حدیث نمبر: 439
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ يَعْنِي ابْنَ الْفَضْلِ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، قَالَ : دَعَا عُثْمَانُ نَاسًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فِيهِمْ عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ ، فَقَالَ : إِنِّي سَائِلُكُمْ ، وَإِنِّي أُحِبُّ أَنْ تَصْدُقُونِي ، نَشَدْتُكُمْ اللَّهَ : أَتَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُؤْثِرُ قُرَيْشًا عَلَى سَائِرِ النَّاسِ ، وَيُؤْثِرُ بَنِي هَاشِمٍ عَلَى سَائِرِ قُرَيْشٍ ؟ فَسَكَتَ الْقَوْمُ ، فَقَالَ عُثْمَانُ : لَوْ أَنَّ بِيَدِي مَفَاتِيحَ الْجَنَّةِ لَأَعْطَيْتُهَا بَنِي أُمَيَّةَ حَتَّى يَدْخُلُوا مِنْ عِنْدِ آخِرِهِمْ ، فَبَعَثَ إِلَى طَلْحَةَ ، وَالزُّبَيْرِ ، فَقَالَ عُثْمَانُ : أَلَا أُحَدِّثُكُمَا عَنْهُ ، يَعْنِي عَمَّارًا ؟ أَقْبَلْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آخِذًا بِيَدِي نَتَمَشَّى فِي الْبَطْحَاءِ ، حَتَّى أَتَى عَلَى أَبِيهِ وَأُمِّهِ وَعَلَيْهِ يُعَذَّبُونَ ، فَقَالَ أَبُو عَمَّارٍ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، الدَّهْرَ هَكَذَا ؟ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اصْبِرْ " ، ثُمَّ قَالَ : " اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِآلِ يَاسِرٍ ، وَقَدْ فَعَلْتُ " .
مولانا ظفر اقبال
سالم بن ابی الجعد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے چند صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو بلایاجن میں سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ بھی تھے اور فرمایا کہ میں آپ لوگوں سے کچھ سوال کرنا چاہتا ہوں اور آپ سے چند باتوں کی تصدیق کروانا چاہتا ہوں ، میں آپ کو اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کیا آپ لوگ نہیں جانتے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم دوسرے لوگوں کی نسبت قریش کو ترجیح دیتے تھے اور بنو ہاشم کو تمام قریش پر ؟ لوگ خاموش رہے ۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اگر میرے ہاتھ میں جنت کی چابیاں ہوں تو میں وہ بنو امیہ کو دے دوں تاکہ وہ سب کے سب جنت میں داخل ہو جائیں (قرابت داروں سے تعلق ہونا ایک فطری چیز ہے ، یہ دراصل اس سوال کا جواب تھا جو لوگ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ پر اقرباء پروری کے سلسلے میں کرتے تھے) اس کے بعد انہوں نے سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کو مخاطب کر کے فرمایا کہ میں آپ کو ان کی یعنی سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کی کچھ باتیں بتاؤں ؟ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں پکڑے ہوئے چلتا چلتا وادی بطحاء میں پہنچا ، یہاں تک کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کے والدین کے پاس جا پہنچے ، وہاں انہیں مختلف سزائیں دی جا رہی تھیں ، عمار کے والد نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ کر عرض کیا : یا رسول اللہ ! کیا ہم ہمیشہ اسی طرح رہیں گے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا : صبر کرو ، پھر دعاء فرمائی اے اللہ ! آل یاسر کی مغفرت فرما ، میں بھی اب صبر کر رہا ہوں ۔
حدیث نمبر: 440
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا حُرَيْثُ بْنُ السَّائِبِ ، قَالَ : سَمِعْتُ الْحَسَنَ ، يَقُولُ : حَدَّثَنِي حُمْرَانُ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " كُلُّ شَيْءٍ سِوَى ظِلِّ بَيْتٍ ، وَجِلْفِ الْخُبْزِ ، وَثَوْبٍ يُوَارِي عَوْرَتَهُ ، وَالْمَاءِ ، فَمَا فَضَلَ عَنْ هَذَا فَلَيْسَ لِابْنِ آدَمَ فِيهِ حَقٌّ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”گھر کے سائے ، خشک روٹی کے ٹکڑے ، شرمگاہ کو چھپانے کی بقدر کپڑے اور پانی کے علاوہ جتنی بھی چیزیں ہیں ان میں سے کسی ایک میں بھی انسان کا استحقاق نہیں ہے ۔“
حدیث نمبر: 441
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ ، عَنْ شَيْخٍ مِنْ ثَقِيفٍ ذَكَرَهُ حُمَيْدٌ بِصَلَاحٍ ، ذَكَرَ أَنَّ عَمَّهُ أخْبَرَهُ : أَنَّهُ رَأَى عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ جَلَسَ عَلَى الْبَابِ الثَّانِي مِنْ مَسْجِدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَدَعَا بِكَتِفٍ فَتَعَرَّقَهَا ، ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى ، وَلَمْ يَتَوَضَّأْ ، ثُمَّ قَالَ : " جَلَسْتُ مَجْلِسَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَكَلْتُ مَا أَكَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَصَنَعْتُ مَا صَنَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
مولانا ظفر اقبال
ایک مرتبہ ایک شخص نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو مسجد کے باب ثانی کے پاس بیٹھا ہوا دیکھا ، انہوں نے شانے کا گوشت منگوایا اور اس کی ہڈی سے گوشت اتار کر کھانے لگے ، پھر یوں ہی کھڑے ہو کر تازہ وضو کئے بغیر نماز پڑھ لی اور فرمایا : میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرح بیٹھا ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جو کھایا ، وہی کھایا اور جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا ، وہی میں نے بھی کیا ۔
حدیث نمبر: 442
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا زُهْرَةُ بْنُ مَعْبَدٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ مَوْلَى عُثْمَانَ ، أَنَّهُ حَدَّثَهُ ، قَالَ : سَمِعْتُ عُثْمَانَ بِمِنًى ، يَقُولُ : يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، إِنِّي أُحَدِّثُكُمْ حَدِيثًا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " رِبَاطُ يَوْمٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، أَفْضَلُ مِنْ أَلْفِ يَوْمٍ فِيمَا سِوَاهُ ، فَلْيُرَابِطْ امْرُؤٌ كَيْفَ شَاءَ " ، هَلْ بَلَّغْتُ ؟ قَالُوا : نَعَمْ ، قَالَ : اللَّهُمَّ اشْهَدْ .
مولانا ظفر اقبال
ایک مرتبہ ایام حج میں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے منیٰ کے میدان میں فرمایا : لوگو ! میں تم سے ایک حدیث بیان کرتا ہوں جو میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے کہ اللہ کی راہ میں ایک دن کی چوکیداری عام حالات میں ایک ہزار دن سے افضل ہے ، اس لئے جو شخص جس طرح چاہے ، اس میں حصہ لے ، یہ کہہ کر آپ نے فرمایا: کیا میں نے پیغام پہنچا دیا ؟ لوگوں نے کہا: جی ہاں ! فرمایا: اے اللہ تو گواہ رہ ۔
حدیث نمبر: 443
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ يَعْنِي مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبَاهِلِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي ذُبَابٍ ، عَنْ أَبِيهِ : أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ صَلَّى بِمِنًى أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ ، فَأَنْكَرَهُ النَّاسُ عَلَيْهِ ، فَقَالَ : يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، إِنِّي تَأَهَّلْتُ بِمَكَّةَ مُنْذُ قَدِمْتُ ، وَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " مَنْ تَأَهَّلَ فِي بَلَدٍ ، فَلْيُصَلِّ صَلَاةَ الْمُقِيمِ " .
مولانا ظفر اقبال
ایک مرتبہ ایام حج میں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے منیٰ میں قصر کی بجائے پوری چار رکعتیں پڑھا دیں ، لوگوں کو اس پر تعجب ہوا ، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا : لوگو ! میں مکہ مکرمہ میں آ کر مقیم ہو گیا تھا اور میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص کسی شہر میں مقیم ہو جائے ، وہ مقیم والی نماز پڑھے گا ۔
حدیث نمبر: 444
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ وَرْدَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ عُثْمَانَ يَخْطُبُ عَلَى الْمِنْبَرِ ، وَهُوَ يَقُولُ : كُنْتُ أَبْتَاعُ التَّمْرَ مِنْ بَطْنٍ مِنَ الْيَهُودِ يُقَالُ لَهُمْ : بَنُو قَيْنُقَاعَ ، فَأَبِيعُهُ بِرِبْحٍ ، فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " يَا عُثْمَانُ ، إِذَا اشْتَرَيْتَ فَاكْتَلْ ، وَإِذَا بِعْتَ فَكِلْ " .
مولانا ظفر اقبال
سعید بن مسیب رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو منبر پر خطبہ دیتے ہوئے سنا کہ وہ کہہ رہے تھے میں یہودیوں کے ایک خاندان اور قبیلہ سے جنہیں بنو قینقاع کہا جاتا تھا ، کھجوریں خریدتا تھا اور اپنا منافع رکھ کر آگے بیچ دیتا تھا ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہوا تو فرمایا : عثمان ! جب خریدا کرو تو اسے تول لیا کرو اور جب بیچا کرو تو تول کر بیچا کرو ۔
حدیث نمبر: 445
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ وَرْدَانَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ ، فَذَكَرَ مِثْلَهُ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے ۔
حدیث نمبر: 446
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ أَبِي قُرَّةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ قَالَ : بِسْمِ اللَّهِ الَّذِي لَا يَضُرُّ مَعَ اسْمِهِ شَيْءٌ فِي الْأَرْضِ وَلَا فِي السَّمَاءِ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ ، لَمْ يَضُرَّهُ شَيْءٌ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص یہ دعا پڑھ لیا کرے اسے کوئی چیز نقصان نہ پہنچا سکے گی «بسم الله الذى لا يضر مع اسمه شيء فى الارض ولا فى السماء وهو السميع العليم» ۔
حدیث نمبر: 447
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الْخَفَّافُ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ حُمْرَانَ بْنِ أَبَانَ ، أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " إِنِّي لَأَعْلَمُ كَلِمَةً لَا يَقُولُهَا عَبْدٌ حَقًّا مِنْ قَلْبِهِ ، إِلَّا حُرِّمَ عَلَى النَّارِ " فَقَالَ لَهُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ : أَنَا أُحَدِّثُكَ مَا هِيَ ؟ هِيَ كَلِمَةُ الْإِخْلَاصِ الَّتِي أَعَزَّ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى بِهَا مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابَهُ ، وَهِيَ كَلِمَةُ التَّقْوَى الَّتِي أَلَاصَ عَلَيْهَا نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَمَّهُ أَبَا طَالِبٍ عِنْدَ الْمَوْتِ : شَهَادَةُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک مرتبہ فرماتے ہوئے سنا کہ میں ایک ایسا کلمہ جانتا ہوں کہ جو بندہ بھی اسے دل سے حق سمجھ کر کہے گا ، اس پر جہنم کی آگ حرام ہو جائے گی ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا کہ میں آپ کو بتاؤں ، وہ کلمہ کون سا ہے ؟ وہ کلمہ اخلاص ہے جو اللہ نے اپنے پیغمبر اور ان کے صحابہ رضی اللہ عنہم پر لازم کیا تھا ، یہ وہی کلمہ تقویٰ ہے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے چچا ابوطالب کے سامنے ان کی موت کے وقت بار بار پیش کیا تھا ، یعنی اللہ کی وحدانیت کی گواہی ۔
حدیث نمبر: 448
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ يَعْنِي الْمُعَلِّمَ ، عَنْ يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ أَبِي كَثِيرٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ ، أَنَّ عَطَاءَ بْنَ يَسَارٍ أخْبَرَهُ ، أَنَّ زَيْدَ بْنَ خَالِدٍ الْجُهَنِيَّ أَخْبَرَهُ : أَنَّهُ سَأَلَ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ ، قُلْتُ : أَرَأَيْتَ إِذَا جَامَعَ امْرَأَتَهُ وَلَمْ يُمْنِ ؟ فَقَالَ عُثْمَانُ : " يَتَوَضَّأُ كَمَا يَتَوَضَّأُ لِلصَّلَاةِ ، وَيَغْسِلُ ذَكَرَهُ " ، وَقَالَ عُثْمَانُ : سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَسَأَلْتُ عَنْ ذَلِكَ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ ، وَالزُّبَيْرَ بْنَ الْعَوَّامِ ، وَطَلْحَةَ بْنَ عُبَيْدِ اللَّهِ ، وَأُبَيَّ بْنَ كَعْبٍ ، فَأَمَرُوهُ بِذَلِكَ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے ایک مرتبہ یہ سوال پوچھا کہ اگر کوئی آدمی اپنی بیوی سے مباشرت کرے لیکن انزال نہ ہو تو کیا حکم ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ جس طرح نماز کے لئے وضو کرتا ہے ، ایسا ہی وضو کر لے اور اپنی شرمگاہ کو دھو لے اور فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہی فرماتے ہوئے سنا ہے ، راوی کہتے ہیں کہ پھر میں نے یہی سوال سیدنا علی ، سیدنا زبیر ، سیدنا طلحہ اور سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہم سے پوچھا: تو انہوں نے بھی یہی جواب دیا ۔
حدیث نمبر: 449
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ أَبِي قُرَّةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ مَالِكَ بْنَ أَنَسٍ ، يَقُولُ : نَرْفَعُ دَرَجَاتٍ مَنْ نَشَاءُ سورة الأنعام آية 83 ، قَالَ : بِالْعِلْمِ " ، قُلْتُ : مَنْ حَدَّثَكَ ؟ قَالَ : زَعَمَ ذَاكَ زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ .
مولانا ظفر اقبال
امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ آیت قرآنی «نرفع درجات من نشاء» کا مطلب یہ ہے کہ علم کے ذریعے ہم جس کے درجات بلند کرنا چاہتے ہیں ، کر دیتے ہیں ، میں نے پوچھا کہ یہ مطلب آپ سے کس نے بیان کیا ؟ فرمایا : زید بن اسلم نے ۔
حدیث نمبر: 450
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، حَدَّثَنَا مَسَرَّةُ بْنُ مَعْبَدٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي كَبْشَةَ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي صَلَّيْتُ فَلَمْ أَدْرِ أَشَفَعْتُ أَمْ أَوْتَرْتُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِيَّايَ وَأَنْ يَتَلَعَّبَ بِكُمْ الشَّيْطَانُ فِي صَلَاتِكُمْ ، مَنْ صَلَّى مِنْكُمْ فَلَمْ يَدْرِ أَشَفَعَ أَوْ أَوْتَرَ ، فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ ، فَإِنَّهُمَا تَمَامُ صَلَاتِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا، یا رسول اللہ ! میں نماز پڑھ رہا تھا ، مجھے پتہ نہیں چل سکا کہ میں نے جفت عدد میں رکعتیں پڑھیں یا طاق عدد میں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”اپنے آپ کو اس بات سے بچاؤ کہ دوران نماز شیطان تم سے کھیلنے لگے ، اگر تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھ رہا ہو اور اسے جفت اور طاق کا پتہ نہ چل سکے تو اسے سہو کے دو سجدے کر لینے چاہئیں ، کہ ان دونوں سے نماز مکمل ہو جاتی ہے ۔“
حدیث نمبر: 451
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ ، وَزِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ ، قَالَا : حَدَّثَنَا سَوَّارٌ أَبُو عُمَارَةَ الرَّمْلِيّ ، عَنْ مَسَرَّةَ بْنِ مَعْبَدٍ ، قَالَ : صَلَّى بِنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي كَبْشَةَ الْعَصْرَ ، فَانْصَرَفَ إِلَيْنَا بَعْدَ صَلَاتِهِ ، فَقَالَ : إِنِّي صَلَّيْتُ مَعَ مَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ ، فَسَجَدَ مِثْلَ هَاتَيْنِ السَّجْدَتَيْنِ ، ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَيْنَا ، فَأَعْلَمَنَا أَنَّهُ صَلَّى مَعَ عُثْمَانَ ، وَحَدَّثَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . . . فَذَكَرَ مِثْلَهُ نَحْوَهُ .
مولانا ظفر اقبال
مسیرہ بن معبد کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہمیں یزید بن ابی کبشہ نے عصر کی نماز پڑھائی ، نماز کے بعد وہ ہماری طرف رخ کر کے بیٹھ گئے اور کہنے لگے میں نے مروان بن حکم کے ساتھ نماز پڑھی تو انہوں نے بھی اسی طرح دو سجدے کئے اور ہماری طرف رخ کر کے بتایا کہ انہوں نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے ساتھ نماز پڑھی تھی اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے یہ حدیث بیان فرمائی تھی ۔
حدیث نمبر: 452
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ مُغِيرَةَ بْنَ مُسْلِمٍ أَبَا سَلَمَةَ يَذْكُرُ ، عَنْ مَطَرٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ : أَنَّ عُثْمَانَ أَشْرَفَ عَلَى أَصْحَابِهِ وَهُوَ مَحْصُورٌ ، فَقَالَ : عَلَامَ تَقْتُلُونِي ؟ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " لَا يَحِلُّ دَمُ امْرِئٍ مُسْلِمٍ إِلَّا بِإِحْدَى ثَلَاثٍ : رَجُلٌ زَنَى بَعْدَ إِحْصَانِهِ ، فَعَلَيْهِ الرَّجْمُ ، أَوْ قَتَلَ عَمْدًا ، فَعَلَيْهِ الْقَوَدُ ، أَوْ ارْتَدَّ بَعْدَ إِسْلَامِهِ ، فَعَلَيْهِ الْقَتْلُ " ، فَوَاللَّهِ مَا زَنَيْتُ فِي جَاهِلِيَّةٍ وَلَا إِسْلَامٍ ، وَلَا قَتَلْتُ أَحَدًا فَأُقِيدَ نَفْسِي مِنْهُ ، وَلَا ارْتَدَدْتُ مُنْذُ أَسْلَمْتُ ، إِنِّي أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جن دنوں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ اپنے گھر میں محصور تھے ، انہوں نے لوگوں کو جھانک کر دیکھا اور فرمانے لگے بھلا کس جرم میں تم لوگ مجھے قتل کرو گے ؟ جب کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ تین میں سے کسی ایک صورت کے علاوہ کسی مسلمان کا خون بہانا حلال نہیں ہے ، یا تو وہ آدمی جو اسلام قبول کرنے کے بعد مرتد ہو جائے ، یا شادی شدہ ہونے کے باوجود بدکاری کرے ، یا قاتل ہو اور مقتول کے عوض اسے قتل کر دیا جائے ، اللہ کی قسم ! مجھے تو اللہ نے جب سے ہدایت دی ہے ، میں کبھی مرتد نہیں ہوا ، میں نے اسلام تو بڑی دور کی بات ہے ، زمانہ جاہلیت میں بھی بدکاری نہیں کی اور نہ ہی میں نے کسی کو قتل کیا ہے ، جس کا مجھ سے قصاص لیا جائے ۔
حدیث نمبر: 453
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو قَبِيلٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ مَالِكَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ الْبَرْدَادِيَّ يُحَدِّثُ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ : أَنَّهُ جَاءَ يَسْتَأْذِنُ عَلَى عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ ، فَأَذِنَ لَهُ وَبِيَدِهِ عَصَاهُ ، فَقَالَ عُثْمَانُ : يَا كَعْبُ ، إِنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ تُوُفِّيَ وَتَرَكَ مَالًا ، فَمَا تَرَى فِيهِ ؟ فَقَالَ : إِنْ كَانَ يَصِلُ فِيهِ حَقَّ اللَّهِ ، فَلَا بَأْسَ عَلَيْهِ ، فَرَفَعَ أَبُو ذَرٍّ عَصَاهُ ، فَضَرَبَ كَعْبًا ، وَقَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " مَا أُحِبُّ لَوْ أَنَّ لِي هَذَا الْجَبَلَ ذَهَبًا أُنْفِقُهُ وَيُتَقَبَّلُ مِنِّي ، أَذَرُ خَلْفِي مِنْهُ سِتَّ أَوَاقٍ " ، أَنْشُدُكَ اللَّهَ يَا عُثْمَانُ ، أَسَمِعْتَهُ ، ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ؟ قَالَ : نَعَمْ .
