حدیث نمبر: 122
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ يَعْنِي أَبَا دَاوُدَ الطَّيَالِسِيَّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ دَاوُدَ الْأَوْدِيِّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُسْلِيِّ ، عَنِ الْأَشْعَثِ بْنِ قَيْسٍ ، قَالَ : ضِفْتُ عُمَرَ ، فَتَنَاوَلَ امْرَأَتَهُ ، فَضَرَبَهَا ، وَقَالَ : يَا أَشْعَثُ ، احْفَظْ عَنِّي ثَلَاثًا حَفِظْتُهُنَّ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَسْأَلْ الرَّجُلَ فِيمَ ضَرَبَ امْرَأَتَهُ ، وَلَا تَنَمْ إِلَّا عَلَى وَتْرٍ " ، وَنَسِيتُ الثَّالِثَةَ .
مولانا ظفر اقبال
اشعث بن قیس کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی دعوت کی ، ان کی زوجہ محترمہ نے انہیں دعوت میں جانے سے روکا ، انہیں یہ بات ناگوار گزری اور انہوں نے اپنی بیوی کو مارا ، پھر مجھ سے فرمانے لگے اشعث ! تین باتیں یاد رکھو جو میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سن کر یاد کی ہیں ۔ کسی شخص سے یہ سوال مت کرو کہ اس نے اپنی بیوی کو کیوں مارا ہے ؟ وتر پڑھے بغیر مت سویا کرو ۔ تیسری بات میں بھول گیا ۔
حدیث نمبر: 123
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ يَعْنِي الرِّشْكَ ، عَنْ مُعَاذَةَ ، عَنْ أُمِّ عَمْرٍو ابْنَةِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّهَا سَمِعَتْ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ ، يَقُولُ : سَمِعَتْ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ، يَقُولُ فِي خُطْبَتِهِ : إِنَّهُ سَمِعَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " مَنْ يَلْبَسْ الْحَرِيرَ فِي الدُّنْيَا ، فَلَا يُكْسَاهُ فِي الْآخِرَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے جو شخص دنیا میں ریشم پہنے گا ، وہ آخرت میں اسے نہیں پہنایا جائے گا ۔
حدیث نمبر: 124
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ، قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " لَيَسِيرَنَّ الرَّاكِبُ فِي جَنَبَاتِ الْمَدِينَةِ ، ثُمَّ لَيَقُولُ : لَقَدْ كَانَ فِي هَذَا حَاضِرٌ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ كَثِيرٌ " . قَالَ أَبِي أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ : وَلَمْ يَجُزْ بِهِ حَسَنٌ الْأَشْيَبُ جَابِرًا .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے ایک وقت ایسا ضرور آئے گا جب ایک سوار مدینہ منورہ کے اطراف و جوانب میں چکر لگاتا ہو گا اور کہتا ہو گا کہ کبھی یہاں بہت سے مومن آباد ہوا کرتے تھے ۔
حدیث نمبر: 125
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَارُونُ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ السَّائِبِ حَدَّثَهُ ، أَنَّ الْقَاسِمَ بْنَ أَبِي الْقَاسِمِ السَّبَئِيَّ حَدَّثَهُ ، عَنْ قَاصِّ الْأَجْنَادِ ، أَنَّهُ سَمِعَهُ يُحَدِّثُ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ، قَالَ : يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ ، فَلَا يَقْعُدَنَّ عَلَى مَائِدَةٍ يُدَارُ عَلَيْهَا بِالْخَمْرِ ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلَا يَدْخُلْ الْحَمَّامَ إِلَّا بِإِزَارٍ ، وَمَنْ كَانَتْ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ ، فَلَا تَدْخُلْ الْحَمَّامَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ خطاب کرتے ہوئے ارشاد فرمایا : اے لوگو ! میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص اللہ پر اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو وہ کسی ایسے دستر خوان پر مت بیٹھے جہاں شراب پیش کی جاتی ہو ، جو شخص اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو وہ بغیر تہبند کے حمام میں داخل نہ ہو اور جو عورت اللہ پر اور یوم آخرت پر ایمان رکھتی ہو وہ حمام میں مت جائے ۔
حدیث نمبر: 126
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ الْخُزَاعِيُّ ، أَنْبَأَنَا لَيْثٌ ، وَيُونُسُ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُسَامَةَ بْنِ الْهَادِ ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ أَبِي الْوَلِيدِ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ سُرَاقَةَ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " مَنْ أَظَلَّ رَأْسَ غَازٍ ، أَظَلَّهُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، وَمَنْ جَهَّزَ غَازِيًا حَتَّى يَسْتَقِلَّ ، كَانَ لَهُ مِثْلُ أَجْرِهِ حَتَّى يَمُوتَ ، قَالَ يُونُسُ : أَوْ يَرْجِعَ ، وَمَنْ بَنَى لِلَّهِ مَسْجِدًا يُذْكَرُ فِيهِ اسْمُ اللَّهِ تَعَالَى ، بَنَى اللَّهُ لَهُ بِهِ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے جو شخص کسی مجاہد کے سر پر سایہ کرے ، اللہ قیامت کے دن اس پر سایہ کرے گا ، جو شخص مجاہد کے لئے سامان جہاد مہیا کرے یہاں تک کہ وہ اپنے پاؤں پر کھڑا ہو جائے ، اس کے لئے اس مجاہد کے برابر اجر لکھا جاتا رہے گا جب تک وہ فوت نہ ہو جائے اور جو شخص اللہ کی رضا کے لئے مسجد تعمیر کرے جس میں اللہ کا ذکر کیا جائے ، اللہ جنت میں اس کا گھر تعمیر کر دے گا ۔
حدیث نمبر: 127
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ الْأَعْمَشِ ، عَنْ شَقِيقٍ ، عَنْ سَلْمَانَ بْنِ رَبِيعَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ عُمَرَ ، يَقُولُ : قَسَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قِسْمَةً ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لَغَيْرُ هَؤُلَاءِ أَحَقُّ مِنْهُمْ أَهْلُ الصُّفَّةِ ، قَالَ : فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّكُمْ تُخَيِّرُونِي بَيْنَ أَنْ تَسْأَلُونِي بِالْفُحْشِ ، وَبَيْنَ أَنْ تُبَخِّلُونِي ، وَلَسْتُ بِبَاخِلٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ چیزیں تقسیم فرمائیں ، میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ان کے زیادہ حقدار تو ان لوگوں کو چھوڑ کر اہل صفہ تھے ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”تم مجھ سے غیر مناسب طریقے سے سوال کرنے یا مجھے بخیل قرار دینے میں خود مختار ہو ، حالانکہ میں بخیل نہیں ہوں ۔“
(فائدہ : مطلب یہ ہے کہ اگر میں نے اہل صفہ کو کچھ نہیں دیا تو اپنے پاس کچھ بچا کر نہیں رکھا اور اگر دوسروں کو دیا ہے تو ان کی ضروریات کو سامنے رکھ دیا ۔)
(فائدہ : مطلب یہ ہے کہ اگر میں نے اہل صفہ کو کچھ نہیں دیا تو اپنے پاس کچھ بچا کر نہیں رکھا اور اگر دوسروں کو دیا ہے تو ان کی ضروریات کو سامنے رکھ دیا ۔)
