حدیث نمبر: 27051
حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ صَعْصَعَةَ ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ ، عَنْ أُمِّ الْمُنْذِرِ بِنْتِ قَيْسٍ الْأَنْصَارِيَّةِ ، قَالَتْ : دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ عَلِيٌّ ، وَعَلِيٌّ نَاقِهٌ مِنْ مَرَضٍ ، وَلَنَا دَوَالٍ مُعَلَّقَةٌ ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْكُلُ مِنْهَا ، وَقَامَ عَلِيٌّ يَأْكُلُ مِنْهَا ، فَطَفِقَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ لِعَلِيٍّ : " مَهْ ، إِنَّكَ نَاقِهٌ " , حَتَّى كَفَّ , قَالَتْ : وَصَنَعْتُ شَعِيرًا وَسِلْقًا ، فَجِئْتُ بِهِ , قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَلِيٍّ : " مِنْ هَذَا أَصِبْ ، فَهُوَ أَنْفَعُ لَكَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ام منذر رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے یہاں تشریف لائے ان کے ہمراہ حضرت علی رضی اللہ عنہ بھی تھے، جن پر بیماری کی وجہ سے نقاہت کے آثار باقی تھے، ہمارے یہاں کھجور کے خوشے لٹک رہے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان میں سے کھجوریں تناول فرمانے لگے، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے بھی کھجوریں کھانا چاہیں، لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : ”علی ! رک جاؤ ، تم پر نقاہت کے آثار ابھی واضح ہیں“، حضرت علی رضی اللہ عنہ رک گئے، پھر میں نے جَو کی روٹی اور چقندر کا سالن بنایا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا : ”یہ کھاؤ کہ یہ تمہارے لئے زیادہ نفع بخش ہے۔ “
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 27051
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف فليح، وقد تفرد بهذا الإسناد، وأختلف عليه فيه، وأيوب بن عبدالرحمن مجهول الحال، وقد تفرد به ، ولا يحسن تفرده
حدیث نمبر: 27052
حَدَّثَنَا يُونُسُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ ، عَنْ أُمِّ الْمُنْذِرِ الْعَدَوِيَّةِ ، قَالَتْ : دَخَلَ عَلَيَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ عَلِيٌّ ، وَعَلِيٌّ نَاقِهٌ ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : ثُمَّ جَعَلْتُ لَهُمْ سِلْقًا وَشَعِيرًا , قَالَ أَبِي : وَكَذَلِكَ قَالَ فَزَارَةُ بْنُ عَمْرٍو سِلْقًا.
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 27052
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف فليح، وقد تفرد بهذا الإسناد، واختلف عليه فيه، وأيوب بن عبدالرحمن مجهول الحال ، وقد تفرد به، ولا يحسن تفرده
حدیث نمبر: 27053
حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ صَعْصَعَةَ الْأَنْصَارِيِّ ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ ، عَنْ أُمِّ الْمُنْذِرِ بِنْتِ قَيْسٍ , قَالَتْ : دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ ، وَعَلِيٌّ نَاقِهٌ مِنْ مَرَضٍ ، قَالَتْ : وَلَنَا دَوَالٍ مُعَلَّقَةٌ ، فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلِيٌّ يَأْكُلَانِ مِنْهَا ، فَطَفِقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَقُولُ : " مَهْلًا ، فَإِنَّكَ نَاقِهٌ , " حَتَّى كَفَّ عَلِيٌّ , قَالَتْ : وَقَدْ صَنَعْتُ شَعِيرًا وَسِلْقًا ، فَلَمَّا جِئْنَا بِهِ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَلِيٍّ : " مِنْ هَذَا أَصِبْ ، فَهُوَ أَوْفَقُ لَكَ " , فَأَكَلَا ذَلِكَ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت ام منذر رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے یہاں تشریف لائے ان کے ہمراہ حضرت علی رضی اللہ عنہ بھی تھے جن پر بیماری کی وجہ سے نقاہت کے آثار باقی تھے، ہمارے یہاں کھجور کے خوشے لٹک رہے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان میں سے کھجوریں تناول فرمانے لگے، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے بھی کھجوریں کھانا چاہیں، لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : ”علی ! رک جاؤ، تم پر نقاہت کے آثار ابھی واضح ہیں“، حضرت علی رضی اللہ عنہ رک گئے، پھر میں نے جَو کی روٹی اور چقندر کا سالن بنایا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا : ”یہ کھاؤ کہ یہ تمہارے لئے زیادہ نفع بخش ہے، چنانچہ دونوں نے اسے تناول فرمایا۔ “
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 27053
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، راجع ما قبله