حدیث نمبر: 26795
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ مَيْمُونَةَ , أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , مَرَّ بِشَاةٍ لِمَوْلَاةٍ لِمَيْمُونَةَ مَيِّتَةٍ ، فَقَالَ : " أَلَا أَخَذُوا إِهَابَهَا ، فَدَبَغُوهُ ، فَانْتَفَعُوا بِهِ ؟ " , فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّهَا مَيْتَةٌ ! , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّمَا حُرِّمَ أَكْلُهَا " , قَالَ سُفْيَانُ : هَذِهِ الْكَلِمَةُ لَمْ أَسْمَعْهَا إِلَّا مِنَ الزُّهْرِيِّ : " حُرِّمَ أَكْلُهَا " , قَالَ أَبِي : قَالَ سُفْيَانُ : مَرَّتَيْنِ عَنْ مَيْمُونَةَ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک مردہ بکری پر گزر ہوا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم نے اس کی کھال سے کیوں نہ فائدہ اٹھالیا ؟ لوگوں نے کہا یا رسول اللہ یہ مردہ ہے فرمایا اس کا صرف کھانا حرام ہے ( باقی اس کی کھال دباغت سے پاک ہوسکتی ہے)
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26795
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 363
حدیث نمبر: 26796
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ مَيْمُونَةَ , أَنَّ فَأْرَةً وَقَعَتْ فِي سَمْنٍ ، فَمَاتَتْ ، فَسُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " خُذُوهَا وَمَا حَوْلَهَا ، فَأَلْقُوهُ ، وَكُلُوهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت میمونہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ کسی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ مسئلہ پوچھا کہ اگ چوہا گھی میں گر کر مرجائے تو کیا حکم ہے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا گھی اگر جما ہوا ہو تو اس حصے کو (جہاں چوہا گراہو) اور اس کے آس پاس کے گھی کو نکال لو اور پھر باقی گھی کو استعمال کرلو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26796
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5538
حدیث نمبر: 26797
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ أَبِي الشَّعْثَاءِ جَابِرٍ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ مَيْمُونَةَ ، قَالَتْ : " كُنْتُ أَغْتَسِلُ أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت میمونہ سے مروی ہے کہ میں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک ہی برتن سے غسل کرلیا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26797
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد اختلف فيه على سفيان بن عيينة
حدیث نمبر: 26798
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ كُرَيْبٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ مَيْمُونَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ ، قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " إِذَا اغْتَسَلَ مِنَ الْجَنَابَةِ ، يَبْدَأُ ، فَيَغْسِلُ يَدَيْهِ ، ثُمَّ يُفْرِغُ بِيَمِينِهِ عَلَى شِمَالِهِ ، فَيَغْسِلُ فَرْجَهُ ، ثُمَّ يَضْرِبُ يَدَهُ عَلَى الْأَرْضِ ، فَيَمْسَحُهَا ، ثُمَّ يَغْسِلُهَا ، ثُمَّ يَتَوَضَّأُ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ ، ثُمَّ يُفْرِغُ عَلَى رَأْسِهِ وَعَلَى سَائِرِ جَسَدِهِ ، ثُمَّ يَتَنَحَّى ، فَيَغْسِلُ رِجْلَيْهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت میمونہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب غسل جنابت فرماتے تھے تو سب سے پہلے اپنے ہاتھو کو دھوتے تھے پھر دائیں ہاتھ سے بائیں ہاتھ پر پانی بہاتے شرمگاہ کو دھوتے اور زمین پر ہاتھ مل کر اسے دھو لیتے پھر نماز والا وضو فرماتے پھر سر اور باقی جسم پر پانی ڈالتے اور غسل کے بعد اس جگہ سے ہٹ کر اپنے پاؤں دھو لیتے (کیونکہ وہاں پانی کھڑا ہوجاتا تھا)
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26798
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 249، م: 317
حدیث نمبر: 26799
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، قَالَ : عَبْد اللَّهِ , حَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ كُرَيْبٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ مَيْمُونَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، مِثْلَهُ.
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26799
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 249، م: 317
حدیث نمبر: 26800
حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حَفْصَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ السَّبَّاقِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَتْ : أَصْبَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاثِرًا ، فَقِيلَ لَهُ : مَا لَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَصْبَحْتَ خَاثِرًا ؟ قَالَ : " وَعَدَنِي جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام أَنْ يَلْقَانِي ، فَلَمْ يَلْقَنِي ، وَمَا أَخْلَفَنِي " , فَلَمْ يَأْتِهِ تِلْكَ اللَّيْلَةَ ، وَلَا الثَّانِيَةَ ، وَلَا الثَّالِثَةَ ، ثُمَّ اتَّهَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَرْوَ كَلْبٍ , وَكَانَ تَحْتَ نَضَدِنَا ، فَأَمَرَ بِهِ ، فَأُخْرِجَ ، ثُمَّ أَخَذَ مَاءً ، فَرَشَّ مَكَانَهُ ، فَجَاءَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام ، فَقَالَ : " وَعَدْتَنِي ، فَلَمْ أَرَكَ ؟ " قَالَ : إِنَّا لَا نَدْخُلُ بَيْتًا فِيهِ كَلْبٌ وَلَا صُورَةٌ , قال : فَأَمَرَ يَوْمَئِذٍ بِقَتْلِ الْكِلَابِ , قَالَ : حَتَّى كَانَ يُسْتَأْذَنُ فِي كَلْبِ الْحَائِطِ الصَّغِيرِ ، فَيَأْمُرُ بِهِ أَنْ يُقْتَلَ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت میمونہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ صبح کے وقت ہی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طبیعت بوجھل محسوس ہوئی تو کسی نے پوچھا یا رسول اللہ کیا بات ہے کہ آج صبح ہی آپ کی طبیعت بوجھل محسوس ہو رہی ہے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھ سے حضرت جبرائیل علیہ السلام نے ملاقات کا وعدہ کیا تھا لیکن وہ آئے نہیں حالانکہ انہوں نے کبھی خلاف وعدہ نہیں کیا تین راتوں تک جبرائیل نہ آئے پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہماری چارپائی کے نیچے کتے کے ایک پلے کو اس کا سبب قرار دیا چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر اسے نکال دیا گیا اور پانی لے کر وہاں بہا دیا گیا تھوڑی ہی دیر میں حضرت جبرائیل علیہ السلام آگئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ آپ نے مجھ سے آنے کا وعدہ کیا تھا لیکن نظر نہیں آئے ؟ انہوں نے عرض کیا کہ ہم اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں کتا یا تصویر ہو تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی دن کتوں کو مارنے کا حکم دیدیا حتی کہ اگر کوئی شخص اپنے باغ کی حفاظت کے لئے چھوٹے کتے کی اجازت بھی مانگتا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسے بھی قتل کرنے کا حکم دیتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26800
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 2105، وهذا إسناد ضعيف لضعف محمد بن ابي حفصة، لكنه قد توبع
حدیث نمبر: 26801
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ مَيْمُونَةَ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تَوَضَّأَ بِفَضْلِ غُسْلِهَا مِنَ الْجَنَابَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت میمونہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس باقی ماندہ پانی سے وضو کیا جس سے انہوں نے غسل جنابت کیا تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26801
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف شريك، ورواية سماك عن عكرمة مضطربة
حدیث نمبر: 26802
حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَتْ : أَجْنَبْتُ أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَاغْتَسَلْتُ مِنْ جَفْنَةٍ ، فَفَضَلَتْ فَضْلَةٌ ، فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيَغْتَسِلَ مِنْهَا ، فَقُلْتُ : إِنِّي قَدْ اغْتَسَلْتُ مِنْهَا ، فَقَالَ : " إِنَّ الْمَاءَ لَيْسَ عَلَيْهِ جَنَابَةٌ أَوْ لَا يُنَجِّسُهُ شَيْءٌ " , فَاغْتَسَلَ مِنْهُ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت میمونہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں ناپاک تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی غسل واجب تھا، میں نے ایک ٹب کے پانی سے غسل کیا جس میں کچھ پانی بچ گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم غسل کے لئے تشریف لائے تو میں نے عرض کیا کہ اس پانی سے میں نے غسل جنابت کیا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پانی میں جنابت نہیں آجاتی اور اسی سے غسل فرمالیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26802
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف شريك، ورواية سماك عن عكرمة مضطربة
حدیث نمبر: 26803
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَنَّهَا اسْتَفْتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي فَأْرَةٍ سَقَطَتْ فِي سَمْنٍ لَهُمْ جَامِدٍ ، فَقَالَ : " أَلْقُوهَا وَمَا حَوْلَهَا ، وَكُلُوا سَمْنَكُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت میمونہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ کسی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ مسئلہ پوچھا کہ اگر چوہا گھی میں گر کر مرجائے تو کیا حکم ہے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا گھی اگر جما ہوا ہو تو اس حصے کو (جہاں چوہا گرا ہو) اور اس کے آس پاس کے گھی کو نکال لو اور پھر باقی گھی کو استعمال کرلو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26803
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 5538، محمد بن مصعب مقارب الحديث فى الأوزاعي، وقد توبع
حدیث نمبر: 26804
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ ، عَنْ مَيْمُونَةَ , أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " صَلَّى وَعَلَيْهِ مِرْطٌ لِبَعْضِ نِسَائِهِ ، وَعَلَيْهَا بَعْضُهُ " , قَالَ سُفْيَانُ : أُرَاهُ قَالَ : حَائِضٍ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت میمونہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی تو کسی زوجہ محترمہ کی چادر کا ایک حصہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر تھا اور دوسرا حصہ زوجہ محترمہ پر تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26804
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 26805
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا الشَّيْبَانِيُّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ ، عَنْ مَيْمُونَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ ، قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يُصَلِّي عَلَى الْخُمْرَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت میمونہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم چٹائی پر نماز پڑھ لیا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26805
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 333، م: 513
حدیث نمبر: 26806
حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ عِيسَى الرَّاسِبِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ الشَّيْبَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ شَدَّادِ بْنِ الْهَادِ ، قَالَ : سَمِعْتُ خَالَتِي مَيْمُونَةَ بِنْتَ الْحَارِثِ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، " أَنَّهَا كَانَتْ تَكُونُ حَائِضًا وَهِيَ مُفْتَرِشَةٌ بِحِذَاءِ مَسْجِدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ " يُصَلِّي عَلَى خُمْرَتِهِ ، إِذَا سَجَدَ أَصَابَنِي طَرَفُ ثَوْبِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت میمونہ سے مروی ہے کہ وہ ایام سے ہوتی تھیں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی جائے نماز کے آگے لیٹی ہوتی تھیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی چٹائی پر نماز پڑھتے رہتے تھے اور جب سجدے میں جاتے تو ان کے کپڑے کا ایک حصہ مجھ پر بھی لگتا تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26806
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 379، م: 513
حدیث نمبر: 26807
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ الشَّيْبَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ شَدَّادٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ مَيْمُونَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، تَقُولُ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَقُومُ فَيُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ وَأَنَا نَائِمَةٌ إِلَى جَنْبِهِ ، فَإِذَا سَجَدَ ، أَصَابَنِي ثِيَابُهُ وَأَنَا حَائِضٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت میمونہ سے مروی ہے کہ وہ ایام سے ہوتی تھیں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی جائے نماز کے آگے لیٹی ہوتی تھیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی چٹائی پر نماز پڑھتے رہتے تھے اور جب سجدے میں جاتے تو ان کے کپڑے کا ایک حصہ مجھ پر بھی لگتا تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26807
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 518، م: 513
حدیث نمبر: 26808
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، حَدَّثَنَا الشَّيْبَانِيُّ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْأَصَمِّ ، عَنْ مَيْمُونَةَ ، قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يُصَلِّي عَلَى الْخُمْرَةِ ، فَيَسْجُدُ ، فَيُصِيبُنِي ثَوْبُهُ وَأَنَا إِلَى جَنْبِهِ وَأَنَا حَائِضٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت میمونہ سے مروی ہے کہ وہ ایام سے ہوتی تھیں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی جائے نماز کے آگے لیٹی ہوتی تھیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی چٹائی پر نماز پڑھتے رہتے تھے اور جب سجدے میں جاتے تو ان کے کپڑے کا ایک حصہ مجھ پر بھی لگتا تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26808
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 333، م: 513 وهذا إسناد خالف فيه محمد بن فضيل الرواة عن الشيباني
حدیث نمبر: 26809
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ ابْنِ الْأَصَمِّ ، قَالَ أَبِي : وَقُرِئَ عَلَى سُفْيَانَ اسْمُهُ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ابْنِ أَخِي يَزِيدَ بْنِ الْأَصَمِّ ، عَنْ عَمِّهِ ، عَنْ مَيْمُونَةَ , وَهِيَ خَالَتُهُ قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " إِذَا سَجَدَ وَثَمَّ بَهْمَةٌ , أَرَادَتْ أَنْ تَمُرَّ بَيْنَ يَدَيْهِ تَجَافَى " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت میمونہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب سجدہ فرماتے اور وہاں سے آگے کوئی بکری کا بچہ گزرنا چاہتا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے بازوؤں کو مزید پہلوؤں سے جدا کرلیتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26809
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 496
حدیث نمبر: 26810
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مَنْبُوذٍ ، عَنْ أُمِّهِ ، قَالَتْ : كُنْتُ عِنْدَ مَيْمُونَةَ ، فَأَتَاهَا ابْنُ عَبَّاسٍ ، فَقَالَتْ : يَا بُنَيَّ ، مَا لَكَ شَعِثًا رَأْسُكَ ؟ قَالَ : أُمُّ عَمَّارٍ مُرَجِّلَتِي حَائِضٌ , قَالَتْ : أَيْ بُنَيَّ ، وَأَيْنَ الْحَيْضَةُ مِنَ الْيَدِ ؟ ! كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَدْخُلُ عَلَى إِحْدَانَا وَهِيَ حَائِضٌ ، فَيَضَعُ رَأْسَهُ فِي حِجْرِهَا ، فَيَقْرَأُ الْقُرْآنَ وَهِيَ حَائِضٌ ، ثُمَّ تَقُومُ إِحْدَانَا بِخُمْرَتِهِ ، فَتَضَعُهَا فِي الْمَسْجِدِ وَهِيَ حَائِضٌ " ، أَيْ بُنَيَّ , وَأَيْنَ الْحَيْضَةُ مِنَ الْيَدِ ؟ !.
مولانا ظفر اقبال
حضرت میمونہ کے پاس ایک مرتبہ ان کے بھانجے حضرت ابن عباس آئے وہ کہنے لگیں بیٹا کیا بات ہے کہ تمہارے بال بکھرے ہوئے نظر آرہے ہیں ؟ انہوں نے بتایا کہ مجھے کنگھی کرنیوالی ام عمار ایام سے ہے حضرت میمونہ نے فرمایا بیٹا ایام کا ہاتھوں سے کیا تعلق نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہم میں سے کسی کے پاس تشریف لاتے اور وہ ایام سے ہوتی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کی گود میں اپنا سر رکھ کر جبکہ وہ ایام سے ہوتی تھی قرآن کریم کی تلاوت فرماتے تھے پھر وہ کھڑی ہو کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے چٹائی بچھاتی اور اسی حال میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز پڑھنے کی جگہ اسے رکھ دیتی تھی بیٹا ایام کا ہاتھوں سے کیا تعلق ؟
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26810
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: مرفوعه صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة أم منبوذ
حدیث نمبر: 26811
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مَنْبُوذٍ ، عَنْ أُمِّهِ , سَمِعَتْهُ مِنْ مَيْمُونَةَ ، قَالَتْ : " وَكَانَتْ إِحْدَانَا تَبْسُطُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْخُمْرَةَ وَهِيَ حَائِضٌ ، ثُمَّ يُصَلِّي عَلَيْهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت میمونہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہم میں سے کسی کے پاس تشریف لاتے اور وہ ایام سے ہوتی پھر وہ کھڑی ہو کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے چٹائی بچھاتی اور اسی حال میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز پڑھنے کی جگہ اسے رکھ دیتی تھی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26811
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: مرفوعه صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة أم منبوذ
حدیث نمبر: 26812
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي بَكَّارٍ ، قَالَ : صَلَّيْتُ خَلْفَ أَبِي الْمَلِيحِ عَلَى جَنَازَةٍ ، فَقَالَ : أَقِيمُوا صُفُوفَكُمْ ، وَلْتَحْسُنْ شَفَاعَتُكُمْ ، وَلَوْ اخْتَرْتُ رَجُلًا ، اخْتَرْتُهُ , ثُمَّ قَالَ : حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلِيلٍ ، قَالَ أَبِي : وحَدَّثَنَا أَبُو عُبَيْدَةَ الْحَدَّادُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلِيل ، عَنْ بَعْضِ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَيْمُونَةَ وَكَانَ أَخَاهَا مِنَ الرَّضَاعَةِ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَا مِنْ مُسْلِمٍ يُصَلِّي عَلَيْهِ أُمَّةٌ إِلَّا شُفِّعُوا فِيهِ " , وقَالَ أَبُو الْمَلِيحِ : الْأُمَّةُ أَرْبَعُونَ إِلَى مِائَةٍ ، فَصَاعِدًا.
