوئی چیز نقصان نہ پہنچا سکے گی اور جو رات کو پڑھ لے تو صبح تک اسے کوئی چیز نقصان نہ پہنچاسکے گی ، ان شاء اللہ ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 528
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن، وانظر : 446
حدیث نمبر: 529
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَسْلَمَةَ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عِمْرَانَ بْنِ مَنَّاحٍ ، عَنْ أَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ : " أَنَّهُ رَأَى جَنَازَةً مُقْبِلَةً ، فَلَمَّا رَآهَا قَامَ ، فَقَالَ : رَأَيْتُ عُثْمَانَ يَفْعَلُ ذَلِكَ ، وَخَبَّرَنِي أَنَّهُ رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُهُ " .
مولانا ظفر اقبال
ابان بن عثمان رحمہ اللہ نے ایک جنازے کو دیکھا تو کھڑے ہو گئے اور فرمایا کہ ایک مرتبہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی نظر ایک جنازے پر پڑی تو وہ بھی کھڑے ہو گئے اور انہوں نے فرمایا کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی جنازے کو دیکھا تو کھڑے ہو گئے تھے ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 529
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف سعيد بن مسلمة
حدیث نمبر: 530
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنَا أَبُو إِبْرَاهِيمَ التَّرْجُمَانِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي فَرْوَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الصُّبْحَةُ تَمْنَعُ الرِّزْقَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”صبح کے وقت سوتے رہنے سے انسان رزق سے محروم ہو جاتا ہے ۔ “
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 530
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف جدا شبه موضوع
حدیث نمبر: 531
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنِي سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا مَحْبُوبُ بْنُ مُحْرِزٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ فَرُّوخَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : " شَهِدْتُ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ دُفِنَ فِي ثِيَابِهِ بِدِمَائِهِ ، وَلَمْ يُغَسَّلْ " .
مولانا ظفر اقبال
فروخ کہتے ہیں کہ میں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کے وقت موجود تھا ، انہیں ان کے خون آلود کپڑوں ہی میں سپرد خاک کیا گیا اور انہیں غسل بھی نہیں دیا گیا (کیونکہ وہ شہید تھے )۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 531
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف محبوب بن محرز، و جهالة إبراهيم بن عبدالله
حدیث نمبر: 532
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنِي أَبُو يَحْيَى الْبَزَّازُ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ بِشْرِ بْنِ سَلْمٍ الْكُوفِيُّ ، حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الْأَنْصَارِيُّ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ زِيَادٍ الْقُرَشِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ مِحْجَنٍ مَوْلَى عُثْمَانَ ، عَنْ عُثْمَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " أَظَلَّ اللَّهُ عَبْدًا فِي ظِلِّهِ يَوْمَ لَا ظِلَّ إِلَّا ظِلُّهُ أَنْظَرَ مُعْسِرًا ، أَوْ تَرَكَ لِغَارِمٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے : ”جس دن اللہ کے سائے کے علاوہ کہیں سایہ نہ ہو گا اللہ اس شخص کو اپنے سائے میں جگہ عطاء فرمائے گا جو کسی تنگدست کو مہلت دے یا مقروض کو چھوڑ دے۔ “
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 532
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف جدا، ويغني عنه حديث أبى اليسر فى صحيح مسلم: 3006 وحديث أبى هريرة فى جامع الترمذي : 1306
حدیث نمبر: 533
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ يَعْنِي الْحَرْبِيَّ أَبُو زَكَرِيَّا ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ رَجُلٍ قَدْ سَمَّاهُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الصُّبْحَةُ تَمْنَعُ الرِّزْقَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”صبح کے وقت سوتے رہنے سے انسان رزق سے محروم ہو جاتا ہے۔ “
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 533
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف جدا شبه : موضوع
حدیث نمبر: 534
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، حَدَّثَنِي نَافِعٌ ، عَنْ نُبَيْهِ بْنِ وَهْبٍ ، عَنْ أَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الْمُحْرِمُ لَا يَنْكِحُ ، وَلَا يُنْكِحُ ، وَلَا يَخْطُبُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”محرم خود نکاح کرے اور نہ کسی کا نکاح کروائے بلکہ پیغام نکاح بھی نہ بھیجے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 534
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م 1409
حدیث نمبر: 535
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، حَدَّثَنِي نُبَيْهُ بْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : بَعَثَنِي عُمَرُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْمَرٍ ، وَكَانَ يَخْطُبُ بِنْتَ شَيْبَةَ بْنِ عُثْمَانَ عَلَى ابْنِهِ ، فَأَرْسَلَ إِلَى أَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ وَهُوَ عَلَى الْمَوْسِمِ ، فَقَالَ : " أَلَا أُرَاهُ أَعْرَابِيًّا ، إِنَّ الْمُحْرِمَ لَا يَنْكِحُ وَلَا يُنْكِحُ " ، أَخْبَرَنِي بِذَلِكَ عُثْمَانُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وحَدَّثَنِي نُبَيْهٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، بِنَحْوِهِ .
مولانا ظفر اقبال
نبیہ بن وہب کہتے ہیں کہ ابن معمر نے شیبہ بن جبیر کی بیٹی سے اپنے بیٹے کے نکاح کا دورانِ حج پروگرام بنایا اور مجھے ابان بن عثمان رحمہ اللہ کے پاس جو کہ امیر حج تھے بھیجا، میں نے ان کے پاس جا کر کہا کہ آپ کے بھائی اپنے بیٹے کا نکاح کرنا چاہتے ہیں اور ان کی خواہش ہے کہ آپ بھی اس میں شرکت کریں، انہوں نے کہا کہ میں تو اسے دیہاتی نہیں سمجھتا تھا، یاد رکھو ! محرم نہ نکاح کر سکتا ہے اور نہ کسی کا نکاح کرا سکتا ہے، پھر انہوں نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے حوالے سے اس مضمون کی حدیث سنائی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 535
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح كسابقه
حدیث نمبر: 536
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أُمِّ هِلَالٍ ابْنَةِ وَكِيعٍ ، عَنْ نَائِلَةَ بِنْتِ الْفَرَافِصَةِ امْرَأَةِ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ ، قَالَتْ : " نَعَسَ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ عُثْمَانُ فَأَغْفَى ، فَاسْتَيْقَظَ ، فَقَالَ : لَيَقْتُلَنَّنِي الْقَوْمُ ، قُلْتُ : كَلَّا إِنْ شَاءَ اللَّهُ ، لَمْ يَبْلُغْ ذَاكَ ، إِنَّ رَعِيَّتَكَ اسْتَعْتَبُوكَ ، قَالَ : إِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَنَامِي ، وَأَبُو بَكْرٍ ، وَعُمَرُ ، فَقَالُوا : " تُفْطِرُ عِنْدَنَا اللَّيْلَةَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی اہلیہ سیدہ نائلہ بنت فرافصہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو اونگھ آئی اور وہ ہلکے سے سو گئے، ذرا دیر بعد ہوشیار ہوئے تو فرمایا کہ یہ لوگ مجھے قتل کر کے رہیں گے، میں نے انہیں تسلی دیتے ہوئے کہ ان شاء اللہ ایسا ہرگز نہیں ہو گا ، بات ابھی اس حد تک نہیں پہنچی، آپ کی رعایا آپ سے محض معمولی سی ناراض ہے، فرمایا : نہیں ! میں نے نبی علیہ السلام اور حضرات شیخین کو ابھی خواب میں دیکھا ہے، وہ مجھے بتا رہے تھے کہ آج رات تم روزہ ہمارے پاس آ کر افطار کروگے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 536
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، ولبعضه شاهد تقدم برقم: 526