حدیث نمبر: 282
(حديث مرفوع) قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ مَوْلَى ابْنِ أَزْهَرَ ، أَنَّهُ قَالَ : شَهِدْتُ الْعِيدَ مَعَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، فَجَاءَ فَصَلَّى ، ثُمَّ انْصَرَفَ ، فَخَطَبَ النَّاسَ ، فَقَالَ : " إِنَّ هَذَيْنِ يَوْمَانِ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صِيَامِهِمَا : يَوْمُ فِطْرِكُمْ مِنْ صِيَامِكُمْ ، وَالْآخَرُ : يَوْمٌ تَأْكُلُونَ فِيهِ مِنْ نُسُكِكُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
ابوعبید کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں عید کے موقع پر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا ، انہوں نے آ کر پہلے نماز پڑھائی ، پھر لوگوں کی طرف منہ پھیر کر خطبہ دیتے ہوئے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دنوں کے روزے سے منع فرمایا ہے ، عیدالفطر کے دن تو اس لئے کہ اس دن تمہارے روزے ختم ہوتے ہیں اور عیدالاضحی کے دن اس لئے کہ تم اپنی قربانی کے جانور کا گوشت کھا سکو ۔
حدیث نمبر: 283
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : كَانَ عُمَرُ رَجُلًا غَيُورًا ، فَكَانَ إِذَا خَرَجَ إِلَى الصَّلَاةِ اتَّبَعَتْهُ عَاتِكَةُ ابْنَةُ زَيْدٍ ، فَكَانَ يَكْرَهُ خُرُوجَهَا ، وَيَكْرَهُ مَنْعَهَا ، وَكَانَ يُحَدِّثُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا اسْتَأْذَنَتْكُمْ نِسَاؤُكُمْ إِلَى الصَّلَاةِ ، فَلَا تَمْنَعُوهُنَّ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا سالم رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بڑے غیور طبع آدمی تھے ، جب وہ نماز کے لئے نکلتے تو ان کے پیچھے پیچھے عاتکہ بنت زید بھی چلی جاتیں ، انہیں ان کا نکلنا بھی پسند نہ تھا اور روکنا بھی پسند نہ تھا اور وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے یہ حدیث بیان کرتے تھے کہ جب تمہاری عورتیں تم سے نماز کے لئے مسجد جانے کی اجازت مانگیں تو انہیں مت روکو ۔
حدیث نمبر: 284
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عُمَرَ ، قَالَ : " لَوْلَا آخِرُ الْمُسْلِمِينَ ، مَا فُتِحَتْ قَرْيَةٌ إِلَّا قَسَمْتُهَا ، كَمَا قَسَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْبَرَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرماتے تھے کہ اگر بعد میں آنے والے مسلمانوں کا خیال نہ ہوتا تو جو بستی اور شہر بھی مفتوح ہوتا ، میں اسے فاتحین کے درمیان تقسیم کر دیتا جیسا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کو تقسیم فرما دیا تھا ۔
حدیث نمبر: 285
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ عَلْقَمَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، قَالَ : نُبِّئْتُ , عَنْ أَبِي الْعَجْفَاءِ السُّلَمِيِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ عُمَرَ ، يَقُولُ : أَلَا لَا تُغْلُوا صُدُقَ النِّسَاءِ ، أَلَا لَا تُغْلُوا صُدُقَ النِّسَاءِ ، فَإِنَّهَا لَوْ كَانَتْ مَكْرُمَةً فِي الدُّنْيَا ، أَوْ تَقْوَى عِنْدَ اللَّهِ ، كَانَ أَوْلَاكُمْ بِهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، مَا أَصْدَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ امْرَأَةً مِنْ نِسَائِهِ ، وَلَا أُصْدِقَتْ امْرَأَةٌ مِنْ بَنَاتِهِ ، أَكْثَرَ مِنْ ثِنْتَيْ عَشْرَةَ أُوقِيَّةً ، وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيُبْتَلَى بِصَدُقَةِ امْرَأَتِهِ ، وَقَالَ مَرَّةً : وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيُغْلِي بِصَدُقَةِ امْرَأَتِهِ ، حَتَّى تَكُونَ لَهَا عَدَاوَةٌ فِي نَفْسِهِ ، وَحَتَّى يَقُولَ : كَلِفْتُ إِلَيْكِ عَلَقَ الْقِرْبَةِ ، قَالَ : وَكُنْتُ غُلَامًا عَرَبِيًّا مُوَلَّدًا ، لَمْ أَدْرِ مَا عَلَقُ الْقِرْبَةِ . (حديث موقوف) (حديث مرفوع) قَالَ : وَأُخْرَى تَقُولُونَهَا لِمَنْ قُتِلَ فِي مَغَازِيكُمْ ، أَوَ مَاتَ : قُتِلَ فُلَانٌ شَهِيدًا ، وَمَاتَ فُلَانٌ شَهِيدًا ، وَلَعَلَّهُ أَنْ يَكُونَ قَدْ أَوْقَرَ عَجُزَ دَابَّتِهِ ، أَوْ دَفَّ رَاحِلَتِهِ ذَهَبًا ، أَوْ وَرِقًا يَلْتَمِسُ التِّجَارَةَ ، لَا تَقُولُوا ذَاكُمْ ، وَلَكِنْ قُولُوا كَمَا قَالَ النَّبِيُّ ، أَوْ كَمَا قَالَ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ قُتِلَ أَوْ مَاتَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَهُوَ فِي الْجَنَّةِ " .
مولانا ظفر اقبال
ابوالعجفاء سلمی کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو تکرار کے ساتھ یہ بات دہراتے ہوئے سنا کہ لوگو ! اپنی بیویوں کے مہر زیادہ مت باندھا کرو ، کیونکہ اگر یہ چیز دنیا میں باعث عزت ہوتی یا اللہ کے نزدیک تقویٰ میں شمار ہوتی تو اس کے سب سے زیادہ حقدار نبی صلی اللہ علیہ وسلم تھے ، جبکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی بیوی یا بیٹی کا مہر بارہ اوقیہ سے زیادہ نہیں تھا اور انسان اپنی بیوی کے حق مہر سے ہی آزمائش میں مبتلا ہوتا ہے ، جو بعد میں اس کے لئے خود اپنی ذات سے دشمنی ثابت ہوتی ہے اور انسان یہاں تک کہہ جاتا ہے کہ میں تو تمہارے پاس مشکیزہ کا منہ باندھنے والی رسی تک لانے پر مجبور ہو گیا ہوں ۔ ابوالعجفاء (جو کہ راوی ہیں) کہتے ہیں کہ میں چونکہ عرب کے ان غلاموں میں سے تھا جنہیں ”مولدین“ کہا جاتا ہے اس لئے مجھے اس وقت تک ”علق القربۃ“ (مشکیزہ کا منہ باندھنے والی رسی) کا معنی معلوم نہیں تھا ۔ پھر سیدنا رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ دوسری بات یہ ہے کہ جو شخص دوران جہاد مقتول ہو جائے یا طبعی طور پر فوت ہو جائے تو آپ لوگ یہ کہتے ہیں کہ فلاں آدمی شہید ہو گیا ، فلاں آدمی شہید ہو کر دنیا سے رخصت ہوا ، حالانکہ یہ بھی تو ہو سکتا ہے کہ اس نے اپنی سواری کے پچھلے حصے میں یا کجاوے کے نیچے سونا چاندی چھپا رکھا ہو ، جس سے وہ تجارت کا ارادہ رکھتا ہو ، اس لئے تم کسی کے متعلق یقین کے ساتھ یہ مت کہو کہ وہ شہید ہے ، البتہ یہ کہہ سکتے ہو کہ جو شخص اللہ کے راستہ میں مقتول یا فوت ہو جائے (وہ شہید ہے ) اور جنت میں داخل ہو گا جیسا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے ۔
حدیث نمبر: 286
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَنْبَأَنَا الْجُرَيْرِيُّ سَعِيدٌ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي فِرَاسٍ ، قَالَ : خَطَبَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ، فَقَالَ : " يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، أَلَا إِنَّا إِنَّمَا كُنَّا نَعْرِفُكُمْ إِذْ بَيْنَ ظَهْرَيْنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَإِذْ يَنْزِلُ الْوَحْيُ ، وَإِذْ يُنْبِئُنَا اللَّهُ مِنْ أَخْبَارِكُمْ ، أَلَا وَإِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ انْطَلَقَ ، وَقَدْ انْقَطَعَ الْوَحْيُ ، وَإِنَّمَا نَعْرِفُكُمْ بِمَا نَقُولُ لَكُمْ ، مَنْ أَظْهَرَ مِنْكُمْ خَيْرًا ، ظَنَنَّا بِهِ خَيْرًا وَأَحْبَبْنَاهُ عَلَيْهِ ، وَمَنْ أَظْهَرَ مِنْكُمْ لَنَا شَرًّا ، ظَنَنَّا بِهِ شَرًّا ، وَأَبْغَضْنَاهُ عَلَيْهِ ، سَرَائِرُكُمْ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَ رَبِّكُمْ ، أَلَا إِنَّهُ قَدْ أَتَى عَلَيَّ حِينٌ وَأَنَا أَحْسِبُ أَنَّ مَنْ قَرَأَ الْقُرْآنَ يُرِيدُ اللَّهَ وَمَا عِنْدَهُ ، فَقَدْ خُيِّلَ إِلَيَّ بِآخِرَةٍ ، أَلَا إِنَّ رِجَالًا قَدْ قَرَءُوهُ يُرِيدُونَ بِهِ مَا عِنْدَ النَّاسِ ، فَأَرِيدُوا اللَّهَ بِقِرَاءَتِكُمْ ، وَأَرِيدُوهُ بِأَعْمَالِكُمْ ، أَلَا إِنِّي وَاللَّهِ مَا أُرْسِلُ عُمَّالِي إِلَيْكُمْ لِيَضْرِبُوا أَبْشَارَكُمْ ، وَلَا لِيَأْخُذُوا أَمْوَالَكُمْ ، وَلَكِنْ أُرْسِلُهُمْ إِلَيْكُمْ لِيُعَلِّمُوكُمْ دِينَكُمْ وَسُنَّتَكُمْ ، فَمَنْ فُعِلَ بِهِ شَيْءٌ سِوَى ذَلِكَ ، فَلْيَرْفَعْهُ إِلَيَّ ، فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، إِذَنْ لَأُقِصَّنَّهُ مِنْهُ ، فَوَثَبَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ ، فَقَالَ : يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ، أَوَرَأَيْتَ إِنْ كَانَ رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ عَلَى رَعِيَّةٍ ، فَأَدَّبَ بَعْضَ رَعِيَّتِهِ ، أَئِنَّكَ لَمُقْتَصُّهُ مِنْهُ ؟ قَالَ : إِي وَالَّذِي نَفْسُ عُمَرَ بِيَدِهِ ، إِذَنْ لَأُقِصَّنَّهُ مِنْهُ ، وَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقِصُّ مِنْ نَفْسِهِ ؟ أَلَا لَا تَضْرِبُوا الْمُسْلِمِينَ فَتُذِلُّوهُمْ ، وَلَا تُجَمِّرُوهُمْ فَتَفْتِنُوهُمْ ، وَلَا تَمْنَعُوهُمْ حُقُوقَهُمْ فَتُكَفِّرُوهُمْ ، وَلَا تُنْزِلُوهُمْ الْغِيَاضَ فَتُضَيِّعُوهُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
ابوفراس کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا : لوگو ! جب تک نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہم میں موجود رہے ، وحی نازل ہوتی رہی اور اللہ ہمیں تمہارے حالات سے مطلع کرتا رہا اس وقت تک تو ہم تمہیں پہچانتے تھے ، اب چونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے گئے ہیں اور وحی کا سلسلہ منقطع ہو چکا ہے اب ہم تمہیں ان چیزوں سے پہچانیں گے جو ہم تمہیں کہیں گے ۔ تم میں سے جو شخص خیر ظاہر کرے گا ہم اس کے متعلق اچھا گمان رکھیں گے اور اس سے محبت کریں گے اور جو شر ظاہر کرے گا ہم اس کے متعلق اچھا گمان نہیں رکھیں گے اور اس بناء پر اس سے نفرت کریں گے ، تمہارے پوشیدہ راز تمہارے رب اور تمہارے درمیان ہوں گے ۔ یاد رکھو ! مجھ پر ایک وقت ایسا بھی آیا ہے کہ جس میں ، میں سمجھتا ہوں جو شخص قرآن کریم کو اللہ اور اس کی نعمتوں کو حاصل کرنے کے لئے پڑھتا ہے وہ میرے سامنے آخرت کا تخیل پیش کرتا ہے ، یاد رکھو ! بعض لوگ ایسے بھی ہیں کہ جو قرآن کریم کی تلاوت سے لوگوں کے مال و دولت کا حصول چاہتے ہیں ، تم اپنی قرأت سے اللہ کو حاصل کرو اپنے اعمال کے ذریعے اللہ کو حاصل کرو اور یاد رکھو ! میں نے تمہارے پاس اپنے مقرر کردہ گورنروں کو اس لئے نہیں بھیجا کہ وہ تمہاری چمڑی ادھیڑ دیں اور تمہارے مال و دولت پر قبضہ کر لیں ، میں نے تو انہیں تمہارے پاس اس لئے بھیجا ہے کہ وہ تمہیں تمہارا دین اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتیں سکھائیں ۔ جس شخص کے ساتھ اس کے علاوہ کوئی اور معاملہ ہوا ہو ، اسے چاہیے کہ وہ اسے میرے سامنے پیش کرے ، قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے ، میں اسے بدلہ ضرور لے کر دوں گا ، یہ سن کر سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کود کر سامنے آئے اور کہنے لگے امیر المؤمنین ! اگر کسی آدمی کو رعایا پر ذمہ دار بنایا جائے اور وہ رعایا کو ادب سکھانے کے لئے کوئی سزا دے دے، تو کیا آپ اس سے بھی قصاص لیں گے ؟ فرمایا : ہاں ! اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں عمر کی جان ہے میں اس سے بھی قصاص لوں گا ، میں نے خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی طرف سے قصاص دیتے ہوئے دیکھا ہے ۔ یاد رکھو ! مسلمانوں کو مار پیٹ کر ذلیل مت کرو ، انہیں انگاروں پر مت رکھو کہ انہیں آزمائش میں مبتلا کر دو ، ان سے ان کے حقوق مت روکو کہ انہیں کفر اختیار کرنے پر مجبور کر دو اور انہیں غصہ مت دلاؤ کہ انہیں ضائع کر دو ۔
حدیث نمبر: 287
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ مَرَّةً أُخْرَى ، أَخْبَرَنَا سَلَمَةُ بْنُ عَلْقَمَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، قَالَ : نُبِّئْتُ عَنْ أَبِي الْعَجْفَاءِ ، قَالَ : سَمِعْتُ عُمَرَ ، يَقُولُ : أَلَا لَا تُغْلُوا صُدُقَ النِّسَاءِ . . . فَذَكَرَ الْحَدِيثَ . قَالَ إِسْمَاعِيلُ : وَذَكَرَ أَيُّوبُ ، وَهِشَامٌ ، وَابْنُ عَوْنٍ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي الْعَجْفَاءِ ، عَنْ عُمَرَ نَحْوًا مِنْ حَدِيثِ سَلَمَةَ ، إِلَّا أَنَّهُمْ قَالُوا : لَمْ يَقُلْ مُحَمَّدٌ : نُبِّئْتُ عَنْ أَبِي الْعَجْفَاءِ .
مولانا ظفر اقبال
مہر زیادہ مقرر نہ کرنے والی روایت جو عنقریب گزری ایک دوسری سند سے بھی مروی ہے ۔
حدیث نمبر: 288
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، قَالَ : كُنْتُ عِنْدَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، وَنَحْنُ نَنْتَظِرُ جَنَازَةَ أُمِّ أَبَانَ ابْنَةِ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ ، وَعِنْدَهُ عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ ، فَجَاءَ ابْنُ عَبَّاسٍ يَقُودُهُ قَائِدُهُ ، قَالَ : فَأُرَاهُ أَخْبَرَهُ بِمَكَانِ ابْنِ عُمَرَ ، فَجَاءَ حَتَّى جَلَسَ إِلَى جَنْبِي وَكُنْتُ بَيْنَهُمَا ، فَإِذَا صَوْتٌ مِنَ الدَّارِ ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " إِنَّ الْمَيِّتَ يُعَذَّبُ بِبُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ " ، فَأَرْسَلَهَا عَبْدُ اللَّهِ مُرْسَلَةً ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : كُنَّا مَعَ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ عُمَرَ ، حَتَّى إِذَا كُنَّا بِالْبَيْدَاءِ ، إِذَا هُوَ بِرَجُلٍ نَازِلٍ فِي ظِلِّ شَجَرَةٍ ، فَقَالَ لِي : انْطَلِقْ ، فَاعْلَمْ مَنْ ذَاكَ ، فَانْطَلَقْتُ ، فَإِذَا هُوَ صُهَيْبٌ ، فَرَجَعْتُ إِلَيْهِ ، فَقُلْتُ : إِنَّكَ أَمَرْتَنِي أَنْ أَعْلَمَ لَكَ مَنْ ذَلكَ ، وَإِنَّهُ صُهَيْبٌ ، فَقَالَ : مُرُوهُ فَلْيَلْحَقْ بِنَا ، فَقُلْتُ : إِنَّ مَعَهُ أَهْلَهُ ، قَالَ : وَإِنْ كَانَ مَعَهُ أَهْلُهُ ، وَرُبَّمَا قَالَ أَيُّوبُ مَرَّةً : فَلْيَلْحَقْ بِنَا ، فَلَمَّا بَلَغْنَا الْمَدِينَةَ لَمْ يَلْبَثْ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ أَنْ أُصِيبَ ، فَجَاءَ صُهَيْبٌ ، فَقَالَ : وَا أَخَاهُ ، وَا صَاحِبَاهُ ، فَقَالَ عمر : أَلَمْ تَعْلَمْ ، أَوَلَمْ تَسْمَعْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّ الْمَيِّتَ لَيُعَذَّبُ بِبَعْضِ بُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ " ؟ فَأَمَّا عَبْدُ اللَّهِ فَأَرْسَلَهَا مُرْسَلَةً ، وَأَمَّا عُمَرُ ، فَقَالَ : " بِبَعْضِ بُكَاءِ " ، فَأَتَيْتُ عَائِشَةَ فَذَكَرْتُ لَهَا قَوْلَ عُمَرَ ، فَقَالَتْ : لَا وَاللَّهِ ، مَا قَالَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّ الْمَيِّتَ يُعَذَّبُ بِبُكَاءِ أَحَدٍ ، وَلَكِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّ الْكَافِرَ لَيَزِيدُهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِبُكَاءِ أَهْلِهِ عَذَابًا " ، وَإِنَّ اللَّهَ لَهُوَ أَضْحَكَ وَأَبْكَى ، وَلا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى سورة الأنعام آية 164 . قَالَ أَيُّوبُ ابْنِ أَبِي تَِميمَة السختياني ، وَقَالَ ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ : حَدَّثَنِي الْقَاسِمُ ، قَالَ : لَمَّا بَلَغَ عَائِشَةَ قَوْلُ عُمَرَ ، وَابْنِ عُمَرَ ، قَالَتْ : إِنَّكُمْ لَتُحَدِّثُونِي عَنْ غَيْرِ كَاذِبَيْنِ وَلَا مُكَذَّبَيْنِ ، وَلَكِنَّ السَّمْعَ يُخْطِئُ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا عبداللہ بن ابی ملیکہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک دن ہم سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی ام ابان کے جنازے کے انتظار میں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس بیٹھے ہوئے تھے ، وہاں عمرو بن عثمان بھی تھے ، اتنی دیر میں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو ان کا رہنما لے آیا ، شاید اسی نے انہیں سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کی نشست کا بتایا ، چنانچہ وہ میرے پہلو میں آ کر بیٹھ گئے اور میں ان دونوں کے درمیان ہو گیا ، اچانک گھر سے رونے کی آوازیں آنے لگیں ، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرمانے لگے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ میت کو اس کے اہل خانہ کے رونے دھونے کی وجہ سے عذاب ہوتا ہے اور اہل خانہ کو یہ حدیث کہلوا بھیجی ۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرمانے لگے کہ ایک مرتبہ ہم امیر المؤمنین سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ مقام بیداء میں پہنچے تو ان کی نظر ایک آدمی پر پڑی جو کسی درخت کے سائے میں کھڑا تھا ، انہوں نے مجھ سے فرمایا : جا کر خبر لاؤ کہ یہ آدمی کون ہے ؟ میں گیا تو وہ سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ تھے ، میں نے واپس آ کر عرض کیا کہ آپ نے مجھے فلاں آدمی کے بارے معلوم کرنے کا حکم دیا تھا ، وہ صہیب ہیں ، فرمایا : انہیں ہمارے پاس آنے کے لئے کہو ، میں نے عرض کیا : ان کے ساتھ ان کے اہل خانہ بھی ہیں ، فرمایا : اگرچہ اہل خانہ ہوں تب بھی انہیں بلا کر لاؤ ۔ خیر ! مدینہ منورہ پہنچنے کے چند دن بعد ہی امیر المؤمنین پر قاتلانہ حملہ ہوا ، سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ کو پتہ چلا تو وہ آئے اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو دیکھتے ہی کہنے لگے ہائے ! میرے بھائی ، ہائے میرے دوست ، اس پر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ آپ کو معلوم نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میت کو اس کے رشتہ داروں کے رونے دھونے کی وجہ سے عذاب ہوتا ہے ۔ عبداللہ بن ابی ملیکہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا تو ان سے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا یہ قول بھی ذکر کیا ، انہوں نے فرمایا : بخدا ! نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات نہیں فرمائی تھی کہ میت کو کسی کے رونے دھونے سے عذاب ہوتا ہے ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تو یہ فرمایا تھا کہ اللہ تعالیٰ کافر کے اہل خانہ کے رونے دھونے کی وجہ سے اس کے عذاب میں اضافہ کر دیتا ہے ، اصل ہنسانے اور رلانے والا تو اللہ ہے اور یہ بھی اصول ہے کہ کوئی شخص کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا ۔ ابن ابی ملیکہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے بھانجے سیدنا قاسم رحمہ اللہ نے بتایا کہ جب سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اور ان کے صاحبزادے کا یہ قول معلوم ہوا تو فرمایا کہ تم لوگ جن سے حدیث روایت کر رہے ہو ، نہ تو وہ جھوٹے تھے اور نہ ان کی تکذیب کی جا سکتی ہے ، البتہ بعض اوقات انسان سے سننے میں غلطی ہو جاتی ہے ۔
حدیث نمبر: 289
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَنْبَأَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ . . . فَذَكَرَ مَعْنَى حَدِيثِ أَيُّوبَ ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ لِعَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ ، وَهُوَ مُوَاجِهُهُ : أَلَا تَنْهَى عَنِ الْبُكَاءِ ، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّ الْمَيِّتَ لَيُعَذَّبُ بِبُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ " .
مولانا ظفر اقبال
ایک دوسری سند سے بھی یہ روایت مروی ہے البتہ اس میں یہ بھی ہے کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے عمرو بن عثمان سے جو ان کے سامنے ہی تھے فرمایا کہ آپ ان رونے والیوں کو رونے سے روکتے کیوں نہیں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میت پر اس کے اہل خانہ کے رونے کی وجہ سے عذاب ہوتا ہے ۔
حدیث نمبر: 290
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَنْبَأَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ ، قَالَ : تُوُفِّيَتْ ابْنَةٌ لِعُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ بِمَكَّةَ ، فَحَضَرَهَا ابْنُ عُمَرَ ، وَابْنُ عَبَّاسٍ ، وَإِنِّي لَجَالِسٌ بَيْنَهُمَا ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ لِعَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ وَهُوَ مُوَاجِهُهُ : أَلَا تَنْهَى عَنِ الْبُكَاءِ ، فَإِنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّ الْمَيِّتَ لَيُعَذَّبُ بِبُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ " . . . فَذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ .
مولانا ظفر اقبال
عبداللہ بن ابی ملیکہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مکہ مکرمہ میں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی ایک بیٹی فوت ہو گئی ، اس کے جنازے میں سیدنا ابن عمر اور ابن عباس رضی اللہ عنہم دونوں شریک ہوئے ، جبکہ میں ان دونوں کے درمیان بیٹھا ہوا تھا ، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنے سامنے بیٹھے ہوئے عمرو بن عثمان سے کہا کہ تم ان لوگوں کو رونے سے کیوں نہیں روکتے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کہ میت پر اہل خانہ کے رونے کی وجہ سے عذاب ہوتا ہے ، پھر انہوں نے مکمل حدیث ذکر کی ۔
حدیث نمبر: 291
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ عُمَرُ : كُنْتُ فِي رَكْبٍ أَسِيرُ فِي غَزَاةٍ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَحَلَفْتُ ، فَقُلْتُ : لَا وَأَبِي ، فَهَتَفَ بِي رَجُلٌ مِنْ خَلْفِي : " لَا تَحْلِفُوا بِآبَائِكُمْ " ، فَالْتَفَتُّ ، فَإِذَا هُوَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کسی غزوے میں تھا ، ایک موقع پر میں نے قسم کھاتے ہوئے کہا: «لا وابي» تو پیچھے سے ایک آدمی نے مجھ سے کہا کہ اپنے آباؤ اجداد کے نام کی قسمیں مت کھایا کرو ، میں نے دیکھا تو وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تھے ۔
حدیث نمبر: 292
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُيَسَّرٍ أَبُو سَعْدٍ الصَّاغَانِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَوْسِ بْنِ الْحَدَثَانِ ، قَالَ : كَانَ عُمَرُ يَحْلِفُ عَلَى أَيْمَانٍ ثَلَاثٍ ، يَقُولُ : وَاللَّهِ مَا أَحَدٌ أَحَقَّ بِهَذَا الْمَالِ مِنْ أَحَدٍ ، وَمَا أَنَا بِأَحَقَّ بِهِ مِنْ أَحَدٍ ، وَاللَّهِ مَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ أَحَدٌ إِلَّا وَلَهُ فِي هَذَا الْمَالِ نَصِيبٌ إِلَّا عَبْدًا مَمْلُوكًا ، وَلَكِنَّا عَلَى مَنَازِلِنَا مِنْ كِتَابِ اللَّهِ تَعَالَى ، وَقَسْمِنَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَالرَّجُلُ وَبَلَاؤُهُ فِي الْإِسْلَامِ ، وَالرَّجُلُ وَقَدَمُهُ فِي الْإِسْلَامِ ، وَالرَّجُلُ وَغَنَاؤُهُ فِي الْإِسْلَامِ ، وَالرَّجُلُ وَحَاجَتُهُ ، وَوَاللَّهِ لَئِنْ بَقِيتُ لَهُمْ ، لَيَأْتِيَنَّ الرَّاعِيَ بِجَبَلِ صَنْعَاءَ حَظُّهُ مِنْ هَذَا الْمَالِ وَهُوَ يَرْعَى مَكَانَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
مالک بن اوس کہتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ تین باتوں پر قسم کھایا کرتے تھے ، وہ فرماتے تھے کہ اللہ کی قسم ! اس مال کا ایک کی نسبت دوسرا کوئی شخص زیادہ حقدار نہیں (بلکہ سب برابر مستحق ہیں) اور میں بھی کسی دوسرے کی نسبت زیادہ مستحق نہیں ہوں ، اللہ کی قسم ! ہر مسلمان کا اس مال میں حق ہے سوائے اس غلام کے جو اپنے آقا کا اب تک مملوک ہے ، البتہ ہم کتاب اللہ کے مطابق درجہ بندی کریں گے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا طریقہ تقسیم حاصل کریں گے ۔ چنانچہ ایک آدمی وہ ہے جس نے اسلام کی خاطر بڑی آزمائشیں برداشت کیں ، ایک آدمی وہ ہے جو قدیم الاسلام ہو ، ایک آدمی وہ ہے جو اسلام میں رہا اور ایک آدمی وہ ہے جو ضرورت مند رہا ، اللہ کی قسم ! اگر میں زندہ رہا تو ایسا ہو کر رہے گا کہ جبل صنعاء سے ایک چرواہا آئے گا اور اس مال سے اپنا حصہ وصول کرے گا اور اپنی جگہ جانور بھی چراتا رہے گا ۔
حدیث نمبر: 293
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْقُدُّوسِ بْنُ الْحَجَّاجِ ، حَدَّثَنَا صَفْوَانُ ، حَدَّثَنِي أَبُو الْمُخَارِقِ زُهَيْرُ بْنُ سَالِمٍ : أَنَّ عُمَيْرَ بْنَ سَعْدٍ الْأَنْصَارِيَّ كَانَ وَلَّاهُ عُمَرُ حِمْصَ . . . فَذَكَرَ الْحَدِيثَ ، قَالَ عُمَرُ يَعْنِي لِكَعْبٍ : " إِنِّي أَسْأَلُكَ عَنْ أَمْرٍ فَلَا تَكْتُمْنِي ، قَالَ : وَاللَّهِ لَا أَكْتُمُكَ شَيْئًا أَعْلَمُهُ ، قَالَ : مَا أَخْوَفُ شَيْءٍ تَخَوَّفُهُ عَلَى أُمَّةِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : أَئِمَّةً مُضِلِّينَ ، قَالَ عُمَرُ : صَدَقْتَ ، قَدْ أَسَرَّ ذَلِكَ إِلَيَّ وَأَعْلَمَنِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عمیر بن سعید کو حمص کا گورنر مقرر فرما رکھا تھا ، ایک مرتبہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا : میں تم سے ایک سوال پوچھتا ہوں ، مجھ سے کچھ نہ چھپانا ، انہوں نے عرض کیا کہ مجھے جس چیز کا علم ہو گا ، اسے نہیں چھپاؤں گا ، فرمایا : امت مسلمہ کے حوالے سے تمہیں سب سے زیادہ خطرناک بات کیا معلوم ہوتی ہے ؟ عرض کیا : گمراہ کن ائمہ ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : آپ نے سچ کہا ، مجھے یہ بات نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بتائی تھی ۔
حدیث نمبر: 294
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ ، قَالَ ابْنِ شِهَابٍ : فَقَالَ سَالِمٌ : فَسَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ : قَالَ عُمَرُ : أَرْسِلُوا إِلَيَّ طَبِيبًا يَنْظُرُ إِلَى جُرْحِي هَذَا ، قَالَ : فَأَرْسَلُوا إِلَى طَبِيبٍ مِنَ الْعَرَبِ ، فَسَقَى عُمَرَ نَبِيذًا ، فَشُبِّهَ النَّبِيذُ بِالدَّمِ حِينَ خَرَجَ مِنَ الطَّعْنَةِ الَّتِي تَحْتَ السُّرَّةِ ، قَالَ : فَدَعَوْتُ طَبِيبًا آخَرَ مِنَ الْأَنْصَارِ مِنْ بَنِي مُعَاوِيَةَ ، فَسَقَاهُ لَبَنًا ، فَخَرَجَ اللَّبَنُ مِنَ الطَّعْنَةِ صَلْدًا أَبْيَضَ ، فَقَالَ لَهُ الطَّبِيبُ : يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ، اعْهَدْ ، فَقَالَ عُمَرُ : صَدَقَنِي أَخُو بَنِي مُعَاوِيَةَ ، وَلَوْ قُلْتَ غَيْرَ ذَلِكَ كَذَّبْتُكَ ، قَالَ : فَبَكَى عَلَيْهِ الْقَوْمُ حِينَ سَمِعُوا ذَلِكَ ، فَقَالَ : لَا تَبْكُوا عَلَيْنَا ، مَنْ كَانَ بَاكِيًا فَلْيَخْرُجْ ، أَلَمْ تَسْمَعُوا مَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : " يُعَذَّبُ الْمَيِّتُ بِبُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ " ، فَمِنْ أَجْلِ ذَلِكَ كَانَ عَبْدُ اللَّهِ لَا يُقِرُّ أَنْ يُبْكَى عِنْدَهُ عَلَى هَالِكٍ مِنْ وَلَدِهِ وَلَا غَيْرِهِمْ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے قاتلانہ حملہ میں زخمی ہونے کے بعد فرمایا ، میرے پاس طبیب کو بلا کر لاؤ جو میرے زخموں کی دیکھ بھال کرے ، چنانچہ عرب کا ایک نامی گرامی طبیب بلایا گیا ، اس نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو نبیذ پلائی ، لیکن وہ ناف کے نیچے لگے ہوئے زخم سے نکل آئی اور اس کا رنگ خون کی طرح سرخ ہو چکا تھا ۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے اس کے بعد انصار کے بنو معاویہ میں سے ایک طبیب کو بلایا ، اس نے آ کر انہیں دودھ پلایا ، وہ بھی ان کے زخم سے چکنا سفید نکل آیا ، طبیب نے یہ دیکھ کر کہا کہ امیر المؤمنین ! اب وصیت کر دیجئے ، (یعنی اب بچنا مشکل ہے ) ۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ انہوں نے سچ کہا ، اگر تم کوئی دوسری بات کہتے تو میں تمہاری بات نہ مانتا ۔ یہ سن کر لوگ رونے لگے ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : مجھ پر مت روؤ ، جو رونا چاہتا ہے وہ باہر چلا جائے کیا تم لوگوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نہیں سنا کہ میت کو اس کے اہل خانہ کے رونے سے عذاب ہوتا ہے ، اسی وجہ سے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما اپنے بیٹوں یا کسی اور کے انتقال پر رونے والوں کو اپنے پاس نہیں بٹھاتے تھے ۔
حدیث نمبر: 295
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَنْبَأَنَا الثَّوْرِيُّ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ، يَقُولُ : " كَانَ أَهْلُ الْجَاهِلِيَّةِ لَا يُفِيضُونَ مِنْ جَمْعٍ ، حَتَّى يَرَوْا الشَّمْسَ عَلَى ثَبِيرٍ ، وَكَانُوا يَقُولُونَ : أَشْرِقْ ثَبِيرُ كَيْمَا نُغِيرُ ، فَأَفَاضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ " .
مولانا ظفر اقبال
عمرو بن میمون کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ مشرکین طلوع آفتاب سے پہلے واپس نہیں جاتے تھے اور کہتے تھے کہ کوہ ثبیر روشن ہو تاکہ ہم حملہ کریں ، جبکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مزدلفہ سے منیٰ کی طرف طلوع آفتاب سے قبل ہی روانہ ہو گئے ۔
حدیث نمبر: 296
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ ، وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدٍ الْقَارِيِّ ، أنهما سمعا عمر ، يَقُولُ : مَرَرْتُ بِهِشَامِ بْنِ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ يَقْرَأُ سُورَةَ الْفُرْقَانِ فِي حَيَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَاسْتَمَعْتُ قِرَاءَتَهُ ، فَإِذَا هُوَ يَقْرَأُ عَلَى حُرُوفٍ كَثِيرَةٍ لَمْ يُقْرِئْنِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَكِدْتُ أَنْ أُسَاوِرَهُ فِي الصَّلَاةِ ، فَنَظَرْتُ حَتَّى سَلَّمَ ، فَلَمَّا سَلَّمَ ، لَبَّبْتُهُ بِرِدَائِهِ ، فَقُلْتُ : مَنْ أَقْرَأَكَ هَذِهِ السُّورَةَ الَّتِي تَقْرَؤُهَا ؟ قَالَ : أَقْرَأَنِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : قُلْتُ لَهُ : كَذَبْتَ ، فَوَاللَّهِ إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَهُوَ أَقْرَأَنِي هَذِهِ السُّورَةَ الَّتِي تَقْرَؤُهَا ، قَالَ : فَانْطَلَقْتُ أَقُودُهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي سَمِعْتُ هَذَا يَقْرَأُ سُورَةَ الْفُرْقَانِ عَلَى حُرُوفٍ لَمْ تُقْرِئْنِيهَا ، وَأَنْتَ أَقْرَأْتَنِي سُورَةَ الْفُرْقَانِ ! فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَرْسِلْهُ يَا عُمَرُ ، اقْرَأْ يَا هِشَامُ ، فَقَرَأَ عَلَيْهِ الْقِرَاءَةَ الَّتِي سَمِعْتُهُ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : هَكَذَا أُنْزِلَتْ ، ثُمَّ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اقْرَأْ يَا عُمَرُ ، فَقَرَأْتُ الْقِرَاءَةَ الَّتِي أَقْرَأَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : هَكَذَا أُنْزِلَتْ ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ الْقُرْآنَ أُنْزِلَ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ ، فَاقْرَءُوا مِنْهُ مَا تَيَسَّرَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے دور نبوت میں ہشام بن حکیم کے پاس سے گزرتے ہوئے انہیں سورت فرقان کی تلاوت کرتے ہوئے سنا ، انہوں نے اس میں ایسے حروف کی تلاوت کی جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے نہیں پڑھائے تھے ۔ میرا دل چاہا کہ میں ان سے نماز ہی میں پوچھ لوں ، بہرحال فراغت کے بعد میں نے انہیں چادر سے گھسیٹ کر پوچھا کہ تمہیں سورت فرقان اس طرح کس نے پڑھائی ہے ؟ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ، میں نے کہا: آپ جھوٹ بولتے ہیں ، بخدا ! نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بھی یہ سورت پڑھائی ہے ۔ یہ کہہ کر میں نے ان کا ہاتھ پکڑا اور انہیں کھینچتا ہوا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو گیا اور عرض کیا یا رسول اللہ ! آپ نے مجھے سورت فرقان خود پڑھائی ہے ، میں نے اسے سورت فرقان کو ایسے حروف میں پڑھتے ہوئے سنا ہے جو آپ نے مجھے نہیں پڑھائے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”عمر ! اسے چھوڑ دو“ ، پھر ہشام سے اس کی تلاوت کرنے کے لئے فرمایا : انہوں نے اسی طرح پڑھا جیسے وہ پہلے پڑھ رہے تھے ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”یہ سورت اسی طرح نازل ہوئی ہے“ ، پھر مجھ سے کہا کہ عمر ! تم بھی پڑھ کر سناؤ ، چنانچہ میں نے بھی پڑھ کر سنا دیا ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”یہ اس طرح بھی نازل ہوئی ہے“ ، اس کے بعد ارشاد فرمایا : ”بیشک اس قرآن کا نزول سات قرائتوں پر ہوا ہے ، لہٰذا تمہارے لئے جو آسان ہو اس کے مطابق تلاوت کر لیا کرو۔“
حدیث نمبر: 297
حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ ، أَنْبَأَنَا شُعَيْبٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، حَدَّثَنِي عُرْوَةُ ، عَنْ حَدِيثِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ ، وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدٍ الْقَارِيِّ ، أَنَّهُمَا سَمِعَا عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ هِشَامَ بْنَ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ يَقْرَأُ سُورَةَ الْفُرْقَانِ فِي حَيَاةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَمَعْتُ لِقِرَاءَتِهِ ، فَإِذَا هُوَ يَقْرَأُ عَلَى حُرُوفٍ كَثِيرَةٍ لَمْ يُقْرِئْنِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَكِدْتُ أُسَاوِرُهُ فِي الصَّلَاةِ ، فَنَظَرْتُ حَتَّى سَلَّمَ ، فَلَمَّا سَلَّمَ . . . فَذَكَرَ مَعْنَاهُ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے دور نبوت میں ہشام بن حکیم کے پاس سے گزرتے ہوئے انہیں سورت فرقان کی تلاوت کرتے ہوئے سنا ، انہوں نے اس میں ایسے حروف کی تلاوت کی جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے نہیں پڑھائے تھے ۔ میرا دل چاہا کہ میں ان سے نماز ہی میں پوچھ لوں ، پھر انہوں نے مکمل حدیث ذکر کی ۔
حدیث نمبر: 298
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ ، عَنْ زَائِدَةَ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ عُمَرُ : قَالَ : رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ كَانَ مِنْكُمْ مُلْتَمِسًا لَيْلَةَ الْقَدْرِ ، فَلْيَلْتَمِسْهَا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ وِتْرًا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”شب قدر کو رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں تلاش کیا کرو ۔ “
حدیث نمبر: 299
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ : أَنَّ عُمَرَ قِيلَ لَهُ : أَلَا تَسْتَخْلِفُ ؟ فَقَالَ : " إِنْ أَتْرُكْ ، فَقَدْ تَرَكَ مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنِّي : رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَإِنْ أَسْتَخْلِفْ ، فَقَدْ اسْتَخْلَفَ مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنِّي : أَبُو بَكْرٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے کہا گیا کہ آپ اپنا خلیفہ کسی کو مقرر کر دیجئے ؟ فرمایا : اگر میں خلیفہ مقرر نہ کروں تو مجھ سے بہتر ذات نے بھی مقرر نہیں کیا تھا یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اور اگر مقرر کر دوں تو مجھ سے بہتر ذات نے بھی مقرر کیا تھا یعنی سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ۔
حدیث نمبر: 300
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَنْبَأَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الأَنصاري ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَهُ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَلْقَمَةَ بْنَ وَقَّاصٍ اللَّيْثِيَّ ، يَقُولُ : إِنَّهُ سَمِعَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ وَهُوَ يَخْطُبُ النَّاسَ ، وَهُوَ يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " إِنَّمَا الْعَمَلُ بِالنِّيَّةِ ، وَإِنَّمَا لِامْرِئٍ مَا نَوَى ، فَمَنْ كَانَتْ هِجْرَتُهُ إِلَى اللَّهِ وَإِلَى رَسُولِهِ ، فَهِجْرَتُهُ إِلَى اللَّهِ وَإِلَى رَسُولِهِ ، وَمَنْ كَانَتْ هِجْرَتُهُ لِدُنْيَا يُصِيبُهَا ، أَوْ امْرَأَةٍ يَتَزَوَّجُهَا ، فَهِجْرَتُهُ إِلَى مَا هَاجَرَ إِلَيْهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اعمال کا دارومدار تو نیت پر ہے اور ہر انسان کو وہی ملے گا جس کی اس نے نیت کی ہو ، سو جس شخص کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول کی طرف ہو ، تو اس کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول ہی کی طرف ہو گی اور جس کی ہجرت حصول دنیا کے لئے ہو یا کسی عورت سے نکاح کی خاطر ہو تو اس کی ہجرت اس چیز کی طرف ہو گی جس کی طرف اس نے کی ۔
حدیث نمبر: 301
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، أَنَّهُ قَالَ : اتَّزِرُوا وَارْتَدُوا وَانْتَعِلُوا ، وَأَلْقُوا الْخِفَافَ وَالسَّرَاوِيلَاتِ ، وَأَلْقُوا الرُّكُبَ وَانْزُوا نَزْوًا ، وَعَلَيْكُمْ بِالْمَعَدِّيَّةِ ، وَارْمُوا الْأَغْرَاضَ ، وَذَرُوا التَّنَعُّمَ وَزِيَّ الْعَجَمِ ، وَإِيَّاكُمْ وَالْحَرِيرَ ، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ نَهَى عَنْهُ ، وَقَالَ : " لَا تَلْبَسُوا مِنَ الْحَرِيرِ إِلَّا مَا كَانَ هَكَذَا ، وَأَشَارَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِإِصْبَعَيْهِ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے کہ تہبند بھی باندھا کرو اور جسم کے اوپر والے حصے پر چادر بھی ڈالا کرو ، جوتے پہنا کرو ، موزے اور شلوار چھوڑ دو ، سواری کو گھٹنوں کے بل بٹھا کر اس پر سوار ہونے کی بجائے کود کر سوار ہوا کرو تاکہ تمہاری بہادری اور ہمت میں اضافہ ہو ، قبیلہ معد کی سواریوں کو اپنے اوپر لازم کر لو ، ہدف پر نشانہ لگانا سیکھو ، ناز و نعمت ، عیش پرستی اور عجم کے طور طریقے چھوڑ دو اور ریشم سے اپنے آپ کو بچاؤ ، کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے اور فرمایا ہے کہ ریشم مت پہنو ، سوائے اتنی مقدار کے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی دو انگلیوں سے اشارہ فرمایا ۔
حدیث نمبر: 302
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَنْبَأَنَا يَحْيَى ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ، قَالَ : " إِيَّاكُمْ أَنْ تَهْلِكُوا عَنْ آيَةِ الرَّجْمِ " ، وَأَنْ يَقُولَ قَائِلٌ : لَا نَجِدُ حَدَّيْنِ فِي كِتَابِ اللَّهِ تَعَالَى ، فَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجَمَ ، وَرَجَمْنَا بَعْدَهُ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ آیت رجم کے حوالے سے اپنے آپ کو ہلاکت میں پڑنے سے بچانا ، کہیں کوئی شخص یہ نہ کہنے لگے کہ کتاب اللہ میں تو ہمیں دو سزاؤں کا تذکرہ نہیں ملتا ، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی رجم کی سزا جاری کرتے ہوئے دیکھا ہے اور خود ہم نے بھی یہ سزاجاری کی ہے ۔
حدیث نمبر: 303
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَنْبَأَنَا الْعَوَّامُ ، حَدَّثَنِي شَيْخٌ كَانَ مُرَابِطًا بِالسَّاحِلِ ، قَالَ : لَقِيتُ أَبَا صَالِحٍ مَوْلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، فَقَالَ : حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " لَيْسَ مِنْ لَيْلَةٍ إِلَّا وَالْبَحْرُ يُشْرِفُ فِيهَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ عَلَى الْأَرْضِ ، يَسْتَأْذِنُ اللَّهَ فِي أَنْ يَنْفَضِخَ عَلَيْهِمْ ، فَيَكُفُّهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”کوئی رات ایسی نہیں گزرتی جس میں سمندر تین مرتبہ زمین پر جھانک کر نہ دیکھتا ہو ، وہ ہر مرتبہ اللہ سے یہی اجازت مانگتا ہے کہ زمین والوں کو ڈبو دے ، لیکن اللہ اسے ایسا کرنے سے روک دیتا ہے ۔“
حدیث نمبر: 304
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ ، قَالَ : قُلْتُ لِابْنِ عُمَرَ : حَدِّثْنِي عَنْ طَلَاقِكَ امْرَأَتَكَ ، قَالَ : طَلَّقْتُهَا وَهِيَ حَائِضٌ ، قَالَ : فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، فَذَكَرَهُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مُرْهُ فَلْيُرَاجِعْهَا ، فَإِذَا طَهُرَتْ ، فَلْيُطَلِّقْهَا فِي طُهْرِهَا " ، قَالَ : قُلْتُ لَهُ : هَلْ اعْتَدَدْتَ بِالَّتِي طَلَّقْتَهَا وَهِيَ حَائِضٌ ؟ قَالَ : فَمَا لِي لَا أَعْتَدُّ بِهَا ، وَإِنْ كُنْتُ قَدْ عَجَزْتُ وَاسْتَحْمَقْتُ .
مولانا ظفر اقبال
انس بن سیرین کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے عرض کیا کہ اپنی زوجہ کو طلاق دینے کا واقعہ تو سنائیے ، انہوں نے فرمایا کہ میں نے اپنی بیوی کو ایام کی حالت میں طلاق دے دی اور یہ بات سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو بھی بتا دی ، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا تذکرہ کیا تو انہوں نے فرمایا :” اس سے کہو کہ اپنی بیوی سے رجوع کر لے ، جب وہ پاک ہو جائے تو ایام طہارت میں اسے طلاق دے دے“ ، میں نے پوچھا: کہ کیا آپ نے وہ طلاق شمار کی تھی جو ایام کی حالت میں دی تھی ؟ انہوں نے کہا کہ اسے شمار نہ کرنے کی کیا وجہ تھی ؟ انہوں نے کہا: اگر میں ایسا کرتا تو لوگ مجھے بیوقوف سمجھتے ۔
حدیث نمبر: 305
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَنْبَأَنَا أَصْبَغُ ، عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ الشَّامِيِّ ، قَالَ : لَبِسَ أَبُو أُمَامَةَ ثَوْبًا جَدِيدًا ، فَلَمَّا بَلَغَ تَرْقُوَتَهُ ، قَالَ : الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي كَسَانِي مَا أُوَارِي بِهِ عَوْرَتِي ، وَأَتَجَمَّلُ بِهِ فِي حَيَاتِي ، ثُمَّ قَالَ : سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ اسْتَجَدَّ ثَوْبًا فَلَبِسَهُ ، فَقَالَ حِينَ يَبْلُغُ تَرْقُوَتَهُ : الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي كَسَانِي مَا أُوَارِي بِهِ عَوْرَتِي ، وَأَتَجَمَّلُ بِهِ فِي حَيَاتِي ، ثُمَّ عَمَدَ إِلَى الثَّوْبِ الَّذِي أَخْلَقَ ، أَوْ قَالَ : أَلْقَى ، فَتَصَدَّقَ بِهِ ، كَانَ فِي ذِمَّةِ اللَّهِ تَعَالَى ، وَفِي جِوَارِ اللَّهِ ، وَفِي كَنَفِ اللَّهِ حَيًّا وَمَيِّتًا ، حَيًّا وَمَيِّتًا ، حَيًّا وَمَيِّتًا " .
مولانا ظفر اقبال
ابوالعلاء شامی کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ نے نیا لباس زیب تن کیا ، جب وہ ان کی ہنسلی کی ہڈی تک پہنچا تو انہوں نے یہ دعا پڑھی کہ اس اللہ کا شکر جس نے مجھے لباس پہنایا جس کے ذریعے میں اپنا ستر چھپاتا ہوں اور اپنی زندگی میں اس سے زینت حاصل کرتا ہوں ، پھر فرمایا کہ میں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص نیا کپڑا پہنے اور جب وہ اس کی ہنسلی کی ہڈی تک پہنچے تو یہ دعا پڑھے ۔ اور پرانا کپڑاصدقہ کر دے ، وہ زندگی میں بھی اور زندگی کے بعد بھی اللہ کی حفاظت میں ، اللہ کے پڑوس میں اور اللہ کی نگہبانی میں رہے گا ۔
حدیث نمبر: 306
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، قَالَ : سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَحَدُنَا إِذَا أَرَادَ أَنْ يَنَامَ وَهُوَ جُنُبٌ ، كَيْفَ يَصْنَعُ قَبْلَ أَنْ يَغْتَسِلَ ؟ قَالَ : " يَتَوَضَّأُ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ ، ثُمَّ يَنَامُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: اگر ہم میں سے کوئی شخص ناپاک ہو جائے اور وہ غسل کرنے سے پہلے سونا چاہے تو کیا کرے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”نماز والا وضو کر کے سو جائے ۔ “
حدیث نمبر: 307
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَنْبَأَنَا وَرْقَاءُ . وَأَبُو النَّضْرِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا وَرْقَاءُ ، عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى الثَّعْلَبِيِّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، قَالَ : كُنْتُ مَعَ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، وَعُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فِي الْبَقِيعِ يَنْظُرُ إِلَى الْهِلَالِ ، فَأَقْبَلَ رَاكِبٌ ، فَتَلَقَّاهُ عُمَرُ ، فَقَالَ : مِنْ أَيْنَ جِئْتَ ؟ فَقَالَ : مِنَ المَغْرَبِ ، قَالَ : أَهْلَلْتَ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ عُمَرُ : اللَّهُ أَكْبَرُ ، إِنَّمَا يَكْفِي الْمُسْلِمِينَ الرَّجُلُ ، ثُمَّ قَامَ عُمَرُ ، فَتَوَضَّأَ ، فَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ ، ثُمَّ صَلَّى الْمَغْرِبَ ، ثُمَّ قَالَ : هَكَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَنَعَ ، قَالَ أَبُو النَّضْرِ : وَعَلَيْهِ جُبَّةٌ ضَيِّقَةُ الْكُمَّيْنِ ، فَأَخْرَجَ يَدَهُ مِنْ تَحْتِهَا وَمَسَحَ " .
مولانا ظفر اقبال
عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ کہتے ہیں کہ میں ایک مرتبہ سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا ، اس وقت سیدنا عمر رضی اللہ عنہ جنت البقیع میں چاند دیکھ رہے تھے کہ ایک سوار آدمی آیا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا اس سے آمنا سامنا ہو گیا ، انہوں نے اس سے پوچھا کہ تم کسی طرف سے آ رہے ہو ؟ اس نے بتایا مغرب کی جانب سے ، انہوں نے پوچھا: کیا تم نے چاند دیکھا ہے ؟ اس نے کہا: جی ہاں ! میں نے شوال کا چاند دیکھ لیا ہے ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اللہ اکبر کہہ کر فرمایا : مسلمانوں کے لئے ایک آدمی کی گواہی بھی کافی ہے ، پھر خود کھڑے ہو کر ایک برتن سے جس میں پانی تھا ، وضو کیا اور اپنے موزوں پر مسح کیا اور مغرب کی نماز پڑھائی اور فرمایا : میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح کرتے ہوئے دیکھا ہے ، اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شامی جبہ پہن رکھا تھا جس کی آستینیں تنگ تھیں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ جبے کے نیچے سے نکال کر مسح کیا تھا ۔
حدیث نمبر: 308
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، أَنْبَأَنَا الزُّبَيْرُ بْنُ الْخِرِّيتِ ، عَنْ أَبِي لَبِيدٍ ، قَالَ : خَرَجَ رَجُلٌ مِنْ طَاحِيَةَ مُهَاجِرًا ، يُقَالُ لَهُ : بَيْرَحُ بْنُ أَسَدٍ ، فَقَدِمَ الْمَدِينَةَ بَعْدَ وَفَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَيَّامٍ ، فَرَآهُ عُمَرُ ، فَعَلِمَ أَنَّهُ غَرِيبٌ ، فَقَالَ لَهُ : مَنْ أَنْتَ ؟ قَالَ : مِنْ أَهْلِ عُمَانَ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : فَأَخَذَ بِيَدِهِ ، فَأَدْخَلَهُ عَلَى أَبِي بَكْرٍ ، فَقَالَ : هَذَا مِنْ أَهْلِ الْأَرْضِ ، الَّتِي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " إِنِّي لَأَعْلَمُ أَرْضًا يُقَالُ لَهَا : عُمَانُ ، يَنْضَحُ بِنَاحِيَتِهَا الْبَحْرُ ، بِهَا حَيٌّ مِنَ الْعَرَبِ ، لَوْ أَتَاهُمْ رَسُولِي ، مَا رَمَوْهُ بِسَهْمٍ وَلَا حَجَرٍ " .
مولانا ظفر اقبال
ابولبید کہتے ہیں کہ ایک آدمی جس کا نام بیرح بن اسد تھا طاحیہ نامی جگہ سے ہجرت کے ارادے سے روانہ ہوا جب وہ مدینہ منورہ پہنچا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئے کئی دن گزر چکے تھے ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں دیکھا تو وہ انہیں اجنبی محسوس ہوا ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس سے پوچھا: آپ کون ہو ؟ اس نے کہا: کہ میرا تعلق عمان سے ہے ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ”اچھا“ کہا اور اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں لے گئے اور عرض کیا کہ ان کا تعلق اس سرزمین سے ہے جس کے متعلق میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ میں ایک ایسے شہر کو جانتا ہوں جس کا نام عمان ہے اس کے ایک کنارے سمندر بہتا ہے ، وہاں عرب کا ایک قبیلہ بھی آباد ہے ، اگر میرا قاصد ان کے پاس گیا ہے تو انہوں نے اسے کوئی تیر یا پتھر نہیں مارا ۔
حدیث نمبر: 309
(حديث قدسي) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَنْبَأَنَا عَاصِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنْ عُمَرَ ، قَالَ : لَا أَعْلَمُهُ إِلَّا رَفَعَهُ ، قَالَ : يَقُولُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى : " مَنْ تَوَاضَعَ لِي هَكَذَا ، وَجَعَلَ يَزِيدُ بَاطِنَ كَفِّهِ إِلَى الْأَرْضِ ، وَأَدْنَاهَا إِلَى الْأَرْضِ ، رَفَعْتُهُ هَكَذَا ، وَجَعَلَ بَاطِنَ كَفِّهِ إِلَى السَّمَاءِ ، وَرَفَعَهَا نَحْوَ السَّمَاءِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے یہ حدیث قدسی مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں جو شخص میرے لئے اتنا سا جھکتا ہے ، راوی نے زمین کے قریب اپنے ہاتھ کو لے جا کر کہا ، تو میں اسے اتنا بلند کر دیتا ہوں ، راوی نے آسمان کی طرف اپنا ہاتھ اٹھا کر دکھایا ۔ (فائدہ : یعنی تواضع اختیار کرنے والے کو اللہ کی طرف سے رفعتیں اور عظمتیں عطاء ہوتی ہیں ۔)
حدیث نمبر: 310
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَنْبَأَنَا دَيْلَمُ بْنُ غَزْوَانَ الْعَبْدِيُّ ، حَدَّثَنَا مَيْمُونٌ الْكُرْدِيُّ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ ، قَالَ : إِنِّي لَجَالِسٌ تَحْتَ مِنْبَرِ عُمَرَ ، وَهُوَ يَخْطُبُ النَّاسَ ، فَقَالَ فِي خُطْبَتِهِ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " إِنَّ أَخْوَفَ مَا أَخَافُ عَلَى هَذِهِ الْأُمَّةِ ، كُلُّ مُنَافِقٍ عَلِيمِ اللِّسَانِ " .
مولانا ظفر اقبال
ابوعثمان نہدی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے منبر کے نیچے بیٹھا ہوا تھا اور وہ لوگوں کے سامنے خطبہ دے رہے تھے ، انہوں نے اپنے خطبے میں فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے کہ مجھے اپنی امت کے متعلق سب سے زیادہ خطرہ اس منافق سے ہے جو زبان دان ہو ۔
حدیث نمبر: 311
(حديث قدسي) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ . ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ ، أَخْبَرَنِي مَالِكٌ . قَالَ : أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ عَبْد اللَّهِ بْن أَحْمَد : وحَدَّثَنَا مُصْعَبٌ الزُّبَيْرِيُّ ، حَدَّثَنِي مَالِكٌ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ ، أَنَّ عَبْدَ الْحَمِيدِ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زَيْدِ بْنِ الْخَطَّابِ أَخْبَرَهُ ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ يَسَارٍ الْجُهَنِيِّ : أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ سُئِل عَنْ هَذِهِ الْآيَةِ : وَإِذْ أَخَذَ رَبُّكَ مِنْ بَنِي آدَمَ مِنْ ظُهُورِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ سورة الأعراف آية 172 الْآيَةَ ، فَقَالَ عُمَرُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنْهَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ اللَّهَ خَلَقَ آدَمَ ، ثُمَّ مَسَحَ ظَهْرَهُ بِيَمِينِهِ ، وَاسْتَخْرَجَ مِنْهُ ذُرِّيَّةً ، فَقَالَ : خَلَقْتُ هَؤُلَاءِ لِلْجَنَّةِ ، وَبِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ يَعْمَلُونَ ، ثُمَّ مَسَحَ ظَهْرَهُ ، فَاسْتَخْرَجَ مِنْهُ ذُرِّيَّةً ، فَقَالَ : خَلَقْتُ هَؤُلَاءِ لِلنَّارِ ، وَبِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ يَعْمَلُونَ " ، فَقَالَ رَجُلٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَفِيمَ الْعَمَلُ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ إِذَا خَلَقَ الْعَبْدَ لِلْجَنَّةِ ، اسْتَعْمَلَهُ بِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ ، حَتَّى يَمُوتَ عَلَى عَمَلٍ مِنْ أَعْمَالِ أَهْلِ الْجَنَّةِ ، فَيُدْخِلَهُ بِهِ الْجَنَّةَ ، وَإِذَا خَلَقَ الْعَبْدَ لِلنَّارِ اسْتَعْمَلَهُ بِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ ، حَتَّى يَمُوتَ عَلَى عَمَلٍ مِنْ أَعْمَالِ أَهْلِ النَّارِ ، فَيُدْخِلَهُ بِهِ النَّارَ " .
مولانا ظفر اقبال
مسلم بن یسار الجہنی کہتے ہیں کہ کسی نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے اس آیت کا مطلب پوچھا: «واذ اخذ ربك من بني آدم من ظهورهم ذرياتهم» تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی اس نوعیت کا سوال کسی کو پوچھتے ہوئے سنا تھا ، اس موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا جواب یہ ارشاد فرمایا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے سیدنا آدم علیہ السلام کی جب تخلیق فرمائی تو کچھ عرصے بعد ان کی پشت پر اپنا دایاں ہاتھ پھیرا اور ان کی اولاد کو نکالا اور فرمایا کہ میں نے ان لوگوں کو جنت کے لئے اور اہل جنت کے اعمال کرنے کے لئے پیدا کیا ہے ۔ اس کے بعد دوبارہ ہاتھ پھیر کر ان کی کچھ اور اولاد کو نکالا اور فرمایا : میں نے ان لوگوں کو جہنم کے لئے اور اہل جہنم کے اعمال کرنے کے لئے پیدا کیا ہے ، ایک آدمی نے یہ سن کر عرض کیا : یا رسول اللہ ! پھر عمل کا کیا فائدہ ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”اللہ نے جب کسی بندے کو جنت کے لئے پیدا کیا ہے تو اسے اہل جنت کے کاموں میں لگائے رکھے گا یہاں تک کہ وہ جنتیوں والے اعمال کرتے ہوئے دنیا سے رخصت ہو جائے اور اس کی برکت سے جنت میں داخل ہو جائے اور اگر کسی بندے کو جہنم کے لئے پیدا کیا ہے تو وہ اسے اہل جہنم کے کاموں میں لگائے رکھے گا ، یہاں تک کہ جہنمیوں کے اعمال کرتا ہوا وہ دنیا سے رخصت ہو جائے گا اور ان کی نحوست سے جہنم میں داخل ہو جائے گا ۔“
حدیث نمبر: 312
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ أَبِيهِ : أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ الْمَسْجِدَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ ، وَعُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ قَائِمٌ يَخْطُبُ ، فَقَالَ عُمَرُ : أَيَّةُ سَاعَةٍ هَذِهِ ؟ فَقَالَ : يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ، انْقَلَبْتُ مِنَ السُّوقِ فَسَمِعْتُ النِّدَاءَ ، فَمَا زِدْتُ عَلَى أَنْ تَوَضَّأْتُ ، فَأَقْبَلْتُ ، فَقَالَ عُمَرُ : الْوُضُوءُ أَيْضًا ! وَقَدْ عَلِمْتَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَأْمُرُنَا بِالْغُسْلِ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ جمعہ کے دن خطبہ ارشاد فرما رہے تھے ، دوران خطبہ ایک صاحب آئے ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے پوچھا کہ یہ کون سا وقت ہے آنے کا ؟ انہوں نے جواباً کہا کہ امیرالمومنین ! میں بازار سے واپس آیا تھا ، میں نے تو جیسے ہی اذان سنی ، وضو کرتے ہی آ گیا ہوں ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اوپر سے وضو بھی ؟ جبکہ آپ جانتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے لئے غسل کرنے کا حکم دیتے تھے ۔
حدیث نمبر: 313
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ عَتِيقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَابَيْهِ ، عَنْ بَعْضِ بَنِي يَعْلَى ، عَنْ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ ، قَالَ : طُفْتُ مَعَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، فَاسْتَلَمَ الرُّكْنَ ، قَالَ يَعْلَى : فَكُنْتُ مِمَّا يَلِي الْبَيْتَ ، فَلَمَّا بَلَغْتُ الرُّكْنَ الْغَرْبِيَّ الَّذِي يَلِي الْأَسْوَدَ ، جَرَرْتُ بِيَدِهِ لِيَسْتَلِمَ ، فَقَالَ : " مَا شَأْنُكَ ؟ فَقُلْتُ : أَلَا تَسْتَلِمُ ؟ قَالَ : أَلَمْ تَطُفْ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ فَقُلْتُ : بَلَى ، فَقَالَ : أَفَرَأَيْتَهُ يَسْتَلِمُ هَذَيْنِ الرُّكْنَيْنِ الْغَرْبِيَّيْنِ ؟ قَالَ : فَقُلْتُ لَا ، قَالَ : أَفَلَيْسَ لَكَ فِيهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ ؟ قَالَ : قُلْتُ : بَلَى ، قَالَ : فَانْفُذْ عَنْكَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا یعلی بن امیہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ طواف کیا ، انہوں نے حجر اسود کا استلام کیا ، جب میں رکن یمانی پر پہنچا تو میں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑ لیا تاکہ وہ استلام کر لیں ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تمہیں کیا ہوا ؟ میں نے کہا کیا آپ استلام نہیں کریں گے ؟ انہوں نے فرمایا : کیا آپ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کبھی طواف نہیں کیا ؟ میں نے عرض کیا کیوں نہیں ! فرمایا : تو کیا آپ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کا استلام کرتے ہوئے دیکھا ہے ؟ میں نے کہا نہیں ! انہوں نے فرمایا : کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات میں تمہارے لئے اسوہ حسنہ موجود نہیں ہے ؟ میں نے عرض کیا کیوں نہیں ، انہوں نے فرمایا : پھر اسے چھوڑ دو ۔
حدیث نمبر: 314
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، وَأَبُو عَامِرٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَوْسِ بْنِ الْحَدَثَانِ ، قَالَ : جِئْتُ بِدَنَانِيرَ لِي ، فَأَرَدْتُ أَنْ أَصْرِفَهَا ، فَلَقِيَنِي طَلْحَةُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ ، فَاصْطَرَفَهَا وَأَخَذَهَا ، فَقَالَ : حَتَّى يَجِيءَ سَلْمٌ خَازِنِي ، قَالَ أَبُو عَامِرٍ : مِنَ الْغَابَةِ ، وَقَالَ فِيهَا كُلِّهَا : هَاءَ وَهَاءَ ، قَالَ : فَسَأَلْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ عَنْ ذَلِكَ ، فَقَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " الذَّهَبُ بِالْوَرِقِ رِبًا ، إِلَّا هَاءَ وَهَاءَ ، وَالْبُرُّ بِالْبُرِّ رِبًا ، إِلَّا هَاءَ وَهَاءَ ، وَالشَّعِيرُ بِالشَّعِيرِ رِبًا ، إِلَّا هَاءَ وَهَاءَ ، وَالتَّمْرُ بِالتَّمْرِ رِبًا ، إِلَّا هَاءَ وَهَاءَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا مالک بن اوس بن الحدثان کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں سونے کے بدلے چاندی حاصل کرنے کے لئے اپنے کچھ دینار لے کر آیا ، راستے میں سیدنا طلحۃ رضی اللہ عنہ سے ملاقات ہو گئی ، انہوں نے مجھ سے سونے کے بدلے چاندی کا معاملہ طے کر لیا اور میرے دینار پکڑ لئے اور کہنے لگے کہ ذرا رکیے ہمارا خازن غابہ سے آتا ہی ہو گا ، میں نے سیدنا رضی اللہ عنہ سے اس کا حکم پوچھا تو انہوں نے فرمایا : میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ سونے کی چاندی کے بدلے خریدوفروخت سود ہے الاّ یہ کہ معاملہ نقد ہو ، اسی طرح کھجور کے بدلے کھجور کی بیع سود ہے الاّ یہ کہ معاملہ نقد ہو ۔
حدیث نمبر: 315
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، أَنَّ عُمَرَ ، قَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّ الْمَيِّتَ يُعَذَّبُ بِبُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”میت پر اس کے اہل خانہ کے رونے دھونے کی وجہ سے عذاب ہوتا ہے ۔ “
حدیث نمبر: 316
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ عِيسَى ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ ، قَالَ : أَتَيْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ فِي أُنَاسٍ مِنْ قَوْمِي ، فَجَعَلَ يَفْرِضُ لِلرَّجُلِ مِنْ طَيِّئٍ فِي أَلْفَيْنِ وَيُعْرِضُ عَنِّي ، قَالَ : فَاسْتَقْبَلْتُهُ ، فَأَعْرَضَ عَنِّي ، ثُمَّ أَتَيْتُهُ مِنْ حِيَالِ وَجْهِهِ ، فَأَعْرَضَ عَنِّي ، قَالَ : فَقُلْتُ : يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ، أَتَعْرِفُنِي ؟ قَالَ : فَضَحِكَ حَتَّى اسْتَلْقَى لِقَفَاهُ ، ثُمَّ قَالَ : " نَعَمْ وَاللَّهِ إِنِّي لَأَعْرِفُكَ ، آمَنْتَ إِذْ كَفَرُوا ، وَأَقْبَلْتَ إِذْ أَدْبَرُوا ، وَوَفَيْتَ إِذْ غَدَرُوا ، وَإِنَّ أَوَّلَ صَدَقَةٍ بَيَّضَتْ وَجْهَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَوُجُوهَ أَصْحَابِهِ صَدَقَةُ طَيِّئٍ ، جِئْتَ بِهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " ، ثُمَّ أَخَذَ يَعْتَذِرُ ، ثُمَّ قَالَ : إِنَّمَا فَرَضْتُ لِقَوْمٍ أَجْحَفَتْ بِهِمْ الْفَاقَةُ ، وَهُمْ سَادَةُ عَشَائِرِهِمْ ، لِمَا يَنُوبُهُمْ مِنَ الْحُقُوقِ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا عدی بن حاتم کہتے ہیں کہ میں اپنی قوم کے کچھ لوگوں کے ساتھ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا ، انہوں نے بنو طئی کے ایک آدمی کو دو ہزار دئیے لیکن مجھ سے اعراض کیا ، میں ان کے سامنے آیا تب بھی انہوں نے اعراض کیا ، میں ان کے چہرے کے رخ کی جانب سے آیا لیکن انہوں نے پھر بھی اعراض کیا ، یہ دیکھ کر میں نے کہا امیرالمومنین ! آپ مجھے پہچانتے ہیں ؟ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ہنسنے لگے ، پھر چت لیٹ گئے اور فرمایا : ہاں ! اللہ کی قسم ! میں آپ کو جانتا ہوں ، جب یہ کافر تھے آپ نے اس وقت اسلام قبول کیا تھا ، جب انہوں نے پیٹھ پھیر رکھی تھی آپ متوجہ ہو گئے تھے ، جب انہوں نے عہد شکنی کی تھی تب آپ نے وعدہ وفا کیا تھا اور سب سے پہلا وہ مال صدقہ جسے دیکھ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کے چہرے کھل اٹھے تھے بنو طئی کی طرف سے آنے والا وہ مال تھا جو آپ ہی لے کر آئے تھے ۔ اس کے بعد سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ان سے معذرت کرتے ہوئے فرمانے لگے میں نے ان لوگوں کو مال دیا ہے جنہیں فقر و فاقہ اور تنگدستی نے کمزور کر رکھا ہے اور یہ لوگ اپنے اپنے قبیلے کے سردار ہیں ، کیونکہ ان پر حقوق کی نیاب کی ذمہ داری ہے ۔
حدیث نمبر: 317
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ، يَقُولُ : " فِيمَا الرَّمَلَانُ الْآنَ ، وَالْكَشْفُ عَنِ الْمَنَاكِبِ ، وَقَدْ أَطَّأَ اللَّهُ الْإِسْلَامَ ، وَنَفَى الْكُفْرَ وَأَهْلَهُ ، وَمَعَ ذَلِكَ لَا نَدَعُ شَيْئًا كُنَّا نَفْعَلُهُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ فرمایا کہ اب طواف کے دوران جبکہ اللہ نے اسلام کو شان و شوکت عطاء فرما دی اور کفر و اہل کفر کو ذلیل کرکے نکال دیا رمل اور کندھے خالی کرنے کی کوئی ضرورت نہیں رہی لیکن اس کے باوجود ہم اسے ترک نہیں کریں گے کیونکہ ہم اسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے سے کرتے چلے آرہے ہیں ۔
حدیث نمبر: 318
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، وَعَفَّانُ ، قَالَا : حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي الْفُرَاتِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ ، قَالَ عَفَّانُ : عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ الدِّيلِيِّ ، قَالَ : أَتَيْتُ الْمَدِينَةَ ، وَقَدْ وَقَعَ بِهَا مَرَضٌ ، قَالَ عَبْدُ الصَّمَدِ : فَهُمْ يَمُوتُونَ مَوْتًا ذَرِيعًا ، فَجَلَسْتُ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، فَمَرَّتْ بِهِ جَنَازَةٌ ، فَأُثْنِيَ عَلَى صَاحِبِهَا خَيْرٌ ، فَقَالَ عُمَرُ : وَجَبَتْ ، ثُمَّ مُرَّ بِأُخْرَى ، فَأُثْنِيَ عَلَى صَاحِبِهَا خَيْرٌ ، فَقَالَ : وَجَبَتْ ، ثُمَّ مُرَّ بِأُخْرَى فَأُثْنِيَ عَلَيْهَا شَرٌّ ، فَقَالَ عُمَرُ : وَجَبَتْ ، فَقَالَ أَبُو الْأَسْوَدِ : فَقُلْتُ لَهُ : يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ، مَا وَجَبَتْ ؟ فَقَالَ : قُلْتُ كَمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَيُّمَا مُسْلِمٍ شَهِدَ لَهُ أَرْبَعَةٌ بِخَيْرٍ ، إِلَّا أَدْخَلَهُ اللَّهُ الْجَنَّةَ ، قَالَ : قُلْنَا : وَثَلَاثَةٌ ؟ قَالَ : وَثَلَاثَةٌ ، قُلْنَا : وَاثْنَانِ ؟ قَالَ : وَاثْنَانِ " ، قَالَ : وَلَمْ نَسْأَلْهُ عَنِ الْوَاحِدِ .
مولانا ظفر اقبال
ابوالاسود رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں مدینہ منورہ کی طرف روانہ ہوا ، وہاں پہنچا تو پتہ چلا کہ وہاں کوئی بیماری پھیلی ہوئی ہے جس سے لوگ بکثرت مر رہے ہیں ، میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی مجلس میں بیٹھا ہوا تھا کہ وہاں سے ایک جنازہ کا گزر ہوا ، لوگوں نے اس مردے کی تعریف کی ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : واجب ہو گئی ، پھر دوسرا جنازہ گزرا ، لوگوں نے اس کی بھی تعریف کی ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے پھر فرمایا : واجب ہو گئی ، تیسرا جنازہ گزرا تو لوگوں نے اس کی برائی بیان کی ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے پھر فرمایا : واجب ہو گئی ، میں نے بالآخر پوچھ ہی لیا کہ امیر المؤمنین ! کیا چیز واجب ہو گئی ؟ انہوں نے فرمایا : میں نے تو وہی کہا ہے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ جس مسلمان کے لئے چار آدمی خیر کی گواہی دے دیں تو اس کے لئے جنت واجب ہو گئی ، ہم نے عرض کیا : اگر تین آدمی ہوں ؟ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تب بھی یہی حکم ہے ، ہم نے دو کے متعلق پوچھا: ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : دو ہوں تب بھی یہی حکم ہے ، پھر ہم نے خود ہی ایک کے متعلق سوال نہیں کیا ۔
حدیث نمبر: 319
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا حَرْبٌ يَعْنِي ابْنَ شَدَّادٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ ، قَالَ : بَيْنَمَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ يَخْطُبُ ، إِذْ جَاءَ رَجُلٌ فَجَلَسَ ، فَقَالَ عُمَرُ : لِمَ تَحْتَبِسُونَ عَنِ الْجُمُعَةِ ؟ فَقَالَ الرَّجُلُ : يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ، مَا هُوَ إِلَّا أَنْ سَمِعْتُ النِّدَاءَ فَتَوَضَّأْتُ ، ثُمَّ أَقْبَلْتُ ، فَقَالَ عُمَرُ : وَأَيْضًا ! أَلَمْ تَسْمَعُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " إِذَا رَاحَ أَحَدُكُمْ إِلَى الْجُمُعَةِ ، فَلْيَغْتَسِلْ " ؟ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ جمعہ کے دن خطبہ ارشاد فرما رہے تھے ، دوران خطبہ ایک صاحب آ کر بیٹھ گئے ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے پوچھا: نماز سے کیوں رکے رہے ، انہوں نے جواباً کہا کہ امیر المؤمنین ! میں بازار سے واپس آیا تھا ، میں نے تو جیسے ہی اذان سنی ، وضو کرتے ہی آ گیا ہوں ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اچھا کیا تم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے نہیں سنا ہے کہ جب تم میں سے کوئی شخص جمعہ کے لئے جائے تو اسے غسل کر لینا چاہیے ۔
حدیث نمبر: 320
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ الْمُعَلِّمُ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ أَخْبَرَهُ : أَنَّ عُمَرَ بَيْنَا هُوَ يَخْطُبُ . . . فَذَكَرَهُ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ روایت اس دوسری سند سے بھی مروی ہے ۔
حدیث نمبر: 321
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا حَرْبٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حِطَّانَ فِيمَا يَحْسِبُ حَرْبٌ : أَنَّهُ سَأَلَ ابْنَ عَبَّاسٍ عَنْ لَبُوسِ الْحَرِيرِ ، فَقَالَ : سَلْ عَنْهُ عَائِشَةَ ، فَسَأَلَ عَائِشَةَ فَقَالَتْ : سَلْ ابْنَ عُمَرَ ، فَسَأَلَ ابْنَ عُمَرَ ، فَقَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو حَفْصٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ لَبِسَ الْحَرِيرَ فِي الدُّنْيَا ، فَلَا خَلَاقَ لَهُ فِي الْآخِرَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
عمران بن حطان نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ریشمی لباس کی بابت سوال کیا ، انہوں نے کہا کہ اس کا جواب سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھو ، عمران نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: تو انہوں نے فرمایا کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھو ، انہوں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا: تو سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے والد محترم کے حوالے سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد نقل کیا کہ جو شخص دنیا میں ریشم پہنتا ہے ، اس کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہے ۔
…