❮
❯
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ , وَجَدَ رِيحَ طِيبٍ بِذِي الْحُلَيْفَةِ ، فَقَالَ : مِمَّنْ هَذِهِ الرِّيحُ ؟ فَقَالَ مُعَاوِيَةُ : مِنِّي يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ، فَقَالَ : مِنْكَ لِعَمْرِي ، فَقَالَ : طَيَّبَتْنِي أُمُّ حَبِيبَةَ ، وَزَعَمَتْ أَنَّهَا طَيَّبَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ إِحْرَامِهِ ، فَقَالَ : اذْهَبْ ، فَأَقْسِمْ عَلَيْهَا لَمَا غَسَلَتْهُ ، فَرَجَعَ إِلَيْهَا ، فَغَسَلَتْهُ .
مولانا ظفر اقبال
سلیمان بن یسار کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت عمر فاروق کو ذوی الحلیفہ میں خوشبو کی مہک محسوس ہوئی، پوچھا کہ یہ مہک کہاں سے آرہی ہے ؟ تو حضرت امیر معاویہ نے عرض کیا کہ امیر المؤمنین یہ مہک میرے اندر سے آرہی ہے حضرت عمر نے پوچھا کیا واقعی تمہارے اندر سے آرہی ہے ؟ انہوں نے جواب دیا کہ مجھے یہ خوشبو (میری بہن ام المؤمنین) حضرت ام حبیبہ نے لگائی ہے اور ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے احرام پر بھی خوشبو لگائی تھی، حضرت عمر نے فرمایا ان کے پاس جاؤ اور اسے دھونے کے لئے انہیں قسم دو ، چنانچہ وہ ان کے پاس واپس گئے اور انہوں نے اسے دھو دیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26759
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لانقطاعه، سليمان بن يسار لم يسمع من عمر
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، عَنِ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ حُدَيْجٍ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ ، قَالَ : قُلْتُ لِأُمِّ حَبِيبَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يُصَلِّي فِي الثَّوْبِ الَّذِي يَنَامُ مَعَكِ فِيهِ ؟ قَالَتْ : نَعَمْ ، مَا لَمْ يَرَ فِيهِ أَذًى " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت امیر معاویہ سے مروی ہے کہ میں نے حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کپڑوں میں نماز پڑھ لیا کرتے تھے جن میں تمہارے ساتھ سوتے تھے ؟ انہوں نے جواب دیا ہاں ! بشرطیکہ اس پر گندگی نظر نہ آتی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26760
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لعنعنة ابن إسحاق، وقد توبع
حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ضَمْرَةُ بْنُ حَبِيبٍ ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ الثَّقَفِيّ حَدَّثَهُ , أَنَّهُ سَمِعَ أُمَّ حَبِيبَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , تَقُولُ : رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يُصَلِّي ، وَعَلَيَّ وَعَلَيْهِ ثَوْبٌ وَاحِدٌ ، فِيهِ كَانَ مَا كَانَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ام حبیبہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک مرتبہ نماز پڑھتے ہوئے دیکھا کہ مجھ پر اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر ایک ہی کپڑا تھا اور اس پر جو چیز لگی ہوئی تھی وہ لگی ہوئی تھی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26761
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: ضعيف بهذه السياقة، فقد تفرد به معاوية بن صالح، وله أوهام، ومحمد بن أبى سفيان، هو ممن لا يحتمل تفرده
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ أَبِي الضُّحَى ، عَنْ شُتَيْرِ بْنِ شَكَلٍ ، عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ : " يُقَبِّلُ وَهُوَ صَائِمٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ام حبیبہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم روزے کی حالت میں اپنی زوجہ محترمہ کا بوسہ لے لیا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26762
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح على خطا فى إسناده، وقوله: أم حبيبة خطأ، صوابه: عن حفصة
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ بْنِ يَزِيدَ بْنِ رُكَانَةَ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ أَبِي الْجَرَّاحِ مَوْلَى أُمِّ حَبِيبَةَ ، عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ , أَنَّهَا حَدَّثَتْهُ ، قَالَتْ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي , لَأَمَرْتُهُمْ بِالسِّوَاكِ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ ، كَمَا يَتَوَضَّئُونَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ام حبیبہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اگر مجھے اپنی امت پر مشقت کا اندیشہ نہ ہوتا تو میں انہیں ہر نماز کے وقت جب وہ وضو کرتے مسواک کا حکم دے دیتا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26763
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة أبى الجراح
حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، عَنْ حَسَّانَ بْنِ عَطِيَّةَ ، قَالَ : لَمَّا نَزَلَ بعَنْبَسَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ الْمَوْتُ اشْتَدَّ جَزَعُهُ ، فَقِيلَ لَهُ : مَا هَذَا الْجَزَعُ ؟ قَالَ : إِنِّي سَمِعْتُ أُمَّ حَبِيبَةَ يَعْنِي أُخْتَهُ , تَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ صَلَّى أَرْبَعًا قَبْلَ الظُّهْرِ ، وَأَرْبَعًا بَعْدَهَا ، حَرَّمَ اللَّهُ لَحْمَهُ عَلَى النَّارِ " , فَمَا تَرَكْتُهُنَّ مُنْذُ سَمِعْتُهُنَّ.