حدیث نمبر: 128
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَو عَنْ جَدِّهِ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، قَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ الْحَدَثِ تَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَى الْخُفَّيْنِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے کہ آپ نے حدث لاحق ہونے کے بعد وضو کیا اور موزوں پر مسح فرما لیا ۔
حدیث نمبر: 129
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ : أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ كَانَ مُسْتَنِدًا إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ ، وعنده ابن عمر ، وسعيد بن زيد : " اعْلَمُوا أَنِّي لَمْ أَقُلْ فِي الْكَلَالَةِ شَيْئًا ، وَلَمْ أَسْتَخْلِفْ مِنْ بَعْدِي أَحَدًا ، وَأَنَّهُ مَنْ أَدْرَكَ وَفَاتِي مِنْ سَبْيِ الْعَرَبِ ، فَهُوَ حُرٌّ مِنْ مَالِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ، فَقَالَ سَعِيدُ بْنُ زَيْدٍ : أَمَا إِنَّكَ لَوْ أَشَرْتَ بِرَجُلٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ ، لَأْتَمَنَكَ النَّاسُ ، وَقَدْ فَعَلَ ذَلِكَ أَبُو بَكْرٍ وَأْتَمَنَهُ النَّاسُ . فَقَالَ عُمَرُ : قَدْ رَأَيْتُ مِنْ أَصْحَابِي حِرْصًا سَيِّئًا ، وَإِنِّي جَاعِلٌ هَذَا الْأَمْرَ إِلَى هَؤُلَاءِ النَّفَرِ السِّتَّةِ الَّذِينَ مَاتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَنْهُمْ رَاضٍ ، ثُمَّ قَالَ عُمَرُ : لَوْ أَدْرَكَنِي أَحَدُ رَجُلَيْنِ ، ثُمَّ جَعَلْتُ هَذَا الْأَمْرَ إِلَيْهِ ، لَوَثِقْتُ بِهِ سَالِمٌ مَوْلَى أَبِي حُذَيْفَةَ ، وَأَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابورافع کہتے ہیں کہ زندگی کے آخری ایام میں ایک مرتبہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھے ہوئے تھے ، اس وقت سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما اور سیدنا سعید بن زید رضی اللہ عنہ بھی موجود تھے ، آپ نے فرمایا کہ یہ بات آپ کے علم میں ہونی چاہیے کہ میں نے کلالہ کے حوالے سے کوئی قول اختیار نہیں کیا اور نہ ہی اپنے بعد کسی کو بطور خلیفہ کے نامزد کیا ہے اور یہ کہ میری وفات کے بعد عرب کے جتنے قیدی ہیں ، سب اللہ کی راہ میں آزاد ہوں گے ۔ سیدنا سعید بن زید رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ اگر آپ کسی مسلمان کے متعلق خلیفہ ہونے کا مشورہ ہی دے دیں تو لوگ آپ پر اعتماد کریں گے جیسا کہ اس سے قبل سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کیا تھا اور لوگوں نے ان پر بھی اعتماد کیا تھا ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے یہ سن کر فرمایا : دراصل مجھے اپنے ساتھیوں میں ایک بری لالچ دکھائی دے رہی ہے ، اس لئے میں ایسا تو نہیں کرتا ، البتہ ان چھ آدمیوں پر اس بوجھ کو ڈال دیتا ہوں جن سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم بوقت وفات دنیا سے راضی ہو کر گئے تھے ، ان میں سے جسے چاہو ، خلیفہ منتخب کرلو ۔ پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اگر دو میں سے کوئی ایک آدمی بھی موجود ہوتا اور میں خلافت اس کے حوالے کر دیتا تو مجھے اطمینان رہتا ، ایک سالم جو کہ ابوحذیفہ کے غلام تھے اور دوسرے سیدنا ابوعبیدہ بن الجراح ۔
حدیث نمبر: 130
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، حَدَّثَنِي أَبُو الْعَالِيَةِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : شَهِدَ عِنْدِي رِجَالٌ مَرْضِيُّونَ فِيهِمْ عُمَرُ ، وَأَرْضَاهُمْ عِنْدِي عُمَرُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا صَلَاةَ بَعْدَ الصُّبْحِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ ، وَلَا صَلَاةَ بَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ مجھے ایسے لوگوں نے اس بات کی شہادت دی ہے ”جن کی بات قابل اعتماد ہوتی ہے ان میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بھی شامل ہیں جو میری نطروں میں ان سب سے زیادہ قابل اعتماد ہیں“ کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے فجر کی نماز کے بعد طلوع آفتاب تک کوئی نماز نہ پڑھی جائے اور عصر کی نماز کے بعد غروب آفتاب تک کوئی نفلی نماز نہ پڑھی جائے ۔
حدیث نمبر: 131
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ أَكَبَّ عَلَى الرُّكْنِ ، فَقَالَ : " إِنِّي لَأَعْلَمُ أَنَّكَ حَجَرٌ ، وَلَوْ لَمْ أَرَ حِبِّي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبَّلَكَ أَوَ اسْتَلَمَكَ ، مَا اسْتَلَمْتُكَ ، وَلَا قَبَّلْتُكَ ، وَلَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ حجر اسود کو بوسہ دینے کے لئے اس پر جھکے تو فرمایا کہ میں جانتا ہوں کہ تو ایک پتھر ہے ، اگر میں نے اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کو تیری تقبیل یا استلام کرتے ہوئے نہ دیکھا ہوتا تو میں تجھے کبھی بوسہ نہ دیتا اور کبھی تیرا استلام نہ کرتا ، ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ تمہارے لئے اللہ کے پیغمبر کی زندگی کے ایک ایک لمحے میں بہترین رہنمائی موجود ہے ۔
حدیث نمبر: 132
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، أَنْبَأَنَا عَمَّارُ بْنُ أَبِي عَمَّارٍ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ، قَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " رَأَى فِي يَدِ رَجُلٍ خَاتَمًا مِنْ ذَهَبٍ ، فَقَالَ : " أَلْقِ ذَا " ، فَأَلْقَاهُ ، فَتَخَتَّمَ بِخَاتَمٍ مِنْ حَدِيدٍ ، فَقَالَ : " ذَا شَرٌّ مِنْهُ " ، فَتَخَتَّمَ بِخَاتَمٍ مِنْ فِضَّةٍ ، فَسَكَتَ عَنْهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کے ہاتھ میں سونے کی انگوٹھی دیکھی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”اسے اتار دو“ ، چنانچہ اس نے اتار دی اور اس کی جگہ لوہے کی انگوٹھی پہن لی ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”یہ تو اس سے بھی بری ہے“ ، پھر اس نے چاندی کی انگوٹھی پہن لی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر سکوت فرما لیا ۔
حدیث نمبر: 133
