حدیث نمبر: 27075
حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِم ، قَال : َحَدَّثَنَا ثَوْرٌ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْر ، عَنْ أُخْتِه ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَال : " لَا تَصُومُوا يَوْمَ السَّبْتِ إِلَّا مَا افْتُرِضَ عَلَيْكُمْ ، فَإِنْ لَمْ يَجِدْ أَحَدُكُمْ إِلَّا عُودَ عِنَب ، أَوْ لِحَى شَجَرَةٍ , فَلْيَمْضُغْهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت صماء بنت بسر رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”ہفتہ کے دن فرض روزوں کے علاوہ کوئی روزہ نہ رکھا کرو اور اگر تم میں سے کسی کو کھانے کے لئے کچھ بھی نہ ملے سوائے انگور کی ٹہنی کے یا درخت کی چھال کے تو اس ہی کو چبا لے۔“
حدیث نمبر: 27076
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاق ، قَال : أَخْبَرَنَا ابْنُ لَهِيعَة ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مُوسَى بْنُ وَرْدَانَ ، عَنْ عُبَيْدٍ الْأَعْرَجِ ، قَالَ : حَدَّثَتْنِي جَدَّتِي : أَنَّهَا دَخَلَتْ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَتَغَدَّى ، وَذَلِكَ يَوْمَ السَّبْتِ ، فَقَال : " تَعَالَيْ فَكُلِي " ، فَقَالَت : إِنِّي صَائِمَةٌ , فَقَالَ لَهَا : " صُمْتِ أَمْسِ ؟ " , فَقَالَتْ : لَا ، قَالَ : " فَكُلِي ، فَإِنَّ صِيَامَ يَوْمِ السَّبْت ؟ لَا لَكِ ، وَلَا عَلَيْك " .
مولانا ظفر اقبال
ایک خاتون صحابیہ رضی اللہ عنہا نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ہفتہ کے دن روزہ رکھنے کا حکم پوچھا، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”اس کا کوئی خاص ثواب ہے اور نہ ہی کوئی وبال۔“
حدیث نمبر: 27077
حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ ، قَال : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْوَلِيدِ الزُّبَيْدِيّ ، عَنْ لُقْمَانَ بْنِ عَامِر ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ ، عَنْ أُخْتِهِ الصَّمَّاءِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم ، قَال : " لَا يَصُومَنَّ أَحَدُكُمْ يَوْمَ السَّبْتِ إِلَّا فِي فَرِيضَة ، وَإِنْ لَمْ يَجِدْ إِلَّا لِحَى شَجَرَة ، فَلْيُفْطِرْ عَلَيْهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت صماء بنت بسر رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”ہفتہ کے دن فرض روزوں کے علاوہ کوئی روزہ نہ رکھا کرو اور اگر تم میں سے کسی کو کھانے کے لئے کچھ بھی نہ ملے سوائے انگور کی ٹہنی کے یا درخت کی چھال کے تو اس ہی کو چبا لے۔“