حدیث نمبر: 26952
حَدَّثَنَا عَبِيدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ زِيَادٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ ، قَالَتْ : " حَجَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَمَرَنَا ، فَجَعَلْنَاهَا عُمْرَةً ، فَأَحْلَلْنَا كُلَّ الْإِحْلَالِ ، حَتَّى سَطَعَتْ الْمَجَامِرُ بَيْنَ النِّسَاءِ وَالرِّجَالِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت اسماء سے مروی ہے کہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کے ارادے سے نکلے تھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا تو ہم نے اسے عمرے کا احرام بنا لیا اور ہمارے لئے تمام چیزیں حسب سابق حلال ہوگئیں حتی کہ عورتوں اور مردوں کے درمیان انگیٹھیاں بھی دہکائی گئیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26952
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لضعف يزيد بن أبى زياد
حدیث نمبر: 26953
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ حَكِيمٍ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَدَّتِهِ فَمَا أَدْرِي أَسْمَاءَ بِنْتَ أَبِي بَكْرٍ أَوْ سُعْدَى بِنْتَ عَوْفٍ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَى ضُبَاعَةَ بْنتِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ، فَقَالَ : " مَا يَمْنَعُكَ مِنَ الْحَجِّ يَا عَمَّةُ ؟ " , قَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي امْرَأَةٌ سَقِيمَةٌ ، وَإِنِّي أَخَافُ الْحَبْسَ , قَالَ : " فَأَحْرِمِي ، وَاشْتَرِطِي أَنَّ مَحِلَّكِ حَيْثُ حُبِسْتِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک مرتبہ ضباعہ بنت زبیربن عبد المطلب کے پاس آئے، وہ بیمار تھیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا کیا تم اس سفر میں ہمارے ساتھ نہیں چلو گی ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارادہ حجۃ الوداع کا تھا انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ میں بیمار ہوں مجھے خطرہ ہے کہ میری بیماری آپ کو روک نہ دے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم حج کا احرام باندھ لو اور یہ نیت کرلو کہ اے اللہ ! جہاں تو مجھے روک دے گا، وہی جگہ میرے احرام کھل جانے کی ہوگی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26953
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة حال أبى بكر بن عبدالله
حدیث نمبر: 26954
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ : حُدِّثْتُ عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ , أَنَّهَا قَالَتْ : " فَزِعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ كَسَفَتْ الشَّمْسُ ، فَأَخَذَ دِرْعًا حَتَّى أَدْرَكَ بِرِدَائِهِ ، فَقَامَ بِالنَّاسِ قِيَامًا طَوِيلًا ، يَقُومُ ثُمَّ يَرْكَعُ ، قَالَتْ : فَجَعَلْتُ أَنْظُرُ إِلَى الْمَرْأَةِ الَّتِي هِيَ أَكْبَرُ مِنِّي قَائِمَةً ، وَإِلَى الْمَرْأَةِ الَّتِي هِيَ أَسْقَمُ مِنِّي قَائِمَةً ، فَقُلْتُ : إِنِّي أَحَقُّ أَنْ أَصْبِرَ عَلَى طُولِ الْقِيَامِ مِنْكِ " , وقَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ : حَدَّثَنِي مَنْصُورُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أُمِّهِ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَزِعَ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت اسماء سے مروی ہے کہ جس دن سورج گرہن ہوا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم بےچین ہوگئے اور اپنی قمیص لے کر اس پر چادر اوڑھی اور لوگوں کو لے کر طویل قیام کیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس دوران قیام اور رکوع کرتے رہے میں نے ایک عورت کو دیکھا جو مجھ سے زیادہ بڑی عمر کی تھی لیکن وہ کھڑی تھی، پھر میں نے ایک عورت کو دیکھا جو مجھ سے زیادہ بیمار تھی لیکن پھر بھی کھڑی تھی یہ دیکھ کر میں نے سوچا کہ تم سے زیادہ ثابت قدمی کے ساتھ کھڑے ہونے کی حقدار تو میں ہوں
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26954
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 906
حدیث نمبر: 26955
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ ، قَالَتْ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ " يَقْرَأُ ، وَهُوَ يُصَلِّي نَحْوَ الرُّكْنِ قَبْلَ أَنْ يَصْدَعَ بِمَا يُؤْمَرُ ، وَالْمُشْرِكُونَ يَسْتَمِعُونَ فَبِأَيِّ آلاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ سورة الرحمن آية 13 " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت اسماء سے مروی ہے کہ ایک دن میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حجر اسود کے سامنے نماز پڑھتے ہوئے دیکھا یہ اس وقت کی بات ہے جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اہل مشرکین کے سامنے دعوت پیش کرنے کا حکم نہیں ہوا تھا، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس نماز میں جبکہ مشرکین بھی سن رہے تھے، ، یہ آیت تلاوت کرتے ہوئے سنا فبای آلاء ربکما تکذبن۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26955
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، تفرد به يحيي بن إسحاق
حدیث نمبر: 26956
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدَّتِهِ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ ، قَالَتْ : لَمَّا وَقَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذِي طُوًى ، قَالَ أَبُو قُحَافَةَ لِابْنَةٍ لَهُ مِنْ أَصْغَرِ وَلَدِهِ أَيْ بُنَيَّةُ : اظْهَرِي بِي عَلَى أَبِي قَبِيسٍ , قَالَتْ : وَقَدْ كُفَّ بَصَرُهُ , قَالَتْ : فَأَشْرَفْتُ بِهِ عَلَيْهِ ، فَقَالَ : يَا بُنَيَّةُ ، مَاذَا تَرَيْنَ ؟ قَالَتْ : أَرَى سَوَادًا مُجْتَمِعًا ، قَالَ : تِلْكَ الْخَيْلُ ، قَالَتْ : وَأَرَى رَجُلًا يَسْعَى بَيْنَ ذَلِكَ السَّوَادِ مُقْبِلًا وَمُدْبِرًا ، قَالَ : يَا بُنَيَّةُ ، ذَلِكَ الْوَازِعُ يَعْنِي الَّذِي يَأْمُرُ الْخَيْلَ وَيَتَقَدَّمُ إِلَيْهَا ، ثُمَّ قَالَتْ : قَدْ وَاللَّهِ انْتَشَرَ السَّوَادُ ، فَقَالَ : قَدْ وَاللَّهِ إِذَا دَفَعَتْ الْخَيْلُ ، فَأَسْرِعِي بِي إِلَى بَيْتِي ، فَانْحَطَّتْ بِهِ ، وَتَلَقَّاهُ الْخَيْلُ قَبْلَ أَنْ يَصِلَ إِلَى بَيْتِهِ ، وَفِي عُنُقِ الْجَارِيَةِ طَوْقٌ لَهَا مِنْ وَرِقٍ ، فَتَلَقَّاها رَّجُلُ ، فَاقْتَلَعَهُ مِنْ عُنُقِهَا , قَالَتْ : فَلَمَّا دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ ، وَدَخَلَ الْمَسْجِدَ ، أَتَاهُ أَبُو بَكْرٍ بِأَبِيهِ ، يَعُودُهُ فَلَمَّا رَآهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " هَلَّا تَرَكْتَ الشَّيْخَ فِي بَيْتِهِ حَتَّى أَكُونَ أَنَا آتِيهِ فِيهِ " . قَالَ أَبُو بَكْرٍ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هُوَ أَحَقُّ أَنْ يَمْشِيَ إِلَيْكَ مِنْ أَنْ تَمْشِيَ أَنْتَ إِلَيْهِ ، قَالَ : فَأَجْلَسَهُ بَيْنَ يَدَيْهِ ، ثُمَّ مَسَحَ صَدْرَهُ ، ثُمَّ قَالَ لَهُ : " أَسْلِمْ " , فَأَسْلَمَ ، وَدَخَلَ بِهِ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَأْسُهُ كَأَنَّهُ ثَغَامَةٌ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " غَيِّرُوا هَذَا مِنْ شَعْرِهِ " , ثُمَّ قَامَ أَبُو بَكْرٍ ، فَأَخَذَ بِيَدِ أُخْتِهِ ، فَقَالَ : أَنْشُدُ بِاللَّهِ وَبِالْإِسْلَامِ طَوْقَ أُخْتِي ، فَلَمْ يُجِبْهُ أَحَدٌ ، فَقَالَ : يَا أُخَيَّةُ ، احْتَسِبِي طَوْقَكِ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت اسماء سے مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم مقم ذی طوی پر پہنچ کر رکے تو ابوقحافہ نے اپنے چھوٹے بیٹے کی لڑکی سے کہا بیٹی ! مجھے ابوقبیس پر لے کر چڑھو ! اس وقت تک ان کی بینائی زائل ہوچکی تھی، وہ انہیں اس پہاڑ پر لے کر چڑھ گئی تو ابوقحافہ نے پوچھا بیٹی ! تمہیں کیا نظر آرہا ہے ؟ اس نے کہا کہ ایک بہت بڑا لشکر جو اکٹھا ہو کر آیا ہوا ہے ابوقحافہ نے کہا کہ وہ گھڑ سوار لوگ ہیں ان کی پوتی کا کہنا ہے کہ میں نے اس لشکر کے آگے آگے ایک آدمی کو دوڑتے ہوئے دیکھا جو کبھی آگے آجاتا تھا اور کبھی پیچھے ابوقحافہ نے بتایا کہ وہ واضح ہوگیا یعنی وہ آدمی جو شہسواروں کو حکم دیتا اور ان سے آگے رہتا ہے، وہ کہتی ہے کہ پھر وہ لشکرپھیلنا شروع ہوگیا، اس پر ابوقحافہ نے کہا واللہ پھر تو گھڑ سوار لوگ روانہ ہوگئے ہیں، تم مجھے جلدی سے گھرلے چلو، وہ انہیں لے کرنیچے اترنے لگی لیکن قبل اس کے کہ وہ اپنے گھرتک پہنچتے لشکر وہاں تک پہنچ چکا تھا، اس بچی کی گردن میں چاندی کا ایک ہار تھا جو ایک آدمی نے اس کی گردن میں سے اتار لیا۔ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے اور مسجد میں تشریف لے گئے تو حضرت صدیق اکبر بارگاہ نبوت میں اپنے والد کو لے کر حاضر ہوئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دیکھ کر فرمایا آپ انہیں گھر میں ہی رہنے دیتے، میں خود ہی وہاں چلا جاتا، حضرت صدیق اکبر نے عرض کیا یا رسول اللہ ! یہ ان کا زیادہ حق بنتا ہے کہ یہ آپ کے پاس چل کر آئیں بہ نسبت اس کے کہ آپ ان کے پاس تشریف لے جائیں پھر انہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بٹھادیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے سینے پر ہاتھ پھیر کر انہیں قبول اسلام کی دعوت دی چنانچہ وہ مسلمان ہوگئے، جس وقت حضرت ابوبکر انہیں لے کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تھے تو ان کا سر ثغامہ نامی بوٹی کی طرح (سفید) ہوچکا تھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ان کے بالوں کو رنگ کردو پھر حضرت صدیق اکبر کھڑے ہوئے اور اپنی بہن کا ہاتھ پکڑ کر فرمایا میں اللہ اور اسلام کا واسطہ دے کر کہتاہوں کہ میری بہن کا ہار واپس لوٹا دو ، لیکن کسی نے اس کا جواب نہ دیا، تو حضرت صدیق اکبرنے فرمایا پیاری بہن اپنے ہار پر ثواب کی امید رکھو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26956
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 26957
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ ، عَنْ جَدَّتِهِ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ ، قَالَتْ : لَمَّا خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَخَرَجَ مَعَهُ أَبُو بَكْرٍ ، احْتَمَلَ أَبُو بَكْرٍ مَالَهُ كُلَّهُ مَعَهُ خَمْسَةَ آلَافِ دِرْهَمٍ ، أَوْ سِتَّةَ آلَافِ دِرْهَمٍ , قَالَتْ : وَانْطَلَقَ بِهَا مَعَهُ , قَالَتْ : فَدَخَلَ عَلَيْنَا جَدِّي أَبُو قُحَافَةَ وَقَدْ ذَهَبَ بَصَرُهُ ، فَقَالَ : وَاللَّهِ إِنِّي لَأَرَاهُ قَدْ فَجَعَكُمْ بِمَالِهِ مَعَ نَفْسِهِ ، قَالَتْ : قُلْتُ كَلَّا يَا أَبَتِ ، إِنَّهُ قَدْ تَرَكَ لَنَا خَيْرًا كَثِيرًا , قَالَتْ : فَأَخَذْتُ أَحْجَارًا ، فَتَرَكْتُهَا فَوَضَعْتُهَا فِي كُوَّةِ الْبَيْتِ ، كَانَ أَبِي يَضَعُ فِيهَا مَالَهُ ، ثُمَّ وَضَعْتُ عَلَيْهَا ثَوْبًا ، ثُمَّ أَخَذْتُ بِيَدِهِ ، فَقُلْتُ : يَا أَبَتِ ، ضَعْ يَدَكَ عَلَى هَذَا الْمَالِ , قَالَتْ : فَوَضَعَ يَدَهُ عَلَيْهِ ، فَقَالَ : لَا بَأْسَ ، إِنْ كَانَ قَدْ تَرَكَ لَكُمْ هَذَا ، فَقَدْ أَحْسَنَ ، وَفِي هَذَا لَكُمْ بَلَاغٌ , قَالَتْ : لَا , وَاللَّهِ مَا تَرَكَ لَنَا شَيْئًا ، وَلَكِنِّي قَدْ أَرَدْتُ أَنْ أُسْكِنَ الشَّيْخَ بِذَلِكَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت اسماء سے مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے ہمراہ حضرت صدیق اکبر بھی مکہ مکرمہ سے نکلے تو حضرت صدیق اکبر نے اپنا سارا مال جو پانچ چھ ہزار درہم بنتا تھا بھی ساتھ لے لیا اور روانہ ہوگئے تھوڑی دیر بعد ہمارے دادا ابوقحافہ آگئے، ان کی بینائی زائل ہوچکی تھی، وہ کہنے لگے میرا خیال ہے کہ وہ اپنے ساتھ ہی اپنا سارا مال بھی لے گیا ہے، میں نے کہا ابا جان ! نہیں وہ تو ہمارے لئے بہت سا مال چھوڑ گئے ہیں یہ کہہ کر میں نے کچھ پتھر لئے اور انہیں گھر کے ایک طاقچے میں جہاں میرے والد اپنا مال رکھتے تھے، رکھ دیا اور ان پر ایک کپڑا ڈھانپ لیا پھر ان کا ہاتھ پکڑ کر کہا ابا جان ! اس مال پر اپنا ہاتھ رکھ کر دیکھ لیجئے ! انہوں نے اس پر ہاتھ پھیر کر کہا کہ اگر وہ تمہارے لئے یہ چھوڑ گیا ہے تو کوئی حرج نہیں اور اس نے بہت اچھا کیا اور تم اس سے اپنی ضروریات کی تکمیل کرسکو گے، حالانکہ والد صاحب کچھ بھی چھوڑ کر نہیں گئے تھے، میں نے اس طریقے سے صرف بزرگوں کو اطمینان دلانا تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26957
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 26958
حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ , عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ , أَنَّهَا كَانَتْ إِذَا ثَرَدَتْ ، غَطَّتْهُ شَيْئًا حَتَّى يَذْهَبَ فَوْرُهُ ، ثُمَّ تَقُولُ : إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِنَّهُ أَعْظَمُ لِلْبَرَكَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت اسماء کے حوالے سے مروی ہے کہ جب وہ کھانا بناتی تھیں تو کچھ دیر کے لئے اسے ڈھانپ دیتی تھیں تاکہ اس کی حرارت کی شدت کم ہوجائے اور فرماتی تھیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اس سے کھانے میں خوب برکت ہوتی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26958
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف، رواية حسن عن ابن لهيعة بعد احتراق كتبه ، لكنه توبع، وقد توبع ابن لهيعة ايضاً
حدیث نمبر: 26959
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ عُقَيْلٍ ، حَدَّثَنَا عَتَّابٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ , أَنَّهَا كَانَتْ إِذَا ثَرَدَتْ ، غَطَّتْهُ ، فَذَكَرَ مِثْلَهُ.