مولانا ظفر اقبال
ابوبکار کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے ابوالملیح کے پیچھے نماز جنازہ پڑھی انہوں نے فرمایا کہ صفیں درست کرلو اور اچھے انداز میں اس کی سفارش کرو، اگر میں کسی آدمی کو پسند کرتا تو اس مرنے والے کو پسند کرتا، پھر انہوں نے اپنی سند سے حضرت میمونہ کی یہ روایت سنائی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس مسلمان کی نماز جنازہ ایک جماعت پڑھ لے تو اس کے حق میں ان کی سفارش قبول کرلی جاتی ہے ابوالملیح کہتے ہیں کہ جماعت سے مراد چالیس سے سو تک یا اس سے زیادہ افراد ہوتے ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26812
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: مرفوعه صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، فقد اختلف فيه على أبى المليح، وعبدالله بن سليل مجهول
حدیث نمبر: 26813
حَدَّثَنَا عَتَّابُ بْنُ زِيَادٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ , وَعَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ , أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي بُكَيْرٌ ، أَنَّ كُرَيْبًا مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ حَدَّثَهُ ، أَنَّهُ سَمِعَ مَيْمُونَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَقُولُ : " أَكَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ كَتِفٍ ، ثُمَّ قَامَ ، فَصَلَّى ، وَلَمْ يَتَوَضَّأْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت میمونہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے شانے کا گوشت تناول فرمایا پھر کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگے اور تازہ وضو نہیں فرمایا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26813
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، ، خ: 210، م: 356 وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 26814
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ ، وَحَدَّثَ ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ , أَنَّ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ دَخَلَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى مَيْمُونَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ ، وَهِيَ حَائِضٌ ، فَقُدِّمَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَحْمُ ضَبٍّ ، جَاءَتْ بِهِ أُمُّ حُفَيْدٍ ابْنَةُ الْحَارِثِ مِنْ نَجْدٍ ، وَكَانَتْ تَحْتَ رَجُلٍ مِنْ بَنِي جَعْفَرٍ , وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَأْكُلُ شَيْئًا حَتَّى يَعْلَمَ مَا هُوَ ؟ فَقَالَ بَعْضُ النِّسْوَةِ : أَلَا تُخْبِرِينَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا يَأْكُلُ ، فَأَخْبَرَتْهُ : أَنَّهُ لَحْمُ ضَبٍّ ، فَتَرَكَهُ , قَالَ خَالِدٌ : فَسَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَحَرَامٌ هُوَ ؟ قَالَ : " لَا ، وَلَكِنَّهُ طَعَامٌ لَيْسَ فِي قَوْمِي ، فَأَجِدُنِي أَعَافُهُ " , قَالَ خَالِدٌ : فَاجْتَرَرْتُهُ إِلَيَّ ، فَأَكَلْتُهُ ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْظُرُ , قَالَ : وَحَدَّثَهُ الْأَصَمُّ ، عَنْ مَيْمُونَةَ ، وَكَانَ فِي حِجْرِهَا يَعْنِي بِهَذَا الْحَدِيثِ وَأَظُنُّ أَنَّ الْأَصَمَّ يَزِيدُ بْنُ الْأَصَمِّ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت خالد بن ولید سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ وہ نبی علیہ السلم کے ساتھ ام المؤمنین حضرت میمونہ بنت حارث جو ان کی خالہ تھیں، کے گھر داخل ہوئے انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے گوہ کا گوشت لا کر رکھا جو نجد سے ام حفید بنت حارث لے کر آئی تھی، جس کا نکاح بنو جعفر کے ایک آدمی سے ہوا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت مبارکہ تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی چیز کو اس وقت تک تناول نہیں فرماتے تھے جب تک یہ نہ پوچھ لیتے کہ یہ کیا ہے ؟ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی زوجہ نے کہا کہ تم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کیوں نہیں بتاتیں کہ وہ کیا کھا رہے ہیں ؟ اس پر انہوں نے بتایا کہ یہ گوہ کا گوشت ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے چھوڑ دیا۔ حضرت خالد بن ولید کہتے ہیں کہ میں نے پوچھا یا رسول اللہ ! کیا یہ حرام ہے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں، لیکن یہ میری قوم کا کھانا نہیں ہے اس لئے میں اس سے احتیاط کرنا ہی بہتر سمجھتا ہوں چنانچہ میں نے اسے ایک طرف کھینچ لیا اور اسے کھانے لگا دریں اثناء نبی صلی اللہ علیہ وسلم مجھے دیکھتے رہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26814
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5400، م: 1946
حدیث نمبر: 26815
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ حَبِيبٍ يَعْنِي ابْنَ الشَّهِيدِ ، عَنْ مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْأَصَمِّ ، عَنْ مَيْمُونَةَ ، قَالَتْ : " تَزَوَّجَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ حَلَالٌ بَعْدَمَا رَجَعْنَا مِنْ مَكَّةَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت میمونہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے نکاح اس وقت فرمایا تھا جب ہم لوگ احرام سے نکل آئے تھے اور مکہ مکرمہ سے واپس روانہ ہوگئے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26815
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وقد اختلف فى وصله وأرساله، وأرساله أرجح
حدیث نمبر: 26816
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ , قَالَ : حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ زِيَادٍ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، قَالَ حَسِبْتُهُ عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ مَيْمُونَةَ , أَنَّهَا اسْتَدَانَتْ دَيْنًا ، فَقِيلَ لَهَا : تَسْتَدِينِينَ وَلَيْسَ عِنْدَكِ وَفَاؤُهُ ؟ قَالَتْ : إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " مَا مِنْ أَحَدٍ يَسْتَدِينُ دَيْنًا ، يَعْلَمُ اللَّهُ أَنَّهُ يُرِيدُ أَدَاءَهُ ، إِلَّا أَدَّاهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت میمونہ کے حوالے سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ انہوں نے کسی سے قرض لیا کسی نے ان سے کہا کہ آپ قرض تو لے رہی ہیں اور آپ کے پاس اسے ادا کرنے کے لئے کچھ بھی نہیں ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص بھی کسی سے قرض لیتا ہے اور اللہ جانتا ہے کہ اس کا اسے ادا کرنے کا ارادہ بھی ہے تو اللہ اسے ادا کروا دیتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26816
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح بشواهده، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه ، سالم لم يسمع من ميمونة
حدیث نمبر: 26817
حَدَّثَنَا يَعْلَى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ إِسْحَاقَ ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَتْ : أَعْتَقْتُ جَارِيَةً لِي ، فَدَخَلَ عَلَيَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْتُهُ بِعِتْقِهَا ، فَقَالَ : " آجَرَكِ اللَّهُ ، أَمَا إِنَّكِ لَوْ كُنْتِ أَعْطَيْتِهَا أَخْوَالَكِ ، كَانَ أَعْظَمَ لِأَجْرِكِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت میمونہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے ایک باندی کو آزاد کردیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے تو میں نے انہیں اس کے بارے میں بتایا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تمہیں اس کا اجر عطا فرمائے، اگر تم اسے اپنے ماموں زادوں کو دے دیتی تو اس کا ثواب زیادہ ہوتا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26817
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 1977، وهذا إسناد ضعيف لعنعنة ابن إسحاق وهو مدلس، ثم إنه خالف فى إسناده
حدیث نمبر: 26818
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ بُرْقَانَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْأَصَمِّ ، عَنْ مَيْمُونَةَ ، قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " إِذَا سَجَدَ ، جَافَى حَتَّى يَرَى مَنْ خَلْفَهُ بَيَاضَ إِبْطَيْهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت میمونہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب سجدہ کرتے تھے تو اپنے بازؤں کو پہلو سے اتنا جدا رکھتے کہ پیچھے سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک بغلوں کی سفیدی نظر آتی تھی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26818
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 497
حدیث نمبر: 26819
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ بُدَيَّةَ ، قَالَتْ : أَرْسَلَتْنِي مَيْمُونَةُ بِنْتُ الْحَارِثِ إِلَى امْرَأَةِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، وَكَانَتْ بَيْنَهُمَا قَرَابَةٌ ، فَرَأَيْتُ فِرَاشَهَا مُعْتَزِلًا فِرَاشَهُ ، فَظَنَنْتُ أَنَّ ذَلِكَ لِهِجْرَانٍ ، فَسَأَلْتُهَا ، فَقَالَتْ : لَا ، وَلَكِنِّي حَائِضٌ ، فَإِذَا حِضْتُ ، لَمْ يَقْرَبْ فِرَاشِي ، فَأَتَيْتُ مَيْمُونَةَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهَا ، فَرَدَّتْنِي إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ ، فَقَالَتْ : أَرَغْبَةً عَنْ سُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ لَقَدْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَنَامُ مَعَ الْمَرْأَةِ مِنْ نِسَائِهِ الْحَائِضِ ، وَمَا بَيْنَهُمَا إِلَّا ثَوْبٌ مَا يُجَاوِزُ الرُّكْبَتَيْنِ " .
مولانا ظفر اقبال
بدیہ کہتی ہیں کہ ایک مرتبہ مجھے حضرت میمونہ نے حضرت عبداللہ بن عباس جن کے ساتھ ان کے قریبی رشتہ داری تھی کی اہلیہ کے پاس بھیجا میں نے دیکھا کہ ان کا بستر حضرت ابن عباس کے بستر سے الگ ہے میں سمجھی کہ شاید ان کے درمیان کوئی ناچاقی ہوگئی ہے، چنانچہ میں نے ان سے اس کے متعلق پوچھا انہوں نے بتایا کہ ایسی کوئی بات نہیں ہے البتہ میں ایام سے ہوں اور جب ایسا ہوتا ہے تو وہ میرے بستر کے قریب نہیں آتے، میں حضرت میمونہ کے پاس آئی تو انہیں یہ بات بھی بتائی، انہوں نے مجھے حضرت ابن عباس کے پاس بھیج دیا اور فرمایا کیا تم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت سے اعراض کر رہے ہو ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تو اپنی بیویوں کے ساتھ خواہ وہ ایام ہی سے ہوتیں سوجاتے تھے اور ان دونوں کے درمیان صرف وہی کپڑا ہوتا تھا جو گھٹنوں سے اوپر ہوتا تھا
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26819
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح دون قوله: ما يجاوز الركبتين، وهذا إسناد ضعيف لجهالة ندبة مولاة ميمونة، ومحمد بن إسحاق مدلس وقد عنعن، ثم إنه أخطأ فى قوله: عن عروة، صوابه: عن حبيب مولي عروة
حدیث نمبر: 26820
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ , وَأَبُو كَامِلٍ , قَالَا : حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، قَالَ : حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ حَبِيبٍ مَوْلَى عُرْوَةَ ، عَنْ بُدَيَّةَ ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ.
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26820
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة ندبة
حدیث نمبر: 26821
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ، عَنْ أَزْهَرَ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ السَّائِبِ ابْنِ أَخِي مَيْمُونَةَ الْهِلَالِيَّةِ أَنَّهُ حَدَّثَهُ , أَنَّ مَيْمُونَةَ , قَالَتْ لَهُ : يَا ابْنَ أَخِي , أَلَا أَرْقِيكَ بِرُقْيَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قُلْتُ : بَلَى ، قَالَتْ : " بِسْمِ اللَّهِ أَرْقِيكَ ، وَاللَّهُ يَشْفِيكَ ، مِنْ كُلِّ دَاءٍ فِيكَ ، أَذْهِبْ الْبَاسَ رَبَّ النَّاسِ ، وَاشْفِ أَنْتَ الشَّافِي ، لَا شَافِيَ إِلَّا أَنْتَ " .
مولانا ظفر اقبال
عبد الرحمن بن سائب کہتے ہیں کہ حضرت میمونہ نے ان سے فرمایا بھتیجے کیا میں تمہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بتائے ہوئے الفاظ سے دم نہ کروں میں نے عرض کیا کیوں نہیں ؟ انہوں نے فرمایا اللہ کے نام سے تمہیں دم کرتی ہوں اللہ تمہیں ہر اس بیماری سے شفاء عطاء فرمائے جو تمہارے جسم میں ہے، اے لوگوں کے رب اس کی تکلیف کو دور فرما اور شفاء عطا فرما کیونکہ تو ہی شفا دینے والا ہے اور تیرے علاوہ کوئی شفاء نہیں دے سکتا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26821
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 26822
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي بُكَيْرُ بْنُ الْأَشَجِّ ، عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّهُ قَالَ : سَمِعْتُ مَيْمُونَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , تَقُولُ : أَعْتَقْتُ وَلِيدَةً فِي زَمَانِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ ، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَوْ أَعْطَيْتِهَا أَخْوَالَكِ كَانَ أَعْظَمَ لِأَجْرِكِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت میمونہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے ایک باندی کو آزاد کردیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے تو میں نے انہیں اس کے بارے میں بتایا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تمہیں اس کا اجر عطا فرمائے، اگر تم اسے اپنے ماموں زادوں کو دیدیتی تو اس کا ثواب زیادہ ہوتا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26822
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف ابن لهيعة، وقد توبع
حدیث نمبر: 26823
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ , وَأَبُو عَامِرٍ , قَالَا : حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدٍ يَعْنِي ابْنَ عَقِيلٍ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ , وَعَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ , عَنْ مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَنَّهُ قَالَ : " لَا تَنْبِذُوا فِي الدُّبَّاءِ ، وَلَا فِي الْمُزَفَّتِ ، وَلَا فِي الْحَنْتَمِ ، وَلَا فِي النَّقِيرِ قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ , وَلَا فِي الْجِرَارِ ، وَكُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ اور میمونہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا دباء مزفت اور حنتم ونقیر میں نبیذ مت بنایا کرو اور ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26823
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف عبدالله بن محمد بن عقيل، ثم إنه اختلف عليه فيه
حدیث نمبر: 26824
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَتْ : نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " عَنِ الدُّبَّاءِ ، وَالنَّقِيرِ ، وَالْجَرِّ وَالْمُقَيَّرِ ، وَقَالَ كُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ اور میمونہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا دباء مزفت اور حنتم ونقیر میں نبیذ مت بنایا کرو اور ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26824
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف عبدالله بن محمد، وقد اختلف عليه فيه
حدیث نمبر: 26825
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، عَنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، مِثْلَهُ.
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26825
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف عبدالله بن محمد، وقد اختلف عليه فيه
حدیث نمبر: 26826
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا لَيْثٌ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا نَافِعٌ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْبَدِ بْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّهُ قَالَ : إِنَّ امْرَأَةً اشْتَكَتْ شَكْوَى ، فَقَالَتْ : لَئِنْ شَفَانِي اللَّهُ , لَأَخْرُجَنَّ فَلَأُصَلِّيَنَّ فِي بَيْتِ الْمَقْدِسِ ، فَبَرِئَتْ ، فَتَجَهَّزَتْ تُرِيدُ الْخُرُوجَ ، فَجَاءَتْ مَيْمُونَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تُسَلِّمُ عَلَيْهَا ، فَأَخْبَرَتْهَا ذَلِكَ ، فَقَالَتْ : اجْلِسِي ، فَكُلِي مَا صَنَعْتُ ، وَصَلِّي فِي مَسْجِدِ الرَّسُولِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " صَلَاةٌ فِيهِ أَفْضَلُ مِنْ أَلْفِ صَلَاةٍ فِيمَا سِوَاهُ مِنَ الْمَسَاجِدِ ، إِلَّا مَسْجِدَ الْكَعْبَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
ابراہیم بن عبداللہ کہتے ہیں کہ ایک عورت بہت زیادہ بیمار ہوگئی، اس نے یہ منت مان لی کہ اگر اللہ نے مجھے شفاء عطاء فرمادی تو میں سفر کر کے بیت المقدس جاؤں گی اور وہاں نماز پڑھوں گی، اللہ کا کرنا یہ ہوا کہ وہ تندرست ہوگئی، اس نے سفر کے ارادے سے تیاری شروع کردی اور حضرت میمونہ کی خدمت میں الوداعی سلام کرنے کے لئے حاضر ہوئی اور انہیں اپنے ارادے سے بھی مطلع کیا انہوں نے فرمایا بیٹھ جاؤ اور میں نے جو کھانا پکایا ہے وہ کھاؤ اور مسجد نبوی میں نماز پڑھ لو کیونکہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ مسجد نبوی میں ایک نماز خانہ کعبہ کو نکال کر دوسری تمام مساجد کی ایک ہزار نمازوں سے بھی زیادہ افضل ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26826
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وقد اختلف فى هذا الإسناد على ليث بن سعد
حدیث نمبر: 26827
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ يَسَارٍ ، قَالَ : قَرَأْتُ فِي كِتَابٍ لِعَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ مَعَ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، قَالَ : فَسَأَلْتُ مَيْمُونَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ عَنِ الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ ؟ قَالَتْ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَكُلَّ سَاعَةٍ يَمْسَحُ الْإِنْسَانُ عَلَى الْخُفَّيْنِ وَلَا يَنْزِعُهُمَا ؟ قَالَ : " نَعَمْ " .
مولانا ظفر اقبال
عطاء بن یسار کہتے ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ حضرت میمونہ سے موزوں پر مسح کے متعلق پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ ایک مرتبہ میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ کیا انسان ہر لمحے موزوں پر مسح کرسکتا ہے ؟ کہ اسے اتارنا ہی پڑے گا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26827
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف على نكارة فى متنه من أجل عمر بن إسحاق بن يسار
حدیث نمبر: 26828
حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا فَزَارَةَ يُحَدِّثُ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْأَصَمِّ ، عَنْ مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " تَزَوَّجَهَا حَلَالًا ، وَبَنَى بِهَا حَلَالًا ، وَمَاتَتْ بِسَرِفَ ، فَدَفَنَهَا فِي الظُّلَّةِ الَّتِي بَنَى بِهَا فِيهَا ، فَنَزَلْنَا فِي قَبْرِهَا ، أَنَا وَابْنُ عَبَّاسٍ .
مولانا ظفر اقبال
یزید بن اصم کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت میمونہ سے نکاح بھی غیر محرم ہونے کی صورت میں کیا تھا اور ان کے ساتھ تخلیہ بھی غیر محرم ہونے کی حالت میں کیا تھا اور ان کا انتقال سرف نامی جگہ میں ہوا تھا ہم نے انہیں اسی جگہ دفن کیا تھا جس جگہ ایک خیمے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ساتھ تخلیہ فرمایا تھا اور ان کی قبر میں میں اور حضرت ابن عباس اترے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26828
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1411
حدیث نمبر: 26829
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ أَوْسٍ ، عَنْ بِلَالٍ الْعَبْسِيِّ ، عَنْ مَيْمُونَةَ ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ : " كَيْفَ أَنْتُمْ إِذَا مَرِجَ الدِّينُ ، وَظَهَرَتْ الرَّغْبَةُ ، وَاخْتَلَفَتْ الْإِخْوَانُ ، وَحُرِّقَ الْبَيْتُ الْعَتِيقُ ! " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت میمونہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تمہاری اس وقت کیا کیفیت ہوگی جبکہ دین مختلط ہوجائے گا خواہشات کا غلبہ ہوگا، بھائی بھائی میں اختلاف ہوگا اور خانہ کعبہ کو آگ لگادی جائے گی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26829
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 26830
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الرَّازِيُّ ، حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ الْفَضْلِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ لَبِيبَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ رَافِعٍ ، عَنْ مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَتْ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " لَا تَزَالُ أُمَّتِي بِخَيْرٍ مَا لَمْ يَفْشُ فِيهِمْ وَلَدُ الزِّنَا ، فَإِذَا فَشَا فِيهِمْ وَلَدُ الزِّنَا ، فَيُوشِكُ أَنْ يَعُمَّهُمْ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِعِقَابٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت میمونہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ میری امت اس وقت تک خیر پر رہے گی جب تک اس میں ناجائز اولاد کی کثرت نہیں ہوگی اور جب اس میں ناجائز اولاد کی کثرت ہونے لگے تو پھر وہ وقت قریب ہوگا جب اللہ کا عذاب ان سب کو گھیر لے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26830
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لعدة علل
حدیث نمبر: 26831
حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ هِشَامٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ , وَعَلِيُّ بْنُ ثَابِتٍ , قَالَ : حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ بُرْقَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ الْأَصَمِّ ، عَنْ مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا سَجَدَ ، جَافَى بَيْنَ يَدَيْهِ حَتَّى يَرَى مَنْ خَلْفَهُ وَضَحَ إِبْطَيْهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت میمونہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب سجدہ کرتے تھے تو اپنے بازوؤں کو پہلو سے اتنا جدا رکھتے کہ پیچھے سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک بغلوں کی سفیدی نظر آتی تھی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26831
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 497
حدیث نمبر: 26832
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ الْمُبَارَكِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَنْظَلَةُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَاتَتْهُ رَكْعَتَانِ قَبْلَ الْعَصْرِ ، فَصَلَّاهُمَا بَعْدُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت میمونہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے قبل ازعصر دو رکعتیں چھوٹ گئی تھیں جنہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کے بعد پڑھ لیا تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26832
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف حنظلةالسدوسي، وقد اختلف فيه
حدیث نمبر: 26833
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ غَيْلَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا رِشْدِينُ بْنُ سَعْدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، أَنَّ كَثِيرَ بْنَ فَرْقَدٍ حَدَّثَهُ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَالِكِ بْنِ حُذَافَةَ حَدَّثَهُ ، عَنْ أُمِّهِ الْعَالِيَةِ بِنْتِ سُمَيْعٍ أَوْ سُبَيْعٍ الشَّكُّ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ , أَنَّ مَيْمُونَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَتْ : مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِرِجَالٍ مِنْ قُرَيْشٍ يَجُرُّونَ شَاةً لَهُمْ مِثْلَ الْحِمَارِ , فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَوْ أَخَذْتُمْ إِهَابَهَا " , قَالُوا : إِنَّهَا مَيْتَةٌ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يُطَهِّرُهَا الْمَاءُ وَالْقَرَظُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت میمونہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر قریش کے کچھ لوگوں پر ہوا جو اپنی ایک بکری کو گدھے کی طرح گھسیٹ رہے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا اگر تم اس کی کھال ہی اتار لیتے (تو کیا حرج تھا) انہوں نے عرض کیا کہ یہ بکری مردار ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے پانی اور درخت سلم (کیکر کی مانند ایک درخت) کے پتے پاک کردیتے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26833
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف رشدين بن سعد، ولجهالة عبدالله بن مالك، وأمه
حدیث نمبر: 26834
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ , وَابْنُ بَكْرٍ , قَالَا : أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي مَنْبُوذٌ ، أَنَّ أُمَّهُ أَخْبَرَتْهُ , أَنَّهَا بَيْنَا هِيَ جَالِسَةٌ عِنْدَ مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , إِذْ دَخَلَ عَلَيْهَا ابْنُ عَبَّاسٍ ، فَقَالَتْ : مَا لَكَ شَعِثًا ؟ قَالَ : أُمُّ عَمَّارٍ مُرَجِّلَتِي حَائِضٌ ، فَقَالَتْ : أَيْ بُنَيَّ ، وَأَيْنَ الْحَيْضَةُ مِنَ الْيَدِ ؟ ! لَقَدْ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَدْخُلُ عَلَى إِحْدَانَا وَهِيَ مُتَّكِئَةٌ حَائِضٌ ، قَدْ عَلِمَ أَنَّهَا حَائِضٌ ، فَيَتَّكِئُ عَلَيْهَا ، فَيَتْلُو الْقُرْآنَ ، وَهُوَ مُتَّكِئٌ عَلَيْهَا أَوْ يَدْخُلُ عَلَيْهَا قَاعِدَةً ، وَهِيَ حَائِضٌ ، فَيَتَّكِئُ فِي حِجْرِهَا ، فَيَتْلُو الْقُرْآنَ فِي حِجْرِهَا , وَتَقُومُ وَهِيَ حَائِضٌ ، فَتَبْسُطُ لَهُ الْخُمْرَةَ فِي مُصَلَّاهُ ، وقَالَ ابْنُ بَكْرٍ : خُمْرَتَهُ , فَيُصَلِّي عَلَيْهَا فِي بَيْتِي ، أَيْ بُنَيَّ ، وَأَيْنَ الْحَيْضَةُ مِنَ الْيَدِ ؟.
مولانا ظفر اقبال
حضرت میمونہ کے پاس ایک مرتبہ ان کے بھانجے حضرت ابن عباس آئے وہ کہنے لگیں بیٹا کیا بات ہے کہ تمہارے بال بکھرے ہوئے نظر آرہے ہیں ؟ انہوں نے بتایا کہ مجھے کنگھی کرنیوالی ام عمار ایام سے ہے حضرت میمونہ نے فرمایا بیٹا ایام کا ہاتھوں سے کیا تعلق نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہم میں سے کسی کے پاس تشریف لاتے اور وہ ایام سے ہوتی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کی گود میں اپنا سر رکھ کر جبکہ وہ ایام سے ہوتی تھی قرآن کریم کی تلاوت فرماتے تھے پھر وہ کھڑی ہو کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے چٹائی بچھاتی اور اسی حال میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز پڑھنے کی جگہ اسے رکھ دیتی تھی بیٹا ایام کا ہاتھوں سے کیا تعلق ؟
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26834
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: مرفوعه صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة أم منبوذ