حدیث نمبر: 27038
حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ , قَالَ : حَدَّثَنَا زَبَّانُ ، عَنْ سَهْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ,أَنَّهُ سَمِعَ أُمَّ الدَّرْدَاءِ , تَقُولُ : خَرَجْتُ مِنَ الْحَمَّامِ فَلَقِيَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " مِنْ أَيْنَ يَا أُمَّ الدَّرْدَاءِ ؟ " , قَالَتْ : مِنَ الْحَمَّامِ ، فَقَالَ : " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، مَا مِنَ امْرَأَةٍ تَضَعُ ثِيَابَهَا فِي غَيْرِ بَيْتِ أَحَدٍ مِنْ أُمَّهَاتِهَا ، إِلَّا وَهِيَ هَاتِكَةٌ كُلَّ سِتْرٍ بَيْنَهَا وَبَيْنَ الرَّحْمَنِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ام درداء رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں حمام سے نکل رہی تھی کہ راستے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات ہو گئی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : اے ام درداء ! کہاں سے آ رہی ہو ؟ عرض کیا : حمام سے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ! جو عورت بھی اپنی ماں کے گھر کے علاوہ کہیں اور اپنے کپڑے اتارتی ہے وہ اپنے اور رحمان کے درمیان حائل تمام پردے چاک کر دیتی ہے۔
حدیث نمبر: 27039
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ غَيْلَانَ , قَالَ : حَدَّثَنَا رِشْدِينُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي زَبَّانُ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ مُعَاذٍ ، عَنْ أَبِيهِ ,أَنَّهُ سَمِعَ أُمَّ الدَّرْدَاءِ , تَقُولُ : خَرَجْتُ مِنَ الْحَمَّامِ ، فَلَقِيَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَكَرَهُ.
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حدیث نمبر: 27040
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَلْحَلَةَ الدُّؤَلِيِّ ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ ، تَرْفَعُ الْحَدِيثَ ، قَالَتْ : " مَنْ رَابَطَ فِي شَيْءٍ مِنْ سَوَاحِلِ الْمُسْلِمِينَ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ ، أَجْزَأَتْ عَنْهُ رِبَاطَ سَنَةٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ام درداء رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جو شخص تین دن تک مسلمانوں کی سرحدوں کی چوکیداری کرتا ہے وہ ایک سال کی چوکیداری کے برابر شمار ہوتا ہے۔
حدیث نمبر: 27041
حَدَّثَنَا هَارُونُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : وَقَالَ حَيْوَةُ , أَخْبَرَنِي أَبُو صَخْرٍ أَنَّ يُحَنَّسَ أَبَا مُوسَى حَدَّثَهُ ، أَنَّ أُمَّ الدَّرْدَاءِ حَدَّثَتْهُ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَقِيَهَا يَوْمًا ، فَقَالَ : " مِنْ أَيْنَ جِئْتِ يَا أُمَّ الدَّرْدَاءِ ؟ " , فَقَالَتْ : مِنَ الْحَمَّامِ ، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا مِنَ امْرَأَةٍ تَنْزِعُ ثِيَابَهَا ، إِلَّا هَتَكَتْ مَا بَيْنَهَا وَبَيْنَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ سِتْرٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ام درداء رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں حمام سے نکل رہی تھی کہ راستے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات ہو گئی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : اے ام درداء ! ”کہاں سے آ رہی ہو ؟“ عرض کیا : حمام سے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ! جو عورت بھی اپنی ماں کے گھر کے علاوہ کہیں اور اپنے کپڑے اتارتی ہے، وہ اپنے اور رحمان کے درمیان حائل تمام پردے چاک کر دیتی ہے۔