حدیث نمبر: 27093
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْمَسْعُودِي ، قاَلَ : حَدَّثَنِي مَعْبَدُ بْنُ خَالِد ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ قُتَيْلَةَ بِنْتِ صَيْفِيٍّ الْجُهَيْنِيَّةِ ، قَالَتْ : أَتَى حَبْرٌ مِنَ الْأَحْبَار إلي رَسُول اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم ، فَقَال : يَا مُحَمَّدُ ، نِعْمَ الْقَوْمُ أَنْتُمْ ، لَوْلَا أَنَّكُمْ تُشْرِكُون ، قَالَ : " سُبْحَانَ اللَّهِ ، وَمَا ذَاكَ ؟ " , قَالَ : تَقُولُونَ إِذَا حَلَفْتُمْ : وَالْكَعْبَةِ ، قَالَت : فَأَمْهَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم شَيْئًا ، ثُمَّ قَالَ : إِنَّهُ قَدْ قَالَ : " فَمَنْ حَلَفَ فَلْيَحْلِفْ بِرَبِّ الْكَعْبَةِ " , ثم قَالَ : يَا مُحَمَّدُ , نِعْمَ الْقَوْمُ أَنْتُمْ ، لَوْلَا أَنَّكُمْ تَجْعَلُونَ لِلَّهِ نِدًّا ، قَال : " سُبْحَانَ اللَّه ، وَمَا ذَاكَ ؟ " , قَالَ : تَقُولُونَ : مَا شَاءَ اللَّهُ وَشِئْتَ ، قَالَ : فَأَمْهَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا ، ثُمَّ قَالَ : " إِنَّهُ قَدْ قَال ، فَمَنْ قَال : مَا شَاءَ اللَّهُ ، فَلْيَفْصِلْ بَيْنَهُمَا : ثُمَّ شِئْتَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت قتیلہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ اہل کتاب کا ایک بڑا عالم بارگاہ نبوت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا کہ اے محمد ! تم لوگ بہترین قوم ہوتے اگر تم شرک نہ کرتے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”سبحان اللہ ! وہ کیسے ؟“ اس نے کہا کہ آپ لوگ قسم کھاتے ہوئے کعبہ کی قسم کھاتے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ دیر سکوت کے بعد فرمایا : ”یہ صحیح کہہ رہا ہے، اس لئے آئندہ جو شخص قسم کھائے وہ رب کعبہ کی قسم کھائے“، پھر اس نے کہا کہ اے محمد ! اگر تم لوگ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتے، تو تم بہترین قوم ہوتے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”سبحان اللہ ! وہ کیسے ؟“ اس نے کہا کہ آپ لوگ کہتے ہیں، جو اللہ نے چاہا اور آپ نے چاہا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ دیر سکوت کے بعد فرمایا : ”یہ صحیح کہہ رہا ہے، اس لئے جو شخص یہ کہے اسے چاہیے کہ ان دونوں جملوں کے درمیان فصل پیدا کیا کرے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 27093
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح