حدیث نمبر: 27513
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ ثَابِتٍ , حَدَّثَنِي هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ , عَنْ حَاتِمِ بْنِ أَبِي نَصْرٍ , عَنْ عُبَادَةَ بْنِ نُسَيٍّ , قَالَ : كَانَ رَجُلٌ بِالشَّامِ يُقَالُ لَهُ : مَعْدَانُ , كَانَ أَبُو الدَّرْدَاءِ يُقْرِئُهُ الْقُرْآنَ , فَفَقَدَهُ أَبُو الدَّرْدَاءِ , فَلَقِيَهُ يَوْمًا وَهُوَ بِدَابِقٍ , فَقَالَ لَهُ أَبُو الدَّرْدَاءِ : يَا مَعْدَانُ , مَا فَعَلَ الْقُرْآنُ الَّذِي كَانَ مَعَكَ ؟ كَيْفَ أَنْتَ وَالْقُرْآنُ الْيَوْمَ ؟ قَالَ : قَدْ عَلِمَ اللَّهُ مِنْهُ فَأَحْسَنَ , قَالَ : يَا مَعْدَانُ , أَفِي مَدِينَةٍ تَسْكُنُ الْيَوْمَ أَوْ فِي قَرْيَةٍ ؟ قَالَ : لَا , بَلْ فِي قَرْيَةٍ قَرِيبَةٍ مِنَ الْمَدِينَةِ , قَالَ : مَهْلًا , وَيْحَكَ يَا مَعْدَانُ , فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ : " مَا مِنْ خَمْسَةِ أَهْلِ أَبْيَاتٍ لَا يُؤَذَّنُ فِيهِمْ بِالصَّلَاةِ , وَتُقَامُ فِيهِمْ الصَّلَوَاتُ , إِلَّا اسْتَحْوَذَ عَلَيْهِمْ الشَّيْطَانُ , وَإِنَّ الذِّئْبَ يَأْخُذُ الشَّاذَّةَ " , فَعَلَيْكَ بِالْمَدَائِنِ , وَيْحَكَ يَا مَعْدَانُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابودردا رضی اللہ عنہ معدان کو قرآن پڑھاتے تھے، کچھ عرصے تک وہ غائب رہا، ایک دن " دابق " میں وہ انہیں ملا تو انہوں نے پوچھا معدان ! اس قرآن کا کیا بنا جو تمہارے پاس تھا ؟ تم اور قرآن آج کیسے ہو ؟ اس نے کہا اللہ جانتا ہے اور خوب اچھی طرح، انہوں نے معدان بن ابی طلحہ سے پوچھا کہ تمہاری رہائش کہاں ہے ؟ میں نے بتایا کہ حمص سے پیچھے ایک بستی ہے انہوں نے کہا کہ میں نے نبی کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جس بستی میں تین آدمی ہوں اور وہاں اذان اور اقامت ِ نماز نہ ہوتی ہو تو ان پر شیطان غالب آجاتا ہے، لہذا تم جماعت ِ مسلمین کو اپنے اوپر لازم پکڑو کیونکہ اکیلی بکری کو بھڑیا کھا جاتا ہے، ارے معدان ! مدائن شہر کو لازم پکڑو۔
حدیث نمبر: 27514
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ , عَنْ زَائِدَةَ بْنِ قُدَامَةَ , وَوَكِيعٌ , قَالَ : حَدَّثَنِي زَائِدَةُ بْنُ قُدَامَةَ , عَنِ السَّائِبِ , قَالَ وَكِيعٌ : ابْنِ حُبَيْشٍ الْكَلَاعِيِّ , عَنْ مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ الْيَعْمُرِيِّ , قَالَ : قَالَ لِي أَبُو الدَّرْدَاءِ : أَيْنَ مَسْكَنُكَ ؟ قَالَ : قُلْتُ : فِي قَرْيَةٍ دُونَ حِمْصَ , قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ : " مَا مِنْ ثَلَاثَةٍ فِي قَرْيَةٍ , فَلَا يُؤَذَّنُ , وَلَا تُقَامُ فِيهِمْ الصَّلَوَاتُ , إِلَّا اسْتَحْوَذَ عَلَيْهِمْ الشَّيْطَانُ , عَلَيْكَ بِالْجَمَاعَةِ , فَإِنَّمَا يَأْكُلُ الذِّئْبُ الْقَاصِيَةَ " , قَالَ ابْنُ مَهْدِيٍّ : قَالَ السَّائِبُ : يَعْنِي بِالْجَمَاعَةِ فِي الصَّلَاةِ.
مولانا ظفر اقبال
معدان بن ابی طلحہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ابودردا رضی اللہ عنہ نے مجھ سے پوچھا کہ تمہاری رہائش کہاں ہے ؟ میں نے بتایا کہ حمص سے پیچھے ایک بستی ہے انہوں نے کہا کہ میں نے نبی کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جس بستی میں تین آدمی ہوں اور وہاں اذان اور اقامت ِ نماز نہ ہوتی ہو تو ان پر شیطان غالب آجاتا ہے، لہذا تم جماعت ِ مسلمین کو اپنے اوپر لازم پکڑو کیونکہ اکیلی بکری کو بھڑیا کھا جاتا ہے، ارے معدان ! مدائن شہر کو لازم پکڑو۔
حدیث نمبر: 27515
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ , حَدَّثَنَا شُعْبَةُ , عَنِ الْحَكَمِ قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا عُمَرَ الصِّينِيَّ , عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ , أَنَّهُ إِذَا كَانَ نَزَلَ بِهِ ضَيْفٌ , قَالَ : يَقُولُ لَهُ أَبُو الدَّرْدَاءِ : مُقِيمٌ فَنُسْرحُ, أَوْ ظَاعِنٌ فَنَعْلِفُ ؟ قَالَ : فَإِنْ قَالَ لَهُ , ظَاعِنٌ , قَالَ لَهُ , مَا أَجِدُ لَكَ شَيْئًا خَيْرًا مِنْ شَيْءٍ أَمَرَنَا بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ , ذَهَبَ الْأَغْنِيَاءُ بِالْأَجْرِ , يَحُجُّونَ وَلَا نَحُجُّ , وَيُجَاهِدُونَ وَلَا نُجَاهِدُ , وَكَذَا وَكَذَا , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَلَا أَدُلُّكُمْ عَلَى شَيْءٍ إِنْ أَخَذْتُمْ بِهِ , جِئْتُمْ مِنْ أَفْضَلِ مَا يَجِيءُ بِهِ أَحَدٌ مِنْهُمْ : أَنْ تُكَبِّرُوا اللَّهَ أَرْبَعًا وَثَلَاثِينَ , وَتُسَبِّحُوهُ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ , وَتَحْمَدُوهُ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ , فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابودردا رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی ان کے پاس آیا، انہوں نے پوچھا کہ تم مقیم ہو کہ ہم تمہارے ساتھ اچھا سلوک کریں یا مسافر ہو کہ تمہیں زاد راہ دیں ؟ اس نے کہا مسافر ہوں، انہوں نے فرمایا تمہیں ایک ایسی چیز زاد راہ کے طور پر دیتا ہوں جس سے افضل اگر کوئی چیز مجھے ملتی تمہیں وہی دیتا، ایک مرتبہ میں نبی کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا یا رسول اللہ ! مالدار دنیا اور آخرت دونوں لے گئے، ہم بھی نماز پڑھتے ہیں اور وہ بھی پڑھتے ہیں، ہم بھی روزے رکھتے ہیں وہ بھی رکھتے ہیں البتہ وہ صدقہ کرتے ہیں اور ہم صدقہ نہیں کرسکتے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا میں تمہیں ایک ایسی چیز نہ بتادوں کہ اگر تم اس پر عمل کرلو تو تم سے پہلے والا کوئی تم سے آگے نہ بڑھ سکے اور پیچھے والا تمہیں نہ پا سکے، الاً یہ کہ کوئی آدمی تمہاری ہی طرح عمل کرنے لگے، ہر نماز کے بعد ٣٣ مرتبہ سبحان اللہ، ٣٣ مرتبہ الحمد اللہ اور ٣٤ مرتبہ اللہ اکبر کہہ لیا کرو۔
حدیث نمبر: 27516
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ , وَحَجَّاجٌ , قَالاَ : حدثَنَا شُعْبَةُ , عَنْ قَتَادَةَ , قَالَ حَجَّاجٌ فِي حَدِيثِهِ : سَمِعْتُ سَالِمَ بْنَ أَبِي الْجَعْدِ , يُحَدِّثُ , عَنْ مَعْدَانَ , عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَنَّهُ قَالَ : " مَنْ قَرَأَ عَشْرَ آيَاتٍ مِنْ آخِرِ الْكَهْفِ , عُصِمَ مِنْ فِتْنَةِ الدَّجَّالِ " , قَالَ حَجَّاجٌ : " مَنْ قَرَأَ الْعَشْرَ الْأَوَاخِرَ مِنْ سُورَةِ الْكَهْفِ ".
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابودردا رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص سورت کہف کی آخری دس آیات یاد کرلے وہ دجال کے فتنے سے مخفوظ رہے گا۔
حدیث نمبر: 27517
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ , حَدَّثَنَا شُعْبَةُ , قَالَ : سَمِعْتُ الْقَاسِمَ بْنَ أَبِي بَزَّة , عَنْ عَطَاءٍ الْكَيْخَارَانِيِّ , عَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ , عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : " مَا مِنْ شَيْءٍ أَثْقَلُ فِي الْمِيزَانِ مِنْ خُلُقٍ حَسَنٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابودردا رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا قیامت کے دن میزان عمل میں سب سے افضل اور بھاری چیز اخلاق ہوں گے۔ گذشہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حدیث نمبر: 27518
حَدَّثَنَاه يَزِيدُ , قَالَ : أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ , عَنِ الْكَيْخَارَانِيِّ.
حدیث نمبر: 27519
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ , حَدَّثَنَا شُعْبَةُ , عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُمَيْرٍ , قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ , يُحَدِّثُ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَنَّهُ مَرَّ بِامْرَأَةٍ مُجِحٍّ عَلَى بَابِ فُسْطَاطٍ , فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَعَلَّهُ يُرِيدُ أَنْ يُلِمَّ بِهَا ؟ " , فَقَالُوا : نَعَمْ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ أَلْعَنَهُ لَعْنًا يَدْخُلُ مَعَهُ قَبْرَهُ , كَيْفَ يُوَرِّثُهُ وَهُوَ لَا يَحِلُّ لَهُ ؟ كَيْفَ يَسْتَخْدِمُهُ وَهُوَ لَا يَحِلُّ لَهُ ؟ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابودردا رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک خیمے کے باہر ایک عورت کو دیکھا جس کے یہاں بچے کی پیدائش کا زمانہ قریب آچکا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لگتا ہے کہ اس کا مالک اس کے " قریب " جانا چاہتا ہے ؟ لوگوں نے عرض کیا جی ہاں ! نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرا دل چاہتا ہے کہ اس پر ایسی لعنت کروں جو اس کے ساتھ اس کی قبر تک جائے، یہ اسے کیسے اپنا وارث بنا سکتا ہے جب کہ یہ اس کے لئے حلال ہی نہیں اور کیسے اس سے خدمت لے سکتا ہے جبکہ یہ اس کے لئے حلال ہی نہیں۔
حدیث نمبر: 27520
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ , حَدَّثَنَا شُعْبَةُ , عَنْ سُلَيْمَانَ , عَنْ ذَكْوَانَ , عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ , عَنْ شَيْخٍ , عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ : أَنَّهُ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ هَذِهِ الْآيَةِ : الَّذِينَ آمَنُوا وَكَانُوا يَتَّقُونَ لَهُمُ الْبُشْرَى فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا سورة يونس آية 63 - 64 , قَالَ : " الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ يَرَاهَا الْمُسْلِمُ , أَوْ تُرَى لَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابودردا رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت قرآنی لھم البشری فی الحیاۃ الدنیا میں بشری کی تفسیر کرتے ہوئے فرمایا کہ اس سے مراد اچھے خواب ہیں جو کوئی مسلمان دیکھے یا اس کے حق میں کوئی دوسرا دیکھے۔ گذشہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حدیث نمبر: 27521
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ , عَنِ ابْنِ الْمُنْكَدِرِ , سَمِعَهُ مِنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ , وَعَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ , عَنْ أَبِي صَالِحٍ , عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ , عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ مِصْرَ , سَأَلْتُ أَبَا الدَّرْدَاءِ , فَذَكَرَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَذَكَرَ نَحْوَهُ.
حدیث نمبر: 27522
حَدَّثَنَا بَهْزٌ , حَدَّثَنِي بُكَيْرُ بْنُ أَبِي السُّمَيْطِ , حَدَّثَنَا قَتَادَةُ , عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ الْغَطَفَانِيِّ , عَنْ مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ الْيَعْمُرِيِّ , عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : " أَيَعْجِزُ أَحَدُكُمْ أَنْ يَقْرَأَ كُلَّ يَوْمٍ ثُلُثَ الْقُرْآنِ ؟ " , قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ , نَحْنُ أَضْعَفُ مِنْ ذَاكَ وَأَعْجَزُ , قَالَ : " فَإِنَّ اللَّهَ جَزَّأَ الْقُرْآنَ ثَلَاثَةَ أَجْزَاءٍ , فَقُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ , جُزْءٌ مِنْ أَجْزَائِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابودردا رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ سے فرمایا کہ تم ایک رات میں تہائی قرآن پڑھنے سے عاجز ہو ؟ صحابہ کرام یہ بات بہت مشکل معلوم ہوئی اور وہ کہنے لگے کہ اس کی طاقت کس کے پاس ہوگی ؟ ہم بہت کمزور اور عاجز ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کے تین حصے کئے ہیں اور سورت اخلاص کو ان میں سے ایک جزو قرار دیا ہے۔ گذشہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حدیث نمبر: 27523
وحَدَّثَنَاه عَفَّانُ , حَدَّثَنَا أَبَانُ , حَدَّثَنَا قَتَادَةُ , عَنْ سَالِمٍ , عَنْ مَعْدَانَ , عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : " أَيَعْجِزُ أَحَدُكُمْ أَنْ يَقْرَأَ , " , فَذَكَرَ مَعْنَاهُ .
حدیث نمبر: 27524
وقَالَ عَفَّانُ , حَدَّثَنَا بُكَيْرُ بْنُ أَبِي السُّمَيْطِ , بِهَذَا الْإِسْنَادِ , بِمِثْلِهِ سَوَاءً.
حدیث نمبر: 27525
حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ , حَدَّثَنَا أَبُو مَعْشَرٍ , عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ , عَنْ زِيَادِ بْنِ أَبِي زِيَادٍ مَوْلَى ابْنِ عَيَّاشٍ , عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ , قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِ أَعْمَالِكُمْ , وَأَزْكَاهَا عِنْدَ مَلِيكِكُمْ , وَأَرْفَعِهَا لِدَرَجَاتِكُمْ , وَخَيْرٍ لَكُمْ مِنْ إِعْطَاءِ الذَّهَبِ وَالْوَرِقِ , وَخَيْرٍ لَكُمْ مِنْ أَنْ تَلْقَوْا عَدُوَّكُمْ فَتَضْرِبُوا رِقَابَهُمْ وَيَضْرِبُونَ رِقَابَكُمْ ؟ ذِكْرُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابودردا رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کیا میں تمہیں تمہارے مالک کی نگاہوں میں سب سے بہتر عمل " جو درجات میں سب سے زیادہ بلندی کا سبب ہو، تمہارے لئے سونا چاندی خرچ کرنے سے بہتر ہو اور اس سے بہتر ہو کہ مید ان جنگ میں دشمن سے آمنا سامنا ہو اور تم ان کی گردنیں اڑاؤ اور وہ تمہاری گردنیں اڑائیں " نہ بتادوں ؟ صحابہ نے پوچھا یا رسول اللہ ! وہ کون سا عمل ہے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ کا ذکر۔
حدیث نمبر: 27526
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ , قَالَ : حدثَنَا الْأَعْمَشُ , عَنْ أَبِي صَالِحٍ , عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ , عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ مِصْرَ , عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ , قَالَ : أَتَاهُ رَجُلٌ , فَقَالَ : مَا تَقُولُ فِي قَوْلِ اللَّهِ لَهُمُ الْبُشْرَى فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الآخِرَةِ سورة يونس آية 64 , قَالَ : لَقَدْ سَأَلْتَ عَنْ شَيْءٍ مَا سَمِعْتُ أَحَدًا سَأَلَ عَنْهُ بَعْدَ رَجُلٍ سَأَلَ عَنْهُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : " بُشْرَاهُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ , يَرَاهَا الْمُسْلِمُ , أَوْ تُرَى لَهُ , وَبُشْرَاهُمْ فِي الْآخِرَةِ الْجَنَّةُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابودردا رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت قرآنی لھم البشری فی الحیاۃ الدنیا میں بشری کی تفسیر کرتے ہوئے فرمایا کہ اس سے مراد اچھے خواب ہیں جو کوئی مسلمان دیکھے یا اس کے حق میں کوئی دوسرا دیکھے۔
حدیث نمبر: 27527
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ , حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ , عَنْ أَبِي صَالِحٍ , عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ , مِثْلَ حَدِيثِ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ , عَنْ أَبِي ذَرٍّ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَنَّهُ قَالَ : " مَنْ مَاتَ مِنْ أُمَّتِي لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا , دَخَلَ الْجَنَّةَ " , إِلَّا أَنَّ فِيهِ : " وَإِنْ رَغِمَ أَنْفُ أَبِي الدَّرْدَاءِ ".
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابودردا رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میری امت میں سے جو شخص اس طرح مرے کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو، وہ جنت میں داخل ہوگا، یہ حدیث حضرت ابودردا رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے البتہ اس میں یہ ہے کہ اگرچہ ابودردا کی ناک خاک آلود ہوجائے۔
حدیث نمبر: 27528
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ , أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ , عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ , عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ , قَالَ : كَانَ فِينَا رَجُلٌ , فَذَكَرَ الْحَدِيثَ , قَالَ : فَرَحَلَ إِلَى أَبِي الدَّرْدَاءِ , فَقَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ : " الْوَالِدُ أَوْسَطُ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابودردا رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ باپ جنت کا درمیانہ دروازہ ہے۔
حدیث نمبر: 27529
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ , حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ , عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ , قَالَ : كَانَ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مَرْوَانَ يُرْسِلُ إِلَى أُمِّ الدَّرْدَاءِ , فَتَبِيتُ عِنْدَ نِسَائِهِ , وَيَسْأَلُهَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : فَقَامَ لَيْلَةً فَدَعَا خَادِمَهُ , فَأَبْطَأَتْ عَلَيْهِ , فَلَعَنَهَا , فَقَالَتْ : لَا تَلْعَنْ , فَإِنَّ أَبَا الدَّرْدَاءِ حَدَّثَنِي , أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ : " إِنَّ اللَّعَّانِينَ لَا يَكُونُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ شُهَدَاءَ وَلَا شُفَعَاءَ " .
مولانا ظفر اقبال
زید بن اسلم کہتے ہیں کہ مروان کا بیٹا عبدالمالک حضرت ام دردا کو اپنے یہاں بلا لیتا تھا، وہ اس کی عورتوں کے یہاں رات گذارتی تھیں اور وہ ان سے نبی کے متعلق پوچھتا رہتا تھا ایک رات وہ بیدار ہوا تو خادمہ کو آواز دی، اس نے آنے میں تاخیر کردی تو وہ سے لعنت ملامت کرنے لگا، حضرت ام دردا نے فرمایا لعنت مت کرو کیونکہ ابودردا نے مجھے بتایا ہے کہ انہوں نے نبی کو کہ یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ لعنت ملامت کرنے والے قیامت کے دن گواہ بن سکیں گے اور نہ ہی سفارش کرنے والے۔
حدیث نمبر: 27530
حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ , حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ , حَدَّثَنِي أَبُو الزَّاهِرِيَّةِ حُدَيْرُ بْنُ كُرَيْبٍ , عَنْ كَثِيرِ بْنِ مُرَّةَ الْحَضْرَمِيِّ , قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا الدَّرْدَاءِ , يَقُولُ : سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَفِي كُلِّ صَلَاةٍ قِرَاءَةٌ ؟ قَالَ : " نَعَمْ " , فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ : وَجَبَتْ هَذِهِ , فَالْتَفَتَ إِلَيَّ أَبُو الدَّرْدَاءِ , وَكُنْتُ أَقْرَبَ الْقَوْمِ مِنْهُ , فَقَالَ : يَا ابْنَ أَخِي , مَا أَرَى الْإِمَامَ إِذَا أَمَّ الْقَوْمَ إِلَّا قَدْ كَفَاهُمْ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابودردا رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے نبی سے پوچھا یا رسول اللہ ! کیا ہر نماز میں قرأت ہوتی ہے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں ! تو ایک انصار نے کہا کہ یہ تو واجب ہوگئی پھر حضرت ابودردا رضی اللہ عنہ میری طرف متوجہ ہوئے کیونکہ میں ہی سب سے زیادہ ان کے قریب تھا اور فرمایا بھتیجے ! میں سمجھتا ہوں کہ جب امام لوگوں کی امامت کرتا ہے تو وہ ان کی طرف سے کفایت کرتا ہے۔
حدیث نمبر: 27531
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ , عَنْ مَالِكٍ , عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ , عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ , أَنَّ مُعَاوِيَةَ اشْتَرَى سِقَايَةً مِنْ فِضَّةٍ بِأَقَلَّ مِنْ ثَمَنِهَا , أَوْ أَكْثَرَ , قَالَ : فَقَالَ أَبُو الدَّرْدَاءِ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ مِثْلِ هَذَا إِلَّا مِثْلًا بِمِثْلٍ " .
مولانا ظفر اقبال
عطاء بن یسار کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت معاویہ نے چاندی کا ایک پیالہ اس کی قیمت سے کم و بیش میں خریدا تو حضرت ابودردا رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی بیع سے منع فرمایا ہے الاً یہ کہ برابر سرابر ہو۔
حدیث نمبر: 27532
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ , عَنْ شُعْبَةَ , قَالَ : حَدَّثَنِي الْقَاسِمُ بْنُ أَبِي بَزَّة , عَنْ عَطَاءٍ الْكَيْخَارَانِيِّ , عَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ , عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : " لَيْسَ شَيْءٌ أَثْقَلَ فِي الْمِيزَانِ مِنْ خُلُقٍ حَسَنٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابودردا رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا قیامت کے دن میزان عمل میں اچھے اخلاق سے بھاری کوئی چیز نہ ہوگی۔
حدیث نمبر: 27533
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ , عَنْ سُفْيَانَ , عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ , عَنْ أَبِي حَبِيبَةَ الطَّائِيِّ , عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ , قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ فِي حَدِيثِهِ : فَلَقِيتُ أَبَا الدَّرْدَاءِ , فَقَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ : " مَثَلُ الَّذِي يُعْتِقُ عِنْدَ الْمَوْتِ , كَمَثَلِ الَّذِي يُهْدِي إِذَا شَبِعَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابودردا رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص مرتے وقت کسی غلام کو آزاد کرتا یا صدقہ خیرات کرتا ہے اس کی مثال اسی شخص کی سی ہے جو خوب سیراب ہونے کے بعد بچ جانے والی چیز کو ہدیہ کردے۔
حدیث نمبر: 27534
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ , عَنْ أَبِي السَّفَرِ , قَالَ : كَسَرَ رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ سِنَّ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ , فَاسْتَعْدَى عَلَيْهِ مُعَاوِيَةَ , فَقَالَ الْقُرَشِيُّ : إِنَّ هَذَا دَقَّ سِنِّي , قَالَ مُعَاوِيَةُ : كَلَّا , إِنَّا سَنُرْضِيهِ , قَالَ : فَلَمَّا أَلَحَّ عَلَيْهِ الْأَنْصَارِيُّ , قَالَ مُعَاوِيَةُ : شَأْنَكَ بِصَاحِبِكَ , وَأَبُو الدَّرْدَاءِ جَالِسٌ , فَقَالَ أَبُو الدَّرْدَاءِ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ : " مَا مِنْ مُسْلِمٍ يُصَابُ بِشَيْءٍ فِي جَسَدِهِ , فَيَتَصَدَّقُ بِهِ , إِلَّا رَفَعَهُ اللَّهُ بِهِ دَرَجَةً , وَحَطَّ عَنْهُ بِهَا خَطِيئَةً " , قَالَ : فَقَالَ الْأَنْصَارِيُّ : أَأَنْتَ سَمِعْتَ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : نَعَمْ , سَمِعَتْهُ أُذُنَايَ , وَوَعَاهُ قَلْبِي , يَعْنِي : فَعَفَا عَنْهُ .
مولانا ظفر اقبال
ابو سفر کہتے ہیں کہ قریش کے ایک آدمی نے انصار کے ایک آدمی کا دانت توڑ ڈالا اس نے حضرت معاویہ سے قصاص کی درخواست کی وہ قریشی کہنے لگا کہ اس نے میرا دانت توڑا تھا حضرت معاویہ نے فرمایا ہرگز نہیں ہم اسے راضی کریں گے جب اس انصار نے بڑے اصرار سے اپنی بات دہرائی تو حضرت معاویہ نے فرمایا تم اپنے ساتھی سے اپنا بدلہ لے لو، اس مجلس میں حضرت ابودردا رضی اللہ عنہ بھی بیٹھے ہوئے تھے، انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے جس مسلمان کو اس کے جسم میں کوئی تکلیف پہنچتی ہے اور وہ اس پر صدقہ کی نیت کرلیتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کا ایک درجہ بلند کردیتا ہے اور اس کا ایک گناہ معاف فرما دیتا ہے، اس انصار نے پوچھا کہ کیا آپ نے خود نبی سے یہ حدیث سنی ہے ؟ انہوں نے فرمایا ہاں ! میرے کانوں نے اس حدیث کو سنا ہے اور میرے دل نے اسے مخفوظ کیا ہے، چنانچہ اس نے اس قریشی کو معاف کردیا۔
حدیث نمبر: 27535
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ , حَدَّثَنَا دَاوُدُ , وَابْنُ أَبِي عَدِيٍّ , عَنْ دَاوُدَ , عَنِ الشَّعْبِيِّ , عَنْ عَلْقَمَةَ , قَالَ : لَقِيتُ أَبَا الدَّرْدَاءِ , قَالَ ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ فِي حَدِيثِهِ : فَقَدِمْتُ الشَّامَ , فَلَقِيتُ أَبَا الدَّرْدَاءِ , قَالَ : مِمَّنْ أَنْتَ ؟ قُلْتُ : مِنْ أَهْلِ الْكُوفَةِ , قَالَ : هَلْ تَقْرَأُ عَلَيَّ قِرَاءَةَ ابْنِ مَسْعُودٍ ؟ قُلْتُ : نَعَمْ , قَالَ : فَاقْرَأْ : وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى , قُلْتُ : " وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى , وَالنَّهَارِ إِذَا تَجَلَّى , وَالذَّكَرِ وَالْأُنْثَى " , قَالَ : هَكَذَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَؤُهَا , قَالَ : أَحْسَبُهُ قَالَ : فَضَحِكَ.
مولانا ظفر اقبال
علقمہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں شام پہنچا اور وہاں حضرت ابودردا رضی اللہ عنہ سے ملاقات ہوئی، انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ تمہارا تعلق کہاں سے ہے ؟ میں نے بتایا کہ میں اہل کوفہ میں سے ہوں، انہوں نے فرمایا کیا تم حضرت ابن مسعود کی قرأت کے مطابق قرآن کریم کی تلاوت کرتے ہو ؟ میں نے عرض کیا جی ہاں ! انہوں نے فرمایا سورت اللیل کی تلاوت سناؤ، میں نے یوں تلاوت کی انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی کی اس طرح اس کی تلاوت کرتے ہوئے سنا ہے، غالباً وہ اس پر ہنسے بھی تھے۔
حدیث نمبر: 27536
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ , عَنْ لَيْثٍ , عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ , عَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ , عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : " مَنْ رَدَّ عَنْ عِرْضِ أَخِيهِ الْمُسْلِمِ , كَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يَرُدَّ عَنْهُ نَارَ جَهَنَّمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابودردا رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص اپنے مسلمان بھائی کی عزت کا دفاع کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ پر حق ہے کہ اس سے قیامت کے دن جہنم کی آگ کو دور کرے۔
حدیث نمبر: 27537
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ , حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ , عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ , عَنْ يَعِيشَ بْنِ الْوَلِيدِ , عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ , عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ , قَالَ : " اسْتَقَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَأَفْطَرَ , فَأُتِيَ بِمَاءٍ , فَتَوَضَّأَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابودردا رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کو قئی آئی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا روزہ ختم کردیا، پھر ان کے پاس پانی لایا گیا تو انہوں کے وضو کرلیا۔
حدیث نمبر: 27538
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ , أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ , عَنْ مُغِيرَةَ , عَنْ إِبْرَاهِيمَ , عَنْ عَلْقَمَةَ , أَنَّهُ قَدِمَ الشَّامَ , فَدَخَلَ مَسْجِدَ دِمَشْقَ , فَصَلَّى فِيهِ رَكْعَتَيْنِ , وَقَالَ : اللَّهُمَّ ارْزُقْنِي جَلِيسًا صَالِحًا , قَالَ : فَجَاءَ , فَجَلَسَ إِلَى أَبِي الدَّرْدَاءِ , فَقَالَ لَهُ أَبُو الدَّرْدَاءِ : مِمَّنْ أَنْتَ ؟ قَالَ : مِنْ أَهْلِ الْكُوفَةِ , قَالَ : كَيْفَ سَمِعْتَ ابْنَ أُمِّ عَبْدٍ يَقْرَأُ : وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى , وَالنَّهَارِ إِذَا تَجَلَّى سورة الليل آية 1 - 2 , قَالَ عَلْقَمَةُ : " وَالذَّكَرِ وَالْأُنْثَى " , فَقَالَ أَبُو الدَّرْدَاءِ : لَقَدْ سَمِعْتُهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَمَا زَالَ هَؤُلَاءِ حَتَّى شَكَّكُونِي , ثُمَّ قَالَ : أَلَمْ يَكُنْ فِيكُمْ صَاحِبُ الْوِسَادِ , وَصَاحِبُ السِّرِّ الَّذِي لَا يَعْلَمُهُ أَحَدٌ غَيْرُهُ , وَالَّذِي أُجِيرَ مِنَ الشَّيْطَانِ عَلَى لِسَانِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ ! صَاحِبُ الْوِسَادِ : ابْنُ مَسْعُودٍ , وَصَاحِبُ السِّرِّ : حُذَيْفَةُ , وَالَّذِي أُجِيرَ مِنَ الشَّيْطَانِ : عَمَّارٌ .
مولانا ظفر اقبال
علقمہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں شام دمشق کی جامع میں دو رکعتیں پڑھ کر اچھے ہم نشین کی دعاء کی تو وہاں حضرت ابودردا رضی اللہ عنہ سے ملاقات ہوئی، انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ تمہارا تعلق کہاں سے ہے ؟ میں نے بتایا کہ میں اہل کوفہ میں سے ہوں انہوں نے فرمایا کیا تم حضرت ابن مسعود کی قرأت کے مطابق قرآن کریم کی تلاوت کرتے ہو ؟ میں نے عرض کیا جی ہاں ! انہوں نے فرمایا سورت اللیل کی تلاوت سناؤ، میں نے یوں تلاوت کی انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی کی اس طرح اس کی تلاوت کرتے ہوئے سنا ہے، ان لوگوں نے مجھ سے اس پر اتنی بحث کی تھی کہ مجھے شک میں مبتلا کردیا تھا، پھر فرمایا کیا تم میں " تکیے والے " ایسے رازوں کو جاننے والے جنہیں کوئی نہ جانتا ہو اور جنہیں نبی کی زبانی شیطان سے مخفوظ قرار دیا گیا تھا " نہیں ہیں ؟ تکیے والے تو ابن مسعود ہیں، رازوں کو جاننے والے حذیفہ ہیں اور شیطان سے محفوظ عمار ہیں ۔
حدیث نمبر: 27539
حَدَّثَنَا عَفَّانُ , حَدَّثَنَا شُعْبَةُ , قَالَ : أَخْبَرَنِي مُغِيرَةُ , قَالَ : سَمِعْتُ إِبْرَاهِيمَ , قَالَ : ذَهَبَ عَلْقَمَةُ إِلَى الشَّامِ , فَذَكَرَ الْحَدِيثَ.
مولانا ظفر اقبال
گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حدیث نمبر: 27540
حَدَّثَنَا رَوْحٌ , حَدَّثَنَا سَعِيدٌ , عَنْ قَتَادَةَ , حَدَّثَنَا سَالِمُ بْنُ أَبِي الْجَعْدِ الْغَطَفَانِيُّ , عَنْ مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ الْيَعْمُرِيِّ , عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : " مَنْ حَفِظَ عَشْرَ آيَاتٍ مِنْ أَوَّلِ سُورَةِ الْكَهْفِ , عُصِمَ مِنْ فِتْنَةِ الدَّجَّالِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابودردا رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جو شخص سورت کہف کی ابتدائی دس آیات یاد کرلے، وہ دجال کے فتنے سے محفوظ رہے گا۔
حدیث نمبر: 27541
حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ فِي تَفْسِيرِ شَيْبَانَ , عَنْ قَتَادَةَ , قَالَ : حدثَنَا سَالِمُ بْنُ أَبِي الْجَعْدِ , عَنْ مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ , عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ , فَذَكَرَ مِثْلَهُ .
مولانا ظفر اقبال
گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ حضرت ابودردا رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جو شخص سورت کہف کی ابتدائی دس آیات یاد کرلے، وہ دجال کے فتنے سے محفوظ رہے گا۔
حدیث نمبر: 27542
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ , وَعَفَّانُ , قَالَا : حدثَنَا هَمَّامٌ , قَالَ عَفَّانُ فِي حَدِيثِهِ : حَدَّثَنَا هَمَّامٌ , قَالَ : كَانَ قَتَادَةُ يَقُصُّ بِهِ عَلَيْنَا , قَالَ : حدثَنَا سَالِمُ بْنُ أَبِي الْجَعْدِ الْغَطَفَانِيُّ , عَنْ حَدِيثِ مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ الْيَعْمُرِيِّ , عَنْ حَدِيثِ أَبِي الدَّرْدَاءِ , يَرْوِيهِ عَنْ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَذَكَرَ مِثْلَهُ , ثُمَّ رَجَعَ إِلَى حَدِيثِ عَبْدِ الصَّمَدِ , قَالَ : حدثَنَا هَمَّامٌ , حَدَّثَنَا قَتَادَةُ , عَنْ سَالِمٍ , عَنْ حَدِيثِ مَعْدَانَ , عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ , يَرْوِيهِ عَنْ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَنَّهُ قَالَ : " مَنْ حَفِظَ عَشْرَ آيَاتٍ مِنْ سُورَةِ الْكَهْفِ ".
حدیث نمبر: 27543
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ , أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ الْمُبَارَكِ , قَالَ : أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّهْشَلِيُّ , عَنْ مَرْزُوقٍ أَبِي بَكْرٍ التَّيْمِيِّ , عَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ , عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : " مَنْ رَدَّ عَنْ عِرْضِ أَخِيهِ , رَدَّ اللَّهُ عَنْ وَجْهِهِ النَّارَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابودردا رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص اپنے مسلمان بھائی کی عزت کا دفاع کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ پر حق ہے کہ اس سے قیامت کے دن جہنم کی آگ کو دور کرے۔ علقمہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں شام پہنچا۔۔۔۔ پھر راوی نے پوری حدیث ذکر کی۔
حدیث نمبر: 27544
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ , حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ , عَنِ الْمُغِيرَةِ , عَنْ إِبْرَاهِيمَ , عَنْ عَلْقَمَةَ , قَالَ : أَتَيْتُ الشَّامَ , فَدَخَلْتُ الْمَسْجِدَ , فَصَلَّيْتُ رَكْعَتَيْنِ , وَقُلْتُ : اللَّهُمَّ يَسِّرْ لِي جَلِيسًا صَالِحًا , فَذَكَرَ مَعْنَى حَدِيثِ شُعْبَةَ.
حدیث نمبر: 27545
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَلَاءِ الْحَسَنُ بْنُ سَوَّارٍ , حَدَّثَنَا لَيْثٌ , عَنْ مُعَاوِيَةَ , عَنْ أَبِي حَلْبَسٍ يَزِيدَ بْنِ مَيْسَرَةَ , قَالَ : سَمِعْتُ أُمَّ الدَّرْدَاءِ , تَقُولُ : سَمِعْتُ أَبَا الدَّرْدَاءِ , يَقُولُ : سَمِعْتُ أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ : مَا سَمِعْتُهُ يُكَنِّيهِ قَبْلَهَا وَلَا بَعْدَهَا , يَقُولُ : " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ : يَا عِيسَى , إِنِّي بَاعِثٌ مِنْ بَعْدِكَ أُمَّةً , إِنْ أَصَابَهُمْ مَا يُحِبُّونَ , حَمِدُوا اللَّهَ وَشَكَرُوا , وَإِنْ أَصَابَهُمْ مَا يَكْرَهُونَ , احْتَسَبُوا وَصَبَرُوا , وَلَا حِلْمَ وَلَا عِلْمَ , قَالَ : يَا رَبِّ كَيْفَ هَذَا لَهُمْ , وَلَا حِلْمَ وَلَا عِلْمَ ؟ قَالَ : أُعْطِيهِمْ مِنْ حِلْمِي وَعِلْمِي " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابودردا رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے " بقول راوی میں نے انہیں اس سے قبل یا بعد میں نبی کی کنیت ذکر کرتے ہوئے نہیں سنا " کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا اے عیسیٰ ! میں تمہارے بعد ایک امت بھیجنے والا ہوں، انہیں اگر کوئی خوشی نصیب ہوگی تو وہ حمد و شکر بجا لائیں گے اور اگر کوئی ناپسندیدہ صورت پیش آئے گی تو وہ اس پر صبر کریں گے اور ثواب کی نیت کریں گے اور کوئی حلم و علم نہ ہوگا، انہوں نے عرض کیا پروردگار ! یہ کیسے ہوگا جبکہ ان کے پاس کوئی حلم و علم نہ ہوگا ؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میں انہیں اپنا حلم و علم عطاء کروں گا۔
حدیث نمبر: 27546
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ , حَدَّثَنِي سَهْلُ بْنُ أَبِي صَدَقَةَ , قَالَ : حَدَّثَنِي كَثِيرُ أَبُو الْفَضْلِ الطُّفَاوِيُّ , حَدَّثَنِي يُوسُفُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ , قَالَ : أَتَيْتُ أَبَا الدَّرْدَاءِ فِي مَرَضِهِ الَّذِي قُبِضَ فِيهِ , فَقَالَ لِي : يَا ابْنَ أَخِي , مَا أَعْمَدَكَ إِلَى هَذَا الْبَلَدِ , أَوْ مَا جَاءَ بِكَ ؟ قَالَ : قُلْتُ : لَا , إِلَّا صِلَةُ مَا كَانَ بَيْنَكَ وَبَيْنَ وَالِدِي عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ , فَقَالَ أَبُو الدَّرْدَاءِ : بِئْسَ سَاعَةُ الْكَذِبِ هَذِهِ , سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ : " مَنْ تَوَضَّأَ , فَأَحْسَنَ وُضُوءَهُ , ثُمَّ قَامَ , فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ , أَوْ أَرْبَعًا شَكَّ سَهْلٌ , يُحْسِنُ فِيهِمَا الذِّكْرَ وَالْخُشُوعَ , ثُمَّ اسْتَغْفَرَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ , غَفَرَ لَهُ " , قَالَ عَبْد اللَّهِ : وحَدَّثَنَاه سَعِيدُ بْنُ أَبِي الرَّبِيعِ السَّمَّانُ , قَالَ : حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ أَبِي سَهْلٍ الْهُنَائِيُّ , قَالَ عَبْد اللَّهِ : وَأَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ وَهِمَ فِي اسْمِ الشَّيْخِ , فَقَالَ : سَهْلُ بْنُ أَبِي صَدَقَةَ , وَإِنَّمَا هُوَ صَدَقَةُ بْنُ أَبِي سَهْلٍ الْهُنَائِيُّ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت یوسف بن عبداللہ بن سلام سے مروی ہے کہ مجھے حضرت ابودردا رضی اللہ عنہ کی رفاقت کا شرف حاصل ہوا ہے جب ان کی دنیا سے رخصتی کا وقت قریب آیا تو انہوں نے فرمایا بھتیجے ! کیسے آنا ہوا ؟ میں نے عرض کیا محض آپ کے اور میرے والد عبداللہ بن سلام کی دوستی کی وجہ سے، انہوں نے فرمایا زندگی کے اس لمحے میں جھوٹ بولنا بہت بری بات ہوگی، میں نے نبی کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص وضو کرے اور خوب اچھی طرح کرے، پھر دو رکعتیں مکمل خشوع کے ساتھ پڑھے پھر اللہ سے اپنے گناہوں کی معافی مانگے تو اللہ اسے ضرور بخش دے گا۔
حدیث نمبر: 27547
حَدَّثَنَا عَفَّانُ , حَدَّثَنَا هَمَّامٌ , قَالَ : حدثَنَا عَاصِمُ بْنُ بَهْدَلَةَ , عَنْ أَبِي صَالِحٍ , عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ , أَنَّهُ إِذْ حُضِرَ , قَالَ : أَدْخِلُوا عَلَيَّ النَّاسَ , فَأُدْخِلُوا عَلَيْهِ , فَقَالَ : إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ : " مَنْ مَاتَ لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا , جَعَلَهُ اللَّهُ فِي الْجَنَّةِ " , وَمَا كُنْتُ أُحَدِّثُكُمُوهُ إِلَّا عِنْدَ الْمَوْتِ , وَالشَّهِيدُ عَلَى ذَلِكَ عُوَيْمِرٌ أَبُو الدَّرْدَاءِ , فَأَتَوْا أَبَا الدَّرْدَاءِ , فَقَالَ : صَدَقَ أَخِي , وَمَا كَانَ يُحَدِّثُكُمْ بِهِ إِلَّا عِنْدَ مَوْتِهِ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت معاذ بن جبل کے حوالے سے مروی ہے کہ جب ان کا آخری وقت قریب آیا تو فرمایا لوگوں کو میرے پاس بلا کر لاؤ، لوگ آئے تو فرمایا کہ میں نے نبی کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے جو شخص اس حال میں مرے کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو، اللہ اسے جنت میں داخل فرمائے گا، میں تمہیں یہ بات اپنی موت کے وقت بتارہا ہوں اور اس کے گواہ عویمر حضرت ابودردا رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچے تو انہوں نے فرمایا میرے بھائی نے سچ کہا اور انہوں نے یہ حدیث تم سے اپنی موت کے وقت ہی بیان کرنا تھی۔
حدیث نمبر: 27548
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ , حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ , عَنْ خَالِدِ بْنِ مُحَمَّدٍ , عَنْ بِلَالِ بْنِ أَبِي الدَّرْدَاءِ , عَنْ أَبِيهِ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : " حُبُّكَ الشَّيْءَ يُصِمُّ وَيُعْمِي " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابودردا رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کسی چیز کی محبت تمہیں اندھا بہرا بنا دیتی ہے۔
حدیث نمبر: 27549
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ , حَدَّثَنَا شُعْبَةُ , عَنْ مُغِيرَةَ , أَنَّهُ سَمِعَ إِبْرَاهِيمَ , يُحَدِّثُ , قالَ : أَتَى عَلْقَمَةُ الشَّامَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ , فَقَالَ : اللَّهُمَّ وَفِّقْ لِي جَلِيسًا صَالِحًا , قَالَ : فَجَلَسْتُ إِلَى رَجُلٍ , فَإِذَا هُوَ أَبُو الدَّرْدَاءِ , فَقَالَ : مِمَّنْ أَنْتَ ؟ فَقُلْتُ : مِنْ أَهْلِ الْكُوفَةِ , فَقَالَ : هَلْ تَدْرِي كَيْفَ كَانَ عَبْدُ اللَّهِ يَقْرَأُ هَذَا الْحَرْفَ وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى وَالنَّهَارِ إِذَا تَجَلَّى وَمَا خَلَقَ الذَّكَرَ وَالأُنْثَى سورة الليل آية 1 - 3 , فَقُلْتُ : كَانَ يَقْرَؤُهَا : " وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى , وَالنَّهَارِ إِذَا تَجَلَّى , وَالذَّكَرِ وَالْأُنْثَى " , فَقَالَ : هَكَذَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَؤُهَا , فَمَا زَالَ بِي هَؤُلَاءِ حَتَّى كَادُوا يُشَكِّكُونِي , ثُمَّ قَالَ : أَلَيْسَ فِيكُمْ صَاحِبُ الْوِسَادِ وَالسِّوَاكِ ؟ يَعْنِي : عَبْدَ اللَّهِ ابْنَ مَسْعُودٍ , أَلَيْسَ فِيكُمْ الَّذِي أَجَارَهُ اللَّهُ عَلَى لِسَانِ نَبِيِّهِ مِنَ الشَّيْطَان ؟ يَعْنِي : عَمَّارَ بْنَ يَاسِرٍ , أَلَيْسَ فِيكُمْ الَّذِي يَعْلَمُ السِّرَّ وَلَا يَعْلَمُهُ غَيْرُهُ ؟ يَعْنِي : حُذَيْفَةَ .
مولانا ظفر اقبال
علقمہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں شام میں دمشق کی جامع مسجد میں دو رکعتیں پڑھ کر اچھے ہم نشین کی دعاء کی تو وہاں حضرت ابودردا رضی اللہ عنہ سے ملاقات ہوئی، انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ تمہارا تعلق کہاں سے ہے ؟ میں نے بتایا کہ میں اہل کوفہ میں سے ہوں، انہوں نے فرمایا کیا تم حضرت ابن مسعود کی قرأت کے مطابق قرآن کریم کی تلاوت کرتے ہو ؟ میں نے عرض کیا جی ہاں ! انہوں نے فرمایا سورت اللیل کی تلاوت سناؤ، میں نے یوں تلاوت کی انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی کو اس طرح اس کی تلاوت کرتے ہوئے سنا ہے، ان لوگوں نے مجھ سے اس پر اتنی بحث کی تھی کہ مجھے شک میں مبتلا کردیا تھا، پھر فرمایا کیا تم میں " تکیے والے " ایسے رازوں کو جاننے والے جنہیں کوئی نہ جانتا ہو اور جنہیں نبی کی زبانی شیطان سے محفوظ قرار دیا گیا تھا " نہیں ہیں ؟ تکیے والے تو ابن مسعود ہیں، رازوں کو جاننے والے حذیفہ ہیں اور شیطان سے محفوظ عمار ہیں۔
حدیث نمبر: 27550
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ , حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ عَمْرٍو , عَنْ شُرَيْحِ بْنِ عُبَيْدٍ , عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ , يَقُولُ : ابْنَ آدَمَ , لَا تَعْجِزْ مِنْ أَرْبَعِ رَكَعَاتٍ أَوَّلَ النَّهَارِ , أَكْفِكَ آخِرَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت نعیم سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اے ابن آدم ! تو دن کے پہلے چار حصے میں چار رکعتیں پڑھنے سے اپنے آپ کو عاجز ظاہر نہ کرو، میں دن کے آخری حصے تک تیری کفایت کروں گا۔
حدیث نمبر: 27551
حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ أَبُو الْيَمَانِ , حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ عَمْرٍو , عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ السَّكُونِيِّ , عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ , عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ , قَالَ : أَوْصَانِي خَلِيلِي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِثَلَاثٍ لَا أَدَعُهُنَّ لِشَيْءٍ : " أَوْصَانِي بِصِيَامِ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ , وَأَنْ لَا أَنَامَ إِلَّا عَنْ وَتْرٍ , وَسُبْحَةِ الضُّحَى فِي الْحَضَرِ وَالسَّفَرِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابودردا رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ مجھے میرے خلیل ابوقاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین چیزوں کی وصیت فرمائی ہے جنہیں میں کبھی نہیں چھوڑوں گا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ہر تین مہینے روزے رکھنے کی، وتر پڑھ کر سونے کی اور سفر وحضر میں چاشت کے نوافل پڑھنے کی وصیت فرمائی ہے۔
حدیث نمبر: 27552
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ , عَنْ عَطَاءٍ يَعْنِي ابْنَ السَّائِبِ , عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِئِ , قَالَ : قَالَ أَبُو الدَّرْدَاءِ , سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ : " الْوَالِدُ أَوْسَطُ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ , فَاحْفَظْ ذَلِكَ الْبَابَ , أَوْ دَعْهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابودردا رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ باپ جنت کا درمیانہ دروازہ ہے، اب تمہاری مرضی ہے کہ اس کی حفاظت کرو یا اسے چھوڑ دو ۔
…