حدیث نمبر: 27465
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ , عَنْ سُفْيَانَ , عَنْ حَبِيبٍ يَعْنِي ابْنَ أَبِي ثَابِتٍ , عَنْ رَجُلٍ , عَنْ أُمِّ مُسْلِمٍ الْأَشْجَعِيَّةِ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَاهَا وَهِيَ فِي قُبَّةٍ , فَقَالَ : " مَا أَحْسَنَهَا إِنْ لَمْ يَكُنْ فِيهَا مَيْتَةٌ " , قالَتْ : فَجَعَلْتُ أَتَتَبَّعُهَا.
مولانا ظفر اقبال
حضرت ام مسلم اشجعیہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کے یہاں تشریف لائے، وہ اس وقت قبے میں تھیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”یہ کتنا اچھا تھا جبکہ اس میں کوئی مردار نہ ہوتا، وہ کہتی کہ یہ سن کر میں اسے تلاش کرنے لگی۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / من مسند القبائل / حدیث: 27465
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لابهام الراوي عن أم مسلم الأشجعية