حدیث نمبر: 242
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، عَنْ خَالِدٍ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ ، عَنْ عُمَرَ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " رَخَّصَ فِي الْحَرِيرِ فِي إِصْبَعَيْنِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مردوں کے لئے دو انگلیوں کے برابر ریشم کی اجازت دی ہے ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 242
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5829، م: 2069
حدیث نمبر: 243
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا التَّيْمِيُّ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ ، قَالَ : كُنَّا مَعَ عُتْبَةَ بْنِ فَرْقَدٍ ، فَكَتَبَ إِلَيْهِ عُمَرُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَكَانَ فِيمَا كَتَبَ إِلَيْهِ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا يَلْبَسُ الْحَرِيرَ فِي الدُّنْيَا إِلَّا مَنْ لَيْسَ لَهُ فِي الْآخِرَةِ مِنْهُ شَيْءٌ ، إِلَّا هَكَذَا " ، وَقَالَ بِإِصْبَعَيْهِ السَّبَّابَةِ وَالْوُسْطَى . قَالَ أَبُو عُثْمَانَ : فَرَأَيْتُ أَنَّهَا أَزْرَارُ الطَّيَالِسَةِ ، حِينَ رَأَيْنَا الطَّيَالِسَةَ .
مولانا ظفر اقبال
ابوعثمان کہتے ہیں کہ ہم سیدنا عتبہ بن فرقد رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا ایک خط آ گیا ، جس میں لکھا تھا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”جو شخص دنیا میں ریشمی لباس پہنتا ہے سوائے اتنی مقدار کے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انگلی بلند کر کے دکھائی ، اس کا آخرت میں ریشم کے حوالے سے کوئی حصہ نہیں ۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 243
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح كسابقه
حدیث نمبر: 244
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَابَيْهِ ، عَنْ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ ، قَالَ : قُلْتُ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ : إِقْصَارُ النَّاسِ الصَّلَاةَ الْيَوْمَ ، وَإِنَّمَا قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : إِنْ خِفْتُمْ أَنْ يَفْتِنَكُمُ الَّذِينَ كَفَرُوا سورة النساء آية 101 ، فَقَدْ ذَهَبَ ذَاكَ الْيَوْمَ ! فَقَالَ : عَجِبْتُ مِمَّا عَجِبْتَ مِنْهُ ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " صَدَقَةٌ تَصَدَّقَ اللَّهُ بِهَا عَلَيْكُمْ ، فَاقْبَلُوا صَدَقَتَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
یعلی بن امیہ کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ قرآن کریم میں قصر کا جو حکم ”خوف“ کی حالت میں آیا ہے ، اب تو ہر طرف امن و امان ہو گیا ہے تو کیا یہ حکم ختم ہو گیا ؟ (اگر ایسا ہے تو پھر قرآن میں اب تک یہ آیت کیوں موجود ہے ؟ ) تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ مجھے بھی اسی طرح تعجب ہوا تھا جس طرح تمہیں ہوا ہے اور میں نے بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق دریافت کیا تھا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا : ”یہ اللہ کی طرف سے صدقہ ہے جو اس نے اپنے بندوں پر کیا ہے ، لہٰذا اس کے صدقے اور مہربانی کو قبول کرو ۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 244
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 686
حدیث نمبر: 245
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَنْبَأَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ يُحَدِّثُ ، فَذَكَرَهُ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مذکور ہے ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 245
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح كسابقه
حدیث نمبر: 246
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ أَبِي عَرُوبَةَ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، قَالَ : قَالَ عُمَرُ : " إِنَّ آخِرَ مَا نَزَلَ مِنَ الْقُرْآنِ آيَةُ الرِّبَا ، وَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُبِضَ وَلَمْ يُفَسِّرْهَا ، فَدَعُوا الرِّبَا وَالرِّيبَةَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ قرآن کریم میں سب سے آخری آیت سود سے متعلق نازل ہوئی ہے ، اس لئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے وصال مبارک سے قبل اس کی مکمل وضاحت کا موقع نہیں مل سکا ، اس لئے سود کو بھی چھوڑ دو اور جس چیز میں ذرا بھی شک ہو اسے بھی چھوڑ دو ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 246
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن، سعيد بن المسيب أدرك عمر ولم يسمع منه
حدیث نمبر: 247
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنْ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الْمَيِّتُ يُعَذَّبُ فِي قَبْرِهِ بِالنِّيَاحَةِ عَلَيْهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”میت کو اس کی قبر میں اس پر ہونے والے نوحے کی وجہ سے عذاب ہوتا ہے ۔ “
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 247
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1292، م: 927
حدیث نمبر: 248
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنْ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " يُعَذَّبُ الْمَيِّتُ بِبُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”میت کو اس کی قبر میں اس پر اس کے اہل خانہ کے رونے کی وجہ سے عذاب ہوتا ہے ۔ “
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 248
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح كسابقه
حدیث نمبر: 249
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ يَحْيَى ، قَالَ : سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ : أَنَّ عُمَرَ ، قَالَ : " إِيَّاكُمْ أَنْ تَهْلِكُوا عَنْ آيَةِ الرَّجْمِ ، وَأَنْ يَقُولَ قَائِلٌ : لَا نَجِدُ حَدَّيْنِ فِي كِتَابِ اللَّهِ ، فَقَدْ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " قَدْ رَجَمَ ، وَقَدْ رَجَمْنَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا سعید بن مسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ آیت رجم کے حوالے سے اپنے آپ کو ہلاکت میں پڑنے سے بچانا ، کہیں کوئی شخص یہ نہ کہنے لگے کہ کتاب اللہ میں تو ہمیں دو سزاؤں کا تذکرہ نہیں ملتا ، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی رجم کی سزا جاری کرتے ہوئے دیکھا ہے اور خود ہم نے بھی یہ سزا جاری کی ہے ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 249
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح، سعيد بن السيب لم يسمع من عمر، خ: 2462، م: 1691
حدیث نمبر: 250
