حدیث نمبر: 27439
حَدَّثَنَا عَفَّانُ , حَدَّثَنَا شُعْبَةُ , عَنْ خُبَيْبٍ , قَالَ : سَمِعْتُ عَمَّتِي , تَقُولُ : وَكَانَتْ حَجَّتْ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ : " إِنَّ ابْنَ أُمِّ مَكْتُومٍ يُنَادِي بِلَيْلٍ , فَكُلُوا وَاشْرَبُوا , حَتَّى يُنَادِيَ بِلَالٌ , أَوْ إِنَّ بِلَالًا يُنَادِي بِلَيْلٍ , فَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يُنَادِيَ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ " , وَكَانَ يَصْعَدُ هَذَا , وَيَنْزِلُ هَذَا , فَنَتَعَلَّقُ بِهِ , فَنَقُولُ : كَمَا أَنْتَ حَتَّى نَتَسَحَّرَ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت انیسہ ”جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج میں شریک تھیں“ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”ابن ام مکتوم رات ہی کو اذان دے دیتے ہیں اس لئے جب تک بلال اذان نہ دے دے تم کھاتے پیتے رہو۔ “ راوی کہتے ہیں کہ دراصل وہ نابینا آدمی تھے، دیکھ نہیں سکتے تھے اس لئے وہ اس وقت تک اذان نہیں دیتے تھے جب تک لوگ نہ کہنے لگتے کہ اذان دیجئے، آپ نے تو صبح کر دی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / من مسند القبائل / حدیث: 27439
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 27440
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ , حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ يَعْنِي ابْنَ زَاذَانَ , عَنْ خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , عَنْ عَمَّتِهِ أُنَيْسَةَ بِنْتِ خُبَيْبٍ , قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا أَذَّنَ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ ، فَكُلُوا وَاشْرَبُوا , وَإِذَا أَذَّنَ بِلَالٌ , فَلَا تَأْكُلُوا وَلَا تَشْرَبُوا " , قَالَتْ : وَإِنْ كَانَتْ الْمَرْأَةُ لَيَبْقَى عَلَيْهَا مِنْ سُحُورِهَا , فَنَقُولُ لِبِلَالٍ : أَمْهِلْ حَتَّى أَفْرُغَ مِنْ سُحُورِي.
مولانا ظفر اقبال
حضرت انیسہ ”جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج میں شریک تھیں“ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”ابن ام مکتوم رات ہی کو اذان دے دیتے ہیں اس لئے جب تک بلال اذان نہ دے دے تم کھاتے پیتے رہو۔“ راوی کہتے ہیں کہ دراصل وہ نابینا آدمی تھے، دیکھ نہیں سکتے تھے اس لئے وہ اس وقت تک اذان نہیں دیتے تھے جب تک لوگ نہ کہنے لگتے کہ اذان دیجئے، آپ نے تو صبح کر دی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / من مسند القبائل / حدیث: 27440
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 27441
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ , حَدَّثَنَا شُعْبَةُ , عَنْ خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , عَنْ عَمَّتِهِ , قَالَتْ : إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : " إِنَّ ابْنَ أُمِّ مَكْتُومٍ أَوْ بِلَالًا يُنَادِي بِلَيْلٍ , فَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يُنَادِيَ بِلَالٌ أَوْ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ " , فَمَا كَانَ إِلَّا أَنْ يُؤَذِّنَ أَحَدُهُمَا وَيَصْعَدَ الْآخَرُ , فَنَأْخُذَهُ بِيَدِهِ , وَنَقُولَ : كَمَا أَنْتَ حَتَّى نَتَسَحَّرَ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت انیسہ ”جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج میں شریک تھیں“ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”ابن ام مکتوم رات ہی کو اذان دے دیتے ہیں اس لئے جب تک بلال اذان نہ دے دے تم کھاتے پیتے رہو۔“ راوی کہتے ہیں کہ دراصل وہ نابینا آدمی تھے، دیکھ نہیں سکتے تھے اس لئے وہ اس وقت تک اذان نہیں دیتے تھے جب تک لوگ نہ کہنے لگتے کہ اذان دیجئے، آپ نے تو صبح کر دی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / من مسند القبائل / حدیث: 27441
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح