حدیث نمبر: 202
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ : أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ بَيْنَا هُوَ قَائِمٌ يَخْطُبُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ ، فَدَخَلَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَنَادَاهُ عُمَرُ : أَيَّةُ سَاعَةٍ هَذِهِ ؟ فَقَالَ : إِنِّي شُغِلْتُ الْيَوْمَ ، فَلَمْ أَنْقَلِبْ إِلَى أَهْلِي حَتَّى سَمِعْتُ النِّدَاءَ ، فَلَمْ أَزِدْ عَلَى أَنْ تَوَضَّأْتُ ، فَقَالَ عُمَرُ : الْوُضُوءَ أَيْضًا ، وَقَدْ عَلِمْتُمْ ، وَفِي مَوْضِعٍ آخَرَ : وَقَدْ عَلِمْتَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ يَأْمُرُ بِالْغُسْلِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ جمعہ کے دن خطبہ ارشاد فرما رہے تھے ، دوران خطبہ ایک صاحب آئے ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے پوچھا کہ یہ کون سا وقت ہے آنے کا ؟ انہوں نے جواباً کہا کہ امیر المؤمنین ! میں بازار سے واپس آیا تھا ، میں نے تو جیسے ہی اذان سنی ، وضو کرتے ہی آ گیا ہوں ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اوپر سے وضو بھی ؟ جبکہ آپ جانتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے لئے غسل کرنے کا حکم دیتے تھے ۔
حدیث نمبر: 203
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ يَعْنِي ابْنَ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنِي سِمَاكٌ الْحَنَفِيُّ أَبُو زُمَيْلٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ ، حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ، قَالَ : لَمَّا كَانَ يَوْمُ خَيْبَرَ أَقْبَلَ نَفَرٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالُوا : فُلَانٌ شَهِيدٌ ، فُلَانٌ شَهِيدٌ ، حَتَّى مَرُّوا عَلَى رَجُلٍ ، فَقَالُوا : " فُلَانٌ شَهِيدٌ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : كَلَّا ، إِنِّي رَأَيْتُهُ فِي النَّارِ فِي بُرْدَةٍ غَلَّهَا ، أَوْ عَبَاءَةٍ ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَا ابْنَ الْخَطَّابِ ، اذْهَبْ فَنَادِ فِي النَّاسِ : أَنَّهُ لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ إِلَّا الْمُؤْمِنُونَ " ، قَالَ فَخَرَجْتُ فَنَادَيْتُ : أَلَا إِنَّهُ لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ إِلَّا الْمُؤْمِنُونَ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ غزوہ خیبر کے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کچھ صحابہ سامنے سے آتے ہوئے دکھائی دیئے جو یہ کہہ رہے تھے کہ فلاں بھی شہید ہے ، فلاں بھی شہید ہے ، یہاں تک کہ ان کا گزر ایک آدمی پر ہوا ، اس کے بارے بھی انہوں نے یہی کہا کہ یہ بھی شہید ہے ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”ہرگز نہیں ! میں نے اسے جہنم میں دیکھا ہے کیونکہ اس نے مال غنیمت میں سے ایک چادر چوری کی تھی“ ، اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”اے ابن خطاب ! جا کر لوگوں میں منادی کر دو کہ جنت میں صرف مومنین ہی داخل ہوں گے“ ، چنانچہ میں نکل کر یہ منادی کرنے لگا کہ جنت میں صرف مومنین ہی داخل ہوں گے ۔
حدیث نمبر: 204
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ يَعْنِي ابْنَ أَبِي الْفُرَاتِ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ الدِّيْلِيِّ ، قَالَ : أَتَيْتُ الْمَدِينَةَ وَقَدْ وَقَعَ بِهَا مَرَضٌ ، فَهُمْ يَمُوتُونَ مَوْتًا ذَرِيعًا ، فَجَلَسْتُ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، فَمَرَّتْ بِهِ جَنَازَةٌ ، فَأُثْنِيَ عَلَى صَاحِبِهَا خَيْرٌ ، فَقَالَ عُمَرُ : وَجَبَتْ ، ثُمَّ مُرَّ بِأُخْرَى ، فَأُثْنِيَ عَلَى صَاحِبِهَا خَيْرٌ ، فَقَالَ : وَجَبَتْ ، ثُمَّ مُرَّ بِالثَّالِثَةِ ، فَأُثْنِيَ عَلَى صَاحِبِهَا شَرٌّ ، فَقَالَ عُمَرُ : وَجَبَتْ ، فَقُلْتُ : وَمَا وَجَبَتْ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ؟ قَالَ : قُلْتُ كَمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَيُّمَا مُسْلِمٍ شَهِدَ لَهُ أَرْبَعَةٌ بِخَيْرٍ ، أَدْخَلَهُ اللَّهُ الْجَنَّةَ ، قَالَ : قُلْنَا : أَوْ ثَلَاثَةٌ ؟ قَالَ : أَوْ ثَلَاثَةٌ ، فَقُلْنَا : أَوْ اثْنَانِ ؟ قَالَ : أَوْ اثْنَانِ " ، ثُمَّ لَمْ نَسْأَلْهُ عَنِ الْوَاحِدِ .
مولانا ظفر اقبال
ابوالاسود رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں مدینہ منورہ کی طرف روانہ ہوا ، وہاں پہنچا تو پتہ چلا کہ وہاں کوئی بیماری پھیلی ہوئی ہے جس سے لوگ بکثرت مر رہے ہیں ، میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی مجلس میں بیٹھا ہوا تھا کہ وہاں سے ایک جنازہ کا گزر ہوا ، لوگوں نے اس مردے کی تعریف کی ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : واجب ہوگئی ، پھر دوسرا جنازہ گزرا ، لوگوں نے اس کی بھی تعریف کی ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے پھر فرمایا : واجب ہوگئی ، تیسرا جنازہ گزرا تو لوگوں نے اس کی برائی بیان کی ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے پھر فرمایا : واجب ہو گئی ، میں نے بالآخر پوچھ ہی لیا کہ امیر المؤمنین ! کیا چیز واجب ہو گئی ؟ انہوں نے فرمایا : میں نے تو وہی کہا ہے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ جس مسلمان کے لئے چار آدمی خیر کی گواہی دے دیں تو اس کے لئے جنت واجب ہو گئی ، ہم نے عرض کیا اگر تین آدمی ہوں ؟ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تب بھی یہی حکم ہے ، ہم نے دو کے متعلق پوچھا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : دو ہوں تب بھی یہی حکم ہے ، پھر ہم نے خود ہی ایک کے متعلق سوال نہیں کیا ۔
حدیث نمبر: 205
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا حَيْوَةُ ، أَخْبَرَنِي بَكْرُ بْنُ عَمْرٍو ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ هُبَيْرَةَ ، يَقُولُ : إِنَّهُ سَمِعَ أَبَا تَمِيمٍ الْجَيْشَانِيَّ ، يَقُولُ : سَمِعَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ، يَقُولُ : إِنَّهُ سَمِعَ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " لَوْ أَنَّكُمْ تَتَوَكَّلُونَ عَلَى اللَّهِ حَقَّ تَوَكُّلِهِ ، لَرَزَقَكُمْ كَمَا يَرْزُقُ الطَّيْرَ ، تَغْدُو خِمَاصًا ، وَتَرُوحُ بِطَانًا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”اگر تم اللہ پر اس طرح ہی توکل کر لیتے جیسے اس پر توکل کرنے کا حق ہے تو تمہیں اسی طرح رزق عطاء کیا جاتا جیسے پرندوں کو دیا جاتا ہے جو صبح کو خالی پیٹ نکلتے ہیں اور شام کو پیٹ بھر کر واپس آتے ہیں ۔“
حدیث نمبر: 206
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ ، حَدَّثَنِي عَطَاءُ بْنُ دِينَارٍ ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ شَرِيكٍ الْهُذَلِيِّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ مَيْمُونٍ الْحَضْرَمِيِّ ، عَنْ رَبِيعَةَ الْجُرَشِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا تُجَالِسُوا أَهْلَ الْقَدَرِ ، وَلَا تُفَاتِحُوهُمْ " ، وَقَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ مَرَّةً : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”منکرین تقدیر کے ساتھ مت بیٹھا کرو اور گفتگو شروع کرنے میں ان سے پہل نہ کیا کرو ۔ “
حدیث نمبر: 207
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُمَيْرٍ الْهَمْدَانِيِّ أَبِي عُمَرَ ، قَالَ : سَمِعْتُ حَبِيبَ بْنَ عُبَيْدٍ يُحَدِّثُ ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ السِّمْطِ : " أَنَّهُ خَرَجَ مَعَ عُمَرَ إِلَى ذِي الْحُلَيْفَةِ ، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ ، فَسَأَلْتُهُ عَنْ ذَلِكَ ، فَقَالَ : إِنَّمَا أَصْنَعُ كَمَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
مولانا ظفر اقبال
ابن سمط کہتے ہیں کہ وہ ایک مرتبہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ ذوالحلیفہ کی طرف روانہ ہوئے ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے وہاں دو رکعتیں پڑھیں ، میں نے ان سے اس کے متعلق سوال کیا ، انہوں نے جواب دیا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح کرتے ہوئے دیکھا ہے ۔
حدیث نمبر: 208
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو نُوحٍ قُرَادٌ ، أَنْبَأَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا سِمَاكٌ الْحَنَفِيُّ أَبُو زُمَيْلٍ ، حَدَّثَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ ، حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ، قَالَ : لَمَّا كَانَ يَوْمُ بَدْرٍ ، قَالَ : نَظَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أَصْحَابِهِ وَهُمْ ثَلَاثُ مِائَةٍ وَنَيِّفٌ ، وَنَظَرَ إِلَى الْمُشْرِكِينَ ، فَإِذَا هُمْ أَلْفٌ وَزِيَادَةٌ ، فَاسْتَقْبَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْقِبْلَةَ ، ثُمَّ مَدَّ يَدَيْهِ ، وَعَلَيْهِ رِدَاؤُهُ وَإِزَارُهُ ، ثُمَّ قَالَ : " اللَّهُمَّ أَيْنَ مَا وَعَدْتَنِي ؟ اللَّهُمَّ أَنْجِزْ مَا وَعَدْتَنِي ، اللَّهُمَّ إِنَّكَ إِنْ تُهْلِكْ هَذِهِ الْعِصَابَةَ مِنْ أَهْلِ الْإِسْلَامِ ، فَلَا تُعْبَدْ فِي الْأَرْضِ أَبَدًا " ، قَالَ : فَمَا زَالَ يَسْتَغِيثُ رَبَّهُ عَزَّ وَجَلَّ ، وَيَدْعُوهُ حَتَّى سَقَطَ رِدَاؤُهُ ، فَأَتَاهُ أَبُو بَكْرٍ ، فَأَخَذَ رِدَاءَهُ ، فَرَدَّاهُ ثُمَّ الْتَزَمَهُ مِنْ وَرَائِهِ ، ثُمَّ قَالَ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، كَفَاكَ مُنَاشَدَتُكَ رَبَّكَ ، فَإِنَّهُ سَيُنْجِزُ لَكَ مَا وَعَدَكَ ، وَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : إِذْ تَسْتَغِيثُونَ رَبَّكُمْ فَاسْتَجَابَ لَكُمْ أَنِّي مُمِدُّكُمْ بِأَلْفٍ مِنَ الْمَلائِكَةِ مُرْدِفِينَ سورة الأنفال آية 9 ، فَلَمَّا كَانَ يَوْمُئِذٍ ، وَالْتَقَوْا ، فَهَزَمَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ الْمُشْرِكِينَ ، فَقُتِلَ مِنْهُمْ سَبْعُونَ رَجُلًا ، وَأُسِرَ مِنْهُمْ سَبْعُونَ رَجُلًا ، فَاسْتَشَارَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَا بَكْرٍ ، وَعَلِيًّا ، وَعُمَرَ ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، هَؤُلَاءِ بَنُو الْعَمِّ وَالْعَشِيرَةُ وَالْإِخْوَانُ ، فَإِنِّي أَرَى أَنْ تَأْخُذَ مِنْهُمْ الْفِدْيَةَ ، فَيَكُونُ مَا أَخَذْنَا مِنْهُمْ قُوَّةً لَنَا عَلَى الْكُفَّارِ ، وَعَسَى اللَّهُ أَنْ يَهْدِيَهُمْ ، فَيَكُونُونَ لَنَا عَضُدًا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَا تَرَى يَا ابْنَ الْخَطَّابِ ؟ قَالَ : قُلْتُ : وَاللَّهِ مَا أَرَى مَا رَأَى أَبُو بَكْرٍ ، وَلَكِنِّي أَرَى أَنْ تُمَكِّنَنِي مِنْ فُلَانٍ قَرِيبًا لِعُمَرَ ، فَأَضْرِبَ عُنُقَهُ ، وَتُمَكِّنَ عَلِيًّا مِنْ عَقِيلٍ ، فَيَضْرِبَ عُنُقَهُ ، وَتُمَكِّنَ حَمْزَةَ مِنْ فُلَانٍ أَخِيهِ ، فَيَضْرِبَ عُنُقَهُ ، حَتَّى يَعْلَمَ اللَّهُ أَنَّهُ لَيْسَتْ فِي قُلُوبِنَا هَوَادَةٌ لِلْمُشْرِكِينَ ، هَؤُلَاءِ صَنَادِيدُهُمْ وَأَئِمَّتُهُمْ وَقَادَتُهُمْ ، فَهَوِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا قَالَ أَبُو بَكْرٍ ، وَلَمْ يَهْوَ مَا قُلْتُ ، فَأَخَذَ مِنْهُمْ الْفِدَاءَ ، فَلَمَّا أَنْ كَانَ مِنَ الْغَدِ ، قَالَ عُمَرُ : غَدَوْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَإِذَا هُوَ قَاعِدٌ وَأَبُو بَكْرٍ ، وَإِذَا هُمَا يَبْكِيَانِ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَخْبِرْنِي مَاذَا يُبْكِيكَ أَنْتَ وَصَاحِبَكَ ؟ فَإِنْ وَجَدْتُ بُكَاءً بَكَيْتُ ، وَإِنْ لَمْ أَجِدْ بُكَاءً تَبَاكَيْتُ لِبُكَائِكُمَا ، قَالَ : فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الَّذِي عَرَضَ عَلَيَّ أَصْحَابُكَ مِنَ الْفِدَاءِ ، لَقَدْ عُرِضَ عَلَيَّ عَذَابُكُمْ أَدْنَى مِنْ هَذِهِ الشَّجَرَةِ ، لِشَجَرَةٍ قَرِيبَةٍ ، وَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : مَا كَانَ لِنَبِيٍّ أَنْ يَكُونَ لَهُ أَسْرَى حَتَّى يُثْخِنَ فِي الأَرْضِ إِلَى قَوْلِهِ لَوْلا كِتَابٌ مِنَ اللَّهِ سَبَقَ لَمَسَّكُمْ فِيمَا أَخَذْتُمْ سورة الأنفال آية 67 - 68 مِنَ الْفِدَاءِ ، ثُمَّ أُحِلَّ لَهُمْ الْغَنَائِمُ ، فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ أُحُدٍ مِنَ الْعَامِ الْمُقْبِلِ ، عُوقِبُوا بِمَا صَنَعُوا يَوْمَ بَدْرٍ مِنْ أَخْذِهِمْ الْفِدَاءَ ، فَقُتِلَ مِنْهُمْ سَبْعُونَ ، وَفَرَّ أَصْحَابُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَكُسِرَتْ رَبَاعِيَتُهُ ، وَهُشِمَتْ الْبَيْضَةُ عَلَى رَأْسِهِ ، وَسَالَ الدَّمُ عَلَى وَجْهِهِ ، وَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى : أَوَلَمَّا أَصَابَتْكُمْ مُصِيبَةٌ قَدْ أَصَبْتُمْ مِثْلَيْهَا قُلْتُمْ أَنَّى هَذَا قُلْ هُوَ مِنْ عِنْدِ أَنْفُسِكُمْ إِنَّ اللَّهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ سورة آل عمران آية 165 ، بِأَخْذِكُمْ الْفِدَاءَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ غزوہ بدر کے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کا جائزہ لیا تو وہ تین سو سے کچھ اوپر تھے اور مشرکین کا جائزہ لیا وہ ایک ہزار سے زیادہ معلوم ہوئے ، یہ دیکھ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قبلہ رخ ہو کر دعا کے لئے اپنے ہاتھ پھیلا دئیے ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت چادر اوڑھ رکھی تھی ، دعا کرتے ہوئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”الٰہی ! تیرا وعدہ کہاں گیا ؟ الٰہی اپنا وعدہ پورا فرما ، الٰہی اگر آج یہ مٹھی بھر مسلمان ختم ہو گئے تو زمین میں پھر کبھی بھی آپ کی عبادت نہیں کی جائے گی ۔“ اس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم مستقل اپنے رب سے فریاد کرتے رہے ، یہاں تک کہ آپ کی رداء مبارک گر گئی ، یہ دیکھ کر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ آگے بڑھے ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی چادر کو اٹھا کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر ڈال دیا اور پیچھے سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو چمٹ گئے اور کہنے لگے : اے اللہ کے نبی ! آپ نے اپنے رب سے بہت دعا کر لی ، وہ اپنا وعدہ ضرور پورا کرے گا ، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرما دی کہ اس وقت کو یاد کرو جب تم اپنے رب سے فریاد کر رہے تھے اور اس نے تمہاری فریاد کو قبول کر لیا تھا کہ میں تمہاری مدد ایک ہزار فرشتوں سے کروں گا جو لگاتار آئیں گے ۔ جب غزوہ بدر کا معرکہ بپا ہوا اور دونوں لشکر ایک دوسرے سے ملے تو اللہ کے فضل سے مشرکین کو ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا ، چنانچہ ان میں سے ستر قتل ہو گئے اور ستر ہی گرفتار کر کے قید کر لئے گئے ، ان قیدیوں کے متعلق نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوبکر ، سیدنا علی اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہم سے مشورہ کیا ، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے مشورہ دیا اے اللہ کے نبی ! یہ لوگ ہمارے ہی بھائی بند اور رشتہ دار ہیں ، میری رائے تو یہ ہے کہ آپ ان سے فدیہ لے لیں ، وہ مال کافروں کے خلاف ہماری طاقت میں اضافہ کرے گا اور عین ممکن ہے کہ اللہ انہیں بھی ہدایت دے دے تو یہ بھی ہمارے دست و بازو بن جائیں گے ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”ابن خطاب ! تمہاری رائے کیا ہے ؟“ میں نے عرض کیا کہ میری رائے وہ نہیں ہے جو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی ہے ، میری رائے یہ ہے کہ آپ فلاں آدمی کو جو عمر کا قریبی رشتہ دار تھا میرے حوالے کر دیں اور میں اپنے ہاتھ سے اس کی گردن اڑا دوں ، آپ عقیل کو علی کے حوالے کر دیں اور وہ ان کی گردن اڑا دیں ، حمزہ کو فلاں پر غلبہ عطا فرمائیں اور وہ اپنے ہاتھ سے اسے قتل کریں ، تاکہ اللہ جان لے کہ ہمارے دلوں میں مشرکین کے لئے کوئی نرمی کا پہلو نہیں ہے ، یہ لوگ مشرکین کے سردار ، ان کے قائد اور ان کے سرغنہ ہیں ، جب یہ قتل ہو جائیں گے تو کفر و شرک اپنی موت آپ مر جائے گا ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی رائے کو ترجیح دی اور میری رائے کو چھوڑ دیا اور ان سے فدیہ لے لیا ، اگلے دن میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ بیٹھے ہوئے رو رہے ہیں ، میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! خیر تو ہے آپ اور آپ کے دوست (سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ) رو رہے ہیں ؟ مجھے بھی بتائیے تاکہ اگر میری آنکھوں میں بھی آنسو آ جائیں تو آپ کا ساتھ دوں ورنہ کم از کم رونے کی کوشش ہی کر لوں ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہارے ساتھیوں نے مجھے فدیہ کا جو مشورہ دیا تھا اس کی وجہ سے تم سب پر آنے والا عذاب مجھے اتنا قریب دکھائی دیا جتنا یہ درخت نظر آ رہا ہے اور اللہ نے یہ آیت نازل کی ہے کہ پیغمبر اسلام کے لئے یہ مناسب نہیں ہے کہ اگر ان کے پاس قیدی آئیں ۔ ۔ ۔ آخر آیت تک ، بعد میں ان کے لئے مال غنیمت کو حلال قرار دے دیا گیا ۔ آئندہ سال جب غزوہ احد ہوا تو غزوہ بدر میں فدیہ لینے کے عوض مسلمانوں کے ستر آدمی شہید ہو گئے اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو چھوڑ کر منتشر ہو گئے ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دندان مبارک شہید ہو گئے ، خَود کی کڑی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سر مبارک میں گھس گئی ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا روئے انور خون سے بھر گیا اور یہ آیت قرآنی نازل ہوئی کہ جب تم پر وہ مصیبت نازل ہوئی جو اس سے قبل تم مشرکین کو خود بھی پہنچا چکے تھے تو تم کہنے لگے کہ یہ کیسے ہو گیا ؟ آپ فرما دیجئے کہ یہ تمہاری طرف سے ہی ہے ، بیشک اللہ ہر چیز پر قادر ہے ، مطلب یہ ہے کہ یہ شکست فدیہ لینے کی وجہ سے ہوئی ۔
حدیث نمبر: 209
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو نُوحٍ ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، قَالَ : كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ ، قَالَ : فَسَأَلْتُهُ عَنْ شَيْءٍ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ، فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ ، قَالَ : فَقُلْتُ لِنَفْسِي : ثَكِلَتْكَ أُمُّكَ يَا ابْنَ الْخَطَّابِ ، نَزَرْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ، فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْكَ ، قَالَ : فَرَكِبْتُ رَاحِلَتِي ، فَتَقَدَّمْتُ مَخَافَةَ أَنْ يَكُونَ نَزَلَ فِيَّ شَيْءٌ ، قَالَ : فَإِذَا أَنَا بِمُنَادٍ يُنَادِي : يَا عُمَرُ ، أَيْنَ عُمَرُ ؟ قَالَ : فَرَجَعْتُ ، وَأَنَا أَظُنُّ أَنَّهُ نَزَلَ فِيَّ شَيْءٌ ، قَالَ : فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " نَزَلَتْ عَلَيَّ الْبَارِحَةَ سُورَةٌ هِيَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا : إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُبِينًا لِيَغْفِرَ لَكَ اللَّهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ سورة الفتح آية 1 - 2 .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم ایک سفر میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے ، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی چیز کے متعلق تین مرتبہ سوال کیا ، لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ بھی جواب نہ دیا ، میں نے اپنے دل میں کہا: ابن خطاب ! تیری ماں تجھے روئے ، تو نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے تین مرتبہ ایک چیز کے متعلق دریافت کیا ،لیکن انہوں نے تجھے کوئی جواب نہ دیا ، یہ سوچ کر میں اپنی سواری پر سوار ہو کر وہاں سے نکل آیا کہ کہیں میرے بارے قرآن کی کوئی آیت نازل نہ ہو جائے ۔ تھوڑی دیر کے بعد ایک منادی میرا نام لے کر پکارتا ہوا آیا کہ عمر کہاں ہے ؟ میں یہ سوچتا ہوا واپس لوٹ آیا کہ شاید میرے بارے میں قرآن کی کوئی آیت نازل ہوئی ہے ، وہاں پہنچا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”آج رات مجھ پر ایک ایسی سورت نازل ہوئی ہے جو میرے نزدیک دنیا و مافیہا سے زیادہ پسندیدہ ہے“ ، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سورت الفتح کی پہلی آیت تلاوت فرمائی ۔
حدیث نمبر: 210
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا الْمَسْعُودِيُّ ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ ، عَنِ ابْنِ الْحَوْتَكِيَّةِ ، قَالَ : أُتِيَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ بِطَعَامٍ ، فَدَعَا إِلَيْهِ رَجُلًا ، فَقَالَ : إِنِّي صَائِمٌ ، ثُمَّ قَالَ : وَأَيُّ الصِّيَامِ تَصُومُ ؟ لَوْلَا كَرَاهِيَةُ أَنْ أَزِيدَ أَوْ أَنْقُصَ لَحَدَّثْتُكُمْ بِحَدِيثِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ جَاءَهُ الْأَعْرَابِيُّ بِالْأَرْنَبِ ، وَلَكِنْ أَرْسِلُوا إِلَى عَمَّارٍ ، فَلَمَّا جَاءَ عَمَّارٌ ، قَالَ : أَشَاهِدٌ أَنْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ جَاءَهُ الْأَعْرَابِيُّ بِالْأَرْنَبِ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، فَقَالَ : إِنِّي رَأَيْتُ بِهَا دَمًا ، فَقَالَ : " كُلُوهَا ، قَالَ : إِنِّي صَائِمٌ ، قَالَ : وَأَيُّ الصِّيَامِ تَصُومُ ؟ قَالَ : أَوَّلَ الشَّهْرِ وَآخِرَهُ ، قَالَ : إِنْ كُنْتَ صَائِمًا ، فَصُمْ الثَّلَاثَ عَشْرَةَ ، وَالْأَرْبَعَ عَشْرَةَ ، وَالْخَمْسَ عَشْرَةَ " .
