حدیث نمبر: 362
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا جَمْرَةَ الضُّبَعِيَّ يُحَدِّثُ ، عَنْ جُوَيْرِيَةَ بْنِ قُدَامَةَ ، قَالَ : حَجَجْتُ فَأَتَيْتُ الْمَدِينَةَ الْعَامَ الَّذِي أُصِيبَ فِيهِ عُمَرُ ، قَالَ : فَخَطَبَ ، فَقَالَ : " إِنِّي رَأَيْتُ كَأَنَّ دِيكًا أَحْمَرَ نَقَرَنِي نَقْرَةً أَوْ نَقْرَتَيْنِ " شُعْبَةُ الشَّاكُّ ، فَكَانَ مِنْ أَمْرِهِ أَنَّهُ طُعِنَ ، فَأُذِنَ لِلنَّاسِ عَلَيْهِ ، فَكَانَ أَوَّلَ مَنْ دَخَلَ عَلَيْهِ أَصْحَابُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ أَهْلُ الْمَدِينَةِ ، ثُمَّ أَهْلُ الشَّامِ ، ثُمَّ أُذِنَ لِأَهْلِ الْعِرَاقِ ، فَدَخَلْتُ فِيمَنْ دَخَلَ ، قَالَ : فَكَانَ كُلَّمَا دَخَلَ عَلَيْهِ قَوْمٌ ، أَثْنَوْا عَلَيْهِ وَبَكَوْا ، قَالَ : فَلَمَّا دَخَلْنَا عَلَيْهِ ، قَالَ : وَقَدْ عَصَبَ بَطْنَهُ بِعِمَامَةٍ سَوْدَاءَ ، وَالدَّمُ يَسِيلُ ، قَالَ : فَقُلْنَا : أَوْصِنَا ، قَالَ : وَمَا سَأَلَهُ الْوَصِيَّةَ أَحَدٌ غَيْرُنَا ، فَقَالَ : " عَلَيْكُمْ بِكِتَابِ اللَّهِ ، فَإِنَّكُمْ لَنْ تَضِلُّوا مَا اتَّبَعْتُمُوهُ ، فَقُلْنَا : أَوْصِنَا ، فَقَالَ : أُوصِيكُمْ بِالْمُهَاجِرِينَ ، فَإِنَّ النَّاسَ سَيَكْثُرُونَ وَيَقِلُّونَ ، وَأُوصِيكُمْ بِالْأَنْصَارِ ، فَإِنَّهُمْ شَعْبُ الْإِسْلَامِ الَّذِي لَجِئَ إِلَيْهِ ، وَأُوصِيكُمْ بِالْأَعْرَابِ ، فَإِنَّهُمْ أَصْلُكُمْ وَمَادَّتُكُمْ ، وَأُوصِيكُمْ بِأَهْلِ ذِمَّتِكُمْ ، فَإِنَّهُمْ عَهْدُ نَبِيِّكُمْ وَرِزْقُ عِيَالِكُمْ ، قُومُوا عَنِّي " ، قَالَ : فَمَا زَادَنَا عَلَى هَؤُلَاءِ الْكَلِمَاتِ ، قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ : قَالَ شُعْبَةُ : ثُمَّ سَأَلْتُهُ بَعْدَ ذَلِكَ ، فَقَالَ فِي الْأَعْرَابِ : وَأُوصِيكُمْ بِالْأَعْرَابِ ، فَإِنَّهُمْ إِخْوَانُكُمْ ، وَعَدُوُّ عَدُوِّكُمْ .
مولانا ظفر اقبال
جویریہ بن قدامہ کہتے ہیں کہ جس سال سیدنا عمر رضی اللہ عنہ شہید ہوئے ، مجھے اس سال حج کی سعادت نصیب ہوئی ، میں مدینہ منورہ بھی حاضر ہوا ، وہاں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے خطبہ دیتے ہوئے فرمایا کہ میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ ایک سرخ رنگ کا مرغا مجھے ایک یا دو مرتبہ ٹھونگ مارتا ہے اور ایسا ہی ہوا تھا کہ قاتلانہ حملے میں ان پر نیزے کے زخم آئے تھے ۔ بہرحال ! لوگوں کو ان کے پاس آنے کی اجازت دی گئی تو سب سے پہلے ان کے پاس صحابہ کرام رضی اللہ عنہم تشریف لائے ، پھر عام اہل مدینہ ، پھر اہل شام اور پھر اہل عراق ، اہل عراق کے ساتھ داخل ہونے والوں میں میں بھی شامل تھا ، جب بھی لوگوں کی کوئی جماعت ان کے پاس جاتی تو ان کی تعریف کرتی اور ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوتے ۔ جب ہم ان کے کمرے میں داخل ہوئے تو دیکھا کہ ان کے پیٹ کو سفید عمامے سے باندھ دیا گیا ہے لیکن اس میں سے خون کا سیل رواں جاری ہے ، ہم نے ان سے وصیت کی درخواست کی جو کہ اس سے قبل ہمارے علاوہ کسی اور نے نہ کی تھی ۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : کتاب اللہ کو لازم پکڑو ، کیونکہ جب تک تم اس کی اتباع کرتے رہو گے ، ہرگز گمراہ نہ ہو گے ، ہم نے مزید وصیت کی درخواست کی تو فرمایا : میں تمہیں مہاجرین کے ساتھ حسن سلوک کی وصیت کرتا ہوں کیونکہ لوگ تو کم اور زیادہ ہوتے ہی رہتے ہیں ، انصار کے ساتھ بھی حسن سلوک کی وصیت کرتا ہوں کیونکہ وہ اسلام کا قلعہ ہیں جہاں اہل اسلام نے آکر پناہ لی تھی ، نیز دیہاتیوں سے کیونکہ وہ تمہاری اصل اور تمہارا مادہ ہیں ، نیز ذمیوں سے بھی حسن سلوک کی وصیت کرتا ہوں ، کیونکہ وہ تمہارے نبی کی ذمہ داری میں ہیں (ان سے معاہدہ کر رکھا ہے ) اور تمہارے اہل و عیال کا رزق ہیں ۔ اب جاؤ ، اس سے زائد بات انہوں نے کوئی ارشاد نہیں فرمائی ، البتہ راوی نے ایک دوسرے موقع پر دیہاتیوں سے متعلق جملے میں اس بات کا بھی اضافہ کیا کہ وہ تمہارے بھائی اور تمہارے دشمن کے دشمن ہیں ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 362
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3162
حدیث نمبر: 363
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ ، سَمِعْتُ أَبَا جَمْرَةَ الضُّبَعِيَّ يُحَدِّثُ ، عَنْ جُوَيْرِيَةَ بْنِ قُدَامَةَ ، قَالَ : حَجَجْتُ ، فَأَتَيْتُ الْمَدِينَةَ الْعَامَ الَّذِي أُصِيبَ فِيهِ عُمَرُ ، قَالَ : فَخَطَبَ ، فَقَالَ : " إِنِّي رَأَيْتُ كَأَنَّ دِيكًا أَحْمَرَ نَقَرَنِي نَقْرَةً أَوْ نَقْرَتَيْنِ " شُعْبَةُ الشَّاكُّ ، قَالَ : فَمَا لَبِثَ إِلَّا جُمُعَةً حَتَّى طُعِنَ . . . فَذَكَرَ مِثْلَهُ ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : " وَأُوصِيكُمْ بِأَهْلِ ذِمَّتِكُمْ ، فَإِنَّهُمْ ذِمَّةُ نَبِيِّكُمْ ، قَالَ شُعْبَةُ : ثُمَّ سَأَلْتُهُ بَعْدَ ذَلِكَ ، فَقَالَ فِي الْأَعْرَابِ : وَأُوصِيكُمْ بِالْأَعْرَابِ ، فَإِنَّهُمْ إِخْوَانُكُمْ ، وَعَدُوُّ عَدُوِّكُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
جویریہ بن قدامہ کہتے ہیں کہ جس سال سیدنا عمر رضی اللہ عنہ شہید ہوئے ، مجھے اس سال حج کی سعادت نصیب ہوئی ، میں مدینہ منورہ بھی حاضر ہوا ، وہاں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے خطبہ دیتے ہوئے فرمایا کہ میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ ایک سرخ رنگ کا مرغا مجھے ایک یا دو مرتبہ ٹھونگ مارتا ہے ، چنانچہ ابھی ایک جمعہ ہی گزر ا تھا کہ ان پر حملہ ہو گیا ، پھر راوی نے مکمل حدیث ذکر کی اور یہ کہ میں تمہیں ذمیوں سے بھی حسن سلوک کی وصیت کرتا ہوں ، کیونکہ وہ تمہارے نبی کی ذمہ داری میں ہیں (ان سے معاہدہ کر رکھا ہے ) اور دیہاتیوں کے حوالے سے فرمایا کہ میں تمہیں دیہاتیوں کے ساتھ حسن سلوک کی وصیت کرتا ہوں کیونکہ وہ تمہارے بھائی اور تمہارے دشمنوں کے دشمن ہیں ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 363
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح كسابقه
حدیث نمبر: 364
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ . وَعَبْدُ الْوَهَّابِ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّهُ قَالَ : شَهِدَ عِنْدِي رِجَالٌ مَرْضِيُّونَ فِيهِمْ عُمَرُ ، وَأَرْضَاهُمْ عِنْدِي عُمَرُ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنْ صَلَاةٍ بَعْدَ صَلَاةِ الصُّبْحِ ، حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ ، وَبَعْدَ الْعَصْرِ ، حَتَّى تَغْرُبَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ مجھے ایسے لوگوں نے اس بات کی شہادت دی ہے جن کی بات قابل اعتماد ہوتی ہے ، ان میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بھی شامل ہیں جو میری نظروں میں ان سب سے زیادہ قابل اعتماد ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے کہ فجر کی نماز کے بعد طلوع آفتاب تک کوئی نماز نہ پڑھی جائے اور عصر کی نماز کے بعد غروب آفتاب تک کوئی نفلی نماز نہ پڑھی جائے ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 364
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 581، م: 826
حدیث نمبر: 365
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ : أَنَّ عُمَرَ خَطَبَ النَّاسَ بِالْجَابِيَةِ ، فَقَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ لُبْسِ الْحَرِيرِ ، إِلَّا مَوْضِعَ أُصْبُعَيْنِ ، أَوْ ثَلَاثَةٍ ، أَوْ أَرْبَعَةٍ ، وَأَشَارَ بِكَفِّهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سوید بن غفلہ کہتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ”جابیہ“ میں خطبہ دیتے ہوئے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ریشم پہننے سے (مرد کو) منع فرمایا ہے ، سوائے دو تین یا چار انگلیوں کی مقدار کے اور یہ کہہ کر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اپنی ہتھیلی سے بھی اشارہ کیا ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 365
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وسماع محمد بن جعفر من سعيد بن أبى عروبة مختلف فيه : أقبل الاختلاط أم بعده؟ خ : 5828، م: 2069
حدیث نمبر: 366
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنْ عُمَرَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الْمَيِّتُ يُعَذَّبُ فِي قَبْرِهِ بِمَا نِيحَ عَلَيْهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”میت کو اس کی قبر میں اس پر ہونے والے نوحے کی وجہ سے عذاب ہوتا ہے ۔ “
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 366
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، سماع محمد بن جعفر من سعيد مختلف فيه : أقبل الاختلاط أم بعده؟ وقد توبع ، خ: 1292، م: 927
حدیث نمبر: 367
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا كَهْمَسٌ ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ . وَيَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا كَهْمَسٌ ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ ، سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ، قَالَ : بَيْنَمَا نَحْنُ ذَاتَ يَوْمٍ عِنْدَ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، إِذْ طَلَعَ عَلَيْنَا رَجُلٌ شَدِيدُ بَيَاضِ الثِّيَابِ ، شَدِيدُ سَوَادِ الشَّعَرِ ، لَا يُرَى ، قَالَ يَزِيدُ : لَا نَرَى عَلَيْهِ أَثَرَ السَّفَرِ ، وَلَا يَعْرِفُهُ مِنَّا أَحَدٌ ، حَتَّى جَلَسَ إِلَى نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَسْنَدَ رُكْبَتَيْهِ إِلَى رُكْبَتَيْهِ ، وَوَضَعَ كَفَّيْهِ عَلَى فَخِذَيْهِ ، ثُمّ قَالَ : يَا مُحَمَّدُ ، أَخْبِرْنِي عَنِ الْإِسْلَامِ ، مَا الْإِسْلَامُ ؟ فَقَالَ : " الْإِسْلَامُ : أَنْ تَشْهَدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ ، وَتُقِيمَ الصَّلَاةَ ، وَتُؤْتِيَ الزَّكَاةَ ، وَتَصُومَ رَمَضَانَ ، وَتَحُجَّ الْبَيْتَ إِنْ اسْتَطَعْتَ إِلَيْهِ سَبِيلًا " ، قَالَ : صَدَقْتَ ، قَالَ : فَعَجِبْنَا لَهُ ، يَسْأَلُهُ وَيُصَدِّقُهُ ، قَالَ : ثُمَّ قَالَ : أَخْبِرْنِي عَنِ الْإِيمَانِ ، قَالَ : " الْإِيمَانُ : أَنْ تُؤْمِنَ بِاللَّهِ ، وَمَلَائِكَتِهِ ، وَكُتُبِهِ ، وَرُسُلِهِ ، وَالْيَوْمِ الْآخِرِ ، وَالْقَدَرِ كُلِّهِ : خَيْرِهِ وَشَرِّهِ " ، قَالَ : صَدَقْتَ ، قَالَ : فَأَخْبِرْنِي عَنِ الْإِحْسَانِ ، مَا الْإِحْسَانُ ؟ قَالَ يَزِيدُ : " أَنْ تَعْبُدَ اللَّهَ كَأَنَّكَ تَرَاهُ ، فَإِنْ لَمْ تَكُنْ تَرَاهُ فَإِنَّهُ يَرَاكَ " ، قَالَ : فَأَخْبِرْنِي عَنِ السَّاعَةِ ، قَالَ : " مَا الْمَسْئُولُ عَنْهَا بِأَعْلَمَ بِهَا مِنَ السَّائِلِ " ، قَالَ : فَأَخْبِرْنِي عَنْ أَمَارَاتِهَا ، قَالَ : " أَنْ تَلِدَ الْأَمَةُ رَبَّتَهَا ، وَأَنْ تَرَى الْحُفَاةَ الْعُرَاةَ رِعَاءَ الشَّاءِ يَتَطَاوَلُونَ فِي الْبِنَاءِ " ، قَالَ : ثُمَّ انْطَلَقَ ، قَالَ : فَلَبِثَ مَلِيًّا ، قَالَ يَزِيدُ : ثَلَاثًا فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا عُمَرُ ، أَتَدْرِي مَنْ السَّائِلُ ؟ " قَالَ : قُلْتُ : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ ، قَالَ : " فَإِنَّهُ جِبْرِيلُ ، أَتَاكُمْ يُعَلِّمُكُمْ دِينَكُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ، ایک دن ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بیٹھے ہوئے تھے کہ اچانک ایک آدمی چلتا ہوا آیا ، وہ مضبوط ، سفید کپڑوں میں ملبوس اور انتہائی سیاہ بالوں والا تھا ، اس پر نہ سفر کے آثار نظر آ رہے تھے اور نہ ہی ہم میں سے کوئی اسے پہچانتا تھا ، وہ آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب آ کر بیٹھ گیا ۔ اور اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے گھٹنوں سے اپنے گھٹنے ملا کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی رانوں پر ہاتھ رکھ لئے اور کہنے لگا کہ اے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) ! مجھے اسلام کے بارے بتائیے کہ اسلام کیا ہے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود ہو ہی نہیں سکتا اور یہ کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے پیغمبر ہیں ، نیز یہ کہ آپ نماز قائم کریں ، زکوٰۃ ادا کریں ، رمضان کے روزے رکھیں اور حج بیت اللہ کریں ۔ “ اس نے (نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی) تصدیق کی تو ہمیں اس کے سوال اور تصدیق پر تعجب ہوا ۔ اس نے اگلا سوال یہ پوچھا کہ ایمان کیا ہے ؟ فرمایا : ”تم اللہ پر ، اس کے فرشتوں ، کتابوں ، رسولوں ، یوم آخرت اور ہر اچھی بری تقدیر پر یقین رکھو“ ، اس نے کہا : آپ نے سچ فرمایا ، پھر پوچھا کہ احسان کیا ہے ؟ فرمایا : ”تم اللہ کی رضا حاصل کرنے کے لئے کوئی عمل اس طرح کرو گویا کہ تم اسے دیکھ رہے ہو ، اگر تم یہ تصور نہیں کر سکتے تو پھر یہی تصور کر لو کہ وہ تو تمہیں دیکھ ہی رہا ہے (اس لئے یہی تصور کر لیا کرو کہ اللہ ہمیں دیکھ رہا ہے ) ۔ “ اس نے پھر پوچھا کہ قیامت کب آئے گی ؟ فرمایا : ”جس سے سوال پوچھا جا رہا ہے ، وہ پوچھنے والے سے زیادہ نہیں جانتا ، (یعنی ہم دونوں ہی اس معاملے میں بےخبر ہیں)“ ، اس نے کہا کہ پھر اس کی کچھ علامات ہی بتا دیجئے ؟ فرمایا : ”جب تم یہ دیکھو کہ جن کے جسم پر چیتھڑا اور پاؤں میں لیترا نہیں ہوتا تھا ، غریب اور چرواہے تھے ، آج وہ بڑی بڑی بلڈنگیں اور عمارتیں بنا کر ایک دوسرے پر فخر کرنے لگیں ، لونڈیاں اپنی مالکن کو جنم دینے لگیں تو قیامت قریب آ گئی ۔ “ پھر وہ آدمی چلا گیا تو کچھ دیر بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : ”اے عمر ! کیا تمہیں علم ہے کہ وہ سائل کون تھا ؟ “ انہوں نے عرض کیا : اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں ، فرمایا : ”وہ جبرئیل علیہ السلام تھے جو تمہیں تمہارے دین کی اہم اہم باتیں سکھانے آئے تھے ۔ “
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 367
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 8
حدیث نمبر: 368
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ ، حَدَّثَنَا كَهْمَسٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ ، سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُمَرُ ، قَالَ : كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . . . فَذَكَرَ الْحَدِيثَ ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : وَلَا يُرَى عَلَيْهِ أَثَرُ السَّفَرِ ، وَقَالَ : قَالَ عُمَرُ : فَلَبِثْتُ ثَلَاثًا ، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَا عُمَرُ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی روایت کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 368
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح كسابقه
حدیث نمبر: 369
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ . قَالَ : وَحَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَا : حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، قَالَ : قُلْتُ لِجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ : إِنَّ ابْنَ الزُّبَيْرِ يَنْهَى عَنِ الْمُتْعَةِ ، وَإِنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ يَأْمُرُ بِهَا ، قَالَ : فَقَالَ لِي : عَلَى يَدِي جَرَى الْحَدِيثُ ، تَمَتَّعْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ عَفَّانُ : وَمَعَ أَبِي بَكْرٍ ، فَلَمَّا وَلِيَ عُمَرُ ، خَطَبَ النَّاسَ ، فَقَالَ : " إِنَّ الْقُرْآنَ هُوَ الْقُرْآنُ ، وَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هُوَ الرَّسُولُ ، وَإِنَّهُمَا كَانَتَا مُتْعَتَانِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِحْدَاهُمَا مُتْعَةُ الْحَجِّ ، وَالْأُخْرَى مُتْعَةُ النِّسَاءِ " .
مولانا ظفر اقبال
ابونضرہ کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ حج تمتع سے منع کرتے ہیں جبکہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اس کی اجازت دیتے ہیں اس کی کیا وجہ ہے ؟ انہوں نے مجھ سے حدیث بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور ایک روایت کے مطابق سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی موجودگی میں تھی حج تمتع کیا ہے ، لیکن جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو خلافت ملی تو انہوں نے خطبہ دیتے ہوئے لوگوں سے فرمایا کہ قرآن ، قرآن ہے اور پیغمبر ، پیغمبر ہے ، حالانکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور باسعادت میں دو طرح کا متعہ ہوتا تھا ، ایک متعۃ الحج جسے حج تمتع کہتے ہیں اور ایک متعۃ النساء جو عورتوں کو طلاق دے کر رخصت کرتے وقت کپڑوں کی صورت میں دینا مستحب ہے ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 369
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1217
حدیث نمبر: 370
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، أَنْبَأَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ هُبَيْرَةَ ، عَنْ أَبِي تَمِيمٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " لَوْ أَنَّكُمْ تَوَكَّلْتُمْ عَلَى اللَّهِ حَقَّ تَوَكُّلِهِ ، لَرَزَقَكُمْ كَمَا يَرْزُقُ الطَّيْرَ ، تَغْدُو خِمَاصًا ، وَتَرُوحُ بِطَانًا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اگر تم اللہ پر اس طرح ہی توکل کر لیتے جیسے اس پر توکل کرنے کا حق ہے تو تمہیں اسی طرح رزق عطاء کیا جاتا ، جیسے پرندوں کو دیا جاتا ہے جو صبح کو خالی پیٹ نکلتے ہیں اور شام کو پیٹ بھر کر واپس آتے ہیں ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 370
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، عبدالله بن الهيعة - وإن كان سيء الحفظ - توبع
حدیث نمبر: 371
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، حَدَّثَنِي بُكَيْرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ ابْنِ السَّاعِدِيِّ الْمَالِكِيِّ ، أَنَّهُ قَالَ : اسْتَعْمَلَنِي عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ عَلَى الصَّدَقَةِ ، فَلَمَّا فَرَغْتُ مِنْهَا وَأَدَّيْتُهَا إِلَيْهِ ، أَمَرَ لِي بِعِمَالَةٍ ، فَقُلْتُ لَهُ : إِنَّمَا عَمِلْتُ لِلَّهِ ، وَأَجْرِي عَلَى اللَّهِ ، قَالَ : خُذْ مَا أُعْطِيتَ ، فَإِنِّي قَدْ عَمِلْتُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَمَّلَنِي ، فَقُلْتُ مِثْلَ قَوْلِكَ ، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا أُعْطِيتَ شَيْئًا مِنْ غَيْرِ أَنْ تَسْأَلَ ، فَكُلْ وَتَصَدَّقْ " .
مولانا ظفر اقبال
عبداللہ بن ساعدی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے مجھے کسی جگہ زکوٰۃ وصول کرنے کے لئے بھیجا ، جب میں فارغ ہو کر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور وہ مال ان کے حوالے کر دیا ، تو انہوں نے مجھے تنخواہ دینے کا حکم دیا ، میں نے عرض کیا کہ میں نے یہ کام اللہ کی رضا کے لئے کیا ہے اور وہی مجھے اس کا اجر دے گا ۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تمہیں جو دیا جائے وہ لے لیا کرو ، کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں ایک مرتبہ میں نے بھی یہی خدمت سرانجام دی تھی ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کچھ مال و دولت عطا فرمایا ، میں نے تمہاری والی بات کہہ دی ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”اگر تمہاری خواہش اور سوال کے بغیر کہیں سے مال آئے تو اسے کھا لیا کرو ، ورنہ اسے صدقہ کر دیا کرو ۔ “
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 371
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 7163، م: 1045
حدیث نمبر: 372
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، حَدَّثَنِي بُكَيْرٌ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، أَنَّهُ قَالَ : هَشَشْتُ يَوْمًا فَقَبَّلْتُ ، وَأَنَا صَائِمٌ ، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقُلْتُ : صَنَعْتُ الْيَوْمَ أَمْرًا عَظِيمًا ، " قَبَّلْتُ وَأَنَا صَائِمٌ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَرَأَيْتَ لَوْ تَمَضْمَضْتَ بِمَاءٍ وَأَنْتَ صَائِمٌ ؟ فَقُلْتُ : لَا بَأْسَ بِذَلِكَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : فَفِيمَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک دن میں بہت خوش تھا ، خوشی سے سرشار ہو کر میں نے روزہ کی حالت میں ہی اپنی بیوی کا بوسہ لے لیا ، اس کے بعد احساس ہوا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! آج مجھ سے ایک بہت بڑا گناہ سرزد ہو گیا ہے ، میں نے روزے کی حالت میں اپنی بیوی کو بوسہ دے دیا ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”یہ بتاؤ ! اگر تم روزے کی حالت میں کلی کر لو تو کیا ہو گا ؟ “ میں نے عرض کیا : اس میں تو کوئی حرج نہیں ہے ، فرمایا : ”پھر اس میں کہاں سے ہو گا ؟ “
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 372
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 373
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، أَنْبَأَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هُبَيْرَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا تَمِيمٍ الْجَيْشَانِيَّ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " لَوْ أَنَّكُمْ كُنْتُمْ تَوَكَّلُونَ عَلَى اللَّهِ حَقَّ تَوَكُّلِهِ ، لَرَزَقَكُمْ كَمَا يَرْزُقُ الطَّيْرَ ، أَلَا تَرَوْنَ أَنَّهَا تَغْدُو خِمَاصًا وَتَرُوحُ بِطَانًا ؟ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اگر تم اللہ پر اس طرح ہی توکل کر لیتے جیسے اس پر توکل کرنے کا حق ہے تو تمہیں اسی طرح رزق عطاء کیا جاتا جیسے پرندوں کو دیا جاتا ہے جو صبح کو خالی پیٹ نکلتے ہیں اور شام کو پیٹ بھر کر واپس آتے ہیں ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 373
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، عبدالله بن الهيعة قد توبع
حدیث نمبر: 374
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنِ ابْنِ يَعْمَرَ ، قَالَ : قُلْتُ لِابْنِ عُمَرَ : إِنَّا نُسَافِرُ فِي الْآفَاقِ ، فَنَلْقَى قَوْمًا يَقُولُونَ : لَا قَدَرَ ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ : إِذَا لَقِيتُمُوهُمْ فَأَخْبِرُوهُمْ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ مِنْهُمْ بَرِيءٌ ، وَأَنَّهُمْ مِنْهُ بُرَآءُ ، ثَلَاثًا ، ثُمَّ أَنْشَأَ يُحَدِّثُ : بَيْنَمَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَجَاءَ رَجُلٌ فَذَكَرَ مِنْ هَيْئَتِهِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " ادْنُهْ ، فَدَنَا ، فَقَالَ : ادْنُهْ ، فَدَنَا ، فَقَالَ : ادْنُهْ ، فَدَنَا ، حَتَّى كَادَ رُكْبَتَاهُ تَمَسَّانِ رُكْبَتَيْهِ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَخْبِرْنِي مَا الْإِيمَانُ ؟ أَوْ عَنِ الْإِيمَانِ ، قَالَ : " تُؤْمِنُ بِاللَّهِ ، وَمَلَائِكَتِهِ ، وَكُتُبِهِ ، وَرُسُلِهِ ، وَالْيَوْمِ الْآخِرِ ، وَتُؤْمِنُ بِالْقَدَرِ " قَالَ سُفْيَانُ : أُرَاهُ قَالَ : " خَيْرِهِ وَشَرِّهِ " ، قَالَ : فَمَا الْإِسْلَامُ ؟ قَالَ : " إِقَامُ الصَّلَاةِ ، وَإِيتَاءُ الزَّكَاةِ ، وَحَجُّ الْبَيْتِ ، وَصِيَامُ شَهْرِ رَمَضَانَ ، وَغُسْلٌ مِنَ الْجَنَابَةِ " ، كُلُّ ذَلِكَ ، قَالَ : صَدَقْتَ ، صَدَقْتَ . قَالَ الْقَوْمُ : مَا رَأَيْنَا رَجُلًا أَشَدَّ تَوْقِيرًا لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ هَذَا ، كَأَنَّهُ يُعَلِّمُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَخْبِرْنِي عَنِ الْإِحْسَانِ ، قَالَ : " أَنْ تَعْبُدَ اللَّهَ ، أَوْ تَعْبُدَهُ كَأَنَّكَ تَرَاهُ ، فَإِنْ لَا تَرَاهُ ، فَإِنَّهُ يَرَاكَ " ، كُلُّ ذَلِكَ نَقُولُ : مَا رَأَيْنَا رَجُلًا أَشَدَّ تَوْقِيرًا لِرَسُولِ اللَّهِ مِنْ هَذَا ، فَيَقُولُ : صَدَقْتَ صَدَقْتَ ، قَالَ : أَخْبِرْنِي عَنِ السَّاعَةِ ، قَالَ : " مَا الْمَسْئُولُ عَنْهَا بِأَعْلَمَ بِهَا مِنَ السَّائِلِ " ، قَالَ : فَقَالَ : صَدَقْتَ ، قَالَ ذَلِكَ مِرَارًا ، مَا رَأَيْنَا رَجُلًا أَشَدَّ تَوْقِيرًا لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ هَذَا ، ثُمَّ وَلَّى ، قَالَ سُفْيَانُ : فَبَلَغَنِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الْتَمِسُوهُ " فَلَمْ يَجِدُوهُ ، قَالَ : " هَذَا جِبْرِيلُ جَاءَكُمْ يُعَلِّمُكُمْ دِينَكُمْ ، مَا أَتَانِي فِي صُورَةٍ إِلَّا عَرَفْتُهُ ، غَيْرَ هَذِهِ الصُّورَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
یحییٰ بن یعمر کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے ذکر کیا کہ ہم لوگ دنیا میں مختلف جگہوں کے سفر پر آتے جاتے رہتے ہیں ، ہماری ملاقات بعض ان لوگوں سے بھی ہوتی ہے جو تقدیر کے منکر ہوتے ہیں انہوں نے فرمایا کہ جب تم ان لوگوں کے پاس لوٹ کر جاؤ تو ان سے کہہ دینا کہ ابن عمر تم سے بری ہے اور تم اس سے بری ہو ، یہ بات تین مرتبہ کہہ کر انہوں نے یہ روایت سنائی کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ، ایک دن ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بیٹھے ہوئے تھے کہ اچانک ایک آدمی چلتا ہوا آیا ، پھر انہوں نے اس کا حلیہ بیان کیا ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دو مرتبہ اسے قریب ہونے کے لئے کہا : چنانچہ وہ اتنا قریب ہوا کہ اس کے گھٹنے نبی صلی اللہ علیہ کے گھٹنوں سے چھونے لگے ، اس نے کہا : یا رسول اللہ ! یہ بتائیے کہ ایمان کیا ہے ؟ فرمایا : ”تم اللہ پر ، اس کے فرشتوں ، جنت و جہنم ، قیامت کے بعد دوبارہ جی اٹھنے اور تقدیر پر یقین رکھو“ ، اس نے پھر پوچھا کہ اسلام کیا ہے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ کہ تم نماز قائم کرو ، زکوٰۃ ادا کرو رمضان کے روزے رکھو اور حج بیت اللہ کرو اور غسل جنابت کرو ۔ اس نے پھر پوچھا کہ احسان کیا ہے ؟ فرمایا : ”تم اللہ کی رضاحاصل کرنے کے لئے اس کی عبادت اس طرح کرو گویا کہ تم اسے دیکھ رہے ہو ، اگر تم یہ تصور نہیں کر سکتے تو وہ تو تمہیں دیکھ ہی رہا ہے (اس لئے یہ تصور ہی کر لیا کرو کہ اللہ ہمیں دیکھ رہا ہے )“ ، اس کے ہر سوال پر ہم یہی کہتے تھے کہ اس سے زیادہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت و توقیر کرنے والا ہم نے کوئی نہیں دیکھا اور وہ باربار کہتا جا رہا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سچ فرمایا ۔ اس نے پھر پوچھا : کہ قیامت کب آئے گی ؟ فرمایا : ”جس سے سوال پوچھا جا رہا ہے وہ پوچھنے والے سے زیادہ نہیں جانتا یعنی ہم دونوں ہی اس معاملے میں بےخبر ہیں ، “ جب وہ آدمی چلا گیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”ذرا اس آدمی کو بلا کر لانا“ ، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اس کی تلاش میں نکلے تو انہیں وہ نہ ملا ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”وہ جبرئیل تھے جو تمہیں تمہارے دین کی اہم اہم باتیں سکھانے آئے تھے ، اس سے پہلے وہ جس صورت میں بھی آتے تھے میں انہیں پہچان لیتا تھا لیکن اس مرتبہ نہیں پہچان سکا ۔ “
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 374
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 8
حدیث نمبر: 375
حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنِ ابْنِ يَعْمَرَ ، قَالَ : سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ ، أَوْ : سَأَلَهُ رَجُلٌ : إِنَّا نَسِيرُ فِي هَذِهِ الْأَرْضِ فَنَلْقَى قَوْمًا يَقُولُونَ : لَا قَدَرَ ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ : إِذَا لَقِيتَ أُولَئِكَ ، فَأَخْبِرْهُمْ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ مِنْهُمْ بَرِيءٌ ، وَهُمْ مِنْهُ بُرَآءُ ، قَالَهَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ، ثُمَّ أَنْشَأَ يُحَدِّثُنَا ، قَالَ : بَيْنَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَجَاءَ رَجُلٌ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَدْنُو ؟ فَقَالَ : " ادْنُهْ ، فَدَنَا رَتْوَةً ، ثُمَّ قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَدْنُو ؟ فَقَالَ : ادْنُهْ ، فَدَنَا رَتْوَةً ، ثُمَّ قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَدْنُو ؟ فَقَالَ : ادْنُهْ ، فَدَنَا رَتْوَةً " ، حَتَّى كَادَتْ أَنْ تَمَسَّ رُكْبَتَاهُ رُكْبَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا الْإِيمَانُ ؟ فَذَكَرَ مَعْنَاهُ .
مولانا ظفر اقبال
یحییٰ بن یعمر کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے ذکر کیا کہ ہم لوگ دنیا میں مختلف جگہوں کے سفر پر آتے جاتے رہتے ہیں ، ہماری ملاقات بعض ان لوگوں سے بھی ہوتی ہے جو تقدیر کے منکر ہوتے ہیں انہوں نے فرمایا کہ جب تم ان لوگوں کے پاس لوٹ کر جاؤ تو ان سے کہہ دینا کہ ابن عمر تم سے بری ہے اور تم اس سے بری ہو ، یہ بات تین مرتبہ کہہ کر انہوں نے یہ روایت سنائی کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ، ایک دن ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بیٹھے ہوئے تھے کہ اچانک ایک آدمی چلتا ہوا آیا ، پھر انہوں نے اس کا حلیہ بیان کیا ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دو مرتبہ اسے قریب ہونے کے لئے کہا : چنانچہ وہ اتنا قریب ہوا کہ اس کے گھٹنے نبی صلی اللہ علیہ کے گھٹنوں سے چھونے لگے ، اس نے کہا : یا رسول اللہ ! یہ بتائیے کہ ایمان کیا ہے ؟ پھر راوی نے مکمل حدیث ذکر کی ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 375
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح كسابقه
حدیث نمبر: 376
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى الْأَشْيَبُ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ أَبِي الْوَلِيدِ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سُرَاقَةَ الْعَدَوِيِّ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ أَظَلَّ رَأْسَ غَازٍ ، أَظَلَّهُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، وَمَنْ جَهَّزَ غَازِيًا حَتَّى يَسْتَقِلَّ بِجَهَازِهِ ، كَانَ لَهُ مِثْلُ أَجْرِهِ ، وَمَنْ بَنَى مَسْجِدًا يُذْكَرُ فِيهِ اسْمُ اللَّهِ ، بَنَى اللَّهُ لَهُ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے : ”جو شخص کسی مجاہد کے سر پر سایہ کرے ، اللہ قیامت کے دن اس پر سایہ کرے گا ، جو شخص مجاہد کو سامان جہاد مہیا کرے یہاں تک کہ وہ اپنے پاؤں پر کھڑا ہو جائے ، اس کے لئے اس مجاہد کے برابر اجر لکھا جاتا رہے گا اور جو شخص اللہ کی رضا کے لئے مسجد تعمیر کرے جس میں اللہ کا ذکر کیا جائے ، اللہ جنت میں اس کا گھر تعمیر کرے گا ۔ “
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 376
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، عبدالله بن لهيعة قد توبع، وفي إدراك عثمان بن عبدالله بن سراقة لعمر بن الخطاب خلاف
حدیث نمبر: 377
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَتَّابٌ يَعْنِي ابْنَ زِيَادٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ الْمُبَارَكِ ، أَنْبَأَنَا يُونُسُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ ، وَعُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، عَنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، قَالَ عَبْد اللَّهِ : وَقَدْ بَلَغَ بِهِ أَبِي إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ فَاتَهُ شَيْءٌ مِنْ وِرْدِهِ ، أَوْ قَالَ : مِنْ جُزْئِهِ مِنَ اللَّيْلِ ، فَقَرَأَهُ مَا بَيْنَ صَلَاةِ الْفَجْرِ إِلَى الظُّهْرِ ، فَكَأَنَّمَا قَرَأَهُ مِنْ لَيْلَتِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”جس شخص سے اس کا رات والی دعاؤں کا معمول کسی وجہ سے چھوٹ جائے اور وہ اسے اگلے دن فجر اور ظہر کے درمیان کسی بھی وقت پڑھ لے تو گویا اس نے اپنا معمول رات ہی کو پورا کیا ۔ “
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 377
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م:747
حدیث نمبر: 378
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي مَيْسَرَةَ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، قَالَ : " لَمَّا نَزَلَ تَحْرِيمُ الْخَمْرِ ، قَالَ : اللَّهُمَّ بَيِّنْ لَنَا فِي الْخَمْرِ بَيَانًا شَافِيًا ، فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ الَّتِي فِي سُورَةِ الْبَقَرَةِ : يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْخَمْرِ وَالْمَيْسِرِ قُلْ فِيهِمَا إِثْمٌ كَبِيرٌ سورة البقرة آية 219 ، قَالَ : فَدُعِيَ عُمَرُ ، فَقُرِئَتْ عَلَيْهِ ، فَقَالَ : اللَّهُمَّ بَيِّنْ لَنَا فِي الْخَمْرِ بَيَانًا شَافِيًا ، فَنَزَلَتْ الْآيَةُ الَّتِي فِي سُورَةِ النِّسَاءِ : يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تَقْرَبُوا الصَّلاةَ وَأَنْتُمْ سُكَارَى سورة النساء آية 43 ، فَكَانَ مُنَادِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَقَامَ الصَّلَاةَ نَادَى : أَنْ لَا يَقْرَبَنَّ الصَّلَاةَ سَكْرَانُ ، فَدُعِيَ عُمَرُ ، فَقُرِئَتْ عَلَيْهِ ، فَقَالَ : اللَّهُمَّ بَيِّنْ لَنَا فِي الْخَمْرِ بَيَانًا شَافِيًا ، فَنَزَلَتْ الْآيَةُ الَّتِي فِي الْمَائِدَةِ ، فَدُعِيَ عُمَرُ ، فَقُرِئَتْ عَلَيْهِ ، فَلَمَّا بَلَغَ : فَهَلْ أَنْتُمْ مُنْتَهُونَ سورة المائدة آية 91 قَالَ : فَقَالَ عُمَرُ : انْتَهَيْنَا ، انْتَهَيْنَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب حرمت شراب کا حکم نازل ہونا شروع ہوا تو انہوں نے دعا کی کہ اے اللہ ! شراب کے بارے میں کوئی شافی بیان نازل فرمائیے ، چنانچہ سورت بقرہ کی یہ آیت نازل ہوئی ۔ «يسألونك عن الخمر والميسر قل فيهما اثم كبير» ”اے نبی (صلی اللہ علیہ وسلم ) ! یہ آپ سے شراب اور جوئے کے بارے پوچھتے ہیں ، آپ فرما دیجئے کہ ان کا گناہ بہت بڑا ہے ۔ “ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو بلا کر یہ آیت سنائی گئی ، انہوں نے پھر وہی دعا کی کہ اے اللہ ! شراب کے بارے کوئی شافی بیان نازل فرمائیے ، اس پر سورت نساء کی یہ آیت نازل ہوئی ۔ «يا ايها الذين آمنوا لاتقربوا الصلاة وانتم سكاري» ”اے ایمان والو ! جب تم نشے کی حالت میں ہو تو نماز کے قریب نہ جاؤ ۔ “ اس آیت کے نزول کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا مؤذن جب اقامت کہتا تو یہ نداء بھی لگاتا کہ نشے میں مدہوش کوئی شخص نماز کے قریب نہ آئے اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو بلا کر یہ آیت بھی سنائی گئی ، لیکن انہوں نے پھر وہی دعا کی کہ اے اللہ ! شراب کے بارے کوئی شافی بیان نازل فرمائیے ، اس پر سورت مائدہ کی آیت نازل ہوئی اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو بلا کر اس کی تلاوت بھی سنائی گئی ، جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم «فهل انتم منتهون» پر پہنچے تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ ہم باز آ گئے ، ہم باز آ گئے ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 378
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 379
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ صُبَيِّ بْنِ مَعْبَدٍ : أَنَّهُ كَانَ نَصْرَانِيًّا تَغْلِبِيًّا ، فَأَسْلَمَ ، فَسَأَلَ : أَيُّ الْعَمَلِ أَفْضَلُ ؟ فَقِيلَ لَهُ : الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ، فَأَرَادَ أَنْ يُجَاهِدَ ، فَقِيلَ لَهُ : أَحَجَجْتَ ؟ قَالَ : لَا ، فَقِيلَ لَهُ : حُجَّ وَاعْتَمِرْ ، ثُمَّ جَاهِدْ ، فَأَهَلَّ بِهِمَا جَمِيعًا ، فَوَافَقَ زَيْدَ بْنَ صُوحَانَ ، وَسَلْمَانَ بْنَ رَبِيعَةَ ، فَقَالَا : هُوَ أَضَلُّ مِنْ نَاقَتِهِ ، أَوْ : مَا هُوَ بِأَهْدَى مِنْ جَمَلِهِ ، فَانْطَلَقَ إِلَى عُمَرَ ، فَأَخْبَرَهُ بِقَوْلِهِمَا ، فَقَالَ : " هُدِيتَ لِسُنَّةِ نَبِيِّكَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَوْ لِسُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابووائل کہتے ہیں کہ صبی بن معبد ایک دیہاتی قبیلہ بنو تغلب کے عیسائی آدمی تھے جنہوں نے اسلام قبول کر لیا ، انہوں نے لوگوں سے پوچھا کہ سب سے افضل عمل کون سا ہے ؟ لوگوں نے بتایا ، اللہ کے راستہ میں جہاد کرنا ، چنانچہ انہوں نے جہاد کا ارادہ کر لیا ، اسی اثناء میں کسی نے ان سے پوچھا کہ آپ نے حج کیا ہے ؟ انہوں نے کہا کہ نہیں ! اس نے کہا : آپ پہلے حج اور عمرہ کر لیں ، پھر جہاد میں شرکت کریں ۔ چنانچہ وہ حج کی نیت سے روانہ ہو گئے اور میقات پر پہنچ کر حج اور عمرہ دونوں کا احرام باندھ لیا ، زید بن صوحان اور سلمان بن ربیعہ کو معلوم ہوا تو انہوں نے کہا کہ یہ شخص اپنے اونٹ سے بھی زیادہ گمراہ ہے ، صبی نے یہ بات سن لی جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو زید اور سلمان نے جو کہا تھا ، اس کے متعلق ان کی خدمت میں عرض کیا ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا کہ آپ کو اپنے پیغمبر کی سنت پر رہنمائی نصیب ہو گئی ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 379
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 380
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ هِشَامٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَبِي ، أَنَّ عُمَرَ ، قَالَ لِلْحَجَرِ : " إِنَّمَا أَنْتَ حَجَرٌ ، وَلَوْلَا أَنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُكَ ، مَا قَبَّلْتُكَ " ، ثُمَّ قَبَّلَهُ .
مولانا ظفر اقبال
ایک مرتبہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے حجر اسود سے مخاطب ہو کر فرمایا کہ تو محض ایک پتھر ہے اگر میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو تیرا بوسہ لیتے ہوئے نہ دیکھا ہوتا تو میں تجھے کبھی بوسہ نہ دیتا ، یہ کہہ کر آپ نے اسے بوسہ دیا ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 380
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، عروة بن الزبير والد هشام لم يدرك عمر، خ: 1597، م: 1271
حدیث نمبر: 381
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ : أَنَّ عُمَرَ أَتَى الْحَجَرَ ، فَقَالَ : " إِنِّي لَأَعْلَمُ أَنَّكَ حَجَرٌ لَا تَضُرُّ وَلَا تَنْفَعُ ، وَلَوْلَا أَنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُكَ ، مَا قَبَّلْتُكَ " قَالَ : ثُمَّ قَبَّلَهُ .
مولانا ظفر اقبال
عروہ کہتے ہیں کہ میں نے دیکھا ایک مرتبہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ حجر اسود کے پاس آئے اور اس سے فرمایا : میں جانتا ہوں کہ تو ایک پتھر ہے ، کسی کو نہ نفع پہنچا سکتا ہے اور نہ نقصان ، اگر میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو تیرا بوسہ لیتے ہوئے نہ دیکھا ہوتا تو میں تجھے کبھی بوسہ نہ دیتا ، یہ کہہ کر انہوں نے اسے بوسہ دیا ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 381
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح كسابقه
حدیث نمبر: 382
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الْأَعْلَى ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ : أَنَّ عُمَرَ قَبَّلَهُ وَالْتَزَمَهُ ، ثُمّ قَالَ : " رَأَيْتُ أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِكَ حَفِيًّا " ، يَعْنِي الْحَجَرَ .
مولانا ظفر اقبال
سوید بن غفلہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے دیکھا ایک مرتبہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے حجر اسود کو چمٹ کر اسے بوسہ دیا اور اس سے مخاطب ہو کر فرمایا کہ میں نے ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کو تجھ پر مہربان دیکھا ہے ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 382
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، وأنظر ما قبله
حدیث نمبر: 383
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا جَاءَ اللَّيْلُ مِنْ هَهُنَا ، وَذَهَبَ النَّهَارُ مِنْ هَهُنَا ، فَقَدْ أَفْطَرَ الصَّائِمُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”جب رات یہاں سے آ جائے اور دن وہاں سے چلا جائے تو روزہ دار کو روزہ افطار کر لینا چاہیے ، مشرق اور مغرب مراد ہے ۔ “
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 383
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1954، م: 1100
حدیث نمبر: 384
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَثَلُ الَّذِي يَعُودُ فِي صَدَقَتِهِ ، كَمَثَلِ الَّذِي يَعُودُ فِي قَيْئِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”صدقہ دے کر دوبارہ اس کی طرف رجوع کرنے والا اس شخص کی طرح ہوتا ہے جو اپنے منہ سے قئی کر کے اس کو چاٹ لے ۔ “
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 384
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وإسناده حسن، خ: 1490، م: 1620
حدیث نمبر: 385
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ ، عَنْ عُمَرَ ، قَالَ : " كَانَ أَهْلُ الْجَاهِلِيَّةِ لَا يُفِيضُونَ مِنْ جَمْعٍ ، حَتَّى يَقُولُوا : أَشْرِقْ ثَبِيرُ كَيْمَا نُغِيرُ ، فَلَمَّا جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَالَفَهُمْ ، فَكَانَ يَدْفَعُ مِنْ جَمْعٍ مِقْدَارَ صَلَاةِ الْمُسْفِرِينَ بِصَلَاةِ الْغَدَاةِ ، قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ مشرکین طلوع آفتاب سے پہلے واپس نہیں جاتے تھے اور کہتے تھے کہ کوہ ثبیر روشن ہو تاکہ ہم حملہ کریں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا طریقہ اختیار نہیں کیا اور مزدلفہ سے منیٰ کی طرف طلوع آفتاب سے قبل ہی روانہ ہو گئے جبکہ نماز فجر اسفار کر کے پڑھنے والوں کی مقدار کے تناسب سے پڑھی جا سکتی تھی ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 385
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1684
حدیث نمبر: 386
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا رَبَاحُ بْنُ أَبِي مَعْرُوفٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ : قَالَ لِي عُمَرُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " إِنَّ الْمَيِّتَ لَيُعَذَّبُ بِبُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ میت کو اس پر اس کے اہل خانہ کے رونے کی وجہ سے عذاب ہوتا ہے ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 386
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وإسناده حسن، خ: 1287، م: 927
حدیث نمبر: 387
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ حَسَنِ بْنِ صَالِحٍ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ عُمَرُ : أَنَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَمْسَحُ عَلَى خُفَّيْهِ فِي السَّفَرِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے خود اپنی آنکھوں سے دوران سفر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو موزوں پر مسح کرتے ہوئے دیکھا ہے ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 387
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف عاصم بن عبيد الله واضطرابه
حدیث نمبر: 388
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ إِسْرَائِيلَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ ، عَنْ عُمَرَ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ يَتَعَوَّذُ مِنَ الْبُخْلِ وَالْجُبْنِ ، وَعَذَابِ الْقَبْرِ ، وَأَرْذَلِ الْعُمُرِ ، وَفِتْنَةِ الصَّدْرِ " ، قَالَ وَكِيعٌ : فِتْنَةُ الصَّدْرِ : أَنْ يَمُوتَ الرَّجُلُ ، وَذَكَرَ وَكِيعٌ : الْفِتْنَةَ لَمْ يَتُبْ مِنْهَا .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (پانچ چیزوں سے ) اللہ کی پناہ مانگا کرتے تھے ، بخل سے ، بزدلی سے ، دل کے فتنہ سے ، عذاب قبر سے اور بری عمر سے ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 388
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 389
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ الْوَلِيدِ الشَّنِّيُّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ، قَالَ : جَلَسَ عُمَرُ مَجْلِسًا ، كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَجْلِسُهُ تَمُرُّ عَلَيْهِ الْجَنَائِزُ ، قَالَ : " فَمَرُّوا بِجِنَازَةٍ ، فَأَثْنَوْا خَيْرًا ، فَقَالَ : وَجَبَتْ ، ثُمَّ مَرُّوا بِجِنَازَةٍ ، فَأَثْنَوْا خَيْرًا ، فَقَالَ : وَجَبَتْ ، ثُمَّ مَرُّوا بِجِنَازَةٍ ، فَقَالُوا خَيْرًا ، فَقَالَ : وَجَبَتْ ، ثُمَّ مَرُّوا بِجِنَازَةٍ ، فَقَالُوا : هَذَا كَانَ أَكْذَبَ النَّاسِ ، فَقَالَ : إِنَّ أَكْذَبَ النَّاسِ أَكْذَبُهُمْ عَلَى اللَّهِ ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ، مَنْ كَذَبَ عَلَى رُوحِهِ فِي جَسَدِهِ ، قَالَ : قَالُوا : أَرَأَيْتَ إِذَا شَهِدَ أَرْبَعَةٌ ؟ قَالَ : وَجَبَتْ ، قَالُوا : وَثَلَاثَةٌ ؟ قَالَ : وَجَبَتْ ، قَالُوا : وَاثْنَيْنِ ؟ قَالَ : وَجَبَتْ ، وَلَأَنْ أَكُونَ قُلْتُ وَاحِدًا أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ حُمْرِ النَّعَمِ ، قَالَ : فَقِيلَ لِعُمَرَ : هَذَا شَيْءٌ تَقُولُهُ بِرَأْيِكَ ، أَمْ شَيْءٌ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : لَا ، بَلْ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
مولانا ظفر اقبال
عبداللہ بن بریدہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اس جگہ بیٹھے ہوئے تھے جہاں نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی بیٹھتے تھے اور وہاں سے جنازے گزر تے تھے ، وہاں سے ایک جنازہ کا گزر ہوا ، لوگوں نے اس مردے کی تعریف کی ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : واجب ہو گئی ، پھر دوسرا جنازہ گزر ا ، لوگوں نے اس کی بھی تعریف کی ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے پھر فرمایا : واجب ہو گئی ، تیسرے جنازہ پر بھی ایسا ہی ہوا ، جب چوتھا جنازہ گزر ا تو لوگوں نے کہا : یہ سب سے بڑا جھوٹا تھا ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : لوگوں میں سب سے بڑا جھوٹا وہ ہوتا ہے جو اللہ پر سب سے زیادہ جھوٹ باندھتا ہے ، اس کے بعد وہ لوگ ہوتے ہیں جو اپنے جسم میں موجود روح پر جھوٹ باندھتے ہیں ، لوگوں نے کہا : یہ بتائیے کہ اگر کسی مسلمان کے لئے چار آدمی خیر کی گواہی دے دیں تو اس کا کیا حکم ہے ؟ انہوں نے فرمایا : اس کے لئے جنت واجب ہو گئی ، لوگوں نے عرض کیا : اگر تین آدمی ہوں ؟ تو فرمایا : تب بھی یہی حکم ہے ، ہم نے دو کے متعلق پوچھا ، فرمایا : دو ہوں تب بھی یہی حکم ہے ، اگر میں ایک کے متعلق پوچھ لیتا تو یہ میرے نزدیک سرخ اونٹوں سے بھی زیادہ پسندیدہ تھا ، کسی شخص نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ یہ بات آپ اپنی رائے سے کہہ رہے ہیں یا آپ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے ؟ انہوں نے فرمایا : نہیں ، بلکہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 389
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 2643، عبدالله بن بريدة لم يدرك عمر، بينهما أبو الأسود الدؤلي كما تقدم برقم: 139 بإسناد صحيح
حدیث نمبر: 390
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ ، قَالَ : بَلَغَ عُمَرَ أَنَّ سَعْدًا لَمَّا بَنَى الْقَصْرَ ، قَالَ : انْقَطَعَ الصُّوَيْتُ ، فَبَعَثَ إِلَيْهِ مُحَمَّدَ بْنَ مَسْلَمَةَ ، فَلَمَّا قَدِمَ أَخْرَجَ زَنْدَهُ ، وَأَوْرَى نَارَهُ ، وَابْتَاعَ حَطَبًا بِدِرْهَمٍ ، وَقِيلَ لِسَعْدٍ : إِنَّ رَجُلًا فَعَلَ كَذَا وَكَذَا ، فَقَالَ : ذَاكَ مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ ، فَخَرَجَ إِلَيْهِ ، فَحَلَفَ بِاللَّهِ مَا قَالَهُ ، فَقَالَ : نُؤَدِّي عَنْكَ الَّذِي تَقُولُهُ ، وَنَفْعَلُ مَا أُمِرْنَا بِهِ ، فَأَحْرَقَ الْبَابَ ، ثُمَّ أَقْبَلَ يَعْرِضُ عَلَيْهِ أَنْ يُزَوِّدَهُ ، فَأَبَى ، فَخَرَجَ ، فَقَدِمَ عَلَى عُمَرَ ، فَهَجَّرَ إِلَيْهِ ، فَسَارَ ذَهَابَهُ وَرُجُوعَهُ تِسْعَ عَشْرَةَ ، فَقَالَ : لَوْلَا حُسْنُ الظَّنِّ بِكَ ، لَرَأَيْنَا أَنَّكَ لَمْ تُؤَدِّ عَنَّا ، قَالَ : بَلَى ، أَرْسَلَ يَقْرَأُ السَّلَامَ ، وَيَعْتَذِرُ ، وَيَحْلِفُ بِاللَّهِ مَا قَالَ : فَهَلْ زَوَّدَكَ شَيْئًا ؟ قَالَ : لَا ، قَالَ : فَمَا مَنَعَكَ أَنْ تُزَوِّدَنِي أَنْتَ ؟ قَالَ : إِنِّي كَرِهْتُ أَنْ آمُرَ لَكَ ، فَيَكُونَ لَكَ الْبَارِدُ ، وَيَكُونَ لِي الْحَارُّ ، وَحَوْلِي أَهْلُ الْمَدِينَةِ قَدْ قَتَلَهُمْ الْجُوعُ ، وَقَدْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " لَا يَشْبَعُ الرَّجُلُ دُونَ جَارِهِ " . ¤
مولانا ظفر اقبال
عبایہ بن رفاعہ کہتے ہیں کہ جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو یہ خبر معلوم ہوئی کہ سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے اپنے لئے ایک محل تعمیر کروایا ہے جہاں فریادیوں کی آوازیں پہنچنا بند ہو گئی ہیں ، تو انہوں نے فوراً محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ کو روانہ فرمایا : انہوں نے وہاں پہنچ کر چقماق نکال کر اس سے آگ سلگائی ، ایک درہم کی لکڑیاں خریدیں اور انہیں آگ لگا دی ۔ کسی نے جا کر سیدنا سعد رضی اللہ عنہ سے کہا کہ ایک آدمی ایسا ایسا کر رہا ہے ، انہوں نے فرمایا کہ وہ محمد بن مسلمہ ہیں ، یہ کہہ کر وہ ان کے پاس آئے اور ان سے قسم کھا کر کہا کہ انہوں نے کوئی بات نہیں کہی ہے, محمد بن مسلمہ کہنے لگے کہ ہمیں تو جو حکم ملا ہے ، ہم وہی کریں گے ، اگر آپ نے کوئی پیغام دینا ہو تو وہ بھی پہنچا دیں گے ، یہ کہہ کر انہوں نے اس محل کے دروازے کو آگ لگا دی ۔ پھر سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے انہیں زاد راہ کی پیشکش کی لیکن انہوں نے اسے بھی قبول نہ کیا اور واپس روانہ ہو گئے ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس جس وقت وہ پہنچے وہ دوپہر کا وقت تھا اور اس آنے جانے میں ان کے کل انیس دن صرف ہوئے تھے ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں دیکھ کر فرمایا : اگر آپ کے ساتھ حسن ظن نہ ہوتا تو ہم یہ سمجھتے کہ شاید آپ نے ہمارا پیغام ان تک نہیں پہنچایا ۔ انہوں نے عرض کیا : کیوں نہیں ! اس کے جواب میں انہوں نے آپ کو سلام کہلوایا ہے اور معذرت کی ہے اور اللہ کی قسم کھا کر کہا ہے کہ انہوں نے کسی قسم کی کوئی بات نہیں کی ہے ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ کیا انہوں نے آپ کو زادراہ دیا ؟ عرض کیا میں نے خود ہی نہیں لیا ، فرمایا : پھر اپنے ساتھ کیوں نہیں لے گئے ؟ عرض کیا کہ مجھے یہ چیز اچھی نہ لگی کہ میں انہیں آپ کا کوئی حکم دوں ، وہ آپ کے لئے تو ٹھنڈے رہیں اور میرے لئے گرم ہو جائیں ، پھر میرے اردگرد اہل مدینہ آباد ہیں جنہیں بھوک نے مار رکھا ہے اور میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ کوئی شخص اپنے پڑوسی کو چھوڑ کر خود سیراب نہ ہوتا پھرے ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 390
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، ورواية عباية بن رفاعة عن عمر مرسلة
حدیث نمبر: 390M
آخِرُ مُسْنَدِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 390M