حدیث نمبر: 27646
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ سَلَّامٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ أَبِي كَثِيرٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي بَعْجَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ أَبَاهُ أَخْبَرَهُ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ لَهُمْ يَوْمًا : " هَذَا يَوْمُ عَاشُورَاءَ فَصُومُوا " ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ بَنِى عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي تَرَكْتُ قَوْمِي مِنْهُمْ صَائِمٌ , وَمِنْهُمْ مُفْطِرٌ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اذْهَبْ إِلَيْهِمْ , فَمَنْ كَانَ مِنْهُمْ مُفْطِرًا , فَلْيُتِمَّ صَوْمَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
بعجہ بن عبداللہ اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : ”آج عاشوراء کا دن ہے، لہٰذا تم آج کا روزہ رکھو“ ، یہ سن کر بنو عمرو بن عوف کے ایک آدمی نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! میں اپنی قوم کو اس حال میں چھوڑ کر آ رہا ہوں کہ ان میں سے کسی کا روزہ تھا اور کسی کا نہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”تم ان کے پاس جاؤ اور یہ پیغام دے دو کہ ان میں سے جس کا روزہ نہ ہو ، اسے چاہیے کہ بقیہ دن کچھ کھائے پیے بغیر گزار دے ۔“