حدیث نمبر: 26711
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُمْهَانَ ، عَنْ سَفِينَةَ مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَ : " أَعْتَقَتْنِي أُمُّ سَلَمَةَ ، وَاشْتَرَطَتْ عَلَيَّ أَنْ أَخْدُمَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا عَاشَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت سفینہ سے مروی ہے کہ حضرت ام سلمہ نے مجھے آزاد کردیا اور یہ شرط لگادی کہ تاحیات نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کرتا رہوں گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26711
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 26712
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ زَائِدَةَ ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ أَبِي مُعَاوِيَةَ الْبَجَلِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، أَنَّهَا كَانَتْ : " تَغْتَسِلُ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْجَنَابَةِ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وہ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک ہی برتن سے غسل جنابت کرلیا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26712
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 298، م: 296، وهذا إسناد خولف فيه عمار بن أبى معاوية، والإسناد الصواب هكذا: عن أبى سلمة، عن زينب، عن أم سلمة، أي: بواسطة زينب
حدیث نمبر: 26713
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا سَلَّامُ بْنُ أَبِي مُطِيعٍ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ ، قَالَ : دَخَلْتُ عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ ، فَأَخْرَجَتْ إِلَيْنَا شَعْرًا مِنْ شَعْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَخْضُوبًا بِالْحِنَّاءِ وَالْكَتَمِ " .
مولانا ظفر اقبال
عثمان بن عبداللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم لوگ حضرت ام سلمہ کے پاس گئے تو انہوں نے ہمارے سامنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک بال نکال کر دکھایا جو کہ مہندی اور وسمہ سے رنگا ہوا ہونے کی وجہ سے سرخ ہوچکا تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26713
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5896
حدیث نمبر: 26714
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ , أَنَّهَا قَدِمَتْ وَهِيَ مَرِيضَةٌ ، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : " طُوفِي مِنْ وَرَاءِ النَّاسِ وَأَنْتِ رَاكِبَةٌ " , قَالَتْ : فَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَهُوَ عِنْدَ الْكَعْبَةِ يَقْرَأُ بِالطُّورِ , قَالَ أَبِي : وَقَرَأْتُهُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ , قَالَتْ : فَطُفْتُ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَئِذٍ يُصَلِّي بِجَنْبِ الْبَيْتِ وَهُوَ يَقْرَأُ بِالطُّورِ ، وَكِتَابٍ مَسْطُورٍ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب وہ مکہ مکرمہ پہنچیں تو بیمار تھیں انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا تذکرہ کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم سوار ہو کر لوگوں کے پیچھے رہتے ہوئے طواف کر لوحضرت ام سلمہ کہتی ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو خانہ کعبہ کے قریب سورت طور کی تلاوت کرتے ہوئے سنا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26714
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 464، م: 1276
حدیث نمبر: 26715
قُرَّأتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ : مَالِكٌ ، عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , أَنَّهُ قَالَ : سُئِلَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ وَأَبُو هُرَيْرَةَ عَنِ الْمُتَوَفَّى عَنْهَا زَوْجُهَا ، فَقَالَ : ابْنُ عَبَّاسٍ : آخِرَ الْأَجَلَيْنِ ، وَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : إِذَا وَلَدَتْ ، فَقَدْ حَلَّتْ ، فَدَخَلَ أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَسَأَلَهَا عَنْ ذَلِكَ ، فَقَالَتْ : وَلَدَتْ سُبَيْعَةُ الْأَسْلَمِيَّةُ بَعْدَ وَفَاةِ زَوْجِهَا بِنِصْفِ شَهْرٍ ، فَخَطَبَهَا رَجُلَانِ ، أَحَدُهُمَا شَابٌّ وَالْآخَرُ كَهْلٌ ، فَحَطَّتْ إِلَى الشَّابِّ ، فَقَالَ الْكَهْلُ : لَمْ تَحِلَّ ، وَكَانَ أَهْلُهَا غُيَّبًا ، وَرَجَا إِذَا جَاءَ أَهْلُهَا أَنْ يُؤْثِرُوهُ ، فَجَاءَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " قَدْ حَلَلْتِ ، فَانْكِحِي مَنْ شِئْتِ " .