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26959
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 26960
حَدَّثَنَا يُونُسُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ يَزِيدَ الْقَطَّانُ بَصْرِيٌّ ، عَنْ مَنْصُورِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أُمِّهِ ، عَنْ أَسْمَاءَ , أَنَّ امْرَأَةً جَاءَتْ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتْ : إِنِّي زَوَّجْتُ ابْنَتِي ، فَمَرِضَتْ ، فَتَمَرَّطَ رَأْسُهَا ، وَإِنَّ زَوْجَهَا قَدْ اخْتَلَفَ إِلَيَّ ، أَفَأَصِلُ رَأْسَهَا ؟ قَالَتْ : " فَسَبَّ الْوَاصِلَةَ وَالْمُسْتَوْصِلَةَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت اسماء سے مروی ہے کہ ایک عورت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور کہنے لگی کہ میری بیٹی کی نئی نئی شادی ہوئی ہے یہ بیمار ہوگئی ہے اور اس کے سرکے بال جھڑ رہے ہیں، کیا میں اس کے سر پر دوسرے بال لگوا سکتی ہوں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے بال لگانے والی اور لگوانے والی دونوں پر لعنت فرمائی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26960
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 5935، م: 2122، وهذا إسناد ضعيف لجهالة عمران بن يزيد، وقد توبع
حدیث نمبر: 26961
حَدَّثَنَا يُونُسُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ يَزِيدَ ، حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ ، عَنْ أُمِّهِ ، عَنِ أَسْمَاءَ ، قَالَتْ : خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُهِلِّينَ بِالْحَجِّ ، فَقَالَتْ : فَقَالَ لَنَا : " مَنْ كَانَ مَعَهُ هَدْيٌ ، فَلْيَقُمْ عَلَى إِحْرَامِهِ ، وَمَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ هَدْيٌ ، فَلْيَحْلِلْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت اسماء سے مروی ہے کہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ حج کا احرام باندھ کر روانہ ہوئے، بعد میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا جس شخص کے ساتھ ہدی کا جانور ہو اسے اپنا احرام باقی رکھنا چاہئے اور جس کے ساتھ ہدی کا جانور نہ ہو اسے احرام کھول لینا چاہئے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26961
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 1236، وهذا إسناد ضعيف لجهالة عمران بن يزيد، وقد توبع
حدیث نمبر: 26962
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ ، قَالَ : سَمِعْتُ عُبَادَةَ بْنَ الْمُهَاجِرِ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ ابْنَ الْعَبَّاسِ , يَقُولُ لِابْنِ الزُّبَيْرِ : أَلَا تَسْأَلُ أُمَّكَ ؟ قَالَ : فَدَخَلْنَا عَلَى أُمِّهِ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ ، فَقَالَتْ : خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , حَتَّى إِذَا كُنَّا بِذِي الْحُلَيْفَةِ ، قَالَ : " مَنْ أَرَادَ مِنْكُمْ أَنْ يُهِلَّ بِالْحَجِّ ، فَلْيُهِلَّ ، وَمَنْ أَرَادَ مِنْكُمْ أَنْ يُهِلَّ بِعُمْرَةٍ ، فَلْيُهِلَّ " , قَالَتْ أَسْمَاءُ : وَكُنْتُ أَنَا وَعَائِشَةُ وَالْمِقْدَادُ وَالزُّبَيْرُ مِمَّنْ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت اسماء سے مروی ہے کہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ حج کا احرام باندھ کر روانہ ہوئے، بعد میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا جس شخص کے ساتھ ہدی کا جانور ہوا سے اپنا احرام باقی رکھنا چاہئے اور جس کے ساتھ ہدی کا جانور نہ ہو اسے احرام کھول لینا چاہئے، حضرت اسماء کہتی ہیں کہ میں اور عائشہ مقداد اور زبیر عمرہ کا احرام باندھنے والوں میں سے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26962
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف بهذه السياقة من حديث أسماء لجهالة عبادة بن المهاجر، وابن لهيعة سيئ الحفظ، وقد خولف
حدیث نمبر: 26963
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا نَافِعٌ يَعْنِي ابْنَ عُمَرَ ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ ، قَالَتْ : صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْكُسُوفِ , قَالَتْ : فَأَطَالَ الْقِيَامَ ، ثُمَّ رَكَعَ ، فَأَطَالَ الرُّكُوعَ ، ثُمَّ قَامَ ، فَأَطَالَ الْقِيَامَ ، ثُمَّ رَكَعَ ، فَأَطَالَ الرُّكُوعَ ، ثُمَّ رَفَعَ ، فَأَطَالَ الْقِيَامَ ، ثُمَّ سَجَدَ ، فَأَطَالَ السُّجُودَ ، ثُمَّ رَفَعَ ، ثُمَّ سَجَدَ ، فَأَطَالَ السُّجُودَ ، ثُمَّ قَامَ ، فَأَطَالَ الْقِيَامَ ، ثُمَّ رَكَعَ ، فَأَطَالَ الرُّكُوعَ ، ثُمَّ رَفَعَ ، فَأَطَالَ الْقَيَّامَ ، ثُمَّ رَكَعَ ، فَأَطَالَ الرُّكُوعَ ، ثُمَّ رَفَعَ ، ثُمَّ سَجَدَ ، فَأَطَالَ السُّجُودَ ، ثُمَّ رَفَعَ ، ثُمَّ سَجَدَ ، فَأَطَالَ السُّجُودَ ، ثُمَّ انْصَرَفَ ، فَقَالَ : " دَنَتْ مِنِّي الْجَنَّةُ حَتَّى لَوْ اجْتَرَأْتُ ، لَجِئْتُكُمْ بِقِطَافٍ مِنْ قِطَافِهَا ، وَدَنَتْ مِنِّي النَّارُ حَتَّى قُلْتُ : يَا رَبُّ ، وَأَنَا مَعَهُمْ ؟ وَإِذَا امْرَأَةٌ قَالَ نَافِعٌ : حَسِبْتُ أَنَّهُ قَالَ تَخْدِشُهَا هِرَّةٌ , قُلْتُ : مَا شَأْنُ هَذِهِ ؟ قِيلَ لِي : حَبَسَتْهَا حَتَّى مَاتَتْ ، لَا هِيَ أَطْعَمَتْهَا وَلَا هِيَ أَرْسَلَتْهَا تَأْكُلُ مِنْ خِشَاشِ الْأَرْضِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت اسماء سے مروی ہے کہ سوج گرہن کے موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جو نماز پڑھائی اس میں طویل قیام فرمایا : پھر رکوع کیا اور وہ بھی طویل کیا، پھر سر اٹھا کر طویل قیام فرمایا : پھر دوسری مرتبہ طویل رکوع کیا، پھر سر اٹھایا اور سجدے میں چلے گئے اور طویل سجدہ کیا، پھر کھڑے ہو کر طویل قیام فرمایا پھر دو مرتبہ طویل رکوع کیا، پھر سر اٹھالیا اور سجدے میں چلے گئے اور طویل سجدہ کیا پھر سر اٹھا کر دوسرا طویل سجدہ کیا پھر نماز سے فارغ ہو کر فرمایا کہ دوران نماز جنت میرے اتنے قریب کردی گئی تھی کہ اگر میں ہاتھ بڑھاتا تو اس کا کوئی خوشہ توڑ لاتا، پھر جہنم کو اتنا قریب کردیا گیا کہ میں کہنے لگا پروردگار ! کیا میں بھی ان میں ہوں ؟ میں نے اس میں ایک عورت کو دیکھا جسے ایک بلی نوچ رہی تھی، میں نے پوچھا کہ اس کا کیا ماجرا ہے ؟ تو مجھے بتایا گیا کہ اس عورت نے اس بلی کو باندھ دیا تھا اور اسی حال میں یہ بلی مرگئی تھی، اس نے اسے خود ہی کچھ کھلایا اور نہ ہی اسے چھوڑا کہ خود ہی زمین کے کیڑے مکوڑے کھا لیتی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26963
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 26964
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , عَنْ نَافِعِ بْنِ عُمَرَ الْجُمَحِيِّ ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ أَسْمَاءَ ، قَالَتْ : انْكَسَفَتْ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَامَ فَصَلَّى ، فَأَطَالَ الْقِيَامَ ، ثُمَّ رَكَعَ ، فَأَطَالَ الرُّكُوعَ ، ثُمَّ رَفَعَ ، فَأَطَالَ الْقِيَامَ ، ثُمَّ رَكَعَ ، فَأَطَالَ الرُّكُوعَ ، ثُمَّ رَفَعَ ، فَأَطَالَ الْقِيَامَ ، ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ ، ثُمَّ فَعَلَ فِي الثَّانِيَةِ مِثْلَ ذَلِكَ ، ثُمَّ قَالَ : " لَقَدْ أُدْنِيَتْ مِنِّي الْجَنَّةُ حَتَّى لَوْ اجْتَرَأْتُ عَلَيْهَا ، لَأَتَيْتُكُمْ بِقِطْفٍ مِنْ أَقْطَافِهَا ، وَلَقَدْ أُدْنِيَتْ مِنِّي النَّارُ حَتَّى قُلْتُ : يَا رَبُّ ، وَأَنَا مَعَهُمْ ؟ فَرَأَيْتُ فِيهَا هِرَّةً قَالَ : حَسِبْتُ أَنَّهَا تَخْدِشُ امْرَأَةً حَبَسَتْهَا ، فَلَمْ تُطْعِمْهَا ، وَلَمْ تَدَعْهَا تَأْكُلُ مِنْ خِشَاشِ الْأَرْضِ حَتَّى مَاتَتْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت اسماء سے مروی ہے کہ سوج گرہن کے موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جو نماز پڑھائی اس میں طویل قیام فرمایا : پھر رکوع کیا اور وہ بھی طویل کیا، پھر سر اٹھا کر طویل قیام فرمایا : پھر دوسری مرتبہ طویل رکوع کیا، پھر سر اٹھایا اور سجدے میں چلے گئے اور طویل سجدہ کیا، پھر کھڑے ہو کر طویل قیام فرمایا پھر دو مرتبہ طویل رکوع کیا، پھر سر اٹھالیا اور سجدے میں چلے گئے اور طویل سجدہ کیا پھر سر اٹھا کر دوسرا طویل سجدہ کیا پھر نماز سے فارغ ہو کر فرمایا کہ دوران نماز جنت میرے اتنے قریب کردی گئی تھی کہ اگر میں ہاتھ بڑھاتا تو اس کا کوئی خوشہ توڑ لاتا، پھر جہنم کو اتنا قریب کردیا گیا کہ میں کہنے لگا پروردگار ! کیا میں بھی ان میں ہوں ؟ میں نے اس میں ایک عورت کو دیکھا جسے ایک بلی نوچ رہی تھی، میں نے پوچھا کہ اس کا کیا ماجرا ہے ؟ تو مجھے بتایا گیا کہ اس عورت نے اس بلی کو باندھ دیا تھا اور اسی حال میں یہ بلی مرگئی تھی، اس نے اسے خود ہی کچھ کھلایا اور نہ ہی اسے چھوڑا کہ خود ہی زمین کے کیڑے مکوڑے کھا لیتی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26964
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 745، غير أن قولها: فأطال القيام، ثم سجد سجدتين لم يرد فى طرق حديث أسماء، وهذا من حديث جابر عند مسلم
حدیث نمبر: 26965
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ , وَرَوْحٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي مَنْصُورُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ وَهِيَ أُمُّهُ ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ ، قَالَتْ : خَرَجْنَا مُحْرِمِينَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ كَانَ مَعَهُ هَدْيٌ ، فَلْيُتِمَّ وَقَالَ رَوْحٌ : فَلْيَقُمْ عَلَى إِحْرَامِهِ , وَمَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ هَدْيٌ ، فَلْيَحْلِلْ " , قَالَتْ : فَلَمْ يَكُنْ مَعِي هَدْيٌ ، فَحَلَلْتُ ، وَكَانَ مَعَ الزُّبَيْرِ زَوْجِهَا هَدْيٌ فَلَمْ يَحِلَّ ، قَالَتْ : فَلَبِسْتُ ثِيَابِي وَحَلَلْتُ ، فَجِئْتُ إِلَى الزُّبَيْرِ ، فَقَالَ : قُومِي عَنِّي , قَالَتْ : فَقُلْتُ : أَتَخْشَى أَنْ أَثِبَ عَلَيْكَ ؟.
مولانا ظفر اقبال
حضرت اسماء سے مروی ہے کہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ حج کا احرام باندھ کر روانہ ہوئے، بعد میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا جس شخص کے ساتھ ہدی کا جانور ہوا سے اپنا احرام باقی رکھنا چاہئے اور جس کے ساتھ ہدی کا جانور نہ ہو اسے احرام کھول لینا چاہئے، میرے ساتھ چونکہ ہدی کا جانور نہیں تھا، لہذا میں حلال ہوگئی اور میرے شوہر حضرت زبیر کے پاس ہدی کا جانور تھا لہذا وہ حلال نہیں ہوئے، میں اپنے کپڑے پہن کر اور احرام کھول کر حضرت زبیر کے پاس آئی تو وہ کہنے لگے کہ میرے پاس سے اٹھ جاؤ میں نے کہا کیا آپ کو اندیشہ ہے کہ میں آپ پر کو دوں گی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26965
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1236
حدیث نمبر: 26966
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ وَرَوْحٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ مَوْلَى أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ ، أَنَّهَا قَالَتْ : أَيْ بُنَيَّ ، هَلْ غَابَ الْقَمَرُ ؟ لَيْلَةَ جَمْعٍ , قُلْتُ : لَا , ثُمَّ قَالَتْ : أَيْ بُنَيَّ ، هَلْ غَابَ الْقَمَرُ ؟ قُلْتُ : نَعَمْ , قَالَتْ : فَارْتَحِلُوا , فَارْتَحَلْنَا ، ثُمَّ مَضَيْنَا حَتَّى رَمَتْ الْجَمْرَةَ ، ثُمَّ رَجَعَتْ ، فَصَلَّتْ الصُّبْحَ فِي مَنْزِلِهَا ، فَقُلْتُ لَهَا : لَقَدْ غَلَّسْنَا قَالَ رَوْحٌ : أَيْ هَنْتَاهُ , قَالَتْ : كَلَّا يَا بُنَيَّ ، إِنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَذِنَ لِلظُّعُنِ " .
مولانا ظفر اقبال
عبداللہ جو حضرت اسماء کے آزاد کردہ غلام ہی سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت اسماء دار مزدلفہ کے قریب پڑاؤ کیا اور پوچھا کہ بیٹا کیا چاند غروب ہوگیا یہ مزدلفہ کی رات تھی اور وہ نماز پڑھ رہی تھیں، میں نے کہا ابھی نہیں وہ کچھ دیرتک مزید نماز پڑھتی رہیں پھر پوچھا بیٹاچاند چھپ گیا ؟ اس وقت تک چاند غائب ہوچکا تھا لہذا میں نے کہہ دیا جی ہاں ! انہوں نے فرمایا پھر کوچ کرو چنانچہ ہم لوگ وہاں سے روانہ ہوگئے اور منیٰ پہنچ کر جمرہ عقبہ کی رمی کی اور اپنے خیمے میں پہنچ کر فجر کی نماز ادا کی میں نے ان سے عرض کیا کہ ہم تو منہ اندھیرے ہی مزدلفہ سے نکل آئے، انہوں نے فرمایا ہرگز نہیں بیٹے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خواتین کو جلدی چلے جانے کی اجازت دی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26966
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1679، م: 1291
حدیث نمبر: 26967
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَوْفٌ ، عَنْ أَبِي الصِّدِّيقِ النَّاجِيِّ ، أَنَّ الْحَجَّاجَ بْنَ يُوسُفَ دَخَلَ عَلَى أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ بَعْدَمَا قُتِلَ ابْنُهَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الزُّبَيْرِ ، فَقَالَ : إِنَّ ابْنَكِ أَلْحَدَ فِي هَذَا الْبَيْتِ ، وَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَذَاقَهُ مِنْ عَذَابٍ أَلِيمٍ ، وَفَعَلَ بِهِ مَا فَعَلَ ، فَقَالَتْ : كَذَبْتَ ، كَانَ بَرًّا بِالْوَالِدَيْنِ ، صَوَّامًا قَوَّامًا ، وَاللَّهِ لَقَدْ أَخْبَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " : أَنَّهُ سَيَخْرُجُ مِنْ ثَقِيفٍ كَذَّابَانِ ، الْآخِرُ مِنْهُمَا شَرٌّ مِنَ الْأَوَّلِ ، وَهُوَ مُبِيرٌ " .
مولانا ظفر اقبال
ابو الصدیق ناجی کہتے ہیں کہ حجاج بن یوسف حضرت عبداللہ بن زبیر کو شہید کرچکا تو حضرت اسماء کے پاس آکر کہنے لگا کہ آپ کے بیٹے نے حرم شریف میں کجی کی راہ اختیار کی تھی، اس لئے اللہ نے اسے دردناک عذاب کا مزہ چکھا دیا اور اس کے ساتھ جو کرنا تھا سو کرلیا، انہوں نے فرمایا تو جھوٹ بولتا ہے، وہ والدین کے ساتھ حسن سلوک کرنیوالا تھا، صائم النہار اور قائم اللیل تھا، واللہ ہمیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم پہلے ہی بتا چکے ہیں کہ بنوثقیف میں سے دو کذاب آدمیوں خروج عنقریب ہوگا، جن میں سے دوسرا پہلے کی نبست زیادہ بڑا شر اور فتنہ ہوگا اور وہ مبیر ہوگا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26967
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 26968
حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أُمِّهِ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ , أنها قَالَتْ : فَزِعَ يَوْمَ كَسَفَتْ الشَّمْسُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَخَذَ دِرْعًا حَتَّى أَدْرَكَ بِرِدَائِهِ ، فَقَامَ بِالنَّاسِ قِيَامًا طَوِيلًا ، يَقُومُ ثُمَّ يَرْكَعُ ، فَلَوْ جَاءَ إِنْسَانٌ بَعْدَمَا رَكَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , لَمْ يَعْلَمْ أَنَّهُ رَكَعَ ، مَا حَدَّثَ نَفْسَهُ أَنَّهُ رَكَعَ ، مِنْ طُولِ الْقِيَامِ , قَالَتْ : فَجَعَلْتُ أَنْظُرُ إِلَى الْمَرْأَةِ الَّتِي هِيَ أَكْبَرُ مِنِّي ، وَإِلَى الْمَرْأَةِ الَّتِي هِيَ أَسْقَمُ مِنِّي قَائِمَةً ، وَأَنَا أَحَقُّ أَنْ أَصْبِرَ عَلَى طُولِ الْقِيَامِ مِنْهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت اسماء سے مروی ہے کہ جس دن سورج گرہن ہوا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم بےچین ہوگئے اور اپنی قمیص لے کر اس پر چادر اوڑھی اور لوگوں کو لے کر طویل قیام کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس دوران قیام اور رکوع کرتے رہے میں نے ایک عورت کو دیکھا جو مجھ سے زیادہ بڑی عمر کی تھی لیکن وہ کھڑی تھی، پھر میں نے ایک عورت کو دیکھا جو مجھ سے زیادہ بیمار تھی لیکن پھر بھی کھڑی تھی، یہ دیکھ کر میں نے سوچا کہ تم سے زیادہ ثابت قدمی کے ساتھ کھڑے ہونے کی حقدار تو میں ہوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26968
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 906
حدیث نمبر: 26969
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْبُ بْنُ شَدَّادٍ , وَأَبَانُ بْنُ يَزِيدَ كلاهما , عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ ، أَنَّ عُرْوَةَ أَخْبَرَهُ , أَنَّ أَسْمَاءَ أَخْبَرَتْهُ , أَنَّهَا سَمِعَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ , يَقُولُ : : " إِنَّهُ لَيْسَ شَيْءٌ أَغْيَرَ مِنَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ " , وَقَالَ يُونُسُ فِي حَدِيثِهِ : عَنْ أَبَانَ : " لَا شَيْءَ أَغْيَرَ مِنَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ".
مولانا ظفر اقبال
حضرت اسماء سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے اللہ تعالیٰ سے زیادہ کوئی غیور نہیں ہوسکتا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26969
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5222، م: 2762
حدیث نمبر: 26970
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ عُثْمَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي وَهْبُ بْنُ كَيْسَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَسْمَاءَ بِنْتَ أَبِي بَكْرٍ ، قَالَتْ : مَرَّ بِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أُحْصِي شَيْئًا وَأَكِيلُهُ ، قَالَ : " يَا أَسْمَاءُ , لَا تُحْصِي ، فَيُحْصِيَ اللَّهُ عَلَيْكِ " , قَالَتْ : فَمَا أَحْصَيْتُ شَيْئًا بَعْدَ قَوْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ مِنْ عِنْدِي ، وَلَا دَخَلَ عَلَيَّ ، وَمَا نَفِدَ عِنْدِي مِنْ رِزْقِ اللَّهِ إِلَّا أَخْلَفَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت اسماء سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس سے گزرے اس وقت میں کچھ گن رہی تھی اور اسے ناپ رہی تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے اسماء گن گن کر نہ رکھ ورنہ اللہ بھی تمہیں گن گن کردے گا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد کے بعد میں نے اپنے پاس سے کچھ جانیوالے کو یا آنے والے کو کبھی شمار نہیں کیا اور جب بھی میرے پاس اللہ کا کوئی زرق ختم ہوا، اللہ نے اس کا بدل مجھے عطاء فرمادیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26970
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 26971
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي مُعَاوِيَةُ يَعْنِي شَيْبَانَ , عَنْ يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ أُمِّهِ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ , أَنَّهَا سَمِعَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ : " مَا مِنْ شَيْءٍ أَغْيَرُ مِنَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت اسماء سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ سے زیادہ کوئی غیور نہیں ہوسکتا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26971
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5222، م: 2762
حدیث نمبر: 26972
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ َزِيدَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ , أَنَّ أَسْمَاءَ , قَالَتْ : كُنْتُ أَخْدُمُ الزُّبَيْرَ زَوْجَهَا , وَكَانَ لَهُ فَرَسٌ كُنْتُ أَسُوسُهُ ، وَلَمْ يَكُنْ شَيْءٌ مِنَ الْخِدْمَةِ أَشَدَّ عَلَيَّ مِنْ سِيَاسَةِ الْفَرَسِ ، فَكُنْتُ أَحْتَشُّ لَهُ ، وَأَقُومُ عَلَيْهِ ، وَأَسُوسُهُ ، وَأَرْضَخُ لَهُ النَّوَى , قَالَ : ثُمَّ إِنَّهَا أَصَابَتْ خَادِمًا ، أَعْطَاهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَتْ : فَكَفَتْنِي سِيَاسَةَ الْفَرَسِ ، فَأَلْقَتْ عَنِّي مَئُونَتَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت اسماء سے مروی ہے کہ جس وقت حضرت زبیر سے میرا نکاح ہوا میں ان کے گھوڑے کا چارہ تیار کرتی تھی اس کی ضروریات مہیا کرتی تھی اور اس کی دیکھ بھال کرتی تھی اسی طرح ان کے اونٹ کے لئے گٹھلیاں کو ٹتی تھی اس کا چارہ بناتی تھی، اسے پانی پلاتی تھی، ان کے ڈول کو سیتی تھی، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے کچھ ہی عرصے بعد میرے پاس ایک خادم بھیج دیا اور گھوڑے کی دیکھ بھال سے میں بری الذمہ ہوگئی اور ایسا لگا کہ جیسے انہوں نے مجھے آزاد کردیا ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26972
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3151، م: 2182
حدیث نمبر: 26973
حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي يَحْيَى ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ ، قَالَتْ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ : " لَا شَيْءَ أَغْيَرُ مِنَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت اسماء سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بر سر منبر فرمایا کرتے تھے اللہ تعالیٰ سے زیادہ کوئی غیور نہیں ہوسکتا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26973
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5222، م: 2762
حدیث نمبر: 26974
وَجَدْتُ فِي كِتَابِ أَبِي هَذَا الْحَدِيثَ بِخَطِّ يَدِهِ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ يَعْنِي ابْنَ سُلَيْمَانَ سَعْدَوَيْهِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبَّادٌ يَعْنِي ابْنَ الْعَوَّامِ ، عَنْ هَارُونَ بْنِ عنترة , عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : لَمَّا قَتَلَ الْحَجَّاجُ ابْنَ الزُّبَيْرِ وَصَلَبَهُ مَنْكُوسًا ، فَبَيْنَا هُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ ، إِذْ جَاءَتْ أَسْمَاءُ ، وَمَعَهَا أَمَةٌ تَقُودُهَا ، وَقَدْ ذَهَبَ بَصَرُهَا ، فَقَالَتْ : أَيْنَ أَمِيرُكُمْ ؟ فَذَكَرَ قِصَّةً ، فَقَالَتْ : كَذَبْتَ ، وَلَكِنِّي أُحَدِّثُكَ حَدِيثًا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " يَخْرُجُ مِنْ ثَقِيفٍ كَذَّابَانِ ، الْآخِرُ مِنْهُمَا أَشَرُّ مِنَ الْأَوَّلِ ، وَهُوَ مُبِيرٌ " .
مولانا ظفر اقبال
عنترہ کہتے ہیں کہ جب حجاج بن یوسف حضرت عبداللہ بن زبیر کو شہید کرچکا ان کا جسم پھانسی سے لٹکا ہوا تھا اور حجاج منبر پر تھا کہ تو حضرت اسما آگئیں ان کے ساتھ ایک باندی تھی جو انہیں لے کر آرہی تھی کیونکہ ان کی بینائی ختم ہوچکی تھی، انہوں نے فرمایا تمہارا امیر کہاں ہے ؟ پھر راوی نے پوری حدیث ذکر کی اور کہا تو جھوٹ بولتا ہے واللہ ہمیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم پہلے ہی بتا چکے ہیں کہ بنوثقیف میں سے دو کذاب آدمیوں کا خروج عنقریب ہوگا جن میں سے دوسرا پہلے کی نسبت زیادہ بڑا شر اور فتنہ ہوگا اور وہ مبیر ہوگا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26974
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: مرفوعه صحيح لكن بلفظ: "ان فى ثقيف كذابا و مبيرا" وهذا اسناد فيه هارون بن عنترة، وفيه كلام، وقد انفرد بسياق هذه القصة. وقوله: "منكوسا" تفرد له، وان الحجاج هو الذى دخل على اسماء
حدیث نمبر: 26975
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا يَعْمَرُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ مُبَارَكٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنِ ابْنِ يَزِيدَ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ مَوْلَى أَسْمَاءَ يُحَدِّثُ , أَنَّهُ سَمِعَ أَسْمَاءَ بِنْتَ أَبِي بَكْرٍ , تَقُولُ : عِنْدِي لِلزُّبَيْرِ سَاعِدَانِ مِنْ دِيبَاجٍ ، كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْطَاهُمَا إِيَّاهُ ، يُقَاتِلُ فِيهِمَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت اسماء سے مروی ہے کہ میرے پاس حضرت زبیر کی قمص کے دو بازو موجود ہیں جو ریشمی ہیں جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بوقت جنگ پہننے کے لئے عطا فرمائے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26975
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف تفرد به ابن لهيعة
حدیث نمبر: 26976
حَدَّثَنَا حُجَيْنُ بْنُ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ أَبِي سَلَمَةَ الْمَاجِشُونَ ، عَنْ مُحَمَّدٍ يَعْنِي ابْنَ الْمُنْكَدِرِ ، قَالَ : كَانَتْ أَسْمَاءُ تُحَدِّثُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَتْ : قَالَ : " إِذَا دَخَلَ الْإِنْسَانُ قَبْرَهُ ، فَإِنْ كَانَ مُؤْمِنًا ، أَحَفَّ بِهِ عَمَلُهُ ، الصَّلَاةُ وَالصِّيَامُ " , قَالَ : " فَيَأْتِيهِ الْمَلَكُ مِنْ نَحْوِ الصَّلَاةِ ، فَتَرُدُّهُ ، وَمِنْ نَحْوِ الصِّيَامِ ، فَيَرُدُّهُ " , قَالَ : " فَيُنَادِيهِ اجْلِسْ " , قَالَ : " فَيَجْلِسُ ، فَيَقُولُ لَهُ : مَاذَا تَقُولُ فِي هَذَا الرَّجُلِ يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : مَنْ ؟ قَالَ : مُحَمَّدٌ , قَالَ : أَنَا أَشْهَدُ أَنَّهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , " قَالَ : " يَقُولُ وَمَا يُدْرِيكَ ؟ أَدْرَكْتَهُ ؟ قال : أَشْهَدُ أَنَّهُ رَسُولُ اللَّهِ " , قَالَ : " يَقُولُ عَلَى ذَلِكَ عِشْتَ ، وَعَلَيْهِ مِتَّ ، وَعَلَيْهِ تُبْعَثُ " , قَالَ : " وَإِنْ كَانَ فَاجِرًا ، أَوْ كَافِرًا " , قَالَ : " جَاءَ الْمَلَكُ وَلَيْسَ بَيْنَهُ وَبَيْنَهُ شَيْءٌ يَرُدُّهُ " , قَالَ : " فَأَجْلَسَهُ " , قَالَ : " يَقُولُ : اجْلِسْ ، مَاذَا تَقُولُ فِي هَذَا الرَّجُلِ ؟ قَالَ : أَيُّ رَجُلٍ ؟ قَالَ : مُحَمَّدٌ , قَالَ : يَقُولُ وَاللَّهِ مَا أَدْرِي ، سَمِعْتُ النَّاسَ يَقُولُونَ شَيْئًا ، فَقُلْتُهُ " , قَالَ : " فَيَقُولُ لَهُ الْمَلَكُ عَلَى ذَلِكَ عِشْتَ ، وَعَلَيْهِ مِتَّ ، وَعَلَيْهِ تُبْعَثُ " , قَالَ : " وَتُسَلَّطُ عَلَيْهِ دَابَّةٌ فِي قَبْرِهِ ، مَعَهَا سَوْطٌ ، تَمْرَتُهُ جَمْرَةٌ مِثْلُ غَرْبِ الْبَعِيرِ ، تَضْرِبُهُ مَا شَاءَ اللَّهُ ، صَمَّاءُ لَا تَسْمَعُ صَوْتَهُ فَتَرْحَمَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت اسماء سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب انسان کو اس کی قبر میں داخل کردیا جاتا ہے اور وہ مؤمن ہو تو اس کے اعمال مثلا نماز، روزہ اسے گھیرے میں لے لیتے ہیں، فرشتہ عذاب نماز کی طرف سے آنا چاہتا ہے تو نماز اسے روکی دیتی ہے، روزے کی طرف سے آنا چاہے تو روزہ روک دیتا ہے، وہ اسے پکار کر بیٹھنے کے لئے کہتا ہے چنانچہ انسان بیٹھ جاتا ہے، فرشتہ اس سے پوچھتا ہے کہ تو اس آدمی یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق کیا کہتا ہے ؟ وہ پوچھتا ہے کون آدمی ؟ فرشتہ کہتا ہے محمد صلی اللہ علیہ وسلم وہ کہتا ہے میں گواہی دیتاہوں کہ وہ اللہ کے پیغمبر ہیں، فرشتہ کہتا ہے کہ تو اسی پر زندہ رہا اور اسی پر تجھے موت آگئی اور اسی پر تجھے اٹھایا جائے گا۔ اور اگر مردہ فاجریا کافر ہو تو جب فرشتہ اس کے پاس آتا ہے تو درمیان میں اسے واپس لوٹا دینے والی کوئی چیز نہیں ہوتی، وہ اسے بٹھاکرپوچھتا ہے کہ تو اس آدمی کے متعلق کیا کہتا ہے ؟ مردہ پوچھتا ہے کون آدمی وہ کہتا ہے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ، مردہ کہتا ہے کہ واللہ میں کچھ نہیں جانتا، میں لوگوں کو جو کہتے ہوئے سنتا تھا، وہی کہہ دیتا تھا، فرشتہ کہتا ہے کہ تو اسی پر زندہ رہا، اسی پر مرا اور اسی پر تجھے اٹھایا جائے گا، پھر اس پر قبر میں ایک جانور کو مسلط کردیا جاتا ہے اس کے پاس ایک کوڑا ہوتا ہے جس کے سرے پر چنگاری ہوتی ہے جیسے اونٹ کی نوک ہو جب تک اللہ کو منظور ہوگا وہ اسے مارتا رہے گا، وہ جانور بہرا ہے جو آواز سن ہی نہیں سکتا کہ اس پر رحم کھالے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26976
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: رجاله ثقات، لم يذكر سماع محمد بن المنكدر من اسماء، وهو قد ادركها
حدیث نمبر: 26977
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ هِشَامٍ ، قَالَ : حَدَّثَتْنِي فَاطِمَةُ ، عَنْ أَسْمَاءَ , أَنَّ امْرَأَةً ، قَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ لِي ضَرَّةً ، فَهَلْ عَلَيَّ جُنَاحٌ إِنْ تَشَبَّعْتُ مِنْ زَوْجِي بِغَيْرِ الَّذِي يُعْطِينِي ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْمُتَشَبِّعُ بِمَا لَمْ يُعْطَهُ ، كَلَابِسِ ثَوْبَيْ زُورٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت اسماء سے مروی ہے کہ ایک عورت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور کہنے لگی یا رسول اللہ میری ایک سوکن ہے اگر مجھے میرے خاوند نے کوئی چیز نہ دی ہو لیکن میں یہ ظاہر کروں کہ اس نے مجھے فلاں چیز سے سیراب کردیا ہے، تو کیا اس میں مجھ پر کوئی گناہ ہوگا ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنے آپ کو ایسی چیز سے سیراب ہونیوالا ظاہر کرنا جو اسے نہیں ملی وہ ایسے ہے جیسے جھوٹ کے دو کپڑے پہننے والا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26977
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح، خ: 5219، م: 2130
حدیث نمبر: 26978
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ هِشَامٍ ، قَالَ : حَدَّثَتْنِي فَاطِمَةُ بِنْتُ الْمُنْذِرِ ، عَنْ أَسْمَاءَ ، قَالَتْ : " أَكَلْنَا فَرَسًا لَنَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت اسماء سے مروی ہے کہ دور نبوت میں ایک مرتبہ ہم لوگوں نے ایک گھوڑا ذبح کیا تھا اور اسے کھایا بھی تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26978
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5510، م: 1942
حدیث نمبر: 26979
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ هِشَامٍ ، قَالَ : حَدَّثَتْنِي فَاطِمَةُ بِنْتُ الْمُنْذِرِ ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ ، أَنَّ امْرَأَةً مِنَ الْأَنْصَارِ ، قَالَتْ : لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , إِنّ لِي بُنَيَّةً عَرِيسًا وَإِنَّهُ تَمَرَّقَ شَعَرُهَا ، فَهَلْ عَلَيَّ مِنْ جُنَاحٍ إِنْ وَصَلْتُ رَأْسَهَا ؟ وَقَالَ وَكِيعٌ : تَمَرَّطَ شَعْرُهَا , قَالَ : " لَعَنَ اللَّهُ الْوَاصِلَةَ وَالْمُسْتَوْصِلَةَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت اسماء سے مروی ہے کہ ایک عورت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور کہنے لگی کہ میری بیٹی کی نئی نئی شادی ہوئی ہے یہ بیمار ہوگئی ہے اور اس کے سرکے بال جھڑ رہے ہیں، کیا میں اس کے سر پر دوسرے بال لگوا سکتی ہوں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے بال لگانے والی اور لگوانے والی دونوں پر لعنت فرمائی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26979
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2122
حدیث نمبر: 26980
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ أَسْمَاءَ , أَنَّهَا قَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لَيْسَ لِي إِلَّا مَا أَدْخَلَ عَلَيَّ الزُّبَيْرُ ، أَفَأَرْضَخُ مِنْهُ ؟ قَالَ : " ارْضَخِي ، وَلَا تُوعِي ، فَيُوعِيَ اللَّهُ عَلَيْكِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت اسماء سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ میرے پاس صدقہ کرنے کے لئے کچھ بھی نہیں سوائے اس کے جو زبیر گھر میں لاتے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا خرچ کیا کرو اور گن گن کر نہ رکھا کرو کہ تمہیں بھی گن گن کردیا جائے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26980
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1434، م: 1029
حدیث نمبر: 26981
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ هِشَامٍ ، قَالَ : حَدَّثَتْنِي فَاطِمَةُ , ح وَأَبُو مُعَاوِيَةَ , قَالَ : حَدَّثَنِي هِشَامٌ ، عَنْ فَاطِمَةَ ، عَنْ أَسْمَاءَ , أَنَّ امْرَأَةً أَتَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتْ : إِحْدَانَا يُصِيبُ ثَوْبُهَا مِنْ دَمِ الْحَيْضَةِ ؟ قَالَ : " تَحُتُّهُ ، ثُمَّ لِتَقْرِضْهُ بِالْمَاءِ ، ثُمَّ تَنْضَحْهُ ، ثُمَّ تُصَلِّي فِيهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت اسماء سے مروی ہے کہ ایک عورت بارگاہ نبوت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا یا رسول اللہ ! اگر کسی عورت کے جسم (یاکپڑوں) پر دم حیض لگ جائے تو کیا حکم ہے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے کھرچ دے، پھر پانی سے بہادے اور اسی میں نماز پڑھ لے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26981
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 307، م: 291
حدیث نمبر: 26982
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا مُغِيرَةُ بْنُ زِيَادٍ ، عَنْ أَبِي عُمَرَ مَوْلَى أَسْمَاءَ ، قَالَ : قَالَتْ أَسْمَاءُ : يَا جَارِيَةُ ، نَاوِلِينِي جُبَّةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : فَأَخْرَجَتْ جُبَّةً مِنْ طَيَالِسَةٍ " .
مولانا ظفر اقبال
عبداللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت اسماء نے مجھے سبز رنگ کا ایک جبہ نکال کردکھایا اور بتایا کہ یہ جبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم زیب تن فرمایا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26982
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 26983
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ ، قَالَتْ : " نَحَرْنَا فَرَسًا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَكَلْنَا لَحْمَهُ أَوْ مِنْ لَحْمِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت اسماء سے مروی ہے کہ دور نبوت میں ایک مرتبہ ہم لوگوں نے ایک گھوڑا ذبح کیا تھا اور اسے کھایا بھی تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26983
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5510، م: 1942
حدیث نمبر: 26984
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ , وَعَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ وَرْدٍ رَجُلَانِ مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ , سَمِعَاهُ مِنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ , أَنَّهَا سَأَلَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَنَّ الزُّبَيْرِ رَجُلٌ شَدِيدٌ ، يَأْتِينِي الْمِسْكِينُ ، فَأَتَصَدَّقُ عَلَيْهِ مِنْ بَيْتِهِ بِغَيْرِ إِذْنِهِ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " ارْضَخِي ، وَلَا تُوعِي ، فَيُوعِيَ اللَّهُ عَلَيْكِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت اسماء سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ میرے پاس صدقہ کرنے کے لئے کچھ بھی نہیں سوائے اس کے جو زبیرگھر میں لاتے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا خرچ کیا کرو اور گن گن کر نہ رکھا کرو کہ تمہیں بھی گن گن کردیا جائے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26984
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 26985
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تُوعِي ، فَيُوعِيَ اللَّهُ عَلَيْكِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت اسماء سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا خرچ کیا کرو اور گن گن کر نہ رکھا کرو کہ تمہیں بھی گن گن کردیا جائے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26985
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 1433، م: 1029، وهذا اسناد اختلف فيه على اسامة بن زيد
حدیث نمبر: 26986
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ ، عَنْ حَجَّاجٍ ، عَنْ أَبِي عُمَرَ مَوْلَى أَسْمَاءَ ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ , أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَتْ لَهُ : " جُبَّةٌ مِنْ طَيَالِسَةٍ مَكْفُوفَةٍ بِالدِّيبَاجِ ، يَلْقَى فِيهَا الْعَدُوَّ " .
مولانا ظفر اقبال
عبداللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت اسماء نے مجھے سبز رنگ کا ایک جبہ نکال کر دکھایا جس میں بالشت بھر کسروانی ریشم کی دھاریاں پڑی ہوئی تھیں اور اس کے دونوں کف ریشم کے بنے ہوئے تھے، انہوں نے بتایا کہ یہ جبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم زیب تن فرمایا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26986
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح دون ذكر لقاء رسول الله ﷺ بهذه الجبة ، وهذا إسناد ضعيف لضعف حجاج بن أرطاة
حدیث نمبر: 26987
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، قَالَ : حَدَّثَتْنِي أَسْمَاءُ بِنْتُ أَبِي بَكْرٍ ، قَالَتْ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا لِي شَيْءٌ إِلَّا مَا أَدْخَلَ الزُّبَيْرُ عَلَى بَيْتِي ، فَأُعْطِي مِنْهُ ؟ قَالَ : " أَعْطِي ، وَلَا تُوكِي ، فَيُوكِيَ اللَّهُ عَلَيْكِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت اسماء سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ میرے پاس صدقہ کرنے کے لئے کچھ بھی نہیں سوائے اس کے جو زبیر گھر میں لاتے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا خرچ کیا کرو اور گن گن کر نہ رکھا کرو کہ تمہیں بھی گن گن کردیا جائے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26987
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 26988
حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ ، أَنَّ عَبَّادَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ أَخْبَرَهُ , عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ ، نَحْوَهُ.
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26988
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1434، م: 1029
حدیث نمبر: 26989
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ مَوْلَى أَسْمَاءَ ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ ، قَالَتْ : كَانَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " جُبَّةٌ مِنْ طَيَالِسَةٍ لَبِنَتُهَا دِيبَاجٌ كِسْرَوَانِيٌّ " .
مولانا ظفر اقبال
عبداللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت اسماء نے مجھے سبز رنگ کا ایک جبہ نکال کر دکھایا جس میں بالشت بھر کسروانی ریشم کی دھاریاں پڑی ہوئی تھیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26989
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وقد اختلف فى هذا الإسناد على عبدالملك بن أبى سليمان
حدیث نمبر: 26990
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ ، عَنْ أَسْمَاءَ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ لَهَا : " أَنْفِقِي أَوْ انْضَحِي , وَلَا تُحْصِي ، فَيُحْصِيَ اللَّهُ عَلَيْكِ ، أَوْ لَا تُوعِي ، فَيُوعِيَ اللَّهُ عَلَيْكِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت اسماء سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا سخاوت اور فیاضی کیا کرو اور خرچ کیا کرو جمع مت کیا کرو ورنہ اللہ بھی تم پر جمع کرنے لگے گا اور گن گن کر نہ خرچ کیا کرو کہ تمہیں بھی اللہ گن گن کر دینا شروع کردے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26990
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1433، م: 1029
حدیث نمبر: 26991
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ ، وَكَانَتْ مُحْصِيَةً . ح وَعَنِ عَبَّادِ بْنِ حَمْزَةَ ، عَنْ أَسْمَاءَ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهَا : " أَنْفِقِي أَوْ انْضَخِي ، أَوْ انْفَحِي هَكَذَا وَهَكَذَا ، وَلَا تُوعِي فَيُوعِيَ اللَّهُ عَلَيْكِ ، وَلَا تُحْصِي فَيُحْصِي اللَّهُ عَلَيْكِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت اسماء سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا سخاوت اور فیاضی کیا کرو اور خرچ کیا کرو جمع مت کیا کرو ورنہ اللہ بھی تم پر جمع کرنے لگے گا اور گن گن کر نہ خرچ کیا کرو کہ تمہیں بھی اللہ گن گن کر دینا شروع کردے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26991
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1433، م: 1029