حدیث نمبر: 162
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، سَمِعَ مَالِكَ بْنَ أَوْسِ بْنِ الْحَدَثَانِ ، سَمِعَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ سُفْيَانُ مَرَّةً : سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " الذَّهَبُ بِالْوَرِقِ رِبًا ، إِلَّا هَاءَ وَهَاءَ ، وَالْبُرُّ بِالْبُرِّ رِبًا ، إِلَّا هَاءَ وَهَاءَ ، وَالشَّعِيرُ بِالشَّعِيرِ رِبًا ، إِلَّا هَاءَ وَهَاءَ ، وَالتَّمْرُ بِالتَّمْرِ رِبًا ، إِلَّا هَاءَ وَهَاءَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”سونا چاندی کے بدلے بیچنا اور خریدنا سود ہے الاّ یہ کہ نقد ہو ، گندم کی گندم کے بدلے خرید و فروخت سود ہے الاّ یہ کہ نقد ہو ، جَو کی خرید و فروخت جَو کے بدلے سود ہے الاّ یہ کہ نقد ہو ۔ “
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 162
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2134، م: 1586
حدیث نمبر: 163
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، سَمِعَ أَبَا عُبَيْدٍ ، قَالَ : شَهِدْتُ الْعِيدَ مَعَ عُمَرَ ، فَبَدَأَ بِالصَّلَاةِ قَبْلَ الْخُطْبَةِ ، وَقَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنْ صِيَامِ هَذَيْنِ الْيَوْمَيْنِ ، أَمَّا يَوْمُ الْفِطْرِ : فَفِطْرُكُمْ مِنْ صَوْمِكُمْ ، وَأَمَّا يَوْمُ الْأَضْحَى : فَكُلُوا مِنْ لَحْمِ نُسُكِكُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
ابوعبید کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں عید کے موقع پر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا ، انہوں نے خطبہ سے پہلے نماز پڑھائی ، پھر فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کے روزے سے منع فرمایا ہے ، عیدالفطر کے دن تو اس لئے کہ اس دن تمہارے روزے ختم ہوتے ہیں اور عیدالاضحی کے دن اس لئے کہ تم اپنی قربانی کے جانور کا گوشت کھا سکو ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 163
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1990 م: 1137
حدیث نمبر: 164
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تُطْرُونِي كَمَا أَطْرَتْ النَّصَارَى عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ عَلَيْهِ السَّلَام ، فَإِنَّمَا أَنَا عَبْدٌ ، فَقُولُوا : عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”عیسائیوں نے جس طرح عیسیٰ علیہ السلام کو حد سے زیادہ آگے بڑھایا مجھے اس طرح مت بڑھاؤ ، میں تو اللہ کا بندہ ہوں ، لہٰذا تم مجھے اس کا بندہ اور پیغمبر ہی کہا کرو ۔ “
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 164
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2462، م: 1691
حدیث نمبر: 165
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنْ عُمَرَ : أَنَّهُ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَيَنَامُ أَحَدُنَا وَهُوَ جُنُبٌ ؟ قَالَ : يَتَوَضَّأُ وَيَنَامُ إِنْ شَاءَ " . وَقَالَ سُفْيَانُ مَرَّةً : لِيَتَوَضَّأْ وَلْيَنَمْ " .
مولانا ظفر اقبال
ایک مرتبہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ اگر کوئی آدمی اختیاری طور پر ناپاک ہو جائے تو کیا اسی حال میں سو سکتا ہے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”چاہے تو وضو کر کے سو جائے ( اور چاہے تو یوں ہی سو جائے ) ۔ “
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 165
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 166
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ أَبِيهِ : أَنَّ عُمَرَ حَمَلَ عَلَى فَرَسٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، فَرَآهَا أَوْ بَعْضَ نِتَاجِهَا يُبَاعُ ، فَأَرَادَ شِرَاءَهُ ، فَسَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْهُ ، فَقَالَ : " اتْرُكْهَا تُوَافِكَ ، أَوْ تَلْقَهَا جَمِيعًا " . وَقَالَ مَرَّةً : فَنَهَاهُ ، وَقَالَ : " لَا تَشْتَرِهِ ، وَلَا تَعُدْ فِي صَدَقَتِكَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فی سبیل اللہ کسی شخص کو سواری کے لئے گھوڑا دے دیا ، بعد میں دیکھا کہ وہ گھوڑا خود یا اس کا کوئی بچہ بازار میں بک رہا ہے ، انہوں نے سوچا کہ اسے خرید لیتا ہوں ، چنانچہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مشورہ کیا ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اس سے منع کر دیا اور فرمایا کہ اسے مت خریدو اور اپنے صدقے سے رجوع مت کرو ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 166
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1490، م: 1620
حدیث نمبر: 167
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ يُحَدِّثُ ، عَنْ عُمَرَ ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ ، وَقَالَ سُفْيَانُ مَرَّةً : عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " تَابِعُوا بَيْنَ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ ، فَإِنَّ مُتَابَعَةً بَيْنَهُمَا يَنْفِيَانِ الْفَقْرَ وَالذُّنُوبَ ، كَمَا يَنْفِي الْكِيرُ خَبَثَ الْحَدِيدِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”حج و عمرہ تسلسل کے ساتھ کیا کرو ، کیونکہ ان کے تسلسل سے فقر و فاقہ اور گناہ ایسے دور ہو جاتے ہیں جیسے بھٹی میں لوہے کا میل کچیل دور ہو جاتا ہے ۔ “
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 167
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف عاصم بن عبيد الله
حدیث نمبر: 168
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَقَّاصٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ عُمَرَ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّةِ ، وَلِكُلِّ امْرِئٍ مَا نَوَى ، فَمَنْ كَانَتْ هِجْرَتُهُ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ، فَهِجْرَتُهُ إِلَى مَا هَاجَرَ إِلَيْهِ ، وَمَنْ كَانَتْ هِجْرَتُهُ لِدُنْيَا يُصِيبُهَا ، أَوْ امْرَأَةٍ يَنْكِحُهَا ، فَهِجْرَتُهُ إِلَى مَا هَاجَرَ إِلَيْهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اعمال کا دارومدار تو نیت پر ہے اور ہر انسان کو وہی ملے گا جس کی اس نے نیت کی ہو ، سو جس شخص کی ہجرت اللہ کی طرف ہو ، تو وہ اس کی طرف ہی ہو گی جس کی طرف اس نے ہجرت کی اور جس کی ہجرت حصول دنیا کے لئے ہو یا کسی عورت سے نکاح کی خاطر ہو تو اس کی ہجرت اس چیز کی طرف ہو گی جس کی طرف اس نے کی ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 168
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1، م: 1907
حدیث نمبر: 169
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدَةَ بْنِ أَبِي لُبَابَةَ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، قَالَ : قَالَ الصُّبَيُّ بْنُ مَعْبَدٍ : " كُنْتُ رَجُلًا نَصْرَانِيًّا فَأَسْلَمْتُ ، فَأَهْلَلْتُ بِالْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ ، فَسَمِعَنِي زَيْدُ بْنُ صُوحَانَ ، وَسَلْمَانُ بْنُ رَبِيعَةَ ، وَأَنَا أُهِلُّ بِهِمَا ، فَقَالَا : لَهَذَا أَضَلُّ مِنْ بَعِيرِ أَهْلِهِ ، فَكَأَنَّمَا حُمِلَ عَلَيَّ بِكَلِمَتِهِمَا جَبَلٌ ، فَقَدِمْتُ عَلَى عُمَرَ ، فَأَخْبَرْتُهُ ، فَأَقْبَلَ عَلَيْهِمَا فَلَامَهُمَا ، وَأَقْبَلَ عَلَيَّ فَقَالَ : هُدِيتَ لِسُنَّةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، هُدِيتَ لِسُنَّةِ نَبِيِّكَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " ، قَالَ عَبْدَةُ : قَالَ أَبُو وَائِلٍ : كَثِيرًا مَا ذَهَبْتُ أَنَا وَمَسْرُوقٌ إِلَى الصُّبَيِّ نَسْأَلُهُ عَنْهُ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابووائل رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ صبی بن معبد کہتے ہیں کہ میں ایک عیسائی تھا ، پھر میں نے اسلام قبول کر لیا ، میں نے میقات پر پہنچ کر حج اور عمرہ دونوں کا احرام باندھ لیا ، زید بن صوحان اور سلمان بن ربیعہ کو معلوم ہوا تو انہوں نے کہا کہ یہ شخص اپنے اونٹ سے بھی زیادہ گمراہ ہے ، ان دونوں کی یہ بات مجھ پر پہاڑ سے بھی زیادہ بوجھ ثابت ہوئی ، چنانچہ میں جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا تو زید اور سلمان نے جو کہا تھا ، اس کے متعلق ان کی خدمت میں عرض کیا ، سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے ان دونوں کی طرف متوجہ ہو کر انہیں ملامت کی اور میری طرف متوجہ ہو کر فرمایا کہ آپ کو اپنے پیغمبر کی سنت کی رہنمائی نصیب ہو گئی ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 169
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 170
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : ذُكِرَ لِعُمَرَ أَنَّ سَمُرَةَ ، وَقَالَ مَرَّةً : بَلَغَ عُمَرَ أَنَّ سَمُرَةَ بَاعَ خَمْرًا ، قَالَ : قَاتَلَ اللَّهُ سَمُرَةَ ، إِنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَعَنَ اللَّهُ الْيَهُودَ ، حُرِّمَتْ عَلَيْهِمْ الشُّحُومُ ، فَجَمَلُوهَا ، فَبَاعُوهَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے سامنے یہ بات ذکر کی گئی کہ سمرہ نے شراب فروخت کی ہے ، انہوں نے فرمایا : اللہ اسے ہلاک کرے ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تو فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ یہودیوں پر لعنت فرمائے کہ ان پر چربی کو حرام قرار دیا گیا لیکن انہوں نے اسے پگھلا کر اس کا تیل بنا لیا اور اسے فروخت کرنا شروع کر دیا ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 170
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2223، م: 1582
حدیث نمبر: 171
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، وَمَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَوْسِ بْنِ الْحَدَثَانِ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، قَالَ : كَانَتْ أَمْوَالُ بَنِي النَّضِيرِ مِمَّا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِمَّا لَمْ يُوجِفْ الْمُسْلِمُونَ عَلَيْهِ بِخَيْلٍ ، وَلَا رِكَابٍ ، فَكَانَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَالِصَةً ، وَكَانَ يُنْفِقُ عَلَى أَهْلِهِ مِنْهَا نَفَقَةَ سَنَته ، وَقَالَ مَرَّةً : " قُوتَ سَنِتِه ، وَمَا بَقِيَ جَعَلَهُ فِي الْكُرَاعِ وَالسِّلَاحِ عُدَّةً فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بنو نضیر سے حاصل ہونے والے اموال کا تعلق مال فئی سے تھا جو اللہ نے اپنے پیغمبر کو عطا فرمائے اور مسلمانوں کو اس پر گھوڑے یا کوئی اور سواری دوڑانے کی ضرورت نہیں پیش آئی ، اس لئے یہ مال خاص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا تھا ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس میں سے اپنی ازواج مطہرات کو سال بھر کا نفقہ ایک ہی مرتبہ دے دیا کرتے تھے اور جو باقی بچتا اس سے گھوڑے اور دیگر اسلحہ جو جہاد میں کام آ سکے فراہم کر لیتے تھے ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 171
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2904، م: 1757
حدیث نمبر: 172
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَوْسٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ عُمَرَ ، يَقُولُ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، وَطَلْحَةَ ، وَالزُّبَيْرِ ، وَسَعْدٍ : نَشَدْتُكُمْ بِاللَّهِ الَّذِي تَقُومُ السَّمَاءُ وَالْأَرْضُ بِهِ ، أَعَلِمْتُمْ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّا لَا نُورَثُ ، مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ " ؟ قَالُوا : اللَّهُمَّ نَعَمْ .
مولانا ظفر اقبال
ایک مرتبہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا عبدالرحمن بن عوف ، سیدنا طلحہ ، سیدنا زبیر اور سیدنا سعد رضی اللہ عنہم سے فرمایا : میں تمہیں اس اللہ کی قسم اور واسطہ دیتا ہوں جس کے حکم سے زمین و آسمان قائم ہیں ، کیا آپ کے علم میں یہ بات ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے ”ہمارے مال میں وراثت جاری نہیں ہوتی ، ہم جو کچھ چھوڑ جاتے ہیں وہ سب صدقہ ہوتا ہے ؟“ انہوں نے اثبات میں جواب دیا ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 172
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح كسابقه
حدیث نمبر: 173
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سَفْيَانُ ، عَنْ ابْنِ أَبِي يَزِيدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اشاد فرمایا : ”بچہ بستر والے کا ہوتا ہے ۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 173
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح لغيره، أبو يزيد المكي والد عبيدالله لم يرو عنه غير ابنه عبيدالله، وذكره ابن حبان فى الثقات
حدیث نمبر: 174
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ ، أَنْبَأَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي عَمَّارٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَابَيْهِ ، عَنْ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ ، قَالَ : سَأَلْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ، قُلْتُ : لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَقْصُرُوا مِنَ الصَّلاةِ إِنْ خِفْتُمْ أَنْ يَفْتِنَكُمُ الَّذِينَ كَفَرُوا سورة النساء آية 101 ، وَقَدْ أَمَّنَ اللَّهُ النَّاسَ ؟ ! فَقَالَ لِي عُمَرُ : عَجِبْتُ مِمَّا عَجِبْتَ مِنْهُ ، فَسَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ ، فَقَالَ : " صَدَقَةٌ تَصَدَّقَ اللَّهُ بِهَا عَلَيْكُمْ ، فَاقْبَلُوا صَدَقَتَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
یعلی بن امیہ کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ قرآن کریم میں قصر کا جو حکم ”خوف“ کی حالت میں آیا ہے ، اب تو ہر طرف امن و امان ہو گیا ہے تو کیا یہ حکم ختم ہو گیا ؟ (اگر ایسا ہے تو پھر قرآن میں اب تک یہ آیت کیوں موجود ہے ؟ ) تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ مجھے بھی اسی طرح تعجب ہوا تھا جس طرح تمہیں ہوا ہے اور میں نے بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق دریافت کیا تھا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا : ”یہ اللہ کی طرف سے صدقہ ہے جو اس نے اپنے بندوں پر کیا ہے ، لہٰذا اس صدقے اور مہربانی کو قبول کرو ۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 174
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 686
حدیث نمبر: 175
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَة ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى عُمَرَ وَهُوَ بِعَرَفَةَ ، قَالَ أَبُو مُعَاوِيَة : وَحَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ خَيْثَمَةَ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ مَرْوَانَ : أَنَّهُ أَتَى عُمَرَ ، فَقَالَ : جِئْتُ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ مِنَ الْكُوفَةِ ، وَتَرَكْتُ بِهَا رَجُلًا يُمْلِي الْمَصَاحِفَ عَنْ ظَهْرِ قَلْبِهِ ، فَغَضِبَ وَانْتَفَخَ حَتَّى كَادَ يَمْلَأُ مَا بَيْنَ شُعْبَتَيْ الرَّجلِ ، فَقَالَ : وَمَنْ هُوَ وَيْحَكَ ؟ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ : فَمَا زَالَ يُطْفَأُ وَيُسَرَّى عَنْهُ الْغَضَبُ ، حَتَّى عَادَ إِلَى حَالِهِ الَّتِي كَانَ عَلَيْهَا ، ثُمَّ قَالَ : وَيْحَكَ ، وَاللَّهِ مَا أَعْلَمُهُ بَقِيَ مِنَ النَّاسِ أَحَدٌ هُوَ أَحَقُّ بِذَلِكَ مِنْهُ ، وَسَأُحَدِّثُكَ عَنْ ذَلِكَ ، كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَزَالُ يَسْمُرُ عِنْدَ أَبِي بَكْرٍ اللَّيْلَةَ كَذَلكَ فِي الْأَمْرِ مِنْ أَمْرِ الْمُسْلِمِينَ ، وَإِنَّهُ سَمَرَ عِنْدَهُ ذَاتَ لَيْلَةٍ ، وَأَنَا مَعَهُ ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَخَرَجْنَا مَعَهُ ، فَإِذَا رَجُلٌ قَائِمٌ يُصَلِّي فِي الْمَسْجِدِ ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَمِعُ قِرَاءَتَهُ ، فَلَمَّا كِدْنَا أَنْ نَعْرِفَهُ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَقْرَأَ الْقُرْآنَ رَطْبًا كَمَا أُنْزِلَ ، فَلْيَقْرَأْهُ عَلَى قِرَاءَةِ ابْنِ أُمِّ عَبْدٍ " ، قَالَ : ثُمَّ جَلَسَ الرَّجُلُ يَدْعُو ، فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ لَهُ : " سَلْ تُعْطَهْ ، سَلْ تُعْطَهْ " ، قَالَ عُمَرُ : قُلْتُ : وَاللَّهِ لَأَغْدُوَنَّ إِلَيْهِ فَلَأُبَشِّرَنَّهُ ، قَالَ : فَغَدَوْتُ إِلَيْهِ لِأُبَشِّرَهُ ، فَوَجَدْتُ أَبَا بَكْرٍ قَدْ سَبَقَنِي إِلَيْهِ فَبَشَّرَهُ ، وَلَا وَاللَّهِ مَا سَبَقْتُهُ إِلَى خَيْرٍ قَطُّ ، إِلَّا وَسَبَقَنِي إِلَيْهِ .
مولانا ظفر اقبال
قیس بن مروان کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ امیر المؤمنین ! میں کوفہ سے آپ کے پاس آ رہا ہوں ، وہاں میں ایک ایسے آدمی کو چھوڑ کر آیا ہوں جو اپنی یاد سے قرآن کریم املاء کروا رہا ہے ، یہ سن کر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ غضب ناک ہو گئے اور ان کی رگیں اس طرح پھول گئیں کہ کجاوے کے دونوں کنارے ان سے بھر گئے اور مجھ سے پوچھا: افسوس ! وہ کون ہے ؟ میں نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا نام لیا ۔ میں نے دیکھا کہ ان کا نام سنتے ہی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا غصہ ٹھنڈا ہونے لگا اور ان کی وہ کیفیت ختم ہونا شروع ہو گئی ، یہاں تک کہ وہ نارمل ہو گئے اور مجھ سے فرمایا : کمبخت ! میں اللہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میرے علم کے مطابق لوگوں میں ان سے زیادہ اس کا کوئی حق دار نہیں ہے اور میں تمہیں اس کے متعلق ایک حدیث سناتا ہوں ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ معمول مبارک تھا کہ رات کے وقت سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ مسلمانوں کے معاملات میں مشورہ کرنے کے لئے تشریف لے جاتے تھے ، ایک مرتبہ اسی طرح رات کے وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ساتھ گفتگو میں مصروف تھے ، میں بھی وہاں موجود تھا ، فراغت کے بعد جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے نکلے تو ہم بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکل آئے ، دیکھا کہ ایک آدمی مسجد میں کھڑا نماز پڑھ رہا ہے ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کی قرأت سننے کے لئے کھڑے ہو گئے ۔ ابھی ہم اس آدمی کی آواز پہچاننے کی کوشش کر ہی رہے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص قرآن کریم کو اسی طرح تروتازہ پڑھنا چاہے جیسے وہ نازل ہوا ہے ، تو اسے چاہیے کہ وہ ابن ام عبد کی قرأت پر اسے پڑھے ، پھر وہ آدمی بیٹھ کر دعا کرنے لگا ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس سے فرمانے لگے : ”مانگو ، تمہیں عطاء کیا جائے گا ۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے دل میں سوچا کہ صبح ہوتے ہی میں انہیں یہ خوشخبری ضرور سناؤں گا ، چنانچہ جب میں صبح انہیں یہ خوشخبری سنانے کے لئے پہنچا تو وہاں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو بھی پایا ، وہ مجھ پر اس معاملے میں بھی سبقت لے گئے ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 175
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناداه صحيحان
حدیث نمبر: 176
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَابِسِ بْنِ رَبِيعَةَ ، قَالَ : رَأَيْتُ عُمَرَ يُقَبِّلُ الْحَجَرَ ، وَيَقُولُ : " إِنِّي لَأُقَبِّلُكَ وَأَعْلَمُ أَنَّكَ حَجَرٌ ، وَلَوْلَا أَنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُكَ ، لَمْ أُقَبِّلْكَ " .
مولانا ظفر اقبال
عابس بن ربیعہ کہتے ہیں کہ میں نے ایک مرتبہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ وہ حجر اسود کو بوسہ دے رہے ہیں اور اس سے مخاطب ہو کر فرما رہے ہیں میں جانتا ہوں کہ تو ایک پتھر ہے لیکن میں تجھے پھر بھی بوسہ دے رہا ہوں اگر میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو تیرا بوسہ لیتے ہوئے نہ دیکھا ہوتا تو میں تجھے کبھی بوسہ نہ دیتا ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 176
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1597، م: 1270
حدیث نمبر: 177
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ : خَطَبَ عُمَرُ النَّاسَ بِالْجَابِيَةِ ، فَقَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ فِي مِثْلِ مَقَامِي هَذَا ، فَقَالَ : " أَحْسِنُوا إِلَى أَصْحَابِي ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ، ثُمَّ يَجِيءُ قَوْمٌ يَحْلِفُ أَحَدُهُمْ عَلَى الْيَمِينِ قَبْلَ أَنْ يُسْتَحْلَفَ عَلَيْهَا ، وَيَشْهَدُ عَلَى الشَّهَادَةِ قَبْلَ أَنْ يُسْتَشْهَدَ ، فَمَنْ أَحَبَّ مِنْكُمْ أَنْ يَنَالَ بُحْبُوحَةَ الْجَنَّةِ ، فَلْيَلْزَمْ الْجَمَاعَةَ ، فَإِنَّ الشَّيْطَانَ مَعَ الْوَاحِدِ ، وَهُوَ مِنَ الِاثْنَيْنِ أَبْعَدُ ، وَلَا يَخْلُوَنَّ رَجُلٌ بِامْرَأَةٍ ، فَإِنَّ ثَالِثَهُمَا الشَّيْطَانُ ، وَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ تَسُرُّهُ حَسَنَتُهُ ، وَتَسُوءُهُ سَيِّئَتُهُ ، فَهُوَ مُؤْمِنٌ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ دوران سفر ”جابیہ“ میں خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسی طرح خطبہ ارشاد فرمانے کے لئے کھڑے ہوئے جیسے میں کھڑا ہوں اور فرمایا کہ میں تمہیں اپنے صحابہ کے ساتھ بھلائی کی وصیت کرتا ہوں ، یہی حکم ان کے بعد والوں اور ان کے بعد والوں کا بھی ہے ، اس کے بعد ایک قوم ایسی آئے گی جو قسم کی درخواست سے پہلے ہی قسم کھانے کے لئے تیار ہو گی اور گواہی کی درخواست سے قبل ہی آدمی گواہی دینے کے لئے تیار ہو جائے گا ، سو تم میں سے جو شخص جنت کا ٹھکانہ چاہتا ہے اسے چاہیے کہ وہ ”جماعت“ کو لازم پکڑے ، کیونکہ اکیلے آدمی کے ساتھ شیطان ہوتا ہے اور دو سے دور ہوتا ہے ، یاد رکھو ! تم میں سے کوئی شخص کسی عورت کے ساتھ خلوت میں نہ بیٹھے کیونکہ ان دو کے ساتھ تیسرا شیطان ہوتا ہے اور جس شخص کو اپنی نیکی سے خوشی اور برائی سے غم ہو ، وہ مومن ہے ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 177
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، رجاله ثقات غير أنه اختلف فيه على عبدالملك بن عمير، لكثرة اختلاف الثقات عنه فى الإسناد
حدیث نمبر: 178
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عُمَرَ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَسْمُرُ عِنْدَ أَبِي بَكْرٍ اللَّيْلَةَ ، كَذَلِكَ فِي الْأَمْرِ مِنْ أَمْرِ الْمُسْلِمِينَ ، وَأَنَا مَعَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ معمول مبارک تھا کہ روزانہ رات کو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس مسلمانوں کے معاملات میں مشورے کے لئے تشریف لے جاتے تھے ، ایک مرتبہ میں بھی اس موقع پر موجود تھا ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 178
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 179
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، قَالَ : قَالَ عُمَرُ : " مَا سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ شَيْءٍ أَكْثَرَ مِمَّا سَأَلْتُهُ عَنِ الْكَلَالَةِ ، حَتَّى طَعَنَ بِإِصْبَعِهِ فِي صَدْرِي ، وَقَالَ : تَكْفِيكَ آيَةُ الصَّيْفِ الَّتِي فِي آخِرِ سُورَةِ النِّسَاءِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے ”کلالہ“ سے متعلق نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے جتنی مرتبہ سوال کیا ، اس سے زیادہ کسی چیز کے متعلق سوال نہیں کیا ، یہاں تک کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے سینے پر اپنی انگلی رکھ کر فرمایا کہ تمہارے لئے سورت نساء کی آخری آیت جو موسم گرما میں نازل ہوئی تھی کافی ہے ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 179
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 567
حدیث نمبر: 180
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنْ عُمَرَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الْمَيِّتُ يُعَذَّبُ فِي قَبْرِهِ بِالنِّيَاحَةِ عَلَيْهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”میت کو اس کی قبر میں اس پر ہونے والے نوحے کی وجہ سے عذاب ہوتا ہے ۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 180
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1292، م: 927
حدیث نمبر: 181
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ مَوْلَى أَسْمَاءَ ، قَالَ : أَرْسَلَتْنِي أَسْمَاءُ إِلَى ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ بَلَغَهَا أَنَّكَ تُحَرِّمُ أَشْيَاءَ ثَلَاثَةً : الْعَلَمَ فِي الثَّوْبِ ، وَمِيثَرَةَ الْأُرْجُوَانِ ، وَصَوْمَ رَجَبٍ كُلِّهِ ، فَقَالَ : أَمَّا مَا ذَكَرْتَ مِنْ صَوْمِ رَجَبٍ ، فَكَيْفَ بِمَنْ يَصُومُ الْأَبَدَ ؟ وَأَمَّا مَا ذَكَرْتَ مِنَ الْعَلَمِ فِي الثَّوْبِ ، فَإِنِّي سَمِعْتُ عُمَرَ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : أي " مَنْ لَبِسَ الْحَرِيرَ فِي الدُّنْيَا ، لَمْ يَلْبَسْهُ فِي الْآخِرَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