مولانا ظفر اقبال
ایک مرتبہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں کھانا پیش کیا گیا ، انہوں نے ایک آدمی کو شرکت کی دعوت دی ، اس نے کہا کہ میں روزے سے ہوں ، فرمایا : تم کون سے روزے رکھ رہے ہو ؟ اگر کمی بیشی کا اندیشہ نہ ہوتا تو میں تمہارے سامنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ حدیث بیان کرتا جب ایک دیہاتی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک خرگوش لے کر حاضر ہوا ، تم ایسا کرو کہ سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کو بلا کر لاؤ ۔ جب سیدنا عمار رضی اللہ عنہ تشریف لائے تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے پوچھا کہ کیا آپ اس دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھے جب ایک دیہاتی ایک خرگوش لے کر آیا تھا ؟ فرمایا : جی ہاں ! میں نے اس پر خون لگا ہوا دیکھا تھا ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”اسے کھاؤ“ ، وہ کہنے لگا کہ میرا روزہ ہے ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”کیسا روزہ ؟“ اس نے کہا کہ میں ہر ماہ کی ابتداء اور اختتام پر روزہ رکھتا ہوں ، فرمایا : ”اگر تم روزہ رکھنا ہی چاہتے ہو تو نفلی روزے کے لئے مہینے کی تیرہ ، چودہ اور پندرہ تاریخ کا انتخاب کیا کرو ۔“
حدیث نمبر: 211
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَقِيلٍ ، حَدَّثَنَا مُجَالِدُ بْنُ سَعِيدٍ ، أَخْبَرَنَا عَامِرٌ ، عَنْ مَسْرُوقِ بْنِ الْأَجْدَعِ ، قَالَ : لَقِيتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ، فَقَالَ لِي : مَنْ أَنْتَ ؟ قُلْتُ : مَسْرُوقُ بْنُ الْأَجْدَعِ ، فَقَالَ عُمَرُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " الْأَجْدَعُ شَيْطَانٌ " ، وَلَكِنَّكَ مَسْرُوقُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَ عَامِرٌ : فَرَأَيْتُهُ فِي الدِّيوَانِ مَكْتُوبًا : مَسْرُوقُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، فَقُلْتُ : مَا هَذَا ؟ فَقَالَ : هَكَذَا سَمَّانِي عُمَرُ .
مولانا ظفر اقبال
مسروق بن اجدع کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میری ملاقات سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے ہوئی تو انہوں نے پوچھا کہ تم کون ہو ؟ میں نے عرض کیا کہ میں مسروق بن اجدع ہوں ، فرمایا : میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اجدع شیطان کا نام ہے ، اس لئے تمہارا نام مسروق بن عبدالرحمن ہے ، عامر کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے ان کے رجسٹر میں ان کا نام مسروق بن عبدالرحمن لکھا ہوا دیکھا تو ان سے پوچھا یہ کیا ہے ؟ اس پر انہوں نے بتایا کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے میرا یہ نام رکھا تھا ۔
حدیث نمبر: 212
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَة ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ رَبِيعَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ مُحَرَّرِ بْنِ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنِ الْعَزْلِ عَنِ الْحُرَّةِ ، إِلَّا بِإِذْنِهَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں آزاد عورت سے اس کی اجازت کے بغیر عزل کرنے سے منع فرمایا ہے ۔
حدیث نمبر: 213
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو ، قَالَ : حَدَّثَنَا هِشَامٌ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : سَمِعْتُ عُمَرَ ، يَقُولُ : " لَئِنْ عِشْتُ إِلَى هَذَا الْعَامِ الْمُقْبِلِ ، لَا يُفْتَحُ لِلنَّاسِ قَرْيَةٌ إِلَّا قَسَمْتُهَا بَيْنَهُمْ ، كَمَا قَسَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْبَرَ " .
مولانا ظفر اقبال
اسلم ”جو کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام تھے“ کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ اگر میں آئندہ سال تک زندہ رہا تو جو بستی اور شہر بھی مفتوح ہو گا ، میں اسے فاتحین کے درمیان تقسیم کر دیا کروں گا جیسا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کو تقسیم فرما دیا تھا ۔
حدیث نمبر: 214
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الزُّبَيْرِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ عُمَرَ ، قَالَ : كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزَاةٍ ، فَحَلَفْتُ : لَا وَأَبِي ، فَهَتَفَ بِي رَجُلٌ مِنْ خَلْفِي ، فَقَالَ : " لَا تَحْلِفُوا بِآبَائِكُمْ " ، فَإِذَا هُوَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کسی غزوے میں تھا ، ایک موقع پر میں نے قسم کھاتے ہوئے کہا «لا وابي» تو پیچھے سے ایک آدمی نے مجھ سے کہا کہ اپنے آباؤ اجداد کے نام کی قسمیں مت کھایا کرو ، میں نے دیکھا تو وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تھے ۔
حدیث نمبر: 215
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِي ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ عُمَرَ ، قَالَ : " لَئِنْ عِشْتُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ ، لَأُخْرِجَنَّ الْيَهُودَ ، وَالنَّصَارَى مِنْ جَزِيرَةِ الْعَرَبِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : اگر میں زندہ رہا تو ان شاء اللہ جزیرہ عرب سے یہود و نصاریٰ کو نکال کر رہوں گا ۔
حدیث نمبر: 216
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ أَبُو دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عُمَرَ ، قَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَمْسَحُ عَلَى الْخُفَّيْنِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے موزوں پر مسح فرمایا : ۔
حدیث نمبر: 217
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ أَبُو دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا سَلَّامٌ يَعْنِي أَبَا الْأَحْوَصِ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ سَيَّارِ بْنِ الْمَعْرُورِ ، قَالَ : سَمِعْتُ عُمَرَ يَخْطُبُ ، وَهُوَ يَقُولُ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَنَى هَذَا الْمَسْجِدَ وَنَحْنُ مَعَهُ : الْمُهَاجِرُونَ ، وَالْأَنْصَارُ ، " فَإِذَا اشْتَدَّ الزِّحَامُ ، فَلْيَسْجُدْ الرَّجُلُ مِنْكُمْ عَلَى ظَهْرِ أَخِيهِ ، وَرَأَى قَوْمًا يُصَلُّونَ فِي الطَّرِيقِ ، فَقَالَ : صَلُّوا فِي الْمَسْجِدِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیار بن معرور کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو دوران خطبہ یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا کہ اس مسجد کی تعمیر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مہاجرین و انصار کے ساتھ مل کر فرمائی ہے، اگر رش زیادہ ہو جائے تو (مسجد کی کمی کو مورد التزام ٹھہرانے کی بجائے) اپنے بھائی کی پشت پر سجدہ کر لیا کرو، اسی طرح ایک مرتبہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کچھ لوگوں کو راستے میں نماز پڑھتے ہوئے دیکھا تو فرمایا کہ مسجد میں نماز پڑھا کرو۔
حدیث نمبر: 218
(حديث موقوف) قَرَأْتُ عَلَى قَرَأْتُ عَلَى يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ : زهير ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ ، عَنْ حَارِثَةَ بْنِ مُضَرِّبٍ : أَنَّهُ حَجَّ مَعَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، فَأَتَاهُ أَشْرَافُ أَهْلِ الشَّامِ ، فَقَالُوا : يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ، " إِنَّا أَصَبْنَا مِنْ أَمْوَالِنَا رَقِيقًا وَدَوَابَّ ، فَخُذْ مِنْ أَمْوَالِنَا صَدَقَةً تُطَهِّرُنَا بِهَا ، وَتَكُونُ لَنَا زَكَاةً ، فَقَالَ : هَذَا شَيْءٌ لَمْ يَفْعَلْهُ اللَّذَانِ كَانَا مِنْ قَبْلِي ، وَلَكِنْ انْتَظِرُوا حَتَّى أَسْأَلَ الْمُسْلِمِينَ " .