مولانا ظفر اقبال
ابوسلمہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ابوہریرہ اور ابن عباس کے درمیان اس عورت کے متعلق اختلاف رائے ہوگیا جس کا شوہر فوت ہوجائے اور اس کے یہاں بچہ پیدا ہوجائے، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے تھے کہ وضع حمل کے بعد وہ نکاح کرسکتی ہے، حضرت ابن عباس کا کہنا تھا کہ وہ دو میں سے ایک طویل مدت کی عدت گزارے گی، پھر انہوں نے حضرت ام سلمہ کے پاس ایک قاصد بھیجا تو انہوں نے فرمایا کہ سبیعہ بنت حارث کے شوہر فوت ہوگئے تھے، ان کی وفات کے صرف پندرہ دن یعنی آدھ مہینہ بعد ہی ان کے یہاں بچہ پیدا ہوگیا پھر دو آدمیوں نے سبیعہ کے پاس پیغام نکاح بھیجا اور ایک آدمی کی طرف ان کا جھکاؤ بھی ہوگیا، جب لوگوں کو محسوس ہوا کہ وہ ان میں سے کسی ایک کی طرف متوجہ ہوجائے گی تو وہ کہنے لگے کہ ابھی تم حلال نہیں ہوئیں، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوگئیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم حلال ہوچکی ہو اس لئے جس سے چاہونکاح کرسکتی ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26715
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 26716
قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ : مَالِكٌ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَنَّ امْرَأَةً كَانَتْ تُهَرَاقُ الدَّمَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَاسْتَفْتَتْ لَهَا أُمُّ سَلَمَةَ زَوْجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " لِتَنْظُرْ عِدَّةَ اللَّيَالِي وَالْأَيَّامِ الَّتِي كَانَتْ تَحِيضُهُنَّ مِنَ الشَّهْرِ قَبْلَ أَنْ يُصِيبَهَا الَّذِي أَصَابَهَا ، فَلْتَتْرُكْ الصَّلَاةَ قَدْرَ ذَلِكَ مِنَ الشَّهْرِ ، فَإِذَا بَلَغَتْ ذَلِكَ ، فَلْتَغْتَسِلْ ، ثُمَّ تَسْتَثْفِرْ بِثَوْبٍ ، ثُمَّ تُصَلِّي " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت فاطمہ بنت حبیش رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا کہ میرا خون ہمیشہ جاری رہتا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ حیض نہیں ہے، وہ تو کسی رگ کا خون ہوگا، تمہیں چاہئے کہ اپنے ایام کا اندازہ کر کے بیٹھ جایا کرو، پھر غسل کر کے کپڑا باندھ لیا کرو اور نماز پڑھا کرو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26716
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وقد اختلف فيه على نافع
حدیث نمبر: 26717
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَافِعٍ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ : جَاءَ رَجُلَانِ مِنَ الْأَنْصَارِ يَخْتَصِمَانِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَوَارِيثَ بَيْنَهُمَا قَدْ دُرِسَتْ ، لَيْسَ بَيْنَهُمَا بَيِّنَةٌ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّكُمْ تَخْتَصِمُونَ إِلَيَّ ، وَإِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ ، وَلَعَلَّ بَعْضَكُمْ أَلْحَنُ بِحُجَّتِهِ أَوْ قَدْ قَالَ لِحُجَّتِهِ مِنْ بَعْضٍ , فَإِنِّي أَقْضِي بَيْنَكُمْ عَلَى نَحْوِ مَا أَسْمَعُ ، فَمَنْ قَضَيْتُ لَهُ مِنْ حَقِّ أَخِيهِ شَيْئًا ، فَلَا يَأْخُذْهُ ، فَإِنَّمَا أَقْطَعُ لَهُ قِطْعَةً مِنَ النَّارِ يَأْتِي بِهَا إِسْطَامًا فِي عُنُقِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " , فَبَكَى الرَّجُلَانِ ، وَقَالَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا : حَقِّي لِأَخِي ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَمَا إِذْ قُلْتُمَا ، فَاذْهَبَا فَاقْتَسِمَا ، ثُمَّ تَوَخَّيَا الْحَقَّ ، ثُمَّ اسْتَهِمَا ، ثُمَّ لِيَحْلِلْ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْكُمَا صَاحِبَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ دوانصاری میراث کے مسئلے میں اپنا مقدمہ لے کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا جس پر ان کے پاس گواہ بھی نہ تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نے