عبداللہ جو سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا کے غلام تھے کہتے ہیں کہ مجھے ایک مرتبہ سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس بھیجا اور فرمایا کہ مجھے پتہ چلا ہے کہ آپ تین چیزوں کو حرام قرار دیتے ہیں ۔ کپڑوں میں ریشمی نقش ونگار کو ، سرخ رنگ کے کپڑوں کو ، مکمل ماہ رجب کے روزوں کو ۔ انہوں نے جواباً کہلوا بھیجا کہ آپ نے رجب کے روزوں کو حرام قرار دینے کی جو بات ذکر کی ہے ، جو شخص خود سارا سال روزے رکھتا ہو ، وہ یہ بات کیسے کہہ سکتا ہے ؟ (یعنی یہ بات میں نے نہیں کہی) اور جہاں تک کپڑوں میں نقش و نگار کی بات ہے تو میں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے سنا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”جو شخص دنیا میں ریشم پہنتا ہے وہ آخرت میں اسے نہیں پہن سکے گا ۔ “
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 181
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2069
حدیث نمبر: 182
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، أَنَا سَأَلْتُهُ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : كُنَّا مَعَ عُمَرَ بَيْنَ مَكَّةَ ، وَالْمَدِينَةِ ، فَتَرَاءَيْنَا الْهِلَالَ ، وَكُنْتُ حَدِيدَ الْبَصَرِ ، فَرَأَيْتُهُ ، فَجَعَلْتُ أَقُولُ لِعُمَرَ : أَمَا تَرَاهُ ؟ قَالَ : سَأَرَاهُ وَأَنَا مُسْتَلْقٍ عَلَى فِرَاشِي ، ثُمَّ أَخَذَ يُحَدِّثُنَا عَنْ أَهْلِ بَدْرٍ ، قَالَ : إِنْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيُرِينَا مَصَارِعَهُمْ بِالْأَمْسِ ، يَقُولُ : " هَذَا مَصْرَعُ فُلَانٍ غَدًا ، إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى ، وَهَذَا مَصْرَعُ فُلَانٍ غَدًا ، إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى " ، قَالَ : فَجَعَلُوا يُصْرَعُونَ عَلَيْهَا ، قَالَ : قُلْتُ : وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ ، مَا أَخْطَئوا تِيكَ ، كَانُوا يُصْرَعُونَ عَلَيْهَا ، ثُمَّ أَمَرَ بِهِمْ ، فَطُرِحُوا فِي بِئْرٍ ، فَانْطَلَقَ إِلَيْهِمْ ، فَقَالَ : " يَا فُلَانُ ، يَا فُلَانُ ، هَلْ وَجَدْتُمْ مَا وَعَدَكُمْ اللَّهُ حَقًّا ، فَإِنِّي وَجَدْتُ مَا وَعَدَنِي اللَّهُ حَقًّا " ، قَالَ عُمَرُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَتُكَلِّمُ قَوْمًا قَدْ أَنْتَنُوا ؟ قَالَ : " مَا أَنْتُمْ بِأَسْمَعَ لِمَا أَقُولُ مِنْهُمْ ، وَلَكِنْ لَا يَسْتَطِيعُونَ أَنْ يُجِيبُوا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے درمیان تھے کہ ہمیں پہلی کا چاند دکھائی دیا ، میری بصارت تیز تھی اس لئے میں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے عرض کیا کہ آپ دیکھ رہے ہیں ؟ فرمایا : میں ابھی دیکھتا ہوں ، میں اس وقت فرش پر چت لیٹا ہوا تھا ، پھر عمر رضی اللہ عنہ اہل بدر کے حوالے سے حدیث بیان کرنے لگے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایک دن پہلے ہی وہ تمام جگہیں دکھا دیں جہاں کفار کی لاشیں گرنی تھیں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم دکھاتے جاتے تھے اور فرماتے جاتے تھے کہ یہاں فلاں کی لاش گرے گی اور ان شاء اللہ کل یہاں فلاں شخص قتل ہو گا ، چنانچہ ایسا ہی ہوا اور وہ انہی جگہوں پر گرنے لگے جہاں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا ۔ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا، اس ذات کی قسم ! جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے یہ تو اس جگہ سے ”جس کی نشاندہی آپ نے فرمائی تھی“ ذرا بھی ادھر ادھر نہیں ہوئے ، اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر ان کی لاشیں گھسیٹ کر ایک کنویں میں پھینک دی گئیں ، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کنوئیں کے پاس جا کر کھڑے ہوئے اور ایک ایک کا نام لے کر فرمایا کہ کیا تم نے اپنے پروردگار کے وعدے کو سچا پایا یا نہیں ؟ میں نے تو اپنے پروردگار کے وعدے کو سچا پایا ، میں نے عرض کیا ، یا رسول اللہ ! آپ ان لوگوں سے گفتگو فرما رہے ہیں جو مردار ہو چکے ، فرمایا : ”میں ان سے جو کچھ کہہ رہا تم ان سے زیادہ نہیں سن رہے البتہ فرق صرف اتنا ہے کہ یہ جواب نہیں دے سکتے ( اور تم جواب دے سکتے ہو)۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 182
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2873
حدیث نمبر: 183
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ : فَلَمَّا رَجَعَ عَمْرٌو جَاءَ بَنُو مَعْمَرِ بْنِ حَبِيبٍ يُخَاصِمُونَهُ فِي وَلَاءِ أُخْتِهِمْ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، فَقَالَ : أَقْضِي بَيْنَكُمْ بِمَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " مَا أَحْرَزَ الْوَلَدُ أَوْ الْوَالِدُ ، فَهُوَ لِعَصَبَتِهِ مَنْ كَانَ " فَقَضَى لَنَا بِهِ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ بنو معمر بن حبیب اپنی بہن کی ولاء کا جھگڑ الے کر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے ، انہوں نے فرمایا کہ میں تمہارے درمیان اسی طرح فیصلہ کروں گا جیسے میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اولاد یا والد نے جو کچھ بھی جمع کیا ہے وہ سب اس کے عصبہ کا ہو گا خواہ وہ کوئی بھی ہو ، چنانچہ انہوں نے اسی کے مطابق فیصلہ فرمایا ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 183
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 184
(حديث مرفوع) قَرَأْتُ عَلَى يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ غِيَاثٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ ، وَحُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحِمْيَرِيِّ ، قَالَا : لَقِينَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، فَذَكَرْنَا الْقَدَرَ ، وَمَا يَقُولُونَ فِيهِ ، فَقَالَ : إِذَا رَجَعْتُمْ إِلَيْهِمْ ، فَقُولُوا : إِنَّ ابْنَ عُمَرَ مِنْكُمْ بَرِيءٌ ، وَأَنْتُمْ مِنْهُ بُرَآءُ ثَلَاثَ مِرَارٍ ، ثُمَّ قَالَ : أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ أَنَّهُمْ بَيْنَما هُمْ جُلُوسٌ ، أَوْ قُعُودٌ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، جَاءَهُ رَجُلٌ يَمْشِي ، حَسَنُ الْوَجْهِ ، حَسَنُ الشَّعْرِ ، عَلَيْهِ ثِيَابُ بَيَاضٍ ، فَنَظَرَ الْقَوْمُ بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ : مَا نَعْرِفُ هَذَا ، وَمَا هَذَا بِصَاحِبِ سَفَرٍ ، ثُمَّ قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، آتِيكَ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، فَجَاءَ فَوَضَعَ رُكْبَتَيْهِ عِنْدَ رُكْبَتَيْهِ ، وَيَدَيْهِ عَلَى فَخِذَيْهِ ، فَقَالَ : مَا الْإِسْلَامُ ؟ قَالَ : " شَهَادَةُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ ، وَتُقِيمُ الصَّلَاةَ ، وَتُؤْتِي الزَّكَاةَ ، وَتَصُومُ رَمَضَانَ ، وَتَحُجُّ الْبَيْتَ " ، قَالَ : فَمَا الْإِيمَانُ ؟ قَالَ : " أَنْ تُؤْمِنَ بِاللَّهِ وَمَلَائِكَتِهِ ، وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ ، وَالْبَعْثِ بَعْدَ الْمَوْتِ ، وَالْقَدَرِ كُلِّهِ " ، قَالَ : فَمَا الْإِحْسَانُ ؟ قَالَ : " أَنْ تَعْمَلَ لِلَّهِ كَأَنَّكَ تَرَاهُ ، فَإِنْ لَمْ تَكُنْ تَرَاهُ فَإِنَّهُ يَرَاكَ " ، قَالَ : فَمَتَى السَّاعَةُ ؟ قَالَ : " مَا الْمَسْئُولُ عَنْهَا بِأَعْلَمَ مِنَ السَّائِلِ " ، قَالَ : فَمَا أَشْرَاطُهَا ؟ قَالَ : " إِذَا الْعُرَاةُ الْحُفَاةُ الْعَالَةُ رِعَاءُ الشَّاءِ تَطَاوَلُوا فِي الْبُنْيَانِ ، وَوَلَدَتْ الْإِمَاءُ رَبَّاتِهِنَّ ، قَالَ : ثُمَّ قَالَ : عَلَيَّ الرَّجُلَ " ، فَطَلَبُوهُ ، فَلَمْ يَرَوْا شَيْئًا ، فَمَكَثَ يَوْمَيْنِ أَوْ ثَلَاثَةً ، ثُمَّ قَالَ : " يَا ابْنَ الْخَطَّابِ ، أَتَدْرِي مَنْ السَّائِلُ عَنْ كَذَا وَكَذَا ؟ " قَالَ : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ ، قَالَ : " ذَاكَ جِبْرِيلُ ، جَاءَكُمْ يُعَلِّمُكُمْ دِينَكُمْ " . (حديث موقوف) (حديث قدسي) قَالَ : وَسَأَلَهُ رَجُلٌ مِنْ جُهَيْنَةَ ، أَوْ مُزَيْنَةَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فِيمَا نَعْمَلُ ، أَفِي شَيْءٍ قَدْ خَلَا أَوْ مَضَى ، أَوْ فِي شَيْءٍ يُسْتَأْنَفُ الْآنَ ؟ قَالَ : " فِي شَيْءٍ قَدْ خَلَا أَوْ مَضَى " ، فَقَالَ رَجُلٌ ، أَوْ بَعْضُ الْقَوْمِ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فِيمَا نَعْمَلُ ؟ قَالَ : " أَهْلُ الْجَنَّةِ يُيَسَّرُونَ لِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ ، وَأَهْلُ النَّارِ يُيَسَّرُونَ لِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ " ، قَالَ يَحْيَى ، قَالَ : هُوَ هَكَذَا ، يَعْنِي : كَمَا قَرَأْتَ عَلَيَّ .
