حدیث نمبر: 399
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَوْفٌ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ يَعْنِي الْفَارِسِيَّ . قَالَ أَبِي أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ : وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا عَوْفٌ ، عَنْ يَزِيدَ ، قَالَ : قَالَ لَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ ، قُلْتُ لِعُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ : مَا حَمَلَكُمْ عَلَى أَنْ عَمَدْتُمْ إِلَى الْأَنْفَالِ وَهِيَ مِنَ الْمَثَانِي ، وَإِلَى بَرَاءَةٌ وَهِيَ مِنَ الْمِئِينَ ، فَقَرَنْتُمْ بَيْنَهُمَا ، وَلَمْ تَكْتُبُوا ، قَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ : بَيْنَهُمَا سَطْرًا : بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ ، وَوَضَعْتُمُوهَا فِي السَّبْعِ الطِّوَالِ ، مَا حَمَلَكُمْ عَلَى ذَلِكَ ؟ قَالَ عُثْمَانُ : إِنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ مِمَّا يَأْتِي عَلَيْهِ الزَّمَانُ يُنْزَلُ عَلَيْهِ مِنَ السُّوَرِ ذَوَاتِ الْعَدَدِ ، وَكَانَ إِذَا أُنْزِلَ عَلَيْهِ الشَّيْءُ يَدْعُو بَعْضَ مَنْ يَكْتُبُ عِنْدَهُ ، يَقُولُ : " ضَعُوا هَذَا فِي السُّورَةِ الَّتِي يُذْكَرُ فِيهَا كَذَا وَكَذَا " ، وَيُنْزَلُ عَلَيْهِ الْآيَاتُ ، فَيَقُولُ : " ضَعُوا هَذِهِ الْآيَاتِ فِي السُّورَةِ الَّتِي يُذْكَرُ فِيهَا كَذَا وَكَذَا " ، وَيُنْزَلُ عَلَيْهِ الْآيَةُ ، فَيَقُولُ : " ضَعُوا هَذِهِ الْآيَةَ فِي السُّورَةِ الَّتِي يُذْكَرُ فِيهَا كَذَا وَكَذَا " ، وَكَانَتْ الْأَنْفَالُ مِنْ أَوَائِلِ مَا أُنْزِلَ بِالْمَدِينَةِ ، وَبَرَاءَةٌ مِنْ آخِرِ الْقُرْآنِ ، فَكَانَتْ قِصَّتُهَا شَبِيهًا بِقِصَّتِهَا ، فَقُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يُبَيِّنْ لَنَا أَنَّهَا مِنْهَا ، وَظَنَنْتُ أَنَّهَا مِنْهَا ، فَمِنْ ثَمَّ قَرَنْتُ بَيْنَهُمَا ، وَلَمْ أَكْتُبْ بَيْنَهُمَا سَطْرًا : بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ ، قَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ : وَوَضَعْتُهَا فِي السَّبْعِ الطِّوَالِ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے عرض کیا کہ آپ لوگوں نے سورت انفال کو ”جو مثانی میں سے ہے“ سورت برائۃ کے ساتھ ”جو کہ مئین میں سے ہے“ ملانے پر کس چیز کی وجہ سے اپنے آپ کو مجبور پایا اور آپ نے ان کے درمیان ایک سطر کی ”بسم اللہ“ تک نہیں لکھی اور ان دونوں کو ”سبع طوال“ میں شمار کر لیا ، آپ نے ایسا کیوں کیا ؟ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر جب وحی کا نزول ہو رہا تھا تو بعض اوقات کئی کئی سورتیں اکٹھی نازل ہو جاتی تھیں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت تھی کہ جب کوئی وحی نازل ہوتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے کسی کاتب وحی کو بلا کر اسے لکھواتے اور فرماتے کہ اسے فلاں سورت میں فلاں جگہ رکھو ، بعض اوقات کئی آیتیں نازل ہوتیں ، اس موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم بتا دیتے کہ ان آیات کو اس سورت میں رکھو اور بعض اوقات ایک ہی آیت نازل ہوتی لیکن اس کی جگہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم بتا دیا کرتے تھے ۔ سورت انفال مدینہ منورہ کے ابتدائی دور میں نازل ہوئی تھی ، جبکہ سورت برائۃ نزول کے اعتبار سے قرآن کریم کا آخری حصہ ہے اور دونوں کے واقعات و احکام ایک دوسرے سے حد درجہ مشابہت رکھتے تھے ، ادھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم دنیا سے رخصت ہو گئے اور ہم پر یہ واضح نہ فرما سکے کہ یہ اس کا حصہ ہے یا نہیں ؟ میرا گمان یہ ہوا کہ سورت برائۃ ، سورت انفال ہی کا جزو ہے اس لئے میں نے ان دونوں کو ملا دیا اور ان دونوں کے درمیان ، بسم اللہ والی سطر بھی نہیں لکھی اور اسے ”سبع طوال“ میں شمار کر لیا ۔
حدیث نمبر: 400
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، أَخْبَرَنِي أَبِي ، أَنَّ حُمْرَانَ أَخْبَرَهُ ، قَالَ : تَوَضَّأَ عُثْمَانُ عَلَى الْبَلَاطِ ، ثُمَّ قَالَ : لَأُحَدِّثَنَّكُمْ حَدِيثًا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، لَوْلَا آيَةٌ فِي كِتَابِ اللَّهِ مَا حَدَّثْتُكُمُوهُ ، سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " مَنْ تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ ، ثُمَّ دَخَلَ فَصَلَّى ، غُفِرَ لَهُ مَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الصَّلَاةِ الْأُخْرَى حَتَّى يُصَلِّيَهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حمران کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے پتھر کی چوکی پر بیٹھ کر وضو فرمایا اس کے بعد فرمایا کہ میں تم سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی سنی ہوئی ایک حدیث بیان کرتا ہوں ، اگر کتاب اللہ میں ایک آیت (جو کتمان علم کی مذمت پر مشتمل ہے ) نہ ہوتی تو میں تم سے یہ حدیث کبھی بیان نہ کرتا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”جو شخص وضو کرے اور خوب اچھی طرح کرے ، پھر مسجد میں داخل ہو کر نماز پڑھے ، تو اگلی نماز پڑھنے تک اس کے سارے گناہ معاف ہو جائیں گے ۔ “
حدیث نمبر: 401
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، حَدَّثَنِي نَافِعٌ ، عَنْ نُبَيْهِ بْنِ وَهْبٍ ، عَنْ أَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الْمُحْرِمُ لَا يَنْكِحُ ، وَلَا يُنْكِحُ ، وَلَا يَخْطُبُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ محرم نہ خود نکاح کرے اور نہ کسی کا نکاح کروائے ، بلکہ پیغام نکاح بھی نہ بھیجے ۔
حدیث نمبر: 402
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ حَرْمَلَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ سَعِيدًا يَعْنِي ابْنَ الْمُسَيَّبِ ، قَالَ : خَرَجَ عُثْمَانُ حَاجًّا ، حَتَّى إِذَا كَانَ بِبَعْضِ الطَّرِيقِ ، قِيلَ لِعَلِيٍّ : " إِنَّهُ قَدْ نَهَى عَنِ التَّمَتُّعِ بِالْعُمْرَةِ إِلَى الْحَجِّ ، فَقَالَ عَلِيٌّ لِأَصْحَابِهِ : إِذَا ارْتَحَلَ فَارْتَحِلُوا ، فَأَهَلَّ عَلِيٌّ وَأَصْحَابُهُ بِعُمْرَةٍ ، فَلَمْ يُكَلِّمْهُ عُثْمَانُ فِي ذَلِكَ ، فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ : أَلَمْ أُخْبَرْ أَنَّكَ نَهَيْتَ عَنِ التَّمَتُّعِ بِالْعُمْرَةِ ؟ قَالَ : فَقَالَ : بَلَى ، قَالَ : فَلَمْ تَسْمَعْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَمَتَّعَ ؟ قَالَ : بَلَى " .
مولانا ظفر اقبال
سعید بن مسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ حج کے ارادے سے نکلے ، جب راستے کا کچھ حصہ طے کر چکے تو کسی نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے جا کر کہا کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے حج تمتع سے منع کیا ہے ، یہ سن کر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اپنے ساتھیوں سے فرمایا : جب وہ روانہ ہوں تو تم بھی کوچ کرو ، چنانچہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں نے عمرہ کا احرام باندھا ، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو پتہ چلا تو انہوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے اس سلسلے میں کوئی بات نہ کی ، بلکہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے خود ہی ان سے پوچھا کہ مجھے پتہ چلا ہے کہ آپ حج تمتع سے روکتے ہیں ؟ انہوں نے فرمایا : ہاں ! سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ کیا آپ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حج تمتع کرنے کے بارے میں نہیں سنا ؟ انہوں نے فرمایا : کیوں نہیں ۔
حدیث نمبر: 403
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ إِسْرَائِيلَ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ شَقِيقٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عُثْمَانَ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " تَوَضَّأَ ثَلَاثًا ثَلَاثًا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اعضاء وضو کو تین تین مرتبہ دھویا ۔
حدیث نمبر: 404
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ ، عَنْ أبي أَنَسٍ : أَنَّ عُثْمَانَ تَوَضَّأَ بِالْمَقَاعِدِ ثَلَاثًا ثَلَاثًا ، وَعِنْدَهُ رِجَالٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : أَلَيْسَ هَكَذَا رَأَيْتُمْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ ؟ قَالُوا : نَعَمْ .
مولانا ظفر اقبال
ابوانس رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے اپنے اعضاء وضو کو تین تین مرتبہ دھویا ، اس وقت ان کے پاس چند صحابہ کرام رضی اللہ عنہم بھی موجود تھے ، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے ان سے پوچھا کہ کیا آپ لوگوں نے نبی صلی اللہ علیہ کو اسی طرح وضو کرتے ہوئے نہیں دیکھا ؟ انہوں نے کہا : جی ہاں ! اسی طرح دیکھا ہے ۔
حدیث نمبر: 405
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ . وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عُثْمَانَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَفْضَلُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ تم میں سب سے افضل اور بہتر وہ ہے جو قرآن سیکھے اور سکھائے ۔
حدیث نمبر: 406
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ جَامِعِ بْنِ شَدَّادٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ حُمْرَانَ بْنَ أَبَانَ يُحَدِّثُ ، عَنْ عُثْمَانَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ أَتَمَّ الْوُضُوءَ كَمَا أَمَرَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ ، فَالصَّلَوَاتُ الْمَكْتُوبَاتُ كَفَّارَاتٌ لِمَا بَيْنَهُنَّ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص حکم الٰہی کے مطابق اچھی طرح مکمل وضو کرے تو فرض نمازیں درمیانی اوقات کے گناہوں کا کفارہ بن جائیں گی ۔
حدیث نمبر: 407
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ ، قَالَ : قَالَ قَيْسٌ : فَحَدَّثَنِي أَبُو سَهْلَةَ : أَنَّ عُثْمَانَ قَالَ يَوْمَ الدَّارِ حِينَ حُصِرَ : " إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَهِدَ إِلَيَّ عَهْدًا ، فَأَنَا صَابِرٌ عَلَيْهِ " ، قَالَ قَيْسٌ : فَكَانُوا يَرَوْنَهُ ذَلِكَ الْيَوْمَ .
مولانا ظفر اقبال
ابوسہلہ کہتے ہیں کہ جس دن سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا محاصرہ ہوا اور وہ ”یوم الدار“ کے نام سے مشہور ہوا ، انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے ایک عہد لیا تھا ، میں اس پر ثابت قدم اور قائم ہوں ۔
حدیث نمبر: 408
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ . وَعَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَا : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ حَكِيمٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ ، قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ : عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ صَلَّى صَلَاةَ الْعِشَاءِ ، وَالصُّبْحِ فِي جَمَاعَةٍ ، فَهُوَ كَقِيَامِ لَيْلَةٍ " ، وَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ : " مَنْ صَلَّى الْعِشَاءَ فِي جَمَاعَةٍ ، فَهُوَ كَقِيَامِ نِصْفِ لَيْلَةٍ ، وَمَنْ صَلَّى الصُّبْحَ فِي جَمَاعَةٍ ، فَهُوَ كَقِيَامِ لَيْلَةٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص نماز عشاء اور نماز فجر جماعت کے ساتھ پڑھ لے تو یہ ایسے ہے جیسے ساری رات قیام کرنا اور ایک روایت میں اس طرح ہے کہ جو شخص عشاء کی نماز جماعت کے ساتھ پڑھ لے تو یہ ایسے ہے جیسے نصف رات قیام کرنا اور جو شخص فجر کی نماز بھی جماعت کے ساتھ پڑھ لے تو یہ ساری رات قیام کرنے کی طرح ہے ۔
حدیث نمبر: 409
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ صَلَّى الْعِشَاءَ فِي جَمَاعَةٍ ، فَهُوَ كَمَنْ قَامَ نِصْفَ اللَّيْلِ ، وَمَنْ صَلَّى الصُّبْحَ فِي جَمَاعَةٍ ، فَهُوَ كَمَنْ قَامَ اللَّيْلَ كُلَّهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص نماز عشاء اور نماز فجر جماعت کے ساتھ پڑھ لے تو یہ ایسے ہے جیسے ساری رات قیام کرنا اور ایک روایت میں اس طرح ہے کہ جو شخص عشاء کی نماز جماعت کے ساتھ پڑھ لے تو یہ ایسے ہے جیسے نصف رات قیام کرنا اور جو شخص فجر کی نماز بھی جماعت کے ساتھ پڑھ لے تو یہ ساری رات قیام کرنے کی طرح ہے ۔
حدیث نمبر: 410
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ يَعْنِي ابْنَ عُبَيْدٍ ، حَدَّثَنِي عَطَاءُ بْنُ فَرُّوخَ مَوْلَى الْقُرَشِيِّينَ : أَنَّ عُثْمَانَ اشْتَرَى مِنْ رَجُلٍ أَرْضًا ، فَأَبْطَأَ عَلَيْهِ ، فَلَقِيَهُ ، فَقَالَ لَهُ : مَا مَنَعَكَ مِنْ قَبْضِ مَالِكَ ؟ قَالَ : إِنَّكَ غَبَنْتَنِي ، فَمَا أَلْقَى مِنَ النَّاسِ أَحَدًا إِلَّا وَهُوَ يَلُومُنِي ، قَالَ : أَوَ ذَلِكَ يَمْنَعُكَ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : فَاخْتَرْ بَيْنَ أَرْضِكَ وَمَالِكَ ، ثُمَّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَدْخَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ الْجَنَّةَ رَجُلًا كَانَ سَهْلًا مُشْتَرِيًا ، وَبَائِعًا ، وَقَاضِيًا ، وَمُقْتَضِيًا " .
مولانا ظفر اقبال
عطاء بن فروخ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے ایک شخص سے کوئی زمین خریدی ، لیکن جب اس کی طرف سے تاخیر ہوئی تو انہوں نے اس سے ملاقات کی اور اس سے فرمایا کہ تم اپنی رقم پر قبضہ کیوں نہیں کرتے ؟ اس نے کہا کہ آپ نے مجھے دھوکہ دیا ، میں جس آدمی سے بھی ملتا ہوں وہ مجھے ملامت کرتا ہے ، انہوں نے فرمایا کہ کیا تم صرف اس وجہ سے رکے ہوئے ہو ؟ اس نے اثبات میں جواب دیا ، فرمایا : پھر اپنی زمین اور پیسوں میں سے کسی ایک کو ترجیح دے لو (اگر تم اپنی زمین واپس لینا چاہتے ہو تو وہ لے لو اور اگر پیسے لینا چاہتے ہو تو وہ لے لو) کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” اللہ تعالیٰ اس شخص کو جنت میں ضرور داخل کرے گا جو نرم خو ہو خواہ خریدار ہو یا دکاندار ، ادا کرنے والا ہو یا تقاضا کرنے والا ۔ “
حدیث نمبر: 411
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ ، عَنْ أَبِي مَعْشَرٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، قَالَ : كُنْتُ مَعَ ابْنِ مَسْعُودٍ ، وَهُوَ عِنْدَ عُثْمَانَ ، فَقَالَ لَهُ عُثْمَانُ : مَا بَقِيَ لِلنِّسَاءِ مِنْكَ ؟ قَالَ : فَلَمَّا ذُكِرَتْ النِّسَاءُ ، قَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ : ادْنُ يَا عَلْقَمَةُ ، قَالَ : وَأَنَا رَجُلٌ شَابٌّ ، فَقَالَ لَهُ عُثْمَانُ : خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى فِتْيَةٍ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ ، فَقَالَ : " مَنْ كَانَ مِنْكُمْ ذَا طَوْلٍ ، فَلْيَتَزَوَّجْ ، فَإِنَّهُ أَغَضُّ لِلطَّرْفِ ، وَأَحْصَنُ لِلْفَرْجِ ، وَمَنْ لَا ، فَإِنَّ الصَّوْمَ لَهُ وِجَاءٌ " .