ارشاد فرمایا تم لوگ میرے پاس اپنے مقدمات لے کر آتے ہو، ہوسکتا ہے کہ تم میں سے کوئی شخص دوسرے کی نسبت اپنی دلیل ایسی فصاحت و بلاغت کے ساتھ پیش کردے کہ میں اس کی دلیل کی روشنی میں اس کے حق میں فیصلہ کردوں (اس لئے یاد رکھو) میں جس شخص کی بات تسلیم کر کے اس کے بھائی کے کسی حق کا اس کے لئے فیصلہ کرتا ہوں تو سمجھ لو کہ میں اس کے لئے آگ کا ٹکڑا کاٹ کر اسے دے رہا ہوں، جسے وہ قیامت کے دن اپنے گلے میں لٹکا کر لائے گا، یہ سن کر وہ دونوں رونے لگے اور ہر ایک کہنے لگا کہ یہ میرے بھائی کا حق ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر یہ بات ہے تو جا کر اسے تقسیم کرلو اور حق طریقے سے قرعہ اندازی کرلو اور ہر ایک دوسرے سے اپنے لئے حلال کروالو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26717
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: قوله انكم تختصمون إلى... إلى قوله: فإنما أقطع له قطعة من النار صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 26718
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ : " كَانَ أَحَبُّ الْعَمَلِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَا دَامَ عَلَيْهِ ، وَإِنْ قَلَّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ اور ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے کسی نے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک سب سے پسندیدہ عمل کونسا تھا انہوں نے فرمایا جو ہمیشہ ہو اگرچہ تھوڑا ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26718
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 26719
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَى ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ فَرُّوخَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يُقَبِّلُنِي وَهُوَ صَائِمٌ وَأَنَا صَائِمَةٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مجھے روزہ کی حالت میں بوسہ دیدیتے تھے جب کہ میں بھی روزے سے ہوتی تھی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26719
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 26720
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ مَوْلَى الصَّهْبَاءِ ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : وَلا يَعْصِينَكَ فِي مَعْرُوفٍ سورة الممتحنة آية 12 , قَالَ : " النَّوْحُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ولا یعصینک فی معروف سے مراد یہ ہے عورتیں اس شرط پر بیعت کریں کہ وہ نوحہ نہیں کریں گی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26720
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف شهر بن حوشب
حدیث نمبر: 26721
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الصُّفَيْرَا ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَبْدُ الْعَزِيزِ ابْنُ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ , أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ لَمَّا تُوُفِّيَ عَنْهَا ، وَانْقَضَتْ عِدَّتُهَا ، خَطَبَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ فِيَّ ثَلَاثَ خِصَالٍ : أَنَا امْرَأَةٌ كَبِيرَةٌ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَنَا أَكْبَرُ مِنْكِ " ، قَالَتْ : وَأَنَا امْرَأَةٌ غَيُورٌ , قَالَ : " أَدْعُو اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ ، فَيُذْهِبُ عَنْكِ غَيْرَتَكِ " , قَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ , وَأَنَا امْرَأَةٌ مُصْبِيَةٌ , قَالَ : " هُمْ إِلَى اللَّهِ وَإِلَى رَسُولِهِ " , قَالَ : فَتَزَوَّجَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : فَأَتَاهَا ، فَوَجَدَهَا تُرْضِعُ ، فَانْصَرَفَ ، ثُمَّ أَتَاهَا ، فَوَجَدَهَا تُرْضِعُ ، فَانْصَرَفَ , قَالَ : فَبَلَغَ ذَلِكَ عَمَّارَ بْنَ يَاسِرٍ ، فَأَتَاهَا ، فَقَالَ : حُلْتِ بَيْنَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبَيْنَ حَاجَتِهِ ، هَلُمَّ الصَّبِيَّةَ ، قَالَ : فَأَخَذَهَا ، فَاسْتَرْضَعَ لَهَا ، فَأَتَاهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " أَيْنَ زُنَابُ ؟ " يَعْنِي زَيْنَبَ , قَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَخَذَهَا عَمَّارٌ , فَدَخَلَ بِهَا ، وَقَالَ : " إِنَّ بِكِ عَلَى أَهْلِكِ كَرَامَةً " , قَالَ : فَأَقَامَ عِنْدَهَا إِلَى الْعَشِيِّ ، ثُمَّ قَالَ : " إِنْ شِئْتِ سَبَّعْتُ لَكِ ، وَإِنْ سَبَّعْتُ لَكِ ، سَبَّعْتُ لِسَائِرِ نِسَائِي ، وَإِنْ شِئْتِ ، قَسَمْتُ لَكِ " , قَالَتْ : لَا ، بَلْ اقْسِمْ لِي .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ابوسلمہ کی وفات اور ان کی عدت گزرنے کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں پیغام نکاح بھیجا انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! مجھ میں تین خصلتیں ہیں، میں عمر میں بڑی ہوں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں تم سے بھی بڑا ہوں انہوں نے کہا کہ میں غیور عورت ہوں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں اللہ سے دعا کردوں گا وہ تمہاری غیرت دور کردے گا، انہوں نے کہا میرے بچے بھی ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ اللہ اور اس کے رسول کی ذمہ داری میں ہیں، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے نکاح فرمالیا۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی ان کے پاس خلوت کے لئے آتے تو وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھتے ہی اپنی بیٹی زینب کو پکڑ کر اسے اپنی گود میں بٹھالیتی تھیں اور بالآخر نبی صلی اللہ علیہ وسلم یوں ہی واپس چلے جاتے تھے، حضرت عماربن یاسر جو کہ حضرت ام سلمہ کے رضاعی بھائی تھے، کو یہ بات معلوم ہوئی تو وہ حضرت ام سلمہ کے پاس آئے اور ان سے کہا یہ گندی بچی کہاں ہے جس کے ذریعے تم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ایذاء دے رکھی ہے اور اسے پکڑ کر اپنے ساتھ لے گئے۔ اس مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور گھر میں داخل ہوئے تو اس کمرے کے چاروں کونوں میں نظریں دوڑا کر دیکھنے لگے پھر بچی کے متعلق پوچھا کہ زناب (زینب) کہاں گئی ؟ انہوں نے بتایا کہ حضرت عمار آئے تھے وہ اسے اپنے ساتھ لے گئے ہیں، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ساتھ خلوت کی اور فرمایا اگر تم چاہو تو میں تمہارے پاس سات دن گزارتا ہوں لیکن پھر اپنی دوسری بیویوں میں سے ہر ایک کے پاس بھی سات سات دن گزاروں گا۔ انہوں نے عرض کیا نہیں آپ باری مقرر کرلیجئے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26721
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: بعضه صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة عبدالعزيز بن بنت أم سلمة
حدیث نمبر: 26722
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الصُّفَيْرَا ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَبْدُ الْعَزِيزِ ابْنُ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ لَمَّا تُوُفِّيَ عَنْهَا ، وَانْقَضَتْ عِدَّتُهَا ، خَطَبَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ فِيَّ ثَلَاثَ خِصَالٍ : أَنَا امْرَأَةٌ كَبِيرَةٌ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَنَا أَكْبَرُ مِنْكِ " , قَالَتْ : وَأَنَا امْرَأَةٌ غَيُورٌ , قَالَ : " أَدْعُو اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ ، فَيُذْهِبُ غَيْرَتَكِ " , قَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ , وَإِنِّي امْرَأَةٌ مُصْبِيَةٌ , قَالَ : " هُمْ إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ " , قَالَ : فَتَزَوَّجَهَا رَسُولُ اللَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : فَأَتَاهَا ، فَوَجَدَهَا تُرْضِعُ ، فَانْصَرَفَ ، ثُمَّ أَتَاهَا ، فَوَجَدَهَا تُرْضِعُ ، فَانْصَرَفَ ، قَالَ : فَبَلَغَ ذَلِكَ عَمَّارَ بْنَ يَاسِرٍ ، فَأَتَاهَا ، فَقَالَ : حُلْتِ بَيْنَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبَيْنَ حَاجَتِهِ ، هَلُمَّ الصَّبِيَّةَ ، قَالَ : فَأَخَذَهَا ، فَاسْتَرْضَعَ لَهَا ، فَأَتَاهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " أَيْنَ زُنَابُ ؟ " يَعْنِي زَيْنَبَ , قَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَخَذَهَا عَمَّارٌ , فَدَخَلَ بِهَا ، فَقَالَ : " إِنَّ بِكِ عَلَى أَهْلِكِ كَرَامَةً " , قَالَ : فَأَقَامَ عِنْدَهَا إِلَى الْعَشِيِّ ، ثُمَّ قَالَ : " إِنْ شِئْتِ سَبَّعْتُ لَكِ ، وَإِنْ سَبَّعْتُ لَكِ ، سَبَّعْتُ لِسَائِرِ نِسَائِي ، وَإِنْ شِئْتِ ، قَسَمْتُ لَكِ " , قَالَتْ : لَا ، بَلْ اقْسِمْ لِي .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ابوسلمہ کی وفات اور ان کی عدت گزرنے کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں پیغام نکاح بھیجا انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! مجھ میں تین خصلتیں ہیں، میں عمر میں بڑی ہوں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں تم سے بھی بڑا ہوں انہوں نے کہا کہ میں غیور عورت ہوں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں اللہ سے دعا کردوں گا وہ تمہاری غیرت دور کردے گا، انہوں نے کہا میرے بچے بھی ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ اللہ اور اس کے رسول کی ذمہ داری میں ہیں، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے نکاح فرمالیا۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی ان کے پاس خلوت کے لئے آتے تو وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھتے ہی اپنی بیٹی زینب کو پکڑ کر اسے اپنی گود میں بٹھالیتی تھیں اور بالآخر نبی صلی اللہ علیہ وسلم یوں ہی واپس چلے جاتے تھے، حضرت عماربن یاسر جو کہ حضرت ام سلمہ کے رضاعی بھائی تھے، کو یہ بات معلوم ہوئی تو وہ حضرت ام سلمہ کے پاس آئے اور ان سے کہا یہ گندی بچی کہاں ہے جس کے ذریعے تم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ایذاء دے رکھی ہے اور اسے پکڑ کر اپنے ساتھ لے گئے۔ اس مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور گھر میں داخل ہوئے تو اس کمرے کے چاروں کونوں میں نظریں دوڑا کر دیکھنے لگے پھر بچی کے متعلق پوچھا کہ زناب (زینب) کہاں گئی ؟ انہوں نے بتایا کہ حضرت عمار آئے تھے وہ اسے اپنے ساتھ لے گئے ہیں، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ساتھ خلوت کی اور فرمایا اگر تم چاہو تو میں تمہارے پاس سات دن گزارتا ہوں لیکن پھر اپنی دوسری بیویوں میں سے ہر ایک کے پاس بھی سات سات دن گزاروں گا۔ انہوں نے عرض کیا نہیں آپ باری مقرر کرلیجئے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26722
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: بعضه صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة عبدالعزيز بن بنت أم سلمة
حدیث نمبر: 26723
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ ابْنِ ابْنَةِ أُمِّ سَلَمَةَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ , أَنَّهُ بَلَغَهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَا مِنْ أَحَدٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ يُصَابُ بِمُصِيبَةٍ ، فَيَقُولُ إِنَّا لِلَّهِ ، وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ ، اللَّهُمَّ أْجُرْنِي فِي مُصِيبَتِي ، وَاخْلُفْ عَلَيَّ بِخَيْرٍ مِنْهَا ، إِلَّا فُعِلَ بِهِ ذَلِكَ " , قَالَتْ : فَقُلْتُ : هَذَا ، فَآجَرَنِي اللَّهُ فِي مُصِيبَتِي ، فَمَنْ يَخْلُفُ عَلَيَّ مَكَانَ أَبِي سَلَمَةَ ؟ فَلَمَّا انْقَضَتْ عِدَّتُهَا ، خَطَبَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جس شخص کو کوئی مصیبت پہنچے اور وہ اناللہ وانا الیہ راجعون کہہ کر یہ دعا کرلے کہ اے اللہ ! مجھے اس مصیبت پر اجرعطا فرما اور مجھے اس کا بہترین نعم البدل عطاء فرما تو اللہ تعالیٰ اسے اس کی مصیبت پر اجر فرمائے گا اور اسے اس کا نعم البدل عطا فرمائے گا جب میرے شوہر ابوسلمہ فوت ہوئے تو میں نے سوچا کہ ابوسلمہ سے بہتر کون ہوسکتا ہے پھر بھی اللہ تعالیٰ نے مجھے عزت کی قوت دی اور میں نے یہ دعاء پڑھ لی اور عدت گزرنے کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے پاس پیغام نکاح بھیج دیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26723
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: بعضه صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة عبدالعزيز بن بنت أم سلمة
حدیث نمبر: 26724
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَجَّاجِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ طَحْلَاءَ ، قَالَ : قُلْتُ لِأَبِي سَلَمَةَ : إِنَّ ظِئْرَكَ سُلَيْمًا لَا يَتَوَضَّأُ مِمَّا مَسَّتْ النَّارُ , قَالَ : فَضَرَبَ صَدْرَ سُلَيْمٍ , وَقَالَ : أَشْهَدُ عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَنْهَا كَانَتْ تَشْهَدُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ : " يَتَوَضَّأُ مِمَّا مَسَّتْ النَّارُ " .
مولانا ظفر اقبال
محمد بن طحلاء کہتے ہیں کہ میں نے ابوسلمہ سے کہا کہ آپ کی دائی کا شوہر سلیم آگ پر پکی ہوئی چیز کھانے کے بعد نیا وضو نہیں کرتا، تو انہوں نے سلیم کے سینے پر ہاتھ مار کر کہا کہ میں حضرت ام سلمہ جو کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ تھیں کے متعلق شہادت دیتا ہوں کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق آگ پر پکی ہوئی چیز کھانے کے بعد وضو کرنے کی شہادت دیتی تھیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26724
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 26725
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ الْحَكَمِ ، عَنْ مِقْسَمٍ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ : " يُوتِرُ بِسَبْعٍ ، أَوْ خَمْسٍ ، لَا يَفْصِلُ بَيْنَهُنَّ بِكَلَامٍ وَلَا تَسْلِيمٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سات یا پانچ رکعتوں پر وتر پڑھتے تھے اور ان کے درمیان سلام یا کلام کسی طرح بھی فصل نہیں فرماتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26725
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لانقطاعه، مقسم لم يسمع من أم سلمة ، وقد اختلف فى إسناده
حدیث نمبر: 26726
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ ، قَالَتْ : وَالَّذِي ذَهَبَ بِنَفْسِهِ ، مَا مَاتَ حَتَّى كَانَ " أَكْثَرُ صَلَاتِهِ وَهُوَ جَالِسٌ ، وَكَانَ أَحَبَّ الْأَعْمَالِ إِلَيْهِ الْعَمَلُ الصَّالِحُ الَّذِي يَدُومُ عَلَيْهِ الْعَبْدُ ، وَإِنْ كَانَ يَسِيرًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا جس وقت وصال ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اکثر نمازیں بیٹھ کر ہوتی تھیں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک سب سے پسندیدہ عمل وہ تھا جو ہمیشہ ہو اگرچہ تھوڑا ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26726
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، أبو إسحاق مختلط ولم يتبين لنا أمر أبى الأحوص أسمع قبل اختلاط أبى إسحاق أم بعده، وقد توبع
حدیث نمبر: 26727
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَبِي الْخَلِيلِ ، عَنْ سَفِينَةَ مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ وَهُوَ فِي الْمَوْتِ : " الصَّلَاةَ الصَّلَاةَ وَمَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ " , فَجَعَلَ يَتَكَلَّمُ بِهَا ، وَمَا يَفِيضُ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی آخری وصیت یہ تھی کہ نماز کا خیال رکھنا اور اپنے غلاموں کے ساتھ حسن سلوک کرنا یہی کہتے کہتے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا سینہ مبارک کھڑکھڑانے اور زبان رکنے لگی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26727
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، أبو الخليل لم يسمع من سفينة
حدیث نمبر: 26728