مولانا ظفر اقبال
یحییٰ بن یعمر اور حمید بن عبدالرحمان حمیری کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہماری ملاقات سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے ہوئی ، ہم نے ان کے سامنے مسئلہ تقدیر کو چھیڑا اور لوگوں کے اعتراضات کا بھی ذکر کیا ، ہماری بات سن کر انہوں نے فرمایا کہ جب تم ان لوگوں کے پاس لوٹ کر جاؤ تو ان سے کہہ دینا کہ ابن عمر تم سے بَری ہے اور تم اس سے بَری ہو ، یہ بات تین مرتبہ کہہ کر انہوں نے یہ روایت سنائی کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ، ایک دن ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بیٹھے ہوئے تھے کہ اچانک ایک آدمی چلتا ہوا آیا ، خوبصورت رنگ ، خوبصورت بال اور سفید کپڑوں میں ملبوس اس آدمی کو دیکھ کر لوگوں نے ایک دوسرے کو دیکھا اور اشاروں میں کہنے لگے کہ ہم تو اسے نہیں پہچانتے اور یہ مسافر بھی نہیں لگتا ۔ اس آدمی نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! کیا میں قریب آ سکتا ہوں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اجازت دے دی ، چنانچہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے گھٹنوں سے گھٹنے ملا کر اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی رانوں پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ گیا اور کہنے لگا کہ اسلام کیا ہے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود ہو ہی نہیں سکتا اور یہ کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے پیغمبر ہیں ، نیز یہ کہ آپ نماز قائم کریں ، زکوٰۃ ادا کریں ، رمضان کے روزے رکھیں اور حج بیت اللہ کریں ۔“ اس نے اگلا سوال یہ پوچھا کہ ایمان کیا ہے ؟ فرمایا : ”تم اللہ پر ، اس کے فرشتوں ، جنت وجہنم ، قیامت کے بعد دوبارہ جی اٹھنے اور تقدیر پر یقین رکھو“ ، اس نے پھر پوچھا کہ احسان کیا ہے ؟ فرمایا : ”تم اللہ کی رضا حاصل کرنے کے لئے کوئی عمل اس طرح کرو گویا کہ تم اسے دیکھ رہے ہو ، اگر تم یہ تصور نہیں کر سکتے تو کم از کم یہی تصور کر لو کہ وہ تو تمہیں دیکھ ہی رہا ہے ۔“ اس نے پھر پوچھا کہ قیامت کب آئے گی ؟ فرمایا : ”جس سے سوال پوچھا جا رہا ہے وہ پوچھنے والے سے زیادہ نہیں جانتا یعنی ہم دونوں ہی اس معاملے میں بےخبر ہیں“ ، اس نے کہا کہ پھر اس کی کچھ علامات ہی بتا دیجئے ؟ فرمایا : ”جب تم یہ دیکھو کہ جن کے جسم پر چیتھڑا اور پاؤں میں لیترا نہیں ہوتا تھا ، غریب اور چرواہے تھے ، آج وہ بڑی بڑی بلڈنگیں اور عمارتیں بنا کر ایک دوسرے پر فخر کرنے لگیں ، لونڈیاں اپنی مالکن کو جنم دینے لگیں تو قیامت قریب آ گئی ۔“ جب وہ آدمی چلا گیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ذرا اس آدمی کو بلا کر لانا ، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اس کی تلاش میں نکلے تو انہیں کچھ نظر نہ آیا ، دو تین دن بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے فرمایا : ”اے ابن خطاب ! کیا تمہیں علم ہے کہ وہ سائل کون تھا ؟“ انہوں نے عرض کیا، اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔ فرمایا : ”وہ جبرائیل علیہ السلام تھے جو تمہیں تمہارے دین کی اہم اہم باتیں سکھانے آئے تھے ۔“ راوی کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے قبیلہ جہینہ یا مزینہ کے ایک آدمی نے بھی یہ سوال پوچھا تھا کہ یا رسول اللہ ! ہم جو عمل کرتے ہیں کیا ان کا فیصلہ پہلے سے ہو چکا ہے یا ہمارا عمل پہلے ہوتا ہے ؟ فرمایا : ”ان کا فیصلہ پہلے ہوچکا ہے“ ، اس نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! پھر عمل کا کیا فائدہ ؟ فرمایا : ”اہل جنت کے لئے اہل جنت کے اعمال آسان کر دئیے جاتے ہیں اور اہل جہنم کے لئے اہل جہنم کے اعمال آسان کر دئیے جاتے ہیں ۔ “
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 184
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 8
حدیث نمبر: 185
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ شُعْبَةَ ، حَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ كُهَيْلٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا الْحَكَمِ ، قَالَ : سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ عَنْ نبيذ الجر ، فقال : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ نَبِيذِ الْجَرِّ وَالدُّبَّاءِ ، وَقَالَ : مَنْ سَرَّهُ أَنْ يُحَرِّمَ مَا حَرَّمَ اللَّهُ تَعَالَى وَرَسُولُهُ ، فَلْيُحَرِّمْ النَّبِيذَ " ، قَالَ : وَسَأَلْتُ ابْنَ الزُّبَيْرِ ، فَقَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الدُّبَّاءِ وَالْجَرِّ " ، قَالَ : وَسَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ ، فَحَدَّثَ عَنْ عُمَرَ : أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنِ الدُّبَّاءِ وَالْمُزَفَّتِ " ، قَالَ : وَحَدَّثَنِي أَخِي ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنِ الْجَرِّ وَالدُّبَّاءِ ، وَالْمُزَفَّتِ وَالْبُسْرِ ، وَالتَّمْرِ " .
مولانا ظفر اقبال
ابوالحکم کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مٹکے کی نبیذ کے متعلق سوال کیا تو فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مٹکے کی نبیذ اور کدو کی تونبی سے تو منع فرمایا ہے ، اس لئے جو شخص اللہ اور اس کے رسول کی حرام کردہ چیزوں کو حرام سمجھنا چاہتا ہے اسے چاہیے کہ نبیذ کو حرام سمجھے ۔ ابوالحکم کہتے ہیں کہ پھر میں نے یہی سوال سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے کیا تو انہوں نے بھی یہی فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مٹکے اور کدو کی تونبی کی نبیذ سے منع فرمایا ہے ، پھر میں نے یہی سوال سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے کیا تو انہوں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ حدیث سنائی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کدو کی تونبی اور سبز مٹکے سے منع فرمایا ہے اور سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ حدیث سنائی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مٹکے ، کدو کی تونبی اور لکڑی کو کھوکھلا کر کے بطور برتن استعمال کرنے سے منع فرمایا ہے اور کچی اور پکی کھجور کی شراب سے بھی منع فرمایا ہے ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 185
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح ، وحديث أبى سعيد، هو الخدري، إسناده صحيح
حدیث نمبر: 186
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، أَنَا سَأَلْتُهُ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ : أَنَّ عُمَرَ خَطَبَ يَوْمَ جُمُعَةٍ ، فَذَكَرَ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَذَكَرَ أَبَا بَكْرٍ ، وَقَالَ : " إِنِّي قَدْ رَأَيْتُ كَأَنَّ دِيكًا قَدْ نَقَرَنِي نَقْرَتَيْنِ ، وَلَا أُرَاهُ إِلَّا لِحُضُورِ أَجَلِي ، وَإِنَّ أَقْوَامًا يَأْمُرُونِي أَنْ أَسْتَخْلِفَ ، وَإِنَّ اللَّهَ لَمْ يَكُنْ لِيُضِيعَ دِينَهُ ، وَلَا خِلَافَتَهُ ، وَالَّذِي بَعَثَ بِهِ نَبِيَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَإِنْ عَجِلَ بِي أَمْرٌ ، فَالْخِلَافَةُ شُورَى بَيْنَ هَؤُلَاءِ السِّتَّةِ الَّذِينَ تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَنْهُمْ رَاضٍ ، وَإِنِّي قَدْ عَلِمْتُ أَنَّ قَوْمًا سَيَطْعُنُونَ فِي هَذَا الْأَمْرِ أَنَا ضَرَبْتُهُمْ بِيَدِي هَذِهِ عَلَى الْإِسْلَامِ ، فَإِنْ فَعَلُوا ، فَأُولَئِكَ أَعْدَاءُ اللَّهِ الْكَفَرَةُ الضُّلَّالُ . (حديث موقوف) (حديث مرفوع) وَإِنِّي لَا أَدَعُ بَعْدِي شَيْئًا أَهَمَّ إِلَيَّ مِنَ الْكَلَالَةِ ، وَمَا أَغْلَظَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي شَيْءٍ مُنْذُ صَاحَبْتُهُ ، مَا أَغْلَظَ لِي فِي الْكَلَالَةِ ، وَمَا رَاجَعْتُهُ فِي شَيْءٍ مَا رَاجَعْتُهُ فِي الْكَلَالَةِ ، حَتَّى طَعَنَ بِإِصْبَعِهِ فِي صَدْرِي ، وَقَالَ : " يَا عُمَرُ ، أَلَا تَكْفِيكَ آيَةُ الصَّيْفِ الَّتِي فِي آخِرِ سُورَةِ النِّسَاءِ ؟ " . فَإِنْ أَعِشْ أَقْضِي فِيهَا قَضِيَّةً يَقْضِي بِهَا مَنْ يَقْرَأُ الْقُرْآنَ ، وَمَنْ لَا يَقْرَأُ الْقُرْآنَ . (حديث موقوف) (حديث موقوف) ثُمَّ قَالَ : " اللَّهُمَّ إِنِّي أُشْهِدُكَ عَلَى أُمَرَاءِ الْأَمْصَارِ ، فَإِنَّمَا بَعَثْتُهُمْ لِيُعَلِّمُوا النَّاسَ دِينَهُمْ ، وَسُنَّةَ نَبِيِّهِمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَيَقْسِمُوا فِيهِمْ فَيْئَهُمْ ، وَيَعْدِلُوا عَلَيْهِمْ ، وَيَرْفَعُوا إِلَيَّ مَا أَشْكَلَ عَلَيْهِمْ مِنْ أَمْرِهِمْ " . رقم الحديث: 188 (حديث موقوف) (حديث مرفوع) أَيُّهَا النَّاسُ ، إِنَّكُمْ تَأْكُلُونَ مِنْ شَجَرَتَيْنِ لَا أُرَاهُمَا إِلَّا خَبِيثَتَيْنِ ، لَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا وَجَدَ رِيحَهُمَا مِنَ الرَّجُلِ فِي الْمَسْجِدِ ، أَمَرَ بِهِ ، فَأُخِذَ بِيَدِهِ ، فَأُخْرِجَ إِلَى الْبَقِيعِ ، وَمَنْ أَكَلَهُمَا ، فَلْيُمِتْهُمَا طَبْخًا " .
مولانا ظفر اقبال
ایک مرتبہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ جمعہ کے دن منبر پر خطبہ کے لئے تشریف لائے ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا تذکرہ کیا ، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی یاد تازہ کی پھر فرمانے لگے کہ میں نے ایک خواب دیکھا ہے اور مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ میری دنیا سے رخصتی کا وقت قریب آ گیا ہے ، میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ ایک مرغے نے مجھے دو مرتبہ ٹھونگ ماری ہے ۔ کچھ لوگ مجھ سے یہ کہہ رہے ہیں کہ میں اپنا خلیفہ مقر کر دوں ، اتنی بات تو طے ہے کہ اللہ اپنے دین کو نہ ضائع کرے گا اور نہ ہی اس خلافت کو جس کے ساتھ اللہ نے اپنے پیغمبر کو مبعوث فرمایا تھا ، اب اگر میرا فیصلہ جلد ہو گیا تو میں مجلس شوری ان چھ افراد کی مقرر کر رہا ہوں جن سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم بوقت رحلت راضی ہو کر تشریف لے گئے تھے ۔ میں جانتا ہوں کہ کچھ لوگ مسئلہ خلافت میں رخنہ ڈالنے کی کوشش کریں گے ، بخدا ! میں اپنے ان ہاتھوں سے اسلام کی مدافعت میں ان لوگوں سے قتال کر چکا ہوں ، اگر یہ لوگ ایسا کریں تو یہ لوگ اللہ کے دشمن ، کافر اور گمراہ ہیں ، میں نے اپنے پیچھے کلالہ سے زیادہ اہم مسئلہ کوئی نہیں چھوڑا ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت اختیار کرنے کے بعد مجھے یاد نہیں پڑتا کہ کسی مسئلہ میں آپ مجھ سے ناراض ہوئے ہوں ، سوائے کلالہ کے مسئلہ کے کہ اس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم انتہائی سخت ناراض ہوئے تھے اور میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی چیز میں اتنا تکرار نہیں کیا جتنا کلالہ کے مسئلے میں کیا تھا ، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلی میرے سینے پر رکھ کر فرمایا : ”کیا تمہارے لئے اس مسئلے میں سورت نساء کی وہ آخری آیت جو گرمی میں نازل ہوئی تھی کافی نہیں ہے ؟“ اگر میں زندہ رہا تو اس مسئلے کا ایسا حل نکال کر جاؤں گا کہ اس آیت کو پڑھنے والے اور نہ پڑھنے والے سب ہی کے علم میں وہ حل آ جائے ، پھر فرمایا : میں اللہ کو گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ میں نے مختلف شہروں میں جو امراء اور گورنر بھیجے ہیں وہ صرف اس لئے کہ وہ لوگوں کو دین سکھائیں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتیں لوگوں کے سامنے بیان کریں ، ان میں مال غنیمت تقسیم کریں ، ان میں انصاف کریں اور میرے سامنے ان کے وہ مسائل پیش کریں جن کا ان کے پاس کوئی حل نہ ہو ۔ لوگو ! تم دو درختوں میں سے کھاتے ہو جنہیں میں گندہ سمجھتا ہوں (ایک لہسن اور دوسرا پیاز ، جنہیں کچا کھانے سے منہ میں بدبو پیدا ہو جاتی ہے ) میں نے دیکھا ہے کہ اگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی شخص کے منہ سے اس کی بدبو آتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم حکم دیتے اور اسے ہاتھ سے پکڑ کر مسجد سے باہر نکال دیا جاتا تھا اور یہی نہیں بلکہ اس کو جنت البقیع تک پہنچا کر لوگ واپس آتے تھے ، اگر کوئی شخص انہیں کھانا ہی چاہتا ہے تو پکا کر ان کی بدبو مار دے ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 186
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 567
حدیث نمبر: 187
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، عَنْ مُجَالِدٍ ، عَنْ عَامِرٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ، يَقُولُ لِطَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ : مَا لِي أَرَاكَ قَدْ شَعِثْتَ وَاغْبَرَرْتَ مُنْذُ تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ لَعَلَّكَ سَاءَكَ يَا طَلْحَةُ إِمَارَةُ ابْنِ عَمِّكَ ؟ قَالَ : مَعَاذَ اللَّهِ ، إِنِّي لَأَحْذَرُكُمْ أَنْ لَا أَفْعَلَ ذَلِكَ ، إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " إِنِّي لَأَعْلَمُ كَلِمَةً لَا يَقُولُهَا أَحَدٌ عِنْدَ حَضْرَةِ الْمَوْتِ إِلَّا وَجَدَ رُوحَهُ لَهَا رَوْحًا حِينَ تَخْرُجُ مِنْ جَسَدِهِ ، وَكَانَتْ لَهُ نُورًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ " ، فَلَمْ أَسْأَلْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْهَا ، وَلَمْ يُخْبِرْنِي بِهَا ، فَذَلِكَ الَّذِي دَخَلَنِي ، قَالَ عُمَرُ : فَأَنَا أَعْلَمُهَا ، قَالَ : فَلِلَّهِ الْحَمْدُ ، قَالَ : فَمَا هِيَ ؟ قَالَ : هِيَ الْكَلِمَةُ الَّتِي قَالَهَا لِعَمِّهِ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، قَالَ طَلْحَةُ : صَدَقْتَ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ سے یہ فرماتے ہوئے سنا کہ کیا بات ہے ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال مبارک کے بعد سے آپ پراگندہ حال اور غبار آلود رہنے لگے ہیں ؟ کیا آپ کو اپنے چچا زاد بھائی کی یعنی میری خلافت اچھی نہیں لگی ؟ انہوں نے فرمایا : اللہ کی پناہ ! مجھے تو کسی صورت ایسا نہیں کرنا چاہیے ، اصل بات یہ ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ میں ایک ایسا کلمہ جانتا ہوں کہ اگر کوئی شخص نزع کی حالت میں وہ کلمہ کہہ لے تو اس کے لئے روح نکلنے میں سہولت پیدا ہو جائے اور قیامت کے دن وہ اس کے لئے باعث نور ہو ، مجھے افسوس ہے کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کلمے کے بارے میں پوچھ نہیں سکا اور خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی نہیں بتایا ، میں اس وجہ سے پریشان ہوں ۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں وہ کلمہ جانتاہوں ، سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے الحمدللہ کہہ کر پوچھا: کہ وہ کیا کلمہ ہے ؟ فرمایا وہی کلمہ جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے چچا کے سامنے پیش کیا تھا یعنی لا الہ الا اللہ ، سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ فرمانے لگے کہ آپ نے سچ فرمایا ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 187
