حدیث نمبر: 26835
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ نَافِعًا مَوْلَى ابْنِ عُمَرَ , يَقُولُ : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْبَدٍ ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ حَدَّثَ , أَنَّ مَيْمُونَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَتْ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " صَلَاةٌ فِي مَسْجِدِي هَذَا أَفْضَلُ مِنْ أَلْفِ صَلَاةٍ فِيمَا سِوَاهُ ، إِلَّا مَسْجِدَ الْكَعْبَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت میمونہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ مسجد نبوی میں ایک نماز خانہ کعبہ کو نکال کر دوسری تمام مساجد کی ایک ہزار نمازوں سے بھی زیادہ افضل ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26835
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد اختلف فى ذكر ابن عباس فيه، فصححه مسلم، ونفاه البخاري
حدیث نمبر: 26836
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ نَافِعًا , يَقُولُ : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْبَدِ بْنِ عَبَّاسٍ , أَنَّ مَيْمُونَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَكَرَ مِثْلَهُ.
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26836
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد اختلف فى ذكر ابن عباس فيه، فصححه مسلم، ونفاه البخاري
حدیث نمبر: 26837
حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي نَافِعٌ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْبَدِ بْنِ عَبَّاسٍ , أَنَّ مَيْمُونَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَتْ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " صَلَاةٌ فِيهِ , أَفْضَلُ مِنْ أَلْفِ صَلَاةٍ فِيمَا سِوَاهُ مِنَ الْمَسَاجِدِ ، إِلَّا مَسْجِدَ الْكَعْبَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت میمونہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ مسجد نبوی میں ایک نماز خانہ کعبہ کو نکال کر دوسری تمام مساجد کی ایک ہزار نمازوں سے بھی زیادہ افضل ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26837
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد مختلف فيه على ليث بن سعد
حدیث نمبر: 26838
حَدَّثَنَا أَبُو عُبَيْدَةَ عَبْدُ الْوَاحِدِ الْحَدَّادُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ فَرُّوخٍ أَبُو بَكَّارٍ ، أَنَّ أَبَا الْمَلِيحِ خَرَجَ عَلَى جَنَازَةٍ ، فَلَمَّا اسْتَوَى ، ظَنُّوا أَنَّهُ يُكَبِّرُ ، فَالْتَفَتَ ، فَقَالَ : اسْتَوُوا لِتَحْسُنَ شَفَاعَتُكُمْ ، فَإِنِّي لَوْ اخْتَرْتُ رَجُلًا لَاخْتَرْتُ هَذَا ، إِلَّا أَنَّهُ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلِيطٍ , عَنْ إِحْدَى أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ وَهِيَ مَيْمُونَةُ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَا مِنْ مُسْلِمٍ يُصَلِّي عَلَيْهِ أُمَّةٌ مِنَ النَّاسِ ، إِلَّا شُفِّعُوا فِيهِ " , قَالَ : فَسَأَلْتُ أَبَا الْمَلِيحِ ، عَنِ الْأُمَّةِ ، فَقَالَ : أَرْبَعُونَ.
مولانا ظفر اقبال
ابوبکار کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے ابوالملیح کے پیچھے نماز جنازہ پڑھی انہوں نے فرمایا کہ صفیں درست کرلو اور اچھے انداز میں اس کی سفارش کرو، اگر میں کسی آدمی کو پسند کرتا تو اس مرنے والے کو پسند کرتا، پھر انہوں نے اپنی سند سے حضرت میمونہ کی یہ روایت سنائی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس مسلمان کی نماز جنازہ ایک جماعت پڑھ لے تو اس کے حق میں ان کی سفارش قبول کرلی جاتی ہے ابوالملیح کہتے ہیں کہ جماعت سے مراد چالیس سے سو تک یا اس سے زیادہ افراد ہوتے ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26838
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: مرفوعه صحيح لغيره، وهذا إسناد فقد اختلف فيه على أبى المليح، عبدالله بن سليط مجهول
حدیث نمبر: 26839
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَنْظَلَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ ، قَالَ : صَلَّى بِنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ صَلَاةَ الْعَصْرِ ، فَأَرْسَلَ إِلَى مَيْمُونَةَ ، ثُمَّ أَتْبَعَهُ رَجُلًا آخَرَ ، فَقَالَتْ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ " يُجَهِّزُ بَعْثًا ، وَلَمْ يَكُنْ عِنْدَهُ ظَهْرٌ ، فَجَاءَهُ ظَهْرٌ مِنَ الصَّدَقَةِ ، فَجَعَلَ يَقْسِمُهُ بَيْنَهُمْ ، فَحَبَسُوهُ حَتَّى أَرْهَقَ الْعَصْرَ ، وَكَانَ يُصَلِّي قَبْلَ الْعَصْرِ رَكْعَتَيْنِ ، أَوْ مَا شَاءَ اللَّهُ ، فَصَلَّى الْعَصْرَ ، ثُمَّ رَجَعَ ، فَصَلَّى مَا كَانَ يُصَلِّي قَبْلَهَا ، وَكَانَ إِذَا صَلَّى صَلَاةً أَوْ فَعَلَ شَيْئًا ، يُحِبُّ أَنْ يُدَاوِمَ عَلَيْهِ " .
مولانا ظفر اقبال
عبداللہ بن حارث کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت امیر معاویہ نے ہمیں نماز عصر پڑھائی اور اس کے بعد حضرت میمونہ کے پاس ایک قاصد اور اس کے پیچھے ایک اور آدمی کو بھیجا، حضرت میمونہ نے فرمایا کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کسی لشکر کو روانہ فرما رہے تھے، اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سواریاں نہیں تھیں، تھوڑی دیر بعد زکوٰۃ و صدقات کے کچھ جانورآ گئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان لوگوں کے درمیان انہیں تقسیم فرمانے لگے، اسی مصروفیت میں نماز عصر کا وقت ہوگیا، ادھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ معمول مبارک تھا کہ نماز عصر سے پہلے دو رکعتیں یا جتنی اللہ کو منظور ہوتی نماز پڑھتے تھے اس دن نماز عصر پڑھ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ دو رکعتیں پڑھ لیں جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم پہلے پڑھا کرتے تھے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول تھا کہ جب بھی کوئی کام کرتے تو اس پر مداومت کرنے کو پسند فرماتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26839
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صلاة النبى ﷺ ركعتين بعد العصر صحيح، وقولها: وكان إذا صلى صلاة أو فعل شيئا، يحب أن يداوم عليهصحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف حنظلة
حدیث نمبر: 26840
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ زِيَادٍ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ رَجُلٍ ، عَنْ مَيْمُونَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ ، قَالَتْ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " مَنْ اسْتَدَانَ دَيْنًا ، يَعْلَمُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مِنْهُ أَنَّهُ يُرِيدُ أَدَاءَهُ ، أَدَّاهُ اللَّهُ عَنْهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت میمونہ کے حوالے سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص بھی کسی سے قرض لیتا ہے اور اللہ جانتا ہے کہ اس کا اسے ادا کرنے کا ارادہ بھی ہے تو اللہ اسے ادا کروا دیتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26840
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح بشواهده، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، سالم لم يسمع من ميمونة
حدیث نمبر: 26841
حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ الشَّهِيدِ ، عَنْ مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ ، عَنْ يَزِيدَ الْأَصَمِّ ابْنَ أَخِي مَيْمُونَةَ , أَنَّهَا قَالَتْ : إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " تَزَوَّجَهَا ، وَهُمَا حَلَالَانِ بِسَرِفٍ ، بَعْدَمَا رَجَعَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت میمونہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے سرف میں نکاح اس وقت فرمایا تھا جب ہم لوگ احرام سے نکل آئے تھے اور مکہ مکرمہ سے واپس روانہ ہوگئے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26841
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وقد اختلف فى وصله وأرساله، وأرساله أصح
حدیث نمبر: 26842
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ كُرَيْبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ ، عَنْ خَالَتِهِ مَيْمُونَةَ ، قَالَتْ : " وَضَعْتُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غِسْلًا ، فَاغْتَسَلَ مِنَ الْجَنَابَةِ ، ثُمَّ أَتَيْتُهُ بِثَوْبٍ حِينَ اغْتَسَلَ ، فَقَالَ : بِيَدِهِ هَكَذَا " ، يَعْنِي : رَدَّهُ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت میمونہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے غسل کا پانی رکھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے غسل جنابت فرمایا جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم غسل فرماچکے تو میں ایک کپڑا (تولیہ) لے کر حاضر ہوئی لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ کے اشارے سے منع فرما دیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26842
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 317
حدیث نمبر: 26843
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ كُرَيْبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ ، عَنْ خَالَتِهِ مَيْمُونَةَ ، قَالَتْ : وَضَعْتُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غِسْلًا ، " فَاغْتَسَلَ مِنَ الْجَنَابَةِ ، وَأَكْفَأَ الْإِنَاءَ بِشِمَالِهِ عَلَى يَمِينِهِ ، فَغَسَلَ كَفَّيْهِ ثَلَاثًا ، ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ فِي الْإِنَاءِ ، فَأَفَاضَ عَلَى فَرْجِهِ ، ثُمَّ دَلَكَ يَدَهُ بِالْحَائِطِ ، أَوْ الْأَرْضِ ، ثُمَّ مَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ ثَلَاثًا ، وَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا ، وَذِرَاعَيْهِ ثَلَاثًا ثَلَاثًا ، ثُمَّ أَفَاضَ عَلَى رَأْسِهِ ثَلَاثًا ، ثُمَّ أَفَاضَ عَلَى سَائِرِ جَسَدِهِ الْمَاءَ ، ثُمَّ تَنَحَّى فَغَسَلَ رِجْلَيْهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت میمونہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب غسل جنابت فرماتے تھے تو سب سے پہلے اپنے ہاتھو کو دھوتے تھے پھر دائیں ہاتھ سے بائیں ہاتھ پر پانی بہاتے شرمگاہ کو دھوتے اور زمین پر ہاتھ مل کر اسے دھو لیتے پھر نماز والا وضو فرماتے پھر سر اور باقی جسم پر پانی ڈالتے اور غسل کے بعد اس جگہ سے ہٹ کر اپنے پاؤں دھو لیتے (کیونکہ وہاں پانی کھڑا ہوجاتا تھا
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26843
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 249، م: 317
حدیث نمبر: 26844
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ بُرْقَانَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْأَصَمِّ ، عَنْ مَيْمُونَةَ ، قَالَتْ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَجَدَ ، جَافَى حَتَّى يَرَى مَنْ خَلْفَهُ بَيَاضَ إِبْطَيْهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت میمونہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب سجدہ کرتے تھے تو اپنے بازوؤں کو پہلو سے اتنا جدا رکھتے کہ پیچھے سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک بغلوں کی سفیدی نظر آتی تھی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26844
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 497
حدیث نمبر: 26845
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ : سَمِعْتُ الْأَعْمَشَ ، قَالَ : أَظُنُّ أَبَا خَالِدٍ الْوَالِبِيَّ ذَكَرَهُ ، عَنْ مَيْمُونَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْكَافِرُ يَأْكُلُ فِي سَبْعَةِ أَمْعَاءٍ ، وَالْمُؤْمِنُ يَأْكُلُ فِي مِعًى وَاحِدٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت میمونہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کافر سات آنتوں میں کھاتا ہے اور مومن ایک آنت میں کھاتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26845
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد اختلف فيه على الأعمش
حدیث نمبر: 26846
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ ، عَنْ مَيْمُونَةَ , أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ : " يُبَاشِرُهَا وَهِيَ حَائِضٌ فَوْقَ الْإِزَارِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت میمونہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تو اپنی بیویوں کے ساتھ خواہ وہ ایام ہی سے ہوتیں سوجاتے تھے اور ان دونوں کے درمیان صرف وہی کپڑا ہوتا تھا جو گھٹنوں سے اوپر ہوتا تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26846
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 303، م: 294
حدیث نمبر: 26847
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَتْ : إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنْ فَأْرَةٍ وَقَعَتْ فِي سَمْنٍ ، قَالَ : " خُذُوهَا وَمَا حَوْلَهَا ، فَأَلْقُوهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت میمونہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ کسی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ مسئلہ پوچھا کہ اگ چوہا گھی میں گر کر مرجائے تو کیا حکم ہے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا گھی اگر جما ہوا ہو تو اس حصے کو (جہاں چوہاگراہو) اور اس کے آس پاس کے گھی کو نکال لو اور پھر باقی گھی کو استعمال کرلو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26847
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 235
حدیث نمبر: 26848
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ , وَيَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ , عَنْ شُعْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي الْحَكَمُ ، قَالَ : سَأَلْتُ مِقْسَمًا ، قَالَ : قُلْتُ : أُوتِرُ بِثَلَاثٍ ، ثُمَّ أَخْرُجُ إِلَى الصَّلَاةِ مَخَافَةَ أَنْ تَفُوتَنِي ؟ قَالَ : لَا يَصْلُحُ إِلَّا بِخَمْسٍ أَوْ سَبْعٍ ، فَأَخْبَرْتُ مُجَاهِدًا , وَيَحْيَى بْنَ الجَزَّارِ بِقَوْلِهِ , فَقَالَا لِي سَلْهُ ، عَمَّنْ ؟ فَسَأَلْتُهُ ، فَقَالَ : عَنْ الثِّقَةِ ، عَنْ مَيْمُونَةَ , وَعَائِشَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
مولانا ظفر اقبال
حکم کہتے ہیں کہ میں نے مقسم سے پوچھا کہ میں تین رکعت وتر پڑھ کر نماز کے لئے جاسکتا ہوں تاکہ نماز نہ چھوٹ جائے انہوں نے فرمایا وتر تو پانچ یا سات ہونے چاہئیں میں نے یہ رائے مجاہد اور یحی بن جزاء کے سامنے ذکر کردی انہوں نے کہا کہ ان سے سند پوچھو میں نے مقسم سے سند پوچھی تو وہ کہنے لگے کہ ایک ثقہ راوی حضرت میمونہ اور عائشہ سے نقل کرتے ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26848
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لإبهام الثقة الراوي عنه مقسم، وقد اختلف فيه على الحكم بن عتيبة
حدیث نمبر: 26849
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ الشَّيْبَانِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ ، عَنْ خَالَتِهِ مَيْمُونَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ : " يُصَلِّي عَلَى الْخُمْرَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت میمونہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم چٹائی پر نماز پڑھ لیتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26849
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 381، م: 513
حدیث نمبر: 26850
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ , وَأَبُو كَامِلٍ , قَالَا : حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ حَبِيبٍ مَوْلَى عُرْوَةَ ، عَنْ بُدَيَّةَ مَوْلَاةِ مَيْمُونَةَ ، عَنْ مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ : " يُبَاشِرُ الْمَرْأَةَ مِنْ نِسَائِهِ وَهِيَ حَائِضٌ ، إِذَا كَانَ عَلَيْهَا إِزَارٌ يَبْلُغُ أَنْصَافَ الْفَخِذَيْنِ أَوْ الرُّكْبَتَيْنِ مُحْتَجِزَةً بِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت میمونہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تو اپنی بیویوں کے ساتھ خواہ وہ ایام ہی سے ہوتیں سو جاتے تھے اور ان دونوں کے درمیان صرف وہی کپڑا ہوتا تھا جو گھٹنوں سے اوپر ہوتا تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26850
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح دون قوله: يبلغ أنصاف الفخذين أو الركبتين، وهذا إسناد ضعيف لجهالة ندبة مولاة ميمونة، ومحمد بن إسحاق مدلس، وقد عنعن، وقوله: عن عروةخطأ، صوابه: عن حبيب مولى عروة
حدیث نمبر: 26851
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا الشَّيْبَانِيُّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ ، عَنْ مَيْمُونَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ ، قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يُصَلِّي عَلَى الْخُمْرَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت میمونہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم چٹائی پر نماز پڑھ لیتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26851
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 26852
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ , وَيَزِيدُ , قَالَا : أخبرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ : عَطَاءٌ : قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ , أَخْبَرَتْنِي مَيْمُونَةُ زَوْجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ شَاةً مَاتَتْ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَلَا دَبَغْتُمْ إِهَابَهَا ، فَاسْتَمْتَعْتُمْ بِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت میمونہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک مردہ بکری پر گزر ہوا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم نے اس کھال سے کیوں نہ فائدہ اٹھا لیا ؟
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26852
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد اختلف فيه على ابن جريج
حدیث نمبر: 26853
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ بُدَيَّةَ مَوْلَاةِ مَيْمُونَةَ ، عَنْ مَيْمُونَةَ ، قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يُبَاشِرُ الْمَرْأَةَ مِنْ نِسَائِهِ حَائِضًا ، تَكُونُ عَلَيْهَا الْخِرْقَةُ إِلَى الرُّكْبَتَيْنِ ، أَوْ إِلَى أَنْصَافِ الْفَخِذَيْنِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت میمونہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تو اپنی بیویوں کے ساتھ خواہ وہ ایام ہی سے ہوتیں سوجاتے تھے اور ان دونوں کے درمیان صرف وہی کپڑا ہوتا تھا جو گھٹنوں سے اوپر ہوتا تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26853
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح دون قوله: الي الركبة او أنصاف الفخذ، وهذا إسناد ضعيف لجهالة ندبة ولانقطاعه بين الزهري وندبة
حدیث نمبر: 26854
حَدَّثَنَا أَسْبَاطٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الشَّيْبَانِيُّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادِ بْنِ الْهَادِ ، عَنْ مَيْمُونَةَ ، قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يُبَاشِرُ نِسَاءَهُ فَوْقَ الْإِزَارِ وَهُنَّ حُيَّضٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت میمونہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تو اپنی بیویوں کے ساتھ خواہ وہ ایام ہی سے ہوتیں سوجاتے تھے اور ان دونوں کے درمیان صرف وہی کپڑا ہوتا تھا جو گھٹنوں سے اوپر ہوتا تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26854
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 303، م: 294
حدیث نمبر: 26855
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ الشَّيْبَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ شَدَّادِ بْنِ الْهَادِ ، قَالَ : سَمِعْتُ مَيْمُونَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، تَقُولُ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " إِذَا أَرَادَ أَنْ يُبَاشِرَ امْرَأَةً مِنْ نِسَائِهِ وَهِيَ حَائِضٌ ، أَمَرَهَا فَاتَّزَرَتْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت میمونہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تو اپنی بیویوں کے ساتھ خواہ وہ ایام ہی سے ہوتیں سوجاتے تھے اور ان دونوں کے درمیان صرف وہی کپڑا ہوتا تھا جو گھٹنوں سے اوپر ہوتا تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26855
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 303، م: 294
حدیث نمبر: 26856
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنِ سُلَيْمَانَ الْأَعْمَشِ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ مَيْمُونَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ ، قَالَتْ : " وَضَعْتُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غِسْلًا ، وَسَتَرْتُهُ ، فَصَبَّ عَلَى يَدِهِ ، فَغَسَلَهَا مَرَّةً ، أَوْ مَرَّتَيْنِ ، قَالَ سُلَيْمَانُ : فَلَا أَدْرِي أَذَكَرَ الثَّالِثَةَ أَمْ لَا , قَالَ , ثُمَّ أَفْرَغَ بِيَمِينِهِ عَلَى شِمَالِهِ ، فَغَسَلَ فَرْجَهُ ، ثُمَّ دَلَكَ يَدَهُ بِالْأَرْضِ ، أَوْ بِالْحَائِطِ ، ثُمَّ مَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ ، وَغَسَلَ وَجْهَهُ ويديه ، وَغَسَلَ رَأْسَهُ ، ثُمَّ صَبَّ عَلَى جَسَدِهِ ، ثُمَّ تَنَحَّى فَغَسَلَ قَدَمَيْهِ " , قَالَتْ : فَنَاوَلْتُهُ خِرْقَةً , قَالَ : فَقَالَ هَكَذَا ، وَأَشَارَ بِيَدِهِ أَنْ لَا أُرِيدُهَا , قَالَ : سُلَيْمَانُ : فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِإِبْرَاهِيمَ ، فَقَالَ : هُوَ كَذَلِكَ ، وَلَمْ يُنْكِرْهُ ، وقَالَ : إِبْرَاهِيمُ : لَا بَأْسَ بِالْمِنْدِيلِ ، إِنَّمَا هِيَ عَادَةٌ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت میمونہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب غسل جنابت فرماتے تھے تو سب سے پہلے اپنے ہاتھوں کو دھوتے تھے پھر دائیں ہاتھ سے بائیں ہاتھ پر پانی بہاتے شرمگاہ کو دھوتے اور زمین پر ہاتھ مل کر اسے دھو لیتے پھر نماز والا وضو فرماتے پھر سر اور باقی جسم پر پانی ڈالتے اور غسل کے بعد اس جگہ سے ہٹ کر اپنے پاؤں دھو لیتے (کیونکہ وہاں پانی کھڑا ہوجاتا تھا جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم غسل فرماچکے تو میں ایک کپڑا (تولیہ) لے کر حاضر ہوئی لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ کے اشارے سے منع فرمادیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26856
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 266، م: 317
حدیث نمبر: 26857
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ جُبَيْرٍ , قَالَ : سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ ، فَذَكَرَ حَدِيثًا , قَالَ : وَسَأَلَهُ رَجُلٌ عَمَّا يُقْتَلُ مِنَ الدَّوَابِّ ، فَقَالَ : أَخْبَرَتْنِي إِحْدَى نِسْوَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ : " أَمَرَ بِقَتْلِ الْفَأْرَةِ ، وَالْعَقْرَبِ ، وَالْكَلْبِ الْعَقُورِ ، وَالْحُدَيَّا ، وَالْغُرَابِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابن عمر سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی نے سوال پوچھا کہ یا رسول اللہ احرام باندھنے کے بعد ہم کون سے جانور قتل کرسکتے ہیں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پانچ قسم کے جانور کو قتل کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے، بچھو، چوہے، چیل، کوے اور باؤلے کتے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26857
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح