حدیث نمبر: 41
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ عَامِرٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ ، قَالَ : " كُنْتُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسًا ، فَجَاءَ مَاعِزُ بْنُ مَالِكٍ فَاعْتَرَفَ عِنْدَهُ مَرَّةً فَرَدَّهُ ، ثُمَّ جَاءَهُ فَاعْتَرَفَ عِنْدَهُ الثَّانِيَةَ فَرَدَّهُ ، ثُمَّ جَاءَهُ فَاعْتَرَفَ الثَّالِثَةَ فَرَدَّهُ ، فَقُلْتُ لَهُ : إِنَّكَ إِنْ اعْتَرَفْتَ الرَّابِعَةَ رَجَمَكَ ، قَالَ : فَاعْتَرَفَ الرَّابِعَةَ ، فَحَبَسَهُ ، ثُمَّ سَأَلَ عَنْهُ ، فَقَالُوا : مَا نَعْلَمُ إِلَّا خَيْرًا ، قَالَ : فَأَمَرَ بِرَجْمِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں بیٹھا ہوا تھا ، اتنی دیر میں ماعز بن مالک آ گئے اور ایک مرتبہ بدکاری کا اعتراف نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کیا ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں واپس بھیج دیا ، دوسری مرتبہ بھی ایسا ہی ہوا ، تیسری مرتبہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں واپس بھیجا تو میں نے ان سے کہا : اگر تم نے چوتھی مرتبہ بھی اعتراف کر لیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم تمہیں رجم کی سزا دیں گے ، تاہم انہوں نے چوتھی مرتبہ آ کر بھی اعتراف جرم کر لیا ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں روک لیا اور لوگوں سے ان کے متعلق دریافت کیا ، لوگوں نے بتایا کہ ہمیں تو ان کے بارے میں خیر ہی کا علم ہے ، بہرحال ! ضابطے کے مطابق نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں رجم کرنے کا حکم دے دیا ۔
حدیث نمبر: 42
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَيَّاشٍ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، قَالَ : وأَخْبَرَنِي يَزِيدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ ذِي عَصْوَانَ الْعنسي ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ اللَّخْمِيِّ ، عَنْ رَافِعٍ الطَّائِيِّ رَفِيقِ أَبِي بَكْرٍ فِي غَزْوَةِ السُّلَاسِلِ ، قَالَ : وَسَأَلْتُهُ عَمَّا قِيلَ مِنْ بَيْعَتِهِمْ ، فَقَالَ وَهُوَ يُحَدِّثُهُ عَمَّا تَكَلَّمَتْ بِهِ الْأَنْصَارُ ، وَمَا كَلَّمَهُمْ بِهِ ، وَمَا كَلَّمَ بِهِ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ الْأَنْصَارَ ، وَمَا ذَكَّرَهُمْ بِهِ مِنْ إِمَامَتِي إِيَّاهُمْ : " بِأَمْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَرَضِهِ فَبَايَعُونِي لِذَلِكَ ، وَقَبِلْتُهَا مِنْهُمْ ، وَتَخَوَّفْتُ أَنْ تَكُونَ فِتْنَةٌ ، تَكُونُ بَعْدَهَا رِدَّةٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت رافع طائی جو غزوہ ذات السلاسل میں سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے رفیق تھے کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے انصار کی بیعت کے بارے میں کہی جانے والی باتوں کے متعلق سوال کیا تو انہوں نے وہ باتیں بیان فرمائیں جو انصار نے کہی تھیں ، یا جو خود انہوں نے فرمائی تھیں ، یا جو سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے انصار سے کی تھیں ور انہیں یہ بھی یاد دلایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے آپ کے مرض الوفات میں وہ لوگ میری امامت میں نماز ادا کرتے رہے ہیں ، اس پر تمام انصار نے میری بیعت کر لی اور میں نے اسے ان کی طرف سے قبول کر لیا ، بعد میں مجھے اندیشہ ہو کہ کہیں یہ کسی امتحان کا سبب نہ بن جائے چناچہ اس کے بعد فتنہ ارتداد پیش آ کر رہا ۔
حدیث نمبر: 43
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَيَّاشٍ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنِي وَحْشِيُّ بْنُ حَرْبٍ بن وحشي بن حرب ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ وَحْشِيِّ بْنِ حَرْبٍ : أَنَّ أَبَا بَكْرٍ عَقَدَ لِخَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ عَلَى قِتَالِ أَهْلِ الرِّدَّةِ ، وَقَالَ : إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " نِعْمَ عَبْدُ اللَّهِ وَأَخُو الْعَشِيرَةِ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ ، وَسَيْفٌ مِنْ سُيُوفِ اللَّهِ سَلَّهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى الْكُفَّارِ وَالْمُنَافِقِينَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا وحشی بن حرب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے مرتدین سے قتال کے لئے سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے اعزاز میں خصوصی طور پر جھنڈا تیار کروایا اور فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اللہ کا بہترین بندہ اور اپنے قبیلہ کا بہترین فرد خالد بن ولید ہے جو اللہ کی تلواروں میں سے ایک تلوار ہے ، جو اللہ نے کفار و منافقین کے خلاف میان سے نکال کر سونت لی ہے ۔
حدیث نمبر: 44
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ يَعْنِي ابْنَ صَالِحٍ ، عَنْ سُلَيْمِ بْنِ عَامِرٍ الْكَلَاعِيِّ ، عَنْ أَوْسَطَ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ بَعْدَ وَفَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَنَةٍ ، فَأَلْفَيْتُ أَبَا بَكْرٍ يَخْطُبُ النَّاسَ ، فَقَالَ : قَامَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْأَوَّلِ ، فَخَنَقَتْهُ الْعَبْرَةُ ثَلَاثَ مِرَارٍ ، ثُمَّ قَالَ : " يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، سَلُوا اللَّهَ الْمُعَافَاةَ ، فَإِنَّهُ لَمْ يُؤْتَ أَحَدٌ مِثْلَ يَقِينٍ بَعْدَ مُعَافَاةٍ ، وَلَا أَشَدَّ مِنْ رِيبَةٍ بَعْدَ كُفْرٍ ، وَعَلَيْكُمْ بِالصِّدْقِ ، فَإِنَّهُ يَهْدِي إِلَى الْبِرِّ ، وَهُمَا فِي الْجَنَّةِ ، وَإِيَّاكُمْ وَالْكَذِبَ ، فَإِنَّهُ يَهْدِي إِلَى الْفُجُورِ ، وَهُمَا فِي النَّارِ " .
مولانا ظفر اقبال
اوسط کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے ایک سال بعد میں مدینہ منورہ حاضر ہوا ، تو میں نے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو لوگوں کے سامنے خطبہ دیتے ہوئے پایا ، انہوں نے فرمایا کہ اس جگہ گزشتہ سال نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان خطبہ دینے کے لئے کھڑے ہوئے تھے ، یہ کہہ کر آپ رو پڑے ، تین مرتبہ اسی طرح ہوا ، پھر فرمایا : لوگو ! اللہ سے درگزر کی درخواست کیا کرو ، کیونکہ ایمان کے بعد عافیت سے بڑھ کر نعمت کسی کو نہیں دی گئی ، اسی طرح کفر کے بعد شک سے بدترین چیز کسی کو نہیں دی گئی ، سچائی کو اختیار کرو کیونکہ سچائی کا تعلق نیکی کے ساتھ ہے اور یہ دونوں چیزیں جنت میں ہوں گی ، جھوٹ بولنے سے اپنے آپ کو بچاؤ کیونکہ جھوٹ کا تعلق گناہ سے ہے اور یہ دونوں چیزیں جہنم میں ہوں گی ۔
حدیث نمبر: 45
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُيَسَّرٍ أَبُو سَعْدٍ الصَّاغَانِيُّ الْمَكْفُوفُ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : إِنَّ أَبَا بَكْرٍ لَمَّا حَضَرَتْهُ الْوَفَاةُ ، قَالَ : " أَيُّ يَوْمٍ هَذَا ؟ قَالُوا : يَوْمُ الِاثْنَيْنِ ، قَالَ : " فَإِنْ مِتُّ مِنْ لَيْلَتِي ، فَلَا تَنْتَظِرُوا بِي الْغَدَ ، فَإِنَّ أَحَبَّ الْأَيَّامِ وَاللَّيَالِي إِلَيَّ أَقْرَبُهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدہ عائشہ صدیقہ عنہا سے مروی ہے کہ جب سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی اس دنیوی زندگی کے آخری لمحات قریب آئے ، تو انہوں نے پوچھا کہ آج کون سا دن ہے ؟ لوگوں نے بتایا کہ پیر کا دن ہے ، فرمایا : اگر میں آج ہی رات دنیا سے رخصت ہو جاؤں تو کل کا انتظار نہ کرنا بلکہ رات ہی کو دفن کر دینا کیونکہ مجھے وہ دن اور رات زیادہ محبوب ہے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زیادہ قریب ہو ۔
حدیث نمبر: 46
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ ، قَالَ : قَامَ أَبُو بَكْرٍ بَعْدَ وَفَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَامٍ ، فَقَالَ : قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَقَامِي عَامَ الْأَوَّلِ ، فَقَالَ : " سَلُوا اللَّهَ الْعَافِيَةَ ، فَإِنَّهُ لَمْ يُعْطَ عَبْدٌ شَيْئًا أَفْضَلَ مِنَ الْعَافِيَةِ ، وَعَلَيْكُمْ بِالصِّدْقِ وَالْبِرِّ ، فَإِنَّهُمَا فِي الْجَنَّةِ ، وَإِيَّاكُمْ وَالْكَذِبَ وَالْفُجُورَ ، فَإِنَّهُمَا فِي النَّارِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابوعبیدہ کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے پورے ایک سال بعد سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ایک مرتبہ خطبہ دینے کے لئے کھڑے ہوئے تو فرمایا کہ گزشتہ سال نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی اسی جگہ پر کھڑے ہوئے تھے اور فرمایا تھا کہ اللہ سے عافیت کا سوال کیا کرو ، کیونکہ کسی انسان کو عافیت سے بڑھ کر کوئی نعمت نہیں دی گئی سچائی اور نیکی کو اختیار کرو اور یہ دونوں چیزیں جنت میں ہوں گی ، جھوٹ اور گناہ سے بچو کیونکہ یہ دونوں جہنم میں ہوں گے ۔
حدیث نمبر: 47
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَلِيَّ بْنَ رَبِيعَةَ مِنْ بَنِي أَسَدٍ يُحَدِّثُ ، عَنْ أَسْمَاءَ ، أَوْ ابْنِ أَسْمَاءَ مِنْ بَنِي فَزَارَةَ ، قَالَ : قَالَ عَلِيٌّ : كُنْتُ إِذَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا ، نَفَعَنِي اللَّهُ بِمَا شَاءَ أَنْ يَنْفَعَنِي مِنْهُ ، وَحَدَّثَنِي أَبُو بَكْرٍ ، وَصَدَقَ أَبُو بَكْرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا مِنْ مُسْلِمٍ يُذْنِبُ ذَنْبًا ثُمَّ يَتَوَضَّأُ فَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ ، ثُمَّ يَسْتَغْفِرُ اللَّهَ تَعَالَى لِذَلِكَ الذَّنْبِ ، إِلَّا غَفَرَ لَهُ " ، وَقَرَأَ هَاتَيْنِ الْآيَتَيْنِ : وَمَنْ يَعْمَلْ سُوءًا أَوْ يَظْلِمْ نَفْسَهُ ثُمَّ يَسْتَغْفِرِ اللَّهَ يَجِدِ اللَّهَ غَفُورًا رَحِيمًا سورة النساء آية 110 ، وَالَّذِينَ إِذَا فَعَلُوا فَاحِشَةً أَوْ ظَلَمُوا أَنْفُسَهُمْ سورة آل عمران آية 135 .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی کرم اللہ وجہہ فرماتے ہیں کہ میں جب بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی حدیث سنتا تھا تو اللہ تعالیٰ جیسے چاہتا تھا ، مجھے اس سے فائدہ پہنچاتا تھا ۔ مجھ سے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث بیان کی ہے اور وہ یہ حدیث بیان کرنے میں سچے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جو مسلمان کوئی گناہ کر بیٹھے ، پھر وضو کرے اس کے بعد دو رکعت نماز پڑھے اور اللہ سے اپنے اس گناہ کی معافی مانگے تو اللہ تعالیٰ اس کے گناہ کو یقیناً معاف فرما دے گا ، اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دو آیتیں پڑھیں : «وَمَن يَعْمَلْ سُوءًا أَوْ يَظْلِمْ نَفْسَهُ ثُمَّ يَسْتَغْفِرِ اللَّـهَ يَجِدِ اللَّـهَ غَفُورًا رَّحِيمًا» [4-النساء:110] ”جو شخص کوئی گناہ کرے یا اپنے نفس پر ظلم کر بیٹھے ، پھر اللہ سے معافی مانگے تو وہ اللہ کو بڑا بخشنے والا مہربان پائے گا۔ “ اور «وَالَّذِينَ إِذَا فَعَلُوا فَاحِشَةً أَوْ ظَلَمُوا أَنفُسَهُمْ ذَكَرُوا اللَّـهَ فَاسْتَغْفَرُوا لِذُنُوبِهِمْ وَمَن يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا اللَّـهُ وَلَمْ يُصِرُّوا عَلَىٰ مَا فَعَلُوا وَهُمْ يَعْلَمُونَ» [3-آل عمران:135] ”وہ لوگ کہ جب وہ کوئی گناہ کر بیٹھیں یا اپنے اوپر ظلم کریں . . . ۔ “