مولانا ظفر اقبال
حسان بن عطیہ کہتے ہیں کہ جب عنبسہ بن ابی سفیان کی موت کا وقت قریب آیا تو ان پر سخت گھبراہٹ طاری ہوگئی، کسی نے پوچھا کہ یہ گھبراہٹ کیسی ہے ؟ انہوں نے کہا کہ میں نے اپنی بہن حضرت ام حبیبہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص ظہر سے پہلے چار رکعتیں اور اس کے بعد بھی چار رکعتیں پڑھ لے تو اللہ اس کے گوشت کو جہنم پر حرام کردے گا اور میں نے جب سے اس کے متعلق ان سے سنا ہے، کبھی انہیں ترک نہیں کیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26764
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ نَافِعٍ ، أَنَّ زَيْنَبَ بِنْتَ أَبِي سَلَمَةَ أَخْبَرَتْهُ , أَنَّهَا دَخَلَتْ عَلَى أُمِّ حَبِيبَةَ بِنْتِ أَبِي سُفْيَانَ فَقَالَتْ , سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَنْ تُحِدَّ عَلَى مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلَاثِ لَيَالٍ ، إِلَّا عَلَى زَوْجٍ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا " , قَالَ أبو عبد الرحمن : قال أبى : حُمَيْدُ بْنُ نَافِعٍ أَبُو أَفْلَحَ , وَهُوَ حُمَيْدٌ صَفِيرَا.
مولانا ظفر اقبال
حضرت ام حبیبہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کسی ایسی عورت پر جو اللہ پر اور یوم آخرت پر (یا اللہ اور اس کے رسول پر) ایمان رکھتی ہو اپنے شوہر کے علاوہ کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ منانا جائز نہیں ہے (البتہ شوہر پر وہ چار مہینے دس دن سوگ کرے گی)
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26765
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1281، م: 1486
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ . ح وَحَجَّاجٌ ، قَالَ : حَدَّثَنِي شُعْبَةُ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ نَافِعٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ زَيْنَبَ بِنْتَ أُمِّ سَلَمَةَ , قَالَتْ : تُوُفِّيَ حَمِيمٌ لِأُمِّ حَبِيبَةَ ، فَدَعَتْ بِصُفْرَةٍ ، فَمَسَحَتْ بِذِرَاعَيْهَا , وَقَالَتْ : إِنَّمَا أَصْنَعُ هَذَا لِشَيْءٍ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ حَجَّاجٌ : لِأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ مُسْلِمَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ , أَنْ تُحِدَّ فَوْقَ ثَلَاثٍ إِلَّا عَلَى زَوْجِهَا أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا " , وَحَدَّثَتْهُ زَيْنَبُ ، عَنْ أُمِّهَا ، وَعَنْ زَيْنَبَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَوْ عَنِ امْرَأَةٍ مِنْ بَعْضِ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت ام حبیبہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کسی ایسی عورت پر جو اللہ پر اور یوم آخرت پر (یا اللہ اور اس کے رسول پر) ایمان رکھتی ہو اپنے شوہر کے علاوہ کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ منانا جائز نہیں ہے (البتہ شوہر پر وہ چار مہینے دس دن سوگ کرے گی)
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26766
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1281، م: 1486
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ ، عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَنَّهُ كَانَ : " إِذَا سَمِعَ الْمُؤَذِّنَ يُؤَذِّنُ ، قَالَ كَمَا يَقُولُ ، حَتَّى يَسْكُتَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ام حبیبہ سے مروی ہے کہ جب مؤذن کو اذان دیتے ہوئے سنتے تو وہی کلمات دہراتے جو وہ کہہ رہا ہوتاحتی کہ وہ خاموش ہوجاتا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26767
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، أبو المليح بن أسامة لم يروه عن أم حبيبة، بينهما رجل مجهول
حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ يَزِيدَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ بَهْدَلَةَ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ , أَنَّ أُمَّ حَبِيبَةَ حَدَّثَتْ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ,أَنَّهُ قَالَ : " مَنْ صَلَّى فِي يَوْمٍ ثِنْتَيْ عَشْرَةَ رَكْعَةً ، بَنَى اللَّهُ لَهُ ، أَوْ بُنِيَ لَهُ بَيْتٌ فِي الْجَنَّةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ام حبیبہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص ایک دن میں بارہ رکعتیں (نوافل) پڑھ لے اللہ اس کا گھر جنت میں بنادے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26768
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، إسناد ضعيف لاضطرابه
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ ، عَنِ الْمُسَيَّبِ بْنِ رَافِعٍ ، عَنْ عَنْبَسَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ بِنْتِ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ صَلَّى فِي يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ ثِنْتَيْ عَشْرَةَ سَجْدَةً سِوَى الْمَكْتُوبَةِ ، بُنِيَ لَهُ بَيْتٌ فِي الْجَنَّةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ام حبیبہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص ایک دن میں فرائض کے علاوہ بارہ رکعتیں (نوافل) پڑھ لے، اللہ اس کا گھر جنت میں بنادے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26769
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، إسناد ضعيف لاضطرابه
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعَيْبٌ ، قَالَ : قَالَ نَافِعٌ , أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنَّ أَبَا الْجَرَّاحِ مَوْلَى أُمِّ حَبِيبَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , حَدَّثَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ , أَنَّ أُمَّ حَبِيبَةَ أَخْبَرَتْهُ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّ الْعِيرَ الَّتِي فِيهَا الْجَرَسُ لَا تَصْحَبُهَا الْمَلَائِكَةُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ام حبیبہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جس قافلے میں گھنٹیاں ہوں اس کے ساتھ فرشتے نہیں ہوتے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26770
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة حال الجراح مولي أم حبيبة
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، قَالَ : سَمِعْتُهُ يُحَدِّثُ يَعْنِي أَبَاهُ عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُسَامَةَ بْنِ الْهَادِ , أَنَّ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ حَدَّثَهُ , أَنَّ أَبَا الْجَرَّاحِ مَوْلَى أُمِّ حَبِيبَةَ أَخْبَرَهُ , أَنَّ أُمَّ حَبِيبَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَتْهُ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا تَصْحَبُ الْمَلَائِكَةُ قَوْمًا فِيهِمْ جَرَسٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ام حبیبہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جس قافلے میں گھنٹیاں ہوں اس کے ساتھ فرشتے نہیں ہوتے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26771
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة حال الجراح مولي أم حبيبة
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ مُوسَى ، أَخْبَرَنِي مَكْحُولٌ ، أَنَّ مَوْلًى لِعَنْبَسَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ حَدَّثَهُ , أَنَّ عَنْبَسَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ أَخْبَرَهُ , عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ بِنْتِ أَبِي سُفْيَانَ , أَنَّهَا سَمِعَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " مَنْ صَلَّى أَرْبَعًا قَبْلَ الظُّهْرِ ، وَأَرْبَعًا بَعْدَ الظُّهْرِ ، حَرَّمَهُ اللَّهُ عَلَى النَّارِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ام حبیبہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص ظہر سے پہلے چار رکعتیں اور اس کے بعد بھی چار رکعتیں پڑھ لے تو اللہ اس کے گوشت کو جہنم پر حرام کردے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26772
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف ابن لهيعة، ولابهام مولي عنبسة بن أبى سفيان
حَدَّثَنَا يُونُسُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبَانُ يَعْنِي ابْنَ يَزِيدَ الْعَطَّارَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ الْمُغِيرَةِ ، أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى أُمِّ حَبِيبَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَقَتْهُ قَدَحًا مِنْ سَوِيقٍ ، فَدَعَا بِمَاءٍ فَمَضْمَضَ ، فَقَالَتْ لَهُ : يَا ابْنَ أَخِي ، أَلَا تَتَوَضَّأُ ، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " تَوَضَّئُوا مِمَّا مَسَّتْ النَّارُ ، أَوْ غَيَّرَتْ " .
مولانا ظفر اقبال
ابن سعید بن مغیرہ ایک مرتبہ حضرت ام حبیبہ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو انہوں نے ایک پیالے میں ستو بھر کر انہیں پلائے، پھر ابن سعید نے پانی لے کر صرف کلی کرلی تو حضرت ام حبیبہ نے فرمایا بھتیجے، تم وضو کیوں نہیں کرتے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تو فرمایا ہے کہ آگ پر پکی ہوئی چیز کھانے کے بعد وضو کیا کرو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26773
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: مرفوعه صحيح لغيره، وهذا إسناد محتمل للتحسين
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ غَيْلَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْمُفَضَّلُ يَعْنِي ابْنَ فَضَالَة ، عَنْ خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ عَطَاءٍ ، أَنَّهُ قَالَ : حَدَّثَنَا عَنْبَسَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أُمَّ حَبِيبَة أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ , تَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " مَنْ صَلَّى ثِنْتَيْ عَشْرَةَ رَكْعَةً فِي لَيْلِهِ وَنَهَارِهِ غَيْرَ الْمَكْتُوبَةِ ، بَنَى اللَّهُ لَهُ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ام حبیبہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص ایک دن میں فرائض کے علاوہ بارہ رکعتیں (نوافل) پڑھ لے اللہ اس کا گھر جنت میں بنا دے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26774
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، عطا لم يسمع من عنبسة، ثم انه اختلف عليه فيه
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ سَالِمٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَوْسٍ ، عَنْ عَنْبَسَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ أُخْتِهِ أُمِّ حَبِيبَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَنَّهَا سَمِعَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " مَا مِنْ عَبْدٍ مُسْلِمٍ يُصَلِّي لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ كُلَّ يَوْمٍ ثِنْتَيْ عَشْرَةَ رَكْعَةً تَطَوُّعًا غَيْرَ فَرِيضَةٍ , إِلَّا بُنِيَ لَهُ بَيْتٌ فِي الْجَنَّةِ أَوْ بَنَى اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَهُ بِهِنَّ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ " , فَقَالَتْ أُمُّ حَبِيبَةَ : فَمَا بَرِحْتُ أُصَلِّيهِنَّ بَعْدُ ، وقَالَ عَمْرٌو : مَا بَرِحْتُ أُصَلِّيهِنَّ بَعْدُ ، وقَالَ النُّعْمَانُ : مِثْلَ ذَلِكَ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت ام حبیبہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص ایک دن میں فرائض کے علاوہ بارہ رکعتیں (نوافل) پڑھ لے اللہ اس کا گھر جنت میں بنا دے گا، حضرت ام حبیبہ کہتی ہیں کہ میں ہمیشہ یہ رکعتیں پڑھتی رہی ہوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26775
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 728
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ ، عَنِ ابْنِ شَوَّالٍ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ , أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى أُمِّ حَبِيبَةَ فَأَخْبَرَتْهُ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " قَدِمَهَا مِنْ جَمْعٍ بِلَيْلٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ام حبیبہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس مزدلفہ سے رات ہی کو تشریف لے آئے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26776
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1292
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِي الْجَرَّاحِ ، عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا تَصْحَبُ الْمَلَائِكَةُ رُفْقَةً فِيهَا جَرَسٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ام حبیبہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جس قافلے میں گھنٹیاں ہوں اس کے ساتھ فرشتے نہیں ہوتے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26777
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة حال أبى الجراح، واختلف فيه على عبيدالله العمري
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ بْنِ أَخْنَسَ ، عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَكَانَتْ خَالَتَهُ , قَالَ : سَقَتْنِي سَوِيقًا ، ثُمَّ قَالَتْ : لَا تَخْرُجْ حَتَّى تَتَوَضَّأَ ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " تَوَضَّئُوا مِمَّا مَسَّتْ النَّارُ " .
مولانا ظفر اقبال
ابن سعید بن مغیرہ ایک مرتبہ حضرت ام حبیبہ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو انہوں نے ایک پیالے میں ستو بھر کر انہیں پلائے، پھر ابن سعید نے پانی لے کر صرف کلی کرلی تو حضرت ام حبیبہ نے فرمایا بھتیجے ! تم وضو کیوں نہیں کرتے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تو فرمایا ہے کہ آگ پر پکی ہوئی چیز کھانے کے بعد وضو کیا کرو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26778
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: مرفوعه صحيح لغيره، وهذا إسناد محتمل للتحسين فقول عبدالعزيز بن عبدالله: عن عبدالله بن عبدالله، وهم منه، صوابه: عن أبى سلمة
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " تَوَضَّئُوا مِمَّا مَسَّتْ النَّارُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ام حبیبہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تو فرمایا ہے کہ آگ پر پکی ہوئی چیز کھانے کے بعد وضو کیا کرو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26779
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد محتمل للتحسين
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي الجَرَّاحٍ مَوْلَى أُمِّ حَبِيبَةَ ، عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّ الْعِيرَ الَّتِي فِيهَا جَرَسٌ لَا تَصْحَبُهَا الْمَلَائِكَةُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ام حبیبہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جس قافلے میں گھنٹیاں ہوں اس کے ساتھ فرشتے نہیں ہوتے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26780
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة حال أبى الجراح مولى أم حبيبة
حَدَّثَنَا بَهْزٌ , وَابْنُ جَعْفَرٍ , قَالَا : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ سَالِمٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ أَوْسٍ يُحَدِّثُ , عَنْ عَنْبَسَةَ , عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا مِنْ عَبْدٍ مُسْلِمٍ تَوَضَّأَ ، فَأَسْبَغَ الْوُضُوءَ ، ثُمَّ صَلَّى لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ كُلَّ يَوْمٍ ثِنْتَيْ عَشْرَةَ رَكْعَةً إِلَّا بُنِيَ لَهُ بَيْتٌ فِي الْجَنَّةِ " , قَالَتْ أُمُّ حَبِيبَةَ فَمَا زِلْتُ أُصَلِّيهِنَّ بَعْدُ ، وقَالَ عَنْبَسَةُ : فَمَا زِلْتُ أُصَلِّيهِنَّ بَعْدُ ، وقَالَ عَمْرُو بْنُ أَوْسٍ : فَمَا زِلْتُ أُصَلِّيهِنَّ ، قَالَ النُّعْمَانُ : وَأَنَا لَا أَكَادُ أَدَعُهُنَّ , قَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ , عَنْ عَنْبَسَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَنَّهَا سَمِعَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " مَا مِنْ عَبْدٍ مُسْلِمٍ يُصَلِّي لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ كُلَّ يَوْمٍ ثِنْتَيْ عَشْرَةَ رَكْعَةً تَطَوُّعًا غَيْرَ فَرِيضَةٍ " فَذَكَرَ نَحْوَهُ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت ام حبیبہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو بندہ مسلم خوب اچھی طرح وضو کرے اور ایک دن میں فرائض کے علاوہ چار رکعتیں (نوافل) اللہ کی راہ کے لئے پڑھ لے اللہ اس کا گھر جنت میں بنادے گا پھر اس حدیث کے ہر راوی نے اپنے متعلق ان رکعتوں کے ہمیشہ پڑھنے کی وضاحت کی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26781
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 728
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَلِيٌّ يَعْنِي ابْنَ مُبَارَكٍ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ بْنِ سَعِيدٍ الْأَخْنَسِ ، قَالَ : دَخَلْتُ عَلَى أُمِّ حَبِيبَةَ فَدَعَتْ لِي بِسَوِيقٍ ، فَشَرِبْتُهُ ، فَقَالَتْ : أَلَا تَتَوَضَّأُ ؟ فَقُلْتُ : إِنِّي لَمْ أُحْدِثْ ، قَالَتْ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " تَوَضَّئُوا مِمَّا مَسَّتْ النَّارُ " .
مولانا ظفر اقبال
ابن سعید بن مغیرہ ایک مرتبہ حضرت ام حبیبہ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو انہوں نے ایک پیالے میں ستو بھر کر انہیں پلائے، پھر ابن سعید نے پانی لے کر صرف کلی کرلی تو حضرت ام حبیبہ نے فرمایا بھتیجے ! تم وضو کیوں نہیں کرتے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تو فرمایا ہے کہ آگ پر پکی ہوئی چیز کھانے کے بعد وضو کیا کرو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26782
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: مرفوعه صحيح لغيره، وهذا إسناد محتمل للتحسين
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ الْأَخْنَسِ , أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى أُمِّ حَبِيبَةَ ، فَسَقَتْهُ سَوِيقًا ، ثُمَّ قَامَ يُصَلِّي ، فَقَالَتْ لَهُ : تَوَضَّأْ يَا ابْنَ أَخِي ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " تَوَضَّئُوا مِمَّا مَسَّتْ النَّارُ " .
مولانا ظفر اقبال
ابن سعید بن مغیرہ ایک مرتبہ حضرت ام حبیبہ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو انہوں نے ایک پیالے میں ستو بھر کر انہیں پلائے، پھر ابن سعید نے پانی لے کر صرف کلی کرلی تو حضرت ام حبیبہ نے فرمایا بھتیجے ! تم وضو کیوں نہیں کرتے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تو فرمایا ہے کہ آگ پر پکی ہوئی چیز کھانے کے بعد وضو کیا کرو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26783
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: مرفوعه صحيح لغيره، وهذا إسناد محتمل للتحسين
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعَيْبٌ ، قَالَ : قَالَ الزُّهْرِيُّ : أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَبُو سُفْيَانَ بْنُ سَعِيدِ بْنِ الْأَخْنَسِ ، عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَهِيَ خَالَةُ أَبِي سُفْيَانَ بْنِ سَعِيدٍ ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ.
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26784
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: مرفوعه صحيح لغيره، وهذا إسناد محتمل للتحسين
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ : وَحَدَّثَنَا ابْنُ إِسْحَاقَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمِ بْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ الْأَخْنَسِ بْنِ شَرِيقٍ ، قَالَ : دَخَلْتُ عَلَى أُمِّ حَبِيبَةَ وَكَانَتْ خَالَتَهُ , فَسَقَتْنِي شَرْبَةً مِنْ سَوِيقٍ ، فَلَمَّا قُمْتُ ، قَالَتْ لِي : أَيْ بُنَيَّ ، لَا تُصَلِّيَنَّ حَتَّى تَتَوَضَّأَ ، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ " أَمَرَنَا أَنْ نَتَوَضَّأَ مِمَّا مَسَّتْ النَّارُ مِنَ الطَّعَامِ " .
مولانا ظفر اقبال
ابن سعید بن مغیرہ ایک مرتبہ حضرت ام حبیبہ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو انہوں نے ایک پیالے میں ستو بھر کر انہیں پلائے، پھر ابن سعید نے پانی لے کر صرف کلی کرلی تو حضرت ام حبیبہ نے فرمایا بھتیجے ! تم وضو کیوں نہیں کرتے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تو فرمایا ہے کہ آگ پر پکی ہوئی چیز کھانے کے بعد وضو کیا کرو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26785
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: مرفوعه صحيح لغيره، وهذا إسناد محتمل للتحسين