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح بطرقه، وهذا إسناد ضعيف لضعف مجالد
حدیث نمبر: 188
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ ، أَنْبَأَنَا أَبُو عُمَيْسٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ مِنْ الْيَهُودِ إِلَى عُمَرَ ، فَقَالَ : " يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ، إِنَّكُمْ تَقْرَءُونَ آيَةً فِي كِتَابِكُمْ ، لَوْ عَلَيْنَا مَعْشَرَ الْيَهُودِ نَزَلَتْ ، لَاتَّخَذْنَا ذَلِكَ الْيَوْمَ عِيدًا ، قَالَ : وَأَيُّ آيَةٍ هِيَ ؟ قَالَ : قَوْلُهُ عَزَّ وَجَلَّ : الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي سورة المائدة آية 3 ، قَالَ : فَقَالَ عُمَرُ : وَاللَّهِ إِنَّنِي لَأَعْلَمُ الْيَوْمَ الَّذِي نَزَلَتْ فِيهِ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَالسَّاعَةَ الَّتِي نَزَلَتْ فِيهَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، عَشِيَّةَ عَرَفَةَ فِي يَوْمِ الْجُمُعَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
طارق بن شہاب کہتے ہیں کہ ایک یہودی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا : امیر المؤمنین ! آپ لوگ اپنی کتاب میں ایک آیت ایسی پڑھتے ہیں جو ہم یہودیوں پر نازل ہوئی ہوتی تو ہم اس دن کو عید بنا لیتے جس دن وہ نازل ہوئی ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا: وہ کون سی آیت ہے ؟ اس نے آیت تکمیل دین کا حوالہ دیا ، اس پر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ بخدا ! مجھے علم ہے کہ یہ آیت کس دن اور کس وقت نازل ہوئی تھی ، یہ آیت نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر جمعہ کے دن عرفہ کی شام نازل ہوئی تھی ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 188
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 45 ، م : 3017
حدیث نمبر: 189
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَيَّاشِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ حَكِيمِ بْنِ عَبَّادِ بْنِ حُنَيْفٍ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ : أَنَّ رَجُلًا رَمَى رَجُلًا بِسَهْمٍ فَقَتَلَهُ ، وليس له وارث إلا خال ، فكتب في ذلك أبو عبيدة بن الجراح ، إلى عمر ، فكتب : أن النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " اللَّهُ وَرَسُولُهُ مَوْلَى مَنْ لَا مَوْلَى لَهُ ، وَالْخَالُ وَارِثُ مَنْ لَا وَارِثَ لَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے دوسرے کو تیر مارا جس سے وہ جاں بحق ہو گیا ، اس کا صرف ایک ہی وارث تھا اور وہ تھا اس کا ماموں ، سیدنا ابوعبیدہ بن الجراح نے اس سلسلے میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں خط لکھا ، انہوں نے جواباً لکھ بھیجا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے ”جس کا کوئی مولیٰ نہ ہو ، اللہ اور اس کا رسول اس کے مولیٰ ہیں اور جس کا کوئی وارث نہ ہو ، ماموں ہی اس کا وارث ہو گا ۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 189
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 190
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي يَعْفُورٍ الْعَبْدِيِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ شَيْخًا بِمَكَّةَ فِي إِمَارَةِ الْحَجَّاجِ يُحَدِّثُ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ لَهُ : " يَا عُمَرُ ، إِنَّكَ رَجُلٌ قَوِيٌّ ، لَا تُزَاحِمْ عَلَى الْحَجَرِ فَتُؤْذِيَ الضَّعِيفَ ، إِنْ وَجَدْتَ خَلْوَةً فَاسْتَلِمْهُ ، وَإِلَّا فَاسْتَقْبِلْهُ ، فَهَلِّلْ وَكَبِّرْ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : ”عمر ! تم طاقتور آدمی ہو ، حجر اسود کو بوسہ دینے میں مزاحمت نہ کرنا ، کہیں کمزور آدمی کو تکلیف نہ پہنچے ، اگر خالی جگہ مل جائے تو استلام کر لینا ، ورنہ محض استقبال کر کے تہلیل و تکبیر پر ہی اکتفاء کر لینا ۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 190
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن، الشيخ الذى روى عنه أبو يعفور مجهول، وسماه سفيان ابن عيينة : عبدالرحمن بن نافع بن عبدالحارث، والحديث مرسل
حدیث نمبر: 191
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا كَهْمَسٌ ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عن عمر : أَنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَام ، قَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا الْإِيمَانُ ؟ قَالَ : أَنْ تُؤْمِنَ بِاللَّهِ وَمَلَائِكَتِهِ ، وَكُتُبِهِ ، وَرُسُلِهِ ، وَالْيَوْمِ الْآخِرِ ، وَبِالْقَدَرِ خَيْرِهِ وَشَرِّهِ ، فَقَالَ لَهُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام : صَدَقْتَ ، قَالَ : فَتَعَجَّبْنَا مِنْهُ يَسْأَلُهُ وَيُصَدِّقُهُ ، قَالَ : فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ذَاكَ جِبْرِيلُ ، أَتَاكُمْ يُعَلِّمُكُمْ مَعَالِمَ دِينِكُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جبرئیل علیہ السلام نے ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ ایمان کیا ہے ؟ فرمایا : ”ایمان یہ ہے کہ تم اللہ پر ، اس کے فرشتوں ، کتابوں ، پیغمبروں ، یوم آخرت اور اچھی بری تقدیر پر یقین رکھو“ ، جبرائیل علیہ السلام نے فرمایا : آپ نے سچ کہا ، ہمیں تعجب ہوا کہ سوال بھی کر رہے ہیں اور تصدیق بھی کر رہے ہیں ، بعد میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا کہ یہ جبریل تھے جو تمہیں تمہارے دین کی اہم باتیں سکھانے آئے تھے ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 191
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 8
حدیث نمبر: 192
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا أَقْبَلَ اللَّيْلُ ، وَقَالَ مَرَّةً : جَاءَ اللَّيْلُ مِنْ هَهُنَا ، وَذَهَبَ النَّهَارُ مِنْ هَهُنَا ، فَقَدْ أَفْطَرَ الصَّائِمُ " يَعْنِي الْمَشْرِقَ وَالْمَغْرِبَ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”جب رات یہاں سے آ جائے اور دن وہاں سے چلا جائے تو روزہ دار کو روزہ افطار کر لینا چاہیے ، مشرق اور مغرب مراد ہے ۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 192
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1954، م: 1100
حدیث نمبر: 193
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَنْبَأَنَا إِسْرَائِيلُ بْنُ يُونُسَ ، عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى الثَّعْلَبِيِّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، قَالَ : كُنْتُ مَعَ عُمَرَ ، فَأَتَاهُ رَجُلٌ ، فَقَالَ : " إِنِّي رَأَيْتُ الْهِلَالَ ، هِلَالَ شَوَّالٍ ، فَقَالَ عُمَرُ : يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، أَفْطِرُوا ، ثُمَّ قَامَ إِلَى عُسٍّ فِيهِ مَاءٌ ، فَتَوَضَّأَ ، وَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ ، فَقَالَ الرَّجُلُ : وَاللَّهِ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ مَا أَتَيْتُكَ إِلَّا لِأَسْأَلَكَ عَنْ هَذَا ، أَفَرَأَيْتَ غَيْرَكَ فَعَلَهُ ؟ فَقَالَ : نَعَمْ ، خَيْرًا مِنِّي ، وَخَيْرَ الْأُمَّةِ ، رَأَيْتُ أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَلَ مِثْلَ الَّذِي فَعَلْتُ ، وَعَلَيْهِ جُبَّةٌ شَامِيَّةٌ ضَيِّقَةُ الْكُمَّيْنِ ، فَأَدْخَلَ يَدَهُ مِنْ تَحْتِ الْجُبَّةِ " ، ثُمَّ صَلَّى عُمَرُ الْمَغْرِبَ " .
مولانا ظفر اقبال
عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ کہتے ہیں کہ میں ایک مرتبہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا ، ایک آدمی آیا اور کہنے لگا کہ میں نے شوال کا چاند دیکھ لیا ہے ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : لوگو ! روزہ افطار کر لو ، پھر خود کھڑے ہو کر ایک برتن سے جس میں پانی تھا وضو کیا اور اپنے موزوں پر مسح کیا ، وہ آدمی کہنے لگا۔ بخدا ! امیر المؤمنین ! میں آپ کے پاس یہی پوچھنے کے لئے آیا تھا کہ آپ نے کسی اور کو بھی موزوں پر مسح کرتے ہوئے دیکھا ہے ؟ فرمایا : ہاں ! اس ذات کو جو مجھ سے بہتر تھی ، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس طرح کرتے ہوئے دیکھا ہے ، اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شامی جبہ پہن رکھا تھا جس کی آستینیں تنگ تھیں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ جبے کے نیچے سے داخل کئے تھے ، یہ کہہ کر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ مغرب کی نماز پڑھانے کے لئے چلے گئے ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 193
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف عبدالأعلى الثعلبي وعدم سماع عبدالرحمن بن أبي ليلى من عمر
حدیث نمبر: 194
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ، قَالَ : إِنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " لَمْ يُحَرِّمْ الضَّبَّ ، وَلَكِنْ قَذِرَهُ " ، وقَالَ غَيْرُ مُحَمَّدٍ : عَنْ سُلَيْمَانَ الْيَشْكُرِيِّ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اگرچہ گوہ کو حرام تو قرار نہیں دیا البتہ اسے ناپسند ضرور کیا ہے ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 194
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، قتادة لم يسمع من سليمان اليشكري. م: 1950
حدیث نمبر: 195
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَنَّهُ اسْتَأْذَنَهُ فِي الْعُمْرَةِ فَأَذِنَ لَهُ ، فَقَالَ : يَا أَخِي ، لَا تَنْسَنَا مِنْ دُعَائِكَ ، وَقَالَ بَعْدُ فِي الْمَدِينَةِ : يَا أَخِي ، أَشْرِكْنَا فِي دُعَائِكَ " ، فَقَالَ عُمَرُ : مَا أُحِبُّ أَنَّ لِي بِهَا مَا طَلَعَتْ عَلَيْهِ الشَّمْسُ ، لِقَوْلِهِ : يَا أَخِي .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عمرہ پر جانے کے لئے اجازت مانگی ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اجازت دیتے ہوئے فرمایا بھائی ! ہمیں اپنی دعاؤں میں بھول نہ جانا ، یا یہ فرمایا کہ بھائی ! ہمیں بھی اپنی دعاؤں میں یاد رکھنا ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اگر اس ایک لفظ «يا اخي» کے بدلے مجھے وہ سب کچھ دے دیا جائے جن پر سورج طلوع ہوتا ہے یعنی پوری دنیا تو میں اس ایک لفظ کے بدلے پوری دنیا کو پسند نہیں کروں گا ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 195
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف عاصم بن عبيد الله
حدیث نمبر: 196
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ . وَحَجَّاجٌ ، قَالَ : سَمِعْتُ شُعْبَةَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنْ عُمَرَ : " أَنَّهُ قَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَرَأَيْتَ مَا نَعْمَلُ فِيهِ ، أَقَدْ فُرِغَ مِنْهُ ، أَوْ فِي شَيْءٍ مُبْتَدَإٍ ، أَوْ أَمْرٍ مُبْتَدَعٍ ؟ قَالَ : " فِيمَا قَدْ فُرِغَ مِنْهُ " ، فَقَالَ عُمَرُ : أَلَا نَتَّكِلُ ؟ فَقَالَ : " اعْمَلْ يَا ابْنَ الْخَطَّابِ ، فَكُلٌّ مُيَسَّرٌ ، أَمَّا مَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ السَّعَادَةِ ، فَيَعْمَلُ لِلسَّعَادَةِ ، وَأَمَّا أَهْلُ الشَّقَاءِ ، فَيَعْمَلُ لِلشَّقَاءِ " .
مولانا ظفر اقبال
ایک مرتبہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ ہم جو عمل کرتے ہیں ، کیا وہ پہلے سے لکھا جا چکا ہے یا ہمارا عمل پہلے ہوتا ؟ فرمایا : ”نہیں ! بلکہ وہ پہلے سے لکھا جا چکا ہے“ ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ کیا ہم اسی پر بھروسہ نہ کر لیں ؟ فرمایا : ”ابن خطاب ! عمل کرتے رہو کیونکہ جو شخص جس مقصد کے لئے پیدا کیا گیا ہے ، اسے اس کے اسباب مہیا کر دئیے جاتے ہیں اور وہ عمل اس کے لئے آسان کر دیا جاتا ہے ، پھر جو سعادت مند ہوتا ہے وہ نیکی کے کام کرتا ہے اور جو اشقیاء میں سے ہوتا ہے وہ بدبختی کے کام کرتا ہے ۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 196
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف عاصم بن عبيدالله
حدیث نمبر: 197
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدُ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ : أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ خَطَبَ النَّاسَ ، فَسَمِعَهُ يَقُولُ : " أَلَا وَإِنَّ أُنَاسًا يَقُولُونَ : مَا بَالُ الرَّجْمِ ؟ فِي كِتَابِ اللَّهِ الْجَلْدُ ! وَقَدْ رَجَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَجَمْنَا بَعْدَهُ ، وَلَوْلَا أَنْ يَقُولَ قَائِلُونَ ، أَوْ يَتَكَلَّمَ مُتَكَلِّمُونَ : أَنَّ عُمَرَ زَادَ فِي كِتَابِ اللَّهِ مَا لَيْسَ مِنْهُ ، لَأَثْبَتُّهَا كَمَا نُزِّلَتْ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ یاد رکھو ! بعض لوگ کہتے ہیں کہ رجم کا کیا مطلب ؟ قرآن کریم میں تو صرف کوڑے مارنے کا ذکر آتا ہے ، حالانکہ رجم کی سزا خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دی ہے اور ہم نے بھی دی ہے ، اگر کہنے والے یہ نہ کہتے کہ عمر نے قرآن میں اضافہ کر دیا تو میں اسے قرآن میں لکھ دیتا ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 197
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2462، م: 1691
حدیث نمبر: 198
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ يَزِيدَ بْنَ خُمَيْرٍ يُحَدِّثُ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ عُبَيْدٍ ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ السِّمْطِ : أَنَّهُ أَتَى أَرْضًا يُقَالُ لَهَا : دَوْمِينُ ، مِنْ حِمْصَ عَلَى رَأْسِ ثَمَانِيَةَ عَشَرَ مِيلًا ، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ ، فَقُلْتُ لَهُ : أَتُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ ؟ فَقَالَ : " رَأَيْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ بِذِي الْحُلَيْفَةِ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ ، فَسَأَلْتُهُ ، فَقَالَ : إِنَّمَا أَفْعَلُ كَمَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَوْ قَالَ : فَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
مولانا ظفر اقبال
ابن سمط کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سر زمین ”دومین“ جو حمص سے اٹھارہ میل کے فاصلے پر ہے ، پر میرا آنا ہوا ، وہاں سیدنا جبیر بن نفیر نے دو رکعتیں پڑھیں ، میں نے ان سے پوچھا کہ یہ رکعتیں کیسی ہیں ؟ انہوں نے کہا کہ میں نے بھی ایک مرتبہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو ذوالحلیفہ میں دو رکعتیں پڑھتے ہوئے دیکھ کر یہی سوال کیا تھا ، انہوں نے مجھے جواب دیا تھا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح کرتے ہوئے دیکھا ہے ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 198
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 692
حدیث نمبر: 199
(حديث مرفوع) قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَهْدِيٍّ : مَالِكٌ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : دَخَلَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَسْجِدَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ ، وَعُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ يَخْطُبُ النَّاسَ ، فَقَالَ عُمَرُ : أَيَّةُ سَاعَةٍ هَذِهِ ؟ فَقَالَ : يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ، انْقَلَبْتُ مِنَ السُّوقِ ، فَسَمِعْتُ النِّدَاءَ ، فَمَا زِدْتُ عَلَى أَنْ تَوَضَّأْتُ ، فَقَالَ عُمَرُ : وَالْوُضُوءَ أَيْضًا ، وَقَدْ عَلِمْتَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ يَأْمُرُ بِالْغُسْلِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ جمعہ کے دن خطبہ ارشاد فرما رہے تھے ، دوران خطبہ ایک صاحب آئے ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے پوچھا کہ یہ کون سا وقت ہے آنے کا ؟ انہوں نے جواباً کہا کہ امیر المؤمنین ! میں بازار سے واپس آیا تھا ، میں نے تو جیسے ہی اذان سنی ، وضو کرتے ہی آ گیا ہوں ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اوپر سے وضو بھی ؟ جبکہ آپ جانتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے لئے غسل کرنے کا حکم دیتے تھے ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 199
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 878، م: 845
حدیث نمبر: 200
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، قَالَ : كَانَ الْمُشْرِكُونَ لَا يُفِيضُونَ مِنْ جَمْعٍ ، حَتَّى تُشْرِقَ الشَّمْسُ عَلَى ثَبِيرٍ ، " فَخَالَفَهُمْ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَفَاضَ قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ مشرکین مزدلفہ سے طلوع آفتاب سے پہلے واپس نہیں جاتے تھے ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا طریقہ اختیار نہیں کیا اور مزدلفہ سے منیٰ کی طرف طلوع آفتاب سے قبل ہی روانہ ہو گئے ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 200
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3838
حدیث نمبر: 201
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَنْبَأَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ : أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " لَأُخْرِجَنَّ الْيَهُودَ ، وَالنَّصَارَى مِنْ جَزِيرَةِ الْعَرَبِ ، حَتَّى لَا أَدَعَ إِلَّا مُسْلِمًا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”میں جزیرہ عرب سے یہود و نصاریٰ کو نکال کر رہوں گا ، یہاں تک کہ جزیرہ عرب میں مسلمانوں کے علاوہ کوئی نہ رہے گا ۔ “
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 201
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1767