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : قَالَ عُمَرُ : " وَافَقْتُ رَبِّي فِي ثَلَاثٍ ، أو وَافَقَنِي رَبِّي فِي ثَلَاثٍ ، قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لَوْ اتَّخَذْتَ مِنْ مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّى ؟ فَأَنْزَلَ اللَّهُ : وَاتَّخِذُوا مِنْ مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّى سورة البقرة آية 125 ، قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّهُ يَدْخُلُ عَلَيْكَ الْبَرُّ وَالْفَاجِرُ ، فَلَوْ أَمَرْتَ أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ بِالْحِجَابِ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ آيَةَ الْحِجَابِ ، وَبَلَغَنِي مُعَاتَبَةُ النَّبِيِّ عَلَيْهِ السَّلَام بَعْضَ نِسَائِهِ ، قَالَ : فَاسْتَقْرَيْتُ أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ ، فَدَخَلْتُ عَلَيْهِنَّ ، فَجَعَلْتُ أَسْتَقْرِيهِنَّ وَاحِدَةً وَاحِدَةً : وَاللَّهِ لَئِنْ انْتَهَيْتُنَّ ، وَإِلَّا لَيُبَدِّلَنَّ اللَّهُ رَسُولَهُ خَيْرًا مِنْكُنَّ ، قَالَ : فَأَتَيْتُ عَلَى بَعْضِ نِسَائِهِ ، قَالَتْ : يَا عُمَرُ ، أَمَا فِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا يَعِظُ نِسَاءَهُ حَتَّى تَكُونَ أَنْتَ تَعِظُهُنَّ ؟ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : عَسَى رَبُّهُ إِنْ طَلَّقَكُنَّ أَنْ يُبْدِلَهُ أَزْوَاجًا خَيْرًا مِنْكُنَّ سورة التحريم آية 5 " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے تین باتوں میں اپنے رب کی موافقت کی ہے ۔ ایک مرتبہ میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ ! کاش ! ہم مقام ابراہیم کو مصلیٰ بنا لیتے ، اس پر یہ آیت نازل ہو گئی کہ مقام ابراہیم کو مصلیٰ بنالو ۔ ایک مرتبہ میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ ! آپ کے پاس نیک اور بد ہر طرح کے لوگ آتے ہیں ، اگر آپ امہات المؤمنین کو پردے کا حکم دے دیں تو بہتر ہے ؟ اس پر اللہ نے آیت حجاب نازل فرما دی ۔ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بعض ازواج مطہرات سے ناراضگی کا مجھے پتہ چلا ، میں ان میں سے ہر ایک کے پاس فرداً فرداً گیا اور ان سے کہا کہ تم لوگ باز آ جاؤ ورنہ ہو سکتا ہے ان کا رب انہیں تم سے بہتر بیویاں عطاء کر دے ، حتیٰ کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک زوجہ محترمہ کے پاس گیا تو وہ کہنے لگیں عمر ! کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نصیحت کرنے کے لئے کافی نہیں ہیں جو تم ان کی بیویوں کو نصیحت کرنے آ گئے ہو ؟ اس پر اللہ تعالیٰ نے ان ہی الفاظ کے ساتھ قرآن کریم کی آیت نازل فرما دی ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 250
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 4483
حدیث نمبر: 251
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ شُعْبَةَ ، حَدَّثَنِي أَبُو ذِبْيَانَ ، سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ ، يَقُولُ : لَا تُلْبِسُوا نِسَاءَكُمْ الْحَرِيرَ ، فَإِنِّي سَمِعْتُ عُمَرَ يُحَدِّثُ ، يَقُولُ : عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " مَنْ لَبِسَ الْحَرِيرَ فِي الدُّنْيَا ، لَمْ يَلْبَسْهُ فِي الْآخِرَةِ " . وقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الزُّبَيْرِ : مِنْ عِنْدِهِ وَمَنْ لَمْ يَلْبَسْهُ فِي الْآخِرَةِ لَمْ يَدْخُلْ الْجَنَّةَ ، قَالَ اللَّهُ تَعَالَى : وَلِبَاسُهُمْ فِيهَا حَرِيرٌ سورة الحج آية 23 .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ فرماتے تھے کہ اپنی عورتوں کو بھی ریشمی کپڑے مت پہنایا کرو کیونکہ میں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو یہ حدیث بیان کرتے ہوئے سنا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”جو شخص دنیا میں ریشم پہنتا ہے ، وہ آخرت میں اسے نہیں پہن سکے گا“ ، اس کے بعد سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے اپنے اجتہاد سے فرمایا کہ جو آخرت میں بھی ریشم نہ پہن سکے وہ جنت میں ہی داخل نہ ہو گا ، کیونکہ قرآن میں آتا ہے کہ اہل جنت کا لباس ریشم کا ہو گا ۔ (فائدہ : یہ سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کا اپنا اجتہاد تھا ، جمہور علماء کی رائے یہ ہے کہ ریشمی کپڑے کی ممانعت مرد کے لئے ہے ، عورت کے لئے نہیں ۔)
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 251
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5828، م: 2069
حدیث نمبر: 252
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا عَامِرٌ ، وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ رَجُلٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، قَالَ : مَرَّ عُمَرُ بِطَلْحَةَ ، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ ، قَالَ : مَرَّ عُمَرُ بِطَلْحَةَ ، فَرَآهُ مُهْتَمًّا ، قَالَ : لَعَلَّكَ سَاءَكَ إِمَارَةُ ابْنِ عَمِّكَ ، قَالَ : يَعْنِي أَبَا بَكْرٍ ، فَقَالَ : لَا ، وَلَكِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " إِنِّي لَأَعْلَمُ كَلِمَةً لَا يَقُولُهَا الرَّجُلُ عِنْدَ مَوْتِهِ إِلَّا كَانَتْ لَهُ نُورًا فِي صَحِيفَتِهِ ، أَوْ : وَجَدَ لَهَا رَوْحًا عِنْدَ الْمَوْتِ " ، قَالَ عُمَرُ : أَنَا أُخْبِرُكَ بِهَا ، هِيَ الْكَلِمَةُ الَّتِي أَرَادَ بِهَا عَمَّهُ : شَهَادَةُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، قَالَ : فَكَأَنَّمَا كُشِفَ عَنِّي غِطَاءٌ ، قَالَ : صَدَقْتَ ، لَوْ عَلِمَ كَلِمَةً هِيَ أَفْضَلُ مِنْهَا ، لَأَمَرَهُ بِهَا .
مولانا ظفر اقبال
امام شعبی رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرے تو انہیں پریشان حال دیکھا ، وہ کہنے لگے کہ شاید آپ کو اپنے چچازاد بھائی کی یعنی میری خلافت اچھی نہیں لگی ؟ انہوں نے فرمایا : اللہ کی پناہ ! مجھے تو کسی صورت ایسا نہیں کرنا چاہیے ، اصل بات یہ ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ میں ایک ایسا کلمہ جانتا ہوں کہ اگر کوئی شخص نزع کی حالت میں وہ کلمہ کہہ لے تو اس کے لئے روح نکلنے میں سہولت پیدا ہو جائے اور قیامت کے دن وہ اس کے لئے باعث نور ہو ، (مجھے افسوس ہے کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کلمے کے بارے میں پوچھ نہیں سکا اور خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی نہیں بتایا ، میں اس وجہ سے پریشان ہوں ) ۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : کہ میں وہ کلمہ جانتا ہوں ، ( سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے الحمدللہ کہہ کر پوچھا کہ وہ کیا کلمہ ہے ؟ ) فرمایا : وہی کلمہ جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے چچا کے سامنے پیش کیا تھا یعنی لا الہ الا اللہ، سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ فرمانے لگے کہ آپ نے سچ فرمایا : آپ نے میرے اوپر سے پردہ ہٹا دیا ، اگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس سے افضل بھی کوئی کلمہ جانتے ہوتے تو اپنے چچا کو اس کا حکم دیتے ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 252
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح بطرقه، عامر بن شراحيل الشعبي لم يدرك عمر، وقد تقدم موصولاً برقم: 187
حدیث نمبر: 253
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ عَتِيقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَابَيْهِ ، عَنْ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ ، قَالَ : طُفْتُ مَعَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، " فَلَمَّا كُنْتُ عِنْدَ الرُّكْنِ الَّذِي يَلِي الْبَابَ مِمَّا يَلِي الْحَجَرَ ، أَخَذْتُ بِيَدِهِ لِيَسْتَلِمَ ، فَقَالَ : أَمَا طُفْتَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قُلْتُ : بَلَى ، قَالَ : فَهَلْ رَأَيْتَهُ يَسْتَلِمُهُ ؟ قُلْتُ : لَا ، قَالَ : فَانْفُذْ عَنْكَ ، فَإِنَّ لَكَ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةً حَسَنَةً " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا یعلی بن امیہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ طواف کیا ، جب میں رکن یمانی پر پہنچا تو میں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑ لیا تاکہ وہ استلام کر لیں ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : کیا آپ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کبھی طواف نہیں کیا ؟ میں نے عرض کیا کیوں نہیں ! فرمایا : تو کیا آپ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کا استلام کرتے ہوئے دیکھا ہے ؟ میں نے کہا: نہیں ! فرمایا : پھر اسے چھوڑ دو ، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات میں تمہارے لئے اسوہ حسنہ موجود ہے ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 253