حدیث نمبر: 48
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ عُثْمَانَ مِنْ آلِ أَبِي عُقَيْلٍ الثَّقَفِيِّ . . . إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : قَالَ شُعْبَةُ : وَقَرَأَ إِحْدَى هَاتَيْنِ الْآيَتَيْنِ : مَنْ يَعْمَلْ سُوءًا يُجْزَ بِهِ سورة النساء آية 123 ، وَالَّذِينَ إِذَا فَعَلُوا فَاحِشَةً سورة آل عمران آية 135 .
مولانا ظفر اقبال
ایک دوسری سند سے بھی یہ روایت اسی طرح مروی ہے ، البتہ اس میں امام شعبہ رحمہ اللہ کا یہ قول منقول ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دو میں سے کسی ایک آیت کی تلاوت فرمائی ۔
حدیث نمبر: 49
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ ، حَدَّثَنَا سَلِيمُ بْنُ حَيَّانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ عُمَرَ ، قَالَ : إِنَّ أَبَا بَكْرٍ خَطَبَنَا ، فَقَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ فِينَا عَامَ أَوَّلَ ، فَقَالَ : " أَلَا إِنَّهُ لَمْ يُقْسَمْ بَيْنَ النَّاسِ شَيْءٌ أَفْضَلُ مِنَ الْمُعَافَاةِ بَعْدَ الْيَقِينِ ، أَلَا إِنَّ الصِّدْقَ وَالْبِرَّ فِي الْجَنَّةِ ، أَلَا إِنَّ الْكَذِبَ وَالْفُجُورَ فِي النَّارِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ہمارے سامنے خطبہ ارشاد فرمانے کے لئے کھڑے ہوئے اور فرمایا کہ گزشتہ سال ہمارے درمیان اسی طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے تھے اور فرمایا تھا کہ لوگوں کے درمیان ایمان و یقین کے بعد عافیت سے بڑھ کر کوئی نعمت تقسیم نہیں کی گئی ، یاد رکھو ! سچائی جنت میں ہے اور جھوٹ اور گناہ جہنم میں ۔
حدیث نمبر: 50
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا إِسْحَاقَ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ الْبَرَاءَ ، قَالَ : لَمَّا أَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ مَكَّةَ إِلَى الْمَدِينَةِ عَطِشَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَمَرُّوا بِرَاعِي غَنَمٍ ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ : فَأَخَذْتُ قَدَحًا ، فَحَلَبْتُ فِيهِ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُثْبَةً مِنْ لَبَنٍ ، فَأَتَيْتُهُ بِهِ ، فَشَرِبَ حَتَّى رَضِيتُ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کر کے آ رہے تھے تو راستے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پیاس لگی ، اتفاقاً وہاں سے بکریوں کے ایک چرواہے کا گزر ہوا ، سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے ایک پیالہ لے کر اس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے تھوڑا سا دودھ دوہا اور اسے لے کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے نوش فرمایا یہاں تک کہ میں خوش ہو گیا ۔
حدیث نمبر: 51
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، أخبرني يَعْلَى بْنُ عَطَاءٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ عَاصِمٍ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : قَالَ أَبُو بَكْرٍ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، عَلِّمْنِي شَيْئًا أَقُولُهُ إِذَا أَصْبَحْتُ ، وَإِذَا أَمْسَيْتُ ، وَإِذَا أَخَذْتُ مَضْجَعِي ، قَالَ : " قُلْ : اللَّهُمَّ فَاطِرَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ ، عَالِمَ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ ، أَوْ قَالَ : اللَّهُمَّ عَالِمَ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ ، فَاطِرَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ ، رَبَّ كُلِّ شَيْءٍ وَمَلِيكَهُ ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ ، أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ نَفْسِي ، وَشَرِّ الشَّيْطَانِ وَشِرْكِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
ایک مرتبہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے بارگاہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم میں عرض کیا ، یا رسول اللہ ! مجھے کوئی ایسی دعا سکھا دیجئے جو میں صبح و شام اور بستر پر لیٹتے وقت پڑھ لیا کروں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دعا سکھائی : «اللَّهُمَّ فَاطِرَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ ، عَالِمَ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ ، أَوْ قَالَ : اللَّهُمَّ عَالِمَ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ ، فَاطِرَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ ، رَبَّ كُلِّ شَيْءٍ وَمَلِيكَهُ ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ ، أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ نَفْسِي ، وَشَرِّ الشَّيْطَانِ وَشِرْكِهِ» اے اللہ ! اے آسمان و زمین کو پیدا کرنے والے ، ظاہر اور پوشیدہ سب کچھ جاننے والے ، ہر چیز کے پالنہار اور مالک ! میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ تیرے علاوہ کوئی معبود نہیں ہو سکتا ، میں اپنی ذات کے شر ، شیطان کے شر اور اس کے شرک سے تیری پناہ میں آتا ہوں ۔
حدیث نمبر: 52
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ عَاصِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ . . . فَذَكَرَ مَعْنَاهُ .
مولانا ظفر اقبال
یہی حدیث ایک دوسری سند سے بھی روایت کی گئی ہے جو عبارت میں مذکور ہے ۔
حدیث نمبر: 53
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ ، قَالَ : سَمِعْتُ قَيْسَ بْنَ أَبِي حَازِمٍ يُحَدِّثُ ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ : أَنَّهُ خَطَبَ ، فَقَالَ : يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، إِنَّكُمْ تَقْرَءُونَ هَذِهِ الْآيَةَ ، وَتَضَعُونَهَا عَلَى غَيْرِ مَا وَضَعَهَا اللَّهُ : يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا عَلَيْكُمْ أَنْفُسَكُمْ لا يَضُرُّكُمْ مَنْ ضَلَّ إِذَا اهْتَدَيْتُمْ سورة المائدة آية 105 ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " إِنَّ النَّاسَ إِذَا رَأَوْا الْمُنْكَرَ بَيْنَهُمْ ، فَلَمْ يُنْكِرُوهُ ، يُوشِكُ أَنْ يَعُمَّهُمْ اللَّهُ بِعِقَابٍ " .
مولانا ظفر اقبال
قیس کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ خطبہ ارشاد فرمانے کے لئے کھڑے ہوئے تو فرمایا : اے لوگو ! تم اس آیت کی تلاوت کرتے ہو : «يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا عَلَيْكُمْ أَنفُسَكُمْ لَا يَضُرُّكُم مَّن ضَلَّ إِذَا اهْتَدَيْتُمْ إِلَى اللَّـهِ مَرْجِعُكُمْ جَمِيعًا فَيُنَبِّئُكُم بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ» [5-المائدة:105] ”اے ایمان والو ! تم اپنی فکر کرو ، اگر تم راہ راست پر ہو تو کوئی گمراہ شخص تمہیں نقصان نہیں پہنچا سکتا ۔“ اور تم اسے اس صحیح محمل پر محمود نہیں کرتے ، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جب لوگ گناہ کا کام ہوتے ہوئے دیکھیں اور اسے بدلنے کی کوشش نہ کریں تو عنقریب ان سب کو اللہ کا عذاب گھیر لے گا ۔
حدیث نمبر: 54
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ تَوْبَةَ الْعَنْبَرِيِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا سَوَّارٍ الْقَاضِيَ ، يَقُولُ : عَنْ أَبِي بَرْزَةَ الْأَسْلَمِيِّ ، قَالَ : أَغْلَظَ رَجُلٌ لِأَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ ، قَالَ : فَقَالَ أَبُو بَرْزَةَ : " أَلَا أَضْرِبُ عُنُقَهُ ؟ قَالَ : فَانْتَهَرَهُ ، وَقَالَ : مَا هِيَ لِأَحَدٍ بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابوبرزہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی شان میں گستاخی کی اور انتہائی سخت کلمات کہے ، میں نے عرض کیا کہ میں اس کی گردن نہ اڑا دوں ؟ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے مجھے پیار سے جھڑک کر فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد یہ بات کسی کے لئے نہیں ہے ۔ (شان رسالت میں گستاخی کی سزا تو یہی ہے البتہ ہم اپنے لئے اس کی اجازت نہیں دیں گے)۔
حدیث نمبر: 55
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ : أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْسَلَتْ إِلَى أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ ، تَسْأَلُهُ مِيرَاثَهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِمَّا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَيْهِ بِالْمَدِينَةِ ، وَفَدَكَ ، وَمَا بَقِيَ مِنْ خُمُسِ خَيْبَرَ ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا نُورَثُ ، مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ ، إِنَّمَا يَأْكُلُ آلُ مُحَمَّدٍ فِي هَذَا الْمَالِ " ، وَإِنِّي وَاللَّهِ لَا أُغَيِّرُ شَيْئًا مِنْ صَدَقَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ حَالِهَا الَّتِي كَانَتْ عَلَيْهَا فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَلَأَعْمَلَنَّ فِيهَا بِمَا عَمِلَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . فَأَبَى أَبُو بَكْرٍ أَنْ يَدْفَعَ إِلَى فَاطِمَةَ مِنْهَا شَيْئًا ، فَوَجَدَتْ فَاطِمَةُ عَلَى أَبِي بَكْرٍ فِي ذَلِكَ ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، لَقَرَابَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَبُّ إِلَيَّ أَنْ أَصِلَ مِنْ قَرَابَتِي ، وَأَمَّا الَّذِي شَجَرَ بَيْنِي وَبَيْنَكُمْ مِنْ هَذِهِ الْأَمْوَالِ فَإِنِّي لَمْ آلُ فِيهَا عَنِ الْحَقِّ ، وَلَمْ أَتْرُكْ أَمْرًا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُهُ فِيهَا إِلَّا صَنَعْتُهُ .
