حدیث نمبر: 27247
حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ مَعْمَرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْعَدَوِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَحْتَكِرُ إِلَّا خَاطِئٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت معمر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ذخیرہ اندوذی وہی شحص کرتا ہے جو گناہگار ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / من مسند القبائل / حدیث: 27247
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 1605، وهذا إسناد ضعيف لعنعنة أبن إسحاق، وهو مدلس، لكنه توبع
حدیث نمبر: 27248
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ , عَنْ مَعْمَرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نَضْلَةَ الْقُرَشِيِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ : " لَا يَحْتَكِرُ إِلَّا خَاطِئٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت معمر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ذخیرہ اندوذی وہی شحص کرتا ہے جو گناہگار ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / من مسند القبائل / حدیث: 27248
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 1605، وهذا إسناد ضعيف لعنعنة ابن إسحاق، وهو مدلس، لكنه توبع
حدیث نمبر: 27249
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ الْمِصْرِيُّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عُقْبَةَ مَوْلَى مَعْمَرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نَافِعِ بْنِ نَضْلَةَ الْعَدَوِيِّ ، عَنْ مَعْمَرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : كُنْتُ أَرْحَلُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ ، قَالَ : فَقَالَ لِي لَيْلَةً مِنَ اللَّيَالِي : " يَا مَعْمَرُ ، لَقَدْ وَجَدْتُ اللَّيْلَةَ فِي أَنْسَاعِي اضْطِرَابًا ؟ " , قَالَ : فَقُلْتُ : أَمَا وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ ، لَقَدْ شَدَدْتُهَا كَمَا كُنْتُ أَشُدُّهَا ، وَلَكِنَّهُ أَرْخَاهَا مَنْ قَدْ كَانَ نَفَسَ عَلَيَّ لِمَكَانِي مِنْكَ ، لِتَسْتَبْدِلَ بِي غَيْرِي ، قَالَ : فَقَالَ : " أَمَا إِنِّي غَيْرُ فَاعِلٍ " ، قَالَ : فَلَمَّا نَحَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَدْيَهُ بِمِنًى ، أَمَرَنِي أَنْ أَحْلِقَهُ ، قَالَ : فَأَخَذْتُ الْمُوسَى ، فَقُمْتُ عَلَى رَأْسِهِ ، قَالَ : فَنَظَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي وَجْهِي ، وَقَالَ لِي : " يَا مَعْمَرُ ، أَمْكَنَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ شَحْمَةِ أُذُنِهِ وَفِي يَدِكَ الْمُوسَى " , قَالَ : فَقُلْتُ : أَمَا وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ ذَلِكَ لَمِنْ نِعْمَةِ اللَّهِ عَلَيَّ وَمَنِّهِ ، قَالَ : فَقَالَ : " أَجَلْ إِذًا أُقِرُّ لَكَ " ، قَالَ : ثُمَّ حَلَقْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت معمر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حجۃ الوداع کے سفر میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری میں ہی تیار کرتا تھا، ایک رات نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کہ معمر ! آج رات میں نے اپنی سواری کی رسی ڈھیلی محسوس کی ہے، میں نے عرض کیا : اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کہ ساتھ بھیجا ہے ! میں نے تو اسی طرح رسی کسی تھی جیسے میں عام طور پر کستا تھا، البتہ ہو سکتا ہے کہ اس شخص نے اسے ڈھیلا کر دیا ہو جو میری جگہ آپ کے قریب تھا تاکہ آپ میری جگہ کسی اور کو لے آئیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”لیکن ایسا کرنے والا نہیں ہوں۔ “ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم میدانِ منٰی میں قربانی کے جانور ذ بح کر چکے تو مجھے حکم دیا کہ میں ان کا حلق کروں میں استرا پکڑ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سر مبارک کے قریب کھڑا ہو گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے میری طرف دیکھ کر فرمایا : ”معمر ! اللہ کے پیغمبر نے اپنے کان کی لو تمہارے ہاتھ میں دی ہے اور وہ تمہارے ہاتھ میں استرا ہے“، میں عرض کیا : واللہ ! یا رسول اللہ ! یہ اللہ کا مجھ پر احسان ہے اور مہربانی ہے ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”ٹھیک ہے، میں تمہیں اس پر برقرار رکھتا ہوں۔ “ پھر میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سر کے بال مونڈے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / من مسند القبائل / حدیث: 27249
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لجهالة حال عبدالرحمن بن عقبة
حدیث نمبر: 27250
حَدَّثَنَا حَسَنٌ , قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ , قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ , أَنَّ بُسْرَ بْنَ سَعِيدٍ حَدَّثَهُ , عَنْ مَعْمَرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ : أَنَّهُ أَرْسَلَ غُلَامًا لَهُ بِصَاعٍ مِنْ قَمْحٍ ، فَقَالَ لَهُ : بِعْهُ , ثُمَّ اشْتَرِ بِهِ شَعِيرًا ، فَذَهَبَ الْغُلَامُ فَأَخَذَ صَاعًا وَزِيَادَةَ بَعْضِ صَاعٍ ، فَلَمَّا جَاءَ مَعْمَرًا ، أَخْبَرَهُ بِذَلِكَ ، فَقَالَ لَهُ مَعْمَرٌ : أَفَعَلْتَ ؟ انْطَلِقْ فَرُدَّهُ ، وَلَا تَأْخُذْ إِلَّا مِثْلًا بِمِثْلٍ , فَإِنِّي كُنْتُ أَسْمَعُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ : " الطَّعَامُ بِالطَّعَامِ مِثْلًا بِمِثْلٍ " ، وَكَانَ طَعَامُنَا يَوْمَئِذٍ الشَّعِيرَ ، قِيلَ : فَإِنَّهُ لَيْسَ مِثْلَهُ ، قَالَ : إِنِّي أَخَافُ أَنْ يُضَارِعَ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت معمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ انہوں نے اپنے ایک غلام کو ایک صاع گیہوں دے کر کہا، اسے بیچ کر جو پیسے ملیں ان سے جَو خرید لاؤ، وہ غلام گیا اور ایک صاع اور اس سے کچھ زائد لے آیا اور حضرت معمر رضی اللہ عنہ کے پاس آ کر اس کی اطلاع دی، حضرت معمر رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا : کیا تم نے واقعی ایسا کیا ہے ؟ واپس لے جاؤ اور اسے لوٹا دو اور صرف برابر برابر لین دین کرو، کیونکہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا تھا کہ طعام کو طعام کے بدلے برابر برابر بیچا جائے اور اس زمانے میں ہمارا طعام جَو تھا، کسی نے کہا کہ یہ اس کا مثل نہیں ہے، انہوں نے فرمایا : مجھے اندیشہ ہے کہ یہ اس کے مشابہ ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / من مسند القبائل / حدیث: 27250
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 1592، وهذا إسناد ضعيف لضعف ابن لهيعة، وقد توبع
حدیث نمبر: 27251
حَدَّثَنَا هَارُونُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَمْرٌو ، أَنَّ أَبَا النَّضْرِ حَدَّثَهُ , أَنَّ بُسْرَ بْنَ سَعِيدٍ حَدَّثَهُ ، عَنْ مَعْمَرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ.
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / من مسند القبائل / حدیث: 27251
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1592