حدیث نمبر: 27224
حَدَّثَنَا يُونُسُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ أَبِي وَهْبٍ الْخَوْلَانِيِّ ، عَنْ رَجُلٍ قَدْ سَمَّاهُ ، عَنْ أَبِي بَصْرَةَ الْغِفَارِيِّ صَاحِبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " سَأَلْتُ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ أَرْبَعًا ، فَأَعْطَانِي ثَلَاثًا ، وَمَنَعَنِي وَاحِدَةً ، سَأَلْتُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ لَا يَجْمَعَ أُمَّتِي عَلَى ضَلَالَةٍ ، فَأَعْطَانِيهَا , وَسَأَلْتُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ لا يُظْهِرَ عليهم عدوًّا من غيرهم ، فأعطانيها ، وسألتُ الله عزَّ وجلَّ أَنْ لا يظهر عليهم عدوًا من غيرهم , فأعطانيها , وسألت الله عز وجل أن لَا يُهْلِكَهُمْ بِالسِّنِينَ ، كَمَا أَهْلَكَ الْأُمَمَ قَبْلَهُمْ ، فَأَعْطَانِيهَا ، وَسَأَلْتُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ لَا يَلْبِسَهُمْ شِيَعًا ، وَيُذِيقَ بَعْضَهُمْ بَأْسَ بَعْضٍ ، فَمَنَعَنِيهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوبصرہ غفاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں نے اپنے رب سے اپنی امت کے لئے چار دعائیں کیں جن میں سے تین اس نے مجھے عطا فرما دیں اور ایک روک لی، میں نے اس سے یہ درخواست کی کہ وہ اسے عام قحط سالی سے ہلاک نہ کرے اور انہیں مختلف فرقوں میں تقسیم کر کے ایک دوسرے کا مزہ چکھائے، تو اللہ تعالیٰ نے مجھے اس سے روک دیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / من مسند القبائل / حدیث: 27224
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لابهام الراوي عن أبى بصرة. أبو بصرة وهو وهم، صوابه: أبو هانئ
حدیث نمبر: 27225
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ حَبِيبٍ ، عَنْ خَيْرِ بْنِ نُعَيْمٍ الْحَضْرَمِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ هُبَيْرَةَ السَّبَائِيِّ وَكَانَ ثِقَةً ، عَنْ أَبِي تَمِيمٍ ، عَنْ أَبِي بَصْرَةَ الْغِفَارِيِّ ، قَالَ : صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْعَصْرِ ، فَلَمَّا انْصَرَفَ ، قَالَ : " إِنَّ هَذِهِ الصَّلَاةَ عُرِضَتْ عَلَى مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ ، فَتَوَانَوْا فِيهَا ، وَتَرَكُوهَا ، فَمَنْ صَلَّاهَا مِنْكُمْ ، ضُعِّفَ لَهُ أَجْرُهَا ضِعْفَيْنِ ، وَلَا صَلَاةَ بَعْدَهَا حَتَّى يُرَى الشَّاهِدُ " , وَالشَّاهِدُ : النَّجْمُ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوبصرہ غفاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز عصر پڑھائی اور نماز سے فراغت کے بعد فرمایا : ”یہ نماز تم سے پہلے لوگوں پر بھی پیش کی گئی تھی، لیکن انہوں نے اس میں سستی کی اور اسے چھوڑ دیا، سو تم میں سے جو شحص یہ نماز پڑھتا ہے، اسے دہرا اجر ملے گا اور اس کے بعد کوئی نماز نہیں ہے یہاں تک کے ستارے دکھائی دینے لگیں۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / من مسند القبائل / حدیث: 27225
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 830، وإسناده حسن
حدیث نمبر: 27226