مولانا ظفر اقبال
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک دن سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مدینہ ، فدک اور خیبر کے خمس کی میراث کا مطالبہ لے کر سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے یہاں ایک خادم بھیجا ، سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہمارے مال میں وراثت جاری نہیں ہوتی بلکہ ہم جو کچھ چھوڑ کر جاتے ہیں ، وہ سب صدقہ ہوتا ہے ، البتہ آل محمد اس مال میں سے کھا سکتی ہے اور میں قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو جیسا کرتے ہوئے دیکھا ہے ، میں اس طریقے کو کسی صورت نہیں چھوڑوں گا اور میں اس میں اسی طرح کام کروں گا جیسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا تھا ، گویا سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اس میں سے کچھ بھی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو دینے سے انکار کر دیا جس سے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی طبیعت میں (فطرت انسانی کی بناء پر) ایک بوجھ آیا ، ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے اپنے رشتہ داروں سے صلہ رحمی کرنے سے میرے نزدیک نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے رشتہ دار زیادہ محبوب ہیں ، لیکن اس مال کے حوالے سے میرے اور آپ کے درمیان جو اختلاف رائے ہے ، اس میں حق سے پیچھے نہیں ہٹوں گا اور میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو جس طرح کوئی کام کرتے ہوئے سنا ہے ، میں اسی طرح اس کام کو کرنا ترک نہیں کروں گا ۔
حدیث نمبر: 56
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ رَبِيعَةَ ، عَنْ أَسْمَاءَ بْنِ الْحَكَمِ الْفَزَارِيِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَلِيًّا كَرَّمَ اللَّهُ وَجْهَهُ ، قَالَ : كُنْتُ إِذَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثًا ، نَفَعَنِي اللَّهُ بِهِ بِمَا شَاءَ أَنْ يَنْفَعَنِي مِنْهُ ، وَإِذَا حَدَّثَنِي غَيْرُهُ ، اسْتَحْلَفْتُهُ ، فَإِذَا حَلَفَ لِي ، صَدَّقْتُهُ ، وَحَدَّثَنِي أَبُو بَكْرٍ ، وَصَدَقَ أَبُو بَكْرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا مِنْ عَبْدٍ مُؤْمِنٍ يُذْنِبُ ذَنْبًا فَيَتَوَضَّأُ ، فَيُحْسِنُ الطُّهُورَ ، ثُمَّ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ ، فَيَسْتَغْفِرُ اللَّهَ تَعَالَى ، إِلَّا غَفَرَ اللَّهُ لَهُ ، ثُمَّ تَلَا : وَالَّذِينَ إِذَا فَعَلُوا فَاحِشَةً أَوْ ظَلَمُوا أَنْفُسَهُمْ سورة آل عمران آية 135 .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی کرم اللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں جب بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی حدیث سنتا تھا تو اللہ تعالیٰ جیسے چاہتا تھا ، مجھے اس سے فائدہ پہنچاتا تھا اور جب کوئی دوسرا شخص مجھ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی حدیث بیان کرتا تو میں اس سے اس پر قسم لیتا ، جب وہ قسم کھا لیتا کہ یہ حدیث اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے تب کہیں جا کر میں اس کی بات کو سچا تسلیم کرتا تھا ۔ مجھ سے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث بیان کی ہے اور وہ یہ حدیث بیان کرنے میں سچے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو آدمی کوئی گناہ کر بیٹھے ، پھر وضو کرے اور خوب اچھی طرح کرے ، اس کے بعد دو رکعت نماز پڑھے اور اللہ سے اپنے اس گناہ کی معافی مانگے تو اللہ تعالیٰ اس کے گناہ کو یقینا معاف فرما دے گا ، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی : «وَالَّذِينَ إِذَا فَعَلُوا فَاحِشَةً أَوْ ظَلَمُوا أَنفُسَهُمْ . . . » [3-آل عمران:135] ”اور وہ لوگ کہ جب وہ کوئی گناہ کر بیٹھیں یا اپنی جان پر ظلم کریں . . .۔ “
حدیث نمبر: 57
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ السَّبَّاقِ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ ، قَالَ : أَرْسَلَ إِلَيَّ أَبُو بَكْرٍ مَقْتَلَ أَهْلِ الْيَمَامَةِ ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : " يَا زَيْدُ بْنَ ثَابِتٍ ، أَنْتَ غُلَامٌ شَابٌّ عَاقِلٌ لَا نَتَّهِمُكَ ، قَدْ كُنْتَ تَكْتُبُ الْوَحْيَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَتَتَبَّعْ الْقُرْآنَ ، فَاجْمَعْهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے مجھے جنگ یمامہ میں شہید ہونے والے حفاظ کی خبر بھجوائی اور مجھ سے فرمایا کہ زید ! تم ایک سمجھ دار نوجوان ہو ، ہم تمہیں کسی غلط کام کے ساتھ متہم بھی نہیں پاتے ، تم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کاتب وحی بھی رہ چکے ہو ، اس لیے قرآن کریم کو مختلف جگہوں سے تلاش کر کے یکجا اکٹھا کرو ۔
حدیث نمبر: 58
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ : أَنَّ فَاطِمَةَ ، وَالْعَبَّاسَ أَتَيَا أَبَا بَكْرٍ يَلْتَمِسَانِ مِيرَاثَهُمَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَهُمَا حِينَئِذٍ يَطْلُبَانِ أَرْضَهُ مِنْ فَدَكَ ، وَسَهْمَهُ مِنْ خَيْبَرَ ، فَقَالَ لَهُمَا أَبُو بَكْرٍ : إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " لَا نُورَثُ ، مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ ، وَإِنَّمَا يَأْكُلُ آلُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا الْمَالِ " ، وَإِنِّي وَاللَّهِ لَا أَدَعُ أَمْرًا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُهُ فِيهِ إِلَّا صَنَعْتُهُ .
مولانا ظفر اقبال
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال مبارک کے بعد ایک دن سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا اور سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی میراث کا مطالبہ لے کر سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے یہاں تشریف لائے اس وقت ان دونوں کا مطالبہ ارض فدک اور خیبر کا حصہ تھا ، ان دونوں بزرگوں کی گفتگو سننے کے بعد سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ہمارے مال میں وراثت جاری نہیں ہوتی ، بلکہ ہم جو کچھ چھوڑ کر جاتے ہیں وہ صدقہ ہوتا ہے ، البتہ آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس مال میں سے کھا سکتی ہے اور میں قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو جیسا کرتے ہوئے دیکھا ہے ، میں اس طریقے کو کسی صورت نہیں چھوڑوں گا ۔
حدیث نمبر: 59
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا نَافِعٌ يَعْنِي ابْنَ عُمَرَ ، عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، قَالَ : قِيلَ لِأَبِي بَكْرٍ : يَا خَلِيفَةَ اللَّهِ ، فَقَالَ : " أَنَا خَلِيفَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَنَا رَاضٍ بِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
ابن ابی ملیکہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو ”یا خلیفۃ اللہ“ کہہ کر پکارا گیا تو آپ نے فرمایا کہ میں خلیفۃ اللہ نہیں ہوں بلکہ خلیفہ رسول اللہ ہوں اور میں اسی درجے پر راضی ہوں ۔
حدیث نمبر: 60
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، أَنَّ فَاطِمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ لِأَبِي بَكْرٍ : مَنْ يَرِثُكَ إِذَا مِتَّ ؟ قَالَ : وَلَدِي ، وَأَهْلِي ، قَالَتْ : فَمَا لَنَا لَا نَرِثُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " إِنَّ النَّبِيَّ لَا يُورَثُ " ، وَلَكِنِّي أَعُولُ مَنْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُولُ ، وَأُنْفِقُ عَلَى مَنْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُنْفِقُ .
مولانا ظفر اقبال
ابوسلمہ رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ جب آپ اس دنیا سے کوچ فرمائیں گے تو آپ کو وارث کون ہو گا ؟ فرمایا : میرے بیوی بچے ، سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا کہ پھر ہم کیوں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے وارث نہیں ؟ فرمایا : میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ نبی کے مال میں وراثت جاری نہیں ہوتی ، البتہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جن کی عیال داری اور نگہبانی فرماتے تھے میں ان کی عیال داری اور کفالت کرتا رہوں گا اور جس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم خرچ فرماتے تھے میں اس پر خرچ کرتا رہوں گا ۔
حدیث نمبر: 61
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُطَرِّفِ بْنِ الشِّخِّيرِ ، أَنَّهُ حَدَّثَهُمْ ، عَنْ أَبِي بَرْزَةَ الْأَسْلَمِيِّ ، أَنَّهُ قَالَ : كُنَّا عِنْدَ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ فِي عَمَلِهِ ، فَغَضِبَ عَلَى رَجُلٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ ، فَاشْتَدَّ غَضَبُهُ عَلَيْهِ جِدًّا ، فَلَمَّا رَأَيْتُ ذَلِكَ قُلْتُ : يَا خَلِيفَةَ رَسُولِ اللَّهِ ، أَضْرِبُ عُنُقَهُ ؟ فَلَمَّا ذَكَرْتُ الْقَتْلَ صَرَفَ عَنْ ذَلِكَ الْحَدِيثِ أَجْمَعَ إِلَى غَيْرِ ذَلِكَ مِنَ النَّحْوِ ، فَلَمَّا تَفَرَّقْنَا أَرْسَلَ إِلَيَّ بَعْدَ ذَلِكَ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ ، فَقَالَ : يَا أَبَا بَرْزَةَ ، مَا قُلْتَ ؟ قَالَ : وَنَسِيتُ الَّذِي قُلْتُ ، قُلْتُ : ذَكِّرْنِيهِ ، قَالَ : أَمَا تَذْكُرُ مَا قُلْتَ ؟ قَالَ : قُلْتُ : لَا وَاللَّهِ ، قَالَ : أَرَأَيْتَ حِينَ رَأَيْتَنِي غَضِبْتُ عَلَى الرَّجُلِ ، فَقُلْتَ : " أَضْرِبُ عُنُقَهُ يَا خَلِيفَةَ رَسُولِ اللَّهِ ؟ أَمَا تَذْكُرُ ذَاكَ ؟ أَوَكُنْتَ فَاعِلًا ذَاكَ ؟ قَالَ : قُلْتُ : نَعَمْ وَاللَّهِ ، وَالْآنَ إِنْ أَمَرْتَنِي فَعَلْتُ ، قَالَ : وَيْحَكَ ، أَوْ : وَيْلَكَ ، إِنَّ تِلْكَ وَاللَّهِ مَا هِيَ لِأَحَدٍ بَعْدَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابوبرزہ اسلمی رضی اللہ عنہ اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم ایک مرتبہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے ساتھ کسی کام میں مشغول تھے ، سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو اسی دوران ایک مسلمان پر کسی وجہ سے غصہ آ گیا اور وہ غصہ بہت زیادہ بڑھ گیا ، جب میں نے صورت حال دیکھی تو عرض کیا یا خیفۃ رسول اللہ ! کیا میں اس کی گردن نہ اڑا دوں ؟ جب میں نے قتل کا نام لیا تو انہوں گفتگو کا عنوان اور موضوع ہی بدل دیا ۔ جب ہم لوگ وہاں سے فراغت کے بعد منتشر ہو گئے تو سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے ایک قاصد کے ذریعے مجھے بھیجا اور فرمایا : ابوبرزہ ! تم کیا کہہ رہے تھے ؟ میں نے عرض کیا : واللہ مجھے یاد نہیں ہے ۔ فرمایا : یاد کرو جب تم نے مجھے ایک شخص پر غصہ ہوتے ہوئے دیکھا تھا تو تم نے کہا تھا یا خلیفۃ رسول اللہ ! کیا میں اس کی گردن نہ اڑا دوں ؟ یاد آیا ؟ کیا تم واقعی ایسا کر گزرتے ؟ میں نے قسم کھا کر عرض کیا جی ہاں ! اگر آپ اب بھی مجھے یہ حکم دیں تو میں اسے پورا کر گزروں ، فرمایا : افسوس ! اللہ کی قسم ! نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد یہ کسی کے لئے نہیں ہے ۔
حدیث نمبر: 62
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَتِيقٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : إِنَّ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " السِّوَاكُ مَطْهَرَةٌ لِلْفَمِ ، مَرْضَاةٌ لِلرَّبِّ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”مسواک منہ کی پاکیزگی اور پروردگار کی خوشنودی کا سبب ہے ۔ “
حدیث نمبر: 63
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ عَاصِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : قَالَ أَبُو بَكْرٍ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قُلْ لِي شَيْئًا أَقُولُهُ إِذَا أَصْبَحْتُ وَإِذَا أَمْسَيْتُ ، قَالَ : " قُلْ : اللَّهُمَّ عَالِمَ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ ، فَاطِرَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ ، رَبَّ كُلِّ شَيْءٍ وَمَلِيكَهُ ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ ، أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ نَفْسِي ، وَمِنْ شَرِّ الشَّيْطَانِ وَشِرْكِهِ " ، وَأَمَرَهُ أَنْ يَقُولَهُ إِذَا أَصْبَحَ وَإِذَا أَمْسَى ، وَإِذَا أَخَذَ مَضْجَعَهُ .
مولانا ظفر اقبال
ایک مرتبہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے بارگاہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم میں عرض کیا : یا رسول اللہ ! مجھے کوئی ایسی دعا سکھا دیجئے جو میں صبح و شام پڑھ لیا کروں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یوں کہہ لیا کرو ، «اللَّهُمَّ عَالِمَ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ ، فَاطِرَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ ، رَبَّ كُلِّ شَيْءٍ وَمَلِيكَهُ ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ ، أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ نَفْسِي ، وَمِنْ شَرِّ الشَّيْطَانِ وَشِرْكِهِ» ”اے اللہ ! اے آسمان و زمین کو پیدا کرنے والے ، ظاہر اور پوشیدہ سب کچھ جاننے والے ، ہر چیز کے پالنہار اور مالک ! میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ تیرے علاوہ کوئی معبود نہیں ہو سکتا ، میں اپنی ذات کے شر ، شیطان کے شر اور اس کے شرک سے تیری پناہ میں آتا ہوں۔ “ اور انہیں حکم دیا کہ صبح و شام اور بستر پر لیٹتے وقت یہ دعا پڑھ لیا کریں ۔
حدیث نمبر: 64
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ ، حَدَّثَنَا نَافِعُ بْنُ عُمَرَ الْجُمَحِيُّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، قَالَ : قِيلَ لِأَبِي بَكْرٍ : يَا خَلِيفَةَ اللَّهِ ، فَقَالَ : " بَلْ خَلِيفَةُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَنَا أَرْضَى بِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
ابن ابی ملیکہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو ”یا خلیفۃ اللہ“ کہہ کر پکارا گیا تو آپ نے فرمایا کہ میں ”خلیفۃ اللہ“ نہیں ہوں بلکہ ”خلیفہ رسول اللہ“ ہوں اور میں اسی درجے پر راضی ہوں۔
حدیث نمبر: 65
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُؤَمَّلِ ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، قَالَ : كَانَ رُبَّمَا سَقَطَ الْخِطَامُ مِنْ يَدِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ ، قَالَ : فَيَضْرِبُ بِذِرَاعِ نَاقَتِهِ فَيُنِيخُهَا فَيَأْخُذُهُ ، قَالَ : فَقَالُوا لَهُ : أَفَلَا أَمَرْتَنَا نُنَاوِلُكَهُ ؟ فَقَالَ : " إِنَّ حَبِيبِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَنِي أَنْ لَا أَسْأَلَ النَّاسَ شَيْئًا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن ابی ملیکہ رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے ہاتھ سے اگر اونٹنی کی لگام چھوٹ کر گر جاتی، تو آپ اپنی اونٹنی کے اگلے پاؤں پر ہاتھ مارتے، وہ بیٹھ جاتی تو خود اس کی لگام اٹھاتے، ہم عرض کرتے کہ آپ ہمیں کیوں نہیں حکم دیتے کہ ہم آپ کو پکڑا دیں ؟ فرماتے : میرے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اس بات کا حکم دیا ہے کہ لوگوں سے کسی چیز کا سوال نہ کروں۔
حدیث نمبر: 66