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ . وَحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ ، عَنْ زَائِدَةَ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ زِرٍّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : لَمَّا قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَتْ الْأَنْصَارُ : مِنَّا أَمِيرٌ وَمِنْكُمْ أَمِيرٌ ، فَأَتَاهُمْ عُمَرُ ، فَقَالَ : " يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ ، أَلَسْتُمْ تَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَمَرَ أَبَا بَكْرٍ أَنْ يَؤُمَّ النَّاسَ ؟ فَأَيُّكُمْ تَطِيبُ نَفْسُهُ أَنْ يَتَقَدَّمَ أَبَا بَكْرٍ ؟ فَقَالَتْ الْأَنْصَارُ : نَعُوذُ بِاللَّهِ أَنْ نَتَقَدَّمَ أَبَا بَكْرٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال مبارک ہو گیا تو انصار کہنے لگے کہ ایک امیر ہم میں سے ہو گا اور ایک امیر تم میں سے ہو گا ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ان کے پاس آئے اور فرمایا : اے گروہِ انصار ! کیا آپ کے علم میں یہ بات نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی حیات طیبہ میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو لوگوں کی امامت کا حکم خود دیا تھا ؟ آپ میں سے کون شخص اپنے دل کی بشاشت کے ساتھ ابوبکر رضی اللہ عنہ سے آگے بڑھ سکتا ہے ؟ اس پر انصار کہنے لگے : اللہ کی پناہ ! کہ ہم سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے آگے بڑھیں ۔
حدیث نمبر: 134
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ أَخْبَرَهُ : أَنَّهُ رَأَى رَجُلًا تَوَضَّأَ لِلصَّلَاةِ ، فَتَرَكَ مَوْضِعَ ظُفُرٍ عَلَى ظَهْرِ قَدَمِهِ ، فَأَبْصَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " ارْجِعْ فَأَحْسِنْ وُضُوءَكَ " ، فَرَجَعَ فَتَوَضَّأَ ، ثُمَّ صَلَّى .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ان کی نظر ایک ایسے شخص پر پڑی جو نماز کے لئے وضو کر رہا تھا ، اس نے وضو کرتے ہوئے پاؤں کی پشت پر ایک ناخن کے بقدر جگہ چھوڑ دی یعنی وہ اسے دھو نہ سکا یا وہاں تک پانی نہیں پہنچا ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اسے دیکھ لیا اور فرمایا کہ جا کر اچھی طرح وضو کرو ، چنانچہ اس نے جا کر دوبارہ وضو کیا اور نماز پڑھی ۔
حدیث نمبر: 135
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ ، حَدَّثَنَا الْهَيْثَمُ بْنُ رَافِعٍ الطَّاطَرِيُّ بَصْرِيٌّ ، حَدَّثَنِي أَبُو يَحْيَى ، رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ ، عَنْ فَرُّوخَ مَوْلَى عُثْمَانَ : أَنَّ عُمَرَ ، وَهُوَ يَوْمَئِذٍ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ خَرَجَ إِلَى الْمَسْجِدِ ، فَرَأَى طَعَامًا مَنْثُورًا ، فَقَالَ : مَا هَذَا الطَّعَامُ ؟ فَقَالُوا : طَعَامٌ جُلِبَ إِلَيْنَا ، قَالَ : بَارَكَ اللَّهُ فِيهِ وَفِيمَنْ جَلَبَهُ ، قِيلَ : يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ، فَإِنَّهُ قَدْ احْتُكِرَ ، قَالَ : وَمَنْ احْتَكَرَهُ ؟ قَالُوا : فَرُّوخُ مَوْلَى عُثْمَانَ ، وَفُلَانٌ مَوْلَى عُمَرَ ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهِمَا ، فَدَعَاهُمَا ، فَقَالَ : مَا حَمَلَكُمَا عَلَى احْتِكَارِ طَعَامِ الْمُسْلِمِينَ ؟ قَالَا : يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ، نَشْتَرِي بِأَمْوَالِنَا وَنَبِيعُ ، فَقَالَ عُمَرُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " مَنْ احْتَكَرَ عَلَى الْمُسْلِمِينَ طَعَامَهُمْ ، ضَرَبَهُ اللَّهُ بِالْإِفْلَاسِ ، أَوْ بِجُذَامٍ " . فَقَالَ فَرُّوخُ عِنْدَ ذَلِكَ : يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ، أُعَاهِدُ اللَّهَ وَأُعَاهِدُكَ ، أَنْ لَا أَعُودَ فِي طَعَامٍ أَبَدًا ، وَأَمَّا مَوْلَى عُمَرَ ، فَقَالَ : إِنَّمَا نَشْتَرِي بِأَمْوَالِنَا وَنَبِيعُ . قَالَ أَبُو يَحْيَى : فَلَقَدْ رَأَيْتُ مَوْلَى عُمَرَ مَجْذُومًا .
مولانا ظفر اقبال
فروخ کہتے ہیں کہ ایک دن سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اپنے دور خلافت میں مسجد جانے کے لئے گھر سے نکلے ، راستے میں انہیں جگہ جگہ غلہ نظر آیا ، انہوں نے پوچھا: یہ غلہ کیسا ہے ؟ لوگوں نے بتایا کہ یہ درآمد کیا گیا ہے ، فرمایا : اللہ اس میں برکت دے اور اس شخص کو بھی جس نے اسے درآمد کیا ہے ، لوگوں نے کہا: اے امیر المؤمنین ! یہ تو ذخیرہ اندوزی کا مال ہے ، پوچھا: کس نے ذخیرہ کر کے رکھا ہوا تھا ؟ لوگوں نے بتایا کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے غلام فروخ اور آپ کے فلاں غلام نے ۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان دونوں کو بلاوا بھیجا اور فرمایا کہ تم نے مسلمانوں کی غذائی ضروریات کی ذخیرہ اندوزی کیوں کی ؟ انہوں نے عرض کیا کہ امیر المؤمنین ! ہم اپنے پیسوں سے خریدتے اور بیچتے ہیں (اس لئے ہمیں اپنی مملوکہ چیز پر اختیار ہے ، جب مرضی بیچیں) فرمایا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص مسلمانوں کی غذائی ضروریات کی ذخیرہ اندوزی کرتا ہے ، اللہ تعالیٰ اسے تنگدستی اور کوڑھ کے مرض میں مبتلا کر دیتا ہے ۔ فروخ نے تو یہ سن کر اسی وقت کہا: امیر المؤمنین ! میں اللہ سے اور آپ سے وعدہ کرتا ہوں کہ آئندہ ایسا نہیں کروں گا ، لیکن سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا غلام اپنی اسی بات پر اڑا رہا کہ ہم اپنے پیسوں سے خریدتے اور بیچتے ہیں (اس لئے ہمیں اختیار ہونا چاہیے ) ۔ ابویحییٰ کہتے ہیں کہ بعد میں جب میں نے اسے دیکھا تو وہ کوڑھ کے مرض میں مبتلا ہوچکا تھا ۔
حدیث نمبر: 136
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَنْبَأَنَا شُعَيْبٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، حَدَّثَنَا سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، قَالَ : سَمِعْتُ عُمَرَ ، يَقُولُ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْطِينِي الْعَطَاءَ ، فَأَقُولُ : أَعْطِهِ أَفْقَرَ إِلَيْهِ مِنِّي ، حَتَّى أَعْطَانِي مَرَّةً مَالًا ، فَقُلْتُ : أَعْطِهِ أَفْقَرَ إِلَيْهِ مِنِّي ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " خُذْهُ فَتَمَوَّلْهُ وَتَصَدَّقْ بِهِ ، فَمَا جَاءَكَ مِنْ هَذَا الْمَالِ ، وَأَنْتَ غَيْرُ مُشْرِفٍ وَلَا سَائِلٍ ، فَخُذْهُ ، وَمَا لَا ، فَلَا تُتْبِعْهُ نَفْسَكَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مجھے کچھ دینا چاہتے تو میں عرض کر دیتا کہ یا رسول اللہ ! مجھ سے زیادہ جو محتاج لوگ ہیں ، یہ انہیں دے دیجئے ، اسی طرح ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کچھ مال و دولت عطا فرمایا ، میں نے حسب سابق یہی عرض کیا کہ مجھ سے زیادہ کسی ضرورت مند کو دے دیجئے ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”اسے لے لو اپنے مال میں اضافہ کرو ، اس کے بعد صدقہ کر دو اور یاد رکھو ! اگر تمہاری خواہش اور سوال کے بغیر کہیں سے مال آئے تو اسے لے لیا کرو ، ورنہ اس کے پیچھے نہ پڑا کرو ۔ “
حدیث نمبر: 137
حَدَّثَنَا هَارُونُ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : سَمِعْتُ عُمَرَ ، يَقُولُ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْطِينِي الْعَطَاءَ . . . فَذَكَرَ مَعْنَاهُ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حدیث نمبر: 138
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، حَدَّثَنِي بُكَيْرٌ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، قَالَ : هَشَشْتُ يَوْمًا فَقَبَّلْتُ وَأَنَا صَائِمٌ ، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقُلْتُ : صَنَعْتُ الْيَوْمَ أَمْرًا عَظِيمًا ، قَبَّلْتُ وَأَنَا صَائِمٌ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَرَأَيْتَ لَوْ تَمَضْمَضْتَ بِمَاءٍ وَأَنْتَ صَائِمٌ ؟ قُلْتُ : لَا بَأْسَ بِذَلِكَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَفِيمَ ؟ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک دن میں بہت خوش تھا ، خوشی سے سرشار ہو کر میں نے روزہ کی حالت میں ہی اپنی بیوی کا بوسہ لے لیا ، اس کے بعد احساس ہوا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! آج مجھ سے ایک بہت بڑا گناہ سرزد ہو گیا ہے ، میں نے روزے کی حالت میں اپنی بیوی کو بوسہ دے دیا ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”یہ بتاؤ ! اگر آپ روزے کی حالت میں کلی کر لو تو کیا ہو گا ؟“ میں نے عرض کیا : اس میں تو کوئی حرج نہیں ہے ، فرمایا : ”پھر اس میں کہاں سے ہو گا ؟“
حدیث نمبر: 139
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ يَعْنِي ابْنَ أَبِي الْفُرَاتِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ ، أَنَّهُ قَالَ : أَتَيْتُ الْمَدِينَةَ فَوَافَيْتُهَا وَقَدْ وَقَعَ فِيهَا مَرَضٌ ، فَهُمْ يَمُوتُونَ مَوْتًا ذَرِيعًا ، فَجَلَسْتُ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، فَمَرَّتْ بِهِ جَنَازَةٌ ، فَأُثْنِيَ عَلَى صَاحِبِهَا خَيْرٌ ، فَقَالَ عُمَرُ : وَجَبَتْ ، ثُمَّ مُرَّ بِأُخْرَى ، فَأُثْنِيَ عَلَى صَاحِبِهَا خَيْرٌ ، فَقَالَ عُمَرُ : وَجَبَتْ ، ثُمَّ مُرَّ بِالثَّالِثَةِ ، فَأُثْنِيَ عَلَيْهَا شَرًُّ ، فَقَالَ عُمَرُ : وَجَبَتْ ، فَقَالَ أَبُو الْأَسْوَدِ : مَا وَجَبَتْ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ؟ قَالَ : قُلْتُ كَمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَيُّمَا مُسْلِمٍ شَهِدَ لَهُ أَرْبَعَةٌ بِخَيْرٍ ، أَدْخَلَهُ اللَّهُ الْجَنَّةَ ، قَالَ : فَقُلْنَا : وَثَلَاثَةٌ ؟ قَالَ : فَقَالَ : وَثَلَاثَةٌ ، قَالَ : قُلْنَا : وَاثْنَانِ ، قَالَ : وَاثْنَانِ " ، قَالَ : ثُمَّ لَمْ نَسْأَلْهُ عَنِ الْوَاحِدِ .
مولانا ظفر اقبال
ابوالاسود رحمہ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں مدینہ منورہ کی طرف روانہ ہوا ، وہاں پہنچا تو پتہ چلا کہ وہاں کوئی بیماری پھیلی ہوئی ہے جس سے لوگ بکثرت مر رہے ہیں، میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی مجلس میں بیٹھا ہوا تھا کہ وہاں سے ایک جنازہ کا گزر ہوا ، لوگوں نے اس مردے کی تعریف کی ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : واجب ہو گئی ، پھر دوسرا جنازہ گزرا ، لوگوں نے اس کی بھی تعریف کی ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے پھر فرمایا : واجب ہو گئی ، تیسراجنازہ گزرا تو لوگوں نے اس کی برائی بیان کی ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرمایا : واجب ہو گئی ، میں نے بالآخر پوچھ ہی لیا کہ امیر المؤمنین ! کیا چیز واجب ہو گئی ؟ فرمایا : میں نے تو وہی کہا ہے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ جس مسلمان کے لئے چار آدمی خیر کی گواہی دے دیں اس کے لئے جنت واجب ہو گئی ، ہم نے عرض کیا اگر تین آدمی ہوں ؟ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”تب بھی یہی حکم ہے“ ، ہم نے دو کے متعلق پوچھا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”دو ہوں تب بھی یہی حکم ہے “، پھر ہم نے خود ہی ایک کے متعلق سوال نہیں کیا ۔
حدیث نمبر: 140
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا بُكَيْرٌ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ عُمَرَ ، قَالَ : غَزَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَمَضَانَ ، وَالْفَتْحَ فِي رَمَضَانَ ، " فَأَفْطَرْنَا فِيهِمَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رمضان میں بھی جہاد کے لئے نکلے تھے اور فتح مکہ کا واقعہ تو خیر رمضان ہی میں پیش آیا تھا ، ان دونوں موقعوں پر ہم نے دوران سفر روزے نہیں رکھے تھے ۔ (بلکہ بعد میں قضاء کی تھی)۔
حدیث نمبر: 141
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ ، حَدَّثَنَا الْمُثَنَّى بْنُ عَوْفٍ الْعَنَزِيُّ بَصْرِيٌّ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا الْغَضْبَانُ بْنُ حَنْظَلَةَ ، أَنَّ أَبَاهُ حَنْظَلَةَ بْنَ نُعَيْمٍ وَفَدَ إِلَى عُمَرَ ، فَكَانَ عُمَرُ إِذَا مَرَّ بِهِ إِنْسَانٌ مِنَ الْوَفْدِ ، سَأَلَهُ مِمَّنْ هُوَ ، حَتَّى مَرَّ بِهِ أَبِي ، فَسَأَلَهُ مِمَّنْ أَنْتَ ؟ فَقَالَ : مِنْ عَنَزَةَ ، فَقَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " حَيٌّ مِنْ هَاهُنَا مَبْغِيٌّ عَلَيْهِمْ مَنْصُورُونَ " .
مولانا ظفر اقبال
غضبان بن حنظلہ کہتے ہیں کہ ان کے والد حنظلہ ایک مرتبہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں ایک وفد لے کر حاضر ہوئے ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اس وفد کے جس آدمی کے پاس سے بھی گزرتے اس کے متعلق یہ ضرور پوچھتے کہ اس کا تعلق کہاں سے ہے ؟ چنانچہ جب میرے والد کے پاس پہنچے تو ان سے بھی یہی پوچھا کہ آپ کا تعلق کہاں سے ہے ؟ انہوں نے بتایا : قبیلہ عنزہ سے ، تو فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اس قبیلے کے لوگ مظفر و منصور ہوتے ہیں ۔
حدیث نمبر: 142
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، أَنَّهُ سَأَلَ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ عَنِ الصِّيَامِ فِي السَّفَرِ ، فَحَدَّثَهُ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، أَنَّهُ قَالَ : " غَزَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَزْوَتَيْنِ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ يَوْمَ بَدْرٍ ، وَيَوْمَ الْفَتْحِ ، فَأَفْطَرْنَا فِيهِمَا " .
مولانا ظفر اقبال
معمر (جو کہ ایک مشہور محدث ہیں) نے ایک مرتبہ سیدنا سعید بن مسیب رحمہ اللہ علیہ سے دوران سفر روزہ رکھنے کا حکم دریافت کیا تو انہوں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ حدیث انہیں سنائی کہ ہم نے ماہ رمضان میں دو مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جہاد میں شرکت کی ہے ، ایک غزوہ بدر کے موقع پر اور ایک فتح مکہ کے موقع پر اور دونوں مرتبہ ہم نے روزے نہیں رکھے ۔
حدیث نمبر: 143
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا دَيْلَمُ بْنُ غَزْوَانَ عَبْدِيٌّ ، حَدَّثَنَا مَيْمُونٌ الْكُرْدِيُّ ، حَدَّثَنِي أَبُو عُثْمَانَ النَّهْدِيُّ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّ أَخْوَفَ مَا أَخَافُ عَلَى أُمَّتِي ، كُلُّ مُنَافِقٍ عَلِيمِ اللِّسَانِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”مجھے اپنی امت کے متعلق سب سے زیادہ خطرہ اس منافق سے ہے جو زبان دان ہو ۔ “
حدیث نمبر: 144
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زَائِدَةَ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ : أَنَّهُ كَانَ مَعَ مَسْلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ فِي أَرْضِ الرُّومِ ، فَوُجِدَ فِي مَتَاعِ رَجُلٍ غُلُولٌ ، فَسَأَلَ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، فَقَالَ : حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ ، عَنْ عُمَرَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ وَجَدْتُمْ فِي مَتَاعِهِ غُلُولًا ، فَأَحْرِقُوهُ ، قَالَ : وَأَحْسَبُهُ قَالَ : وَاضْرِبُوهُ " ، قَالَ : فَأَخْرَجَ مَتَاعَهُ فِي السُّوقِ ، قَالَ : فَوَجَدَ فِيهِ مُصْحَفًا ، فَسَأَلَ سَالِمًا ، فَقَالَ : بِعْهُ ، وَتَصَدَّقْ بِثَمَنِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا سالم رحمہ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ وہ مسلمہ بن عبدالملک کے ساتھ ارض روم میں تھے کہ ایک آدمی کے سامان سے چوری کا مال غنیمت نکل آیا ، لوگوں نے سیدنا سالم رحمہ اللہ علیہ سے اس مسئلے کے متعلق سوال کیا تو انہوں نے اپنے والد سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے واسطے سے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی یہ حدیث نقل کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ”جس شخص کے سامان میں سے تمہیں چوری کا مال غنیمت مل جائے ، اس سامان کو آگ لگا دو“ اور شاید یہ بھی فرمایا کہ اس شخص کی پٹائی کرو ۔ چنانچہ لوگوں نے اس کا سامان نکال کر بازار میں لا کر رکھا ، اس میں سے ایک قرآن شریف بھی نکلا ، لوگوں نے سالم سے اس کے متعلق پوچھا: تو انہوں نے فرمایا کہ اسے بیچ کر اس کی قیمت صدقہ کر دو ۔
حدیث نمبر: 145
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ ، وَحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ ، عَنْ عُمَرَ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ " يَتَعَوَّذُ مِنْ خَمْسٍ : مِنَ الْبُخْلِ ، وَالْجُبْنِ ، وَفِتْنَةِ الصَّدْرِ ، وَعَذَابِ الْقَبْرِ ، وَسُوءِ الْعُمُرِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پانچ چیزوں سے اللہ کی پناہ مانگا کرتے تھے ، «مِنَ الْبُخْلِ ، وَالْجُبْنِ ، وَفِتْنَةِ الصَّدْرِ ، وَعَذَابِ الْقَبْرِ ، وَسُوءِ الْعُمُرِ» بخل سے ، بزدلی سے ، دل کے فتنہ سے ، عذاب قبر سے اور بری عمر سے ۔
حدیث نمبر: 146
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَطَاءَ بْنَ دِينَارٍ ، عَنْ أَبِي يَزِيدَ الْخَوْلَانِيِّ ، أَنَّهُ سَمِعَ فَضَالَةَ بْنَ عُبَيْدٍ ، يَقُولُ سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " الشُّهَدَاءُ ثَلَاثَةٌ : رَجُلٌ مُؤْمِنٌ جَيِّدُ الْإِيمَانِ لَقِيَ الْعَدُوَّ ، فَصَدَقَ اللَّهَ حَتَّى قُتِلَ ، فَذَلِكَ الَّذِي يَرْفَعُ إِلَيْهِ النَّاسُ أَعْنَاقَهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، وَرَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأْسَهُ حَتَّى وَقَعَتْ قَلَنْسُوَتُهُ ، أَوْ قَلَنْسُوَةُ عُمَرَ ، وَرَجُلٌ مُؤْمِنٌ جَيِّدُ الْإِيمَانِ لَقِيَ الْعَدُوَّ ، فَكَأَنَّمَا يُضْرَبُ جِلْدُهُ بِشَوْكِ الطَّلْحِ ، أَتَاهُ سَهْمٌ غَرْبٌ ، فَقَتَلَهُ ، هُوَ فِي الدَّرَجَةِ الثَّانِيَةِ ، وَرَجُلٌ مُؤْمِنٌ جَيِّدُ الْإِيمَانِ ، خَلَطَ عَمَلًا صَالِحًا ، وَآخَرَ سَيِّئًا ، لَقِيَ الْعَدُوَّ ، فَصَدَقَ اللَّهَ حَتَّى قُتِلَ ، فَذَلِكَ فِي الدَّرَجَةِ الثَّالِثَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے : شہداء تین طرح کے ہوتے ہیں ۔ وہ مسلمان آدمی جس کا ایمان مضبوط ہو ، دشمن سے اس کا آمنا سامنا ہوا اور اس نے اللہ کی بات کو سچا کر دکھایا یہاں تک کہ شہید ہو گیا ، یہ تو وہ آدمی ہے جس کی طرف قیامت کے دن لوگ گردنیں اٹھا اٹھا کر دیکھیں گے اور خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سر بلند کر کے دکھایا یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ٹوپی گر گئی ۔ وہ مسلمان آدمی جس کا ایمان مضبوط ہو ، دشمن سے آمنا سامنا ہوا اور ایسا محسوس ہو کہ اس کے جسم پر کسی نے کانٹے چبھا دئیے ہوں، اچانک کہیں سے ایک تیر آیا اور وہ شہید ہو گیا ، یہ دوسرے درجے میں ہو گا ۔ وہ مسلمان آدمی جس کا ایمان تو مضبوط ہو لیکن اس نے کچھ اچھے اور کچھ برے دونوں طرح کے عمل کیے ہوں ، دشمن سے جب اس کا آمنا سامنا ہوا تو اس نے اللہ کی بات کو سچا کر دکھایا ، یہاں تک کہ شہید ہو گیا ، یہ تیسرے درجے میں ہو گا ۔
حدیث نمبر: 147
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، عَنْ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا يُقَادُ وَالِدٌ مِنْ وَلَدٍ " . (حديث مرفوع) (حديث موقوف) وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَرِثُ الْمَالَ مَنْ يَرِثُ الْوَلَاءَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”باپ سے اس کی اولاد کا قصاص نہیں لیا جائے گا ۔“ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”مال کا وارث وہی ہو گا جو ولاء کا وارث ہو گا ۔“
حدیث نمبر: 148
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " لَا يُقَادُ لِوَلَدٍ مِنْ وَالِدِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے کہ باپ سے اس کی اولاد کا قصاص نہیں لیا جائے گا ۔
حدیث نمبر: 149