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ هُبَيْرَةَ ، عَنْ أَبِي تَمِيمٍ الْجَيْشَانِيِّ ، عَنْ أَبِي بَصْرَةَ الْغِفَارِيِّ ، قَالَ : أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا هَاجَرْتُ ، وَذَلِكَ قَبْلَ أَنْ أُسْلِمَ ، فَحَلَبَ لِي شُوَيْهَةً كَانَ يَحْتَلِبُهَا لِأَهْلِهِ فَشَرِبْتُهَا ، فَلَمَّا أَصْبَحْتُ ، أَسْلَمْتُ ، وَقَالَ عِيَالُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : نَبِيتُ اللَّيْلَةَ كَمَا بِتْنَا الْبَارِحَةَ جِيَاعًا ، فَحَلَبَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَاةً ، فَشَرِبْتُهَا وَرَوِيتُ ، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَرَوِيتَ " , فقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَدْ رَوِيتُ ، مَا شَبِعْتُ وَلَا رَوِيتُ قَبْلَ الْيَوْمِ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ الْكَافِرَ يَأْكُلُ فِي سَبْعَةِ أَمْعَاءٍ ، وَالْمُؤْمِنُ يَأْكُلُ فِي مِعًى وَاحِدٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوبصرہ غفاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں قبول اسلام سے پہلے ہجرت کر کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بکری کا دودھ مجھے دوہ کر دیا، جسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اہل خانہ کے لئے دوہتے تھے۔ میں نے اسے پی لیا اور صبح ہوتے ہی اسلام قبول کر لیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل خانہ آپس میں باتیں کرنے لگے کہ ہمیں کل کی طرح آج بھی بھوکا رہ کر گزارہ کرنا پڑے گا، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے آج بھی مجھے دودھ عطاء فرمایا میں نے اسے پیا اور سیراب ہو گیا ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے پوچھا : ”کیا تم سیراب ہو گے ؟“ میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! آج میں اس طرح سیراب ہوا ہوں کہ اس سے پہلے کبھی اس طرح سیراب ہوا اور نہ پیٹ بھرا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”کافر سات آنتوں میں کھاتا ہے اور مومن ایک آنت میں کھاتا ہے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / من مسند القبائل / حدیث: 27226
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 27227
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ هُبَيْرَةَ ، عَنْ أَبِي تَمِيمٍ ، عَنْ أَبِي بَصْرَةَ الْغِفَارِيِّ ، قَالَ : صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي وَادٍ مِنْ أَوْدِيَتِهِمْ يُقَالُ لَهُ : الْمُخَمَّصُ , صَلَاةَ الْعَصْرِ ، فَقَالَ : " إِنَّ هَذِهِ الصَّلَاةَ صَلَاةَ الْعَصْرِ , عُرِضَتْ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ ، فَضَيَّعُوهَا ، أَلَا وَمَنْ صَلَّاهَا , ضُعِّفَ لَهُ أَجْرُهُ مَرَّتَيْنِ ، أَلَا وَلَا صَلَاةَ بَعْدَهَا حَتَّى تَرَوْا الشَّاهِدَ " ، قُلْتُ لِابْنِ لَهِيعَةَ : مَا الشَّاهِدُ ؟ قَالَ : الْكَوْكَبُ ، الْأَعْرَابُ يُسَمُّونَ الْكَوْكَبَ شَاهِدَ اللَّيْلِ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوبصرہ غفاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز عصر پڑھائی اور نماز سے فراغت کے بعد فرمایا یہ نماز تم سے پہلے لوگوں پر بھی پیش کی گئی تھی لیکن انہوں نے اس میں سستی کی اور اسے چھوڑ دیا، سو تم میں سے جو شحص یہ نماز پڑھتا ہے اسے دہرا اجر ملے گا اور اس کے بعد کوئی نماز نہیں ہے یہاں تک کے ستارے دکھائی دینے لگیں ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / من مسند القبائل / حدیث: 27227
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 830، وهذا إسناد ضعيف لضعف ابن لهيعة، وقد توبع
حدیث نمبر: 27228
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ خَيْرِ بْنِ نُعَيْمٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي تَمِيمٍ الْجَيْشَانِيِّ ، عَنْ أَبِي بَصْرَةَ الْغِفَارِيِّ , قَالَ : صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَكَرَهُ.
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / من مسند القبائل / حدیث: 27228
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 830
حدیث نمبر: 27229
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هُبَيْرَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا تَمِيمٍ الْجَيْشَانِيَّ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ ، يَقُولُ : أَخْبَرَنِي رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ زَادَكُمْ صَلَاةً ، فَصَلُّوهَا فِيمَا بَيْنَ صَلَاةِ الْعِشَاءِ إِلَى صَلَاةِ الصُّبْحِ ، الْوَتْرُ الْوَتْرُ " ، أَلَا وَإِنَّهُ أَبُو بَصْرَةَ الْغِفَارِيُّ ، قَالَ أَبُو تَمِيمٍ : فَكُنْتُ أَنَا وَأَبُو ذَرٍّ قَاعِدَيْنِ ، قَالَ : فَأَخَذَ بِيَدِي أَبُو ذَرٍّ ، فَانْطَلَقْنَا إِلَى أَبِي بَصْرَةَ ، فَوَجَدْنَاهُ عِنْدَ الْبَابِ الَّذِي يَلِي دَارَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، فَقَالَ أَبُو ذَرٍّ : يَا أَبَا بَصْرَةَ ، آنْتَ سَمِعْتَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ : إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ زَادَكُمْ صَلَاةً ، صَلُّوهَا فِيمَا بَيْنَ صَلَاةِ الْعِشَاءِ إِلَى صَلَاةِ الصُّبْحِ ، الْوَتْرُ الْوَتْرُ ؟ " , قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : أَنْتَ سَمِعْتَهُ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : أَنْتَ سَمِعْتَهُ ؟ قَالَ : نَعَمْ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت خارجہ بن حذافہ عدوی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کے ایک مرتبہ صبح کے وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا کہ اللہ نے تمہارے لئے ایک نماز کا اضافہ فرمایا ہے، جو تمہارے لئے سرخ اونٹوں سے بھی بہتر ہے، ہم نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! وہ کون سی نماز ہے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : نماز وتر، جو نماز عشاء اور طلوع آفتاب کے درمیان کسی بھی وقت پڑھی جا سکتی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / من مسند القبائل / حدیث: 27229
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 27230
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ مَرْثَدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْيَزَنِيِّ ، عَنْ أَبِي بَصْرَةَ الْغِفَارِيِّ ، قَالَ : لَقِيتُ أَبَا هُرَيْرَةَ وَهُوَ يَسِيرُ إِلَى مَسْجِدِ الطُّورِ لِيُصَلِّيَ فِيهِ ، قَالَ : فَقُلْتُ لَهُ : لَوْ أَدْرَكْتُكَ قَبْلَ أَنْ تَرْتَحِلَ ، مَا ارْتَحَلْتَ ، قَالَ : فقال : ولم ؟ قَالَ : قَالَ : فَقُلْتُ : إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ : " لَا تُشَدُّ الرِّحَالُ إِلَّا إِلَى ثَلَاثَةِ مَسَاجِدَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ ، وَالْمَسْجِدِ الْأَقْصَى ، وَمَسْجِدِي " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوبصرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میری ملاقات حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ہوئی، وہ مسجد طور کی طرف نماز پڑھنے کے لئے جا رہے تھے، میں نے ان سے کہا اگر آپ کی روانگی سے پہلے آپ سے ملاقات ہو جاتی تو آپ کبھی وہاں کا سفر نہ کرتے کیونکہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ سواریوں کو تین مسجدوں کے علاوہ کسی اور مسجد کی زیارت کے لئے تیار نہیں کرنا چاہیے، مسجد حرام، میری مسجد، مسجد بیت المقدس۔
حوالہ حدیث مسند احمد / من مسند القبائل / حدیث: 27230
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 27231
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ , وَيُونُسُ , قَالَا : حَدَّثَنَا اللَّيْثُ قَالَ : حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ ، عَنْ مَنْصُورٍ الْكَلْبِيِّ ، عَنْ دِحْيَةَ بْنِ خَلِيفَةَ أَنَّهُ " خَرَجَ مِنْ قَرْيَتِهِ إِلَى قَرِيبٍ مِنْ قَرْيَةِ عُقْبَةَ فِي رَمَضَانَ ، ثُمَّ أَنَّهُ أَفْطَرَ وَأَفْطَرَ مَعَهُ نَاسٌ ، وَكَرِهَ آخَرُونَ أَنْ يُفْطِرُوا ، قَالَ فَلَمَّا رَجَعَ إِلَى قَرْيَتِهِ ، قَالَ : وَاللَّهِ لَقَدْ رَأَيْتُ الْيَوْمَ أَمْرًا مَا كُنْتُ أَظُنُّ أَنْ أَرَاهُ ، إِنَّ قَوْمًا رَغِبُوا عَنْ هَدْيِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابِهِ ، يَقُولُ ذَلِكَ لِلَّذِينَ صَامُوا ، ثُمَّ قَالَ عِنْدَ ذَلِكَ : اللَّهُمَّ اقْبِضْنِي إِلَيْكَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت دحیہ بن خلیفہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ وہ ماہ رمضان میں اپنی بستی سے نکل کر عقبہ سے قریبی بستی میں تشریف لئے گے، پھر انہوں نے اور ان کے ساتھ کچھ لوگوں نے روزہ ختم کر دیا جبکہ کچھ لوگوں نے (مسافر ہونے کے باوجود) روزہ ختم کرنا اچھا نہیں سمجھا، جب وہ اپنی بستی میں واپس آئے تو فرمایا : واللہ ! آج میں نے ایسا کام کرتے ہوئے دیکھا ہے جس کے متعلق میرا خیال نہیں تھا کہ میں اسے دیکھوں گا، کچھ لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے صحابہ کے طریقوں سے روگردانی کر رہے ہیں، یہ بات انہوں نے روزہ رکھنے والوں کے متعلق فرمائی تھی، پھر کہنے لگے، اے اللہ ! مجھے اپنے پاس بلا لے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / من مسند القبائل / حدیث: 27231
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة منصور الكلبي
حدیث نمبر: 27232
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سَعِيد يعنى بْنُ أَبِي أَيُّوبَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ أَنَّ كُلَيْبَ بْنَ ذُهْلٍ أَخْبَرَهُ ، عَنْ عُبَيْدٍ يَعْنِي ابْنَ جَبْرٍ ، قَالَ : " رَكِبْتُ مَعَ أَبِي بَصْرَةَ الْغِفَارِيِّ صَاحِبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفِينَةٍ مِنَ الْفُسْطَاطِ فِي رَمَضَانَ ، فدفع , ثُمَّ قَرَّبَ غَدَاءَهُ ، ثُمَّ قَالَ : اقْتَرِبْ ، فَقُلْتُ : أَلَسْنَا نَرَى الْبُيُوتَ ؟ فَقَالَ أَبُو بَصْرَةَ : أَرَغِبْتَ عَنْ سُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ ! " .
مولانا ظفر اقبال
عبید ابن جبر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ماہ رمضان میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی حضرت ابوغفاری رضی اللہ عنہ کے ہمراہ میں فسطاط سے ایک کشتی میں روانہ ہوا، کشتی چل پڑی تو انہیں ناشتہ پیش کیا گیا، انہوں نے مجھ سے قریب ہونے کے لئے فرمایا ، میں نے عرض کیا کہ ہمیں ابھی تک شہر کے مکانات نظر نہیں آ رہے ؟ انہوں نے فرمایا کیا تم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت سے اعراض کرنا چاہتے ہو؟
حوالہ حدیث مسند احمد / من مسند القبائل / حدیث: 27232
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة كليب بن ذهل
حدیث نمبر: 27233
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَتَّابٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ كُلَيْبِ بْنِ ذُهْلٍ ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ جَبْرٍ ، قَالَ : " رَكِبْتُ مَعَ أَبِي بَصْرَةَ مِنَ الْفُسْطَاطِ إِلَى الْإِسْكَنْدَرِيَّةِ فِي سَفِينَةٍ ، فَلَمَّا دَفَعْنَا مِنْ مَرْسَانَا ، أَمَرَ بِسُفْرَتِهِ ، فَقُرِّبَتْ ، ثُمَّ دَعَانِي إِلَى الْغَدَاءِ ، وَذَلِكَ فِي رَمَضَانَ ، فَقُلْتُ : يَا أَبَا بَصْرَةَ ، وَاللَّهِ مَا تَغَيَّبَتْ عَنَّا مَنَازِلُنَا بَعْدُ ؟ ! فَقَالَ : أَتَرْغَبُ عَنْ سُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ ! قُلْتُ : لَا ، قَالَ : فَكُلْ ، فَلَمْ نَزَلْ مُفْطِرِينَ حَتَّى بَلَغْنَا مَاحُوزَنَا .
مولانا ظفر اقبال
عبید ابن جبر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ماہ رمضان میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی حضرت ابوغفاری رضی اللہ عنہ کے ہمراہ میں فسطاط سے ایک کشتی میں روانہ ہوا، کشتی چل پڑی تو انہیں ناشتہ پیش کیا گیا، انہوں نے مجھ سے قریب ہونے کے لئے فرمایا ، میں نے عرض کیا کہ ہمیں ابھی تک شہر کے مکانات نظر نہیں آ رہے ؟ انہوں نے فرمایا کیا تم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت سے اعراض کرنا چاہتے ہو ؟ میں نے عرض کیا : نہیں۔ فرمایا : پھر کھاؤ، چنانچہ ہم منزل تک پہنچنے تک کھاتے پیتے رہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / من مسند القبائل / حدیث: 27233
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة كليب بن ذهل
حدیث نمبر: 27234
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ غَيْلَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْمُفَضَّلُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ كُلَيْبِ بْنِ ذُهْلٍ الْحَضْرَمِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ جَبْرٍ ، قَالَ : رَكِبْتُ مَعَ أَبِي بَصْرَةَ السَّفِينَةَ ، وَهُوَ يُرِيدُ الْإِسْكَنْدَرِيَّةَ " ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ.
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / من مسند القبائل / حدیث: 27234
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة كليب بن ذهل، و عبيد بن جبر ، ولضعف عبدالله بن عياش
حدیث نمبر: 27235
حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ مَرْثَدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي بَصْرَةَ الْغِفَارِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَهُمْ يَوْمًا : " إِنِّي رَاكِبٌ إِلَى يَهُودَ ، فَمَنْ انْطَلَقَ مَعِي ، فَإِنْ سَلَّمُوا عَلَيْكُمْ ، فَقُولُوا : وَعَلَيْكُمْ " ، فَانْطَلَقْنَا , فَلَمَّا جِئْنَاهُمْ ، وَسَلَّمُوا عَلَيْنَا ، فَقُلْنَا وَعَلَيْكُمْ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو بصرہ غفاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”کل میں سوار ہو کر یہودیوں کے یہاں جاؤں گا، لہٰذا تم انہیں ابتداء سلام نہ کرنا اور جب وہ تمہیں سلام کریں تو تم صرف «وعليكم» کہنا“ ، چنانچہ جب ہم وہاں پہنچے اور انہوں نے ہمیں سلام کیا تو ہم نے صرف «وعليكم» کہا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / من مسند القبائل / حدیث: 27235
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وقد اختلف فى هذا الإسناد على عبدالحميد بن جعفر
حدیث نمبر: 27236
حَدَّثَنَا حَسَنٌ , حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا بَصْرَةَ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إنَّا غَادُونَ إِلَى يَهُودَ ، فَلَا تَبْدَءُوهُمْ بِالسَّلَامِ ، فَإِذَا سَلَّمُوا عَلَيْكُمْ ، فَقُولُوا : وَعَلَيْكُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو بصرہ غفاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :” کل میں سوار ہو کر یہودیوں کے یہاں جاؤں گا، لہٰذا تم انہیں ابتداء سلام نہ کرنا اور جب وہ تمہیں سلام کریں تو تم صرف «وعليكم» کہنا۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / من مسند القبائل / حدیث: 27236
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف ابن لهيعة، وقد توبع
حدیث نمبر: 27237
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ أَبِي بَصْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّا غَادُونَ عَلَى يَهُودَ ، فَلَا تَبْدَءُوهُمْ بِالسَّلَامِ ، فَإِذَا سَلَّمُوا عَلَيْكُمْ ، فَقُولُوا : وَعَلَيْكُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو بصرہ غفاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”کل میں سوار ہو کر یہودیوں کے یہاں جاؤں گا، لہٰذا تم انہیں ابتداء سلام نہ کرنا اور جب وہ تمہیں سلام کریں تو تم صرف «وعليكم» کہنا۔ “
حوالہ حدیث مسند احمد / من مسند القبائل / حدیث: 27237
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد وهم فيه وكيع، فلم يذكر مرثدا بين يزيد و بين أبى بصرة