حدیث نمبر: 27417
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ الْعَمِّيُّ أَبُو عَبْدِ الصَّمَدِ , حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ , عَنْ مُجَاهِدٍ , عَنْ مَوْلًى لِابْنِ الزُّبَيْرِ , يُقَالُ لَهُ : يُوسُفُ بْنُ الزُّبَيْرِ أَوْ الزُّبَيْرُ بْنُ يُوسُفَ , عَنِ ابْنِ الزُّبَيْرِ , عَنْ سَوْدَةَ بِنْتِ زَمْعَةَ , قَالَتْ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ : إِنَّ أَبِي شَيْخٌ كَبِيرٌ لَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يَحُجَّ , قَالَ : " أَرَأَيْتَكَ لَوْ كَانَ عَلَى أَبِيكَ دَيْنٌ , فَقَضَيْتَهُ عَنْهُ , قُبِلَ مِنْكَ ؟ " , قَالَ : نَعَمْ , قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَاللَّهُ أَرْحَمُ , حُجَّ عَنْ أَبِيكَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک آدمی بارگاہ نبوت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ میرے والد صاحب بوڑھے ہو چکے ہیں، وہ حج نہیں کر سکتے (ان کے لئے کیا حکم ہے ؟ ) نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”یہ بتاؤ اگر تمہارے والد پر قرض ہوتا اور تم اسے ادا کرتے تو کیا وہ قبول نہ ہوتا ؟“ اس نے عرض کیا : ضرور ہوتا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”پھر اللہ بڑا مہربان ہے، تم اپنے والد کی طرف سے حج کر لو۔“
حدیث نمبر: 27418
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ , عَنْ إِسْمَاعِيلَ , عَنْ عِكْرِمَةَ , عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ , عَنْ سَوْدَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَتْ : " مَاتَتْ شَاةٌ لَنَا , فَدَبَغْنَا مَسْكَهَا , فَمَا زِلْنَا نَنْبِذُ بِهِ حَتَّى صَارَ شَنًّا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت سودہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ہماری ایک بکری مر گئی، ہم نے اس کی کھال کو دباغت دے دی اور ہم اس میں اس وقت تک نبیذ بناتے رہے جب تک کہ وہ پرانا ہو کر خشک نہ ہو گیا۔
حدیث نمبر: 27419
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ , حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ , عَنْ مَنْصُورٍ , عَنْ مُجَاهِدٍ , عَنْ مَوْلًى لِآلِ الزُّبَيْرِ , قَالَ : إِنَّ بِنْتَ زَمْعَةَ , قَالَتْ : أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقُلْتُ : إِنَّ أَبِي زَمْعَةَ مَاتَ , وَتَرَكَ أُمَّ وَلَدٍ لَهُ , وَإِنَّا كُنَّا نَظُنُّهَا بِرَجُلٍ , وَإِنَّهَا وَلَدَتْ , فَخَرَجَ وَلَدُهَا يُشْبِهُ الرَّجُلَ الَّذِي ظَنَنَّاهَا بِهِ , قَالَ : فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَهَا : " أَمَّا أَنْتِ فَاحْتَجِبِي مِنْهُ , فَلَيْسَ بِأَخِيكِ , وَلَهُ الْمِيرَاثُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا کہ میرا باپ زمعہ فوت ہو گیا ہے اور اس نے ایک ام ولدہ باندی چھوڑی ہے جسے ہم ایک آدمی کے ساتھ متہم سمجھتے ہیں، کیونکہ اس کے یہاں ایک بچہ پیدا ہوا ہے جو اسی شخص کے مشابہہ ہے جس کے ساتھ ہم اسے متہم سمجھتے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”تم اس لڑکے سے پردہ کرنا کیونکہ وہ تمہارا بھائی نہیں ہے، البتہ اسے میراث ملے گی۔“