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ ، قَالَ : قَامَ أَبُو بَكْرٍ ، بَعْدَ وَفَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَامٍ ، فَقَالَ : قَامَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْأَوَّلِ ، فَقَالَ : " إِنَّ ابْنَ آدَمَ لَمْ يُعْطَ شَيْئًا أَفْضَلَ مِنَ الْعَافِيَةِ ، فَاسْأَلُوا اللَّهَ الْعَافِيَةَ ، وَعَلَيْكُمْ بِالصِّدْقِ وَالْبِرِّ فَإِنَّهُمَا فِي الْجَنَّةِ ، وَإِيَّاكُمْ وَالْكَذِبَ وَالْفُجُورَ فَإِنَّهُمَا فِي النَّارِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابوعبیدہ کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے پورے ایک سال بعد سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ایک مرتبہ خطبہ دینے کے لئے کھڑے ہوئے تو فرمایا کہ گزشتہ سال نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی اسی جگہ پر کھڑے ہوئے تھے اور فرمایا تھا کہ اللہ سے عافیت کا سوال کیا کرو، کیونکہ کسی انسان کو عافیت سے بڑھ کر کوئی نعمت نہیں دی گئی، سچائی اور نیکی اختیار کرو کیونکہ یہ دونوں جنت میں ہوں گی اور جھوٹ اور گناہ سے بچو کیونکہ یہ دونوں جہنم میں ہوں گے۔
حدیث نمبر: 67
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ حُسَيْنٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، فَإِذَا قَالُوهَا عَصَمُوا مِنِّي دِمَاءَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ ، إِلَّا بِحَقِّهَا ، وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللَّهِ تَعَالَى " ، قَالَ : فَلَمَّا كَانَتْ الرِّدَّةُ ، قَالَ عُمَرُ لِأَبِي بَكْرٍ : تُقَاتِلُهُمْ ، وَقَدْ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ كَذَا وَكَذَا ؟ قَالَ : فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : وَاللَّهِ لَا أُفَرِّقُ بَيْنَ الصَّلَاةِ وَالزَّكَاةِ ، وَلَأُقَاتِلَنَّ مَنْ فَرَّقَ بَيْنَهُمَا ، قَالَ : فَقَاتَلْنَا مَعَهُ ، فَرَأَيْنَا ذَلِكَ رَشَدًا .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : مجھے اس وقت تک لوگوں سے قتال کا حکم دیا گیا ہے جب تک وہ «لا اله الا الله» نہ کہہ لیں، لیکن جب وہ یہ کلمہ کہہ لیں تو انہوں نے اپنی جان اور مال کو مجھ سے محفوظ کر لیا، ہاں اگر کوئی حق ان کی طرف متوجہ ہو تو میں کچھ نہیں کہہ سکتا، باقی ان کا حساب کتاب اللہ کے ذمے ہے۔ جب فتنہ ارتداد پیش آیا تو سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے عرض کیا کہ آپ ان لوگوں سے کس طرح قتال کر سکتے ہیں جب کہ آپ نے بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث سن رکھی ہے ؟ فرمایا : بخدا ! میں نماز اور زکوٰۃ کے درمیان تفریق نہیں کروں گا اور جو ان دونوں کے درمیان تفریق کرے گا، میں اس سے ضرور قتال کروں گا، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم بھی ان کے ساتھ اس قتال میں شریک ہو گئے تب ہمیں جا کر احساس ہوا کہ اسی میں رشد و ہدایت تھی۔
حدیث نمبر: 68
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي زُهَيْرٍ ، قَالَ : أُخْبِرْتُ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، كَيْفَ الصَّلَاحُ بَعْدَ هَذِهِ الْآيَةِ : لَيْسَ بِأَمَانِيِّكُمْ وَلا أَمَانِيِّ أَهْلِ الْكِتَابِ مَنْ يَعْمَلْ سُوءًا يُجْزَ بِهِ سورة النساء آية 123 ، فَكُلَّ سُوءٍ عَمِلْنَا جُزِينَا بِهِ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " غَفَرَ اللَّهُ لَكَ يَا أَبَا بَكْرٍ ، أَلَسْتَ تَمْرَضُ ؟ أَلَسْتَ تَنْصَبُ ؟ أَلَسْتَ تَحْزَنُ ؟ أَلَسْتَ تُصِيبُكَ اللَّأْوَاءُ ؟ " قَالَ : بَلَى ، قَالَ : " فَهُوَ مَا تُجْزَوْنَ بِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا : یا رسول اللہ ! اس آیت کے بعد «لَّيْسَ بِأَمَانِيِّكُمْ وَلَا أَمَانِيِّ أَهْلِ الْكِتَابِ مَن يَعْمَلْ سُوءًا يُجْزَ بِهِ» [4-النساء:123] ”کیا بہتری باقی رہ جاتی ہے کہ تمہاری خواہشات اور اہل کتاب کی خواہشات کا کوئی اعتبار نہیں، جو برا عمل کرے گا، اس کا بدلہ پائے گا . . . “ تو کیا ہمیں ہر برے عمل کی سزا دی جائے گی ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ابوبکر ! اللہ آپ کی بخشش فرمائے، کیا آپ بیمار نہیں ہوتے ؟ کیا آپ پریشان نہیں ہوتے ؟ کیا آپ غمگین نہیں ہوتے ؟ کیا آپ رنج و تکلیف کا شکار نہیں ہوتے ؟ عرض کیا کیوں نہیں ! فرمایا یہی تو بدلہ ہے۔
حدیث نمبر: 69
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي زُهَيْرٍ ، أظنه قَالَ أَبُو بَكْرٍ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، كَيْفَ الصَّلَاحُ بَعْدَ هَذِهِ الْآيَةِ ؟ قَالَ : " يَرْحَمُكَ اللَّهُ يَا أَبَا بَكْرٍ ، أَلَسْتَ تَمْرَضُ ؟ أَلَسْتَ تَحْزَنُ ؟ أَلَسْتَ تُصِيبُكَ اللَّأْوَاءُ ؟ " قَالَ : بَلَى ، قَالَ : " فَإِنَّ ذَاكَ بِذَاكَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابوبکر صدیق عنہ نے ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا : یا رسول اللہ ! اس آیت کے بعد کیا بہتری باقی رہ جاتی ہے «لَّيْسَ بِأَمَانِيِّكُمْ وَلَا أَمَانِيِّ أَهْلِ الْكِتَابِ مَن يَعْمَلْ سُوءًا يُجْزَ بِهِ» کہ ”تمہاری خواہشات اور اہل کتاب کی خواہشات کا کوئی اعتبار نہیں، جو برا عمل کرے گا، اس کا بدلہ پائے گا . . . “ تو کیا ہمیں ہر برے عمل کی سزا دی جائے گی ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”ابوبکر ! اللہ آپ پر رحم فرمائے، کیا آپ بیمار نہیں ہوتے ؟ کیا آپ پریشان نہیں ہوتے ؟ کیا آپ غمگین نہیں ہوتے ؟ کیا آپ رنج و تکلیف کا شکار نہیں ہوتے ؟“ عرض کیا کیوں نہیں ! فرمایا : ”یہی تو بدلہ ہے۔“
حدیث نمبر: 70
حَدَّثَنَا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ الثَّقَفِيِّ ، قَالَ : قَالَ أَبُو بَكْرٍ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، كَيْفَ الصَّلَاحُ بَعْدَ هَذِهِ الْآيَةِ : مَنْ يَعْمَلْ سُوءًا يُجْزَ بِهِ سورة النساء آية 123 ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا : یا رسول اللہ ! اس آیت کے بعد کیا بہتری باقی رہ جاتی ہے پھر انہوں نے مکمل حدیث ذکر کی۔
حدیث نمبر: 71
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي زُهَيْرٍ الثَّقَفِيِّ ، قَالَ : لَمَّا نَزَلَتْ : لَيْسَ بِأَمَانِيِّكُمْ وَلا أَمَانِيِّ أَهْلِ الْكِتَابِ مَنْ يَعْمَلْ سُوءًا يُجْزَ بِهِ سورة النساء آية 128 ، قَالَ : فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّا لَنُجَازَى بِكُلِّ سُوءٍ نَعْمَلُهُ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَرْحَمُكَ اللَّهُ يَا أَبَا بَكْرٍ ، أَلَسْتَ تَنْصَبُ ، أَلَسْتَ تَحْزَنُ ، أَلَسْتَ تُصِيبُكَ اللَّأْوَاءُ ؟ فَهَذَا مَا تُجْزَوْنَ بِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
ابوبکر بن ابی زہیر کہتے ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی «لَّيْسَ بِأَمَانِيِّكُمْ وَلَا أَمَانِيِّ أَهْلِ الْكِتَابِ مَن يَعْمَلْ سُوءًا يُجْزَ بِهِ» [4-النساء:123] کہ ”تمہاری خواہشات اور اہل کتاب کی خواہشات کا کوئی اعتبار نہیں، جو برا عمل کرے گا، اس کا بدلہ پائے گا“ ، تو سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! کیا ہمیں ہر برے عمل کی سزا دی جائے گی ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”ابوبکر ! اللہ آپ پر رحم فرمائے ؟ کیا آپ بیمار نہیں ہوتے ؟ کیا آپ پریشان نہیں ہوتے ؟ کیا آپ غمگین نہیں ہوتے ؟ کیا آپ رنج و تکلیف کا شکار نہیں ہوتے ؟ یہی تو بدلہ ہے ۔“
حدیث نمبر: 72