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ الْحَسَنِ ، عَنْ ضَبَّةَ بْنِ مُحْصِنٍ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " سَيَكُونُ أُمَرَاءُ ، يَعْرِفُونَ وَيُنْكِرُونَ ، فَمَنْ عَرَفَ بَرِئَ ، وَمَنْ أَنْكَرَ سَلِمَ ، وَلَكِنْ مَنْ رَضِيَ وَتَابَعَ " , قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَفَلَا نُقَاتِلُ فُجَّارَهُمْ ؟ قَالَ : " لَا ، مَا صَلَّوْا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا عنقریب چھ حکمران ایسے آئیں گے جن کی عادات میں سے بعض کو تم اچھا سمجھو گے اور بعض پر نکیر کروگے سو جو نکیر کرے گا وہ اپنی ذمہ داری سے بری ہوجائگا اور جو ناپسندیدگی کا اظہار کردے گا وہ محفوظ رہے گا، البتہ جو راضی ہو کر اس کے تابع ہوجائے (تو اس کا حکم دوسرا ہے) صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ کیا ہم ان سے قتال نہ کریں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں جب تک وہ تمہیں پانچ نمازیں پڑھاتے رہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26728
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1854
حدیث نمبر: 26729
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا خَرَجَ مِنْ بَيْتِهِ , قَالَ : " بِسْمِ اللَّهِ قَالَ شُعْبَةُ : أَكْبَرُ عِلْمِي أَنَّهُ قَدْ قَالَهَا , قَالَ : وَقَدْ ذَكَرَهُ سُفْيَانُ عَنْهُ ، وَلَيْسَ فِي بَقِيَّتِهِ شَكٌّ , اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ أَنْ أَضِلَّ أَوْ أَزِلَّ ، أَوْ أَظْلِمَ أو أُظْلَم ، أَوْ أَجْهَلَ أَوْ يُجْهَلَ عَلَيَّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب گھر سے نکلتے تو یہ دعا پڑھتے، اللہ کے نام سے میں اللہ پر بھروسہ کرتا ہوں اے اللہ ! ہم اس بات سے آپ کی پناہ میں آتے ہیں کہ پھسل جائیں یا گمراہ ہوجائیں یا ظلم کریں یا کوئی ہم پر ظلم کرے یا ہم کسی سے جہالت کا مظاہرہ کریں یا کوئی ہم سے جہالت کا مظاہرہ کرے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26729
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لانقطاعه، الشعبي لم يسمع من أم سلمة
حدیث نمبر: 26730
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا إِسْحَاقَ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَلَمَةَ يُحَدِّثُ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ : " مَا مَاتَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى : كَانَ أَكْثَرَ صَلَاتِهِ قَاعِدًا غَيْرَ الْفَرِيضَةِ ، وَكَانَ أَحَبُّ الْعَمَلِ إِلَيْهِ أَدْوَمَهُ وَإِنْ قَلَّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا جس وقت وصال ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اکثر نمازیں بیٹھ کر ہوتی تھیں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک سب سے پسندیدہ عمل وہ تھا جو ہمیشہ ہو اگرچہ تھوڑا ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26730
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 26731
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي عَائِشَةَ ، عَنْ مَوْلًى لِأُمِّ سَلَمَةَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ إِذَا صَلَّى الصُّبْحَ حِينَ يُسَلِّمُ : " اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ عِلْمًا نَافِعًا ، وَرِزْقًا طَيِّبًا ، وَعَمَلًا مُتَقَبَّلًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز فجر کے بعد یہ دعاء فرماتے تھے اے اللہ ! میں تجھ سے علم نافع، عمل مقبول اور رزق حلال کا سوال کرتا ہوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26731
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لإبهام مولي أم سلمة
حدیث نمبر: 26732
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا هَارُونُ النَّحْوِيُّ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ : " قَرَأَ إِنَّهُ عَمِلَ غَيْرَ صَالِحٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سورت ہود کی یہ آیت اس طرح پڑھی ہے انہ عمل غیرصالح۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26732