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ شُرَحْبِيلَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، أَنَّهُ قَالَ : " رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ مَرَّةً مَرَّةً " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اعضاء وضو کو ایک ایک مرتبہ بھی دھویا تھا ۔
حدیث نمبر: 150
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، أَنْبَأَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ أَبِي يَزِيدَ الْخَوْلَانِيِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ فَضَالَةَ بْنَ عُبَيْدٍ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " الشُّهَدَاءُ أَرْبَعَةٌ : رَجُلٌ مُؤْمِنٌ جَيِّدُ الْإِيمَانِ لَقِيَ الْعَدُوَّ ، فَصَدَقَ اللَّهَ ، فَقُتِلَ ، فَذَلِكَ الَّذِي يَنْظُرُ النَّاسُ إِلَيْهِ هَكَذَا ، وَرَفَعَ رَأْسَهُ حَتَّى سَقَطَتْ قَلَنْسُوَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَوْ قَلَنْسُوَةُ عُمَرَ ، وَالثَّانِي : رَجُلٌ مُؤْمِنٌ لَقِيَ الْعَدُوَّ ، فَكَأَنَّمَا يُضْرَبُ ظَهْرُهُ بِشَوْكِ الطَّلْحِ ، جَاءَهُ سَهْمٌ غَرْبٌ ، فَقَتَلَهُ ، فَذَاكَ فِي الدَّرَجَةِ الثَّانِيَةِ ، وَالثَّالِثُ : رَجُلٌ مُؤْمِنٌ خَلَطَ عَمَلًا صَالِحًا وَآخَرَ سَيِّئًا ، لَقِيَ الْعَدُوَّ ، فَصَدَقَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ حَتَّى قُتِلَ ، قَالَ : فَذَاكَ فِي الدَّرَجَةِ الثَّالِثَةِ ، وَالرَّابِعُ : رَجُلٌ مُؤْمِنٌ أَسْرَفَ عَلَى نَفْسِهِ إِسْرَافًا كَثِيرًا ، لَقِيَ الْعَدُوَّ ، فَصَدَقَ اللَّهَ حَتَّى قُتِلَ ، فَذَاكَ فِي الدَّرَجَةِ الرَّابِعَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے : شہداء چار طرح کے ہوتے ہیں ۔ وہ مسلمان آدمی جس کا ایمان مضبوط ہو ، دشمن سے اس کا آمنا سامنا ہوا اور اس نے اللہ کی بات کو سچا کر دکھایا یہاں تک کہ شہید ہو گیا ، یہ تو وہ آدمی ہے جس کی طرف قیامت کے دن لوگ گردنیں اٹھا اٹھا کر دیکھیں گے اور خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سر بلند کر کے دکھایا یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ٹوپی مبارک گر گئی ۔ وہ مسلمان آدمی جس کا دشمن سے آمنا سامنا ہوا اور ایسا محسوس ہوا کہ اس کے جسم پر کسی نے کانٹے چبھا دئیے ہوں ، اچانک کہیں سے ایک تیر آیا اور وہ شہید ہو گیا ، یہ دوسرے درجے میں ہو گا ۔ وہ مسلمان آدمی جس نے کچھ اچھے اور کچھ برے دونوں طرح کے عمل کیے ہوں ، دشمن سے جب اس کا آمنا سامنا ہوا تو اس نے اللہ کی بات کو سچا کر دکھایا ، یہاں تک کہ شہید ہو گیا ، یہ تیسرے درجے میں ہو گا ۔ وہ مسلمان آدمی جس نے اپنی جان پر بےحد ظلم کیا ، اس کا دشمن سے آمنا سامنا ہوا ، تو اس نے اللہ کی بات کو سچا کر دکھایا اور شہید ہو گیا ، یہ چوتھے درجے میں ہو گا ۔
حدیث نمبر: 151
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ غَيْلَانَ ، حَدَّثَنَا رِشْدِينُ بْنُ سَعْدٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْغَافِقِيُّ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ : عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ " تَوَضَّأَ عَامَ تَبُوكَ وَاحِدَةً وَاحِدَةً " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ تبوک کے سال اپنے اعضاء وضو کو ایک ایک مرتبہ دھویا تھا ۔
حدیث نمبر: 152
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ أَخْبَرَهُ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " سَيَخْرُجُ أَهْلُ مَكَّةَ ، ثُمَّ لَا يَعْبُرُ بِهَا ، أَوْ لَا يَعْرِفُهَا إِلَّا قَلِيلٌ ، ثُمَّ تَمْتَلِئُ وَتُبْنَى ، ثُمَّ يَخْرُجُونَ مِنْهَا ، فَلَا يَعُودُونَ فِيهَا أَبَدًا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”عنقریب اہل مکہ اپنے شہر سے نکلیں گے لیکن دوبارہ اسے بہت کم آباد کر سکیں گے ، پھر شہر مکہ بھر جائے گا اور وہاں بڑی عمارتیں بن جائیں گے ، اس وقت جب اہل مکہ وہاں سے نکل گئے تو دوبارہ واپس کبھی نہیں آ سکیں گے ۔ “
حدیث نمبر: 153
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا الْحَسَنُ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ أَخْبَرَهُ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى رَجُلًا تَوَضَّأَ لِصَلَاةِ الظُّهْرِ ، فَتَرَكَ مَوْضِعَ ظُفُرٍ عَلَى ظَهْرِ قَدَمِهِ ، فَأَبْصَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " ارْجِعْ فَأَحْسِنْ وُضُوءَكَ " فَرَجَعَ فَتَوَضَّأَ ، ثُمَّ صَلَّى .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نظر ایک ایسے شخص پر پڑی جو نماز ظہر کے لئے وضو کر رہا تھا ، اس نے وضو کرتے ہوئے پاؤں کی پشت پر ایک ناخن کے بقدر جگہ چھوڑ دی یعنی وہ اسے دھو نہ سکا یا وہاں تک پانی نہیں پہنچا تھا ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دیکھ کر فرمایا کہ جا کر اچھی طرح وضو کرو ، چنانچہ اس نے جا کر دوبارہ وضو کیا اور نماز پڑھی ۔
حدیث نمبر: 154
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، قَالَ : زَعَمَ الزُّهْرِيُّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا تُطْرُونِي كَمَا أَطْرَتْ النَّصَارَى عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ عَلَيْهِ السَّلَام ، فَإِنَّمَا أَنَا عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”عیسائیوں نے جس طرح سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کو حد سے زیادہ آگے بڑھایا مجھے اس طرح مت بڑھاؤ ، میں تو اللہ کا بندہ اور اس کا پیغمبر ہوں ۔ “
حدیث نمبر: 155
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَنْبَأَنَا أَبُو بِشْرٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُتَوَارٍ بِمَكَّةَ : وَلا تَجْهَرْ بِصَلاتِكَ وَلا تُخَافِتْ بِهَا سورة الإسراء آية 110 ، قَالَ : " كَانَ إِذَا صَلَّى بِأَصْحَابِهِ رَفَعَ صَوْتَهُ بِالْقُرْآنِ ، قَالَ : فَلَمَّا سَمِعَ ذَلِكَ الْمُشْرِكُونَ سَبُّوا الْقُرْآنَ ، وَمَنْ أَنْزَلَهُ وَمَنْ جَاءَ بِهِ ، فَقَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لِنَبِيِّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : وَلا تَجْهَرْ بِصَلاتِكَ سورة الإسراء آية 110 ، أَيْ بِقِرَاءَتِكَ ، فَيَسْمَعَ الْمُشْرِكُونَ ، فَيَسُبُّوا الْقُرْآنَ وَلا تُخَافِتْ بِهَا سورة الإسراء آية 110 عَنْ أَصْحَابِكَ ، فَلَا تُسْمِعُهُمْ الْقُرْآنَ ، حَتَّى يَأْخُذُوهُ عَنْكَ ، وَابْتَغِ بَيْنَ ذَلِكَ سَبِيلا سورة الإسراء آية 110 " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ آیت قرآنی «ولا تجهر بصلاتك ولاتخافت بها»
جس وقت نازل ہوئی ہے ، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ میں روپوش تھے ، وہ یہ بھی فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنے ساتھیوں کو نماز پڑھاتے تھے تو قرآن کریم کی تلاوت بلند آواز سے کرتے تھے ، جب مشرکین کے کانوں تک وہ آواز پہنچتی تو وہ خود قرآن کو ، قرآن نازل کرنے والے کو اور قرآن لانے والے کو برا بھلا کہنا شروع کر دیتے ، اس موقع پر یہ آیت نازل ہوئی کہ آپ بلند آواز سے قرأت نہ کیا کریں کہ مشرکین کے کانوں تک وہ آواز پہنچے اور وہ قرآن ہی کو برا بھلا کہنا شروع کر دیں اور اتنی پست آواز سے بھی تلاوت نہ کریں کہ آپ کے ساتھی اسے سن ہی نہ سکیں ، بلکہ درمیانہ راستہ اختیار کریں ۔
جس وقت نازل ہوئی ہے ، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ میں روپوش تھے ، وہ یہ بھی فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنے ساتھیوں کو نماز پڑھاتے تھے تو قرآن کریم کی تلاوت بلند آواز سے کرتے تھے ، جب مشرکین کے کانوں تک وہ آواز پہنچتی تو وہ خود قرآن کو ، قرآن نازل کرنے والے کو اور قرآن لانے والے کو برا بھلا کہنا شروع کر دیتے ، اس موقع پر یہ آیت نازل ہوئی کہ آپ بلند آواز سے قرأت نہ کیا کریں کہ مشرکین کے کانوں تک وہ آواز پہنچے اور وہ قرآن ہی کو برا بھلا کہنا شروع کر دیں اور اتنی پست آواز سے بھی تلاوت نہ کریں کہ آپ کے ساتھی اسے سن ہی نہ سکیں ، بلکہ درمیانہ راستہ اختیار کریں ۔
حدیث نمبر: 156
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَنْبَأَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مِهْرَانَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : خَطَبَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ، وَقَالَ هُشَيْمٌ مَرَّةً : خَطَبَنَا ، فَحَمِدَ اللَّهَ تَعَالَى وَأَثْنَى عَلَيْهِ ، فَذَكَرَ الرَّجْمَ ، فَقَالَ : " لَا تُخْدَعُنَّ عَنْهُ ، فَإِنَّهُ حَدٌّ مِنْ حُدُودِ اللَّهِ تَعَالَى ، أَلَا إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ رَجَمَ ، وَرَجَمْنَا بَعْدَهُ ، وَلَوْلَا أَنْ يَقُولَ قَائِلُونَ : زَادَ عُمَرُ فِي كِتَابِ اللَّهِ مَا لَيْسَ مِنْهُ ، لَكَتَبْتُهُ فِي نَاحِيَةٍ مِنَ الْمُصْحَفِ ، شَهِدَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ، وَقَالَ هُشَيْمٌ مَرَّةً ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ ، وَفُلَانٌ ، وَفُلَانٌ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ رَجَمَ وَرَجَمْنَا مِنْ بَعْدِهِ ، أَلَا وَإِنَّهُ سَيَكُونُ مِنْ بَعْدِكُمْ قَوْمٌ يُكَذِّبُونَ بِالرَّجْمِ ، وَبِالدَّجَّالِ ، وَبِالشَّفَاعَةِ ، وَبِعَذَابِ الْقَبْرِ ، وَبِقَوْمٍ يُخْرَجُونَ مِنَ النَّارِ بَعْدَمَا امْتَحَشُوا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ خطبہ ارشاد فرمانے کے لئے کھڑے ہوئے ، حمد و ثناء کے بعد آپ نے رجم کا تذکرہ شروع کیا اور فرمایا کہ رجم کے حوالے سے کسی دھوکے کا شکار مت رہنا ، یہ اللہ کی مقرر کردہ سزاؤں میں سے ایک سزا ہے ، یاد رکھو ! نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی رجم کی سزا جاری فرمائی ہے اور ہم بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد یہ سزا جاری کرتے رہے ہیں ، اگر کہنے والے یہ نہ کہتے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے قرآن میں اضافہ کر دیا اور ایسی چیز اس میں شامل کر دی جو کتاب اللہ میں سے نہیں ہے تو میں اس آیت کو قرآن کریم کے حاشیے پر لکھ دیتا ۔ یاد رکھو ! سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اس بات کا گواہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے رجم کی سزا جاری فرمائی ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ہم نے بھی یہ سزا جاری کی ہے ، یاد رکھو ! تمہارے بعد کچھ لوگ آئیں گے جو رجم کی تکذیب کرتے ہوں گے ، دجال ، شفاعت اور عذاب قبر سے انکار کرتے ہوں گے اور اس قوم کے ہونے کو جھٹلائیں گے جنہیں جہنم میں جل کر کوئلہ ہوجانے کے بعد نکال لیا جائے گا ۔
حدیث نمبر: 157
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَنْبَأَنَا حُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : قَالَ عُمَرُ : وَافَقْتُ رَبِّي فِي ثَلَاثٍ ، قُلْتُ : " يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لَوْ اتَّخَذْنَا مِنْ مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّى ؟ فَنَزَلَتْ : وَاتَّخِذُوا مِنْ مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّى سورة البقرة آية 125 ، وَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ نِسَاءَكَ يَدْخُلُ عَلَيْهِنَّ الْبَرُّ وَالْفَاجِرُ ، فَلَوْ أَمَرْتَهُنَّ أَنْ يَحْتَجِبْنَ ؟ فَنَزَلَتْ آيَةُ الْحِجَابِ ، وَاجْتَمَعَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نِسَاؤُهُ فِي الْغَيْرَةِ ، فَقُلْتُ لَهُنَّ : عَسَى رَبُّهُ إِنْ طَلَّقَكُنَّ أَنْ يُبْدِلَهُ أَزْوَاجًا خَيْرًا مِنْكُنَّ سورة التحريم آية 5 ، قَالَ : فَنَزَلَتْ كَذَلِكَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے تین باتوں میں اپنے رب کی موافقت کی ہے ۔ (پہلا) ایک مرتبہ میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ ! کاش ! ہم مقام ابراہیم کو مصلیٰ بنا لیتے ، اس پر یہ آیت نازل ہو گئی کہ مقام ابراہیم کو مصلی بنا لو ۔ (دوسرا) ایک مرتبہ میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ ! آپ کی ازواج مطہرات کے پاس نیک اور بد ہر طرح کے لوگ آتے ہیں ، اگر آپ انہیں پردے کا حکم دے دیں تو بہتر ہے ؟ اس پر آیت حجاب نازل ہو گئی ۔ (تیسرا) ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تمام ازواج مطہرات نے کسی بات پر ایکا کر لیا ، میں نے ان سے کہا کہ اگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں طلاق دے دی ہو تو ہو سکتا ہے ان کا رب انہیں تم سے بہتر عطاء کر دے ، ان ہی الفاظ کے ساتھ قرآن کریم کی آیت نازل ہوگئی ۔
حدیث نمبر: 158
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ، قَالَ : سَمِعْتُ هِشَامَ بْنَ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ يَقْرَأُ سُورَةَ الْفُرْقَانِ ، فَقَرَأَ فِيهَا حُرُوفًا لَمْ يَكُنْ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقْرَأَنِيهَا ، قَالَ : فَأَرَدْتُ أَنْ أُسَاوِرَهُ وَهُوَ فِي الصَّلَاةِ ، فَلَمَّا فَرَغَ ، قُلْتُ : مَنْ أَقْرَأَكَ هَذِهِ الْقِرَاءَةَ ؟ قَالَ : رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قُلْتُ : كَذَبْتَ ، وَاللَّهِ مَا هَكَذَا أَقْرَأَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَخَذْتُ بِيَدِهِ أَقُودُهُ ، فَانْطَلَقْتُ بِهِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّكَ أَقْرَأْتَنِي سُورَةَ الْفُرْقَانِ ، وَإِنِّي سَمِعْتُ هَذَا يَقْرَأُ فِيهَا حُرُوفًا لَمْ تَكُنْ أَقْرَأْتَنِيهَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اقْرَأْ يَا هِشَامُ ، فَقَرَأَ كَمَا كَانَ قَرَأَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : هَكَذَا أُنْزِلَتْ ، ثُمَّ قَالَ : اقْرَأْ يَا عُمَرُ ، فَقَرَأْتُ ، فَقَالَ : هَكَذَا أُنْزِلَتْ ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ الْقُرْآنَ نَزَلَ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے سیدنا ہشام بن حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ کو سورت فرقان کی تلاوت کرتے ہوئے سنا ، انہوں نے اس میں ایسے حروف کی تلاوت کی جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے نہیں پڑھائے تھے میں اس وقت نماز پڑھ رہا تھا ، میرا دل چاہا کہ میں ان سے نماز ہی میں پوچھ لوں ، بہرحال ! فراغت کے بعد میں نے ان سے پوچھا کہ تمہیں سورت فرقان اس طرح کس نے پڑھائی ہے ؟ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ، میں نے کہا: آپ جھوٹ بولتے ہیں ، بخدا ! نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو اس طرح یہ سورت نہیں پڑھائی ہو گی ۔ یہ کہہ کر میں نے ان کا ہاتھ پکڑا اور انہیں کھینچتا ہوا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لے کر حاضر ہو گیا اور عرض کیا یا رسول اللہ ! آپ نے مجھے سورت فرقان خود پڑھائی ہے ، میں نے اسے سورت فرقان کو ایسے حروف میں پڑھتے ہوئے سنا ہے جو آپ نے مجھے نہیں پڑھائے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہشام سے اس کی تلاوت کرنے کے لئے فرمایا : انہوں نے اسی طرح پڑھا جیسے وہ پہلے پڑھ رہے تھے ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”یہ سورت اسی طرح نازل ہوئی ہے“ ، پھر مجھ سے کہا کہ عمر ! تم بھی پڑھ کر سناؤ ، چنانچہ میں نے بھی پڑھ کر سنا دیا ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ سورت اس طرح بھی نازل ہوئی ہے ، اس کے بعد ارشاد فرمایا : ”بیشک اس قرآن کا نزول سات قرأتوں پر ہوا ہے ۔ “
حدیث نمبر: 159
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ الْهَيْثَمِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، عَنْ عُمَرَ ، قَالَ : لَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَلْتَوِي ، مَا يَجِدُ مَا يَمْلَأُ بِهِ بَطْنَهُ مِنَ الدَّقَلِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے اپنی آنکھوں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھوک کی وجہ سے کروٹیں بدلتے ہوئے دیکھا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ردی کھجور بھی نہ ملتی تھی جس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا پیٹ بھر لیتے ۔
حدیث نمبر: 160
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : قَالَ عُمَرُ : وَافَقْتُ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ فِي ثَلَاثٍ ، أَوْ وَافَقَنِي رَبِّي فِي ثَلَاثٍ ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لَوْ اتَّخَذْتَ الْمَقَامَ مُصَلًّى ؟ قَالَ : فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : وَاتَّخِذُوا مِنْ مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّى سورة البقرة آية 125 ، وَقُلْتُ : لَوْ حَجَبْتَ عَنْ أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ ، فَإِنَّهُ يَدْخُلُ عَلَيْكَ الْبَرُّ وَالْفَاجِرُ ؟ فَأُنْزِلَتْ آيَةُ الْحِجَابِ ، قَالَ : وَبَلَغَنِي عَنْ أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ شَيْءٌ ، أَقُولُ لَهُنَّ : لَتَكُفُّنَّ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَوْ لَيُبْدِلَنَّهُ اللَّهُ بِكُنَّ أَزْوَاجًا خَيْرًا مِنْكُنَّ مُسْلِمَاتٍ ، حَتَّى أَتَيْتُ عَلَى إِحْدَى أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ ، فَقَالَتْ : يَا عُمَرُ ، أَمَا فِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا يَعِظُ نِسَاءَهُ حَتَّى تَعِظَهُنَّ ، فَكَفَفْتُ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : عَسَى رَبُّهُ إِنْ طَلَّقَكُنَّ أَنْ يُبْدِلَهُ أَزْوَاجًا خَيْرًا مِنْكُنَّ مُسْلِمَاتٍ مُؤْمِنَاتٍ قَانِتَاتٍ سورة التحريم آية 5 الْآيَةَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے تین باتوں میں اپنے رب کی موافقت کی ہے ، (پہلا) ایک مرتبہ میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا : یا رسول اللہ ! کاش ! ہم مقام ابراہیم کو مصلیٰ بنا لیتے ، اس پر یہ آیت نازل ہو گئی کہ مقام ابراہیم کو مصلی بنا لو ۔ (دوسرا) ایک مرتبہ میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا : یا رسول اللہ ! آپ کی ازواج مطہرات کے پاس نیک اور بد ہر طرح کے لوگ آتے ہیں اگر آپ انہیں پردے کا حکم دے دیں تو بہتر ہے ؟ اس پر آیت حجاب نازل ہو گئی ۔ (تیسرا) ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تمام ازواج مطہرات نے کسی بات پر ایکا کر لیا ، میں نے ان سے کہا کہ تم باز آ جاؤ ، ورنہ ہو سکتا ہے ان کا رب انہیں تم سے بہتر بیویاں عطاء کر دے ، میں اسی سلسلے میں امہات المؤمنین میں سے کسی کے پاس گیا تو انہوں نے مجھ سے کہا کہ اے عمر ! کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیویوں کو نصیحت نہیں کر سکتے کہ تم انہیں نصیحت کرنے نکلے ہو ؟ اس پر میں رک گیا ، لیکن ان ہی الفاظ کے ساتھ قرآن کریم کی آیت نازل ہو گئی ۔
حدیث نمبر: 161
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، أَنَّ يَحْيَى بْنَ أَبِي كَثِيرٍ حَدَّثَهُ ، عَنْ عِكْرِمَةَ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ بِالْعَقِيقِ ، يَقُولُ : " أَتَانِي اللَّيْلَةَ آتٍ مِنْ رَبِّي ، فَقَالَ : صَلِّ فِي هَذَا الْوَادِي الْمُبَارَكِ ، وَقُلْ : عُمْرَةٌ فِي حَجَّةٍ " . قَالَ الْوَلِيدُ : يَعْنِي ذَا الْحُلَيْفَةِ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے وادی عقیق میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ آج رات ایک آنے والا میرے رب کے پاس سے آیا اور کہنے لگا کہ اس مبارک وادی میں نماز پڑھیے اور حج کے ساتھ عمرہ کی بھی نیت کر کے احرام باندھ لیں ، مراد ذوالحلیفہ کی جگہ ہے ۔
…