مولانا ظفر اقبال
علقمہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا ، جو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے ، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے ان سے پوچھا کہ عورتوں کے لئے آپ کے پاس کیا باقی بچا ؟ عورتوں کا تذکرہ ہوا تو سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے مجھے قریب ہونے کے لئے کہا کہ میں اس وقت نوجوان تھا ، پھر خود سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ ہی فرمانے لگے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مہاجرین کے نوجوانوں کی ایک جماعت کے پاس تشریف لائے اور فرمایا کہ تم میں سے جس کے پاس استطاعت ہو اسے شادی کر لینی چاہیے کیونکہ اس سے نگاہیں جھک جاتی ہیں اور شرمگاہ کی بھی حفاظت ہو جاتی ہے اور جو ایسا نہ کر سکے ، وہ روزے رکھے کیونکہ یہ شہوت کو توڑ دیتے ہیں ۔
حدیث نمبر: 412
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، وَبَهْزٌ ، وَحَجَّاجٌ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَلْقَمَةَ بْنَ مَرْثَدٍ يُحَدِّثُ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " إِنَّ خَيْرَكُمْ مَنْ عَلَّمَ الْقُرْآنَ ، أَوْ تَعَلَّمَهُ " ، قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، وَحَجَّاجٌ : فَقَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ : فَذَاكَ الَّذِي أَقْعَدَنِي هَذَا الْمَقْعَدَ ، قَالَ حَجَّاجٌ : قَالَ شُعْبَةُ : وَلَمْ يَسْمَعْ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ مِنْ عُثْمَانَ ، وَلَا مِنْ عَبْدِ اللَّهِ ، وَلَكِنْ قَدْ سَمِعَ مِنْ عَلِيٍّ ، قَالَ أَبِي : وَقَالَ بَهْزٌ : عَنْ شُعْبَةَ ، قَالَ : عَلْقَمَةُ بْنُ مَرْثَدٍ أَخْبَرَنِي ، وَقَالَ : " خَيْرُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”تم میں سب سے بہترین وہ ہے جو قرآن سیکھے اور سکھائے“ ، راوی حدیث ابوعبدالرحمن سلمی کہتے ہیں کہ اسی حدیث نے مجھے یہاں (قرآن پڑھانے کے لئے ) بٹھا رکھا ہے ۔
حدیث نمبر: 413
حَدَّثَنَاه عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، أَخْبَرَنِي عَلْقَمَةُ بْنُ مَرْثَدٍ ، وَقَالَ فِيهِ : " مَنْ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ ، أَوْ عَلَّمَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی روایت کی گئی ہے ۔
حدیث نمبر: 414
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، وَحَجَّاجٌ ، قَالَا : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَجُلًا يُحَدِّثُ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " كَانَ رَجُلٌ سَمْحًا بَائِعًا وَمُبْتَاعًا ، وَقَاضِيًا وَمُقْتَضِيًا ، فَدَخَلَ الْجَنَّةَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو آدمی بائع (بچنے والا) اور مشتری (خریدنے والا اور بیچنے والا) ہونے میں یا ادا کرنے والا اور تقاضا کرنے والا ہونے کی صورت میں نرم خو ہو ، وہ جنت میں داخل ہو گا ۔ “
حدیث نمبر: 415
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ حُمْرَانَ بْنِ أَبَانَ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ : أَنَّهُ دَعَا بِمَاءٍ فَتَوَضَّأَ ، وَمَضْمَضَ ، وَاسْتَنْشَقَ ، ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا ، وَذِرَاعَيْهِ ثَلَاثًا ثَلَاثًا ، وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ وَظَهْرِ قَدَمَيْهِ ، ثُمَّ ضَحِكَ ، فَقَالَ لِأَصْحَابِهِ : أَلَا تَسْأَلُونِي عَمَّا أَضْحَكَنِي ؟ فَقَالُوا : مِمَّ ضَحِكْتَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ؟ قَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعَا بِمَاءٍ قَرِيبًا مِنْ هَذِهِ الْبُقْعَةِ ، فَتَوَضَّأَ كَمَا تَوَضَّأْتُ ، ثُمَّ ضَحِكَ ، فَقَالَ : " أَلَا تَسْأَلُونِي مَا أَضْحَكَنِي ؟ " فَقَالُوا : مَا أَضْحَكَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ فَقَالَ : " إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا دَعَا بِوَضُوءٍ ، فَغَسَلَ وَجْهَهُ ، حَطَّ اللَّهُ عَنْهُ كُلَّ خَطِيئَةٍ أَصَابَهَا بِوَجْهِهِ ، فَإِذَا غَسَلَ ذِرَاعَيْهِ كَانَ كَذَلِكَ ، وَإِنْ مَسَحَ بِرَأْسِهِ كَانَ كَذَلِكَ ، وَإِذَا طَهَّرَ قَدَمَيْهِ كَانَ كَذَلِكَ " .
مولانا ظفر اقبال
حمران کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے وضو کے لئے پانی منگوایا ، چنانچہ کلی کی ، ناک میں پانی ڈالا اور تین مرتبہ چہرہ دھویا اور دونوں بازوؤں کو تین تین مرتبہ دھویا ، سر کا مسح کیا اور دونوں پاؤں کے اوپر والے حصے پر بھی مسح فرمایا اور ہنس پڑے ، پھر اپنے ساتھیوں سے پوچھا کہ تم مجھ سے ہنسنے کی وجہ کیوں نہیں پوچھتے ؟ لوگوں نے کہا : امیر المؤمنین ! آپ ہی بتائیے کہ آپ کیوں ہنسے ؟ فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے بھی اسی طرح پانی منگوایا اور اس جگہ کے قریب بیٹھ کر اسی طرح وضو کیا جیسے میں نے کیا ، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی ہنس پڑے اور اپنے ساتھیوں سے پوچھا کہ تم مجھ سے ہنسنے کی وجہ کیوں نہیں پوچھتے ؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے پوچھا : یا رسول اللہ ! آپ کو کس چیز نے ہنسایا ؟ فرمایا : ” انسان جب وضو کا پانی منگوائے اور چہرہ دھوئے تو اللہ اس کے وہ تمام گناہ معاف فرما دیتا ہے جو چہرے سے ہوتے ہیں ، جب بازو دھوتا ہے تب بھی ایسا ہی ہوتا ہے ، جب سر کا مسح کرتا ہے تب بھی ایسا ہی ہوتا ہے اور جب پاؤں کو پاک کرتا ہے تب بھی ایسا ہی ہوتا ہے ۔ “
حدیث نمبر: 416
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، أَخْبَرَنَا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ سَعْدٍ مَوْلَى حَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ ، عَنْ رَبَاحٍ قَالَ : زَوَّجَنِي أَهْلِي أَمَةً لَهُمْ رُومِيَّةً ، فَوَقَعْتُ عَلَيْهَا ، فَوَلَدَتْ لِي غُلَامًا أَسْوَدَ مِثْلِي ، فَسَمَّيْتُهُ عَبْدَ اللَّهِ ، ثُمَّ وَقَعْتُ عَلَيْهَا ، فَوَلَدَتْ لِي غُلَامًا أَسْوَدَ مِثْلِي ، فَسَمَّيْتُهُ عُبَيْدَ اللَّهِ ، ثُمَّ طَبِنَ لَهَا غُلَامٌ لِأَهْلِي رُومِيٌّ ، يُقَالُ لَهُ : يُوحَنَّسُ ، فَرَاطَنَهَا بِلِسَانِهِ ، قَالَ : فَوَلَدَتْ غُلَامًا كَأَنَّهُ وَزَغَةٌ مِنَ الْوَزَغَاتِ ، فَقُلْتُ لَهَا : مَا هَذَا ؟ قَالَتْ : هُوَ لِيُوحَنَّسَ ، قَالَ : فَرُفِعْنَا إِلَى أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ عُثْمَانَ ، قَالَ مَهْدِيٌّ : أَحْسَبُهُ قَالَ : سَأَلَهُمَا فَاعْتَرَفَا ، فَقَالَ : أَتَرْضَيَانِ أَنْ أَقْضِيَ بَيْنَكُمَا بِقَضَاءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : " فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى أَنَّ : الْوَلَدَ لِلْفِرَاشِ ، وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرَ " . قَالَ مَهْدِيٌّ : وَأَحْسَبُهُ قَالَ : جَلَدَهَا وَجَلَدَهُ ، وَكَانَا مَمْلُوكَيْنِ .
مولانا ظفر اقبال
رباح کہتے ہیں کہ میرے آقا نے اپنی ایک رومی باندی سے میری شادی کر دی ، میں اس کے پاس گیا تو اس سے مجھ جیسا ہی ایک کالا کلوٹا لڑکا پیدا ہو گیا ، میں نے اس کا نام عبداللہ رکھ دیا ، دوبارہ ایسا موقع آیا تو پھر ایک کالا کلوٹا لڑکا پیدا ہو گیا ، میں نے اس کا نام عبیداللہ رکھ دیا ۔ اتفاق کی بات ہے کہ میری بیوی پر میرے آقا کا ایک رومی غلام عاشق ہو گیا جس کا نام ”یوحنس“ تھا ، اس نے اسے اپنی زبان میں رام کر لیا ، چنانچہ اس مرتبہ جو بچہ پیدا ہوا وہ رومیوں کے رنگ کے مشابہ تھا ، میں نے اپنی بیوی سے پوچھا کہ یہ کیا ہے ؟ اس نے کہا کہ یہ یوحنس کا بچہ ہے ، ہم نے یہ معاملہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی خدمت میں پیش کیا، انہوں نے فرمایا « کہ کیا تم اس» بات پر راضی ہو کہ تمہارے درمیان وہی فیصلہ کروں جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فیصلہ یہ ہے کہ بچہ بستر والے کا ہو گا اور زانی کے لئے پتھر ہیں ۔
حدیث نمبر: 417
حَدَّثَنَا عبد الله : حَدَّثَنَا شَيْبَانُ أَبُو مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ رَبَاحٍ ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ ، قَالَ : فَرَفَعْتُهُمَا إِلَى أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ ، فَقَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى أَنَّ الْوَلَدَ لِلْفِرَاشِ . . . فَذَكَرَ مِثْلَهُ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث ایک دوسری سند سے بھی مروی ہے جو عبارت میں گزری ۔
حدیث نمبر: 418
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ حُمْرَانَ ، قَالَ : دَعَا عُثْمَانُ بِمَاءٍ وَهُوَ عَلَى الْمَقَاعِدِ ، فَسَكَبَ عَلَى يَمِينِهِ ، فَغَسَلَهَا ، ثُمَّ أَدْخَلَ يَمِينَهُ فِي الْإِنَاءِ ، فَغَسَلَ كَفَّيْهِ ثَلَاثًا ، ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثَ مِرَارٍ ، وَمَضْمَضَ وَاسْتَنْثَرَ ، وَغَسَلَ ذِرَاعَيْهِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ، ثُمَّ مَسَحَ بِرَأْسِهِ ، ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَيْهِ إِلَى الْكَعْبَيْنِ ثَلَاثَ مِرَارٍ ، ثُمَّ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " مَنْ تَوَضَّأَ نَحْوَ وُضُوئِي هَذَا ، ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ لَا يُحَدِّثُ نَفْسَهُ فِيهِمَا ، غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حمران کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ بنچ پر بیٹھے ہوئے تھے ، انہوں نے پانی منگوایا ، سب سے پہلے اسے بائیں ہاتھ پر ڈالا ، پھر برتن میں ہاتھ ڈال کر دونوں ہاتھوں کو تین مرتبہ دھویا ، پھر تین مرتبہ چہرہ دھویا ، کلی بھی کی اور ناک میں پانی بھی ڈالا ، تین مرتبہ کہنیوں سمیت بازؤوں کو بھی دھویا ، پھر سر کا مسح کر کے تین مرتبہ ٹخنوں سمیت پاؤں دھو لئے اور فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص میری طرح ایسا ہی وضو کرے اور دو رکعت نماز اس طرح پڑھے کہ اپنے دل میں خیالات اور وساوس نہ لائے تو اللہ تعالیٰ اس کے گزشتہ تمام گناہ معاف فرما دے گا ۔
حدیث نمبر: 419
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ نَصْرٍ التِّرْمِذِيُّ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ حُمْرَانَ مَوْلَى عُثْمَانَ : أَنَّهُ رَأَى عُثْمَانَ دَعَا بِإِنَاءٍ . . . فَذَكَرَ نَحْوَهُ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث ایک دوسری سند سے بھی مروی ہے ۔
حدیث نمبر: 420
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو قَطَنٍ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ يَعْنِي ابْنَ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَ : أَشْرَفَ عُثْمَانُ مِنَ الْقَصْرِ ، وَهُوَ مَحْصُورٌ ، فَقَالَ : أَنْشُدُ بِاللَّهِ مَنْ شَهِدَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ حِرَاءٍ إِذْ اهْتَزَّ الْجَبَلُ ، فَرَكَلَهُ بِقَدَمِهِ ، ثُمَّ قَالَ : " اسْكُنْ حِرَاءُ ، لَيْسَ عَلَيْكَ إِلَّا نَبِيٌّ ، أَوْ صِدِّيقٌ ، أَوْ شَهِيدٌ " ، وَأَنَا مَعَهُ ؟ فَانْتَشَدَ لَهُ رِجَالٌ . قَالَ : أَنْشُدُ بِاللَّهِ مَنْ شَهِدَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ بَيْعَةِ الرِّضْوَانِ ، إِذْ بَعَثَنِي إِلَى الْمُشْرِكِينَ ، إِلَى أَهْلِ مَكَّةَ ، قَالَ : " هَذِهِ يَدِي ، وَهَذِهِ يَدُ عُثْمَانَ " ، فَبَايَعَ لِي ؟ فَانْتَشَدَ لَهُ رِجَالٌ . قَالَ : أَنْشُدُ بِاللَّهِ مَنْ شَهِدَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ يُوَسِّعُ لَنَا بِهَذَا الْبَيْتِ فِي الْمَسْجِدِ ، بِبَيْتٍ لَهُ فِي الْجَنَّةِ ؟ " ، فَابْتَعْتُهُ مِنْ مَالِي فَوَسَّعْتُ بِهِ الْمَسْجِدَ ؟ فَانْتَشَدَ لَهُ رِجَالٌ . قَالَ : وَأَنْشُدُ بِاللَّهِ مَنْ شَهِدَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ جَيْشِ الْعُسْرَةِ ، قَالَ : " مَنْ يُنْفِقُ الْيَوْمَ نَفَقَةً مُتَقَبَّلَةً ؟ " فَجَهَّزْتُ نِصْفَ الْجَيْشِ مِنْ مَالِي ؟ قَالَ : فَانْتَشَدَ لَهُ رِجَالٌ . وَأَنْشُدُ بِاللَّهِ مَنْ شَهِدَ رُومَةَ يُبَاعُ مَاؤُهَا ابْنَ السَّبِيلِ ، فَابْتَعْتُهَا مِنْ مَالِي ، فَأَبَحْتُهَا لِابْنِ السَّبِيلِ ؟ قَالَ : فَانْتَشَدَ لَهُ رِجَالٌ .
مولانا ظفر اقبال
ابوسلمہ بن عبدالرحمن کہتے ہیں کہ جن دنوں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ محصور تھے ، ایک مرتبہ انہوں نے اپنے گھر کے بالاخانے سے جھانک کر فرمایا کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر رہنے والوں کو اللہ کا واسطہ دے کر ”یوم حراء“ کے حوالے سے پوچھتا ہوں کہ جب جبل حراء ہلنے لگا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر اپنا پاؤں مبارک مار کر فرمایا : ”اے جبل حراء ! ٹھہر جا ، کہ تجھ پر ایک نبی ، ایک صدیق اور ایک شہید کے کوئی نہیں ہے“ ، اس موقع پر میں موجود تھا ؟ اس پر کئی لوگوں نے ان کی تائید کی ۔ پھر انہوں نے فرمایا کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر رہنے والوں کو اللہ کا واسطہ دے کر ”بیعت رضوان“ کے حوالے سے پوچھتا ہوں کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے مشرکین مکہ کی طرف بھیجا تھا اور اپنے ہاتھ کو میرا ہاتھ قرار دے کر میری طرف سے میرے خون کا انتقام لینے پر بیعت کی تھی ؟ اس پر کئی لوگوں نے پھر ان کی تائید کی ۔ پھر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر رہنے والوں کو اللہ کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا تھا : ”جنت میں مکان کے عوض ہماری اس مسجد کو کون وسیع کرے گا ؟“ تو میں نے اپنے مال سے جگہ خرید کر اس مسجد کو وسیع نہیں کیا تھا ؟ اس پر بھی لوگوں نے ان کی تائید کی ۔ پھر انہوں نے فرمایا کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہم کو اللہ کا واسطہ دے کر ”جیش عسرۃ“ (جو غزوہ تبوک کا دوسرا نام ہے ) کے حوالے سے پوچھتا ہوں جب کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا : ”آج کون خرچ کرے گا ؟ اس کا دیا ہوا مقبول ہو گا“ ، کیا میں نے اپنے مال سے نصف لشکر کو سامان مہیا نہیں کیا تھا ؟ اس پر بھی لوگوں نے ان کی تائید کی ۔ پھر انہوں نے فرمایا کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہم کو اللہ کا واسطہ دے کر ”بیر رومہ“ کے حوالے سے پوچھتا ہوں جن کا پانی مسافر تک کو بیچا جاتا تھا ، میں نے اپنے مال سے خرید کر مسافروں کے لئے بھی وقف کر دیا ، کیا ایسا ہے یا نہیں ؟ لوگوں نے اس پر بھی ان کی تائید کی ۔
حدیث نمبر: 421
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ ، عَنْ حُمْرَانَ بْنِ أَبَانَ ، قَالَ : رَأَيْتُ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ تَوَضَّأَ ، فَأَفْرَغَ عَلَى يَدَيْهِ ثَلَاثًا ، فَغَسَلَهُمَا ، ثُمَّ مَضْمَضَ وَاسْتَنْثَرَ ، ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا ، ثُمَّ غَسَلَ يَدَهُ الْيُمْنَى إِلَى الْمِرْفَقِ ثَلَاثًا ، ثُمَّ الْيُسْرَى مِثْلَ ذَلِكَ ، ثُمَّ مَسَحَ بِرَأْسِهِ ، ثُمَّ غَسَلَ قَدَمَهُ الْيُمْنَى ثَلَاثًا ، ثُمَّ الْيُسْرَى مِثْلَ ذَلِكَ ، ثُمَّ قَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ نَحْوًا مِنْ وُضُوئِي هَذَا ، ثُمَّ قَالَ : " مَنْ تَوَضَّأَ وُضُوئِي هَذَا ، ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ لَا يُحَدِّثُ فِيهِمَا نَفْسَهُ ، غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حمران کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو وضو کرتے ہوئے دیکھا ، انہوں نے سب سے پہلے اپنے دونوں ہاتھوں پر پانی ڈالا ، پھر دونوں ہاتھوں کو تین مرتبہ دھویا ، پھر تین مرتبہ چہرہ دھویا ، کلی بھی کی اور ناک میں پانی بھی ڈالا ، تین مرتبہ کہنیوں سمیت بازؤوں کو بھی دھویا ، پھر سر کا مسح کر کے تین تین مرتبہ ٹخنوں سمیت پاؤں دھو لئے اور فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح وضو کرتے ہوئے دیکھا ہے جس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا تھا کہ جو شخص میری طرح ایسا ہی وضو کرے اور دو رکعت نماز اس طرح پڑھے کہ اپنے دل میں خیالات اور وساوس نہ لائے تو اللہ تعالیٰ اس کے گزشتہ تمام گناہ معاف فرمادے گا ۔
حدیث نمبر: 422
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ نُبَيْهِ بْنِ وَهْبٍ ، قَالَ : أَرْسَلَ عُمَرُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ إِلَى أَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ : " أَيُكَحِّلُ عَيْنَيْهِ وَهُوَ مُحْرِمٌ ؟ أَوْ : بِأَيِّ شَيْءٍ يُكَحِّلُهُمَا وَهُوَ مُحْرِمٌ ؟ فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ : أَنْ يُضَمِّدَهُمَا بِالصَّبِرِ ، فَإِنِّي سَمِعْتُ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ يُحَدِّثُ ذَلِكَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
مولانا ظفر اقبال
نبیہ بن وہب کہتے ہیں کہ عمر بن عبیداللہ نے ایک مرتبہ سیدنا ابان بن عثمان رضی اللہ عنہ سے یہ مسئلہ دریافت کروایا کہ کیا محرم آنکھوں میں سرمہ لگا سکتا ہے ؟ انہوں نے جواب میں کہلا بھیجا کہ صبر کا سرمہ لگا سکتا ہے (صبر کرے جب تک احرام نہ کھل جائے ، سرمہ نہ لگائے ) کیونکہ میں نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے ایسی حدیث بیان کرتے ہوئے سنا ہے ۔
حدیث نمبر: 423
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ حُدَيْرٍ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُبَيْدٍ ، عَنْ حُمْرَانَ بْنِ أَبَانَ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ عَلِمَ أَنَّ الصَّلَاةَ حَقٌّ وَاجِبٌ ، دَخَلَ الْجَنَّةَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”جو شخص اس بات کا یقین رکھتا ہو کہ نماز برحق اور واجب ہے ، وہ جنت میں داخل ہو گا ۔ “
حدیث نمبر: 424
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ ، حَدَّثَنِي أبو معشر يعني البراء وَاسْمُهُ يُوسُفُ بْنُ يَزِيدَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ حَرْمَلَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، قَالَ : حَجَّ عُثْمَانُ ، حَتَّى إِذَا كَانَ فِي بَعْضِ الطَّرِيقِ ، أُخْبِرَ عَلِيٌّ : أَنَّ عُثْمَانَ نَهَى أَصْحَابَهُ عَنِ التَّمَتُّعِ بِالْعُمْرَةِ ، وَالْحَجِّ ، فقال علي لأصحابه : إذا راح ، فروحوا ، فأهل علي وأصحابه بعمرة ، فلم يكلمهم عثمان ، فقال علي : " أَلَمْ أُخْبَرْ أَنَّكَ نَهَيْتَ عَنِ التَّمَتُّعِ ، أَلَمْ يَتَمَتَّعْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : فَمَا أَدْرِي مَا أَجَابَهُ عُثْمَانُ " .