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 254
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، حَدَّثَنَا شَقِيقٌ ، حَدَّثَنِي الصُّبَيُّ بْنُ مَعْبَدٍ ، وَكَانَ رَجُلًا مِنْ بَنِي تَغْلِبَ ، قَالَ : كُنْتُ نَصْرَانِيًّا فَأَسْلَمْتُ ، فَاجْتَهَدْتُ فَلَمْ آلُ ، فَأَهْلَلْتُ بِحَجَّةٍ وَعُمْرَةٍ ، فَمَرَرْتُ بِالْعُذَيْبِ عَلَى سَلْمَانَ بْنِ رَبِيعَةَ ، وَزَيْدِ بْنِ صُوحَانَ ، فَقَالَ أَحَدُهُمَا : أَبِهِمَا جَمِيعًا ؟ فَقَالَ لَهُ صَاحِبُهُ : دَعْهُ ، فَلَهُوَ أَضَلُّ مِنْ بَعِيرِهِ ، قَالَ : فَكَأَنَّمَا بَعِيرِي عَلَى عُنُقِي ، فَأَتَيْتُ عُمَرَ ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ ، فَقَالَ لِي عُمَرُ : إِنَّهُمَا لَمْ يَقُولَا شَيْئًا ، " هُدِيتَ لِسُنَّةِ نَبِيِّكَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابووائل کہتے ہیں کہ صبی بن معبد قبیلہ بنو تغلب کے آدمی تھے وہ کہتے ہیں کہ میں نے اسلام قبول کر لیا اور محنت کرنے میں کوئی کمی نہ کی ۔ پھر میں نے میقات پر پہنچ کر حج اور عمرہ دونوں کا احرام باندھ لیا ، زید بن صوحان اور سلمان بن ربیعہ کے پاس سے مقام عذیب میں میرا گزر ہوا تو ان میں سے ایک نے دوسرے سے کہا کہ یہ شخص اپنے اونٹ سے بھی زیادہ گمراہ ہے ، صبی کہتے ہیں کہ اس جملے سے مجھے یوں محسوس ہوا کہ میرا اونٹ میری گردن پر ہے ، میں جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا تو زید اور سلمان نے جو کہا تھا ، اس کے متعلق ان کی خدمت میں عرض کیا ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ان کی بات کا کوئی اعتبار نہیں ، آپ کو اپنے پیغمبر کی سنت پر رہنمائی نصیب ہو گئی ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 254
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 255
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنِي نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنْ عُمَرَ ، أَنَّهُ قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي نَذَرْتُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ أَنْ أَعْتَكِفَ فِي الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ لَيْلَةً ، فَقَالَ لَهُ : " فَأَوْفِ بِنَذْرِكَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے بارگاہ رسالت میں ذکر کیا یا رسول اللہ ! میں نے زمانہ جاہلیت میں یہ منت مانی تھی کہ مسجد حرام میں ایک رات کا اعتکاف کروں گا ، اب کیا کروں ؟ فرمایا : اپنی منت پوری کرو ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 255
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2042، م: 1656
حدیث نمبر: 256
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مَنْصُور ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ صُبَيِّ بْنِ مَعْبَدٍ التَّغْلِبِيِّ ، قَالَ : كُنْتُ حَدِيثَ عَهْدٍ بِنَصْرَانِيَّةٍ ، فَأَرَدْتُ الْجِهَادَ أَوْ الْحَجَّ ، فَأَتَيْتُ رَجُلًا مِنْ قَوْمِي يُقَالُ لَهُ : هُدَيْمٌ ، فَسَأَلْتُهُ ، فَأَمَرَنِي بِالْحَجِّ ، فَقَرَنْتُ بَيْنَ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ . . فَذَكَرَهُ .
مولانا ظفر اقبال
صبی بن معبد کہتے ہیں کہ میں نے نیا نیا عیسائیت کو خیرباد کہا تھا ، میں نے ارادہ کیا کہ جہاد یا حج پر روانہ ہو جاؤں ، چنانچہ میں نے اپنے ایک ہم قوم سے جس کا نام ”ہدیم“ تھا مشورہ کیا تو اس نے مجھے حج کرنے کو کہا ، میں نے حج اور عمرہ دونوں کی نیت کر لی ، اس کے بعد انہوں نے پوری حدیث ذکر کی ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 256
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 257
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ . وَعَبْدُ الرَّحْمَن ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ زُبَيْدٍ الْيَامِيِّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ عُمَرَ ، قَالَ : " صَلَاةُ السَّفَرِ رَكْعَتَانِ ، وَصَلَاةُ الْأَضْحَى رَكْعَتَانِ ، وَصَلَاةُ الْفِطْرِ رَكْعَتَانِ ، وَصَلَاةُ الْجُمُعَةِ رَكْعَتَانِ ، تَمَامٌ غَيْرُ قَصْرٍ ، عَلَى لِسَانِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " . قَالَ سُفْيَانُ : وَقَالَ زُبَيْدٌ مَرَّةً : أُرَاهُ عَنْ عُمَرَ ، قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ : عَلَى غَيْرِ وَجْهِ الشَّكِّ ، وقَالَ يَزِيد يَعْنِي ُابْنَ هَارُونَ : ابْنُ أَبِي لَيْلَى ، قَالَ : سَمِعْتُ عُمَرَ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ سفر کی نماز میں دو رکعتیں ہیں ، عیدین میں سے ہر ایک کی دو دو رکعتیں اور جمعہ کی بھی دو رکعتیں ہیں اور یہ ساری نمازیں مکمل ہیں ، ان میں سے قصر کوئی بھی نہیں ہے جیسا کہ لسان نبوت سے ادا ہو چکا ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 257
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، رواية عبدالرحمن بن أبى ليلى عن عمر مرسلة، لكنه بين الواسطة بينهما عند غير الإمام أحمد، وهو كعب بن عجرة، فصح الاسناد بذكر كعب
حدیث نمبر: 258
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عُمَرَ : أَنَّهُ وَجَدَ فَرَسًا كَانَ حَمَلَ عَلَيْهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ تُبَاعُ فِي السُّوقِ ، فَأَرَادَ أَنْ يَشْتَرِيَهَا ، فَسَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَنَهَاهُ ، وَقَالَ : " لَا تَعُودَنَّ فِي صَدَقَتِكَ " .
مولانا ظفر اقبال
اسلم رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فی سبیل اللہ کسی شخص کو سواری کے لئے گھوڑا دے دیا ، بعد میں دیکھا کہ وہی گھوڑا بازار میں بک رہا ہے ، انہوں نے سوچا کہ اسے خرید لیتا ہوں ، چنانچہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مشورہ کیا ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اس سے منع کر دیا اور فرمایا کہ اسے مت خریدو اور اپنے صدقے سے رجوع مت کرو ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 258
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وإسناده حسن، خ: 1490، م: 1620
حدیث نمبر: 259
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنِ ابْنِ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ قَيْسٍ ، قَالَ : رَأَيْتُ عُمَرَ وَبِيَدِهِ عَسِيبُ نَخْلٍ ، وَهُوَ يُجْلِسُ النَّاسَ يَقُولُ : " اسْمَعُوا لِقَوْلِ خَلِيفَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَجَاءَ مَوْلًى لِأَبِي بَكْرٍ يُقَالُ لَهُ : شَدِيدٌ بِصَحِيفَةٍ ، فَقَرَأَهَا عَلَى النَّاسِ ، فَقَالَ : يَقُولُ أَبُو بَكْرٍ : " اسْمَعُوا وَأَطِيعُوا لِمَا فِي هَذِهِ الصَّحِيفَةِ ، فَوَاللَّهِ مَا أَلَوْتُكُمْ " . قَالَ قَيْسٌ : فَرَأَيْتُ عُمَرَ بَعْدَ ذَلِكَ عَلَى الْمِنْبَرِ .
