حدیث نمبر: 27420
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنِ الزُّهْرِيِّ , عَنْ عُبَيْدِ بْنِ السَّبَّاقِ , عَنْ جُوَيْرِيَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ , قَالَتْ : دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ , فَقَالَ : " هَلْ مِنْ طَعَامٍ ؟ " , قُلْتُ : لَا , إِلَّا عَظْمًا أُعْطِيَتْهُ مَوْلَاةٌ لَنَا مِنَ الصَّدَقَةِ , قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَقَرِّبِيهِ , فَقَدْ بَلَغَتْ مَحِلَّهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے یہاں تشریف لائے تو پوچھا : ”کیا تمہارے پاس کچھ ہے ؟“ میں نے عرض کیا : نہیں، البتہ نسیبہ نے ہمارے یہاں اسی بکری کا کچھ حصہ بھیجا ہے جو آپ نے ان کے یہاں بھیجی تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”وہ اپنے ٹھکانے پر پہنچ چکی، اب اسے لے آؤ۔“
حدیث نمبر: 27421
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ , حَدَّثَنَا شُعْبَةُ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ مَوْلَى آل طَلْحَةَ , قَالَ : سَمِعْتُ كُرَيْبًا يُحَدِّثُ , عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ , عَنْ جُوَيْرِيَةَ , قَالَتْ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ عَلَى جُوَيْرِيَةَ بَكَرًا , وَهِيَ فِي الْمَسْجِدِ تَدْعُو , ثُمَّ مَرَّ عَلَيْهَا قَرِيبًا مِنْ نِصْفِ النَّهَارِ , فَقَالَ : " مَا زِلْتِ عَلَى حَالِكِ ؟ " , قَالَتْ : نَعَمْ , قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَلَا أُعَلِّمُكِ كَلِمَاتٍ تَعْدِلُهُنَّ بِهِنَّ , وَلَوْ وُزِنَ بِهِنَّ وُزِنَ : سُبْحَانَ اللَّهِ عَدَدَ خَلْقِهِ , سُبْحَانَ اللَّهِ عَدَدَ خَلْقِهِ , ثَلَاثًا , سُبْحَانَ اللَّهِ رِضَا نَفْسِهِ , سُبْحَانَ اللَّهِ رِضَا نَفْسِهِ , سُبْحَانَ اللَّهِ رِضَا نَفْسِهِ , سُبْحَانَ اللَّهِ زِنَةَ عَرْشِهِ , سُبْحَانَ اللَّهِ زِنَةَ عَرْشِهِ , سُبْحَانَ اللَّهِ زِنَةَ عَرْشِهِ , سُبْحَانَ اللَّهِ مِدَادَ كَلِمَاتِهِ , سُبْحَانَ اللَّهِ مِدَادَ كَلِمَاتِهِ , سُبْحَانَ اللَّهِ مِدَادَ كَلِمَاتِهِ " , وَكَانَ اسْمُهَا بَرَّةَ , فَسَمَّاهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جُوَيْرِيَةَ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت جویریہ س رضی اللہ عنہا ے مروی ہے کہ ایک مرتبہ صبح کے وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے، میں اس وقت تسبیحات پڑھ رہی تھی، کچھ دیر بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کسی کام سے چلے گئے، پھر نصف النہار کے وقت واپس آئے تو فرمایا : ”کیا تم اس وقت سے یہاں بیٹھی ہو ؟“ میں نے عرض کیا : جی ہاں ! نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیا میں تمہیں ایسے کلمات نہ سکھا دوں جن کا وزن اگر تمہاری لمبی تسبیحات سے کیا جائے تو ان کا پلڑا جھک جائے گا اور وہ یہ ہیں «سُبْحَانَ اللَّهِ عَدَدَ خَلْقِهِ» تین مرتبہ، «سُبْحَانَ اللَّهِ زِنَةَ عَرْشِهِ» تین مرتبہ، «سُبْحَانَ اللَّهِ رِضَا نَفْسِهِ» تین مرتبہ، «سُبْحَانَ اللَّهِ مِدَادَ كَلِمَاتِهِ» تین مرتبہ۔ حضرت جویریہ کا نام پہلے برہ تھا، جسے بعد میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خود بدل کر جویریہ کر دیا۔
حدیث نمبر: 27422
حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ , وَحَجَّاجٌ , قَالَا : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ , عَنْ قَتَادَةَ , عَنْ أَبِي أَيُّوبَ , عَنْ جُوَيْرِيَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ , قَالَتْ : إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيْهَا فِي يَوْمِ جُمُعَةٍ وَهِيَ صَائِمَةٌ , فَقَالَ لَهَا : " أَصُمْتِ أَمْسِ ؟ " , قَالَتْ : لَا , قَالَ : " أَفَتُرِيدِينَ أَنْ تَصُومِي غَدًا ؟ " , قَالَتْ : لَا ، قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَأَفْطِرِي إِذًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت جویریہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ جمعہ کے دن ”جبکہ وہ روزے سے تھیں“ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا : ”کیا تم نے کل روزہ رکھا تھا ؟“ انہوں نے عرض کیا : نہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ آئندہ کل کا روزہ رکھو گی ؟ انہوں نے عرض کیا : نہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”پھر تم اپنا روزہ ختم کر دو۔“
حدیث نمبر: 27423
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ يَعْنِي ابْنَ عَامِرٍ , حَدَّثَنَا شَرِيكٌ , عَنْ جَابِرٍ , عَنْ خَالَتِهِ أُمِّ عُثْمَانَ , عَنِ الطُّفَيْلِ ابْنِ أَخِي جُوَيْرِيَةَ , عَنْ جُوَيْرِيَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ لَبِسَ ثَوْبَ حَرِيرٍ فِي الدُّنْيَا , أَلْبَسَهُ اللَّهُ تَعَالَى ثَوْبَ مَذَلَّةٍ , أَوْ ثَوْبًا مِنْ نَارٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت جویریہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”جو شخص ریشمی لباس پہنتا ہے، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسے آگ کا لباس پہنائے گا۔“
حدیث نمبر: 27424
حَدَّثَنَا هاشم , حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ , حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ , قَالَ : إِنَّ عُبَيْدَ بْنَ السَّبَّاقِ يَزْعُمُ , أَنَّ جُوَيْرِيَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهُ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيْهَا , فَقَالَ : " هَلْ مِنْ طَعَامٍ ؟ " , قَالَتْ : لَا وَاللَّهِ , مَا عِنْدَنَا طَعَامٌ إِلَّا عَظْمًا مِنْ شَاةٍ أُعْطِيَتْهَا مَوْلَاتِي مِنَ الصَّدَقَةِ , فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " قَرِّبِيهِ , فَقَدْ بَلَغَتْ مَحِلَّهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے یہاں تشریف لائے تو پوچھا : ”کیا تمہارے پاس کچھ ہے ؟“ میں نے عرض کیا : نہیں، البتہ نسیبہ نے ہمارے یہاں اسی بکری کا کچھ حصہ بھیجا ہے جو آپ نے ان کے یہاں بھیجی تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”وہ اپنے ٹھکانے پر پہنچ چکی، اب اسے لے آؤ۔“
حدیث نمبر: 27425
حَدَّثَنَا عَفَّانُ , حَدَّثَنَا هَمَّامٌ , حَدَّثَنَا قَتَادَةُ , حَدَّثَنِي أَبُو أَيُّوبَ الْعَتَكِيُّ , عَنْ جُوَيْرِيَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ , قَالَتْ : إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , دَخَلَ عَلَيْهَا يَوْمَ جُمُعَةٍ وَهِيَ صَائِمَةٌ , فَقَالَ لَهَا : " أَصُمْتِ أَمْس ؟ " , قَالَتْ : لَا , قَالَ : " أَتُرِيدِينَ أَنْ تَصُومِي غَدًا ؟ " , قَالَتْ : لَا , قَالَ : " فَأَفْطِرِي " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت جویریہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ جمعہ کے دن ”جبکہ وہ روزے سے تھیں“ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا : ”کیا تم نے کل روزہ رکھا تھا ؟“ انہوں نے عرض کیا : نہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ آئندہ کل کا روزہ رکھو گی ؟ انہوں نے عرض کیا : نہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”پھر تم اپنا روزہ ختم کر دو۔“