حدیث نمبر: 27005
حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ سَهْلَةَ امْرَأَةِ أَبِي حُذَيْفَةَ , أَنَّهَا قَالَتْ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ سَالِمًا مَوْلَى أَبِي حُذَيْفَةَ يَدْخُلُ عَلَيَّ ، وَهُوَ ذُو لِحْيَةٍ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَرْضِعِيهِ " , فَقَالَتْ : كَيْفَ أُرْضِعُهُ وَهُوَ ذُو لِحْيَةٍ ؟ ! فَأَرْضَعَتْهُ ، فَكَانَ يَدْخُلُ عَلَيْهَا.
مولانا ظفر اقبال
حضرت سہلہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نے ایک مرتبہ بارگاہ نبوت میں عرض کیا : یا رسول اللہ ! ابوحذیفہ کا غلام سالم میرے پاس آتا ہے اور وہ ڈاڑھی والا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اسے دودھ پلا دو، عرض کیا کہ میں اسے کیسے دودھ پلا سکتی ہوں جبکہ اس کے تو چہرے پر ڈاڑھی بھی ہے، بالآخر انہوں نے سالم کو دودھ پلا دیا، پھر وہ ان کے یہاں آتے جاتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 27005
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح على خطأ فى إسناده، أسقط حماد بن سلمة عائشة من الاسناد