حدیث نمبر: 479
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ ، حَدَّثَنَا أَرْطَاةُ يَعْنِي ابْنَ الْمُنْذِرِ ، أَخْبَرَنِي أَبُو عَوْنٍ الْأَنْصَارِيُّ ، أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ ، قَالَ لِابْنِ مَسْعُودٍ : هَلْ أَنْتَ مُنْتَهٍ عَمَّا بَلَغَنِي عَنْكَ ؟ فَاعْتَذَرَ بَعْضَ الْعُذْرِ ، فَقَالَ عُثْمَانُ : وَيْحَكَ ، إِنِّي قَدْ سَمِعْتُ وَحَفِظْتُ وَلَيْسَ كَمَا سَمِعْتَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " سَيُقْتَلُ أَمِيرٌ وَيَنْتَزِي مُنْتَزٍ " ، وَإِنِّي أَنَا الْمَقْتُولُ ، وَلَيْسَ عُمَرَ ، إِنَّمَا قَتَلَ عُمَرَ وَاحِدٌ ، وَإِنَّهُ يُجْتَمَعُ عَلَيَّ .
مولانا ظفر اقبال
ابوعون انصاری کہتے ہیں کہ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے ایک مرتبہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے درخواست کی کہ آپ کے حوالے سے مجھے جو باتیں معلوم ہوئی ہیں ، آپ ان سے رک جائیے ، سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے ان کے سامنے کچھ عذر پیش کئے ، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا : افسوس ! میں نے اس بات کو سنا بھی ہے اور محفوظ بھی کیا ہے خواہ آپ نے نہ سنا ہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تھا : ایک حکمران قتل کیا جائے گا اور شر پھیلانے والے اس میں جلد بازی کریں گے ، یاد رکھو ! وہ مقتول ہونے والا امیر میں ہی ہوں ، اس سے مراد سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نہیں ہیں ، کیونکہ انہیں تو صرف ایک آدمی نے شہید کیا تھا ، جب کہ مجھ پر یہ سب مل کر حملہ کرنے والے ہیں ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 479
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، أبو عون الأنصاري لم يوثقه غير ابن حبان وروايته عن عثمان مرسلة
حدیث نمبر: 480
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ شُعَيْبٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، حَدَّثَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، أَنَّ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عَدِيِّ بْنِ الْخِيَارِ أَخْبَرَهُ ، أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ ، قَالَ لَهُ : ابْنَ أَخِي ، أَدْرَكْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : فَقُلْتُ لَهُ : لَا ، وَلَكِنْ خَلَصَ إِلَيَّ مِنْ عِلْمِهِ ، وَالْيَقِينِ مَا يَخْلُصُ إِلَى الْعَذْرَاءِ فِي سِتْرِهَا ، قَالَ : فَتَشَهَّدَ ، ثُمَّ قَالَ : " أَمَّا بَعْدُ ، فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ بَعَثَ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحَقِّ ، فَكُنْتُ مِمَّنْ اسْتَجَابَ لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ ، وَآمَنَ بِمَا بُعِثَ بِهِ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ هَاجَرْتُ الْهِجْرَتَيْنِ كَمَا قُلْتُ ، وَنِلْتُ صِهْرَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَبَايَعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَوَاللَّهِ مَا عَصَيْتُهُ وَلَا غَشَشْتُهُ ، حَتَّى تَوَفَّاهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ " .
مولانا ظفر اقبال
عبیداللہ بن عدی بن الخیار کہتے ہیں کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا بھتیجے ! کیا تم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو پایا ہے ؟ میں نے عرض کیا، نہیں ! البتہ ان کے حوالے سے خالص معلومات اور ایسا یقین ضرور میرے پاس ہیں جو کنواری دوشیزہ کو اپنے پردے میں ہوتا ہے ، اس پر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے حمد و ثناء اور اقرار شہادتین کے بعد فرمایا : اللہ تعالیٰ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ، اللہ و رسول کی دعوت پر لبیک کہنے والوں میں بھی تھا ، نیز نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت پر ایمان لانے والوں میں ، میں بھی تھا ، پھر میں نے حبشہ کی طرف دونوں مرتبہ ہجرت کی ، مجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دامادی کا شرف بھی حاصل ہوا اور میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دست حق پر بیعت بھی کی ہے ، اللہ کی قسم ! میں نے کبھی ان کی نافرمانی کی اور نہ ہی دھوکہ دیا ، یہاں تک کہ اللہ نے انہیں اپنے پاس بلا لیا ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 480
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3696
حدیث نمبر: 481
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَيَّاشٍ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، قَالَ : وَأَخْبَرَنِي الْأَوْزَاعِيُّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَرْوَانَ ، أَنَّهُ حَدَّثَهُ عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ : أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى عُثْمَانَ وَهُوَ مَحْصُورٌ ، فَقَالَ : إِنَّكَ إِمَامُ الْعَامَّةِ ، وَقَدْ نَزَلَ بِكَ مَا تَرَى ، وَإِنِّي أَعْرِضُ عَلَيْكَ خِصَالًا ثَلَاثًا ، اخْتَرْ إِحْدَاهُنَّ : إِمَّا أَنْ تَخْرُجَ فَتُقَاتِلَهُمْ ، فَإِنَّ مَعَكَ عَدَدًا وَقُوَّةً ، وَأَنْتَ عَلَى الْحَقِّ ، وَهُمْ عَلَى الْبَاطِلِ ، وَإِمَّا أَنْ نَخْرِقَ لَكَ بَابًا سِوَى الْبَابِ الَّذِي هُمْ عَلَيْهِ ، فَتَقْعُدَ عَلَى رَوَاحِلِكَ ، فَتَلْحَقَ بِمَكَّةَ ، فَإِنَّهُمْ لَنْ يَسْتَحِلُّوكَ وَأَنْتَ بِهَا ، وَإِمَّا أَنْ تَلْحَقَ بِالشَّامِ ، فَإِنَّهُمْ أَهْلُ الشَّامِ ، وَفِيهِمْ مُعَاوِيَةُ ، فَقَالَ عُثْمَانُ : أَمَّا أَنْ أَخْرُجَ فَأُقَاتِلَ ، فَلَنْ أَكُونَ أَوَّلَ مَنْ خَلَفَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أُمَّتِهِ بِسَفْكِ الدِّمَاءِ ، وَأَمَّا أَنْ أَخْرُجَ إِلَى مَكَّةَ ، فَإِنَّهُمْ لَنْ يَسْتَحِلُّونِي بِهَا ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " يُلْحِدُ رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ بِمَكَّةَ ، يَكُونُ عَلَيْهِ نِصْفُ عَذَابِ الْعَالَمِ " ، فَلَنْ أَكُونَ أَنَا إِيَّاهُ ، وَأَمَّا أَنْ أَلْحَقَ بِالشَّامِ فَإِنَّهُمْ أَهْلُ الشَّامِ ، وَفِيهِمْ مُعَاوِيَةُ ، فَلَنْ أُفَارِقَ دَارَ هِجْرَتِي ، وَمُجَاوَرَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ ایک مرتبہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے یہاں آئے ، ان دنوں باغیوں نے ان کا محاصرہ کر رکھا تھا اور آکر عرض کیا کہ آپ مسلمانوں کے عمومی حکمران ہیں ، آپ پر جو پریشانیاں آ رہی ہیں ، وہ بھی نگاہوں کے سامنے ہیں ، میں آپ کے سامنے تین درخواستیں رکھتا ہوں ، آپ کسی ایک کو اختیار کر لیجئے، یا تو آپ باہر نکل کر ان باغیوں سے قتال کریں ، آپ کے پاس افراد بھی ہیں ، طاقت بھی ہے اور آپ برحق بھی ہیں اور یہ لوگ باطل پر ہیں، یا جس دروازے پر یہ لوگ کھڑے ہیں ، آپ اسے چھوڑ کر اپنے گھر کی دیوار توڑ کر کوئی دوسرا دروازہ نکلوائیں ، سواری پر بیٹھیں اور مکہ مکرمہ چلے جائیں ، جب آپ وہاں ہوں گے تو یہ آپ کا کچھ نہ بگاڑ سکیں گے ، یا پھر آپ شام چلے جائیے کیونکہ وہاں اہل شام کے علاوہ سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ بھی موجود ہیں ۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا : جہاں تک تعلق ہے اس بات کا کہ میں باہر نکل کر ان باغیوں سے قتال کروں، تو میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سب سے پہلا وہ آدمی ہرگز نہیں بنوں گا جو امت میں خونریزی کرے ، رہی یہ بات کہ میں مکہ مکرمہ چلا جاؤں تو یہ میرا کچھ نہ بگاڑ سکیں گے، تو میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ قریش کا ایک آدمی مکہ مکرمہ میں الحاد پھیلائے گا ، اس پر اہل دنیا کو ہونے والے عذاب کا نصف عذاب دیا جائے گا ، میں وہ آدمی نہیں بننا چاہتا اور جہاں تک شام جانے والی بات ہے کہ وہاں اہل شام کے علاوہ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ بھی ہیں تو میں دارالہجرۃ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پڑوس کو کسی صورت نہیں چھوڑ سکتا ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 481
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لانقطاعه، محمد بن عبدالملك لم يثبت سماعه من المغيرة
حدیث نمبر: 482
حَدَّثَنَاه عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنِ ابْنِ الْمُبَارَكِ ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ ، وَقَالَ : يُلْحِدُ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 482
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: ضعيف كسابقه، ابن المبارك : هو عبدالله ، وهو يرويه عن الاوزاعي
حدیث نمبر: 483
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، وَيُونُسُ ، قَالَا : حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، قَالَ حَجَّاجٌ : حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ، وَنَافِعِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ التَّيْمِيِّ ، عَنْ حُمْرَانَ مَوْلَى عُثْمَانَ ، عَنْ عُثْمَانَ ، أَنَّهُ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " مَنْ تَوَضَّأَ فَأَسْبَغَ الْوُضُوءَ ، ثُمَّ مَشَى إِلَى صَلَاةٍ مَكْتُوبَةٍ فَصَلَّاهَا ، غُفِرَ لَهُ ذَنْبُهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”جو شخص خوب اچھی طرح وضو کرے اور فرض نماز کے لئے روانہ ہو اور اسے ادا کرے، تو اللہ تعالیٰ اس کے گزشتہ تمام گناہ معاف فرما دے گا ۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 483
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 160، م: 227
حدیث نمبر: 484
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ ، عَنْ حُمْرَانَ ، قَالَ : كَانَ عُثْمَانُ يَغْتَسِلُ كُلَّ يَوْمٍ مَرَّةً مِنْ مُنْذُ أَسْلَمَ ، فَوَضَعْتُ وَضُوءًا لَهُ ذَاتَ يَوْمٍ لِلصَّلَاةِ ، فَلَمَّا تَوَضَّأَ ، قَالَ : إِنِّي أَرَدْتُ أَنْ أُحَدِّثَكُمْ بِحَدِيثٍ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ قَالَ : بَدَا لِي أَنْ لَا أُحَدِّثَكُمُوهُ ، فَقَالَ الْحَكَمُ بْنُ أَبِي الْعَاصِ : يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ، إِنْ كَانَ خَيْرًا فَنَأْخُذُ بِهِ ، أَوْ شَرًّا فَنَتَّقِيهِ ، قَالَ : فَقَالَ : فَإِنِّي مُحَدِّثُكُمْ بِهِ : تَوَضَّأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذَا الْوُضُوءَ ، ثُمَّ قَالَ : " مَنْ تَوَضَّأَ هَذَا الْوُضُوءَ ، فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ ، ثُمَّ قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ ، فَأَتَمَّ رُكُوعَهَا وَسُجُودَهَا ، كَفَّرَتْ عَنْهُ مَا بَيْنَهَا وَبَيْنَ الصَّلَاةِ الْأُخْرَى ، مَا لَمْ يُصِبْ مَقْتَلَةً " يَعْنِي : كَبِيرَةً .
مولانا ظفر اقبال
حمران کہتے ہیں کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے جب سے اسلام قبول کیا تھا ، ان کا معمول تھا کہ وہ روزانہ نہایا کرتے تھے ، ایک دن نماز کے لئے میں نے وضو کا پانی رکھا ، جب وہ وضو کر چکے تو فرمانے لگے کہ میں تم سے ایک حدیث بیان کرنا چاہتا تھا ، پھر میں نے سوچا کہ نہ بیان کروں ، یہ سن کر حکم بن ابی العاص نے کہا کہ امیر المؤمنین ! بیان کر دیں ، اگر خیر کی بات ہو گی تو ہم بھی اس پر عمل کر لیں گے اور اگر شر کی نشاندہی ہو گی ، تو ہم بھی اس سے بچ جائیں گے ، فرمایا : میں تم سے یہ حدیث بیان کرنے لگا تھا کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی طرح وضو کیا اور فرمایا : ”جو شخص اس طرح وضو کرے اور خوب اچھی طرح کرے ، پھر نماز کے لئے کھڑا ہو اور رکوع و سجود کو اچھی طرح مکمل کرے تو یہ وضو اگلی نماز تک اس کے گناہوں کا کفارہ ہو جائے گا ، بشرطیکہ کسی گناہ کبیرہ کا ارتکا ب نہ کرے ۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 484
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 228، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 485
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ فَرُّوخَ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " أَدْخَلَ اللَّهُ الْجَنَّةَ رَجُلًا كَانَ سَهْلًا قَاضِيًا وَمُقْتَضِيًا ، وَبَائِعًا ، وَمُشْتَرِيًا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” اللہ تعالیٰ اس شخص کو جنت میں ضرور داخل کرے گا ، جو نرم خو ہو خواہ خریدار ہو یا دکاندار ، ادا کرنے والا ہو یا تقاضا کرنے والا ۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 485
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن، عطاء بن فروخ روى عنه أثنان، ولم يوثقة غير ابن حبان، وذكر على بن المديني فى العلل أنه لم يلق عثمان
حدیث نمبر: 486
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْمُهَاجِرِ ، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ خَالِدٍ ، حَدَّثَنِي رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ : أَنَّ الْمُؤَذِّنَ أَذَّنَ لِصَلَاةِ الْعَصْرِ ، قَالَ : فَدَعَا عُثْمَانُ بِطَهُورٍ فَتَطَهَّرَ ، قَالَ : ثُمَّ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " مَنْ تَطَهَّرَ كَمَا أُمِرَ ، وَصَلَّى كَمَا أُمِرَ ، كُفِّرَتْ عَنْهُ ذُنُوبُهُ " ، فَاسْتَشْهَدَ عَلَى ذَلِكَ أَرْبَعَةً مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : فَشَهِدُوا لَهُ بِذَلِكَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
مولانا ظفر اقبال
ایک مرتبہ جب مؤذن نے عصر کی اذان دی تو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے وضو کے لئے پانی منگوایا ، وضو کیا اور فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص حکم الٰہی کے مطابق وضو کرے ، وہ اس کے سارے گناہوں کا کفارہ بن جاتا ہے ، اس کے بعد انہوں نے چار صحابہ رضی اللہ عنہم سے اس پر گواہی لی اور چاروں نے اس بات کی گواہی دی کہ واقعی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی فرمایا تھا ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 486
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن لغيره، وله شاهد من حديث أبى أيوب الآتي، برقم:23595، وهذا إسناد ضعيف ، إبراهيم بن المهاجر فيه لين، والرجل من أهل المدينة مجهول
حدیث نمبر: 487
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ الْأَشْجَعِيِّ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ سَالِمٍ أَبِي النَّضْرِ ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ ، قَالَ : أَتَى عُثْمَانُ الْمَقَاعِدَ ، فَدَعَا بِوَضُوءٍ ، " فَتَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ ، ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا ، وَيَدَيْهِ ثَلَاثًا ثَلَاثًا ، ثُمَّ مَسَحَ بِرَأْسِهِ وَرِجْلَيْهِ ثَلَاثًا ثَلَاثًا ، ثُمَّ قَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَكَذَا يَتَوَضَّأُ ، يَا هَؤُلَاءِ : أَكَذَاكَ ؟ قَالُوا : نَعَمْ ، لِنَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
بسر بن سعید کہتے ہیں کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ بنچوں کے پاس آ کر بیٹھ گئے ، وضو کا پانی منگوایا ، کلی کی ، ناک میں پانی ڈالا ، پھر تین مرتبہ چہرہ دھویا اور تین تین مرتبہ ہاتھ دھوئے ، پھر سر اور پاؤں کا تین تین مرتبہ مسح کیا، پھر فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح وضو کرتے ہوئے دیکھا ہے اور چند صحابہ رضی اللہ عنہم جو وہاں موجود تھے ، ان سے فرمایا : کیا ایسا ہی ہے ؟ انہوں نے اس کی تصدیق کی ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 487
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وإسناده حسن، م: 230
حدیث نمبر: 488
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنِي سَالِمٌ أَبُو النَّضْرِ ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ : أَنَّهُ دَعَا بِمَاءٍ فَتَوَضَّأَ عِنْدَ الْمَقَاعِدِ ، " فَتَوَضَّأَ ثَلَاثًا ثَلَاثًا ، ثُمَّ قَالَ لِأَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : هَلْ رَأَيْتُمْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَلَ هَذَا ؟ قَالُوا : نَعَمْ " ، قَالَ أَبِي : هَذَا الْعَدَنِيُّ كَانَ بِمَكَّةَ مُسْتَمْلِيَ ابْنِ عُيَيْنَةَ .