مولانا ظفر اقبال
سعید بن مسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ حج کے ارادے سے نکلے ، جب راستے کا کچھ حصہ طے کر چکے تو کسی نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے جا کر کہا کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے حج تمتع سے منع کیا ہے ، یہ سن کر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اپنے ساتھیوں سے فرمایا : جب وہ روانہ ہوں تو تم بھی کوچ کرو ، چنانچہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں نے عمرہ کا احرام باندھا ، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو پتہ چلا تو انہوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے اس سلسلے میں کوئی بات نہ کی ، بلکہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے خود ہی ان سے پوچھا کہ مجھے پتہ چلا ہے کہ آپ حج تمتع سے روکتے ہیں ؟ انہوں نے فرمایا : ہاں ! سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حج تمتع نہیں کیا تھا ؟ راوی کہتے ہیں کہ مجھے معلوم نہیں کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے انہیں کیا جواب دیا ۔
حدیث نمبر: 425
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَوْسِ بْنِ الْحَدَثَانِ ، قَالَ : أَرْسَلَ إِلَيَّ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ، فَبَيْنَا أَنَا كَذَلِكَ ، إِذْ جَاءَهُ مَوْلَاهُ يَرْفَأُ ، فَقَالَ : هَذَا عُثْمَانُ ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ ، وَسَعْدٌ ، وَالزُّبَيْرُ بْنُ الْعَوَّامِ ، قَالَ : وَلَا أَدْرِي أَذَكَرَ طَلْحَةَ أَمْ لَا ، يَسْتَأْذِنُونَ عَلَيْكَ ، قَالَ : ائْذَنْ لَهُمْ ، ثُمَّ مَكَثَ سَاعَةً ، ثُمَّ جَاءَ ، فَقَالَ : هَذَا الْعَبَّاسُ ، وَعَلِيٌّ ، يَسْتَأْذِنَانِ عَلَيْكَ ، قَالَ : ائْذَنْ لَهُمَا ، فَلَمَّا دَخَلَ الْعَبَّاسُ ، قَالَ : يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ، اقْضِ بَيْنِي وَبَيْنَ هَذَا ، وَهُمَا حِينَئِذٍ يَخْتَصِمَانِ فِيمَا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ مِنْ أَمْوَالِ بَنِي النَّضِيرِ ، فَقَالَ الْقَوْمُ : اقْضِ بَيْنَهُمَا يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ، وَأَرِحْ كُلَّ وَاحِدٍ مِنْ صَاحِبِهِ ، فَقَدْ طَالَتْ خُصُومَتُهُمَا ، فَقَالَ عُمَرُ : أَنْشُدُكُمْ اللَّهَ الَّذِي بِإِذْنِهِ تَقُومُ السَّمَوَاتُ وَالْأَرْضُ ، أَتَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا نُورَثُ ، مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ " ؟ قَالُوا : قَدْ قَالَ ذَلِكَ ، وَقَالَ لَهُمَا مِثْلَ ذَلِكَ ، فَقَالَا : نَعَمْ ، قَالَ : فَإِنِّي سَأُخْبِرُكُمْ عَنْ هَذَا الْفَيْءِ ، إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ خَصَّ نَبِيَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْهُ بِشَيْءٍ لَمْ يُعْطِهِ غَيْرَهُ ، فَقَالَ : وَمَا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ مِنْهُمْ فَمَا أَوْجَفْتُمْ عَلَيْهِ مِنْ خَيْلٍ وَلا رِكَابٍ سورة الحشر آية 6 ، وَكَانَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاصَّةً ، وَاللَّهِ مَا احْتَازَهَا دُونَكُمْ ، وَلَا اسْتَأْثَرَ بِهَا عَلَيْكُمْ ، لَقَدْ قَسَمَهَا بَيْنَكُمْ ، وَبَثَّهَا فِيكُمْ ، حَتَّى بَقِيَ مِنْهَا هَذَا الْمَالُ ، فَكَانَ يُنْفِقُ عَلَى أَهْلِهِ مِنْهُ سَنَةً ، ثُمَّ يَجْعَلُ مَا بَقِيَ مِنْهُ مَجْعَلَ مَالِ اللَّهِ ، فَلَمَّا قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ : أَنَا وَلِيُّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَهُ ، أَعْمَلُ فِيهَا بِمَا كَانَ يَعْمَلُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهَا .
مولانا ظفر اقبال
مالک بن اوس بن حدثان کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے مجھے پیغام بھیج کر بلوایا ، ابھی ہم بیٹھے ہوئے تھے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا غلام جس کا نام ”یرفا“ تھا اندر آیا اور کہنے لگا کہ سیدنا عثمان ، عبدالرحمن ، سعد اور زبیر بن عوام رضی اللہ عنہم اندر آنے کی اجازت چاہتے ہیں ؟ فرمایا : بلا لو ، تھوڑی دیر بعد وہ غلام پھر آیا اور کہنے لگا کہ سیدنا عباس اور سیدنا علی رضی اللہ عنہما اندر آنے کی اجازت چاہتے ہیں ؟ فرمایا : انہیں بھی بلا لو ۔ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے اندر داخل ہوتے ہی فرمایا : امیر المؤمنین ! میرے اور ان کے درمیان فیصلہ کر دیجئے ، اس وقت ان کا جھگڑا بنو نضیر سے حاصل ہونے والے مال فئی کے بارے تھا ، لوگوں نے بھی کہا کہ امیر المؤمنین ! ان کے درمیان فیصلہ کر دیجئے اور ہر ایک کو دوسرے سے نجات عطاء فرمائیے کیونکہ اب ان کا جھگڑا بڑھتا ہی جا رہا ہے ۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں تمہیں اس اللہ کی قسم دیتا ہوں جس کے حکم سے زمین و آسمان قائم ہیں ، کیا آپ لوگ جانتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے : ” ہمارے مال میں وراثت جاری نہیں ہوتی ، ہم جو کچھ چھوڑ کر جاتے ہیں وہ سب صدقہ ہوتا ہے ؟“ لوگوں نے اثبات میں جواب دیا ، پھر انہوں نے سیدنا عباس، علی رضی اللہ عنہ سے بھی یہی سوال پوچھا: اور انہوں نے بھی تائید کی ، اس کے بعد انہوں نے فرمایا کہ میں تمہیں اس کی حقیقت سے آگاہ کرتا ہوں ۔ اللہ نے یہ مال فئی خصوصیت کے ساتھ صرف نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیا تھا ، کسی کو اس میں سے کچھ نہیں دیا تھا اور فرمایا تھا : «وما افاء الله على رسول منهم فما او جفتم عليه من خيل ولا ركا ب» اس لئے یہ مال نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے خاص تھا ، لیکن بخدا ! انہوں نے تمہیں چھوڑ کر اسے اپنے لئے محفوظ نہیں کیا اور نہ ہی اس مال کو تم پر ترجیح دی، انہوں نے یہ مال بھی تمہارے درمیان تقسیم کر دیا یہاں تک کہ یہ تھوڑا سا بچ گیا جس میں سے وہ اپنے اہل خانہ کو سال بھر کا نفقہ دیا کرتے تھے اور اس میں سے بھی اگر کچھ بچ جاتا تو اسے اللہ کے راستہ میں تقسیم کر دیتے ، جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہو گیا تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ان کے مال کا ذمہ دار اور سرپرست میں ہوں اور میں اس میں وہی طریقہ اختیار کروں گا جس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم چلتے رہے ۔
حدیث نمبر: 426
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ أَبُو مَعْمَرٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ الطَّائِفِيُّ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عِمْرَانَ بْنِ مَنَّاحٍ ، عَنْ أَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ ، عَنْ عُثْمَانَ : أَنَّهُ رَأَى جَنَازَةً فَقَامَ إِلَيْهَا ، وَقَالَ : " رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى جَنَازَةً ، فَقَامَ لَهَا " .
مولانا ظفر اقبال
ابان بن عثمان رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی نظر ایک جنازے پر پڑی تو کھڑے ہو گئے اور فرمایا کہ میں نے بھی اس موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کھڑے ہوتے ہوئے دیکھا ہے ۔
حدیث نمبر: 427
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَارِظٍ ، عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ ، قَالَ : شَهِدْتُ عَلِيًّا ، وَعُثْمَانَ رضي الله عنهما ، في يوم الفطر والنحر يصليان ، ثم ينصرفان ، فيذكران الناس ، فسمعتهما يقولان : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَوْمِ هَذَيْنِ الْيَوْمَيْنِ " .
مولانا ظفر اقبال
ابوعبید رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ عیدالفطر اور عیدالاضحی دونوں موقعوں پر مجھے سیدنا عثمان اور سیدنا علی رضی اللہ عنہما کے ساتھ شریک ہونے کا موقع ملا ہے ، یہ دونوں حضرات پہلے نماز پڑھاتے تھے ، پھر نماز سے فارغ ہو کر لوگوں کو نصیحت کرتے تھے ، میں نے ان دونوں حضرات کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں دنوں کے روزے رکھنے سے منع فرمایا ہے ۔
حدیث نمبر: 428
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ الْجُنْدَعِيِّ ، أَنَّهُ سَمِعَ حُمْرَانَ مَوْلَى عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ ، قَالَ : رَأَيْتُ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ عُثْمَانَ يَتَوَضَّأُ ، فَأَهْرَاقَ عَلَى يَدَيْهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ، ثُمَّ اسْتَنْثَرَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ وَمَضْمَضَ ثَلَاثًا ، وَذَكَرَ الْحَدِيثَ مِثْلَ مَعْنَى حَدِيثِ مَعْمَرٍ .
مولانا ظفر اقبال
حمران جو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام ہیں سے مروی ہے کہ میں نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو وضو کرتے ہوئے دیکھا کہ انہوں نے اپنے ہاتھوں پر تین مرتبہ پانی بہایا ، تین مرتبہ ناک میں پانی ڈالا ، تین مرتبہ کلی کی اور مکمل حدیث ذکر کی جو پیچھے گزر چکی ہے ۔
حدیث نمبر: 429
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَنْبَأَنَا الْجُرَيْرِيُّ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ قَبِيصَةَ ، عَنْ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ ، عَنْ أَبِيهِ : أَنَّ عُثْمَانَ ، قَالَ : أَلَا أُرِيكُمْ كَيْفَ كَانَ وُضُوءُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالُوا : بَلَى ، " فَدَعَا بِمَاءٍ ، فَتَمَضْمَضَ ثَلَاثًا ، وَاسْتَنْثَرَ ثَلَاثًا ، وَغَسَلَ وَجْهَهُ وَذِرَاعَيْهِ ثَلَاثًا ، وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ ، وَغَسَلَ قَدَمَيْهِ ثَلَاثًا ، ثُمَّ قَالَ : وَاعْلَمُوا أَنَّ الْأُذُنَيْنِ مِنَ الرَّأْسِ ، ثُمَّ قَالَ : قَدْ تَحَرَّيْتُ لَكُمْ وُضُوءَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ اپنے پاس موجود حضرات سے فرمایا کہ کیا میں آپ کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرح وضو کر کے نہ دکھاؤں ؟ لوگوں نے کہا: کیوں نہیں ! چنانچہ انہوں نے پانی منگوایا ، تین مرتبہ کلی بھی کی، تین مرتبہ ناک میں پانی ڈالا ، تین مرتبہ چہرے کو دھویا ، تین تین مرتبہ دونوں بازؤوں کو دھویا ، سر کا مسح کیا اور پاؤں دھوئے ، پھر فرمایا کہ جان لو کہ کان سر کا حصہ ہیں پھر فرمایا : میں نے خوب احتیاط سے تمہارے سامنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرح وضو پیش کیا ہے ۔
حدیث نمبر: 430
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ ، حَدَّثَنَا عَوْفٌ الْأَعْرَابِيُّ ، عَنْ مَعْبَدٍ الْجُهَنِيِّ ، عَنْ حُمْرَانَ بْنِ أَبَانَ ، قَالَ : كُنَّا عِنْدَ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ ، فَدَعَا بِمَاءٍ ، فَتَوَضَّأَ ، فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ وُضُوئِهِ تَبَسَّمَ ، فَقَالَ : هَلْ تَدْرُونَ مِمَّا ضَحِكْتُ ؟ قَالَ : فَقَالَ : تَوَضَّأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَا تَوَضَّأْتُ ، ثُمَّ تَبَسَّمَ ، ثُمَّ قَالَ : " هَلْ تَدْرُونَ مِمَّ ضَحِكْتُ ؟ " قَالَ : قُلْنَا : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ ، قَالَ : " إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا تَوَضَّأَ فَأَتَمَّ وُضُوءَهُ ، ثُمَّ دَخَلَ فِي صَلَاتِهِ فَأَتَمَّ صَلَاتَهُ ، خَرَجَ مِنْ صَلَاتِهِ كَمَا خَرَجَ مِنْ بَطْنِ أُمِّهِ مِنَ الذُّنُوبِ " .
مولانا ظفر اقبال
حمران کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس تھے ، انہوں نے پانی منگوا کر وضو کیا اور فراغت کے بعد مسکرانے لگے اور فرمایا کہ کیا تم جانتے ہو ، میں کیوں ہنس رہا ہوں ؟ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اسی طرح وضو کیا تھا جیسے میں نے کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی مسکرائے تھے اور دریافت فرمایا تھا کہ کیا تم جانتے ہو ، میں کیوں ہنس رہا ہوں ؟ ہم نے عرض کیا اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں ، فرمایا : جب بندہ وضو کرتا ہے اور کامل وضو کر کے نماز شروع کرتا ہے اور کامل نماز پڑھتا ہے تو نماز سے فارغ ہونے کے بعد وہ ایسے ہو جاتا ہے جیسے ماں کے پیٹ سے جنم لے کر آیا ہو ۔
حدیث نمبر: 431
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ شَقِيقٍ ، يَقُولُ : " كَانَ عُثْمَانُ يَنْهَى عَنِ الْمُتْعَةِ ، وَعَلِيٌّ يلبي بِهَا ، فَقَالَ لَهُ عُثْمَانُ قَوْلًا ، فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ : لَقَدْ عَلِمْتَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَلَ ذَلِكَ ؟ قَالَ عُثْمَانُ : أَجَلْ ، وَلَكِنَّا كُنَّا خَائِفِينَ " ، قَالَ شُعْبَةُ : فَقُلْتُ لِقَتَادَةَ : مَا كَانَ خَوْفُهُمْ ؟ قَالَ : لَا أَدْرِي .
مولانا ظفر اقبال
عبداللہ بن شقیق رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ لوگوں کو حج تمتع سے روکتے تھے اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ اس کے جواز کا فتوی دیتے تھے ، ایک مرتبہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے ان سے کچھ کہا ہو گا تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ آپ جانتے بھی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طرح کیا ہے، پھر بھی اس سے روکتے ہیں ؟ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا : بات تو ٹھیک ہے ، لیکن ہمیں اندیشہ ہے (کہ لوگ رات کو بیویوں کے قریب جائیں اور صبح کو غسل جنابت کے پانی سے گیلے ہوں اور حج کا احرام باندھ لیں ) ۔
حدیث نمبر: 432
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ : قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ شَقِيقٍ : " كَانَ عُثْمَانُ يَنْهَى عَنِ الْمُتْعَةِ ، وَعَلِيٌّ يَأْمُرُ بِهَا ، فَقَالَ عُثْمَانُ لِعَلِيٍّ قَوْلًا ، ثُمَّ قَالَ عَلِيٌّ : لَقَدْ عَلِمْتَ أَنَّا قَدْ تَمَتَّعْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : أَجَلْ ، وَلَكِنَّا كُنَّا خَائِفِينَ " .
مولانا ظفر اقبال
عبداللہ بن شقیق رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ لوگوں کو حج تمتع سے روکتے تھے اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ اس کے جواز کا فتوی دیتے تھے ، ایک مرتبہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے ان سے کچھ کہا ہو گا تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ آپ جانتے بھی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طرح کیا ہے، پھر بھی اس سے روکتے ہیں ؟ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا : بات تو ٹھیک ہے ، لیکن ہمیں اندیشہ ہے (کہ لوگ رات کو بیویوں کے قریب جائیں اور صبح کو غسل جنابت کے پانی سے گیلے ہوں اور حج کا احرام باندھ لیں ) ۔
حدیث نمبر: 433
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا كَهْمَسٌ ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ ثَابِتٍ ، عَنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، قَالَ : قَالَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ وَهُوَ يَخْطُبُ عَلَى مِنْبَرِهِ : إِنِّي مُحَدِّثُكُمْ حَدِيثًا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا كَانَ يَمْنَعُنِي أَنْ أُحَدِّثَكُمْ إِلَّا الضِّنُّ عَلَيْكُمْ ، وَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " حَرَسُ لَيْلَةٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ تَعَالَى ، أَفْضَلُ مِنْ أَلْفِ لَيْلَةٍ يُقَامُ لَيْلُهَا ، وَيُصَامُ نَهَارُهَا " .
مولانا ظفر اقبال
ایک مرتبہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے منبر پر خطبہ دیتے ہوئے فرمایا : میں تم سے ایک حدیث بیان کرتا ہوں جو میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے ، ایسا نہیں کہ بخل کی وجہ سے میں اسے تمہارے سامنے بیان نہ کروں گا ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اللہ کے راستے میں ایک رات کی پہرہ داری کرنا ایک ہزار راتوں کے قیام لیل اور صیام نہار سے بڑھ کر افضل ہے ۔
حدیث نمبر: 434
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْكَبِيرِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " مَنْ بَنَى مَسْجِدًا لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ، بَنَى اللَّهُ لَهُ مِثْلَهُ فِي الْجَنَّةِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص اللہ کی رضا کے لئے مسجد کی تعمیر میں حصہ لیتا ہے ، اللہ اس کے لئے اسی طرح کا ایک گھر جنت میں تعمیر کر دیتا ہے ۔
حدیث نمبر: 435
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ خَالِدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَارِظٍ ، عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ مَوْلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَزْهَرَ ، قَالَ : رَأَيْتُ عَلِيًّا ، وَعُثْمَانَ يُصَلِّيَانِ يَوْمَ الْفِطْرِ وَالْأَضْحَى ، ثُمَّ يَنْصَرِفَانِ يُذَكِّرَانِ النَّاسَ ، قَالَ : وَسَمِعْتُهُمَا يَقُولَانِ : " إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ صِيَامِ هَذَيْنِ الْيَوْمَيْنِ " . قَالَ : قَالَ : وسَمِعْت عَلِيًّا ، يَقُولُ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَبْقَى مِنْ نُسُكِكُمْ عِنْدَكُمْ شَيْءٌ بَعْدَ ثَلَاثٍ " .
مولانا ظفر اقبال
ابوعبید رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ عیدالفطر اور عیدالاضحی دونوں موقعوں پر مجھے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ شریک ہونے کا موقع ملا ہے ، یہ دونوں حضرات پہلے نماز پڑھاتے تھے ، پھر نماز سے فارغ ہو کر لوگوں کو نصیحت کرتے تھے ، میں نے ان دونوں حضرات کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں دنوں کے روزے رکھنے سے منع فرمایا ہے ۔ اور میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو یہ بھی فرماتے ہوئے سنا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کا گوشت تین دن کے بعد کھانے سے منع فرمایا ہے ۔
حدیث نمبر: 436
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ عِيسَى ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ ، قَالَ : دَخَلْتُ عَلَى ابْنِ دَارَةَ مَوْلَى عُثْمَانَ ، قَالَ : فَسَمِعَنِي أُمَضْمِضُ ، قَالَ : فَقَالَ : قُلْتُ : لَبَّيْكَ ، قَالَ : أَلَا أُخْبِرُكَ عَنْ وُضُوءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : رَأَيْتُ عُثْمَانَ وَهُوَ بِالْمَقَاعِدِ دَعَا بِوَضُوءٍ ، " فَمَضْمَضَ ثَلَاثًا ، وَاسْتَنْشَقَ ثَلَاثًا ، وَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا ، وَذِرَاعَيْهِ ثَلَاثًا ، وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ ثَلَاثًا ، وَغَسَلَ قَدَمَيْهِ ، ثُمَّ قَالَ : مَنْ أَحَبَّ أَنْ يَنْظُرَ إِلَى وُضُوءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَهَذَا وُضُوءُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
مولانا ظفر اقبال
محمد بن عبداللہ کہتے ہیں کہ میں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام ”ابن دارہ“ کے پاس آیا ، ان کے کانوں میں میرے کلی کرنے کی آواز گئی تو میرا نام لے کر مجھے پکارا ، میں نے لبیک کہا ، انہوں نے کہا کہ کیا میں آپ کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرح وضو کا طریقہ نہ بتاؤں ؟ میں نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو بنچ پر بیٹھ کر وضو کرتے ہوئے دیکھا ہے جس میں انہوں نے تین مرتبہ کلی کی ، تین مرتبہ ناک میں پانی ڈالا ، تین مرتبہ چہرہ اور تین تین مرتبہ دونوں بازو دھوئے ، سر کا مسح تین مرتبہ (اور اکثر روایات کے مطابق ایک مرتبہ) کیا اور پاؤں دھو لیے ، پھر فرمایا کہ جو شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ وضو دیکھنا چاہتا ہے ، وہ جان لے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسی طرح وضو فرماتے تھے ۔
حدیث نمبر: 437
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، وَعَفَّانُ ، المعنى ، قَالَا : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلٍ ، قَالَ : كُنَّا مَعَ عُثْمَانَ وَهُوَ مَحْصُورٌ فِي الدَّارِ ، فَدَخَلَ مَدْخَلًا كَانَ إِذَا دَخَلَهُ يَسْمَعُ كَلَامَهُ مَنْ عَلَى الْبَلَاطِ ، قَالَ : فَدَخَلَ ذَلِكَ الْمَدْخَلَ ، وَخَرَجَ إِلَيْنَا ، فَقَالَ : إِنَّهُمْ يَتَوَعَّدُونِي بِالْقَتْلِ آنِفًا ، قَالَ : قُلْنَا : يَكْفِيكَهُمُ اللَّهُ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ، قَالَ : وَبِمَ يَقْتُلُونَنِي ؟ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " لَا يَحِلُّ دَمُ امْرِئٍ مُسْلِمٍ إِلَّا بِإِحْدَى ثَلَاثٍ : رَجُلٌ كَفَرَ بَعْدَ إِسْلَامِهِ ، أَوْ زَنَى بَعْدَ إِحْصَانِهِ ، أَوْ قَتَلَ نَفْسًا فَيُقْتَلُ بِهَا " ، فَوَاللَّهِ مَا أَحْبَبْتُ أَنَّ لِي بِدِينِي بَدَلًا مُنْذُ هَدَانِي اللَّهُ ، وَلَا زَنَيْتُ فِي جَاهِلِيَّةٍ وَلَا فِي إِسْلَامٍ قَطُّ ، وَلَا قَتَلْتُ نَفْسًا ، فَبِمَ يَقْتُلُونَنِي ؟
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابوامامہ بن سہل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جن دنوں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ اپنے گھر میں محصور تھے ، ہم ان کے ساتھ ہی تھے تھوڑی دیر کے لئے وہ کسی کمرے میں داخل ہوئے تو چوکی پر بیٹھنے والوں کو بھی ان کی بات سنائی دیتی تھی ، اسی طرح ایک مرتبہ وہ اس کمرے میں داخل ہوئے ، تھوڑی دیر بعد باہر تشریف لا کر فرمانے لگے کہ ان لوگوں نے مجھے ابھی ابھی قتل کی دھمکی دی ہے ، ہم نے عرض کیا کہ امیر المؤمنین ! اللہ ان کی طرف سے آپ کی کفایت و حفاظت فرمائے گا ۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ فرمانے لگے کہ بھلا کس جرم میں یہ لوگ مجھے قتل کریں گے ؟ جب کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ تین میں سے کسی ایک صورت کے علاوہ کسی مسلمان کا خون بہانا حلال نہیں ہے ، یا تو وہ آدمی جو اسلام قبول کرنے کے بعد مرتد ہو جائے ، یا شادی شدہ ہونے کے باوجود بدکاری کرے ، یا قاتل ہو اور مقتول کے عوض اسے قتل کر دیا جائے ، اللہ کی قسم ! مجھے تو اللہ نے جب سے ہدایت دی ہے ، میں نے اس دین کے بدلے کسی دوسرے دین کو پسند نہیں کیا ، میں نے اسلام تو بڑی دور کی بات ہے ، زمانہ جاہلیت میں بھی بدکاری نہیں کی اور نہ ہی میں نے کسی کو قتل کیا ہے ، پھر یہ لوگ مجھے کیوں قتل کرنا چاہتے ہیں ۔
حدیث نمبر: 438
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُمَامَةَ بْنُ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ ، قَالَ : إِنِّي لَمَعَ عُثْمَانَ فِي الدَّارِ وَهُوَ مَحْصُورٌ ، وَقَالَ : كُنَّا نَدْخُلُ مَدْخَلًا . . . فَذَكَرَ الْحَدِيثَ مِثْلَهُ ، وَقَالَ : قَدْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ . . . فَذَكَرَ الْحَدِيثَ مِثْلَهُ ، أَوْ نَحْوَهُ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث ایک دوسری سند سے بھی مروی ہے ۔
…