مولانا ظفر اقبال
قیس کہتے ہیں کہ میں نے عمر رضی اللہ عنہ کو ایک مرتبہ اس حال میں دیکھا کہ ان کے ہاتھ میں کھجور کی ایک شاخ تھی اور وہ لوگوں کو بٹھا رہے تھے اور کہہ رہے تھے کہ خلیفہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات توجہ سے سنو ، اتنی دیر میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کا آزاد کردہ غلام جس کا نام ”شدید“ تھا ایک کاغذ لے کر آ گیا اور اس نے لوگوں کو وہ پڑھ کر سنایا کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اس کاغذ میں جس شخص کا نام درج ہے (وہ میرے بعد خلیفہ ہو گا اس لئے ) تم اس کی بات سننا اور اس کی اطاعت کرنا ، بخدا ! میں نے اس سلسلے میں مکمل احتیاط اور کوشش کر لی ہے ، قیس کہتے ہیں کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے انتقال کے بعد میں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو منبر پر جلوہ افروز دیکھا (جس کا مطلب یہ تھا کہ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے اس کاغذ میں ان ہی کا نام لکھوایا تھا )۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 259
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 260
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ سَلَمَةَ ، عَنْ عِمْرَانَ السُّلَمِيِّ ، قَالَ : سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِيذِ ، فَقَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ نَبِيذِ الْجَرِّ وَالدُّبَّاءِ " ، فَلَقِيتُ ابْنَ عُمَرَ فَسَأَلْتُهُ ، فَأَخْبَرَنِي فِيمَا أَظُنُّ : عَنْ عُمَرَ : أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنْ نَبِيذِ الْجَرِّ وَالدُّبَّاءِ " ، شَكَّ سُفْيَانُ ، قَالَ : فَلَقِيتُ ابْنَ الزُّبَيْرِ ، فَسَأَلْتُهُ ، فَقَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ نَبِيذِ الْجَرِّ وَالدُّبَّاءِ " .
مولانا ظفر اقبال
عمران اسلمی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مٹکے کی نبیذ کے متعلق سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مٹکے کی نبیذ اور کدو کی تونبی سے منع فرمایا ہے ۔ پھر میں نے یہی سوال سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے کیا تو انہوں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ حدیث سنائی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کدو کی تونبی اور سبز مٹکے سے منع فرمایا ہے ، پھر میں نے یہی سوال سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے کیا تو انہوں نے بھی یہی فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مٹکے اور کدو کی تونبی کی نبیذ سے منع فرمایا ہے ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 260
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، مؤمل وإن كان سيء الحفظ - قد توبع
حدیث نمبر: 261
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي سِنَانٍ بن آدم ، عَنْ عبيد بن آدم وأبي مريم ، وأبي شعيب : أن عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ، كان بالجابية . . . فذكر فتح بيت المقدس . قَالَ : قَالَ أبو سلمة : فحدثني أبو سنان ، عن عبيد بن آدم ، قَالَ : سمعت عمر بن الخطاب يَقُولُ لِكَعْبٍ : " أَيْنَ تُرَى أَنْ أُصَلِّيَ ؟ فَقَالَ : إِنْ أَخَذْتَ عَنِّي صَلَّيْتَ خَلْفَ الصَّخْرَةِ ، فَكَانَتْ الْقُدْسُ كُلُّهَا بَيْنَ يَدَيْكَ ، فَقَالَ عُمَرُ ضَاهَيْتَ الْيَهُودِيَّةَ ، لَا ، وَلَكِنْ أُصَلِّي حَيْثُ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " ، فَتَقَدَّمَ إِلَى الْقِبْلَةِ فَصَلَّى ، ثُمَّ جَاءَ فَبَسَطَ رِدَاءَهُ ، فَكَنَسَ الْكُنَاسَةَ فِي رِدَائِهِ ، وَكَنَسَ النَّاسُ " .
مولانا ظفر اقبال
فتح بیت المقدس کے واقعے میں مختلف رواۃ ذکر کرتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کعب احبار سے پوچھا کہ آپ کی رائے میں مجھے کہاں نماز پڑھنی چاہیے ؟ انہوں نے کہا کہ اگر آپ میری رائے پر عمل کرنا چاہتے ہیں تو صخرہ کے پیچھے نماز پڑھیں ، اس طرح پورا بیت المقدس آپ کے سامنے ہو گا ، فرمایا : تم نے بھی یہودیوں جیسی بات کہی ، ایسا نہیں ہو سکتا ، میں اس مقام پر نماز پڑھوں گا جہاں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے شب معراج نماز پڑھی تھی ، چنانچہ انہوں نے قبلہ کی طرف بڑھ کر نماز پڑھی ، پھر نماز کے بعد اپنی چادر بچھائی اور اپنی چادر میں وہاں کا سارا کوڑا کرکٹ اکٹھا کیا ، لوگوں نے بھی ان کی پیروی کی ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 261
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف أبى سنان وهو عيسي بن سنان الحنفي
حدیث نمبر: 262
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ يَعْنِي ابْنَ مِغْوَلٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ الْفُضَيْلَ بْنَ عَمْرٍو ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عُمَرَ ، قَالَ : " سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْكَلَالَةِ ، فَقَالَ : " تَكْفِيكَ آيَةُ الصَّيْفِ " ، فَقَالَ : لَأَنْ أَكُونَ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْهَا أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ يَكُونَ لِي حُمْرُ النَّعَمِ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کلالہ کے متعلق سوال کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”تمہارے لئے موسم گرما میں نازل ہونے والی آیت کلالہ کافی ہے“ ، مجھے اس مسئلے کے متعلق نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کرنا سرخ اونٹوں کے ملنے سے زیادہ پسندیدہ تھا ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 262
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا سند رجاله ثقات إلا أن إبراهيم النخعي- لم يدرك عمر، م: 567
حدیث نمبر: 263
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنْ عُمَرَ : أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " إِنَّهُ تُصِيبُنِي الْجَنَابَةُ ، فَأَمَرَهُ أَنْ يَغْسِلَ ذَكَرَهُ ، وَيَتَوَضَّأَ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: اگر میں ناپاک ہو جاؤں تو کیا کروں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ شرمگاہ کو دھو کر نماز والا وضو کر کے سو جاؤ ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 263
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 264
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ قَزَعَةَ ، قَالَ : قُلْتُ لِابْنِ عُمَرَ : " يُعَذِّبُ اللَّهُ هَذَا الْمَيِّتَ بِبُكَاءِ هَذَا الْحَيِّ ؟ " فَقَالَ : حَدَّثَنِي عُمَرُ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، مَا كَذَبْتُ عَلَى عُمَرَ ، وَلَا كَذَبَ عُمَرُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
مولانا ظفر اقبال
قزعہ کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ اللہ تعالیٰ میت کو اہل محلہ کے رونے دھونے کی وجہ سے عذاب میں مبتلا کریں گے ؟ فرمایا کہ یہ بات مجھ سے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے بیان کی ہے ، میں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی طرف اس کی جھوٹی نسبت کی ہے اور نہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 264
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ : 1292، م: 927
حدیث نمبر: 265
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ الْقَرْثَعِ ، عَنِ قَيْسٍ أَوْ ابْنِ قَيْسٍ رَجُلٍ مِنْ جُعْفِيٍّ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، قَالَ : مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا مَعَهُ وَأَبُو بَكْرٍ ، عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ وَهُوَ يَقْرَأُ ، فَقَامَ ، فَسَمِعَ قِرَاءَتَهُ ، ثُمَّ رَكَعَ عَبْدُ اللَّهِ ، وَسَجَدَ ، قَالَ : فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " سَلْ تُعْطَهْ ، سَلْ تُعْطَهْ " ، قَالَ : ثُمَّ مَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ : " مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَقْرَأَ الْقُرْآنَ غَضًّا كَمَا أُنْزِلَ ، فَلْيَقْرَأْهُ مِنَ ابْنِ أُمِّ عَبْدٍ " ، قَالَ : فَأَدْلَجْتُ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ لِأُبَشِّرَهُ بِمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : فَلَمَّا ضَرَبْتُ الْبَابَ ، أَوْ قَالَ : لَمَّا سَمِعَ صَوْتِي ، قَالَ : مَا جَاءَ بِكَ هَذِهِ السَّاعَةَ ؟ قُلْتُ : جِئْتُ لِأُبَشِّرَكَ بِمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : قَدْ سَبَقَكَ أَبُو بَكْرٍ ، قُلْتُ : إِنْ يَفْعَلْ فَإِنَّهُ سَبَّاقٌ بِالْخَيْرَاتِ ، مَا اسْتَبَقْنَا خَيْرًا قَطُّ إِلَّا سَبَقَنَا إِلَيْهَا أَبُو بَكْرٍ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کا گزر سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس سے ہوا ، میں بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھا ، ابن مسعود رضی اللہ عنہ اس وقت قرآن پڑھ رہے تھے ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کی قرأت سننے کے لئے کھڑے ہو گئے ۔ پھر عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے رکوع سجدہ کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”مانگو تمہیں دیا جائے گا“ ، پھر واپس جاتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ جو شخص قرآن کریم کو اسی طرح تروتازہ پڑھنا چاہے جیسے وہ نازل ہوا ہے ، اسے چاہیے کہ وہ ابن ام عبد کی قرأت پر اسے پڑھے ۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے دل میں سوچا کہ رات ہی کو میں انہیں یہ خوشخبری ضرور سناؤں گا ، چنانچہ جب میں نے ان کا دروازہ بجایا تو انہوں نے فرمایا کہ رات کے اس وقت میں خیر تو ہے ؟ میں نے کہا کہ میں آپ کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے خوشخبری سنانے کے لئے آیا ہوں ، انہوں نے فرمایا : کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ آپ پر سبقت لے گئے ہیں ، میں نے کہا: اگر انہوں نے ایسا کیا ہے تو وہ نیکیوں میں بہت زیادہ آگے بڑھنے والے ہیں ، میں نے جس معاملے میں بھی ان سے مسابقت کی کوشش کی ، وہ ہر اس معاملے میں مجھ سے سبقت لے گئے ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 265
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 266
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ سَعِيدٍ الْجُرَيْرِيِّ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أُسَيْرِ بْنِ جَابِرٍ ، قَالَ : لَمَّا أَقْبَلَ أَهْلُ الْيَمَنِ جَعَلَ عُمَرُ يَسْتَقْرِي الرِّفَاقَ ، فَيَقُولُ : هَلْ فِيكُمْ أَحَدٌ مِنْ قَرَنٍ ؟ حَتَّى أَتَى عَلَى قَرَنٍ ، فَقَالَ : مَنْ أَنْتُمْ ؟ قَالُوا : قَرَنٌ ، فَوَقَعَ زِمَامُ عُمَرَ ، أَوْ : زِمَامُ أُوَيْسٍ ، فَنَاوَلَهُ أَحَدُهُمَا الْآخَرَ ، فَعَرَفَهُ ، فَقَالَ عُمَرُ : مَا اسْمُكَ ؟ قَالَ : أَنَا أُوَيْسٌ ، فَقَالَ : هَلْ لَكَ وَالِدَةٌ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : فَهَلْ كَانَ بِكَ مِنَ الْبَيَاضِ شَيْءٌ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، فَدَعَوْتُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ ، فَأَذْهَبَهُ عَنِّي إِلَّا مَوْضِعَ الدِّرْهَمِ مِنْ سُرَّتِي لِأَذْكُرَ بِهِ رَبِّي ، قَالَ لَهُ عُمَرُ : اسْتَغْفِرْ لِي ، قَالَ : أَنْتَ أَحَقُّ أَنْ تَسْتَغْفِرَ لِي ، أَنْتَ صَاحِبُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ عُمَرُ : إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " إِنَّ خَيْرَ التَّابِعِينَ رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ : أُوَيْسٌ ، وَلَهُ وَالِدَةٌ ، وَكَانَ بِهِ بَيَاضٌ ، فَدَعَا اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ فَأَذْهَبَهُ عَنْهُ إِلَّا مَوْضِعَ الدِّرْهَمِ فِي سُرَّتِهِ " ، فَاسْتَغْفَرَ لَهُ ، ثُمَّ دَخَلَ فِي غِمَارِ النَّاسِ ، فَلَمْ يُدْرَ أَيْنَ وَقَعَ ، قَالَ : فَقَدِمَ الْكُوفَةَ ، قَالَ : وَكُنَّا نَجْتَمِعُ فِي حَلْقَةٍ ، فَنَذْكُرُ اللَّهَ ، وَكَانَ يَجْلِسُ مَعَنَا ، فَكَانَ إِذَا ذَكَرَ هُوَ وَقَعَ حَدِيثُهُ مِنْ قُلُوبِنَا مَوْقِعًا لَا يَقَعُ حَدِيثُ غَيْرِهِ . . . فَذَكَرَ الْحَدِيثَ .
مولانا ظفر اقبال
اسیر بن جابر کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ اہل یمن کا وفد آیا ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اپنی اونٹنی کی رسی تلاش کرتے جاتے تھے اور پوچھتے جاتے تھے کہ کیا تم میں سے کوئی ”قرن“ سے بھی آیا ہے ، یہاں تک کہ وہ پوچھتے پوچھتے ”قرن“ کے لوگوں کے پاس آ پہنچے اور ان سے پوچھا کہ تم لوگ کون ہو ؟ انہوں نے بتایا کہ ہمارا تعلق ”قرن“ سے ہے ، اتنے میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی یا سیدنا اویس قرنی رحمہ اللہ کے ہاتھ سے جانوروں کی لگام چھوٹ کر گر پڑی ، ان میں سے ایک نے دوسرے کو اٹھا کر وہ لگام دی تو ایک دوسرے کو پہچان لیا ۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے پوچھا کہ آپ کا اسم گرامی کیا ہے ؟ عرض کیا : اویس ! فرمایا : کیا آپ کی کوئی والدہ بھی تھیں ؟ عرض کیا : جی ہاں ! فرمایا : کیا آپ کے جسم پر چیچک کا بھی کوئی نشان ہے ؟ عرض کیا : جی ہاں ! لیکن میں نے اللہ سے دعا کی تو اللہ نے اسے ختم کر دیا ، اب وہ نشان میری ناف کے پاس صرف ایک درہم کے برابر رہ گیا ہے تاکہ اسے دیکھ کر مجھے اپنے رب کی یاد آتی رہے ۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ آپ اللہ سے میرے لئے بخشش کی دعا کیجئے ، انہوں نے عرض کیا کہ آپ صحابی رسول ہیں ، آپ میرے حق میں بخشش کی دعا کیجئے ، اس پر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ خیرالتابعین اویس نامی ایک آدمی ہو گا ، جس کی والدہ بھی ہو گی اور اس کے جسم پر چیچک کے نشانات ہوں گے ، پھر جب وہ اللہ سے دعا کرے گا تو ناف کے پاس ایک درہم کے برابر جگہ کو چھوڑ کر اللہ تعالیٰ اس بیماری کو اس سے دور فرما دیں گے ، سیدنا اویس قرنی رحمہ اللہ نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے لئے بخشش کی دعا کی اور لوگوں کے ہجوم میں گھس کر غائب ہو گئے ، کسی کو پتہ نہ چل سکا کہ وہ کہاں چلے گئے ۔ بعد میں وہ کوفہ آ گئے تھے ، راوی کہتے ہیں کہ ہم ان کے ساتھ ایک حلقہ بنا کر ذکر کیا کرتے تھے ، یہ بھی ہمارے ساتھ بیٹھتے تھے ، جب یہ ذکر کرتے تھے تو ان کی بات ہمارے دلوں پر اتنا اثر کرتی تھی کہ کسی دوسرے کی بات اتنا اثر نہیں کرتی تھی ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 266
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م :2542
حدیث نمبر: 267
حَدَّثَنَا عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدِ بْنُ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي الشَّوَارِبِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنِ الْقَرْثَعِ ، عَنْ قَيْسٍ أَوْ ابْنِ قَيْسٍ ، رَجُلٍ مِنْ جُعْفِيٍّ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، فَذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ عَفَّانَ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث ایک دوسری سند سے بھی روایت کی گئی ہے جو عبارت میں موجود ہے ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 267
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 268
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسٍ : أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ لَمَّا عَوَّلَتْ عَلَيْهِ حَفْصَةُ ، فَقَالَ : يَا حَفْصَةُ ، أَمَا سَمِعْتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " الْمُعَوَّلُ عَلَيْهِ يُعَذَّبُ " . قَالَ : وَعَوَّلَ صُهَيْبٌ ، فَقَالَ عُمَرُ : يَا صُهَيْبُ ، أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ الْمُعَوَّلَ عَلَيْهِ يُعَذَّبُ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب عمر رضی اللہ عنہ کا آخری وقت قریب آیا تو سیدنا حفصہ رضی اللہ عنہا رونے اور چیخنے لگیں ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : حفصہ ! کیا تم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے نہیں سنا کہ جس پر چیخ کر رویا جاتا ہے ، اسے عذاب ہوتا ہے ؟ اس کے بعد سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ پر بھی ایسی ہی کیفیت طاری ہوئی تو ان سے بھی یہی فرمایا ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 268
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1292، م: 927
حدیث نمبر: 269
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ الرِّشْكُ ، عَنْ مُعَاذَةَ ، عَنْ أُمِّ عَمْرٍو ابْنَةِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّهَا سَمِعَتْ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ ، يُحَدِّثُ : أَنَّهُ سَمِعَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ يَخْطُبُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ لَبِسَ الْحَرِيرَ فِي الدُّنْيَا ، فَلَا يُكْسَاهُ فِي الْآخِرَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”جو شخص دنیا میں ریشم پہنے گا ، آخرت میں اسے نہیں پہنایا جائے گا ۔ “
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 269
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، أم عمرو ابنة عبدالله روى لها البخاري تعليقاً والنسائي
حدیث نمبر: 270
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْعَالِيَةِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : حَدَّثَنِي رِجَالٌ مَرْضِيُّونَ فِيهِمْ عُمَرُ ، وَقَالَ عَفَّانُ مَرَّةً : شَهِدَ عِنْدِي رِجَالٌ مَرْضِيُّونَ ، وَأَرْضَاهُمْ عِنْدِي عُمَرُ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا صَلَاةَ بَعْدَ صَلَاتَيْنِ : بَعْدَ الصُّبْحِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ ، وَبَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ مجھے ایسے لوگوں نے اس بات کی شہادت دی ہے، جن کی بات قابل اعتماد ہوتی ہے ، ان میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بھی شامل ہیں جو میری نظروں میں ان سب سے زیادہ قابل اعتماد ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے دو نمازوں کے بعد کوئی نماز نہیں ہے ، فجر کی نماز کے بعد طلوع آفتاب تک کوئی نماز نہ پڑھی جائے اور عصر کی نماز کے بعد غروب آفتاب تک کوئی نفلی نماز نہ پڑھی جائے ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 270
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 581، م: 826
حدیث نمبر: 271
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبَانُ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، بِمِثْلِ هَذَا : شَهِدَ عِنْدِي رِجَالٌ مَرْضِيُّونَ .
مولانا ظفر اقبال
یہی روایت سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ایک دوسری سند سے بھی نقل کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 271
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، وانظر ما قبله
حدیث نمبر: 272
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ : أَنَّ الْيَهُودَ ، قَالُوا لِعُمَرَ : " إِنَّكُمْ تَقْرَءُونَ آيَةً ، لَوْ أُنْزِلَتْ فِينَا ، لَاتَّخَذْنَا ذَلِكَ الْيَوْمَ عِيدًا ، فَقَالَ : إِنِّي لَأَعْلَمُ حَيْثُ أُنْزِلَتْ ، وَأَيَّ يَوْمٍ أُنْزِلَتْ ، وَأَيْنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ أُنْزِلَتْ ، أُنْزِلَتْ يَوْمَ عَرَفَةَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاقِفٌ بِعَرَفَةَ " ، قَالَ سُفْيَانُ : وَأَشُكُّ يَوْمَ جُمُعَةٍ أَوْ لَا ، يَعْنِي : الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الإِسْلامَ دِينًا سورة المائدة آية 3 .
مولانا ظفر اقبال
طارق بن شہاب کہتے ہیں کہ ایک یہودی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا، امیر المؤمنین ! آپ لوگ اپنی کتاب میں ایک ایسی آیت پڑھتے ہیں جو اگر ہم یہودیوں پر نازل ہوئی ہوتی تو ہم اس دن کو عید بنا لیتے جس دن وہ نازل ہوئی ، ( سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا: وہ کون سی آیت ہے ؟ اس نے آیت تکمیل دین کا حوالہ دیا ، ) اس پر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ بخدا ! مجھے علم ہے کہ یہ آیت کس دن اور کس وقت نازل ہوئی تھی ، یہ آیت نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر جمعہ کے دن عرفہ کی شام نازل ہوئی تھی ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 272
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 4606، م : 3017
حدیث نمبر: 273
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ : قَدِمْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ بِالْبَطْحَاءِ ، فَقَالَ : " بِمَ أَهْلَلْتَ ؟ " قُلْتُ : بِإِهْلَالٍ كَإِهْلَالِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " هَلْ سُقْتَ مِنْ هَدْيٍ ؟ " قُلْتُ : لَا ، قَالَ : " طُفْ بِالْبَيْتِ ، وَبِالصَّفَا ، وَالْمَرْوَةِ ، ثُمَّ حِلَّ " ، فَطُفْتُ بِالْبَيْتِ ، وَبِالصَّفَا ، وَالْمَرْوَةِ ، ثُمَّ أَتَيْتُ امْرَأَةً مِنْ قَوْمِي فَمَشَّطَتْنِي ، وَغَسَلَتْ رَأْسِي ، فَكُنْتُ أُفْتِي النَّاسَ بِذَلِكَ بِإِمَارَةِ أَبِي بَكْرٍ ، وَإِمَارَةِ عُمَرَ ، فَإِنِّي لَقَائِمٌ فِي الْمَوْسِمِ إِذْ جَاءَنِي رَجُلٌ ، فَقَالَ : إِنَّكَ لَا تَدْرِي مَا أَحْدَثَ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ فِي شَأْنِ النُّسُكِ ، فَقُلْتُ : أَيُّهَا النَّاسُ ، مَنْ كُنَّا أَفْتَيْنَاهُ فُتْيَا ، فَهَذَا أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ قَادِمٌ عَلَيْكُمْ ، فَبِهِ فَأْتَمُّوا ، فَلَمَّا قَدِمَ قُلْتُ : مَا هَذَا الَّذِي قَدْ أَحْدَثْتَ فِي شَأْنِ النُّسُكِ ؟ قَالَ : إِنْ نَأْخُذْ بِكِتَابِ اللَّهِ تَعَالَى ، فَإِنَّ اللَّهَ تَعَالَى ، قَالَ : وَأَتِمُّوا الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ لِلَّهِ سورة البقرة آية 196 ، وَإِنْ نَأْخُذْ بِسُنَّةِ نَبِيِّنَا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَإِنَّهُ لَمْ يَحِلَّ حَتَّى نَحَرَ الْهَدْيَ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں جب یمن سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم بطحاء میں تھے ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے احرام کی حالت میں دیکھ کر پوچھا کہ کس نیت سے احرام باندھا ؟ میں نے عرض کیا یہ نیت کر کے کہ جس نیت سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے احرام باندھا ہو ، میرا بھی وہی احرام ہے ، پھر پوچھا کہ قربانی کا جانور ساتھ لائے ہو ؟ میں نے عرض کیا کہ نہیں ! فرمایا کہ پھر خانہ کعبہ کا طواف کر کے صفا مروہ کے درمیان سعی کرو اور حلال ہو جاؤ ۔ چنانچہ میں نے بیت اللہ کا طواف کیا ، صفا مروہ کے درمیان سعی کی ، پھر اپنی قوم کی ایک عورت کے پاس آیا ، اس نے میرے سر کے بالوں میں کنگھی کی اور میرا سر پانی سے دھویا ، بعد میں لوگوں کو بھی حضرات شیخین رضی اللہ عنہم کے دور خلافت میں یہی مسئلہ بتاتا رہا ، ایک دن ایام حج میں ، میں کسی جگہ کھڑا ہوا تھا کہ ایک آدمی میرے پاس آیا اور کہنے لگا کہ آپ نہیں جانتے ، امیر المؤمنین نے حج کے معاملات میں کیا نئے احکام جاری کئے ہیں ؟ اس پر میں نے کہا: لوگو ! ہم نے جسے بھی کوئی فتویٰ دیا ہو ، وہ سن لے ، یہ امیر المؤمنین موجود ہیں ، ان ہی کی اقتداء کرو ، جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ تشریف لائے تو میں نے ان سے پوچھا کہ مناسک حج میں آپ نے یہ کیا نیا حکم جاری کیا ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ اگر ہم قرآن کریم کو لیتے ہیں تو وہ ہمیں اتمام حج و عمرہ کا حکم دیتا ہے اور اگر ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کو لیتے ہیں تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم قربانی کا جانور ذبح کرنے سے پہلے حلال نہیں ہوئے ۔ (فائدہ : دراصل سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ایک ہی سفر میں حج اور عمرہ دونوں کو جمع کرنے کی ممانعت کی تھی ، یہاں اسی کا ذکر ہے ۔)
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 273
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1559، م: 1221
حدیث نمبر: 274
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الْأَعْلَى ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ ، قَالَ : رَأَيْتُ عُمَرَ يُقَبِّلُ الْحَجَرَ ، وَيَقُولُ : " إِنِّي لَأَعْلَمُ أَنَّكَ حَجَرٌ لَا تَضُرُّ وَلَا تَنْفَعُ ، وَلَكِنِّي رَأَيْتُ أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِكَ حَفِيًّا " .
مولانا ظفر اقبال
سوید بن غفلہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے ایک مرتبہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ وہ حجر اسود کو بوسہ دے رہے ہیں اور اس سے مخاطب ہو کر فرما رہے ہیں، میں جانتا ہوں کہ تو محض ایک پتھر ہے جو کسی کو نفع نقصان نہیں پہنچا سکتا لیکن میں نے ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کو تجھ پر مہربان دیکھا ہے ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 274
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1597، م: 1271
حدیث نمبر: 275
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ . وَعَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ ، قَالَ : قَالَ عُمَرُ ، قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ : سَمِعْتُ عُمَرَ : إِنَّ الْمُشْرِكِينَ كَانُوا لَا يُفِيضُونَ مِنْ جَمْعٍ حَتَّى تُشْرِقَ الشَّمْسُ عَلَى ثَبِيرٍ ، قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ : وَكَانُوا يَقُولُونَ : أَشْرِقْ ثَبِيرُ كَيْمَا نُغِيرُ يَعْنِي ، فَخَالَفَهُمْ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، " فَدَفَعَ قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ " .
مولانا ظفر اقبال
عمرو بن میمون کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ مشرکین طلوع آفتاب سے پہلے مزدلفہ سے واپس نہیں جاتے تھے ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا طریقہ اختیار نہیں کیا اور مزدلفہ سے منیٰ کی طرف طلوع آفتاب سے قبل ہی روانہ ہو گئے ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 275
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1684
حدیث نمبر: 276
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ عُمَرُ : " إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى بَعَثَ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَنْزَلَ عَلَيْهِ الْكِتَابَ ، فَكَانَ فِيمَا أَنْزَلَ عَلَيْهِ آيَةُ الرَّجْمِ ، فَقَرَأْنَا بِهَا ، وَعَقَلْنَاهَا ، وَوَعَيْنَاهَا ، فَأَخْشَى أَنْ يَطُولَ بِالنَّاسِ عَهْدٌ ، فَيَقُولُوا : إِنَّا لَا نَجِدُ آيَةَ الرَّجْمِ ، فَتُتْرَكَ فَرِيضَةٌ أَنْزَلَهَا اللَّهُ تَعَالَى ، وَإِنَّ الرَّجْمَ فِي كِتَابِ اللَّهِ تَعَالَى حَقٌّ عَلَى مَنْ زَنَى إِذَا أَحْصَنَ مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ إِذَا قَامَتْ الْبَيِّنَةُ ، أَوْ كَانَ الْحَبَلُ ، أَوْ الِاعْتِرَافُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ فرمایا : اللہ تعالیٰ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث فرمایا : ان پر کتاب نازل فرمائی ، اس میں رجم کی آیت بھی تھی جسے ہم نے پڑھا اور یاد کیا تھا ، مجھے اندیشہ ہے کہ کچھ عرصہ گزرنے کے بعد لوگ یہ نہ کہنے لگیں کہ ہمیں تو رجم سے متعلق کوئی آیت نہیں ملتی اور یوں ایک فریضہ جو اللہ نے نازل کیا ہے چھوٹ جائے ، یاد رکھو ! کتاب اللہ سے رجم کا ثبوت برحق ہے اس شخص کے لئے جو شادی شدہ ہو خواہ مرد ہو یا عورت جبکہ گواہ موجود ہوں ، یا عورت حاملہ ہو گئی ہو یا وہ اعتراف جرم کر لے ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 276
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2462، م: 1691
حدیث نمبر: 277
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، قَالَ : سَمِعْتُ هِشَامَ بْنَ حَكِيمٍ يَقْرَأُ سُورَةَ الْفُرْقَانِ فِي الصَّلَاةِ عَلَى غَيْرِ مَا أَقْرَؤُهَا ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقْرَأَنِيهَا ، فَأَخَذْتُ بِثَوْبِهِ ، فَذَهَبْتُ بِهِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي سَمِعْتُهُ يَقْرَأُ سُورَةَ الْفُرْقَانِ عَلَى غَيْرِ مَا أَقْرَأْتَنِيهَا ، فَقَالَ : " اقْرَأْ " ، فَقَرَأَ الْقِرَاءَةَ الَّتِي سَمِعْتُهَا مِنْهُ ، فَقَالَ : " هَكَذَا أُنْزِلَتْ " ، ثُمَّ قَالَ لِي : " اقْرَأْ " فَقَرَأْتُ ، فَقَالَ : " هَكَذَا أُنْزِلَتْ ، إِنَّ هَذَا الْقُرْآنَ أُنْزِلَ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ ، فَاقْرَءُوا مَا تَيَسَّرَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے ہشام بن حکیم کو نماز میں سورت فرقان کی تلاوت کرتے ہوئے سنا ، انہوں نے اس میں ایسے حروف کی تلاوت کی جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے نہیں پڑھائے تھے ۔ میں نے ان کا ہاتھ پکڑا اور انہیں کھینچتا ہوا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو گیا اور عرض کیا : یا رسول اللہ ! آپ نے مجھے سورت فرقان خود پڑھائی ہے ، میں نے اسے سورت فرقان کو ایسے حروف میں پڑھتے ہوئے سنا ہے جو آپ نے مجھے نہیں پڑھائے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہشام سے اس کی تلاوت کرنے کے لئے فرمایا : انہوں نے اسی طرح پڑھا جیسے میں نے انہیں سنا تھا ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”یہ سورت اسی طرح نازل ہوئی ہے“ ، پھر مجھ سے کہا کہ عمر ! تم بھی پڑھ کر سناؤ ، چنانچہ میں نے بھی پڑھ کر سنا دیا ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”یہ اس طرح بھی نازل ہوئی ہے“ ، اس کے بعد ارشاد فرمایا : ”بیشک اس قرآن کا نزول سات قرأتوں پر ہوا ہے ، لہٰذا تمہارے لئے جو آسان ہو اس کے مطابق تلاوت کر لیا کرو ۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 277
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2419، م: 818
حدیث نمبر: 278
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ ، وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدٍ الْقَارِيِّ ، أنهما سمعا عمر ، يَقُولُ : مَرَرْتُ بِهِشَامِ بْنِ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ يَقْرَأُ سُورَةَ الْفُرْقَانِ . . . فَذَكَرَ مَعْنَاهُ .
مولانا ظفر اقبال
یہی روایت سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے اس دوسری سند سے بھی نقل کی گئی ہے
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 278
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح كسابقه
حدیث نمبر: 279
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ السَّعْدِيِّ ، قَالَ : قَالَ لِي عُمَرُ : أَلَمْ أُحَدَّثْ أَنَّكَ تَلِي مِنْ أَعْمَالِ النَّاسِ أَعْمَالًا ، فَإِذَا أُعْطِيتَ الْعُمَالَةَ لَمْ تَقْبَلْهَا ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : فَمَا تُرِيدُ إِلَى ذَاكَ ؟ قَالَ : أَنَا غَنِيٌّ ، لِي أَعْبُدٌ وَلِي أَفْرَاسٌ ، أُرِيدُ أَنْ يَكُونَ عَمَلِي صَدَقَةً عَلَى الْمُسْلِمِينَ ، قَالَ : لَا تَفْعَلْ ، فَإِنِّي كُنْتُ أَفْعَلُ مِثْلَ الَّذِي تَفْعَلُ ، كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْطِينِي الْعَطَاءَ ، فَأَقُولُ : أَعْطِهِ مَنْ هُوَ أَفْقَرُ إِلَيْهِ مِنِّي ، فَقَالَ : " خُذْهُ ، فَإِمَّا أَنْ تَمَوَّلَهُ ، وَإِمَّا أَنْ تَصَدَّقَ بِهِ ، وَمَا آتَاكَ اللَّهُ مِنْ هَذَا الْمَالِ ، وَأَنْتَ غَيْرُ مُشْرِفٍ لَهُ وَلَا سَائِلِهِ فَخُذْهُ ، وَمَا لَا ، فَلَا تُتْبِعْهُ نَفْسَكَ " .
مولانا ظفر اقبال
ایک مرتبہ عبداللہ بن سعدی رحمہ اللہ خلافت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں دیکھ کر فرمایا : کیا تم وہی ہو جس کے متعلق مجھے یہ بتایا گیا ہے کہ تمہیں عوام الناس کی کوئی ذمہ داری سونپی گئی ہے لیکن جب تہیں اس کی تنخواہ دی جاتی ہے تو تم اسے لینے سے ناگواری کا اظہار کرتے ہو ؟ عبداللہ کہتے ہیں میں نے عرض کیا جی ہاں ! ایسا ہی ہے ۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ اس سے تمہارا کیا مقصد ہے ؟ میں نے عرض کیا : میرے پاس اللہ کے فضل سے گھوڑے اور غلام سب ہی کچھ ہے اور میں مالی اعتبار سے بھی صحیح ہوں ، اس لئے میری خواہش ہوتی ہے کہ میری تنخواہ مسلمانوں کے ہی کاموں میں استعمال ہو جائے ۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ایسا مت کرو ، کیونکہ ایک مرتبہ میں نے بھی یہی چاہا تھا ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم مجھے کچھ دینا چاہتے تو میں عرض کر دیتا کہ یا رسول اللہ ! مجھ سے زیادہ جو محتاج لوگ ہیں ، یہ انہیں دے دیجئے ، اسی طرح ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کچھ مال و دولت عطاء فرمایا ، میں نے حسب سابق یہی عرض کیا کہ مجھ سے زیادہ کسی ضرورت مند کو دے دیجئے ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”اسے لے لو اپنے مال میں اضافہ کرو ، اس کے بعد صدقہ کردو اور یاد رکھو ! اگر تمہاری خواہش اور سوال کے بغیر کہیں سے مال آئے تو اسے لے لیا کرو ، ورنہ اس کے پیچھے نہ پڑا کرو ۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 279
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 7163، م: 1045
حدیث نمبر: 280
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ ، قَالَ : لَقِيَ عُمَرُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ السَّعْدِيِّ ، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : " تَصَدَّقْ بِهِ ، وَقَالَ : لَا تُتْبِعْهُ نَفْسَكَ " .
مولانا ظفر اقبال
یہی حدیث ایک دوسری سند سے بھی مروی ہے جو عبارت میں گزری ہے ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 280
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح كسابقه
حدیث نمبر: 281
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، قَالَ : حَمَلْتُ عَلَى فَرَسٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، فَأَضَاعَهُ صَاحِبُهُ ، فَأَرَدْتُ أَنْ أَبْتَاعَهُ ، وَظَنَنْتُ أَنَّهُ بَائِعُهُ بِرُخْصٍ ، فَقُلْتُ : حَتَّى أَسْأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " لَا تَبْتَعْهُ ، وَإِنْ أَعْطَاكَهُ بِدِرْهَمٍ ، فَإِنَّ الَّذِي يَعُودُ فِي صَدَقَتِهِ ، َكَالْكَلْبِ يَعُودُ فِي قَيْئِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے فی سبیل اللہ کسی شخص کو سواری کے لئے گھوڑا دے دیا ، اس نے اسے ضائع کر دیا ، میں نے سوچا کہ اسے خرید لیتا ہوں ، کیونکہ میرا خیال تھا کہ وہ اسے سستا فروخت کر دے گا ، لیکن میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مشورہ کیا ، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے مت خریدو اگرچہ وہ تمہیں پیسوں کے بدلے دے کیونکہ صدقہ دے کر رجوع کرنے والے کی مثال ایسے ہی ہے جیسے کتا قے کر کے اسے دوبارہ چاٹ لے ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 281
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1490، م: 1620