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، قَالَ : أَخَذْتُ هَذَا الْكِتَابَ مِنْ ثُمَامَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ : أَنَّ أَبَا بَكْرٍ كَتَبَ لَهُمْ : " إِنَّ هَذِهِ فَرَائِضُ الصَّدَقَةِ الَّتِي فَرَضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمُسْلِمِينَ ، الَّتِي أَمَرَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَمَنْ سُئِلَهَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ عَلَى وَجْهِهَا فَلْيُعْطِهَا ، وَمَنْ سُئِلَ فَوْقَ ذَلِكَ فَلَا يُعْطِهِ فِيمَا دُونَ خَمْسٍ وَعِشْرِينَ مِنَ الْإِبِلِ ، فَفِي كُلِّ خَمْسِ ذَوْدٍ شَاةٌ ، فَإِذَا بَلَغَتْ خَمْسًا وَعِشْرِينَ ، فَفِيهَا ابْنَةُ مَخَاضٍ إِلَى خَمْسٍ وَثَلَاثِينَ ، فَإِنْ لَمْ تَكُنِ ابْنَةُ مَخَاضٍ ، فَابْنُ لَبُونٍ ذَكَرٌ ، فَإِذَا بَلَغَتْ سِتَّةً وَثَلَاثِينَ ، فَفِيهَا ابْنَةُ لَبُونٍ إِلَى خَمْسٍ وَأَرْبَعِينَ ، فَإِذَا بَلَغَتْ سِتَّةً وَأَرْبَعِينَ ، فَفِيهَا حِقَّةٌ طَرُوقَةُ الْفَحْلِ إِلَى سِتِّينَ ، فَإِذَا بَلَغَتْ إِحْدَى وَسِتِّينَ ، فَفِيهَا جَذَعَةٌ إِلَى خَمْسٍ وَسَبْعِينَ ، فَإِذَا بَلَغَتْ سِتَّةً وَسَبْعِينَ ، فَفِيهَا بِنْتَا لَبُونٍ إِلَى تِسْعِينَ ، فَإِذَا بَلَغَتْ إِحْدَى وَتِسْعِينَ ، فَفِيهَا حِقَّتَانِ طَرُوقَتَا الْفَحْلِ إِلَى عِشْرِينَ وَمِائَةٍ ، فَإِنْ زَادَتْ عَلَى عِشْرِينَ وَمِائَةٍ ، فَفِي كُلِّ أَرْبَعِينَ ابْنَةُ لَبُونٍ ، وَفِي كُلِّ خَمْسِينَ حِقَّةٌ ، فَإِذَا تَبَايَنَ أَسْنَانُ الْإِبِلِ فِي فَرَائِضِ الصَّدَقَاتِ ، فَمَنْ بَلَغَتْ عِنْدَهُ صَدَقَةُ الْجَذَعَةِ وَلَيْسَتْ عِنْدَهُ جَذَعَةٌ وَعِنْدَهُ حِقَّةٌ ، فَإِنَّهَا تُقْبَلُ مِنْهُ ، وَيَجْعَلُ مَعَهَا شَاتَيْنِ إِنْ اسْتَيْسَرَتَا لَهُ ، أَوْ عِشْرِينَ دِرْهَمًا ، وَمَنْ بَلَغَتْ عِنْدَهُ صَدَقَةُ الْحِقَّةِ وَلَيْسَتْ عِنْدَهُ إِلَّا جَذَعَةٌ ، فَإِنَّهَا تُقْبَلُ مِنْهُ ، وَيُعْطِيهِ الْمُصَدِّقُ عِشْرِينَ دِرْهَمًا أَوْ شَاتَيْنِ ، وَمَنْ بَلَغَتْ عِنْدَهُ صَدَقَةُ الْحِقَّةِ وَلَيْسَتْ عِنْدَهُ ، وَعِنْدَهُ بِنْتُ لَبُونٍ ، فَإِنَّهَا تُقْبَلُ مِنْهُ ، وَيَجْعَلُ مَعَهَا شَاتَيْنِ إِنْ اسْتَيْسَرَتَا لَهُ ، أَوْ عِشْرِينَ دِرْهَمًا . وَمَنْ بَلَغَتْ عِنْدَهُ صَدَقَةُ ابْنَةِ لَبُونٍ ، وَلَيْسَتْ عِنْدَهُ إِلَّا حِقَّةٌ فَإِنَّهَا تُقْبَلُ مِنْهُ ، وَيُعْطِيهِ الْمُصَدِّقُ عِشْرِينَ دِرْهَمًا أَوْ شَاتَيْنِ ، وَمَنْ بَلَغَتْ عِنْدَهُ صَدَقَةُ ابْنَةِ لَبُونٍ ، وَلَيْسَتْ عِنْدَهُ ابْنَةُ لَبُونٍ ، وَعِنْدَهُ ابْنَةُ مَخَاضٍ ، فَإِنَّهَا تُقْبَلُ مِنْهُ ، وَيَجْعَلُ مَعَهَا شَاتَيْنِ إِنْ اسْتَيْسَرَتَا لَهُ ، أَوْ عِشْرِينَ دِرْهَمًا ، وَمَنْ بَلَغَتْ صَدَقَتُهُ بِنْتَ مَخَاضٍ وَلَيْسَ عِنْدَهُ إِلَّا ابْنُ لَبُونٍ ذَكَرٌ ، فَإِنَّهُ يُقْبَلُ مِنْهُ ، وَلَيْسَ مَعَهُ شَيْءٌ ، وَمَنْ لَمْ يَكُنْ عِنْدَهُ إِلَّا أَرْبَعٌ مِنَ الْإِبِلِ ، فَلَيْسَ فِيهَا شَيْءٌ إِلَّا أَنْ يَشَاءَ رَبُّهَا ، وَفِي صَدَقَةِ الْغَنَمِ فِي سَائِمَتِهَا إِذَا كَانَتْ أَرْبَعِينَ ، فَفِيهَا شَاةٌ إِلَى عِشْرِينَ وَمِائَةٍ ، فَإِنْ زَادَتْ ، فَفِيهَا شَاتَانِ إِلَى مِائَتَيْنِ ، فَإِذَا زَادَتْ وَاحِدَةٌ ، فَفِيهَا ثَلَاثُ شِيَاهٍ إِلَى ثَلَاثِ مِائَةٍ ، فَإِذَا زَادَتْ ، فَفِي كُلِّ مِائَةٍ شَاةٌ ، وَلَا تُؤْخَذُ فِي الصَّدَقَةِ هَرِمَةٌ وَلَا ذَاتُ عَوَارٍ وَلَا تَيْسٌ ، إِلَّا أَنْ يَشَاءَ الْمتُصَدِّقُ ، وَلَا يُجْمَعُ بَيْنَ مُتَفَرِّقٍ ، وَلَا يُفَرَّقُ بَيْنَ مُجْتَمِعٍ خَشْيَةَ الصَّدَقَةِ ، وَمَا كَانَ مِنْ خَلِيطَيْنِ فَإِنَّهُمَا يَتَرَاجَعَانِ بَيْنَهُمَا بِالسَّوِيَّةِ ، وَإِذَا كَانَتْ سَائِمَةُ الرَّجُلِ نَاقِصَةً مِنْ أَرْبَعِينَ شَاةً وَاحِدَةً ، فَلَيْسَ فِيهَا شَيْءٌ إِلَّا أَنْ يَشَاءَ رَبُّهَا ، وَفِي الرِّقَةِ رُبْعُ الْعُشْرِ ، فَإِذَا لَمْ يَكُنْ الْمَالُ إِلَّا تِسْعِينَ وَمِائَةَ دِرْهَمٍ ، فَلَيْسَ فِيهَا شَيْءٌ إِلَّا أَنْ يَشَاءَ رَبُّهَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے ان کی طرف ایک خط لکھا جس میں یہ تحریر فرمایا کہ یہ زکوٰۃ کے مقررہ اصول ہیں جو خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کے لئے مقرر فرمائے ہیں ، یہ وہی اصول ہیں جن کا حکم اللہ نے اپنے پیغمبر کو دیا تھا ، ان اصولوں کے مطابق جب مسلمانوں سے زکوٰۃ وصول کی جائے تو انہیں زکوٰۃ ادا کر دینی چاہئے اور جس سے اس سے زیادہ کا مطالبہ کیا جائے وہ زیادہ نہ دے ۔ تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ پچیس سے کم اونٹوں میں ہر پانچ اونٹ پر ایک بکری واجب ہو گی ، جب اونٹوں کی تعداد پچیس ہو جائے تو ایک بنت مخاض (جو اونٹنی دوسرے سال میں لگ گئی ہو) واجب ہو گی اور یہی تعداد پینتیس اونٹوں تک رہے گی ، اگر کسی کے پاس بنت مخاض نہ ہو تو وہ ایک ابن لبون مذکر (جو تیسرے سال میں لگ گیا ہو) دے دے ، جب اونٹوں کی تعداد چھتیس ہو جائے تو اس میں پینتالیس تک ایک بنت لبون واجب ہو گی ، جب اونٹوں کی تعداد چھیالیس ہو جائے تو اس میں ایک حقہ (چوتھے سال میں لگ جانے والی اونٹنی) کا وجوب ہو گا جس کے پاس رات کو نر جانور آ سکے ۔ یہ حکم ساٹھ تک رہے گا ، جب یہ تعداد اکسٹھ ہو جائے تو پچہتر تک اس میں ایک جذعہ (جو پانچویں سال میں لگ جائے) واجب ہو گا ، جب یہ تعداد چھہتر ہو جائے تو نوے تک اس میں دو بنت لبون واجب ہوں گی ، جب یہ تعداد اکیانوے ہو جائے تو ایک سو بیس تک اس میں دو ایسے حقے ہوں گے جن کے پاس نر جانور آ سکے ، جب یہ تعداد ایک سو بیس سے تجاوز کر جائے تو ہر چالیس میں ایک بنت لبون اور ہر پچاس میں ایک حقہ واجب ہو گا ۔ اور اگر زکوٰۃ کے اونٹوں کی عمریں مختلف ہوں تو جس شخص پر زکوٰۃ میں جذعہ واجب ہو لیکن اس کے پاس جذعہ نہ ہو ، حقہ ہو تو اس سے وہی قبول کر لیا جائے گا اور اگر اس کے پاس صرف جذعہ ہو تو اس سے وہ لے کر زکوٰۃ وصول کرنے والا اسے بیس درہم یا دو بکریاں دے دے اور اگر اسی مذکورہ شخص کے پاس بنت لبون ہو تو اس سے وہ لے کردو بکریاں بشرطیکہ آسانی سے ممکن ہو یا بیس درہم وصول کئے جائیں ۔ اگر کسی شخص پر بنت لبون واجب ہو مگر اس کے پاس حقہ ہو تو اس سے وہ لے کر اسے زکوٰۃ وصول کرنے والا بیس درہم یا دو بکریاں دے دے اور اگر اسی مذکورہ شخص کے پاس بنت مخاض ہو تو اس سے وہی لے کر وہ بکریاں بشرط آسانی یا بیس درہم بھی وصول کئے جائیں اور اگر کسی شخص پر بنت مخاض واجب ہو اور اس کے پاس صرف ابن لبون مذکر ہو تو اسی کو قبول کر لیا جائے اور اس کے ساتھ کوئی چیز نہیں لی جائے گی اور اگر کسی شخص کے پاس صرف چار اونٹ ہوں تو اس پر بھی زکوٰۃ واجب نہیں ہے ہاں ! البتہ اگر مالک کچھ دینا چاہے تو اس کی مرضی پر موقوف ہے ۔ سائمہ (خود چر کر اپنا پیٹ بھرنے والی) بکریوں میں زکوٰۃ کی تفصیل اس طرح ہے کہ جب بکریوں کی تعداد چالیس ہو جائے ایک سو بیس تک اس میں صرف ایک بکری واجب ہوگی ، ایک سو بیس سے زائد ہونے پر دو سو تک دو بکریاں واجب ہوں گی ، دو سو سے زائد ہونے پر تین سو تک تین بکریاں واجب ہوں گی ، اس کے بعد ہر سو میں ایک بکری دینا واجب ہو گی ۔ یاد رہے کہ زکوٰۃ میں انتہائی بوڑھا اور عیب دار جانور نہ لیا جائے ، اسی طرح خوب عمدہ جانور بھی نہ لیا جائے ہاں ! اگر زکوٰۃ دینے والا اپنی مرضی سے دینا چاہے تو اور بات ہے ، نیز زکوٰۃ سے بچنے کے لئے متفرق جانوروں کو جمع اور اکٹھے جانوروں کو متفرق نہ کیا جائے اور یہ کہ اگر دو قسم کے جانور ہوں (مثلاً بکریاں بھی اور اونٹ بھی) تو ان دونوں کے درمیاں برابری سے زکوٰۃ تقسیم ہو جائے گی ، نیز یہ کہ اگر کسی شخص کی سائمہ بکریوں کی تعداد چالیس سے کم ہو تو اس پر کچھ واجب نہیں ہے الاّ یہ کہ اس کا مالک خود دینا چاہے ، نیز چاندی کے ڈھلے ہوئے سکوں میں ربع عشر واجب ہو گا ، سو اگر کسی شخص کے پاس صرف ایک سو نوے درہم ہوں تو اس پر کچھ واجب نہیں ہے الاّ یہ کہ اس کا مالک خود زکوٰۃ دینا چاہے ۔
حدیث نمبر: 73
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَهْلُ مَكَّةَ يَقُولُونَ : أَخَذَ ابْنُ جُرَيْجٍ الصَّلَاةَ مِنْ عَطَاءٍ ، وَأَخَذَهَا عَطَاءٌ مِنْ ابْنِ الزُّبَيْرِ ، وَأَخَذَهَا ابْنُ الزُّبَيْرِ مِنْ أَبِي بَكْرٍ ، وَأَخَذَهَا أَبُو بَكْرٍ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، مَا رَأَيْتُ أَحَدًا أَحْسَنَ صَلَاةً مِنَ ابْنِ جُرَيْجٍ .
مولانا ظفر اقبال
عبدالرزاق کہتے ہیں کہ اہل مکہ کہا کرتے تھے ابن جریج نے نماز سیدنا عطاء بن ابی رباح سے سیکھی ہے ، عطاء نے سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے ، سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے اپنے نانا سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے اور سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سیکھی ہے ، عبدالرزاق کہتے ہیں کہ میں نے ابن جریج سے بڑھ کر بہتر نماز پڑھتے ہوئے کسی کو نہیں دیکھا ۔
حدیث نمبر: 74
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنْ عُمَرَ ، قَالَ : تَأَيَّمَتْ حَفْصَةُ بِنْتُ عُمَرَ مِنْ خُنَيْسٍ أَوْ حُذَيْفَةَ بْنِ حُذَافَةَ شَكَّ عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِمَّنْ شَهِدَ بَدْرًا ، فَتُوُفِّيَ بِالْمَدِينَةِ ، قَالَ : فَلَقِيتُ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ ، فَعَرَضْتُ عَلَيْهِ حَفْصَةَ ، فَقُلْتُ : " إِنْ شِئْتَ أَنْكَحْتُكَ حَفْصَةَ ، قَالَ : سَأَنْظُرُ فِي ذَلِكَ ، فَلَبِثْتُ لَيَالِيَ ، فَلَقِيَنِي ، فَقَالَ : مَا أُرِيدُ أَنْ أَتَزَوَّجَ يَوْمِي هَذَا ، قَالَ عُمَرُ : فَلَقِيتُ أَبَا بَكْرٍ ، فَقُلْتُ : إِنْ شِئْتَ أَنْكَحْتُكَ حَفْصَةَ ابْنَةَ عُمَرَ ، فَلَمْ يَرْجِعْ إِلَيَّ شَيْئًا ، فَكُنْتُ أَوْجَدَ عَلَيْهِ مِنِّي عَلَى عُثْمَانَ ، فَلَبِثْتُ لَيَالِيَ ، فَخَطَبَهَا إِلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَنْكَحْتُهَا إِيَّاهُ ، فَلَقِيَنِي أَبُو بَكْرٍ ، فَقَالَ : لَعَلَّكَ وَجَدْتَ عَلَيَّ حِينَ عَرَضْتَ عَلَيَّ حَفْصَةَ فَلَمْ أَرْجِعْ إِلَيْكَ شَيْئًا ؟ قَالَ : قُلْتُ : نَعَمْ ، قَالَ : فَإِنَّهُ لَمْ يَمْنَعْنِي أَنْ أَرْجِعَ إِلَيْكَ شَيْئًا حِينَ عَرَضْتَهَا عَلَيَّ ، إِلَّا أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَذْكُرُهَا ، وَلَمْ أَكُنْ لِأُفْشِيَ سِرَّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَلَوْ تَرَكَهَا لَنَكَحْتُهَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میری بیٹی حفصہ کے شوہر خنیس بن حذافہ یا حذیفہ فوت ہو گئے اور وہ بیوہ ہو گئی ، یہ بدری صحابی تھے اور مدینہ منورہ میں فوت ہو گئے تھے ، میں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے ملا اور ان کے سامنے اپنی بیٹی سے نکاح کی پیشکش رکھی انہوں نے مجھ سے سوچنے کی مہلت مانگی اور چند روز بعد کہہ دیا کہ آج کل میرا شادی کا کوئی ارادہ نہیں ہے ، اس کے بعد میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے ملا اور ان سے بھی یہی کہا کہ اگر آپ چاہیں تو میں اپنی بیٹی حفصہ کا نکاح آپ سے کر دوں ، لیکن انہوں نے مجھے کوئی جواب نہ دیا ، مجھے ان پر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی نسبت زیادہ غصہ آیا ۔ چند دن گزرنے کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حفصہ کے ساتھ اپنے لئے پیغام نکاح بھیج دیا ، چنانچہ میں نے سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہ کا نکاح نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کر دیا ، اتفاقاً ایک مرتبہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے ملاقات ہوئی تو وہ فرمانے لگے کہ شاید آپ کو اس بات پر غصہ آیا ہو گا کہ آپ نے مجھے حفصہ سے نکاح کی پیشکش کی اور میں نے اس کا کوئی جواب نہ دیا ؟ میں نے کہا ہاں ! ایسا ہی ہے ، انہوں نے فرمایا کہ دراصل بات یہ ہے کہ جب آپ نے مجھے یہ پیشکش کی تھی تو مجھے اسے قبول کر لینے میں کوئی حرج نہیں تھا ، البتہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حفصہ کا ذکر کرتے ہوئے سنا تھا ، میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا راز فاش نہیں کرنا چاہتا تھا ، اگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم انہیں چھوڑ دیتے تو میں ضرور ان سے نکاح کر لیتا ۔
حدیث نمبر: 75
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ الْمُغِيرَةَ بْنَ مُسْلِمٍ أَبَا سَلَمَةَ ، عَنْ فَرْقَدٍ السَّبَخِيِّ ، عَنْ مُرَّةَ الطَّيِّبِ ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ ، قَالَ : قَالَ : رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ سَيِّئُ الْمَلَكَةِ " ، فَقَالَ رَجُلٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَلَيْسَ أَخْبَرْتَنَا أَنَّ هَذِهِ الْأُمَّةَ أَكْثَرُ الْأُمَمِ مَمْلُوكِينَ وَأَيْتَامًا ؟ قَالَ : " بَلَى ، فَأَكْرِمُوهُمْ كَرَامَةَ أَوْلَادِكُمْ ، وَأَطْعِمُوهُمْ مِمَّا تَأْكُلُونَ " ، قَالُوا : فَمَا يَنْفَعُنَا فِي الدُّنْيَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " فَرَسٌ صَالِحٌ تَرْتَبِطُهُ تُقَاتِلُ عَلَيْهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، وَمَمْلُوكٌ يَكْفِيكَ ، فَإِذَا صَلَّى ، فَهُوَ أَخُوكَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”کوئی بد اخلاق شخص جنت میں نہ جائے گا“ ، اس پر ایک شخص نے یہ سوال کیا کہ یا رسول اللہ ! کیا آپ ہی نے ہمیں نہیں بتایا کہ سب سے زیادہ غلام اور یتیم اس امت میں ہی ہوں گے ؟ (یعنی ان کے ساتھ بد اخلاق کا ہو جانا ممکن ہی نہیں بلکہ واقع بھی ہے) فرمایا : ”کیوں نہیں !“ فرمایا : ”کیوں نہیں ! البتہ تم ان کی عزت اسی طرح کرو جیسے اپنی اولاد کی عزت کرتے ہو اور جو خود کھاتے ہو اسی میں سے انہیں بھی کھلایا کرو“ ، لوگوں نے پوچھا : یا رسول اللہ ! اس کا دنیا میں ہمیں کیا فائدہ ہو گا ؟ فرمایا : ”وہ نیک گھوڑا جسے تم تیار کرتے ہو ، اس پر تم اللہ کے راستہ میں جہاد کر سکتے ہو اور تمہارا غلام تمہاری کفایت کر سکتا ہے ، یاد رکھو ! اگر وہ نماز پڑھتا ہے، تو وہ تمہارا بھائی ہے“ ، یہ بات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو مرتبہ دہرائی ۔
حدیث نمبر: 76
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي ابْنُ السَّبَّاقِ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ : أَنَّ أَبَا بَكْرٍ أَرْسَلَ إِلَيْهِ مَقْتَلَ أَهْلِ الْيَمَامَةِ ، فَإِذَا عُمَرُ عِنْدَهُ ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : إِنَّ عُمَرَ أَتَانِي ، فَقَالَ : " إِنَّ الْقَتْلَ قَدْ اسْتَحَرَّ بِأَهْلِ الْيَمَامَةِ مِنْ قُرَّاءِ الْقُرْآنِ مِنَ الْمُسْلِمِينَ ، وَأَنَا أَخْشَى أَنْ يَسْتَحِرَّ الْقَتْلُ بِالْقُرَّاءِ فِي الْمَوَاطِنِ ، فَيَذْهَبَ قُرْآنٌ كَثِيرٌ لَا يُوعَى ، وَإِنِّي أَرَى أَنْ تَأْمُرَ بِجَمْعِ الْقُرْآنِ ، فَقُلْتُ لِعُمَرَ : وَكَيْفَ أَفْعَلُ شَيْئًا لَمْ يَفْعَلْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ فَقَالَ : هُوَ وَاللَّهِ خَيْرٌ ، فَلَمْ يَزَلْ يُرَاجِعُنِي فِي ذَلِكَ حَتَّى شَرَحَ اللَّهُ بِذَلِكَ صَدْرِي ، وَرَأَيْتُ فِيهِ الَّذِي رَأَى عُمَرُ ، قَالَ زَيْدٌ : وَعُمَرُ عِنْدَهُ جَالِسٌ لَا يَتَكَلَّمُ ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : إِنَّكَ شَابٌّ عَاقِلٌ لَا نَتَّهِمُكَ ، وَقَدْ كُنْتَ تَكْتُبُ الْوَحْيَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَاجْمَعْهُ . قَالَ زَيْدٌ : فَوَاللَّهِ لَوْ كَلَّفُونِي نَقْلَ جَبَلٍ مِنَ الْجِبَالِ ، مَا كَانَ بِأَثْقَلَ عَلَيَّ مِمَّا أَمَرَنِي بِهِ مِنْ جَمْعِ الْقُرْآنِ ، فَقُلْتُ : كَيْفَ تَفْعَلُونَ شَيْئًا لَمْ يَفْعَلْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے میرے پاس جنگ یمامہ کے شہداء کی خبر دے کر قاصد کو بھیجا ، میں جب ان کی خدمت میں حاضر ہوا تو وہاں سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ بھی موجود تھے ، سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے گفتگو کا آغاز کرتے ہوئے فرمایا کہ عمر میرے پاس آئے اور کہنے لگے کہ جنگ یمامہ میں بڑی سخت معرکہ آرائی ہوئی ہے اور مسلمانوں میں سے جو قراء تھے وہ بڑی تعداد میں شہید ہو گئے ہیں ، مجھے اندیشہ ہے کہ اگر اسی طرح مختلف جگہوں میں قراء کرام یونہی شہید ہوتے رہے تو قرآن کریم کہیں ضائع نہ ہو جائے کہ اس کا کوئی حافظ ہی نہ رہے ، اس لئے میری رائے یہ ہوئی کہ میں آپ کو جمع قرآن کا مشورہ دوں ، میں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے کہا کہ جو کام نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں کیا ، میں وہ کام کیسے کر سکتا ہوں ؟ لیکن انہوں نے مجھ سے کہا کہ بخدا ! یہ کام سراسر خیر ہی خیر ہے اور یہ مجھ سے مسلسل اس پر اصرار کرتے رہے یہاں تک کہ اس مسئلے پر اللہ تعالیٰ نے مجھے بھی شرح صدر عطاء فرما دیا اور اس سلسلے میں میری بھی وہی رائے ہو گئی جو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی تھی ۔ سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ بھی وہاں موجود تھے لیکن سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے ادب سے بولتے نہ تھے ، سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ہی نے فرمایا کہ آپ ایک سمجھدار نوجوان ہیں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کاتب وحی بھی رہ چکے ہیں ، اس لئے جمع قرآن کا یہ کام آپ سر انجام دیں ۔ سیدنا زید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : بخدا ! اگر یہ لوگ مجھے کسی پہاڑ کو اس کی جگہ سے منتقل کرنے کا حکم دے دیتے تو وہ مجھ پر جمع قرآن کے اس حکم سے زیادہ بھاری نہ ہوتا ، چنانچہ میں نے بھی ان سے یہی کہا کہ جو کام نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں کیا ، آپ وہ کام کیوں کر رہے ہیں ؟ (لیکن جب میرا بھی شرح صدر ہو گیا تو میں نے یہ کام شروع کیا اور اسے پایہ تکمیل تک پہنچایا)۔
حدیث نمبر: 77
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ رَجَاءٍ ، عَنْ عُمَيْرٍ مَوْلَى الْعَبَّاسِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : لَمَّا قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَاسْتُخْلِفَ أَبُو بَكْرٍ ، خَاصَمَ الْعَبَّاسُ عَلِيًّا فِي أَشْيَاءَ تَرَكَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : " شَيْءٌ تَرَكَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلَمْ يُحَرِّكْهُ ، فَلَا أُحَرِّكُهُ ، فَلَمَّا اسْتُخْلِفَ عُمَرُ اخْتَصَمَا إِلَيْهِ ، فَقَالَ شَيْءٌ لَمْ يُحَرِّكْهُ أَبُو بَكْرٍ ، فَلَسْتُ أُحَرِّكُهُ ، قَالَ : فَلَمَّا اسْتُخْلِفَ عُثْمَانُ اخْتَصَمَا إِلَيْهِ ، قَالَ : فَأَسْكَتَ عُثْمَانُ وَنَكَسَ رَأْسَهُ ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : فَخَشِيتُ أَنْ يَأْخُذَهُ ، فَضَرَبْتُ بِيَدِي بَيْنَ كَتِفَيْ الْعَبَّاسِ ، فَقُلْتُ : يَا أَبَتِ ، أَقْسَمْتُ عَلَيْكَ إِلَّا سَلَّمْتَهُ لِعَلِيٍّ ، قَالَ : فَسَلَّمَهُ لَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی روح مبارک پرواز کر گئی اور سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ خلیفہ منتخب ہو گئے ، تو سیدنا عباس رضی اللہ عنہ اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے درمیان نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ترکہ میں اختلاف رائے پیدا ہو گیا ، سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اس کا فیصلہ کرتے ہوئے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جو چیز چھوڑ کر گئے ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے نہیں ہلایا ، میں بھی اسے نہیں ہلاؤں گا ۔ جب سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ خلیفہ منتخب ہوئے تو وہ دونوں حضرات ان کے پاس اپنا معاملہ لے کر آئے لیکن انہوں نے یہی فرمایا کہ جس چیز کو سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے نہیں ہلایا ، میں بھی اسے نہیں ہلاؤں گا ، جب خلافت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے سپرد ہوئی تو وہ دونوں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس بھی آئے ۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے ان کا موقف سن کر خاموشی اختیار کی اور سر جھکا لیا ، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ مجھے اندیشہ ہوا کہ کہیں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ اسے حکومت کی تحویل میں نہ لے لیں چنانچہ میں اپنے والد سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کے دونوں کندھوں کے درمیان ہاتھ رکھا اور ان سے کہا : اباجان ! میں آپ کو قسم دے کر کہتا ہوں کہ اسے علی رضی اللہ عنہ کے حوالے کر دیجئے چنانچہ انہوں نے اسے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے حوالے کر دیا ۔
حدیث نمبر: 78
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي شَيْخٌ مِنْ قُرَيْشٍ مِنْ بَنِي تَيْمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي فُلَانٌ ، وَفُلَانٌ ، وَفُلَانٌ ، فعد ستة أو سبعة ، كلهم من قريش ، فيهم عبد الله بن الزبير ، قَالَ : بَيْنَا نَحْنُ جُلُوسٌ عِنْدَ عُمَرَ ، إِذْ دَخَلَ عَلِيٌّ ، وَالْعَبَّاسُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَدْ ارْتَفَعَتْ أَصْوَاتُهُمَا ، فَقَالَ عُمَرُ : مَهْ يَا عَبَّاسُ ، قَدْ عَلِمْتُ مَا تَقُولُ ، تَقُولُ ابْنُ أَخِي ، وَلِي شَطْرُ الْمَالِ ، وَقَدْ عَلِمْتُ مَا تَقُولُ يَا عَلِيُّ ، تَقُولُ : ابْنَتُهُ تَحْتِي ، وَلَهَا شَطْرُ الْمَالِ ، وَهَذَا مَا كَانَ فِي يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَدْ رَأَيْنَا كَيْفَ كَانَ يَصْنَعُ فِيهِ ، فَوَلِيَهُ أَبُو بَكْرٍ مِنْ بَعْدِهِ ، فَعَمِلَ فِيهِ بِعَمَلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ وَلِيتُهُ مِنْ بَعْدِ أَبِي بَكْرٍ ، فَأَحْلِفُ بِاللَّهِ لَأَجْهَدَنَّ أَنْ أَعْمَلَ فِيهِ بِعَمَلِ رَسُولِ اللَّهِ ، وَعَمَلِ أَبِي بَكْرٍ ، ثُمَّ قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرٍ ، وَحَلَفَ بِأَنَّهُ لَصَادِقٌ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " إِنَّ النَّبِيَّ لَا يُورَثُ ، وَإِنَّمَا مِيرَاثُهُ فِي فُقَرَاءِ الْمُسْلِمِينَ وَالْمَسَاكِينِ " ، وحَدَّثَنِي أَبُو بَكْرٍ ، وَحَلَفَ بِاللَّهِ إِنَّهُ صَادِقٌ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ النَّبِيَّ لَا يَمُوتُ حَتَّى يَؤُمَّهُ بَعْضُ أُمَّتِهِ " . وَهَذَا مَا كَانَ فِي يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَدْ رَأَيْنَا كَيْفَ كَانَ يَصْنَعُ فِيهِ ، فَإِنْ شِئْتُمَا أَعْطَيْتُكُمَا لِتَعْمَلَا فِيهِ بِعَمَلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَعَمَلِ أَبِي بَكْرٍ حَتَّى أَدْفَعَهُ إِلَيْكُمَا ، قَالَ : فَخَلَوَا ثُمَّ جَاءَا ، فَقَالَ الْعَبَّاسُ : ادْفَعْهُ إِلَى عَلِيٍّ ، فَإِنِّي قَدْ طِبْتُ نَفْسًا بِهِ لَهُ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ اچانک سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدنا عباس رضی اللہ عنہ آ گئے ، ان دونوں کی آوازیں بلند ہو رہی تھیں ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : عباس ! رک جائیے ، مجھے معلوم ہے کہ آپ کیا کہنا چاہتے ہیں ؟ آپ یہ کہتے ہیں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم آپ کے بھتیجے تھے اس لئے آپ کو نصف مال ملنا چاہئے اور اے علی ! مجھے یہ بھی معلوم ہے کہ آپ کیا کہنا چاہتے ہیں ؟ آپ کی رائے یہ ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی آپ کے نکاح میں تھیں اور ان کا آدھا حصہ بنتا تھا ۔ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھوں میں جو کچھ تھا ، وہ میرے پاس موجود ہے ، ہم نے دیکھا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا اس میں کیا طریقہ کار تھا ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ خلیفہ مقرر ہوئے ، انہوں نے وہی کیا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا کرتے تھے ، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے بعد مجھے خلیفہ بنایا گیا ، میں اللہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ جس طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کیا ، میں اسی طرح کرنے کی پوری کوشش کرتا رہوں گا ۔ پھر فرمایا کہ مجھے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث سنائی اور اپنے سچے ہونے پر اللہ کی قسم بھی کھائی کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ انبیاء کرام (علیہم السلام) کے مال میں وراثت جاری نہیں ہوتی ، ان کا ترکہ فقراء مسلمین اور مساکین میں تقسیم ہوتا ہے اور مجھ سے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث بھی بیان کی اور اپنے سچا ہونے پر اللہ کی قسم بھی کھائی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”کوئی نبی اس وقت تک دنیا سے رخصت نہیں ہوتا جب تک وہ اپنے کسی امتی کی اقتداء نہیں کر لیتا ۔“ بہرحال ! نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جو کچھ تھا ، وہ یہ موجود ہے اور ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقہ کار کو بھی دیکھا ہے ، اب اگر آپ دونوں چاہتے ہیں کہ میں یہ اوقاف آپ کے حوالے کر دوں اور آپ اس میں اسی طریقے سے کام کریں گے جیسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کرتے رہے تو میں اسے آپ کے حوالے کر دیتا ہوں ۔ یہ سن کر وہ دونوں کچھ دیر کے لئے خلوت میں چلے گئے ، تھوڑی دیر کے بعد جب وہ واپس آئے تو سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ آپ یہ اوقاف علی کے حوالے کر دیں ، میں اپنے دل کی خوشی سے اس بات کی اجازت دیتا ہوں ۔
حدیث نمبر: 79
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : أَنَّ فَاطِمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا جَاءَتْ أَبَا بَكْرٍ ، وَعُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، تطلب ميراثها من رسول اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَا : إِنَّا سَمِعْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " إِنِّي لَا أُورَثُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہ ایک مرتبہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے پاس آئیں اور ان سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی میراث کا مطالبہ کیا ، دونوں حضرات نے فرمایا کہ ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ میرے مال میں وراثت جاری نہیں ہو گی ۔
حدیث نمبر: 80
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عِيسَى يَعْنِي ابْنَ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ ، قَالَ : إِنِّي لَجَالِسٌ عِنْدَ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ خَلِيفَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بَعْدَ وَفَاةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَهْرٍ ، فَذَكَرَ قِصَّةً ، فَنُودِيَ فِي النَّاسِ : " أَنَّ الصَّلَاةَ جَامِعَةٌ ، وَهِيَ أَوَّلُ صَلَاةٍ فِي الْمُسْلِمِينَ نُودِيَ بِهَا إِنَّ الصَّلَاةَ جَامِعَةٌ ، فَاجْتَمَعَ النَّاسُ ، فَصَعِدَ الْمِنْبَرَ ، شَيْئًا صُنِعَ لَهُ كَانَ يَخْطُبُ عَلَيْهِ ، وَهِيَ أَوَّلُ خُطْبَةٍ خَطَبَهَا فِي الْإِسْلَامِ ، قَالَ : فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ، ثُمَّ قَالَ : يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، وَلَوَدِدْتُ أَنَّ هَذَا كَفَانِيهِ غَيْرِي ، وَلَئِنْ أَخَذْتُمُونِي بِسُنَّةِ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا أُطِيقُهَا ، إِنْ كَانَ لَمَعْصُومًا مِنَ الشَّيْطَانِ ، وَإِنْ كَانَ لَيَنْزِلُ عَلَيْهِ الْوَحْيُ مِنَ السَّمَاءِ " .
مولانا ظفر اقبال
قیس بن ابی حازم رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال مبارک کے ایک مہینے بعد سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی خدمت میں بیٹھا ہوا تھا ، لوگوں میں منادی کر دی گئی کہ نماز تیار ہے اور یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد وہ پہلی نماز تھی جس کے لئے مسلمانوں میں ”الصلوۃ جامعۃ“ کہہ کر منادی کی گئی تھی ، چنانچہ لوگ جمع ہو گئے ، سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ منبر پر رونق افروز ہوئے ، یہ آپ کا پہلا خطبہ تھا جو آپ نے اہل اسلام کے سامنے ارشاد فرمایا : اس خطبے میں آپ نے پہلے اللہ کی حمد و ثناء کی ، پھر فرمایا : لوگو ! میری خواہش تھی کہ میرے علاوہ کوئی دوسرا شخص اس کام کو سنبھال لیتا ، اگر آپ مجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر رکھ کر دیکھنا چاہیں گے تو میرے اندر اس پر پورا اترنے کی طاقت نہیں ہے ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تو شیطان کے حملوں سے محفوط تھے اور ان پر تو آسمان سے وحی کا نزول ہوتا تھا (اس لئے میں ان کے برابر کہاں ہو سکتا ہوں ؟ )۔
…