مولانا ظفر اقبال
حارثہ بن مضرب کہتے ہیں کہ انہیں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ حج کا شرف حاصل ہوا، شام کے کچھ معززین ان کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے، امیرالمومنین ! ہمیں کچھ غلام اور جانور ملے ہیں، آپ ہمارے مال سے زکوٰۃ وصول کر لیجئے تاکہ ہمارا مال پاک ہو جائے اور وہ ہمارے لئے پاکیزگی کا سبب بن جائے، فرمایا : یہ کام تو مجھ سے پہلے میرے دو پیشرو حضرات نے نہیں کیا، میں کیسے کر سکتا ہوں البتہ ٹھہرو ! میں مسلمانوں سے مشورہ کر لیتا ہوں۔
حدیث نمبر: 219
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، وَمُؤَمَّلٌ ، قَالَا : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَئِنْ عِشْتُ لَأُخْرِجَنَّ الْيَهُودَ ، وَالنَّصَارَى مِنْ جَزِيرَةِ الْعَرَبِ ، حَتَّى لَا أَتْرُكَ فِيهَا إِلَّا مُسْلِمًا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”اگر میں زندہ رہا تو جزیرہ عرب سے یہود و نصاریٰ کو نکال کر رہوں گا، یہاں تک کہ جزیرہ عرب میں مسلمان کے علاوہ کوئی نہ رہے گا۔“
حدیث نمبر: 220
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَتَّابُ بْنُ زِيَادٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ الْمُبَارَكِ ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ ، وَعُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، قَالَ : عَبْد اللَّهِ : وَقَدْ بَلَغَ بِهِ أَبِي إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ فَاتَهُ شَيْءٌ مِنْ وِرْدِهِ ، أَوْ قَالَ : مِنْ جُزْئِهِ مِنَ اللَّيْلِ ، فَقَرَأَهُ مَا بَيْنَ صَلَاةِ الْفَجْرِ إِلَى الظُّهْرِ ، فَكَأَنَّمَا قَرَأَهُ مِنْ لَيْلَتِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”جس شخص سے اس کا رات والی دعاؤں کا معمول کسی وجہ سے چھوٹ جائے اور وہ اسے اگلے دن فجر اور ظہر کے درمیان کسی بھی وقت پڑھ لے تو گویا اس نے اپنا معمول رات ہی کو پورا کیا۔“
حدیث نمبر: 221
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو نُوحٍ قُرَادٌ ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا سِمَاكٌ الْحَنَفِيُّ أَبُو زُمَيْلٍ ، حَدَّثَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ ، حَدَّثَنِي عُمَرُ ، قَالَ : لَمَّا كَانَ يَوْمُ بَدْرٍ ، قَالَ : نَظَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أَصْحَابِهِ وَهُمْ ثَلَاثُ مِائَةٍ وَنَيِّفٌ ، وَنَظَرَ إِلَى الْمُشْرِكِينَ فَإِذَا هُمْ أَلْفٌ وَزِيَادَةٌ ، فَاسْتَقْبَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْقِبْلَةَ ، ثُمَّ مَدَّ يَدَهُ ، وَعَلَيْهِ رِدَاؤُهُ وَإِزَارُهُ ، ثُمَّ قَالَ : " اللَّهُمَّ أَيْنَ مَا وَعَدْتَنِي ؟ اللَّهُمَّ أَنْجِزْ مَا وَعَدْتَنِي ، اللَّهُمَّ إِنْ تُهْلِكْ هَذِهِ الْعِصَابَةَ مِنْ أَهْلِ الْإِسْلَامِ ، فَلَا تُعْبَدْ فِي الْأَرْضِ أَبَدًا " ، قَالَ : فَمَا زَالَ يَسْتَغِيثُ رَبَّهُ ، وَيَدْعُوهُ حَتَّى سَقَطَ رِدَاؤُهُ ، فَأَتَاهُ أَبُو بَكْرٍ ، فَأَخَذَ رِدَاءَهُ ، فَرَدَّاهُ ثُمَّ الْتَزَمَهُ مِنْ وَرَائِهِ ، ثُمَّ قَالَ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، كَفَاكَ مُنَاشَدَتُكَ رَبَّكَ ، فَإِنَّهُ سَيُنْجِزُ لَكَ مَا وَعَدَكَ ، وَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى : إِذْ تَسْتَغِيثُونَ رَبَّكُمْ فَاسْتَجَابَ لَكُمْ أَنِّي مُمِدُّكُمْ بِأَلْفٍ مِنَ الْمَلائِكَةِ مُرْدِفِينَ سورة الأنفال آية 9 ، فَلَمَّا كَانَ يَوْمُئِذٍ ، وَالْتَقَوْا ، فَهَزَمَ اللَّهُ الْمُشْرِكِينَ ، فَقُتِلَ مِنْهُمْ سَبْعُونَ رَجُلًا ، وَأُسِرَ مِنْهُمْ سَبْعُونَ رَجُلًا ، فَاسْتَشَارَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَا بَكْرٍ ، وَعَلِيًّا ، وَعُمَرَ ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، هَؤُلَاءِ بَنُو الْعَمِّ وَالْعَشِيرَةُ وَالْإِخْوَانُ ، فَأَنَا أَرَى أَنْ تَأْخُذَ مِنْهُمْ الْفِدَاءَ ، فَيَكُونُ مَا أَخَذْنَا مِنْهُمْ قُوَّةً لَنَا عَلَى الْكُفَّارِ ، وَعَسَى اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يَهْدِيَهُمْ فَيَكُونُونَ لَنَا عَضُدًا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَا تَرَى يَا ابْنَ الْخَطَّابِ ؟ فَقَالَ : قُلْتُ : وَاللَّهِ مَا أَرَى مَا رَأَى أَبُو بَكْرٍ ، وَلَكِنِّي أَرَى أَنْ تُمَكِّنَنِي مِنْ فُلَانٍ قَرِيبٍ لِعُمَرَ ، فَأَضْرِبَ عُنُقَهُ ، وَتُمَكِّنَ عَلِيًّا مِنْ عَقِيلٍ ، فَيَضْرِبَ عُنُقَهُ ، وَتُمَكِّنَ حَمْزَةَ مِنْ فُلَانٍ أَخِيهِ ، فَيَضْرِبَ عُنُقَهُ ، حَتَّى يَعْلَمَ اللَّهُ أَنَّهُ لَيْسَ فِي قُلُوبِنَا هَوَادَةٌ لِلْمُشْرِكِينَ ، هَؤُلَاءِ صَنَادِيدُهُمْ وَأَئِمَّتُهُمْ وَقَادَتُهُمْ ، فَهَوِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا قَالَ أَبُو بَكْرٍ ، وَلَمْ يَهْوَ مَا قُلْتُ ، فَأَخَذَ مِنْهُمْ الْفِدَاءَ ، فَلَمَّا كَانَ مِنَ الْغَدِ ، قَالَ عُمَرُ : غَدَوْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَإِذَا هُوَ قَاعِدٌ وَأَبُو بَكْرٍ ، وَإِذَا هُمَا يَبْكِيَانِ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَخْبِرْنِي مَاذَا يُبْكِيكَ أَنْتَ وَصَاحِبَكَ ؟ فَإِنْ وَجَدْتُ بُكَاءً بَكَيْتُ ، وَإِنْ لَمْ أَجِدْ بُكَاءً تَبَاكَيْتُ لِبُكَائِكُمَا ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الَّذِي عَرَضَ عَلَيَّ أَصْحَابُكَ مِنَ الْفِدَاءِ ، وَلَقَدْ عُرِضَ عَلَيَّ عَذَابُكُمْ أَدْنَى مِنْ هَذِهِ الشَّجَرَةِ " لِشَجَرَةٍ قَرِيبَةٍ ، وَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى : مَا كَانَ لِنَبِيٍّ أَنْ يَكُونَ لَهُ أَسْرَى حَتَّى يُثْخِنَ فِي الأَرْضِ إِلَى قَوْلِهِ لَمَسَّكُمْ فِيمَا أَخَذْتُمْ سورة الأنفال آية 67 - 68 مِنَ الْفِدَاءِ ، ثُمَّ أُحِلَّ لَهُمْ الْغَنَائِمُ ، فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ أُحُدٍ مِنَ الْعَامِ الْمُقْبِلِ ، عُوقِبُوا بِمَا صَنَعُوا يَوْمَ بَدْرٍ مِنْ أَخْذِهِمْ الْفِدَاءَ ، فَقُتِلَ مِنْهُمْ سَبْعُونَ ، وَفَرَّ أَصْحَابُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَكُسِرَتْ رَبَاعِيَتُهُ ، وَهُشِمَتْ الْبَيْضَةُ عَلَى رَأْسِهِ ، وَسَالَ الدَّمُ عَلَى وَجْهِهِ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ : أَوَلَمَّا أَصَابَتْكُمْ مُصِيبَةٌ قَدْ أَصَبْتُمْ مِثْلَيْهَا إِلَى قَوْلِهِ إِنَّ اللَّهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ سورة آل عمران آية 165 ، بِأَخْذِكُمْ الْفِدَاءَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ غزوہ بدر کے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کا جائزہ لیا تو وہ تین سو سے کچھ اوپر تھے اور مشرکین کا جائزہ لیا وہ ایک ہزار سے زیادہ معلوم ہوئے ، یہ دیکھ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قبلہ رخ ہو کر دعا کے لئے اپنے ہاتھ پھیلا دئیے ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت چادر اوڑھ رکھی تھی ، دعا کرتے ہوئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”الٰہی ! تیرا وعدہ کہاں گیا ؟ الٰہی اپنا وعدہ پورا فرما ، الٰہی اگر آج یہ مٹھی بھر مسلمان ختم ہو گئے تو زمین میں پھر کبھی بھی آپ کی عبادت نہیں کی جائے گی ۔“ اس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم مستقل اپنے رب سے فریاد کرتے رہے ، یہاں تک کہ آپ کی رداء مبارک گر گئی ، یہ دیکھ کر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ آگے بڑھے ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی چادر کو اٹھا کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر ڈال دیا اور پیچھے سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو چمٹ گئے اور کہنے لگے : اے اللہ کے نبی ! آپ نے اپنے رب سے بہت دعا کر لی ، وہ اپنا وعدہ ضرور پورا کرے گا ، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرما دی کہ اس وقت کو یاد کرو جب تم اپنے رب سے فریاد کر رہے تھے اور اس نے تمہاری فریاد کو قبول کر لیا تھا کہ میں تمہاری مدد ایک ہزار فرشتوں سے کروں گا جو لگاتار آئیں گے ۔ جب غزوہ بدر کا معرکہ بپا ہوا اور دونوں لشکر ایک دوسرے سے ملے تو اللہ کے فضل سے مشرکین کو ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا ، چنانچہ ان میں سے ستر قتل ہو گئے اور ستر ہی گرفتار کر کے قید کر لئے گئے ، ان قیدیوں کے متعلق نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوبکر ، سیدنا علی اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہم سے مشورہ کیا ، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے مشورہ دیا اے اللہ کے نبی ! یہ لوگ ہمارے ہی بھائی بند اور رشتہ دار ہیں ، میری رائے تو یہ ہے کہ آپ ان سے فدیہ لے لیں ، وہ مال کافروں کے خلاف ہماری طاقت میں اضافہ کرے گا اور عین ممکن ہے کہ اللہ انہیں بھی ہدایت دے دے تو یہ بھی ہمارے دست و بازو بن جائیں گے ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”ابن خطاب ! تمہاری رائے کیا ہے ؟“ میں نے عرض کیا کہ میری رائے وہ نہیں ہے جو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی ہے ، میری رائے یہ ہے کہ آپ فلاں آدمی کو جو عمر کا قریبی رشتہ دار تھا میرے حوالے کر دیں اور میں اپنے ہاتھ سے اس کی گردن اڑا دوں ، آپ عقیل کو علی کے حوالے کر دیں اور وہ ان کی گردن اڑا دیں ، حمزہ کو فلاں پر غلبہ عطا فرمائیں اور وہ اپنے ہاتھ سے اسے قتل کریں ، تاکہ اللہ جان لے کہ ہمارے دلوں میں مشرکین کے لئے کوئی نرمی کا پہلو نہیں ہے ، یہ لوگ مشرکین کے سردار ، ان کے قائد اور ان کے سرغنہ ہیں ، جب یہ قتل ہو جائیں گے تو کفر و شرک اپنی موت آپ مر جائے گا ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی رائے کو ترجیح دی اور میری رائے کو چھوڑ دیا اور ان سے فدیہ لے لیا ، اگلے دن میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ بیٹھے ہوئے رو رہے ہیں ، میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! خیر تو ہے آپ اور آپ کے دوست (سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ) رو رہے ہیں ؟ مجھے بھی بتائیے تاکہ اگر میری آنکھوں میں بھی آنسو آ جائیں تو آپ کا ساتھ دوں ورنہ کم از کم رونے کی کوشش ہی کر لوں ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہارے ساتھیوں نے مجھے فدیہ کا جو مشورہ دیا تھا اس کی وجہ سے تم سب پر آنے والا عذاب مجھے اتنا قریب دکھائی دیا جتنا یہ درخت نظر آ رہا ہے اور اللہ نے یہ آیت نازل کی ہے کہ پیغمبر اسلام کے لئے یہ مناسب نہیں ہے کہ اگر ان کے پاس قیدی آئیں ۔ ۔ ۔ آخر آیت تک ، بعد میں ان کے لئے مال غنیمت کو حلال قرار دے دیا گیا ۔ آئندہ سال جب غزوہ احد ہوا تو غزوہ بدر میں فدیہ لینے کے عوض مسلمانوں کے ستر آدمی شہید ہو گئے اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو چھوڑ کر منتشر ہو گئے ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دندان مبارک شہید ہو گئے ، خَود کی کڑی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سر مبارک میں گھس گئی ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا روئے انور خون سے بھر گیا اور یہ آیت قرآنی نازل ہوئی کہ جب تم پر وہ مصیبت نازل ہوئی جو اس سے قبل تم مشرکین کو خود بھی پہنچا چکے تھے تو تم کہنے لگے کہ یہ کیسے ہو گیا ؟ آپ فرما دیجئے کہ یہ تمہاری طرف سے ہی ہے ، بیشک اللہ ہر چیز پر قادر ہے ، مطلب یہ ہے کہ یہ شکست فدیہ لینے کی وجہ سے ہوئی ۔
حدیث نمبر: 222
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي ثَوْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " لَمْ أَزَلْ حَرِيصًا عَلَى أَنْ أَسْأَلَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ عَنِ الْمَرْأَتَيْنِ مِنْ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، اللَّتَيْنِ قَالَ اللَّهُ تَعَالَى : إِنْ تَتُوبَا إِلَى اللَّهِ فَقَدْ صَغَتْ قُلُوبُكُمَا سورة التحريم آية 4 ، حَتَّى حَجَّ عُمَرُ وَحَجَجْتُ مَعَهُ ، فَلَمَّا كُنَّا بِبَعْضِ الطَّرِيقِ عَدَلَ عُمَرُ ، وَعَدَلْتُ مَعَهُ بِالْإِدَاوَةِ ، فَتَبَرَّزَ ثُمَّ أَتَانِي ، فَسَكَبْتُ عَلَى يَدَيْهِ ، فَتَوَضَّأَ ، فَقُلْتُ : يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ، مَنْ الْمَرْأَتَانِ مِنْ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّتَانِ قَالَ اللَّهُ تَعَالَى : إِنْ تَتُوبَا إِلَى اللَّهِ فَقَدْ صَغَتْ قُلُوبُكُمَا سورة التحريم آية 4 ؟ فَقَالَ عُمَرُ : وَاعَجَبًا لَكَ يَا ابْنَ عَبَّاسٍ ! قَالَ الزُّهْرِيُّ : كَرِهَ ، وَاللَّهِ ، مَا سَأَلَهُ عَنْهُ وَلَمْ يَكْتُمْهُ عَنْهُ ، قَالَ : هُمَا حَفْصَةُ ، وَعَائِشَةُ ، قَالَ ثُمَّ أَخَذَ يَسُوقُ الْحَدِيثَ ، قَالَ : كُنَّا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ قَوْمًا نَغْلِبُ النِّسَاءَ ، فَلَمَّا قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ وَجَدْنَا قَوْمًا تَغْلِبُهُمْ نِسَاؤُهُمْ ، فَطَفِقَ نِسَاؤُنَا يَتَعَلَّمْنَ مِنْ نِسَائِهِمْ ، قَالَ : وَكَانَ مَنْزِلِي فِي بَنِي أُمَيَّةَ بْنِ زَيْدٍ بِالْعَوَالِي ، قَالَ : فَغَضَّبْتُ يَوْمًا عَلَى امْرَأَتِي ، فَإِذَا هِيَ تُرَاجِعُنِي ، فَأَنْكَرْتُ أَنْ تُرَاجِعَنِي ، فَقَالَتْ : مَا تُنْكِرُ أَنْ أُرَاجِعَكَ ، فَوَاللَّهِ إِنَّ أَزْوَاجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيُرَاجِعْنَهُ ، وَتَهْجُرُهُ إِحْدَاهُنَّ الْيَوْمَ إِلَى اللَّيْلِ ، قَالَ : فَانْطَلَقْتُ ، فَدَخَلْتُ عَلَى حَفْصَةَ ، فَقُلْتُ : أَتُرَاجِعِينَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَتْ : نَعَمْ ، قُلْتُ : وَتَهْجُرُهُ إِحْدَاكُنَّ الْيَوْمَ إِلَى اللَّيْلِ ؟ قَالَتْ : نَعَمْ ، قُلْتُ : قَدْ خَابَ مَنْ فَعَلَ ذَلِكَ مِنْكُنَّ وَخَسِرَ ، أَفَتَأْمَنُ إِحْدَاكُنَّ أَنْ يَغْضَبَ اللَّهُ عَلَيْهَا لِغَضَبِ رَسُولِهِ ، فَإِذَا هِيَ قَدْ هَلَكَتْ ؟ لَا تُرَاجِعِي رَسُولَ اللَّهِ وَلَا تَسْأَلِيهِ شَيْئًا ، وَسَلِينِي مَا بَدَا لَكِ ، وَلَا يَغُرَّنَّكِ إِنْ كَانَتْ جَارَتُكِ هِيَ أَوْسَمَ وَأَحَبَّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ مِنْكِ ، يُرِيدُ عَائِشَةَ ، قَالَ : وَكَانَ لِي جَارٌ مِنَ الْأَنْصَارِ ، وَكُنَّا نَتَنَاوَبُ النُّزُولَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَيَنْزِلُ يَوْمًا ، وَأَنْزِلُ يَوْمًا ، فَيَأْتِينِي بِخَبَرِ الْوَحْيِ وَغَيْرِهِ ، وَآتِيهِ بِمِثْلِ ذَلِكَ ، قَالَ : وَكُنَّا نَتَحَدَّثُ أَنَّ غَسَّانَ تُنْعِلُ الْخَيْلَ لِتَغْزُوَنَا ، فَنَزَلَ صَاحِبِي يَوْمًا ، ثُمَّ أَتَانِي عِشَاءً ، فَضَرَبَ بَابِي ، ثُمَّ نَادَانِي فَخَرَجْتُ إِلَيْهِ ، فَقَالَ : حَدَثَ أَمْرٌ عَظِيمٌ ، قُلْتُ : وَمَاذَا ، أَجَاءَتْ غَسَّانُ ؟ قَالَ : لَا ، بَلْ أَعْظَمُ مِنْ ذَلِكَ وَأَطْوَلُ ، طَلَّقَ الرَّسُولُ نِسَاءَهُ ، فَقُلْتُ : قَدْ خَابَتْ حَفْصَةُ وَخَسِرَتْ ، قَدْ كُنْتُ أَظُنُّ هَذَا كَائِنًا ، حَتَّى إِذَا صَلَّيْتُ الصُّبْحَ شَدَدْتُ عَلَيَّ ثِيَابِي ، ثُمَّ نَزَلْتُ فَدَخَلْتُ عَلَى حَفْصَةَ وَهِيَ تَبْكِي ، فَقُلْتُ : أَطَلَّقَكُنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ فَقَالَتْ : لَا أَدْرِي ، هُوَ هَذَا مُعْتَزِلٌ فِي هَذِهِ الْمَشْرُبَةِ ، فَأَتَيْتُ غُلَامًا لَهُ أَسْوَدَ ، فَقُلْتُ : اسْتَأْذِنْ لِعُمَرَ ، فَدَخَلَ الْغُلَامُ ثُمَّ خَرَجَ إِلَيَّ ، فَقَالَ : قَدْ ذَكَرْتُكَ لَهُ فَصَمَتَ ، فَانْطَلَقْتُ حَتَّى أَتَيْتُ الْمِنْبَرَ ، فَإِذَا عِنْدَهُ رَهْطٌ جُلُوسٌ يَبْكِي بَعْضُهُمْ ، فَجَلَسْتُ قَلِيلًا ، ثُمَّ غَلَبَنِي مَا أَجِدُ ، فَأَتَيْتُ الْغُلَامَ ، فَقُلْتُ : اسْتَأْذِنْ لِعُمَرَ ، فَدَخَلَ الْغُلَامُ ثُمَّ خَرَجَ إِليَّ ، فَقَالَ : قَدْ ذَكَرْتُكَ لَهُ فَصَمَتَ ، فَخَرَجْتُ ، فَجَلَسْتُ إِلَى الْمِنْبَرِ ، ثُمَّ غَلَبَنِي مَا أَجِدُ ، فَأَتَيْتُ الْغُلَامَ ، فَقُلْتُ : اسْتَأْذِنْ لِعُمَرَ ، فَدَخَلَ ثُمَّ خَرَجَ إِلَيَّ ، فَقَالَ : قَدْ ذَكَرْتُكَ لَهُ فَصَمَتَ ، فَوَلَّيْتُ مُدْبِرًا ، فَإِذَا الْغُلَامُ يَدْعُونِي ، فَقَالَ : ادْخُلْ ، فَقَدْ أَذِنَ لَكَ ، فَدَخَلْتُ ، فَسَلَّمْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَإِذَا هُوَ مُتَّكِئٌ عَلَى رَمْلِ حَصِيرٍ . ح وحَدَّثَنَاه يَعْقُوبُ ، فِي حَدِيثِ صَالِحٍ ، قَالَ : رُمَالِ حَصِيرٍ قَدْ أَثَّرَ فِي جَنْبِهِ ، فَقُلْتُ : أَطَلَّقْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ نِسَاءَكَ ؟ فَرَفَعَ رَأْسَهُ إِلَيَّ ، وَقَالَ : " لَا " ، فَقُلْتُ : اللَّهُ أَكْبَرُ ، لَوْ رَأَيْتَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَكُنَّا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ قَوْمًا نَغْلِبُ النِّسَاءَ ، فَلَمَّا قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ ، وَجَدْنَا قَوْمًا تَغْلِبُهُمْ نِسَاؤُهُمْ ، فَطَفِقَ نِسَاؤُنَا يَتَعَلَّمْنَ مِنْ نِسَائِهِمْ ، فَتَغَضَّبْتُ عَلَى امْرَأَتِي يَوْمًا ، فَإِذَا هِيَ تُرَاجِعُنِي ، فَأَنْكَرْتُ أَنْ تُرَاجِعَنِي ، فَقَالَتْ : مَا تُنْكِرُ أَنْ أُرَاجِعَكَ ؟ فَوَاللَّهِ إِنَّ أَزْوَاجَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيُرَاجِعْنَهُ ، وَتَهْجُرُهُ إِحْدَاهُنَّ الْيَوْمَ إِلَى اللَّيْلِ ، فَقُلْتُ : قَدْ خَابَ مَنْ فَعَلَ ذَلِكَ مِنْهُنَّ وَخَسِرَ ، أَفَتَأْمَنُ إِحْدَاهُنَّ أَنْ يَغْضَبَ اللَّهُ عَلَيْهَا لِغَضَبِ رَسُولِهِ ، فَإِذَا هِيَ قَدْ هَلَكَتْ ؟ فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَدَخَلْتُ عَلَى حَفْصَةَ ، فَقُلْتُ لَا يَغُرُّكِ إِنْ كَانَتْ جَارَتُكِ هِيَ أَوْسَمَ وَأَحَبَّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْكِ ، فَتَبَسَّمَ أُخْرَى ، فَقُلْتُ : أَسْتَأْنِسُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " نَعَمْ " ، فَجَلَسْتُ ، فَرَفَعْتُ رَأْسِي فِي الْبَيْتِ ، فَوَاللَّهِ مَا رَأَيْتُ فِيهِ شَيْئًا يَرُدُّ الْبَصَرَ ، إِلَّا أَهَبَةً ثَلَاثَةً ، فَقُلْتُ : ادْعُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنْ يُوَسِّعَ عَلَى أُمَّتِكَ ، فَقَدْ وُسِّعَ عَلَى فَارِسَ ، وَالرُّومِ ، وَهُمْ لَا يَعْبُدُونَ اللَّهَ ، فَاسْتَوَى جَالِسًا ، ثُمَّ قَالَ : " أَفِي شَكٍّ أَنْتَ يَا ابْنَ الْخَطَّابِ ؟ أُولَئِكَ قَوْمٌ عُجِّلَتْ لَهُمْ طَيِّبَاتُهُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا " ، فَقُلْتُ : اسْتَغْفِرْ لِي يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَكَانَ أَقْسَمَ أَنْ لَا يَدْخُلَ عَلَيْهِنَّ شَهْرًا مِنْ شِدَّةِ مَوْجِدَتِهِ عَلَيْهِنَّ ، حَتَّى عَاتَبَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ مجھے اس بات کی بڑی آرزو تھی کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ان دو ازواج مطہرات کے بارے سوال کروں جن کے متعلق اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا تھا کہ اگر تم دونوں توبہ کر لو تو اچھا ہے کیونکہ تمہارے دل ٹیڑھے ہوچکے ہیں۔ “ لیکن ہمت نہیں ہوتی تھی ، حتیٰ کہ ایک مرتبہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ حج کے لئے تشریف لے گئے ، میں بھی ان کے ساتھ تھا ، راستے میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ لوگوں سے ہٹ کر چلنے لگے ، میں بھی پانی کا برتن لے کر ان کے پیچھے چلا گیا ، انہوں نے اپنی طبعی ضرورت پوری کی اور جب واپس آئے تو میں نے ان کے ہاتھوں پر پانی ڈالا اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ وضو کرنے لگے ۔ اس دوران مجھے موقع مناسب معلوم ہوا ، اس لئے میں نے پوچھ ہی لیا کہ امیر المؤمنین ! نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات سے وہ دو عورتیں کون تھیں جن کے بارے اللہ نے یہ فرمایا ہے کہ اگر تم توبہ کر لو تو اچھا ہے ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ابن عباس ! حیرانگی کی بات ہے کہ تمہیں یہ بات معلوم نہیں ، وہ دونوں عائشہ اور حفصہ تھیں اور فرمایا کہ ہم قریش کے لوگ اپنی عورتوں پر غالب رہا کرتے تھے ، لیکن جب ہم مدینہ منورہ میں آئے تو یہاں کی عورتیں ، مردوں پر غالب نظر آئیں ، ان کی دیکھا دیکھی ہماری عورتوں نے بھی ان سے یہ طور طریقے سیکھنا شروع کر دئیے ۔ میرا گھر اس وقت عوالی میں بنو امیہ بن زید کے پاس تھا ، ایک دن میں نے اپنی بیوی پر غصہ کا اظہار کسی وجہ سے کیا تو وہ الٹا مجھے جواب دینے لگی ، مجھے بڑا تعجب ہوا ، وہ کہنے لگی کہ میرے جواب دینے پر تو آپ کو تعجب ہو رہا ہے بخدا ! نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات بھی انہیں جواب دیتی ہیں بلکہ بعض اوقات تو ان میں سے کوئی سارا دن تک نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بات ہی نہیں کرتی ۔ یہ سنتے ہی میں اپنی بیٹی حفصہ کے پاس پہنچا اور ان سے کہا کہ کیا تم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تکرار کرتی ہو ؟ انہوں نے اقرار کیا ، پھر میں نے پوچھا کہ کیا تم میں سے کوئی سارا دن تک نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بات ہی نہیں کرتی ؟ انہوں نے اس پر اقرار کیا ، میں نے کہا کہ تم میں سے جو یہ کرتا ہے وہ بڑے نقصان اور خسارے میں ہے ، کیا تم لوگ اس بات پر مطمئن ہو کہ اپنے پیغمبر کو ناراض دیکھ کر تم میں سے کسی پر اللہ کا غضب نازل ہو اور وہ ہلاک ہو جائے ۔ خبردار ! تم آئندہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی بات پر نہ تکرار کرنا اور نہ ان سے کسی چیز کا مطالبہ کرنا ، جس چیز کی ضرورت ہو مجھے بتا دینا اور اپنی سہیلی یعنی عائشہ رضی اللہ عنہا کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زیادہ چہیتی اور لاڈلی سمجھ کر کہیں تم دھوکے میں نہ رہنا ۔ میرا ایک انصاری پڑوسی تھا ، ہم دونوں نے باری مقرر کر رکھی تھی ، ایک دن وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوتا اور ایک دن میں ، وہ اپنے دن کی خبریں اور وحی مجھے سنا دیتا اور میں اپنی باری کی خبریں اور وحی اسے سنا دیتا ، اس زمانے میں ہم لوگ آپس میں یہ گفتگو ہی کرتے رہتے تھے کہ بنو غسان کے لوگ ہم سے مقابلے کے لئے اپنے گھوڑوں کے نعل ٹھونک رہے ہیں ، اس تناظر میں میرا پڑوسی ایک دن عشاء کے وقت میرے گھر آیا اور زور زور سے دروازہ بجایا ، پھر مجھے آوازیں دینے لگا ، میں جب باہر نکل کر آیا تو وہ کہنے لگا کہ آج تو ایک بڑا اہم واقعہ پیش آیا ہے ، میں نے پوچھا کہ کیا بنوغسان نے حملہ کر دیا ؟ اس نے کہا: نہیں ! اس سے بھی زیادہ اہم واقعہ پیش آیا ہے ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ازواج مطہرات کو طلاق دے دی ہے ، میں نے یہ سنتے ہی کہا کہ حفصہ خسارے میں رہ گئی ، مجھے پتہ تھا کہ یہ ہو کر رہے گا ۔ خیر ! فجر کی نماز پڑھ کر میں نے اپنے کپڑے پہنے اور سیدھا حفصہ کے پاس پہنچا ، وہ رو رہی تھیں ، میں نے ان سے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں طلاق دے دی ہے ؟ انہوں نے کہا: مجھے کچھ خبر نہیں ، وہ اس بالاخانے میں اکیلے رہ رہے ہیں ، میں وہاں پہنچا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک سیاہ فام غلام ملا ، میں نے کہا کہ میرے لئے اندر داخل ہونے کی اجازت لے کر آؤ ، وہ گیا اور تھوڑی دیر بعد آ کر کہنے لگا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ کا ذکر کر دیا تھا لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے ۔ میں وہاں سے آ کر منبر کے قریب پہنچا تو وہاں بھی بہت سے لوگوں کو بیٹھے روتا ہوا پایا ، میں بھی تھوڑی دیر کے لئے وہاں بیٹھ گیا ، لیکن پھر بے چینی مجھ پر غالب آ گئی اور میں نے دوبارہ اس غلام سے جا کر کہا کہ میرے لئے اجازت لے کر آؤ ، وہ گیا اور تھوڑی دیر بعد ہی آ کر کہنے لگا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ کا ذکر کیا لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے ، تین مرتبہ اس طرح ہونے کے بعد جب میں واپس جانے لگا تو غلام نے مجھے آواز دی کہ آئیے ، آپ کو اجازت مل گئی ہے ۔ میں نے اندر داخل ہو کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا ، دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک چٹائی سے ٹیک لگائے بیٹھے ہیں جس کے نشانات آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلوئے مبارک پر نظر آ رہے ہیں ، میں نے عرض کیا، یا رسول اللہ ! کیا آپ نے اپنی ازواج مطہرات کو طلاق دے دی ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سر اٹھا کر میری طرف دیکھا اور فرمایا : ”نہیں“، میں نے اللہ اکبر کا نعرہ بلند کیا اور عرض کیا، یا رسول اللہ ! دیکھئے تو سہی ، ہم قریشی لوگ اپنی عورتوں پر غالب رہتے تھے ، جب مدینہ منورہ پہنچے تو یہاں ایسے لوگوں سے پالا پڑا جن پر ان کی عورتیں غالب رہتی ہیں ، ہماری عورتوں نے بھی ان کی دیکھا دیکھی ان کے طور طریقے سیکھنا شروع کر دیئے ، چنانچہ ایک دن میں اپنی بیوی سے کسی بات پر ناراض ہوا ، تو وہ الٹا مجھے جواب دینے گئی ، مجھے تعجب ہوا، تو وہ کہنے لگی کہ آپ کو میرے جواب دینے تعجب ہو رہا ہے ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں بھی انہیں جواب دیتی ہیں اور سارا سارا دن تک ان سے بات نہیں کرتیں ۔ میں نے کہا کہ جو ایسا کرتی ہے وہ نقصان اور خسارے میں ہے ، کیا وہ اس بات سے مطمئن رہتی ہیں کہ اگر اپنے پیغمبر کی ناراضگی پر اللہ کا غضب ان پر نازل ہوا تو وہ ہلاک نہیں ہوں گی ؟ یہ سن کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم مسکرائے ، میں نے مزید عرض کیا، یا رسول اللہ ! اس کے بعد میں حفصہ کے پاس آیا اور اس سے کہا کہ تو اس بات سے دھوکے میں نہ رہ کہ تیری سہیلی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زیادہ چہیتی اور لاڈلی ہے، یہ سن کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم دوبارہ مسکرائے ۔ پھر میں نے عرض کیا، یا رسول اللہ! کیا میں بےتکلف ہو سکتا ہوں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت دے دی ، چنانچہ میں نے سر اٹھا کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کاشانہ اقدس کا جائزہ لینا شروع کر دیا، اللہ کی قسم ! مجھے وہاں کوئی ایسی چیز نظر نہیں آئی جس کی طرف بار بار نظریں اٹھیں ، سوائے تین کچی کھالوں کے، میں نے یہ دیکھ کر عرض کیا : یا رسول اللہ! اللہ سے دعا کیجیے کہ اللہ آپ کی امت پر وسعت اور کشادگی فرمائے ، فارس اور روم جو ”اللہ کی عبادت نہیں کرتے“ ان پر تو بڑی فراخی کی گئی ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم یہ سن کر سیدھے ہو کر بیٹھ گئے اور فرمایا : ابن خطاب ! کیا تم اب تک شک میں مبتلا ہو؟ ان لوگوں کو دنیا میں ہی ساری چیزیں دے دی گئی ہیں، میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! میرے لیے بخشش کی دعاء فرما دیجئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اصل میں یہ قسم کھائی تھی کہ ایک مہینے تک اپنی ازواج مطہرات کے پاس نہیں جائیں گے کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ان پر سخت غصہ اور غم تھا، تا آنکہ الله تعالی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر اس سلسلے میں وحی نازل فرما دی۔
حدیث نمبر: 223
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ بْنُ سُلَيْمٍ ، قَالَ : أَمْلَى عَلَيَّ يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ الْأَيْلِيُّ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدٍ الْقَارِيِّ ، سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ، يَقُولُ : كَانَ إِذَا نَزَلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْوَحْيُ ، يُسْمَعُ عِنْدَ وَجْهِهِ دَوِيٌّ كَدَوِيِّ النَّحْلِ ، فَمَكَثْنَا سَاعَةً ، فَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ وَرَفَعَ يَدَيْهِ ، فَقَالَ : " اللَّهُمَّ زِدْنَا وَلَا تَنْقُصْنَا ، وَأَكْرِمْنَا وَلَا تُهِنَّا ، وَأَعْطِنَا وَلَا تَحْرِمْنَا ، وَآثِرْنَا وَلَا تُؤْثِرْ عَلَيْنَا ، وَارْضَ عَنَّا وَأَرْضِنَا " ، ثُمَّ قَالَ : " لَقَدْ أُنْزِلَتْ عَلَيَّ عَشْرُ آيَاتٍ ، مَنْ أَقَامَهُنَّ دَخَلَ الْجَنَّةَ ، ثُمَّ قَرَأَ عَلَيْنَا : قَدْ أَفْلَحَ الْمُؤْمِنُونَ سورة المؤمنون آية 1 حَتَّى خَتَمَ الْعَشْرَ آيات " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر جب نزول وحی ہوتا تو آپ کے روئے انور کے قریب سے شہد کی مکھیوں کی بھنبھناہٹ کی سی آواز سنائی دیتی تھی ، ایک مرتبہ ایسا ہوا تو ہم کچھ دیر کے لئے رک گئے ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قبلہ رخ ہو کر اپنے ہاتھ پھیلائے اور یہ دعا فرمائی کہ اے اللہ ! ہمیں زیادہ عطاء فرما ، کمی نہ فرما ، ہمیں معزز فرما ، ذلیل نہ فرما ، ہمیں عطاء فرما ، محروم نہ فرما ، ہمیں ترجیح دے ، دوسروں کو ہم پر ترجیح نہ دے ، ہم سے راضی ہو جا اور ہمیں راضی کر دے ، اس کے بعد فرمایا کہ مجھ پر ابھی ابھی دس ایسی آیتیں نازل ہوئی ہیں کہ اگر ان کی پابندی کوئی شخص کر لے ، وہ جنت میں داخل ہو گا ، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سورت المومنون کی ابتدائی دس آیات کی تلاوت فرمائی ۔
حدیث نمبر: 224
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أبي عُبَيْدٍ مَوْلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ : أَنَّهُ شَهِدَ الْعِيدَ مَعَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، فَصَلَّى قَبْلَ أَنْ يَخْطُبَ بِلَا أَذَانٍ وَلَا إِقَامَةٍ ، ثُمَّ خَطَبَ ، فَقَالَ : " يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ صِيَامِ هَذَيْنِ الْيَوْمَيْنِ ، أَمَّا أَحَدُهُمَا : فَيَوْمُ فِطْرِكُمْ مِنْ صِيَامِكُمْ وَعِيدُكُمْ ، وَأَمَّا الْآخَرُ : فَيَوْمٌ تَأْكُلُونَ فِيهِ مِنْ نُسُكِكُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
ابوعبید کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں عید کے موقع پر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا ، انہوں نے خطبہ سے پہلے بغیر اذان اور اقامت کے نماز پڑھائی ، پھر خطبہ دیتے ہوئے فرمایا : لوگو ! نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دو دنوں کے روزے سے منع فرمایا ہے ، عیدالفطر کے دن تو اس لئے کہ اس دن تمہارے روزے ختم ہوتے ہیں اور عیدالاضحیٰ کے دن اس لئے کہ تم اپنی قربانی کے جانور کا گوشت کھا سکو ۔
حدیث نمبر: 225
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَني الزُّهْرِيُّ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ مَوْلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَزْهَرَ ، قَالَ : شَهِدْتُ الْعِيدَ مَعَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ . . . فَذَكَرَ الْحَدِيثَ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی نقل کی گئی ہے ۔
حدیث نمبر: 226
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ : أَنَّ عُمَرَ قَبَّلَ الْحَجَرَ ، ثُمّ قَالَ : " قَدْ عَلِمْتُ أَنَّكَ حَجَرٌ ، وَلَوْلَا أَنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبَّلَكَ ، مَا قَبَّلْتُكَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ایک مرتبہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے حجر اسود کو بوسہ دیا اور اس سے مخاطب ہو کر فرمایا : میں جانتا ہوں کہ تو ایک پتھر ہے اگر میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو تیرا بوسہ لیتے ہوئے نہ دیکھا ہوتا تو میں تجھے کبھی بوسہ نہ دیتا ۔
حدیث نمبر: 227
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنِي سَيَّارٌ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ : أَنَّ رَجُلًا كَانَ نَصْرَانِيًّا يُقَالُ لَهُ : الصُّبَيُّ بْنُ مَعْبَدٍ ، أسلم ، فأراد الجهاد ، فقيل له : ابْدَأْ بِالْحَجِّ ، فَأَتَى الْأَشْعَرِيَّ ، فَأَمَرَهُ أَنْ يُهِلَّ بِالْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ جَمِيعًا ، فَفَعَلَ ، فَبَيْنَمَا هُوَ يُلَبِّي ، إِذْ مَرَّ يَزِيدُ بْنُ صُوحَانَ ، وَسَلْمَانُ بْنُ رَبِيعَةَ ، فَقَالَ أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهِ : لَهَذَا أَضَلُّ مِنْ بَعِيرِ أَهْلِهِ ، فَسَمِعَهَا الصُّبَيُّ ، فَكَبُرَ ذَلِكَ عَلَيْهِ ، فَلَمَّا قَدِمَ أَتَى عُمَرَ ، فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ : " هُدِيتَ لِسُنَّةِ نَبِيِّكَ ، قَالَ : وَسَمِعْتُهُ مَرَّةً أُخْرَى يَقُولُ : وُفِّقْتَ لِسُنَّةِ نَبِيِّكَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابووائل کہتے ہیں کہ صبی بن معبد ایک عیسائی آدمی تھے جنہوں نے اسلام قبول کر لیا ، انہوں نے جہاد کا ارادہ کر لیا ، اسی اثناء میں کسی نے کہا: آپ پہلے حج کر لیں ، پھر جہاد میں شرکت کریں ۔ چنانچہ وہ اشعری کے پاس آئے ، انہوں نے صبی کو حج اور عمرہ دونوں کا اکٹھا احرام باندھ لینے کا حکم دیا ، انہوں نے ایسا ہی کیا ، وہ یہ تلبیہ پڑھتے ہوئے ، زید بن صوحان اور سلمان بن ربیعہ کے پاس سے گزرے تو ان میں سے ایک نے دوسرے سے کہا کہ یہ شخص اپنے اونٹ سے بھی زیادہ گمراہ ہے ، صبی نے یہ بات سن لی اور ان پر بہت بوجھ بنی ، جب وہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو زید اور سلمان نے جو کہا تھا ، اس کے متعلق ان کی خدمت میں عرض کیا ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا کہ آپ کو اپنے پیغمبر کی سنت پر رہنمائی نصیب ہو گئی ۔
حدیث نمبر: 228
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عُمَرَ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَسْمُرُ عِنْدَ أَبِي بَكْرٍ اللَّيْلَةَ كَذَاكَ فِي الْأَمْرِ مِنْ أَمْرِ الْمُسْلِمِينَ ، وَأَنَا مَعَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ معمول مبارک تھا کہ روزانہ رات کو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس مسلمانوں کے معاملات میں مشورے کے لئے تشریف لے جاتے تھے ، ایک مرتبہ میں بھی اس موقع پر موجود تھا ۔
حدیث نمبر: 229
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَرْجِسَ ، قَالَ : رَأَيْتُ الْأُصَيْلِعَ يَعْنِي عُمَرَ يُقَبِّلُ الْحَجَرَ ، وَيَقُولُ : إِنِّي لَأُقَبِّلُكَ ، وَأَعْلَمُ أَنَّكَ حَجَرٌ لَا تَنْفَعُ وَلَا تَضُرُّ ، وَلَوْلَا أَنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُكَ ، لَمْ أُقَبِّلْكَ " .
مولانا ظفر اقبال
عبداللہ بن سرجس کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ وہ حجر اسود کو بوسہ دے رہے ہیں اور اس سے مخاطب ہو کر فرما رہے ہیں ، میں جانتاہوں کہ تو ایک پتھر ہے ، نہ کسی کو نفع پہنچا سکتا ہے اور نہ نقصان ، لیکن میں تجھے پھر بھی بوسہ دے رہا ہوں ، اگر میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو تیرا بوسہ لیتے ہوئے نہ دیکھا ہوتا تو میں تجھے کبھی بوسہ نہ دیتا ۔
حدیث نمبر: 230
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنْ عُمَرَ ، قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَيَرْقُدُ أَحَدُنَا وَهُوَ جُنُبٌ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، إِذَا تَوَضَّأَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: اگر کوئی آدمی اختیاری طور پر ناپاک ہو جائے تو کیا اسی حال میں سو سکتا ہے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”ہاں ! وضو کر لے اور سو جائے ۔ “
حدیث نمبر: 231
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا أَقْبَلَ اللَّيْلُ ، وَأَدْبَرَ النَّهَارُ ، وَغَابَتْ الشَّمْسُ ، فَقَدْ أَفْطَرْتَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”جب رات آ جائے اور دن چلا جائے اور سورج غروب ہو جائے تو تمہیں روزہ افطار کر لینا چاہیے ، (مشرق اور مغرب مراد ہے )۔ “
حدیث نمبر: 232
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ . ح وحَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، الْمَعْنَى ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ عَامِرِ بْنِ وَاثِلَةَ : أَنَّ نَافِعَ بْنَ عَبْدِ الْحَارِثِ لَقِيَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ بِعُسْفَانَ ، وَكَانَ عُمَرُ اسْتَعْمَلَهُ عَلَى مَكَّةَ ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ : مَنْ اسْتَخْلَفْتَ عَلَى أَهْلِ الْوَادِي ؟ قَالَ : اسْتَخْلَفْتُ عَلَيْهِمْ ابْنَ أَبْزَى ، فَقَالَ : وَمَا ابْنُ أَبْزَى ؟ فَقَالَ : رَجُلٌ مِنْ مَوَالِينَا ، فَقَالَ عُمَرُ : اسْتَخْلَفْتَ عَلَيْهِمْ مَوْلًى ! فَقَالَ : إِنَّهُ قَارِئٌ لِكِتَابِ اللَّهِ ، عَالِمٌ بِالْفَرَائِضِ ، قَاضٍ ، فَقَالَ عُمَرُ : أَمَا إِنَّ نَبِيَّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَدْ قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ يَرْفَعُ بِهَذَا الْكِتَابِ أَقْوَامًا ، وَيَضَعُ بِهِ آخَرِينَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا عامر بن واثلہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ عسفان نامی جگہ میں نافع بن عبدالحارث کی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے ملاقات ہوئی ، سیدنا رضی اللہ عنہ نے انہیں مکہ مکرمہ کا گورنر بنا رکھا تھا ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے پوچھا کہ تم نے اپنے پیچھے اپنا نائب کسے بنایا ؟ انہوں نے کہا: عبدالرحمن بن ابزی کو ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا: ابن ابزی کون ہے ؟ عرض کیا ، ہمارے موالی میں سے ہے ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ کہ تم ایک غلام کو اپنا نائب بنا آئے ؟ عرض کیا کہ وہ قرآن کریم کا قاری ہے ، علم فرائض و وراثت کو جانتا ہے اور فیصلہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ تمہارے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم اس کے متعلق فرما گئے ہیں کہ بیشک اللہ اس کتاب کے ذریعے بہت سے لوگوں کو عزتیں عطا فرمائے گا اور بہت سے لوگوں نیچے کر دے گا ۔
حدیث نمبر: 233
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْل ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ سُمَيْعٍ ، عَنْ مُسْلِمٍ الْبَطِينِ ، عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ ، قَالَ : قَالَ عُمَرُ لِأَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ الْجَرَّاحِ : " ابْسُطْ يَدَكَ حَتَّى أُبَايِعَكَ ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : أَنْتَ أَمِينُ هَذِهِ الْأُمَّةِ ، فَقَالَ أَبُو عُبَيْدَةَ : مَا كُنْتُ لِأَتَقَدَّمَ بَيْنَ يَدَيْ رَجُلٍ أَمَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَؤُمَّنَا ، فَأَمَّنَا حَتَّى مَاتَ " .
مولانا ظفر اقبال
ابوالبختری کہتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ سیدنا ابوعبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ سے فرمایا : اپنا ہاتھ پھیلائیے تاکہ میں آپ کے ہاتھ پر بیعت کروں ، کیونکہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ آپ اس امت کے امین ہیں ، انہوں نے فرمایا : میں اس شخص سے آگے نہیں بڑھ سکتا جسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہماری امامت کا حکم دیا ہو اور وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال تک ہماری امامت کرتے رہے ہوں ۔
حدیث نمبر: 234
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ شَقِيقِ بْنِ سَلَمَةَ ، عَنْ سَلْمَانَ بْنِ رَبِيعَةَ ، عَنْ عُمَرَ ، قَالَ : قَسَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قِسْمَةً ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لَغَيْرُ هَؤُلَاءِ أَحَقُّ مِنْهُمْ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّهُمْ خَيَّرُونِي بَيْنَ أَنْ يَسْأَلُونِي بِالْفُحْشِ ، أَوْ يُبَخِّلُونِي ، فَلَسْتُ بِبَاخِلٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ چیزیں تقسیم فرمائیں ، میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! اس کے زیادہ حقدار تو ان لوگوں کو چھوڑ کر دوسرے لوگ تھے ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ا”نہوں نے مجھ سے غیر مناسب طریقے سے سوال کرنے یا مجھے بخیل قرار دینے میں مجھے اختیار دے دیا ہے ، حالانکہ میں بخیل نہیں ہوں ۔ “ (فائدہ : مطلب یہ ہے کہ اگر میں نے اہل صفہ کو کچھ نہیں دیا تو اپنے پاس کچھ بچا کر نہیں رکھا اور اگر دوسروں کو دیا ہے تو ان کی ضروریات کو سامنے رکھ کر دیا ۔)
حدیث نمبر: 235
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ : أَنَّ عُمَرَ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَيَنَامُ أَحَدُنَا وَهُوَ جُنُبٌ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، وَيَتَوَضَّأُ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: اگر کوئی آدمی اختیاری طور پر ناپاک ہو جائے تو کیا اسی حال میں سو سکتا ہے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”ہاں ! نماز والا وضو کر لے اور سو جائے ۔“
حدیث نمبر: 236
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ : أَنَّ عُمَرَ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . . . مِثْلَهُ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ روایت ایک دوسری سند سے بھی مذکور ہے جو عبارت میں گزر چکی ۔
حدیث نمبر: 237
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَنْبَأَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، قَالَ : رَأَى ابْنُ عُمَرَ سَعْدَ بْنَ مَالِكٍ يَمْسَحُ عَلَى خُفَّيْهِ ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ : وَإِنَّكُمْ لَتَفْعَلُونَ هَذَا ؟ فَقَالَ سَعْدٌ : نَعَمْ ، فَاجْتَمَعَا عِنْدَ عُمَرَ ، فَقَالَ سَعْدٌ : يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ، أَفْتِ ابْنَ أَخِي فِي الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ ، فَقَالَ عُمَرُ : " كُنَّا وَنَحْنُ مَعَ نَبِيِّنَا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَمْسَحُ عَلَى خِفَافِنَا ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ : وَإِنْ جَاءَ مِنَ الْغَائِطِ وَالْبَوْلِ ؟ فَقَالَ عُمَرُ : نَعَمْ ، وَإِنْ جَاءَ مِنَ الْغَائِطِ وَالْبَوْلِ " ، قَالَ نَافِعٌ : فَكَانَ ابْنُ عُمَرَ بَعْدَ ذَلِكَ يَمْسَحُ عَلَيْهِمَا مَا لَمْ يَخْلَعْهُمَا ، وَمَا يُوَقِّتُ لِذَلِكَ وَقْتًا ، فَحَدَّثْتُ بِهِ مَعْمَرًا ، فَقَالَ : حَدَّثَنِيهِ أَيُّوبُ ، عَنْ نَافِعٍ مِثْلَهُ .
مولانا ظفر اقبال
ایک مرتبہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے سیدنا سعد بن مالک رضی اللہ عنہ کو موزوں پر مسح کرتے ہوئے دیکھا تو پوچھا کہ آپ یہ بھی کرتے ہیں ؟ انہوں نے کہا: ہاں ! پھر وہ دونوں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس اکٹھے ہوئے تو سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: امیر المؤمنین ! ذرا ہمارے بھتیجے کو موزوں پر مسح کا مسئلہ بتا دیجئے ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ہم ماضی میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اور اب بھی موزوں پر مسح کرتے ہیں ، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ اگرچہ کوئی شخص پاخانہ یا پیشاب ہی کر کے آیا ہو ؟ فرمایا : ہاں ! اگرچہ وہ پاخانہ یا پیشاب ہی کر کے آیا ہو ، نافع کہتے ہیں کہ اس کے بعد سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ بھی موزوں پر مسح کرنے لگے اور اس وقت تک مسح کرتے رہے جب تک موزے اتار نہ لیتے اور اس کے لئے کسی وقت کی تعیین نہیں فرماتے تھے ۔
حدیث نمبر: 238
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، أَخْبَرَنِي مَالِكُ بْنُ أَوْسِ بْنِ الْحَدَثَانِ ، قَالَ : صَرَفْتُ عِنْدَ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ وَرِقًا بِذَهَبٍ ، فَقَالَ : أَنْظِرْنِي حَتَّى يَأْتِيَنَا خَازِنُنَا مِنَ الْغَابَةِ ، قَالَ : فَسَمِعَهَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ، فَقَالَ : لَا وَاللَّهِ ، لَا تُفَارِقُهُ حَتَّى تَسْتَوْفِيَ مِنْهُ صَرْفَهُ ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " الذَّهَبُ بِالْوَرِقِ رِبًا ، إِلَّا هَاءَ وَهَاءَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا مالک بن اوس بن الحدثان کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ سے سونے کے بدلے چاندی کا معاملہ طے کیا ، سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ ذرا رکیے ، ہمارا خازن ”غابہ“ سے آتا ہی ہو گا ، یہ سن کر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : نہیں ! تم اس وقت تک ان سے جدا نہ ہوناجب تک کہ ان سے اپنی چیز وصول نہ کر لو ، کیونکہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ سونے کی چاندی کے بدلے خرید و فروخت سود ہے الاّ یہ کہ معاملہ نقد ہے ۔
حدیث نمبر: 239
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، قَالَ : لَمَّا ارْتَدَّ أَهْلُ الرِّدَّةِ فِي زَمَانِ أَبِي بَكْرٍ ، قَالَ عُمَرُ : كَيْفَ تُقَاتِلُ النَّاسَ يَا أَبَا بَكْرٍ وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، فَإِذَا قَالُوا : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، فَقْد عَصَمُوا مِنِّي دِمَاءَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ ، إِلَّا بِحَقِّهَا ، وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللَّهِ " ؟ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : وَاللَّهِ لَأُقَاتِلَنَّ مَنْ فَرَّقَ بَيْنَ الصَّلَاةِ وَالزَّكَاةِ ، فَإِنَّ الزَّكَاةَ حَقُّ الْمَالِ ، وَاللَّهِ لَوْ مَنَعُونِي عَنَاقًا كَانُوا يُؤَدُّونَهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، لَقَاتَلْتُهُمْ عَلَيْهَا ، قَالَ عُمَرُ : فَوَاللَّهِ مَا هُوَ إِلَّا أَنْ رَأَيْتُ أَنَّ اللَّهَ قَدْ شَرَحَ صَدْرَ أَبِي بَكْرٍ لِلْقِتَالِ ، فَعَرَفْتُ أَنَّهُ الْحَقُّ .
مولانا ظفر اقبال
عبیداللہ بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں اہل عرب میں سے جو مرتد ہو سکتے تھے ، سو ہو گئے تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے عرض کیا کہ آپ ان لوگوں سے کیسے قتال کر سکتے ہیں جبکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ”مجھے لوگوں سے اس وقت تک قتال کا حکم دیا گیا ہے جب تک وہ لا الہ الا اللہ نہ کہہ لیں ، جو شخص لا الہ الا اللہ کہہ لے ، اس نے اپنی جان اور مال کو مجھ سے محفوظ کر لیا ، ہاں اگر اسلام کا کوئی حق ہو تو الگ بات ہے اور اس کا حساب کتاب اللہ کے ذمے ہو گا ؟“ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے یہ سن کر فرمایا : اللہ کی قسم ! میں اس شخص سے ضرور قتال کروں گا جو نماز اور زکوٰۃ کے درمیان فرق کرتے ہیں ، کیونکہ زکوٰۃ مال کا حق ہے ، بخدا ! اگر انہوں نے ایک بکری کا بچہ جو یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیتے تھے بھی روکا تو میں ان سے قتال کروں گا ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں سمجھ گیا ، اللہ تعالیٰ نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو اس معاملے میں شرح صدر کی دولت عطاء فرما دی ہے اور میں سمجھ گیا کہ ان کی رائے ہی برحق ہے ۔
حدیث نمبر: 240
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَنْبَأَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ عُمَرُ : كُنْتُ فِي رَكْبٍ أَسِيرُ فِي غَزَاةٍ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَحَلَفْتُ ، فَقُلْتُ : لَا وَأَبِي ، فَنَهَرَنِي رَجُلٌ مِنْ خَلْفِي ، وَقَالَ : " لَا تَحْلِفُوا بِآبَائِكُمْ " ، فَالْتَفَتُّ ، فَإِذَا أَنَا بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کسی غزوے میں تھا ، ایک موقع پر میں نے قسم کھاتے ہوئے کہا: «لا وابي» تو پیچھے سے ایک آدمی نے مجھ سے کہا کہ اپنے آباؤاجداد کے نام کی قسمیں مت کھایا کرو ، میں نے دیکھا تو وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تھے ۔
حدیث نمبر: 241
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عُمَرَ ، قَالَ : سَمِعَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَحْلِفُ بِأَبِي ، فَقَالَ : " إِنَّ اللَّهَ يَنْهَاكُمْ أَنْ تَحْلِفُوا بِآبَائِكُمْ " ، قَالَ عُمَرُ : فَوَاللَّهِ مَا حَلَفْتُ بِهَا بَعْدُ ذَاكِرًا ، وَلَا آثِرًا .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اپنے باپ کی قسم کھاتے ہوئے سنا تو فرمایا : ”اللہ تعالیٰ نے تمہیں اپنے آباؤاجداد کے نام کی قسمیں کھانے سے منع فرمایا ہے۔ “ چنانچہ اس کے بعد میں نے جان بوجھ کر یا نقل کے طور پر بھی ایسی قسم نہیں کھائی ۔
…