مولانا ظفر اقبال
مالک بن عبداللہ رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ ، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس اجازت لے کر آئے ، انہوں نے اجازت دے دی ، سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں لاٹھی تھی ، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے سیدنا کعب رضی اللہ عنہ سے پوچھا: اے کعب ! عبدالرحمن فوت ہو گئے ہیں اور اپنے ترکہ میں مال چھوڑ گئے ہیں ، اس مسئلے میں تمہاری کیا رائے ہے ؟ انہوں نے کہا کہ اگر وہ اس کے ذریعے حقوق اللہ ادا کرتے تھے تو کوئی حرج نہیں ، سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے اپنی لاٹھی اٹھا کر انہیں مارنا شروع کر دیا اور فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اگر میرے پاس اس پہاڑ کے برابر بھی سونا ہو تو مجھے یہ پسند نہیں کہ میں اپنے پیچھے اس میں سے چھ اوقیہ بھی چھوڑ دوں ، میں اسے خرچ کر دوں گا تاکہ وہ قبول ہو جائے ، اے عثمان ! میں آپ کو اللہ کی قسم دے کر کہتا ہوں ، کیا آپ نے بھی یہ ارشاد سنا ہے ؟ انہوں نے فرمایا : جی ہاں ۔
حدیث نمبر: 454
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَحِيرٍ الْقَاصُّ ، عَنْ هَانِئٍ مَوْلَى عُثْمَانَ ، قَالَ : كَانَ عُثْمَانُ إِذَا وَقَفَ عَلَى قَبْرٍ بَكَى ، حَتَّى يَبُلَّ لِحْيَتَهُ ، فَقِيلَ لَهُ : تَذْكُرُ الْجَنَّةَ وَالنَّارَ فَلَا تَبْكِي ، وَتَبْكِي مِنْ هَذَا ؟ فَقَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الْقَبْرُ أَوَّلُ مَنَازِلِ الْآخِرَةِ ، فَإِنْ يَنْجُ مِنْهُ ، فَمَا بَعْدَهُ أَيْسَرُ مِنْهُ ، وَإِنْ لَمْ يَنْجُ مِنْهُ ، فَمَا بَعْدَهُ أَشَدُّ مِنْهُ " ، قَالَ : وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَاللَّهِ مَا رَأَيْتُ مَنْظَرًا قَطُّ ، إِلَّا وَالْقَبْرُ أَفْظَعُ مِنْهُ " .
مولانا ظفر اقبال
ہانی جو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام ہیں کہتے ہیں کہ جب سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کسی قبر پر رکتے تو اتنا روتے کہ داڑھی تر ہو جاتی ، کسی نے ان سے پوچھا کہ جب آپ جنت اور جہنم کا تذکرہ کرتے ہیں ، تب تو نہیں روتے اور اس سے رو پڑتے ہیں ؟ فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ قبر آخرت کی پہلی منزل ہے ، اگر وہاں نجات مل گئی تو بعد کے سارے مراحل آسان ہو جائیں گے اور اگر وہاں نجات نہ ملی تو بعد کے سارے مراحل دشوار ہو جائیں گے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا ہے کہ میں نے جتنے بھی مناظر دیکھے ہیں ، قبر کا منظر ان سب سے ہولناک ہے ۔
حدیث نمبر: 455
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ مَرْوَانَ ، وَمَا إِخَالُهُ يُتَّهَمُ عَلَيْنَا ، قَالَ : أَصَابَ عُثْمَانَ رُعَافٌ سَنَةَ الرُّعَافِ ، حَتَّى تَخَلَّفَ عَنِ الْحَجِّ وَأَوْصَى ، فدخل عليه رجل من قريش ، فقال : استخلف ، قَالَ : وَقَالُوهُ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : مَنْ هُوَ ؟ قَالَ : فَسَكَتَ ، قَالَ : ثُمَّ دَخَلَ عَلَيْهِ رَجُلٌ آخَرُ ، فَقَالَ لَهُ مِثْلَ مَا قَالَ لَهُ الْأَوَّلُ ، وَرَدَّ عَلَيْهِ نَحْوَ ذَلِكَ ، قَالَ : فَقَالَ عُثْمَانُ : قَالُوا الزُّبَيْرَ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : أَمَا وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، إِنْ كَانَ لَخَيْرَهُمْ مَا عَلِمْتُ ، وَأَحَبَّهُمْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
مولانا ظفر اقبال
مروان سے روایت ہے کہ ”عام الرعاف“ میں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی ناک سے ایک مرتبہ بہت خون نکلا (جسے نکسیر پھوٹنا کہتے ہیں) یہاں تک کہ وہ حج کے لئے بھی نہ جا سکے اور زندگی کی امید ختم کر کے وصیت بھی کر دی ، اس دوران ایک قریشی آدمی ان کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ کسی کو اپنا خلیفہ مقرر کر دیجئے ، انہوں نے پوچھا: کیا لوگوں کی بھی یہی رائے ہے ؟ اس نے کہا: جی ہاں ! انہوں نے پوچھا کہ کن لوگوں کی یہ رائے ہے ؟ اس پر وہ خاموش ہو گیا ۔ اس کے بعد ایک اور آدمی آیا ، اس نے بھی پہلے آدمی کی باتیں دہرائیں اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے اسے بھی وہی جواب دئیے ، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے اس سے پوچھا کہ لوگوں کی رائے کسے خلیفہ بنانے کی ہے ؟ اس نے کہا: سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کو ، فرمایا : ہاں ! اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے ، میرے علم کے مطابق وہ سب سے بہتر اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نظروں میں سب سے زیادہ محبوب تھے ۔
حدیث نمبر: 456
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنَاه سُوَيْدٌ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، بِإِسْنَادِهِ مِثْلَهُ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ روایت اس دوسری سند سے بھی مروی ہے جو عبارت میں گزری ۔
حدیث نمبر: 457
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي زَكَرِيَّا ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أُمَيَّةَ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ مَنَّاحٍ ، قَالَ : رَأَى أَبَانُ بْنُ عُثْمَانَ جَنَازَةً ، فَقَامَ لَهَا ، وَقَالَ : " رَأَى عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ جَنَازَةً فَقَامَ لَهَا ، ثُمَّ حَدَّثَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى جَنَازَةً ، فَقَامَ لَهَا " .
مولانا ظفر اقبال
ابان بن عثمان رحمہ اللہ نے ایک جنازے کو دیکھا تو کھڑے ہو گئے اور فرمایا کہ ایک مرتبہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی نظر ایک جنازے پر پڑی تو وہ بھی کھڑے ہو گئے تھے اور انہوں نے فرمایا کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی جنازے کو دیکھا تو کھڑے ہو گئے تھے ۔
حدیث نمبر: 458
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ : أَنَّ عَطَاءَ بْنَ يَسَارٍ أَخْبَرَهُ : عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَأَلَ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ ، قَالَ : قُلْتُ : أَرَأَيْتَ إِذَا جَامَعَ الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ وَلَمْ يُمْنِ ؟ فَقَالَ عُثْمَانُ : " يَتَوَضَّأُ كَمَا يَتَوَضَّأُ لِلصَّلَاةِ ، وَيَغْسِلُ ذَكَرَهُ " ، قَالَ : وَقَالَ عُثْمَانُ : سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " . فَسَأَلْتُ عَنْ ذَلِكَ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ ، وَالزُّبَيْرَ ، وَطَلْحَةَ ، وَأُبَيَّ بْنَ كَعْبٍ ، فَأَمَرُوهُ بِذَلِكَ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے ایک مرتبہ یہ سوال پوچھا کہ اگر کوئی آدمی اپنی بیوی سے مباشرت کرے لیکن انزال نہ ہو تو کیا حکم ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ جس طرح نماز کے لئے وضو کرتا ہے ، ایسا ہی وضو کر لے اور اپنی شرمگاہ کو دھو لے اور فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہی فرماتے ہوئے سنا ہے ، راوی کہتے ہیں کہ پھر میں نے یہی سوال سیدنا علی ، سیدنا زبیر ، سیدنا طلحہ اور سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہم سے پوچھا: تو انہوں نے بھی یہی جواب دیا ۔
حدیث نمبر: 459
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّيْمِيِّ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي مُعَاذُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ حُمْرَانَ بْنَ أَبَانَ أَخْبَرَهُ ، قَالَ : أَتَيْتُ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ وَهُوَ جَالِسٌ فِي الْمَقَاعِدِ ، فَتَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ ، ثُمَّ قَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي هَذَا الْمَجْلِسِ تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ ، ثُمَّ قَالَ : " مَنْ تَوَضَّأَ مِثْلَ وُضُوئِي هَذَا ، ثُمَّ أَتَى الْمَسْجِدَ فَرَكَعَ فِيهِ رَكْعَتَيْنِ ، غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ " ، وَقَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَلَا تَغْتَرُّوا " .
مولانا ظفر اقبال
حمران کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس آیا ، وہ بنچ پر بیٹھے ہوئے تھے ، انہوں نے خوب اچھی طرح وضو کیا اور فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی جگہ بہترین انداز میں وضو کرتے ہوئے دیکھا ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص میری طرح ایسا ہی وضو کرے اور مسجد میں آ کر دو رکعت نماز پڑھے تو اللہ تعالیٰ اس کے گزشتہ تمام گناہ معاف فرما دے گا ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا دھوکے کا شکار نہ ہو جانا ۔
حدیث نمبر: 460
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَفْصٍ بْنِ عُمَرَ التَّيْمِيُّ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبِي ، يَقُولُ : سَمِعْتُ عَمِّي عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ بْنِ مُوسَى ، يَقُولُ : كُنْتُ عِنْدَ سُلَيْمَانَ بْنِ عَلِيٍّ ، فَدَخَلَ شَيْخٌ مِنْ قُرَيْشٍ ، فَقَالَ سُلَيْمَانُ : انْظُرْ إِلَى الشَّيْخِ ، فَأَقْعِدْهُ مَقْعَدًا صَالِحًا ، فَإِنَّ لِقُرَيْشٍ حَقًّا ، فَقُلْتُ : أَيُّهَا الْأَمِيرُ ، أَلَا أُحَدِّثُكَ حَدِيثًا بَلَغَنِي عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : بَلَى ، قَالَ : قُلْتُ لَهُ : بَلَغَنِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ أَهَانَ قُرَيْشًا أَهَانَهُ اللَّهُ " ، قَالَ : سُبْحَانَ اللَّهِ مَا أَحْسَنَ هَذَا ، مَنْ حَدَّثَكَ هَذَا ؟ قَالَ : قُلْتُ : حَدَّثَنِيهِ رَبِيعَةُ بْنُ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ ، قَالَ : قَالَ لِي أَبِي : يَا بُنَيَّ ، إِنْ وَلِيتَ مِنْ أَمْرِ النَّاسِ شَيْئًا ، فَأَكْرِمْ قُرَيْشًا ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " مَنْ أَهَانَ قُرَيْشًا أَهَانَهُ اللَّهُ " .
مولانا ظفر اقبال
عبیداللہ بن عمیر کہتے ہیں کہ میں سلیمان بن علی کے پاس بیٹھا ہوا تھا ، اتنی دیر میں قریش کے ایک بزرگ تشریف لائے ، سلیمان نے کہا: دیکھو ! شیخ کو اچھی جگہ بٹھاؤ کیونکہ قریش کا حق ہے ، میں نے کہا: گورنر صاحب ! کیا میں آپ کو ایک حدیث سناؤں جو قریش کی توہین کرتا ہے ، گویا وہ اللہ کی توہین کرتا ہے ، اس نے کہا: سبحان اللہ ! کیا خوب ، یہ روایت تم سے کس نے بیان کی ہے ؟ میں نے کہا: ربیعہ بن ابی عبدالرحمن نے سعید بن مسیب رحمہ اللہ کے حوالے سے ، انہوں نے عمرو بن عثمان کے حوالے سے کہ میرے والد نے مجھ سے فرمایا : بیٹا ! اگر تمہیں کسی جگہ کی امارت ملے تو قریش کی عزت کرنا کیونکہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو قریش کی اہانت کرتا ہے ، گویا وہ اللہ کی اہانت کرتا ہے ۔
حدیث نمبر: 461
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبَانَ الْوَرَّاقُ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي الْمُغِيرَةِ ، عَنِ ابْنِ أَبْزَى ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ ، قَالَ : قَالَ لَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الزُّبَيْرِ حِينَ حُصِرَ : إِنَّ عِنْدِي نَجَائِبَ قَدْ أَعْدَدْتُهَا لَكَ ، فَهَلْ لَكَ أَنْ تَحَوَّلَ إِلَى مَكَّةَ ، فَيَأْتِيَكَ مَنْ أَرَادَ أَنْ يَأْتِيَكَ ؟ قَالَ : لَا ، إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " يُلْحَدُ بِمَكَّةَ كَبْشٌ مِنْ قُرَيْشٍ ، اسْمُهُ عَبْدُ اللَّهِ ، عَلَيْهِ مِثْلُ نِصْفِ أَوْزَارِ النَّاسِ " .
مولانا ظفر اقبال
ابن ابزی کہتے ہیں کہ جب سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا محاصرہ شروع ہوا تو سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے ان سے عرض کیا کہ میرے پاس بہترین قسم کے اونٹ ہیں جنہیں میں نے آپ کے لئے تیار کر دیا ہے ، آپ ان پر سوار ہو کر مکہ مکرمہ تشریف لے چلیں ، جو آپ کے پاس آنا چاہے گا ، وہیں آ جائے گا ؟ لیکن انہوں نے انکار کرتے ہوئے کہا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ مکہ مکرمہ میں قریش کا ایک مینڈھا الحاد پھیلائے گا جس کا نام عبداللہ ہو گا ، اس پر لوگوں کے گناہوں کا آدھا بوجھ ہو گا ۔ (میں وہ مینڈھا نہیں بننا چاہتا)۔
حدیث نمبر: 462
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ مَطَرٍ ، وَيَعْلَى بْنِ حَكِيمٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ نُبَيْهِ بْنِ وَهْبٍ ، عَنْ أَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا يَنْكِحُ الْمُحْرِمُ ، وَلَا يُنْكِحُ ، وَلَا يَخْطُبُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ محرم خود نکاح کرے اور نہ کسی کا نکاح کروائے ، بلکہ پیغام نکاح بھی نہ بھیجے ۔
حدیث نمبر: 463
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا كَهْمَسٌ ، حَدَّثَنَا مُصْعَبُ بْنُ ثَابِتٍ بن عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، قَالَ : قَالَ عُثْمَانُ وَهُوَ يَخْطُبُ عَلَى مِنْبَرِهِ : إِنِّي مُحَدِّثُكُمْ حَدِيثًا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، لَمْ يَكُنْ يَمْنَعُنِي أَنْ أُحَدِّثَكُمْ بِهِ إِلَّا الضِّنُّ بِكُمْ ، إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " حَرَسُ لَيْلَةٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، أَفْضَلُ مِنْ أَلْفِ لَيْلَةٍ يُقَامُ لَيْلُهَا ، وَيُصَامُ نَهَارُهَا " .
مولانا ظفر اقبال
ایک مرتبہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے منبر پر خطبہ دیتے ہوئے فرمایا : میں تم سے ایک حدیث بیان کرتا ہوں جو میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے ، ایسا نہیں کہ بخل کی وجہ سے میں اسے تمہارے سامنے بیان نہ کروں گا ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اللہ کے راستے میں ایک رات کی پہرہ داری کرنا ایک ہزار راتوں کے قیام لیل اور صیام نہار سے بڑھ کر افضل ہے ۔
حدیث نمبر: 464
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ خَالِدًا ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ الْعنبري ، عَنْ حُمْرَانَ بْنِ أَبَانَ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ : عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ مَاتَ وَهُوَ يَعْلَمُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، دَخَلَ الْجَنَّةَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :”جو شخص اس حال میں مرا کہ اسے اس بات کا یقین تھا کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں وہ جنت میں داخل ہو گا ۔“
حدیث نمبر: 465
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنِي نُبَيْهُ بْنُ وَهْبٍ : أَنَّ عُمَرَ بْنَ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْمَرٍ رَمِدَتْ عَيْنُهُ وَهُوَ مُحْرِمٌ ، فَأَرَادَ أَنْ يُكَحِّلَهَا ، فَنَهَاهُ أَبَانُ بْنُ عُثْمَانَ ، وَأَمَرَهُ أَنْ يُضَمِّدَهَا بِالصَّبِرِ ، وَزَعَمَ أَنَّ عُثْمَانَ حدث عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ فَعَلَ ذَلِكَ .
مولانا ظفر اقبال
عمر بن عبیداللہ کو حالت احرام میں آشوب چشم کا عارضہ لاحق ہو گیا ، انہوں نے آنکھوں میں سرمہ لگانا چاہا تو سیدنا ابان بن عثمان رضی اللہ عنہ نے انہیں منع کر دیا اور کہا کہ صبر کا سرمہ لگا سکتا ہے (صبر کرے جب تک احرام نہ کھل جائے ، سرمہ نہ لگائے ) کیونکہ میں نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے ایسی حدیث بیان کرتے ہوئے سنا ہے ۔
حدیث نمبر: 466
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ مُوسَى ، عَنْ نُبَيْهِ بْنِ وَهْبٍ : أَنَّ عُمَرَ بْنَ عُبَيْدِ اللَّهِ أَرَادَ أَنْ يُزَوِّجَ ابْنَهُ وَهُوَ مُحْرِمٌ ، فَنَهَاهُ أَبَانُ ، وَزَعَمَ أَنَّ عُثْمَانَ حدث عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الْمُحْرِمُ لَا يَنْكِحُ ، وَلَا يُنْكِحُ " .
مولانا ظفر اقبال
نبیہ بن وہب کہتے ہیں کہ عمر بن عبیداللہ نے حالت احرام میں اپنے بیٹے کا نکاح کرنا چاہا تو سیدنا ابان رحمہ اللہ نے اسے روک دیا اور بتایا کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے یہ حدیث بیان کیا کرتے تھے کہ محرم خود نکاح کرے اور نہ کسی کا نکاح کروائے ۔
حدیث نمبر: 467
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ يُحَدِّثُ ، عَنْ رَبَاحٍ ، قَالَ : زَوَّجَنِي أَهْلِي أَمَةً لَهُمْ رُومِيَّةً ، وَلَدَتْ لِي غُلَامًا أَسْوَدَ ، فَعَلِقَهَا عَبْدٌ رُومِيٌّ ، يُقَالُ لَهُ : يُوحَنَّسُ ، فَجَعَلَ يُرَاطِنُهَا بِالرُّومِيَّةِ ، فَحَمَلَتْ ، وَقَدْ كَانَتْ وَلَدَتْ لِي غُلَامًا أَسْوَدَ مِثْلِي ، فَجَاءَتْ بِغُلَامٍ وَكَأَنَّهُ وَزَغَةٌ مِنَ الْوَزَغَاتِ ، فَقُلْتُ لَهَا : مَا هَذَا ؟ فَقَالَتْ : هُوَ مِنْ يُوحَنَّسَ ، فَسَأَلْتُ يُوحَنَّسَ ، فَاعْتَرَفَ ، فَأَتَيْتُ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهِمَا فَسَأَلَهُمَا ، ثُمَّ قَالَ : سَأَقْضِي بَيْنَكُمَا بِقَضَاءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ ، وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ " ، فَأَلْحَقَهُ بِي ، قَالَ : فَجَلَدَهُمَا ، فَوَلَدَتْ لِي بَعْدُ غُلَامًا أَسْوَدَ .
مولانا ظفر اقبال
رباح کہتے ہیں کہ میرے آقا نے اپنی ایک رومی باندی سے میری شادی کر دی ، میں اس کے پاس گیا تو اس سے مجھ جیسا ہی ایک کالا کلوٹا لڑکا پیدا ہو گیا ، میں نے اس کا نام عبداللہ رکھ دیا ، دوبارہ ایسا موقع آیا تو پھر ایک کالا کلوٹا لڑکا پیدا ہو گیا ، میں نے اس کا نام عبیداللہ رکھ دیا ۔ اتفاق کی بات ہے کہ میری بیوی پر میرے آقا کا ایک رومی غلام عاشق ہو گیا جس کا نام یوحنس تھا ، اس نے اسے اپنی زبان میں رام کر لیا ، چنانچہ اس مرتبہ جو بچہ پیدا ہوا وہ رومیوں کے رنگ کے مشابہ تھا ، میں نے اپنی بیوی سے پوچھا کہ یہ کیا ہے ؟ اس نے کہا کہ یہ یوحنس کا بچہ ہے ، ہم نے یہ معاملہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی خدمت میں پیش کیا ، انہوں نے فرمایا کہ کیا تم اس بات پر راضی ہو کہ تمہارے درمیان وہی فیصلہ کروں جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فیصلہ یہ ہے کہ بچہ بستر والے کا ہو گا اور زانی کے لئے پتھر ہیں ، پھر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے اس کا نسب نامہ مجھ سے ثابت کر دیا اور ان دونوں کو کوڑے مارے اور اس کے بعد بھی اس کے یہاں میرا ایک بیٹاپیدا ہوا جو کالا تھا ۔
حدیث نمبر: 468
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلٍ ، قَالَ : كُنْتُ مَعَ عُثْمَانَ فِي الدَّارِ وَهُوَ مَحْصُورٌ ، قَالَ : وَكُنَّا نَدْخُلُ مَدْخَلًا إِذَا دَخَلْنَاهُ سَمِعْنَا كَلَامَ مَنْ عَلَى الْبَلَاطِ ، قَالَ : فَدَخَلَ عُثْمَانُ يَوْمًا لِحَاجَةٍ ، فَخَرَجَ إِلَيْنَا مُنْتَقِعًا لَوْنُهُ ، فَقَالَ : إِنَّهُمْ لَيَتَوَعَّدُونِي بِالْقَتْلِ آنِفًا ، قَالَ : قُلْنَا : يَكْفِيكَهُمُ اللَّهُ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ، قَالَ : فَقَالَ : وَبِمَ يَقْتُلُونِي ؟ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " إِنَّهُ لَا يَحِلُّ دَمُ امْرِئٍ مُسْلِمٍ إِلَّا فِي إِحْدَى ثَلَاثٍ : رَجُلٌ كَفَرَ بَعْدَ إِسْلَامِهِ ، أَوْ زَنَى بَعْدَ إِحْصَانِهِ ، أَوْ قَتَلَ نَفْسًا بِغَيْرِ نَفْسٍ " ، فَوَاللَّهِ مَا زَنَيْتُ فِي جَاهِلِيَّةٍ وَلَا إِسْلَامٍ ، وَلَا تَمَنَّيْتُ بَدَلًا بِدِينِي مُنْذُ هَدَانِي اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ ، وَلَا قَتَلْتُ نَفْسًا ، فَبِمَ يَقْتُلُونِي ؟ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابوامامہ بن سہل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جن دنوں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ اپنے گھر میں محصور تھے ، میں ان کے ساتھ ہی تھا تھوڑی دیر کے لئے ہم کسی کمرے میں داخل ہوتے تو چوکی پر بیٹھنے والوں کی بات بھی سنائی دیتی تھی ، اسی طرح ایک مرتبہ وہ اس کمرے میں داخل ہوئے ، تھوڑی دیر بعد باہر تشریف لائے تو ان کا رنگ اڑا ہوا تھا اور وہ فرمانے لگے کہ ان لوگوں نے مجھے ابھی ابھی قتل کی دھمکی دی ہے ، ہم نے عرض کیا کہ امیر المؤمنین ! اللہ ان کی طرف سے آپ کی کفایت و حفاظت فرمائے گا ۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ فرمانے لگے کہ بھلا کس جرم میں یہ لوگ مجھے قتل کریں گے ؟ جب کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ تین میں سے کسی ایک صورت کے علاوہ کسی مسلمان کا خون بہانا حلال نہیں ہے ، یا تو وہ آدمی جو اسلام قبول کرنے کے بعد مرتد ہو جائے ، یا شادی شدہ ہونے کے باوجود بدکاری کرے ، یا قاتل ہو اور مقتول کے عوض اسے قتل کر دیا جائے ، اللہ کی قسم ! مجھے تو اللہ نے جب سے ہدایت دی ہے ، میں نے اس دین کے بدلے کسی دوسرے دین کو پسند نہیں کیا ، میں نے اسلام تو بڑی دور کی بات ہے ، زمانہ جاہلیت میں بھی بدکاری نہیں کی اور نہ ہی میں نے کسی کو قتل کیا ہے ، پھر یہ لوگ مجھے کیوں قتل کرنا چاہتے ہیں ۔
حدیث نمبر: 469
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ . ح وَسُرَيْجٌ ، وَحُسَيْنٌ ، قَالَا : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ حُسَيْنُ : ابْنُ أَبِي وَقَّاصٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ ، يَقُولُ : مَا يَمْنَعُنِي أَنْ أُحَدِّثَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ لَا أَكُونَ أَوْعَى أَصْحَابِهِ عَنْهُ ، وَلَكِنِّي أَشْهَدُ لَسَمِعْتُهُ ، يَقُولُ : " مَنْ قَالَ عَلَيَّ مَا لَمْ أَقُلْ ، فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ " ، وَقَالَ حُسَيْنٌ : أَوْعَى صَحَابَتِهِ عَنْهُ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ فرماتے تھے کہ میں تم سے اگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث بکثرت بیان نہیں کرتا تو اس کی وجہ یہ نہیں کہ میں انہیں یاد نہیں رکھ سکا ، بلکہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص میری طرف ایسی بات منسوب کرے جو میں نے نہیں کہی اسے اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لینا چاہیے ۔
حدیث نمبر: 470
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، حَدَّثَنِي زُهْرَةُ بْنُ مَعْبَدٍ الْقُرَشِيُّ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ مَوْلَى عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ عُثْمَانَ ، يَقُولُ عَلَى الْمِنْبَرِ : أَيُّهَا النَّاسُ ، إِنِّي كَتَمْتُكُمْ حَدِيثًا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، كَرَاهِيَةَ تَفَرُّقِكُمْ عَنِّي ، ثُمَّ بَدَا لِي أَنْ أُحَدِّثَكُمُوهُ لِيَخْتَارَ امْرُؤٌ لِنَفْسِهِ مَا بَدَا لَهُ ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " رِبَاطُ يَوْمٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ تَعَالَى ، خَيْرٌ مِنْ أَلْفِ يَوْمٍ فِيمَا سِوَاهُ مِنَ الْمَنَازِلِ " .
مولانا ظفر اقبال
ابوصالح جو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام ہیں کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو منبر پر دوران خطبہ یہ کہتے ہوئے سنا کہ لوگو ! میں نے اب تک نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہوئی ایک حدیث تم سے بیان نہیں کی تاکہ تم لوگ مجھ سے جدا نہ ہو جاؤ لیکن اب میں مناسب سمجھتا ہوں کہ تم سے بیان کر دوں تاکہ ہر آدمی جو مناسب سمجھے ، اسے اختیار کر لے ، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اللہ کے راستہ میں ایک دن کی پہرہ داری ، دوسری جگہوں پر ہزار دن کی پہرہ داری سے بھی افضل ہے ۔
حدیث نمبر: 471
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ الرَّازِيُّ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ ، عَنْ رَجُلٍ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَخْرُجُ مِنْ بَيْتِهِ ، يُرِيدُ سَفَرًا أَوْ غَيْرَهُ ، فَقَالَ حِينَ يَخْرُجُ : بِسْمِ اللَّهِ ، آمَنْتُ بِاللَّهِ ، اعْتَصَمْتُ بِاللَّهِ ، تَوَكَّلْتُ عَلَى اللَّهِ ، لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ ، إِلَّا رُزِقَ خَيْرَ ذَلِكَ الْمَخْرَجِ ، وَصُرِفَ عَنْهُ شَرُّ ذَلِكَ الْمَخْرَجِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”جو مسلمان اپنے گھر سے نکلتے وقت خواہ سفر کے ارادے سے یا ویسے ہی یہ دعا پڑھ لے «بسم الله آمنت بالله ، اعتصمت بالله ، توكلت على الله لاحول ولاقوة الا بالله» ، تو اسے اس کی خیر عطاء فرمائی جائے گی اور اس نکلنے کے شر سے اس کی حفاظت کی جائے گی ۔“
حدیث نمبر: 472
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنِ الْحَجَّاجِ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ عُثْمَانَ ، قَالَ : " رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ ، فَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا ، وَيَدَيْهِ ثَلَاثًا ، وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ ، وَغَسَلَ رِجْلَيْهِ غَسْلًا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو وضو کرتے ہوئے دیکھا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ چہرہ دھویا ، تین مرتبہ ہاتھ دھوئے ، سر کا مسح کیا اور پاؤں کو اچھی طرح دھویا ۔
حدیث نمبر: 473
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَبُو صَخْرَةَ جَامِعُ بْنُ شَدَّادٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ حُمْرَانَ بْنَ أَبَانَ يُحَدِّثُ أَبَا بُرْدَةَ فِي مَسْجِدِ الْبَصْرَةِ ، وَأَنَا قَائِمٌ مَعَهُ ، أَنَّهُ سَمِعَ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ يُحَدِّثُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " مَنْ أَتَمَّ الْوُضُوءَ كَمَا أَمَرَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ ، فَالصَّلَوَاتُ الْخَمْسُ كَفَّارَةٌ لِمَا بَيْنَهُنَّ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”جو شخص حکم الٰہی کے مطابق اچھی طرح مکمل وضو کرے، تو فرض نمازیں درمیانی اوقات کے گناہوں کا کفارہ بن جائیں گی ۔“
حدیث نمبر: 474
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ ، وَهُوَ يَقُولُ : قَالَ : رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ قَالَ فِي أَوَّلِ يَوْمِهِ ، أَوْ فِي أَوَّلِ لَيْلَتِهِ : بِسْمِ اللَّهِ الَّذِي لَا يَضُرُّ مَعَ اسْمِهِ شَيْءٌ فِي الْأَرْضِ وَلَا فِي السَّمَاءِ ، وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ ، ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ، لَمْ يَضُرَّهُ شَيْءٌ فِي ذَلِكَ الْيَوْمِ ، أَوْ فِي تِلْكَ اللَّيْلَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”جو شخص دن یا رات کے آغاز میں یہ دعا تین مرتبہ پڑھ لیا کرے اسے اس دن یا رات میں کوئی چیز نقصان نہ پہنچا سکے گی ۔ «بسم الله الذى لا يضر مع اسمه شيء فى الارض و لا فى السماء وهو السميع العليم» ۔ “
حدیث نمبر: 475
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَنْبَأَنَا أَبُو سِنَانٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ مَوْهَبٍ : أَنَّ عُثْمَانَ قَالَ لِابْنِ عُمَرَ : اقْضِ بَيْنَ النَّاسِ ، فَقَالَ : لَا أَقْضِي بَيْنَ اثْنَيْنِ ، وَلَا أَؤُمُّ رَجُلَيْنِ ، أَمَا سَمِعْتَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " مَنْ عَاذَ بِاللَّهِ ، فَقَدْ عَاذَ بِمَعَاذٍ " ، قَالَ عُثْمَانُ : بَلَى ، قَالَ : فَإِنِّي أَعُوذُ بِاللَّهِ أَنْ تَسْتَعْمِلَنِي ، فَأَعْفَاهُ ، وَقَالَ : لَا تُخْبِرْ بِهَذَا أَحَدًا .
مولانا ظفر اقبال
یزید بن موہب کہتے ہیں کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کو قاضی بننے کی پیشکش کی ، انہوں نے فرمایا کہ میں دو آدمیوں کے درمیان فیصلہ کروں گا اور نہ ہی امامت کروں گا ، کیا آپ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے نہیں سنا ، جو اللہ کی پناہ میں آ جائے وہ مکمل طور پر محفوظ ہو جاتا ہے ؟ فرمایا : کیوں نہیں ! اس پر سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا : پھر میں اللہ کی پناہ میں آتا ہوں کہ آپ مجھے کوئی عہدہ دیں ، چنانچہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے انہیں چھوڑ دیا اور فرمایا کسی کو اس بارے میں مت بتائیے ۔
حدیث نمبر: 476
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ حَكِيمٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ حُمْرَانَ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ ، خَرَجَتْ خَطَايَاهُ مِنْ جَسَدِهِ ، حَتَّى تَخْرُجَ مِنْ تَحْتِ أَظْفَارِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”جو شخص وضو کرے اور اچھی طرح کرے تو اس کے جسم سے اس کے گناہ نکل جاتے ہیں ، حتی کہ اس کے ناخن کے نیچے سے بھی گناہ نکل جاتے ہیں ۔“
حدیث نمبر: 477
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنَاه سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، سَنَةَ سِتٍّ وَعِشْرِينَ ، حَدَّثَنَا رِشْدِينُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ زُهْرَةَ بْنِ مَعْبَدٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ مَوْلَى عُثْمَانَ ، أَنَّ عُثْمَانَ ، قَالَ : أَيُّهَا النَّاسُ ، هَجِّرُوا فَإِنِّي مُهَجِّرٌ ، فَهَجَّرَ النَّاسُ ، ثُمّ قَالَ : أَيُّهَا النَّاسُ ، إِنِّي مُحَدِّثُكُمْ بِحَدِيثٍ مَا تَكَلَّمْتُ بِهِ مُنْذُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى يَوْمِي هَذَا ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ رِبَاطَ يَوْمٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، أَفْضَلُ مِنْ أَلْفِ يَوْمٍ مِمَّا سِوَاهُ ، فَلْيُرَابِطْ امْرُؤٌ حَيْثُ شَاءَ " ، هَلْ بَلَّغْتُكُمْ ؟ قَالُوا : نَعَمْ ، قَالَ : اللَّهُمَّ اشْهَدْ .
مولانا ظفر اقبال
ابوصالح جو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام ہیں کہتے ہیں کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا لوگو ! روانہ ہو جاؤ کیونکہ میں بھی روانہ ہونے لگا ہوں ، لوگ روانہ ہونے لگے تو فرمایا کہ میں نے اب تک نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہوئی ایک حدیث تم سے بیان نہیں کی ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ کی راہ میں ایک دن کی پہرہ داری دوسری جگہوں پر ہزار دن کی پہرہ داری سے بھی افضل ہے ، اس لئے جو شخص چاہے وہ پہرہ داری کرے ، کیا میں نے پیغام پہنچا دیا ؟ لوگوں نے کہا : جی ہاں ! فرمایا اے اللہ تو گواہ رہ ۔
حدیث نمبر: 478
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ، حَدَّثَنِي شَقِيقُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ حُمْرَانَ ، قَالَ : كَانَ عُثْمَانُ قَاعِدًا فِي الْمَقَاعِدِ ، فَدَعَا بِوَضُوءٍ ، فَتَوَضَّأَ ، ثُمَّ قَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ فِي مَقْعَدِي هَذَا ، ثُمَّ قَالَ : " مَنْ تَوَضَّأَ مِثْلَ وُضُوئِي هَذَا ، ثُمَّ قَامَ فَرَكَعَ رَكْعَتَيْنِ ، غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ " ، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَغْتَرُّوا " .
مولانا ظفر اقبال
حمران کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ بنچ پر بیٹھے ہوئے تھے انہوں نے پانی منگوا کر خوب اچھی طرح وضو کیا اور فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی جگہ بہترین انداز میں وضو کرتے ہوئے دیکھا ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص میری طرح ایسا ہی وضو کرے اور مسجد میں آ کر دو رکعت نماز پڑھے تو اللہ تعالیٰ اس کے گزشتہ تمام گناہ معاف فرمادے گا ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا : ”دھوکے کا شکار نہ ہو جانا ۔“
…