مولانا ظفر اقبال
بسر بن سعید کہتے ہیں کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ بنچوں کے پاس آ کر بیٹھ گئے ، وضو کا پانی منگوایا اور تمام اعضاء کو تین تین مرتبہ دھویا اور چند صحابہ رضی اللہ عنہم جو وہاں موجود تھے ، ان سے فرمایا : کیا ایسا ہی ہے ؟ انہوں نے اس کی تصدیق کی ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 488
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح كسابقه ، وإسناده قوي
حدیث نمبر: 489
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّيْمِيُّ ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ التَّيْمِيِّ ، عَنْ حُمْرَانَ بْنِ أَبَانَ مَوْلَى عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ ، قَالَ : رَأَيْتُ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ دَعَا بِوَضُوءٍ وَهُوَ عَلَى بَابِ الْمَسْجِدِ ، فَغَسَلَ يَدَيْهِ ، ثُمَّ مَضْمَضَ ، وَاسْتَنْشَقَ ، وَاسْتَنْثَرَ ، ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ، ثُمَّ غَسَلَ يَدَيْهِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ، ثُمَّ مَسَحَ بِرَأْسِهِ ، وَأَمَرَّ بِيَدَيْهِ عَلَى ظَاهِرِ أُذُنَيْهِ ، ثُمَّ مَرَّ بِهِمَا عَلَى لِحْيَتِهِ ، ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَيْهِ إِلَى الْكَعْبَيْنِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ، ثُمَّ قَامَ فَرَكَعَ رَكْعَتَيْنِ ، ثُمَّ قَالَ : تَوَضَّأْتُ لَكُمْ كَمَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ ، ثُمَّ رَكَعْتُ رَكْعَتَيْنِ كَمَا رَأَيْتُهُ رَكَعَ ، قَالَ : ثُمَّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ فَرَغَ مِنْ رَكْعَتَيْهِ : " مَنْ تَوَضَّأَ كَمَا تَوَضَّأْتُ ، ثُمَّ رَكَعَ رَكْعَتَيْنِ لَا يُحَدِّثُ فِيهِمَا نَفْسَهُ ، غُفِرَ لَهُ مَا كَانَ بَيْنَهُمَا وَبَيْنَ صَلَاتِهِ بِالْأَمْسِ " .
مولانا ظفر اقبال
حمران کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ مسجد کے دروازے پر بیٹھے ہوئے تھے ، میں نے دیکھا کہ انہوں نے پانی منگوایا ، سب سے پہلے اپنے ہاتھوں کو دھویا ، پھر تین مرتبہ چہرہ دھویا ، کلی بھی کی اور ناک میں پانی بھی ڈالا ، تین مرتبہ کہنیوں سمیت بازؤوں کو بھی دھویا ، پھر سر کا مسح کر کے دونوں ہاتھ کانوں کی ظاہری سطح پر گزارے ، پھر داڑھی پر پھیرے اور تین تین مرتبہ ٹخنوں سمیت پاؤں دھو لئے، پھر کھڑے ہو کر دو رکعتیں پڑھیں اور فرمایا کہ میں نے جس طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو وضو کرتے ہوئے دیکھا تھا اسی طرح تمہیں بھی وضو کر کے دکھا دیا اور جس طرح انہوں نے دو رکعتیں پڑھی تھیں میں نے بھی پڑھ کر دکھا دیں اور ان دو رکعتوں سے فارغ ہو کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص میری طرح ایسا ہی وضو کرے اور دو رکعت نماز اس طرح پڑھے کہ اپنے دل میں خیالات اور وساوس نہ لائے تو اللہ تعالیٰ اس کے گزشتہ تمام گناہ معاف فرما دے گا ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 489
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح كسابقه، وإسناده حسن
حدیث نمبر: 490
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ شَقِيقٍ ، قَالَ : لَقِيَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ الْوَلِيدَ بْنَ عُقْبَةَ ، فَقَالَ لَهُ : ما لِي أَرَاكَ قَدْ جَفَوْتَ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ عُثْمَانَ ؟ فَقَالَ لَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ : أَبْلِغْهُ أَنِّي لَمْ أَفِرَّ يَوْمَ عَيْنَيْنِ ، قَالَ : عَاصِمٌ ، يَقُولُ : يَوْمَ أُحُدٍ ، وَلَمْ أَتَخَلَّفْ يَوْمَ بَدْرٍ ، وَلَمْ أَتْرُكْ سُنَّةَ عُمَرَ ، قَالَ : فَانْطَلَقَ ، فَخَبَّرَ ذَلِكَ عُثْمَانَ ، قَالَ : فَقَالَ : " أَمَّا قَوْلُهُ إِنِّي لَمْ أَفِرَّ يَوْمَ عَيْنَيْنَ ، فَكَيْفَ يُعَيِّرُنِي بِذَنْبٍ وَقَدْ عَفَا اللَّهُ عَنْهُ ، فَقَالَ : إِنَّ الَّذِينَ تَوَلَّوْا مِنْكُمْ يَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعَانِ إِنَّمَا اسْتَزَلَّهُمُ الشَّيْطَانُ بِبَعْضِ مَا كَسَبُوا وَلَقَدْ عَفَا اللَّهُ عَنْهُمْ سورة آل عمران آية 155 ، وَأَمَّا قَوْلُهُ : إِنِّي تَخَلَّفْتُ يَوْمَ بَدْرٍ ، فَإِنِّي كُنْتُ أُمَرِّضُ رُقَيَّةَ بِنْتَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ مَاتَتْ ، وَقَدْ ضَرَبَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَهْمِي ، وَمَنْ ضَرَبَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَهْمِهِ فَقَدْ شَهِدَ ، وَأَمَّا قَوْلُهُ : إِنِّي لَمْ أَتْرُكْ سُنَّةَ عُمَرَ ، فَإِنِّي لَا أُطِيقُهَا وَلَا هُوَ " ، فَأْتِهِ فَحَدِّثْهُ بِذَلِكَ .
مولانا ظفر اقبال
شقیق رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ولید بن عقبہ سے سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کی ملاقات ہوئی ، ولید نے کہا : کیا بات ہے ، آپ امیر المؤمنین سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے ساتھ انصاف نہیں کر رہے ؟ انہوں نے کہا کہ میری طرف سے انہیں یہ پیغام پہنچا دو کہ میں غزوہ احد کے دن فرار نہیں ہوا تھا ، میں غزوہ بدر سے پیچھے نہیں رہا تھا اور نہ ہی میں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی سنت کو چھوڑا ہے ، ولید نے جاکر یہ ساری بات سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو بتا دی ۔ انہوں نے فرمایا کہ سیدنا عبدالرحمن رضی اللہ عنہ نے یہ جو کہا کہ میں غزوہ احد سے فرار نہیں ہوا تھا ، وہ مجھے ایسی لغزش سے کیسے عار دلا سکتے ہیں، جسے اللہ نے خود معاف کر دیا ، چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ تم میں سے جو لوگ دو لشکروں کے ملنے کے دن پیٹھ پھیر کر چلے گئے تھے ، انہیں شیطان نے پھسلا دیا تھا ، بعض ان چیزوں کی وجہ سے جو انہوں نے کیں اور غزوہ بدر سے پیچھے رہ جانے کا جو طعنہ انہوں نے مجھے دیا ہے تو اصل بات یہ ہے کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی اور اپنی زوجہ سیدہ رقیہ رضی اللہ عنہا کی تیمارداری میں مصروف تھا ، یہاں تک کہ وہ اسی دوران فوت ہو گئیں ، جبکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے شرکاء بدر کے ساتھ مال غنیمت میں میرا حصہ بھی شامل فرمایا اور یہ سمجھا گیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جس کا حصہ مقرر فرمایا وہ غزوہ بدر میں شریک تھا ، رہی ان کی یہ بات کہ میں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی سنت نہیں چھوڑی تو سچی بات یہ ہے کہ اس کی طاقت مجھ میں ہے اور نہ خود ان میں ہے تم جا کر ان سے یہ باتیں بیان کر دینا ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 490
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 491
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي سَهْلٍ يَعْنِي عُثْمَانَ بْنَ حَكِيمٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي عَمْرَةَ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ صَلَّى الْعِشَاءَ فِي جَمَاعَةٍ ، كَانَ كَقِيَامِ نِصْفِ لَيْلَةٍ ، وَمَنْ صَلَّى الْعِشَاءَ وَالْفَجْرَ فِي جَمَاعَةٍ ، كَانَ كَقِيَامِ لَيْلَةٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص عشاء کی نماز جماعت کے ساتھ پڑھ لے تو یہ ایسے ہے جیسے نصف رات قیام کرنا اور جو شخص فجر کی نماز بھی جماعت کے ساتھ پڑھ لے تو یہ ساری رات قیام کرنے کی طرح ہے ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 491
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 656
حدیث نمبر: 492
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ نُبَيْهِ بْنِ وَهْبٍ ، قَالَ : أَرَادَ ابْنُ مَعْمَرٍ أَنْ يُنْكِحَ ابْنَهُ ابْنَةَ شَيْبَةَ بْنِ جُبَيْرٍ ، فَبَعَثَنِي إِلَى أَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ وَهُوَ أَمِيرُ الْمَوْسِمِ ، فَأَتَيْتُهُ ، فَقُلْتُ لَهُ : إِنَّ أَخَاكَ أَرَادَ أَنْ يُنْكِحَ ابْنَهُ ، فَأَرَادَ أَنْ يُشْهِدَكَ ذَاكَ ، فَقَالَ : أَلَا أُرَاهُ عِرَاقِيًّا جَافِيًا ، " إِنَّ الْمُحْرِمَ لَا يَنْكِحُ وَلَا يُنْكِحُ " ، ثُمَّ حَدَّثَ عَنْ عُثْمَانَ بِمِثْلِهِ يَرْفَعُهُ .
مولانا ظفر اقبال
نبیہ بن وہب کہتے ہیں کہ ابن معمر نے شیبہ بن جبیر کی بیٹی سے اپنے بیٹے کے نکاح کا دوران حج پروگرام بنایا اور مجھے ابان بن عثمان رحمہ اللہ کے پاس جو کہ امیر حج تھے بھیجا ، میں نے ان کے پاس جا کر کہا کہ آپ کے بھائی اپنے بیٹے کا نکاح کرنا چاہتے ہیں اور ان کی خواہش ہے کہ آپ بھی اس میں شرکت کریں ، انہوں نے کہا کہ میں تو اسے عراقی دیہاتی نہیں سمجھتا تھا ، یاد رکھو ! محرم نکاح کر سکتا ہے اور نہ کسی کا نکاح کرا سکتا ہے، پھر انہوں نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے حوالے سے اس مضمون کی حدیث سنائی ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 492
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1409
حدیث نمبر: 493
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ حُمْرَانَ مَوْلَى عُثْمَانَ : أَنَّ عُثْمَانَ تَوَضَّأَ بِالْمَقَاعِدِ ، فَغَسَلَ ثَلَاثًا ثَلَاثًا ، وَقَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " مَنْ تَوَضَّأَ وُضُوئِي هَذَا ، ثُمَّ قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ ، سَقَطَتْ خَطَايَاهُ " يَعْنِي مِنْ وَجْهِهِ وَيَدَيْهِ ، وَرِجْلَيْهِ ، وَرَأْسِهِ .
مولانا ظفر اقبال
حمران کہتے ہیں کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے بنچ پر بیٹھ کر وضو کرتے ہوئے اعضاء وضو کو تین تین مرتبہ دھویا اور فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے : ”جو شخص میری طرح ایسا وضو کرے ، پھر نماز پڑھے تو اس کے گناہ اس کے چہرے ، ہاتھوں ، پاؤں اور سر سے جھڑ جاتے ہیں ۔ “
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 493
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 160، م: 227
حدیث نمبر: 494
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى ، عَنْ نُبَيْهِ بْنِ وَهْبٍ ، قَالَ : اشْتَكَى عُمَرُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْمَرٍ عَيْنَيْهِ ، فَأَرْسَلَ إِلَى أَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ ، قَالَ سُفْيَانُ : وَهُوَ أَمِيرٌ ، مَا يَصْنَعُ بِهِمَا ؟ قَالَ : قَالَ : ضَمَّدَهُمَا بِالصَّبِرِ ، فَإِنِّي سَمِعْتُ عُثْمَانَ يُحَدِّثُ ذَلِكَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
مولانا ظفر اقبال
نبیہ بن وہب کہتے ہیں کہ عمر بن عبیداللہ کی آنکھیں دکھنے لگیں تو ابان بن عثمان سے یہ مسئلہ دریافت کروایا کہ وہ کیا کریں ؟ انہوں نے جواب میں کہلا بھیجا کہ صبر کا سرمہ لگا سکتا ہے (صبر کرے جب تک احرام نہ کھل جائے ، سرمہ نہ لگائے ) کیونکہ میں نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے ایسی حدیث بیان کرتے ہوئے سنا ہے ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 494
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1204
حدیث نمبر: 495
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنِي الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى أَبُو صَالِحٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَسْلَمَةَ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عِمْرَانَ بْنِ مَنَّاحٍ ، عَنْ أَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ : " أَنَّهُ رَأَى جَنَازَةً مُقْبِلَةً ، فَلَمَّا رَآهَا ، قَامَ ، وَقَالَ : رَأَيْتُ عُثْمَانَ يَفْعَلُ ذَلِكَ ، وَأَخْبَرَنِي أَنَّهُ رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُهُ " .
مولانا ظفر اقبال
ابان بن عثمان رحمہ اللہ نے ایک جنازے کو دیکھا تو کھڑے ہو گئے اور فرمایا کہ ایک مرتبہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی نظر ایک جنازے پر پڑی تو وہ بھی کھڑے ہو گئے تھے اور انہوں نے فرمایا کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی جنازے کو دیکھا تو کھڑے ہو گئے تھے ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 495
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف سعيد بن مسلمة
حدیث نمبر: 496
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى ، عَنْ نُبَيْهِ بْنِ وَهْبٍ ، عَنْ أَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ ، عَنْ عُثْمَانَ : يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا يَنْكِحُ الْمُحْرِمُ وَلَا يَخْطُبُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”محرم نہ خود نکاح کرے اور نہ کسی سے پیغام نکاح بھیجے ۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 496
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1409
حدیث نمبر: 497
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى بْنِ عَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ نُبَيْهِ بْنِ وَهْبٍ رَجُلٍ مِنَ الْحَجَبَةِ ، عَنْ أَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ ، أَنَّهُ حَدَّثَ عَنْ عُثْمَانَ : " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَخَّصَ ، أَوْ قَالَ فِي الْمُحْرِمِ إِذَا اشْتَكَى عَيْنَهُ : أَنْ يُضَمِّدَهَا بِالصَّبِرِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے محرم کے متعلق فرمایا ہے کہ اگر اس کی آنکھیں دکھنے لگیں تو صبر کا سرمہ لگا لے ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 497
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1204
حدیث نمبر: 498
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عَنِ الْوَلِيدِ أَبِي بِشْرٍ ، عَنْ حُمْرَانَ ، عَنْ عُثْمَانَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ مَاتَ وَهُوَ يَعْلَمُ أَنَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، دَخَلَ الْجَنَّةَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”جو شخص اس حال میں مرا کہ اسے اس بات کا یقین تھا کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں، وہ جنت میں داخل ہو گا ۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 498
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م 26
حدیث نمبر: 499
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا عَوْفُ بْنُ أَبِي جَمِيلَةَ ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ الْفَارِسِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قُلْتُ لِعُثْمَانَ : مَا حَمَلَكُمْ عَلَى أَنْ عَمَدْتُمْ إِلَى سُورَةِ الْأَنْفَالِ وَهِيَ مِنَ الْمَثَانِي ، وَإِلَى سُورَةِ بَرَاءَةٌ وَهِيَ مِنَ الْمِئِينَ ، فَقَرَنْتُمْ بَيْنَهُمَا ، وَلَمْ تَكْتُبُوا بَيْنَهُمَا سَطْرَ : بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ ، فَوَضَعْتُمُوهَا فِي السَّبْعِ الطِّوَالِ ، فَمَا حَمَلَكُمْ عَلَى ذَلِكَ ؟ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِمَّا يَأْتِي عَلَيْهِ الزَّمَانُ وَهُوَ يُنْزَلُ عَلَيْهِ مِنَ السُّوَرِ ذَوَاتِ الْعَدَدِ ، فَكَانَ إِذَا أُنْزِلَ عَلَيْهِ الشَّيْءُ دَعَا بَعْضَ مَنْ يَكْتُبُ لَهُ ، فَيَقُولُ : " ضَعُوا هَذِهِ فِي السُّورَةِ الَّتِي يُذْكَرُ فِيهَا كَذَا وَكَذَا " ، وَإِذَا أُنْزِلَتْ عَلَيْهِ الْآيَاتُ ، قَالَ : " ضَعُوا هَذِهِ الْآيَاتِ فِي السُّورَةِ الَّتِي يُذْكَرُ فِيهَا كَذَا وَكَذَا " ، وَإِذَا أُنْزِلَتْ عَلَيْهِ الْآيَةُ ، قَالَ : " ضَعُوا هَذِهِ الْآيَةَ فِي السُّورَةِ الَّتِي يُذْكَرُ فِيهَا كَذَا وَكَذَا " ، قَالَ : وَكَانَتْ سُورَةُ الْأَنْفَالِ مِنْ أَوَائِلِ مَا نَزَلَ بِالْمَدِينَةِ ، وَكَانَتْ سُورَةُ بَرَاءَةٌ مِنْ أَوَاخِرِ مَا أُنْزِلَ مِنَ الْقُرْآنِ ، قَالَ : فَكَانَتْ قِصَّتُهَا شَبِيهًا بِقِصَّتِهَا ، فَظَنَنَّا أَنَّهَا مِنْهَا ، وَقُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يُبَيِّنْ لَنَا أَنَّهَا مِنْهَا ، فَمِنْ أَجْلِ ذَلِكَ قَرَنْتُ بَيْنَهُمَا ، وَلَمْ أَكْتُبْ بَيْنَهُمَا سَطْرَ : بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ ، وَوَضَعْتُهَا فِي السَّبْعِ الطِّوَالِ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے عرض کیا کہ آپ لوگوں نے سورت انفال کو ”جو مثانی میں سے ہے“ سورت براۃ کے ساتھ ”جو کہ مئین میں سے ہے“ ملانے پر کس چیز کی وجہ سے اپنے آپ کو مجبور پایا، اور آپ نے ان کے درمیان ایک سطر کی «بسم الله» تک نہیں لکھی اور ان دونوں کو ”سبع طوال“ میں شمار کر لیا، آپ نے ایسا کیوں کیا ؟ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر جب وحی کا نزول ہو رہا تھا تو بعض اوقات کئی کئی سورتیں اکٹھی نازل ہو جاتی تھیں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت مبارک تھی کہ جب کوئی وحی نازل ہوتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے کسی کاتب وحی کو بلا کر اسے لکھواتے اور فرماتے کہ اسے فلاں سورت میں فلاں جگہ رکھو ، بعض اوقات کئی آیتیں نازل ہوتیں، اس موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم بتا دیتے کہ ان آیات کو فلاں سورت میں رکھو اور بعض اوقات ایک ہی آیت نازل ہوتی لیکن اس کی جگہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم بتا دیا کرتے تھے ۔ سورت انفال مدینہ منورہ کے ابتدائی دور میں نازل ہوئی تھی ، جبکہ سورت براۃ نزول کے اعتبار سے قرآن کریم کا آخری حصہ ہے اور دونوں کے واقعات و احکام ایک دوسرے سے حد درجہ مشابہت رکھتے تھے ، ادھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم دنیا سے رخصت ہو گئے اور ہم پر یہ واضح نہ فرما سکے کہ یہ اس کا حصہ ہے یا نہیں ؟ میرا گمان یہ ہوا کہ سورت براۃ ، سورت انفال ہی کا جزو ہے اس لئے میں نے ان دونوں کو ملا دیا، اور ان دونوں کے درمیان ، «بسم الله» ، والی سطر بھی نہیں لکھی اور اسے ”سبع طوال“ میں شمار کر لیا ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 499
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، ومتنه منكر
حدیث نمبر: 500
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ سُفْيَانَ ، وَشُعْبَةَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عُثْمَانَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ سُفْيَانُ : " أَفْضَلُكُمْ " ، وَقَالَ شُعْبَةُ : " خَيْرُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”تم میں سب سے افضل اور بہتر وہ ہے جو قرآن سیکھے اور سکھائے ۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 500
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5028
حدیث نمبر: 501
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ ، قَالَ : قَالَ قَيْسٌ : فَحَدَّثَنِي أَبُو سَهْلَةَ ، أَنَّ عُثْمَانَ قَالَ يَوْمَ الدَّارِ حِينَ حُصِرَ : " إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَهِدَ إِلَيَّ عَهْدًا ، فَأَنَا صَابِرٌ عَلَيْهِ " . قَالَ قَيْسٌ : فَكَانُوا يَرَوْنَهُ ذَلِكَ الْيَوْمَ .
مولانا ظفر اقبال
ابوسہلہ کہتے ہیں کہ جس دن سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا محاصرہ ہوا اور وہ ”یوم الدار“ کے نام سے مشہور ہوا ، انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے ایک عہد لیا تھا ، میں اس پر ثابت قدم اور قائم ہوں ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 501
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 502
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَنْبَأَنَا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي رَبَاحٌ ، قَالَ : زَوَّجَنِي مَوْلَايَ جَارِيَةً رُومِيَّةً ، فَوَقَعْتُ عَلَيْهَا ، فَوَلَدَتْ لِي غُلَامًا أَسْوَدَ مِثْلِي ، فَسَمَّيْتُهُ : عَبْدَ اللَّهِ ، ثُمَّ وَقَعْتُ عَلَيْهَا ، فَوَلَدَتْ لِي غُلَامًا أَسْوَدَ مِثْلِي ، فَسَمَّيْتُهُ : عُبَيْدَ اللَّهِ ، ثُمَّ طَبِنَ لِي غُلَامٌ رُومِيٌّ ، قَالَ : حَسِبْتُهُ قَالَ : لِأَهْلِي رُومِيٌّ ، يُقَالُ لَهُ : يُوحَنَّسُ ، فَرَاطَنَهَا بِلِسَانِهِ يَعْنِي بِالرُّومِيَّةِ ، فَوَقَعَ عَلَيْهَا فَوَلَدَتْ لَهُ غُلَامًا أَحْمَرَ ، كَأَنَّهُ وَزَغَةٌ مِنَ الْوَزَغَاتِ ، فَقُلْتُ لَهَا : مَا هَذَا ؟ فَقَالَتْ : هَذَا مِنْ يُوحَنَّسَ ، قَالَ : فَارْتَفَعْنَا إِلَى عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ ، وَأَقَرَّا جَمِيعًا ، فَقَالَ عُثْمَانُ : إِنْ شِئْتُمْ قَضَيْتُ بَيْنَكُمْ بِقَضِيَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى " أَنَّ الْوَلَدَ لِلْفِرَاشِ " ، قَالَ : حَسِبْتُهُ قَالَ : وَجَلَدَهُمَا .
مولانا ظفر اقبال
رباح کہتے ہیں کہ میرے آقا نے اپنی ایک رومی باندی سے میری شادی کر دی ، میں اس کے پاس گیا تو اس سے مجھ جیسا ہی ایک کالا کلوٹا لڑکا پیدا ہوگیا، میں نے اس کا نام عبداللہ رکھ دیا ، دوبارہ ایسا موقع آیا تو پھر ایک کالا کلوٹا لڑکا پیدا ہو گیا ، میں نے اس کا نام عبیداللہ رکھ دیا ۔ اتفاق کی بات ہے کہ میری بیوی پر میرے آقا کا ایک رومی غلام عاشق ہو گیا جس کا نام یوحنس تھا ، اس نے اسے اپنی زبان میں رام کر لیا ، چنانچہ اس مرتبہ جو بچہ پیدا ہوا وہ رومیوں کے رنگ کے مشابہ تھا، میں نے اپنی بیوی سے پوچھا کہ یہ کیا ہے ؟ اس نے کہا کہ یہ یوحنس کا بچہ ہے ، ہم نے یہ معاملہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی خدمت میں پیش کیا ، انہوں نے فرمایا کہ کیا تم اس بات پر راضی ہو کہ تمہارے درمیان وہی فیصلہ کروں جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فیصلہ یہ ہے کہ بچہ بستر والے کا ہو گا اور غالباً انہوں نے ان دونوں کو کوڑے بھی مارے ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 502
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لجهالة رباح، وللمرفوع شاهد من حديث أبى هريرة متفق عليه
حدیث نمبر: 503
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ جَامِعِ بْنِ شَدَّادٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ حُمْرَانَ بْنَ أَبَانَ يُحَدِّثُ أَبَا بُرْدَةَ فِي الْمَسْجِدِ ، أَنَّهُ سَمِعَ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ يُحَدِّثُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " مَنْ أَتَمَّ الْوُضُوءَ كَمَا أَمَرَهُ اللَّهُ ، فَالصَّلَوَاتُ الْمَكْتُوبَاتُ كَفَّارَاتٌ لِمَا بَيْنَهُنَّ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”جو شخص حکم الٰہی کے مطابق اچھی طرح مکمل وضو کرے تو فرض نمازیں درمیانی اوقات کے گناہوں کا کفارہ بن جائیں گی ۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 503
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 231
حدیث نمبر: 504
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبَّادَ بْنَ زَاهِرٍ أَبَا رُوَاعٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ عُثْمَانَ يَخْطُبُ ، فَقَالَ : " إِنَّا وَاللَّهِ قَدْ صَحِبْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي السَّفَرِ وَالْحَضَرِ ، وَكَانَ يَعُودُ مَرْضَانَا ، وَيَتْبَعُ جَنَائِزَنَا ، وَيَغْزُو مَعَنَا ، وَيُوَاسِينَا بِالْقَلِيلِ وَالْكَثِيرِ ، وَإِنَّ نَاسًا يُعْلِمُونِي بِهِ ، عَسَى أَنْ لَا يَكُونَ أَحَدُهُمْ رَآهُ قَطُّ " .
مولانا ظفر اقبال
عباد بن زاہر کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو ایک مرتبہ دوران خطبہ یہ کہتے ہوئے سنا، بخدا ! ہم لوگ سفر اور حضر میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ہم نشینی کا لطف اٹھاتے رہے ہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے بیماروں کی عیادت کرتے ، ہمارے جنازہ میں شرکت کرتے، ہمارے ساتھ جہاد میں شریک ہوتے ، تھوڑے اور زیادہ کے ساتھ ہماری غم خواری فرماتے اور اب بعض ایسے لوگ مجھے سکھانے کے لئے آتے ہیں جنہوں نے شاید نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی دیکھا بھی نہ ہو گا ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 504
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 505
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنِي شُعَيْبٌ أَبُو شَيْبَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَطَاءً الْخُرَاسَانِيَّ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ ، يَقُولُ : رَأَيْتُ عُثْمَانَ قَاعِدًا فِي الْمَقَاعِدِ ، فَدَعَا بِطَعَامٍ مِمَّا مَسَّتْهُ النَّارُ فَأَكَلَهُ ، ثُمَّ قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ فَصَلَّى ، ثُمَّ قَالَ عُثْمَانُ : " قَعَدْتُ مَقْعَدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَكَلْتُ طَعَامَ رَسُولِ اللَّهِ ، وَصَلَّيْتُ صَلَاةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیعد بن مسیب رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو بنچوں پر بیٹھا ہوا دیکھا ، انہوں نے آگ پر پکا ہوا کھانا منگوایا اور کھانے لگے ، پھر یوں ہی کھڑے ہو کر تازہ وضو کئے بغیر نماز پڑھ لی اور فرمایا : میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرح بیٹھا ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جو کھایا ، وہی کھایا اور جس طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی ، میں نے بھی اسی طرح نماز پڑھی ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 505
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 506
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ : أَنَّ عُثْمَانَ أَرَادَ أَنْ يَبْنِيَ مَسْجِدَ الْمَدِينَةِ ، فَكَرِهَ النَّاسُ ذَاكَ ، وَأَحَبُّوا أَنْ يَدَعُوهُ عَلَى هَيْئَتِهِ ، فَقَالَ عُثْمَانُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " مَنْ بَنَى مَسْجِدًا لِلَّهِ ، بَنَى اللَّهُ لَهُ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ مِثْلَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
محمود بن لبید کہتے ہیں کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے جب مسجد نبوی کی توسیع کا ارادہ کیا تو لوگوں نے اس پر خوشی کا اظہار کرنے کی بجائے اسے پرانی ہیئت پر برقرار رکھنے کو زیادہ پسند کیا ، لیکن سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص اللہ کی رضا کے لئے مسجد کی تعمیر میں حصہ لیتا ہے، اللہ اسی طرح کا ایک گھر اس کے لئے جنت میں تعمیر کر دیتا ہے ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 506
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 450، م: 533
حدیث نمبر: 507
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْكَبِيرِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ تَعَمَّدَ عَلَيَّ كَذِبًا ، فَلْيَتَبَوَّأْ بَيْتًا فِي النَّارِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے مری ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”جو شخص جان بوجھ کر کسی جھوٹی بات کی نسبت میری طرف کرتا ہے ، وہ جہنم میں اپنا گھر تیار کر لے ۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 507
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 508
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا عَطَاءُ بْنُ فَرُّوخَ مَوْلَى الْقُرَشِيِّينَ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَدْخَلَ اللَّهُ رَجُلًا الْجَنَّةَ كَانَ سَهْلًا مُشْتَرِيًا ، وَبَائِعًا ، وَقَاضِيًا ، وَمُقْتَضِيًا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”اللہ تعالیٰ اس شخص کو جنت میں ضرور داخل کرے گا ، جو نرم خو ہو خواہ خریدار ہو یا دکاندار ، ادا کرنے والا ہو یا تقاضا کرنے والا ۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 508
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن لغيره، وله شاهد من حديث جابر فى الصحيح البخاري : 2076 وغيره، عطاء بن فروخ لم يلق عثمان، وانظر: 410
حدیث نمبر: 509
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ ، قَالَ : كُنَّا مَعَ عُثْمَانَ وَهُوَ مَحْصُورٌ فِي الدَّارِ ، قَالَ : وَلِمَ تَقْتُلُونَنِي ؟ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " لَا يَحِلُّ دَمُ امْرِئٍ مُسْلِمٍ إِلَّا بِإِحْدَى ثَلَاثٍ : رَجُلٌ كَفَرَ بَعْدَ إِسْلَامِهِ ، أَوْ زَنَى بَعْدَ إِحْصَانِهِ ، أَوْ قَتَلَ نَفْسًا فَيُقْتَلُ بِهَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابوامامہ بن سہل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جن دنوں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ اپنے گھر میں محصور تھے ، ہم ان کے ساتھ ہی تھے فرمانے لگے کہ بھلا کس جرم میں یہ لوگ مجھے قتل کریں گے ؟ جب کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ تین میں سے کسی ایک صورت کے علاوہ کسی مسلمان کا خون بہانا حلال نہیں ہے، یا تو وہ آدمی جو اسلام قبول کرنے کے بعد مرتد ہو جائے، یا شادی شدہ ہونے کے باوجود بدکاری کرے، یا قاتل ہو اور مقتول کے عوض اسے قتل کر دیا جائے ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 509
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 510
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ خَالِدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَارِظٍ ، عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ مَوْلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَزْهَرَ ، قَالَ : رَأَيْتُ عَلِيًّا ، وَعُثْمَانَ يصليان يوم الفطر والأضحى ، ثم ينصرفان يذكران الناس ، قَالَ : وَسَمِعْتُهُمَا يَقُولَانِ : " إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ صِيَامِ هَذَيْنِ الْيَوْمَيْنِ " . قَالَ : قَالَ : وَسَمِعْتُ عَلِيًّا ، يَقُولُ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَبْقَى مِنْ نُسُكِكُمْ عِنْدَكُمْ شَيْءٌ بَعْدَ ثَلَاثٍ " .
مولانا ظفر اقبال
ابوعبید رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ عیدالفطر اور عیدالاضحی دونوں موقعوں پر مجھے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ شریک ہونے کا موقع ملا ہے ، یہ دونوں حضرات پہلے نماز پڑھاتے تھے ، پھر نماز سے فارغ ہو کر لوگوں کو نصیحت کرتے تھے ، میں نے ان دونوں حضرات کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں دنوں کے روزے رکھنے سے منع فرمایا ہے ۔ اور میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو یہ بھی فرماتے ہوئے سنا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کا گوشت تین دن کے بعد کھانے سے منع فرمایا ہے ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 510
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 511
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، حَدَّثَنَا حُصَيْنٌ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ جَاوَانَ ، قَالَ : قَالَ الْأَحْنَفُ : انْطَلَقْنَا حُجَّاجًا ، فَمَرَرْنَا بِالْمَدِينَةِ ، فَبَيْنَمَا نَحْنُ فِي مَنْزِلِنَا ، إِذْ جَاءَنَا آتٍ ، فَقَالَ : النَّاسُ مِنْ فَزَعٍ فِي الْمَسْجِدِ ، فَانْطَلَقْتُ أَنَا وَصَاحِبِي ، فَإِذَا النَّاسُ مُجْتَمِعُونَ عَلَى نَفَرٍ فِي الْمَسْجِدِ ، قَالَ : فَتَخَلَّلْتُهُمْ حَتَّى قُمْتُ عَلَيْهِمْ ، فَإِذَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ ، وَالزُّبَيْرُ ، وَطَلْحَةُ ، وَسَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ ، قَالَ : فَلَمْ يَكُنْ ذَلِكَ بِأَسْرَعَ مِنْ أَنْ جَاءَ عُثْمَانُ يَمْشِي ، فَقَالَ : أَهَهُنَا عَلِيٌّ ؟ قَالُوا : نَعَمْ ، قَالَ : أَهَهُنَا الزُّبَيْرُ ؟ قَالُوا : نَعَمْ ، قَالَ : أَهَهُنَا طَلْحَةُ ؟ قَالُوا : نَعَمْ ، قَالَ : أَهَهُنَا سَعْدٌ ؟ قَالُوا : نَعَمْ ، قَالَ : أَنْشُدُكُمْ بِاللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ ، أَتَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ يَبْتَاعُ مِرْبَدَ بَنِي فُلَانٍ غَفَرَ اللَّهُ لَهُ " ، فَابْتَعْتُهُ ، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقُلْتُ : إِنِّي قَدْ ابْتَعْتُهُ ، فَقَالَ : " اجْعَلْهُ فِي مَسْجِدِنَا وَأَجْرُهُ لَكَ " ؟ قَالُوا : نَعَمْ . قَالَ : أَنْشُدُكُمْ بِاللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ ، أَتَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ يَبْتَاعُ بِئْرَ رُومَةَ ؟ " فَابْتَعْتُهَا بِكَذَا وَكَذَا ، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقُلْتُ إِنِّي قَدْ ابْتَعْتُهَا ، يَعْنِي بِئْرَ رُومَةَ ، فَقَالَ : " اجْعَلْهَا سِقَايَةً لِلْمُسْلِمِينَ ، وَأَجْرُهَا لَكَ " ؟ قَالُوا : " نَعَمْ . قَالَ : أَنْشُدُكُمْ بِاللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ ، أَتَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَظَرَ فِي وُجُوهِ الْقَوْمِ يَوْمَ جَيْشِ الْعُسْرَةِ ، فَقَالَ : " مَنْ يُجَهِّزُ هَؤُلَاءِ غَفَرَ اللَّهُ لَهُ " ، فَجَهَّزْتُهُمْ ، حَتَّى مَا يَفْقِدُونَ خِطَامًا وَلَا عِقَالًا ؟ قَالُوا : اللَّهُمَّ نَعَمْ ، قَالَ : اللَّهُمَّ اشْهَدْ ، اللَّهُمَّ اشْهَدْ ، اللَّهُمَّ اشْهَدْ ، ثُمَّ انْصَرَفَ .
مولانا ظفر اقبال
احنف بن قیس کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم حج کے ارادے سے روانہ ہوئے ، مدینہ منورہ سے گزر ہوا ، ابھی ہم اپنے پڑاؤ ہی میں تھے کہ ایک شخص آیا اور کہنے لگا کہ مسجد نبوی میں لوگ بڑے گھبرائے ہوئے نظر آ رہے ہیں ، میں اپنے ساتھی کے ساتھ وہاں پہنچا تو دیکھا کہ لوگوں نے مل کر مسجد میں موجود چند لوگوں پر ہجوم کیا ہوا ہے ، میں ان کے درمیان سے گزرتا ہوا وہاں جا کر کھڑا ہوا تو دیکھا کہ وہاں سیدنا علی ، سیدنا زبیر ، سیدنا طلحہ اور سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہم کھڑے ہیں، زیادہ دیر نہ گزری تھی کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ بھی دھیرے دھیرے چلتے ہوئے آ گئے ۔ انہوں نے آ کر پوچھا کہ یہاں علی رضی اللہ عنہ ہیں ؟ لوگوں نے کہا : جی ہاں ! پھر باری باری مذکورہ حضرات صحابہ رضی اللہ عنہ کا نام لے کر ان کی موجودگی کے بارے میں پوچھا اور لوگوں نے اثبات میں جواب دیا ، اس کے بعد انہوں نے فرمایا : میں تمہیں اس اللہ کا واسطہ دے کر کہتا ہوں جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں ، کیا تم جانتے ہو کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ فرمایا تھا جو شخص فلاں قبیلے کے اونٹوں کا باڑہ خرید کر دے گا ، اللہ اس کے گناہوں کو معاف فرما دے گا ، میں نے اسے خرید لیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر وہ خرید لینے کے بارے بتایا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے ہماری مسجد میں شامل کر دو ، تمہیں اس کا اجر ملے گا ۔ لوگوں نے ان کی تصدیق کی ۔ پھر انہوں نے فرمایا کہ تمہیں اس اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں ، کیا تم جانتے ہو کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا، بیر رومہ کون خریدے گا ، میں نے اسے اچھی خاصی رقم میں خریدا ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آ کر بتایا کہ میں نے اسے خرید لیا ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے مسلمانوں کے پینے کے لئے وقف کر دو ، تمہیں اس کا اجر ملے گا ؟ لوگوں نے اس پر بھی ان کی تصدیق کی ۔ پھر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں تمہیں اس اللہ کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں کیا تم جانتے ہو کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جیش العسرۃ (غزوہ تبوک) کے موقع پر لوگوں کے چہرے دیکھتے ہوئے فرمایا تھا کہ جو شخص ان کے لئے سامان جہاد کا انتظام کرے گا ، اللہ اسے بخش دے گا ، میں نے ان کے لئے اتنا سامان مہیا کیا کہ ایک لگام اور ایک رسی بھی کم نہ ہوئی ؟ لوگوں نے اس پر بھی ان کی تصدیق کی اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے تین مرتبہ فرمایا : اے اللہ تو گواہ رہ ، یہ کہہ کر وہ واپس چلے گئے ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 511
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح ، عمرو بن جاوان لم يرو عنه غير حصين، ولم يذكره أحد في الثقات غير ابن حبان
حدیث نمبر: 512
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ عَتِيقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَابَيْهِ ، عَنْ بَعْضِ بَنِي يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ ، قَالَ : قَالَ يَعْلَى : طُفْتُ مَعَ عُثْمَانَ ، فَاسْتَلَمْنَا الرُّكْنَ ، قَالَ يَعْلَى : فَكُنْتُ مِمَّا يَلِي الْبَيْتَ ، فَلَمَّا بَلَغْنَا الرُّكْنَ الْغَرْبِيَّ الَّذِي يَلِي الْأَسْوَدَ ، جَرَرْتُ بِيَدِهِ لِيَسْتَلِمَ ، فَقَالَ : مَا شَأْنُكَ ؟ فَقُلْتُ : أَلَا تَسْتَلِمُ ؟ قَالَ : فَقَالَ : " أَلَمْ تَطُفْ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ فَقُلْتُ : بَلَى ، قَالَ أَرَأَيْتَهُ يَسْتَلِمُ هَذَيْنِ الرُّكْنَيْنِ الْغَرْبِيَّيْنِ ؟ قُلْتُ : لَا ، قَالَ أَفَلَيْسَ لَكَ فِيهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ ؟ قُلْتُ : بَلَى ، قَالَ : فَانْفُذْ عَنْكَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا یعلی بن امیہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے ساتھ طواف کیا ، انہوں نے حجر اسود کا استلام کیا ، جب میں رکن یمانی پر پہنچا تو میں نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑ لیا تاکہ وہ استلام کر لیں ، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تمہیں کیا ہوا ؟ میں نے کہا : کیا آپ استلام نہیں کریں گے ؟ انہوں نے فرمایا : کیا آپ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کبھی طواف نہیں کیا ؟ میں نے عرض کیا : کیوں نہیں ! فرمایا : تو کیا آپ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کا استلام کرتے ہوئے دیکھا ہے ؟ میں نے کہا : نہیں ! انہوں نے فرمایا : کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات میں تمہارے لئے اسوہ حسنہ موجود نہیں ہے ؟ میں نے عرض کیا : کیوں نہیں ؟ فرمایا : پھر اسے چھوڑ دو ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 512
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، فإن بعض بني يعلى بن أمية مجهول لا يعرف
حدیث نمبر: 513
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِئُ ، حَدَّثَنَا حَيْوَةُ ، أَنْبَأَنَا أَبُو عَقِيلٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ الْحَارِثَ مَوْلَى عُثْمَانَ ، يَقُولُ : جَلَسَ عُثْمَانُ يَوْمًا وَجَلَسْنَا مَعَهُ ، فَجَاءَهُ الْمُؤَذِّنُ ، فَدَعَا بِمَاءٍ فِي إِنَاءٍ ، أَظُنُّهُ سَيَكُونُ فِيهِ مُدٌّ ، فَتَوَضَّأَ ، ثُمَّ قَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ وُضُوئِي هَذَا ، ثُمَّ قَالَ : " وَمَنْ تَوَضَّأَ وُضُوئِي ، ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى صَلَاةَ الظُّهْرِ ، غُفِرَ لَهُ مَا كَانَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ الصُّبْحِ ، ثُمَّ صَلَّى الْعَصْرَ ، غُفِرَ لَهُ مَا بَيْنَهَا وَبَيْنَ صَلَاةِ الظُّهْرِ ، ثُمَّ صَلَّى الْمَغْرِبَ ، غُفِرَ لَهُ مَا بَيْنَهَا وَبَيْنَ صَلَاةِ الْعَصْرِ ، ثُمَّ صَلَّى الْعِشَاءَ ، غُفِرَ لَهُ مَا بَيْنَهَا وَبَيْنَ صَلَاةِ الْمَغْرِبِ ، ثُمَّ لَعَلَّهُ أَنْ يَبِيتَ يَتَمَرَّغُ لَيْلَتَهُ ، ثُمَّ إِنْ قَامَ فَتَوَضَّأَ وَصَلَّى الصُّبْحَ ، غُفِرَ لَهُ مَا بَيْنَهَا وَبَيْنَ صَلَاةِ الْعِشَاءِ ، وَهُنَّ الْحَسَنَاتُ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ " ، قَالُوا : هَذِهِ الْحَسَنَاتُ ، فَمَا الْبَاقِيَاتُ يَا عُثْمَانُ ؟ قَالَ : هُنَّ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَسُبْحَانَ اللَّهِ ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ .
مولانا ظفر اقبال
حارث جو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام ہیں کہتے ہیں کہ ایک دن سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ تشریف فرما تھے ، ہم بھی بیٹھے ہوئے تھے ، اتنی دیر میں مؤذن آ گیا ، انہوں نے ایک برتن میں پانی منگوایا ، میرا خیال ہے کہ اس میں ایک مد کے برابر پانی ہو گا ، انہوں نے وضو کیا اور فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح وضو کرتے ہوئے دیکھا ہے، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا کہ جو شخص میری طرح ایسا ہی وضو کرے اور کھڑا ہو کر ظہر کی نماز پڑھے تو فجر اور ظہر کے درمیان کے گناہ معاف ہو جائیں گے ، پھر عصر کی نماز پڑھنے پر ظہر اور عصر کے درمیان کے گناہ معاف ہو جائیں گے ، پھر مغرب کی نماز پڑھنے پر عصر اور مغرب کے درمیان اور پھر عشاء کی نماز پڑھنے مغرب اور عشاء کے درمیان کے گناہ معاف ہو جائیں گے ۔ پھر ہو سکتا ہے کہ وہ ساری رات کروٹیں بدلتا رہے اور کھڑا ہو کر وضو کر کے فجر کی نماز پڑھ لے تو فجر اور عشاء کے درمیان کے گناہ معاف ہو جائیں گے اور یہ وہی نیکیاں ہیں جو گناہوں کو ختم کر دیتی ہیں ، لوگوں نے پوچھا کہ حضرت ! یہ تو حسنات ہیں باقیات (جن کا تذکرہ قرآن میں بھی آتا ہے وہ) کیا چیز ہیں ؟ فرمایا وہ یہ کلمات ہیں ۔ «لا اله الا الله و سبحان الله والحمدلله والله اكبر ولا حول ولا قوة الا بالله» ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 513
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 514
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ ، أَنَّ سَعِيدَ بْنَ الْعَاصِ أَخْبَرَهُ ، أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَعُثْمَانَ حَدَّثَاهُ : أَنَّ أَبَا بَكْرٍ اسْتَأْذَنَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَهُوَ مُضْطَجِعٌ عَلَى فِرَاشِهِ ، لَابِسٌ مِرْطَ عَائِشَةَ ، فَأَذِنَ لِأَبِي بَكْرٍ وَهُوَ كَذَلِكَ ، فَقَضَى إِلَيْهِ حَاجَتَهُ ، ثُمَّ انْصَرَفَ ، ثُمَّ اسْتَأْذَنَ عُمَرُ ، فَأَذِنَ لَهُ وَهُوَ عَلَى تِلْكَ الْحَالِ ، فَقَضَى إِلَيْهِ حَاجَتَهُ ، ثُمَّ انْصَرَفَ ، قَالَ عُثْمَانُ : ثُمَّ اسْتَأْذَنْتُ عَلَيْهِ ، فَجَلَسَ ، وَقَالَ لِعَائِشَةَ : " اجْمَعِي عَلَيْكِ ثِيَابَكِ " ، فَقَضَى إِلَيَّ حَاجَتِي ، ثُمَّ انْصَرَفْتُ ، قَالَتْ عَائِشَةُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا لِي لَمْ أَرَكَ فَزِعْتَ لِأَبِي بَكْرٍ ، وَعُمَرَ ، كَمَا فَزِعْتَ لِعُثْمَانَ ؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ عُثْمَانَ رَجُلٌ حَيِيٌّ ، وَإِنِّي خَشِيتُ إِنْ أَذِنْتُ لَهُ عَلَى تِلْكَ الْحَالِ ، أَنْ لَا يَبْلُغَ إِلَيَّ فِي حَاجَتِهِ " ، وقَالَ اللَّيْثُ : وَقَالَ جَمَاعَةُ النَّاسِ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ لِعَائِشَةَ : " أَلَا أَسْتَحْيِي مِمَّنْ يَسْتَحْيِي مِنْهُ الْمَلَائِكَةُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ دونوں سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہونے کے لئے اجازت چاہی ، اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم بستر پر لیٹے ہوئے تھے اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی چادر اوڑھ رکھی تھی ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اجازت دے دی اور خود اسی طرح لیٹے رہے ، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اپنا کام پورا کر کے چلے گئے ۔ تھوڑی دیر بعد سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے آ کر اجازت طلب کی ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بھی اجازت دے دی لیکن خود اسی کیفیت پر رہے ، وہ بھی اپنا کام پورا کر کے چلے گئے ، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ تھوڑی دیر بعد میں نے آ کر اجازت چاہی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھ کر بیٹھ گئے اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا کہ اپنے کپڑے سمیٹ لو ، تھوڑی دیر میں میں بھی اپنا کام کر کے چلا گیا ۔ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا : یا رسول اللہ ! عثمان رضی اللہ عنہ کے آنے پر آپ نے جو اہتمام کیا ، وہ ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما کے آنے پر نہیں کیا ، اس کی کیا وجہ ہے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عثمان میں شرم و حیاء کا مادہ بہت زیادہ ہے ، مجھے اندیشہ تھا کہ اگر میں نے انہیں اندر یوں ہی بلا لیا اور میں اپنی حالت پر ہی رہا تو وہ جس مقصد کے لئے آئے ہیں اسے پورا نہ کر سکیں گے اور بعض روایات کے مطابق یہ فرمایا کہ میں اس شخص سے حیاء کیوں نہ کروں جس سے فرشتے بھی حیاء کرتے ہیں ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 514
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2402
حدیث نمبر: 515
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ : أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ ، أَنَّ سَعِيدَ بْنَ الْعَاصِ أَخْبَرَهُ ، أَنَّ عُثْمَانَ ، وَعَائِشَةَ حَدَّثَاهُ ، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ اسْتَأْذَنَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَهُوَ مُضْطَجِعٌ عَلَى فِرَاشِهِ ، لَابِسٌ مِرْطَ عَائِشَةَ . . فَذَكَرَ مَعْنَى حَدِيثِ عُقَيْلٍ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث ایک دوسری سند سے بھی مروی ہے جو عبارت میں مذکور ہے ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 515
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، وانظر ما قبله
حدیث نمبر: 516
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ أَبِي سَلَمَةَ ، وَنَافِعِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ التَّيْمِيِّ ، عَنْ حُمْرَانَ مَوْلَى عُثْمَانَ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " مَنْ تَوَضَّأَ فَأَسْبَغَ الْوُضُوءَ ، ثُمَّ مَشَى إِلَى صَلَاةٍ مَكْتُوبَةٍ فَصَلَّاهَا ، غُفِرَ لَهُ ذَنْبُهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”جو شخص خوب اچھی طرح وضو کرے اور فرض نماز کے لئے روانہ ہو اور اسے ادا کرے تو اللہ تعالیٰ اس کے گزشتہ تمام گناہ معاف فرمادے گا ۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 516
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 160، م: 227
حدیث نمبر: 517
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَوْهَبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمِّي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنُ مَوْهَبٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : رَاحَ عُثْمَانُ إِلَى مَكَّةَ حَاجًّا ، وَدَخَلَتْ عَلَى مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ امْرَأَتُهُ ، فَبَاتَ مَعَهَا حَتَّى أَصْبَحَ ، ثُمَّ غَدَا عَلَيْهِ رَدْعُ الطِّيبِ ، وَمِلْحَفَةٌ مُعَصْفَرَةٌ مُفْدَمَةٌ ، فَأَدْرَكَ النَّاسَ بِمَلَلٍ قَبْلَ أَنْ يَرُوحُوا ، فَلَمَّا رَآهُ عُثْمَانُ انْتَهَرَ وَأَفَّفَ ، وَقَالَ : " أَتَلْبَسُ الْمُعَصْفَرَ ، وَقَدْ نَهَى عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ فَقَالَ لَهُ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَنْهَهُ وَلَا إِيَّاكَ ، إِنَّمَا نَهَانِي " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ حج کے لئے مکہ مکرمہ تشریف لے گئے ، ان کی زوجہ محترمہ اپنے قریبی رشتہ دار محمد بن جعفر کے پاس چلی گئیں ، محمد نے رات انہی کے ساتھ گزاری ، صبح ہوئی تو محمد کے جسم سے خوشبو کی مہک پھوٹ رہی تھی اور عصفر سے رنگا ہوا لحاف ان کے اوپر تھا ، کوچ کرنے سے پہلے ہی لوگوں کے ذہن میں طرح طرح کے خیالات پیدا ہونے لگے ، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے انہیں اس حال میں دیکھا تو انہیں ڈانٹا اور سخت سست کہا : اور فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے منع کرنے کے باوجود بھی تم نے عصفر سے رنگا ہوا کپڑا پہن رکھا ہے ؟ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے بھی سن لیا اور فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے منع کیا تھا اور نہ ہی آپ کو انہوں نے تو مجھے منع کیا تھا ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 517
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف عبيد الله بن عبدالرحمن وجهالة عبيدالله بن عبدالله
حدیث نمبر: 518
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، وَأَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَا : حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، قَالَ أَبِي فِي حَدِيثِهِ : قَالَ : أَخْبَرَنَا ابْنُ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ ، وَقَالَ أَبُو خَيْثَمَةَ : حَدَّثَنِي عَنْ عَمِّهِ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي صَالِحُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي فَرْوَةَ ، أَنَّ عَامِرَ بْنَ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ أَخْبَرَهُ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَانَ بْنَ عُثْمَانَ ، يَقُولُ : قَالَ عُثْمَانُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " أَرَأَيْتَ لَوْ كَانَ بِفِنَاءِ أَحَدِكُمْ نَهَرٌ يَجْرِي ، يَغْتَسِلُ مِنْهُ كُلَّ يَوْمٍ خَمْسَ مَرَّاتٍ ، مَا كَانَ يَبْقَى مِنْ دَرَنِهِ ؟ " قَالُوا : لَا شَيْءَ ، قَالَ : " إِنَّ الصَّلَوَاتِ تُذْهِبُ الذُّنُوبَ كَمَا يُذْهِبُ الْمَاءُ الدَّرَنَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ یہ بتاؤ ! اگر تمہارے گھر کے صحن میں ایک نہر بہہ رہی ہو اور تم روزانہ اس میں سے پانچ مرتبہ غسل کرتے ہو تو کیا تمہارے جسم پر کوئی میل کچیل باقی رہے گی ؟ لوگوں نے کہا : بالکل نہیں ! فرمایا : ”پانچوں نمازیں گناہوں کو اسی طرح ختم کر دیتی ہیں جیسے پانی میل کچیل کو ختم کر دیتا ہے ۔ “
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 518
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح