حدیث نمبر: 322
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ ، وَعَفَّانُ ، قَالَا : حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَوْدِيِّ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحِمْيَرِيِّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ بِالْبَصْرَةِ ، قَالَ : أَنَا أَوَّلُ مَنْ أَتَى عُمَرَ حِينَ طُعِنَ ، فَقَالَ : " احْفَظْ عَنِّي ثَلَاثًا ، فَإِنِّي أَخَافُ أَنْ لَا يُدْرِكَنِي النَّاسُ : أَمَّا أَنَا فَلَمْ أَقْضِ فِي الْكَلَالَةِ قَضَاءً ، وَلَمْ أَسْتَخْلِفْ عَلَى النَّاسِ خَلِيفَةً ، وَكُلُّ مَمْلُوكٍ لَهُ عَتِيقٌ ، فَقَالَ لَهُ النَّاسُ : اسْتَخْلِفْ ، فَقَالَ : أَيَّ ذَلِكَ أَفْعَلُ فَقَدْ فَعَلَهُ مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنِّي ، إِنْ أَدَعْ إِلَى النَّاسِ أَمْرَهُمْ ، فَقَدْ تَرَكَهُ نَبِيُّ اللَّهِ عَلَيْهِ الصَّلَاة وَالسَّلَامُ ، وَإِنْ أَسْتَخْلِفْ ، فَقَدْ اسْتَخْلَفَ مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنِّي : أَبُو بَكْرٍ ، فَقُلْتُ لَهُ : أَبْشِرْ بِالْجَنَّةِ ، صَاحَبْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَطَلْتَ صُحْبَتَهُ ، وَوُلِّيتَ أَمْرَ الْمُؤْمِنِينَ فَقَوِيتَ ، وَأَدَّيْتَ الْأَمَانَةَ ، فَقَالَ : أَمَّا تَبْشِيرُكَ إِيَّايَ بِالْجَنَّةِ ، فَوَاللَّهِ لَوْ أَنَّ لِي ، قَالَ عَفَّانُ : فَلَا وَاللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ ، لَوْ أَنَّ لِي الدُّنْيَا بِمَا فِيهَا ، لَافْتَدَيْتُ بِهِ مِنْ هَوْلِ مَا أَمَامِي قَبْلَ أَنْ أَعْلَمَ الْخَبَرَ ، وَأَمَّا قَوْلُكَ فِي أَمْرِ الْمُؤْمِنِينَ ، فَوَاللَّهِ لَوَدِدْتُ أَنَّ ذَلِكَ كَفَافًا ، لَا لِي وَلَا عَلَيَّ ، وَأَمَّا مَا ذَكَرْتَ مِنْ صُحْبَةِ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَلِكَ " .
مولانا ظفر اقبال
حمید بن عبدالرحمن کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ بصرہ میں ہمیں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے یہ حدیث سنائی کہ جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ قاتلانہ حملے میں زخمی ہوئے تو سب سے پہلے ان کے پاس پہنچنے والا میں ہی تھا ، انہوں نے فرمایا کہ میری تین باتیں یاد رکھو ، کیونکہ مجھے خطرہ ہے کہ لوگ جب تک آئیں گے اس وقت تک میں نہیں بچوں گا اور لوگ مجھے نہ پا سکیں گے ، کلالہ کے بارے میں کوئی فیصلہ نہیں کرتا ، لوگوں پر اپنا نائب اور خلیفہ کسی کو نامزد نہیں کرتا اور میرا ہر غلام آزاد ہے ۔ لوگوں نے ان سے عرض کیا کہ امیر المؤمنین ! کسی کو اپنا خلفیہ نامزد کر دیجئے ، انہوں نے فرمایا کہ میں جس پہلو کو بھی اختیار کروں ، اسے مجھ سے بہتر ذات نے اختیار کیا ہے ، چنانچہ اگر میں لوگوں کا معاملہ ان ہی کے حوالے کر دوں تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ایسا ہی کیا تھا اور اگر کسی کو اپنا خلیفہ مقرر کر دوں تو مجھ سے بہتر ذات نے بھی اپنا خلیفہ مقرر کیا تھا یعنی سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ۔ میں نے عرض کیا کہ آپ کو جنت کی بشارت ہو ، آپ کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ہم نشینی کا شرف حاصل ہوا اور طویل موقع ملا ، اس کے بعد آپ کو امیر المؤمنین بنایا گیا تو آپ نے اپنے مضبوط ہونے کا ثبوت پیش کیا اور امانت کو ادا کیا ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرمانے لگے کہ تم نے مجھے جنت کی جو بشارت دی ہے ، اللہ کی قسم ! اگر میرے پاس دنیا ومافیہا کی نعمتیں اور خزانے ہوتے تو اصل صورت حال واضح ہونے سے پہلے اپنے سامنے پیش آنے والے ہولناک واقعات و مناظر کے فدئیے میں دے دیتا اور مسلمانوں پر خلافت کا جو تم نے ذکر کیا ہے تو بخدا ! میری تمنا ہے کہ برابر سرابر چھوٹ جاؤں ، نہ میرا کوئی فائدہ ہو اور نہ مجھ پر کوئی وبال ہو ، البتہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ہم نشینی کا جو تم نے ذکر کیا ہے ، وہ صحیح ہے ۔
حدیث نمبر: 323
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَيَّاشٍ ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ حَكِيمٍ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلٍ ، قَالَ : كَتَبَ عُمَرُ إِلَى أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ الْجَرَّاحِ : أَنْ عَلِّمُوا غِلْمَانَكُمْ الْعَوْمَ ، وَمُقَاتِلَتَكُمْ الرَّمْيَ ، فَكَانُوا يَخْتَلِفُونَ إِلَى الْأَغْرَاضِ ، فَجَاءَ سَهْمٌ غَرْبٌ إِلَى غُلَامٍ ، فَقَتَلَهُ ، فَلَمْ يُوجَدْ لَهُ أَصْلٌ ، وَكَانَ فِي حَجْرِ خَالٍ لَهُ ، فَكَتَبَ فِيهِ أَبُو عُبَيْدَةَ إِلَى عُمَرَ : إِلَى مَنْ أَدْفَعُ عَقْلَهُ ، فَكَتَبَ إِلَيْهِ عُمَرُ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ : " اللَّهُ وَرَسُولُهُ مَوْلَى مَنْ لَا مَوْلَى لَهُ ، وَالْخَالُ وَارِثُ مَنْ لَا وَارِثَ لَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے سیدنا ابوعبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ کے نام ایک خط میں لکھا کہ اپنے لڑکوں کو تیرنا اور اپنے جنگجوؤں کو تیر اندازی کرنا سکھاؤ ، چنانچہ مختلف چیزوں کو نشانہ بنا کر تیر اندازی سیکھنے لگے ، اسی تناظر میں ایک بچے کو نامعلوم تیر لگا ، جس سے وہ جاں بحق ہو گیا ، اس کا صرف ایک ہی وارث تھا اور وہ تھا اس کا ماموں ، سیدنا ابوعبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ نے اس سلسلے میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں خط لکھا ، انہوں نے جواباً لکھ بھیجا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ جس کا کوئی مولیٰ نہ ہو ، اللہ و رسول اس کے مولیٰ ہیں اور جس کا کوئی وارث نہ ہو ، ماموں ہی اس کا وارث ہو گا ۔
حدیث نمبر: 324
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يزيدٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " يَرِثُ الْوَلَاءَ مَنْ وَرِثَ الْمَالَ مِنْ وَالِدٍ ، أَوْ وَلَدٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے کہ مال کی وراثت اسی کو ملے گی جسے ولاء ملے گی خواہ وہ باپ ہو یا بیٹا ۔
حدیث نمبر: 325
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَابِسِ بْنِ رَبِيعَةَ ، قَالَ : رَأَيْتُ عُمَرَ أَتَى الْحَجَرَ ، فَقَالَ : " أَمَا وَاللَّهِ إِنِّي لَأَعْلَمُ أَنَّكَ حَجَرٌ ، لَا تَضُرُّ وَلَا تَنْفَعُ ، وَلَوْلَا أَنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبَّلَكَ ، مَا قَبَّلْتُكَ " ، ثُمَّ دَنَا فَقَبَّلَهُ .
مولانا ظفر اقبال
عابس بن ربیعہ کہتے ہیں کہ میں نے ایک مرتبہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ وہ حجر اسود کے قریب آئے اور اس سے مخاطب ہو کر فرمایا : بخدا ! میں جانتا ہوں کہ تو محض ایک پتھر ہے جو کسی کو نفع و نقصان نہیں دے سکتا ، اگر میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو تیرا بوسہ لیتے ہوئے نہ دیکھا ہوتا تو میں تجھے کبھی بوسہ نہ دیتا ، یہ کہہ کر آپ نے اسے قریب ہو کر بوسہ دیا ۔
حدیث نمبر: 326
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا دُجَيْنٌ أَبُو الْغُصْنِ بَصْرِيٌّ ، قَالَ : قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ فَلَقِيتُ أَسْلَمَ مَوْلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، فَقُلْتُ : حَدِّثْنِي عَنْ عُمَرَ ، فَقَالَ : لَا أَسْتَطِيعُ ، أَخَافُ أَنْ أَزِيدَ أَوْ أَنْقُصَ ، كُنَّا إِذَا قُلْنَا لِعُمَرَ : حَدِّثْنَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : أَخَافُ أَنْ أَزِيدَ حَرْفًا ، أَوْ أَنْقُصَ ، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ ، فَهُوَ فِي النَّارِ " .
مولانا ظفر اقبال
دجین جن کی کنیت ابوالغصن تھی کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں مدینہ منورہ آیا ، وہاں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام اسلم سے ملاقات ہوئی ، میں نے ان سے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی کوئی حدیث سنانے کی فرمائش کی ، انہوں نے معذرت کی اور فرمایا کہ مجھے کمی بیشی کا اندیشہ ہے ، ہم بھی جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے کہتے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے کوئی حدیث سنائیے تو وہ یہی جواب دیتے تھے کہ مجھے اندیشہ کہ کہیں کچھ کمی بیشی نہ ہو جائے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”جو شخص میری طرف کسی جھوٹی بات کو منسوب کرتا ہے وہ جہنم میں ہو گا ۔“
حدیث نمبر: 327
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ مَوْلَى آلِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ قَالَ فِي سُوقٍ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ ، بِيَدِهِ الْخَيْرُ ، يُحْيِي وَيُمِيتُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ، كَتَبَ اللَّهُ لَهُ بِهَا أَلْفَ أَلْفِ حَسَنَةٍ ، وَمَحَا عَنْهُ بِهَا أَلْفَ أَلْفِ سَيِّئَةٍ ، وَبَنَى لَهُ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”جو شخص بازار میں یہ کلمات کہہ لے ، «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ ، بِيَدِهِ الْخَيْرُ ، يُحْيِي وَيُمِيتُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ» اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں ، وہ اکیلا ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں ، بادشاہی بھی اسی کی ہے اور تمام تعریفات بھی اسی کی ہیں ہر طرح کی خیر اسی کے دست قدرت میں ہے ، وہی زندگی اور موت دیتا ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے لئے دس لاکھ نیکیاں لکھ دے گا ، دس لاکھ گناہ مٹا دے گا اور جنت میں اس کے لئے محل بنائے گا ۔“
حدیث نمبر: 328
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو زُمَيْلٍ ، حَدَّثَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ ، حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ، قَالَ : لَمَّا كَانَ يَوْمُ خَيْبَرَ ، أَقْبَلَ نَفَرٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُونَ : فُلَانٌ شَهِيدٌ ، وَفُلَانٌ شَهِيدٌ ، حَتَّى مَرُّوا بِرَجُلٍ ، فَقَالُوا : فُلَانٌ شَهِيدٌ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كَلَّا ، إِنِّي رَأَيْتُهُ يُجَرُّ إِلَى النَّارِ فِي عَبَاءَةٍ غَلَّهَا ، اخْرُجْ يَا عُمَرُ فَنَادِ فِي النَّاسِ : إِنَّهُ لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ إِلَّا الْمُؤْمِنُونَ " ، فَخَرَجْتُ ، فَنَادَيْتُ : إِنَّهُ لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ إِلَّا الْمُؤْمِنُونَ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ غزوہ خیبر کے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کچھ صحابہ سامنے سے آتے ہوئے دکھائی دیئے جو یہ کہہ رہے تھے کہ فلاں بھی شہید ہے ، فلاں بھی شہید ہے ، یہاں تک کہ ان کا گزر ایک آدمی پر ہوا ، اس کے بارے بھی انہوں نے یہی کہا کہ یہ بھی شہید ہے ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”ہرگز نہیں ! میں نے اسے جہنم میں دیکھا ہے کیونکہ اس نے مال غنیمت میں سے ایک چادر چوری کی تھی“ ، اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”اے ابن خطاب ! جا کر لوگوں میں منادی کر دو کہ جنت میں صرف مومنین ہی داخل ہوں گے“ ، چنانچہ میں نکل کر یہ منادی کرنے لگا کہ جنت میں صرف مومنین ہی داخل ہوں گے ۔
حدیث نمبر: 329
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَسْرُوقٍ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنْ عُمَرَ ، أَنَّهُ قَالَ : لَا وَأَبِي ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَهْ ، إِنَّهُ مَنْ حَلَفَ بِشَيْءٍ دُونَ اللَّهِ ، فَقَدْ أَشْرَكَ " .
مولانا ظفر اقبال
ایک مرتبہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کسی موقع پر اپنے باپ کی قسم کھائی ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں روکتے ہوئے فرمایا کہ جو شخص اللہ کے علاوہ کسی اور چیز کی قسم کھاتا ہے ، وہ شرک کرتا ہے ۔
حدیث نمبر: 330
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَمَّادٌ الْخَيَّاطُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ : أَنَّ عُمَرَ زَادَ فِي الْمَسْجِدِ مِنَ الْأُسْطُوَانَةِ إِلَى الْمَقْصُورَةِ ، وَزَادَ عُثْمَانُ ، وَقَالَ عُمَرُ : لَوْلَا أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " نَبْغِي أَنْ نَزِيدُ فِي مَسْجِدِنَا " ، مَا زِدْتُ فِيهِ .
مولانا ظفر اقبال
نافع کہتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے مسجد نبوی میں اسطوانہ یعنی ستون سے لے کر مقصورہ شریف تک کا اضافہ کروایا ، بعد میں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے بھی اپنی توسیع میں اس کی عمارت بڑھائی اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اگر میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے نہ سنا ہوتا کہ ہم اپنی اس مسجد کی عمارت میں مزید اضافہ کرنا چاہتے ہیں تو میں کبھی اس میں اضافہ نہ کرتا ۔
حدیث نمبر: 331
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ عُمَرَ ، أَنَّهُ قَالَ : إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ بَعَثَ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحَقِّ ، وَأَنْزَلَ مَعَهُ الْكِتَابَ ، فَكَانَ مِمَّا أُنْزِلَ عَلَيْهِ : آيَةُ الرَّجْمِ ، فَرَجَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَرَجَمْنَا بَعْدَهُ . ثُمَّ قَالَ : قَدْ كُنَّا نَقْرَأُ : وَلَا تَرْغَبُوا عَنْ آبَائِكُمْ فَإِنَّهُ كُفْرٌ بِكُمْ أَوْ إِنَّ كُفْرًا بِكُمْ أَنْ تَرْغَبُوا عَنْ آبَائِكُمْ ، ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا تُطْرُونِي كَمَا أُطْرِيَ ابْنُ مَرْيَمَ ، وَإِنَّمَا أَنَا عَبْدٌ ، فَقُولُوا : عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ " ، وَرُبَّمَا قَالَ مَعْمَرٌ : " كَمَا أَطْرَتْ النَّصَارَى ابْنَ مَرْيَمَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ فرمایا : اللہ تعالیٰ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا : ان پر کتاب نازل فرمائی ، اس میں رجم کی آیت بھی تھی جس کے مطابق نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی رجم کیا تھا اور ہم نے بھی رجم کیا تھا ، پھر فرمایا کہ ہم لوگ یہ حکم بھی پڑھتے تھے کہ اپنے آباؤ اجداد سے بے رغبتی ظاہر نہ کرو کیونکہ یہ تمہاری جانب سے کفر ہے ، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”مجھے اس طرح حد سے آگے مت بڑاؤ جیسے سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا ، میں تو ایک بندہ ہوں ، اس لئے یوں کہا کرو کہ وہ اللہ کے بندے اور رسول ہیں ۔“
حدیث نمبر: 332
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ : أَنَّهُ قَالَ لِعُمَرَ : إِنِّي سَمِعْتُ النَّاسَ يَقُولُونَ مَقَالَةً ، فَآلَيْتُ أَنْ أَقُولَهَا لَك ، زَعَمُوا أَنَّكَ غَيْرُ مُسْتَخْلِفٍ ، فَوَضَعَ رَأْسَهُ سَاعَةً ، ثُمَّ رَفَعَهُ ، فَقَالَ : " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَحْفَظُ دِينَهُ ، وَإِنِّي إِنْ لَا أَسْتَخْلِفْ ، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَسْتَخْلِفْ ، وَإِنْ أَسْتَخْلِفْ ، فَإِنَّ أَبَا بَكْرٍ قَدْ اسْتَخْلَفَ " ، قَالَ : فَوَاللَّهِ ، مَا هُوَ إِلَّا أَنْ ذَكَرَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبَا بَكْرٍ ، فَعَلِمْتُ أَنَّهُ لَمْ يَكُنْ يَعْدِلُ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَدًا ، وَأَنَّهُ غَيْرُ مُسْتَخْلِفٍ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ انہوں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے عرض کیا کہ میں نے لوگوں کو ایک بات کہتے ہوئے سنا ہے ، میں اسے آپ تک پہنچانے میں کوتاہی نہیں کروں گا ، لوگوں کا خیال یہ ہے کہ آپ کسی کو اپنا خلیفہ نامزد نہیں کر رہے ؟ انہوں نے ایک لمحے کے لئے اپنا سر جھکا کر اٹھایا اور فرمایا کہ اللہ اپنے دین کی حفاظت خود کرے گا ، میں کسی کو اپنا خلیفہ نامزد نہیں کروں گا کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی کسی کو اپنا خلیفہ مقرر نہیں فرمایا تھا اور اگر میں کسی کو خلیفہ مقرر کر دیتا ہوں تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بھی ایسا ہی کیا تھا ۔
حدیث نمبر: 333
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَوْسِ بْنِ الْحَدَثَانِ ، قَالَ : أَرْسَلَ إِلَيَّ عُمَرُ . . . فَذَكَرَ الْحَدِيثَ ، فَقُلْتُ لَكُمَا : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا نُورَثُ ، مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ " .
مولانا ظفر اقبال
مالک بن اوس کہتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ مجھے بلوایا ، پھر انہوں نے مکمل حدیث ذکر کی ، جس میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے یہ بھی فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”ہمارے مال میں وراثت جاری نہیں ہوتی ، ہم جو کچھ چھوڑ کر جاتے ہیں وہ صدقہ ہوتا ہے ۔ “
حدیث نمبر: 334
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ ، قَالَ : لَمَّا مَاتَ أَبُو بَكْرٍ بُكِيَ عَلَيْهِ ، فَقَالَ عُمَرُ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّ الْمَيِّتَ يُعَذَّبُ بِبُكَاءِ الْحَيِّ " .
مولانا ظفر اقبال
سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ جب سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا تو لوگ رونے لگے ، اس پر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے کہ میت پر اس کے اہل محلہ کے رونے کی وجہ سے عذاب ہوتا ہے ۔
حدیث نمبر: 335
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا رَبَاحٌ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : لَمَّا تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَكَفَرَ مَنْ كَفَرَ ، قَالَ : قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ : يَا أَبَا بَكْرٍ ، كَيْفَ تُقَاتِلُ النَّاسَ ، وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، فَمَنْ قَالَ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، فَقَدْ عَصَمَ مِنِّي مَالَهُ وَنَفْسَهُ ، وَحِسَابُهُ عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ " ؟ قَالَ أَبُو بَكْرٍ : لَأُقَاتِلَنَّ مَنْ فَرَّقَ بَيْنَ الصَّلَاةِ وَالزَّكَاةِ ، إِنَّ الزَّكَاةَ حَقُّ الْمَالِ ، وَاللَّهِ لَوْ مَنَعُونِي عَنَاقًا كَانُوا يُؤَدُّونَهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، لَقَاتَلْتُهُمْ عَلَى مَنْعِهَا ، فَقَالَ عُمَرُ : وَاللَّهِ مَا هُوَ إِلَّا أَنْ رَأَيْتُ أَنَّ اللَّهَ قَدْ شَرَحَ صَدْرَ أَبِي بَكْرٍ بِالْقِتَالِ ، فَعَرَفْتُ أَنَّهُ الْحَقُّ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم دنیا سے پردہ فرما گئے اور ان کے بعد سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ خلیفہ منتخب ہو گئے اور اہل عرب میں سے جو کافر ہو سکتے تھے ، سو ہو گئے تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے عرض کیا کہ آپ ان لوگوں سے کیسے قتال کر سکتے ہیں جبکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ”مجھے لوگوں سے اس وقت تک قتال کا حکم دیا گیا ہے جب تک وہ «لا اله الا الله» نہ کہہ لیں ، جو شخص «لا اله الا الله» کہہ لے ، اس نے اپنی جان اور مال کو مجھ سے محفوظ کر لیا ، ہاں ! اگر اسلام کا کوئی حق ہو تو الگ بات ہے اور اس کا حساب کتاب اللہ کے ذمے ہو گا ؟“ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے یہ سن کر فرمایا : اللہ کی قسم ! میں اس شخص سے ضرور قتال کروں گا جو نماز اور زکوٰۃ کے درمیان فرق کرتے ہیں ، کیونکہ زکوٰۃ مال کا حق ہے ، بخدا ! اگر انہوں نے ایک بکری کا بچہ جو یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیتے تھے بھی روکا تو میں ان سے قتال کروں گا ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں سمجھ گیا ، اللہ تعالیٰ نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو اس معاملے میں شرح صدر کی دولت عطاء فرما دی ہے اور میں سمجھ گیا کہ ان کی رائے ہی برحق ہے ۔
حدیث نمبر: 336
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَوْسٍ ، عَنْ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّا لَا نُورَثُ ، مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”ہمارے مال میں وراثت جاری نہیں ہوتی ، ہم جو کچھ چھوڑ کر جاتے ہیں وہ صدقہ ہوتا ہے ۔ “
حدیث نمبر: 337
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَوْسٍ ، قَالَ : أَرْسَلَ إِلَيَّ عُمَرُ . . . فَذَكَرَ الْحَدِيثَ ، وَقَالَ : " إِنَّ أَمْوَالَ بَنِي النَّضِيرِ كَانَتْ مِمَّا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ ، مِمَّا لَمْ يُوجِفْ عَلَيْهِ الْمُسْلِمُونَ بِخَيْلٍ وَلَا رِكَابٍ ، فَكَانَ يُنْفِقُ عَلَى أَهْلِهِ مِنْهَا نَفَقَةَ سَنَةٍ ، وَمَا بَقِيَ جَعَلَهُ فِي الْكُرَاعِ وَالسِّلَاحِ عُدَّةً فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بنو نضیر سے حاصل ہونے والے اموال کا تعلق مال فئی سے تھا ، جو اللہ نے اپنے پیغمبر کو عطا فرمائے اور مسلمانوں کو اس پر گھوڑے یا کوئی اور سواری دوڑانے کی ضرورت نہیں پیش آئی ، اس لئے یہ مال خاص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا تھا ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس میں سے اپنی ازواج مطہرات کو سال بھر کا نفقہ ایک ہی مرتبہ دے دیا کرتے تھے اور جو باقی بچتا اس سے گھوڑے اور دیگر اسلحہ (جو جہاد میں کام آ سکے) فراہم کر لیتے تھے ۔
حدیث نمبر: 338
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ أَبِيهِ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا أَقْبَلَ اللَّيْلُ ، وَأَدْبَرَ النَّهَارُ ، وَغَرَبَتْ الشَّمْسُ ، فَقَدْ أَفْطَرَ الصَّائِمُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”جب رات یہاں سے آ جائے اور دن وہاں سے چلا جائے اور سورج غروب ہو جائے تو روزہ دار کو روزہ افطار کر لینا چاہیے ، مشرق اور مغرب مراد ہے ۔ “
حدیث نمبر: 339
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ حُنَيْنٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : أَرَدْتُ أَنْ أَسْأَلَ عُمَرَ فَمَا رَأَيْتُ مَوْضِعًا ، فَمَكَثْتُ سَنَتَيْنِ ، فَلَمَّا كُنَّا بِمَرِّ الظَّهْرَانِ ، وَذَهَبَ لِيَقْضِيَ حَاجَتَهُ ، فَجَاءَ وَقَدْ قَضَى حَاجَتَهُ ، فَذَهَبْتُ أَصُبُّ عَلَيْهِ مِنَ الْمَاءِ ، قُلْتُ : " يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ، مَنْ الْمَرْأَتَانِ اللَّتَانِ تَظَاهَرَتَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : عَائِشَةُ ، وَحَفْصَةُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ مجھے اس بات کی بڑی آرزو تھی کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے (نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ان دو ازواج مطہرات کے بارے ) سوال کروں ، لیکن ہمت نہیں ہوتی تھی اور دو سال گزر گئے ، حتی کہ ایک مرتبہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ حج کے لئے تشریف لے گئے ، میں بھی ان کے ساتھ تھا ، راستے میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ لوگوں سے ہٹ کر چلنے لگے ، میں بھی پانی کا برتن لے کر ان کے پیچھے چلا گیا ، انہوں نے اپنی طبعی ضرورت پوری کی اور جب واپس آئے تو میں نے ان کے ہاتھوں پر پانی ڈالا اور عرض کیا : اے امیر المؤمنین ! وہ دو عورتیں کون ہیں جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر غالب آنا چاہتی تھیں ؟ انہوں نے فرمایا کہ عائشہ اور حفصہ (رضی اللہ عنہما)۔
حدیث نمبر: 340
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، سَمِعَهُ مِنْ أَبِي الْعَجْفَاءِ ، سَمِعْتُ عُمَرَ ، يَقُولُ : لَا تُغْلُوا صُدُقَ النِّسَاءِ ، فَإِنَّهَا لَوْ كَانَتْ مَكْرُمَةً فِي الدُّنْيَا ، أَوْ تَقْوَى فِي الْآخِرَةِ ، لَكَانَ أَوْلَاكُمْ بِهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، " مَا أَنْكَحَ شَيْئًا مِنْ بَنَاتِهِ وَلَا نِسَائِهِ فَوْقَ اثْنَتَيْ عَشْرَةَ وُقِيَّةً " . وَأُخْرَى تَقُولُونَهَا فِي مَغَازِيكُمْ : قُتِلَ فُلَانٌ شَهِيدًا ، مَاتَ فُلَانٌ شَهِيدًا ، وَلَعَلَّهُ أَنْ يَكُونَ قَدْ أَوْقَرَ عَجُزَ دَابَّتِهِ ، أَوْ دَفَّ رَاحِلَتِهِ ذَهَبًا وَفِضَّةً ، يَبْتَغِي التِّجَارَةَ ، فَلَا تَقُولُوا ذَاكُمْ ، وَلَكِنْ قُولُوا كَمَا قَالَ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ قُتِلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، فَهُوَ فِي الْجَنَّةِ " .
مولانا ظفر اقبال
ابوالعجفاء سلمی کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ لوگو ! اپنی بیویوں کے مہر زیادہ مت باندھا کرو ، کیونکہ اگر یہ چیزیں دنیا میں باعث عزت ہوتی یا اللہ کے نزدیک تقویٰ میں شمار ہوتی تو اس کے سب زیادہ حق دار نبی صلی اللہ علیہ وسلم تھے ، جبکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی بیوی یا بیٹی کا مہر بارہ اوقیہ سے زیادہ نہیں تھا ، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ دوسری بات یہ ہے کہ جو شخص دوران جہاد مقتول ہو جائے یا طبعی طور پر فوت ہو جائے ، تو آپ لوگ یہ کہتے ہیں کہ فلاں آدمی شہید ہو گیا ، فلاں آدمی شہید ہو کر دنیا سے رخصت ہوا ، حالانکہ یہ بھی تو ہو سکتا ہے کہ اس نے اپنی سواری کے پچھلے حصے میں یا کجاوے کے نیچے سونا چاندی چھپا رکھا ہو ، جس سے وہ تجارت کا ارادہ رکھتا ہو ، اس لئے تم کسی کے متعلق یقین کے ساتھ یہ مت کہو کہ وہ شہید ہے ، البتہ یہ کہہ سکتے ہو کہ جو شخص اللہ کے راستہ میں مقتول یا فوت ہو جائے (وہ شہید ہے ) اور جنت میں داخل ہو گا ، جیسا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے ۔
حدیث نمبر: 341
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، أَمَلَّهُ عَلَيَّ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ الْغَطَفَانِيِّ ، عَنْ مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ الْيَعْمَرِيِّ : أَنَّ عُمَرَ قَامَ خَطِيبًا ، فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ، وَذَكَرَ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَبَا بَكْرٍ ، ثُمَّ قَالَ : إِنِّي رَأَيْتُ رُؤْيَا كَأَنَّ دِيكًا نَقَرَنِي نَقْرَتَيْنِ ، وَلَا أُرَى ذَلِكَ إِلَّا لِحُضُورِ أَجَلِي ، وَإِنَّ نَاسًا يَأْمُرُونَنِي أَنْ أَسْتَخْلِفَ ، وَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَمْ يَكُنْ لِيُضِيعَ خِلَافَتَهُ وَدِينَهُ ، وَلَا الَّذِي بَعَثَ بِهِ نَبِيَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَإِنْ عَجِلَ بِي أَمْرٌ فَالْخِلَافَةُ شُورَى فِي هَؤُلَاءِ الرَّهْطِ السِّتَّةِ الَّذِينَ تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَنْهُمْ رَاضٍ ، فَأَيُّهُمْ بَايَعْتُمْ لَهُ ، فَاسْمَعُوا لَهُ وَأَطِيعُوا ، وَقَدْ عَرَفْتُ أَنَّ رِجَالًا سَيَطْعَنُونَ فِي هَذَا الْأَمْرِ ، وَإِنِّي قَاتَلْتُهُمْ بِيَدِي هَذِهِ عَلَى الْإِسْلَامِ ، فَإِنْ فَعَلُوا ، فَأُولَئِكَ أَعْدَاءُ اللَّهِ الْكَفَرَةُ الضُّلَّالُ . وَإِنِّي وَاللَّهِ مَا أَدَعُ بَعْدِي شَيْئًا هُوَ أَهَمُّ إِلَيَّ مِنْ أَمْرِ الْكَلَالَةِ ، وَلَقَدْ سَأَلْتُ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْهَا ، فَمَا أَغْلَظَ لِي فِي شَيْءٍ قَطُّ مَا أَغْلَظَ لِي فِيهَا ، حَتَّى طَعَنَ بِيَدِهِ أَوْ بِإِصْبَعِهِ فِي صَدْرِي ، أَوْ جَنْبِي ، وَقَالَ : " يَا عُمَرُ تَكْفِيكَ الْآيَةُ الَّتِي نَزَلَتْ فِي الصَّيْفِ ، الَّتِي فِي آخِرِ سُورَةِ النِّسَاءِ " ، وَإِنِّي إِنْ أَعِشْ أَقْضِ فِيهَا قَضِيَّةً لَا يَخْتَلِفُ فِيهَا أَحَدٌ يَقْرَأُ الْقُرْآنَ ، أَوْ لَا يَقْرَأُ الْقُرْآنَ . ثُمَّ قَالَ : " اللَّهُمَّ إِنِّي أُشْهِدُكَ عَلَى أُمَرَاءِ الْأَمْصَارِ ، فَإِنِّي بَعَثْتُهُمْ يُعَلِّمُونَ النَّاسَ دِينَهُمْ ، وَسُنَّةَ نَبِيِّهِمْ ، وَيَقْسِمُونَ فِيهِمْ فَيْئَهُمْ ، وَيُعَدِّلُونَ عَلَيْهِمْ ، وَمَا أَشْكَلَ عَلَيْهِمْ يَرْفَعُونَهُ إِلَيَّ " . ثُمَّ قَالَ : يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، إِنَّكُمْ تَأْكُلُونَ مِنْ شَجَرَتَيْنِ لَا أُرَاهُمَا إِلَّا خَبِيثَتَيْنِ ، هَذَا الثُّومُ وَالْبَصَلُ ، لَقَدْ كُنْتُ أَرَى الرَّجُلَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُوجَدُ رِيحُهُ مِنْهُ ، فَيُؤْخَذُ بِيَدِهِ حَتَّى يُخْرَجَ بِهِ إِلَى الْبَقِيعِ ، فَمَنْ كَانَ آكِلَهُمَا لَا بُدَّ ، فَلْيُمِتْهُمَا طَبْخًا ، قَالَ : فَخَطَبَ بِهَا عُمَرُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ ، وَأُصِيبَ يَوْمَ الْأَرْبِعَاءِ ، لِأَرْبَعِ لَيَالٍ بَقِينَ مِنْ ذِي الْحِجَّةِ .
مولانا ظفر اقبال
ایک مرتبہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ جمعہ کے دن منبر پر خطبہ کے لئے تشریف لائے ، اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کی ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا تذکرہ کیا ، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی یاد تازہ کی ، پھر فرمانے لگے کہ میں نے ایک خواب دیکھا ہے اور مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ میری دنیا سے رخصتی کا وقت قریب آ گیا ہے ، میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ ایک مرغے نے مجھے دو مرتبہ ٹھونگ ماری ہے ۔ پھر فرمایا کہ لوگ مجھ سے یہ کہہ رہے ہیں کہ میں اپنا خلیفہ مقرر کر دوں ، اتنی بات تو طے ہے کہ اللہ اپنے دین کو نہ ضائع کرے گا اور نہ ہی اس خلافت کو جس کے ساتھ اللہ نے اپنے پیغمبر کو مبعوث فرمایا تھا ، اب اگر میرا فیصلہ جلد ہو گیا تو میں مجلس شوری ان چھ افراد کی مقرر کر رہا ہوں جن سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم بوقت رحلت راضی ہو کر تشریف لے گئے تھے ، جب تم ان میں سے کسی ایک کی بیعت کر لو ، تو ان کی بات سنو اور ان کی اطاعت کرو ۔ میں جانتا ہوں کہ کچھ لوگ مسئلہ خلافت میں رخنہ ڈالنے کی کوشش کریں گے ، بخدا ! میں اپنے ان ہاتھوں سے اسلام کی مدافعت میں ان لوگوں سے قتال کر چکا ہوں ، یہ لوگ دشمنان خدا ، کافر اور گمراہ ہیں ، اللہ کی قسم ! نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت اختیار کرنے کے بعد مجھے یاد نہیں پڑتا کہ کسی مسئلہ میں آپ مجھ سے ناراض ہوئے ہوں ، سوائے کلالہ کے مسئلہ کے کہ اس میں آپ صلی اللہ علیہ انتہائی سخت ناراض ہوئے تھے ، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلی میرے سینے پر رکھ کر فرمایا کہ تمہارے لئے اس مسئلے میں سورت نساء کی آخری آیت ، جو گرمی میں نازل ہوئی تھی کافی ہے ۔ اگر میں زندہ رہا تو اس مسئلے کا ایساحل نکال کر جاؤں گا کہ اس آیت کو پڑھنے والے اور نہ پڑھنے والے سب ہی کے علم میں وہ حل آ جائے اور میں اللہ کو گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ میں نے مختلف شہروں میں امراء اور گورنر بھیجے ہیں وہ صرف اس لئے کہ وہ لوگوں کو دین سکھائیں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتیں لوگوں کے سامنے بیان کریں ، ان میں مال غنیمت تقسیم کریں ، ان میں انصاف کریں اور میرے سامنے ان کے وہ مسائل پیش کریں جن کا ان کے پاس کوئی حل نہ ہو ۔ پھر فرمایا : لوگو ! تم دو درختوں میں سے کھاتے ہو جنہیں میں گندہ سمجھتا ہوں (ایک لہسن اور دوسرا پیاز ، جنہیں کچا کھانے سے منہ میں بدبو پیدا ہو جاتی ہے ) ۔ میں نے دیکھا ہے کہ اگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی شخص کے منہ سے اس کی بدبو آتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم حکم دیتے اور اسے ہاتھ سے پکڑ کر مسجد سے باہر نکال دیا جاتا تھا اور یہی نہیں بلکہ اس کو جنت البقیع تک پہنچا کر لوگ واپس آتے تھے ، اگر کوئی شخص انہیں کھانا ہی چاہتا ہے تو پکا کر ان کی بو مار دے ۔ راوی کہتے ہیں کہ جمعہ کو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے یہ خطبہ ارشاد فرمایا : اور ٢٦ ذی الحجہ بروز بدھ کو آپ پر قاتلانہ حملہ ہو گیا ۔
حدیث نمبر: 342
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : وَأَخْبَرَنِي هُشَيْمٌ ، عَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ أَرْطَاةَ ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ ، عَنْ عُمَارَةَ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى : أَنَّ عُمَرَ قَالَ : " هِيَ سُنَّةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَعْنِي الْمُتْعَةَ ، وَلَكِنِّي أَخْشَى أَنْ يُعَرِّسُوا بِهِنَّ تَحْتَ الْأَرَاكِ ، ثُمَّ يَرُوحُوا بِهِنَّ حُجَّاجًا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اگرچہ حج تمتع نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے لیکن مجھے اندیشہ ہے کہ لوگ اپنی اپنی بیویوں کے ساتھ پیلو کے درخرت کے نیچے رات گزاریں اور صبح کو اٹھ کر حج کی نیت کر لیں ۔
حدیث نمبر: 343
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ ، أَنْبَأَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَوْ جَدِّهِ ، الشَّكُّ مِنْ يَزِيدَ ، عَنْ عُمَرَ ، قَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " تَوَضَّأَ بَعْدَ الْحَدَثِ ، وَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ وَصَلَّى " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حدث کے بعد وضو کرتے ہوئے دیکھا ، جس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے موزوں پر مسح کیا اور نماز پڑھی ۔
حدیث نمبر: 344
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سِمَاكٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ عِيَاضًا الْأَشْعَرِيَّ ، قَالَ : شَهِدْتُ الْيَرْمُوكَ ، وَعَلَيْنَا خَمْسَةُ أُمَرَاءَ : أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ ، وَيَزِيدُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ ، وَابْنُ حَسَنَةَ ، وَخَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ ، وَعِيَاضٌ ، وَلَيْسَ عِيَاضٌ هَذَا بِالَّذِي حَدَّثَ سِمَاكًا ، قَالَ : وَقَالَ عُمَرُ " إِذَا كَانَ قِتَالٌ ، فَعَلَيْكُمْ أَبُو عُبَيْدَةَ ، قَالَ : فَكَتَبْنَا إِلَيْهِ : إِنَّهُ قَدْ جَاشَ إِلَيْنَا الْمَوْتُ ، وَاسْتَمْدَدْنَاهُ ، فَكَتَبَ إِلَيْنَا : إِنَّهُ قَدْ جَاءَنِي كِتَابُكُمْ تَسْتَمِدُّونِي ، وَإِنِّي أَدُلُّكُمْ عَلَى مَنْ هُوَ أَعَزُّ نَصْرًا وَأَحْضَرُ جُنْدًا ، اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ ، فَاسْتَنْصِرُوهُ ، فَإِنَّ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ نُصِرَ يَوْمَ بَدْرٍ فِي أَقَلَّ مِنْ عِدَّتِكُمْ ، فَإِذَا أَتَاكُمْ كِتَابِي هَذَا ، فَقَاتِلُوهُمْ وَلَا تُرَاجِعُونِي " ، قَالَ : فَقَاتَلْنَاهُمْ فَهَزَمْنَاهُمْ ، وَقَتَلْنَاهُمْ أَرْبَعَ فَرَاسِخَ ، قَالَ : وَأَصَبْنَا أَمْوَالًا ، فَتَشَاوَرُوا ، فَأَشَارَ عَلَيْنَا عِيَاضٌ أَنْ نُعْطِيَ عَنْ كُلِّ رَأْسٍ عَشْرَةً ، قَالَ : وَقَالَ أَبُو عُبَيْدَةَ : مَنْ يُرَاهِنِّي ؟ فَقَالَ شَابٌّ : أَنَا إِنْ لَمْ تَغْضَبْ ، قَالَ : فَسَبَقَهُ ، فَرَأَيْتُ عَقِيصَتَيْ أَبِي عُبَيْدَةَ تَنْقُزَانِ وَهُوَ خَلْفَهُ عَلَى فَرَسٍ عَرَبِيٍّ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا عیاض اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں غزوہ یرموک میں موجود تھا ، ہم پر پانچ امراء مقرر تھے ، ابوعبیدہ بن الجراح ، یزید بن ابی سفیان ، ابن حسنہ ، خالد بن ولید ، عیاض بن غنم (یاد رہے کہ اس سے مراد خود راوی حدیث نہیں ہیں ) ۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرما رکھا تھا کہ جب جنگ شروع ہو تو تمہارے سردار سیدنا ابوعبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ ہوں گے ، راوی کہتے ہیں کہ ہم نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی طرف ایک مراسلہ میں لکھ کر بھیجا کہ موت ہماری طرف اچھل اچھل کر آ رہی ہے ، ہمارے لئے کمک روانہ کیجئے ، انہوں نے جواب میں لکھ بھیجا کہ میرے پاس تمہارا خط پہنچا جس میں تم نے مجھ سے امداد کی درخواست کی ہے ، میں تمہیں ایسی ہستی کا پتہ بتاتا ہوں جس کی نصرت سب سے زیادہ مضبوط اور جس کے لشکر سب سے زیادہ حاضر باش ہوتے ہیں ، وہ ہستی اللہ تبارک وتعالیٰ ہیں ، ان ہی سے مدد مانگو ، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نصرت غزوہ بدر کے موقع پر بھی کی گئی تھی جبکہ وہ تعداد میں تم سے بہت تھوڑے تھے ، اس لئے جب تمہارے پاس میرا یہ خط پہنچے تو ان سے قتال شروع کر دو اور مجھ سے بار بار امداد کے لئے مت کہو ۔ راوی کہتے ہیں کہ پھر ہم نے قتال شروع کیا تو مشرکین کو شرمناک ہزیمت سے دوچار کیا اور چار فرسخ تک انہیں قتل کرتے چلے گئے اور ہمیں مال غنیمت بھی حاصل ہوا ، اس کے بعد مجاہدین نے باہم مشورہ کیا ، سیدنا عیاض رضی اللہ عنہ نے مشورہ دیا کہ ہر مجاہد کو فی کس دس درہم دیئے جائیں ، سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے پوچھا : میرے ساتھ اس کی دیکھ بھال کون کرے گا ؟ ایک نوجوان بولا : اگر آپ ناراض نہ ہوں تو میں کروں گا ، یہ کہہ کر وہ آگے بڑھ گیا ، میں نے سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کے بالوں کی چوٹیوں کو دیکھا کہ وہ ہوا میں لہرا رہی تھیں اور وہ نوجوان ان کے پیچھے ایک عربی گھوڑے پر بیٹھا ہوا تھا ۔
حدیث نمبر: 345
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، أَنْبَأَنَا عُيَيْنَةُ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، قَالَ : قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ ، فَدَخَلْتُ عَلَى سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، وَعَلَيَّ جُبَّةُ خَزٍّ ، فَقَالَ لِي سَالِمٌ : مَا تَصْنَعُ بِهَذِهِ الثِّيَابِ ؟ سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّمَا يَلْبَسُ الْحَرِيرَ مَنْ لَا خَلَاقَ لَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
علی بن زید کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں مدینہ منورہ آیا ، اس وقت میں نے ریشمی جبہ زیب تن کر رکھا تھا ، سیدنا سالم رحمہ اللہ نے مجھ سے فرمایا کہ تم ان کپڑوں کا کیا کرو گے ؟ میں نے اپنے والد کو سیدنا عمر رضی اللہ عنہا کے حوالے سے حدیث بیان کرتے ہوئے سنا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”ریشم وہ شخص پہنتا ہے جس کا آخرت میں کوئی حصہ نہ ہو ۔ “
حدیث نمبر: 346
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو الْمُنْذِرِ أَسَدُ بْنُ عَمْرٍو ، أُرَاهُ عَنِ حَجَّاجٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ : قَتَلَ رَجُلٌ ابْنَهُ عَمْدًا ، فَرُفِعَ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، فَجَعَلَ عَلَيْهِ مِائَةً مِنَ الْإِبِلِ : ثَلَاثِينَ حِقَّةً ، وَثَلَاثِينَ جَذَعَةً ، وَأَرْبَعِينَ ثَنِيَّةً ، وَقَالَ : لَا يَرِثُ الْقَاتِلُ ، وَلَوْلَا أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " لَا يُقْتَلُ وَالِدٌ بِوَلَدِهِ " لَقَتَلْتُكَ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے اپنے بیٹے کو جان بوجھ کر اور سوچ سمجھ کر مار ڈالا ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں یہ معاملہ پیش ہوا تو انہوں نے اس پر سو اونٹ دیت واجب قرار دی ، تیس حقے ، تیس جذعے اور چالیس ثنیے یعنی جو دوسرے سال میں لگے ہوں اور فرمایا : قاتل وارث نہیں ہوتا اور اگر میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے نہ سنا ہوتا کہ باپ کو بیٹے کے بدلے میں قتل نہیں کیا جائے گا تو میں تجھے قتل کر دیتا ۔
حدیث نمبر: 347
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، وَيَزِيدُ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، قَالَ : قَالَ عُمَرُ : لَوْلَا أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " لَيْسَ لِقَاتِلٍ شَيْءٌ " لَوَرَّثْتُكَ ، قَالَ : وَدَعَا خَالَ الْمَقْتُولِ ، فَأَعْطَاهُ الْإِبِلَ .
مولانا ظفر اقبال
ایک دوسری سند سے اسی روایت میں یہ اضافہ بھی ہے کہ پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے مقتول کے بھائی کو بلایا اور دیت کے وہ اونٹ اس کے حوالے کر دئیے ۔
حدیث نمبر: 348
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي نَجِيحٍ ، وَعَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ ، كِلَاهُمَا ، عَنْ مُجَاهِدِ بْنِ جَبْرٍ ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ ، وَقَالَ : أَخَذَ عُمَرُ مِنَ الْإِبِلِ ثَلَاثِينَ حِقَّةً ، وَثَلَاثِينَ جَذَعَةً ، وَأَرْبَعِينَ ثَنِيَّةً إِلَى بَازِلِ عَامِهَا ، كُلُّهَا خَلِفَةٌ ، قَالَ : ثُمَّ دَعَا أَخَا الْمَقْتُولِ ، فَأَعْطَاهَا إِيَّاهُ دُونَ أَبِيهِ ، وَقَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " لَيْسَ لِقَاتِلٍ شَيْءٌ " .
مولانا ظفر اقبال
مجاہد سے گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے اور وہ کہتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس پر سو اونٹ دیت واجب قرار دی ، تیس حقے ، تیس جذعے اور چالیس ثنیے ، یعنی جو دوسرے سال میں لگے ہوں ، اور سب کے سب حاملہ ہوں ، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے مقتول کے بھائی کو بلایا اور دیت کے وہ اونٹ اس کے حوالے کر دئیے اور فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ قاتل کو کچھ نہیں ملے گا ۔
حدیث نمبر: 349
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ خَالِدٍ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَوْسِ بْنِ الْحَدَثَانِ ، قَالَ : جاء العباس ، وَعَلِيٌّ إلى عمر يختصمان ، فقال العباس : اقض بيني وبين هذا الكذا كذا ، فقال الناس : افصل بينهما ، افصل بينهما ، قَالَ : لَا أَفْصِلُ بَيْنَهُمَا ، قَدْ عَلِمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا نُورَثُ ، مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ " .
مولانا ظفر اقبال
مالک بن اوس کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدنا عباس رضی اللہ عنہ اپنا جھگڑا لے کر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس فیصلہ کرانے آئے ، سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میرے اور ان کے درمیان فلاں فلاں چیز کا فیصلہ کر دیجئے ، لوگوں نے بھی کہا کہ ان کے درمیان فیصلہ کر دیجئے ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں ان دونوں کے درمیان کوئی فیصلہ نہیں کروں گا کیونکہ یہ دونوں جانتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے : ”ہمارے مال میں وراثت جاری نہیں ہوتی ، ہم جو چھوڑ جاتے ہیں وہ سب صدقہ ہوتا ہے ۔ “
حدیث نمبر: 350
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنِ ابْنِ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ ، أَنَّ عُمَرَ ، قَالَ : " إِنَّ مِنْ آخِرِ مَا أُنْزِلَ آيَةُ الرِّبَا ، وَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تُوُفِّيَ وَلَمْ يُفَسِّرْهَا ، فَدَعُوا الرِّبَا وَالرِّيبَةَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ قرآن کریم میں سب سے آخری آیت سود سے متعلق نازل ہوئی ہے ، اس لئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے وصال مبارک سے قبل اس کی مکمل وضاحت کا موقع نہیں مل سکا ، اس لئے سود کو بھی چھوڑ دو اور جس چیز میں ذرا بھی شک ہو اسے بھی چھوڑ دو ۔
حدیث نمبر: 351
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ أَبِي مُوسَى ، عَنْ أَبِي مُوسَى : أَنَّهُ كَانَ يُفْتِي بِالْمُتْعَةِ ، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ : رُوَيْدَكَ بِبَعْضِ فُتْيَاكَ ، فَإِنَّكَ لَا تَدْرِي مَا أَحْدَثَ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ فِي النُّسُكِ بَعْدَكَ ، حَتَّى لَقِيَهُ بَعْدُ ، فَسَأَلَهُ ، فَقَالَ عُمَرُ : " قَدْ عَلِمْتُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ فَعَلَهُ وَأَصْحَابُهُ ، وَلَكِنِّي كَرِهْتُ أَنْ يَظَلُّوا بِهِنَّ مُعَرِّسِينَ فِي الْأَرَاكِ ، ثُمَّ َيَرُوحُون باِلْحَجِّ تَقْطُرُ رُءُوسُهُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ حج تمتع کے جواز کا فتویٰ دیتے تھے ، ایک دن ایک شخص آ کر ان سے کہنے لگا کہ آپ اپنے کچھ فتوے روک کر رکھیں ، آپ کو معلوم نہیں ہے کہ آپ کے پیچھے ، امیر المؤمنین نے مناسک حج کے حوالے سے کیا نئے احکام جاری کئے ہیں ، جب ان دونوں حضرات کی ملاقات ہوئی تو سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے ان سے اس کی بابت دریافت کیا ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ مجھے معلوم ہے کہ حج تمتع نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے صحابہ نے بھی کیا ہے ، لیکن مجھے یہ چیز اچھی معلوم نہیں ہوتی کہ لوگ پیلو کے درخت کے نیچے اپنی بیویوں کے پاس ”رات گزاریں“ اور صبح کو حج کے لئے اس حال میں روانہ ہوں کہ ان کے سروں سے پانی کے قطرات ٹپک رہے ہوں ۔
حدیث نمبر: 352
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، وَحَجَّاجٌ ، قَالَا : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : سَمِعْتُ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ يُحَدِّثُ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، قَالَ : حَجَّ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ، فَأَرَادَ أَنْ يَخْطُبَ النَّاسَ خُطْبَةً ، فَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ : إِنَّهُ قَدْ اجْتَمَعَ عِنْدَكَ رَعَاعُ النَّاسِ ، فَأَخِّرْ ذَلِكَ حَتَّى تَأْتِيَ الْمَدِينَةَ . فَلَمَّا قَدِمَ الْمَدِينَةَ دَنَوْتُ مِنْهُ قَرِيبًا مِنَ الْمِنْبَرِ ، فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ : " وَإِنَّ نَاسًا يَقُولُونَ : مَا بَالُ الرَّجْمِ ، وَإِنَّمَا فِي كِتَابِ اللَّهِ الْجَلْدُ ؟ وَقَدْ رَجَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَجَمْنَا بَعْدَهُ ، وَلَوْلَا أَنْ يَقُولُوا : أَثْبَتَ فِي كِتَابِ اللَّهِ مَا لَيْسَ فِيهِ ، لَأَثْبَتُّهَا كَمَا أُنْزِلَتْ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ حج کے لئے تشریف لے گئے ، وہاں انہوں نے مخصوص حالات کے تناظر میں کوئی خطبہ دینا چاہا ، لیکن سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا کہ اس وقت تو لوگوں کا کمزور طبقہ بہت بڑی مقدار میں موجود ہے ، آپ اپنے اس خطبہ کو مدینہ منورہ واپسی تک مؤخر کر دیں (کیونکہ وہاں کے لوگ سمجھدار ہیں ، وہ آپ کی بات سمجھ لیں گے ، یہ لوگ بات کو صحیح طرح سمجھ نہ سکیں گے اور شورش بپا کر دیں گے ۔ ) چنانچہ جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ مدینہ منورہ واپس آ گئے تو ایک دن میں منبر کے قریب گیا ، میں نے انہیں یہ کہتے ہوئے سنا کہ بعض لوگ کہتے ہیں رجم کی کیا حیثیت ہے ؟ کتاب اللہ میں تو صرف کوڑوں کی سزا ذکر کی گئی ہے ؟ حالانکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی رجم کی سزا جاری فرمائی ہے اور ان کے بعد ہم نے بھی ، اور اگر لوگ یہ نہ کہتے کہ عمر نے کتاب اللہ میں اس چیز کا اضافہ کر دیا جو اس میں نہیں ہے تو میں اس حکم والی آیت کو قرآن کریم (کے حاشیے ) پر لکھ دیتا ۔
حدیث نمبر: 353
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، وَحَجَّاجٌ ، قَالَا : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ النُّعْمَانَ يَعْنِي ابْنَ بَشِيرٍ يَخْطُبُ ، قَالَ : ذَكَرَ عُمَرُ مَا أَصَابَ النَّاسُ مِنَ الدُّنْيَا ، فَقَالَ : لَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَظَلُّ الْيَوْمَ يَلْتَوِي مَا يَجِدُ دَقَلًا يَمْلَأُ بِهِ بَطْنَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے اپنی آنکھوں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھوک کی وجہ سے کروٹیں بدلتے ہوئے دیکھا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ردی کھجور بھی نہ ملتی تھی جس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا پیٹ بھر لیتے تھے ۔
حدیث نمبر: 354
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ . وَحَجَّاجٌ ، قَالَ : حَدَّثَنِي شُعْبَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الْمَيِّتُ يُعَذَّبُ فِي قَبْرِهِ بِمَا نِيحَ عَلَيْهِ " ، وَقَالَ حَجَّاجٌ : " بِالنِّيَاحَةِ عَلَيْهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”میت کو اس کی قبر میں اس پر ہونے والے نوحے کی وجہ سے عذاب ہوتا ہے ۔ “
حدیث نمبر: 355
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رُفَيْعًا أَبَا الْعَالِيَةِ يُحَدِّثُ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : حَدَّثَنِي رِجَالٌ ، قَالَ شُعْبَةُ : أَحْسِبُهُ قَالَ : مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : وَأَعْجَبُهُمْ إِلَيَّ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنِ الصَّلَاةِ فِي سَاعَتَيْنِ : بَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ ، وَبَعْدَ الصُّبْحِ حَتَّى تَطْلُعَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ مجھے ایسے لوگوں نے اس بات کی شہادت دی ہے (جن کی بات قابل اعتماد ہوتی ہے ، ان میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بھی شامل ہیں جو میری نظروں میں ان سب سے زیادہ قابل اعتماد ہیں) کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دو وقت نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے ، ایک تو یہ کہ عصر کی نماز کے بعد غروب آفتاب تک کوئی نفلی نماز نہ پڑھی جائے اور دوسرے یہ کہ فجر کی نماز کے بعد طلوع آفتاب تک کوئی نماز نہ پڑھی جائے ۔
حدیث نمبر: 356
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ . وَحَجَّاجٌ ، قَالَ : حَدَّثَنِي شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا عُثْمَانَ النَّهْدِيَّ ، قَالَ : جَاءَنَا كِتَابُ عُمَرَ ، وَنَحْنُ بِأَذْرَبِيجَانَ مَعَ عُتْبَةَ بْنِ فَرْقَدٍ ، أَوْ بِالشَّامِ : أَمَّا بَعْدُ ، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنِ الْحَرِيرِ إِلَّا هَكَذَا ، أُصْبُعَيْنِ " ، قَالَ أَبُو عُثْمَانَ : فَمَا عَتَّمْنَا إِلَّا أَنَّهُ الْأَعْلَامُ .
مولانا ظفر اقبال
ابوعثمان کہتے ہیں کہ ہم سیدنا عتبہ بن فرقد رضی اللہ عنہ کے ساتھ شام یا آذربائیجان میں تھے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا ایک خط آ گیا ، جس میں لکھا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ریشمی لباس پہننے سے منع فرمایا ہے سوائے اتنی مقدار یعنی دو انگلیوں کے ۔
حدیث نمبر: 357
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ . وَحَجَّاجٌ ، وَأَبُو دَاوُدَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا عُثْمَانَ النَّهْدِيَّ ، قَالَ : جَاءَنَا كِتَابُ عُمَرَ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث ایک دوسری سند سے بھی مروی ہے ۔
حدیث نمبر: 358
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ . وَأَبُو دَاوُدَ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ ، قَالَ : صَلَّى عُمَرُ الصُّبْحَ وَهُوَ بِجَمْعٍ ، قَالَ أَبُو دَاوُدَ : كُنَّا مَعَ عُمَرَ بِجَمْعٍ ، فَقَالَ : إِنَّ الْمُشْرِكِينَ كَانُوا لَا يُفِيضُونَ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ ، وَيَقُولُونَ : أَشْرِقْ ثَبِيرُ ، " وَإِنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَالَفَهُمْ ، فَأَفَاضَ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ " .
مولانا ظفر اقبال
عمرو بن میمون کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ہمیں مزدلفہ میں فجر کی نماز پڑھائی اور فرمایا کہ مشرکین طلوع آفتاب سے پہلے واپس نہیں جاتے تھے اور کہتے تھے کہ کوہ ثبیر روشن ہو ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا طریقہ اختیار نہیں کیا اور مزدلفہ سے منیٰ کی طرف طلوع آفتاب سے قبل ہی روانہ ہو گئے ۔
حدیث نمبر: 359
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ يَقُولُ : سَأَلَ عُمَرُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " تُصِيبُنِي الْجَنَابَةُ مِنَ اللَّيْلِ ، فَمَا أَصْنَعُ ؟ قَالَ : " اغْسِلْ ذَكَرَكَ ، ثُمَّ تَوَضَّأْ ، ثُمَّ ارْقُدْ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ایک مرتبہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا : اگر میں رات کو ناپاک ہو جاؤں تو کیا کروں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”اپنی شرمگاہ کو دھو کر نماز والا وضو کر کے سو جاؤ ۔ “
حدیث نمبر: 360
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا الْحَكَمِ ، قَالَ : سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ عَنِ الْجَرِّ ، فَحَدَّثَنَا عَنْ عُمَرَ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنِ الْجَرِّ ، وَعَنِ الدُّبَّاءِ ، وَعَنِ الْمُزَفَّتِ " .
مولانا ظفر اقبال
ابوالحکم کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مٹکے کی نبیذ کے متعلق سوال کیا ، تو انہوں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے عنہ کے حوالے سے یہ حدیث سنائی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مٹکے ، کدو کی تونبی ، سبز رنگ کی روغنی ہنڈیا یا برتن سے منع فرمایا ہے ۔
حدیث نمبر: 361
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَرْجِسَ ، قَالَ : رَأَيْتُ الْأُصَيْلِعَ يَعْنِي عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ يُقَبِّلُ الْحَجَرَ ، وَيَقُولُ : " أَمَا إِنِّي أَعْلَمُ أَنَّكَ حَجَرٌ ، وَلَكِنْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُكَ " .
مولانا ظفر اقبال
عبداللہ بن سرجس کہتے ہیں کہ میں نے ایک مرتبہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ وہ حجر اسود کو بوسہ دے رہے ہیں اور اس سے مخاطب ہو کر فرما رہے ہیں ، میں جانتا ہوں کہ تو ایک پتھر ہے ، لیکن میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو تجھے بوسہ دیتے ہوئے دیکھا ہے ۔
…