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث محتمل للتحسين بشاهده،وهذا إسناده ضعيف لضعف شهر بن حوشب
حدیث نمبر: 26733
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ , أَنَّهَا قَالَتْ : كَانَ " يُفْرَشُ لِي حِيَالَ مُصَلَّى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَكَانَ يُصَلِّي وَأَنَا حِيَالُهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میرا بستر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مصلی کے بالکل سامنے بچھا ہوتا تھا اور میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے لیٹی ہوتی تھی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ رہے ہوتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26733
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 26734
حَدَّثَنَا مَعْمَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ الرَّقِّيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا خُصَيْفٌ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَنَّهَا سَأَلَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الذَّهَبِ يُرْبَطُ بِهِ الْمِسْكُ أَوْ تُرْبَطُ ، قَالَ : " اجْعَلِيهِ فِضَّةً ، وَصَفِّرِيهِ بِشَيْءٍ مِنْ زَعْفَرَانٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا یا رسول اللہ ! کیا ہم تھوڑا سا سونا لے کر اس میں مشک نہ ملا لیا کریں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم اسے چاندی کے ساتھ کیوں نہیں ملاتیں، پھر اسے زعفران کے ساتھ خلط ملط کرلیا کرو، جس سے وہ چاندی بھی سونے کی طرح ہوجائیگی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26734
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف خصيف
حدیث نمبر: 26735
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ : لَبِسْتُ قِلَادَةً فِيهَا شَعَرَاتٌ مِنْ ذَهَبٍ ، قَالَتْ : فَرَآهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَعْرَضَ عَنِّي ، فَقَالَ : " مَا يُؤَمِّنُكِ أَنْ يُقَلِّدَكِ اللَّهُ مَكَانَهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ شَعَرَاتٍ مِنْ نَارٍ " , قَالَتْ : فَنَزَعْتُهَا.
مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے ایک ہار پہن لیا جس میں سونے کی دھاریاں بنی ہوئی تھیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دیکھ کر مجھ سے اعراض کرتے ہوئے فرمایا کہ تمہیں اس بات سے کس نے بےخوف کردیا کہ اللہ تعالیٰ تمہیں قیامت کے دن اس کی جگہ آگ کی دھاریاں پہنائے گا ؟ چنانچہ میں نے اسے اتاردیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26735
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده فيه ضعف وانقطاع، ليث ضعيف وعطاء لم يسمع من أم سلمة
حدیث نمبر: 26736
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي نَجِيحٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، قَالَ : قَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، يَغْزُو الرِّجَالُ ، وَلَا نَغْزُو ، وَلَنَا نِصْفُ الْمِيرَاثِ ؟ فَأَنْزَلَ اللَّهُ : وَلا تَتَمَنَّوْا مَا فَضَّلَ اللَّهُ بِهِ بَعْضَكُمْ عَلَى بَعْضٍ سورة النساء آية 32 .
مولانا ظفر اقبال
مجاہد سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت ام سلمہ نے بارگاہ نبوت میں عرض کیا یا رسول اللہ مرد جہاد میں شرکت کرتے ہیں لیکن ہم اس میں شرکت نہیں کرسکتے، پھر ہمیں میراث بھی نصف ملتی ہے ؟ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اس چیز کی تمنا مت کیا کرو جس میں اللہ نے تم میں سے بعض کو بعض پر فضیلت دے رکھی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26736
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، فيه انقطاع بين مجاهد و أم سلمة
حدیث نمبر: 26737
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا سَلَّامُ بْنُ أَبِي مُطِيعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ ، قَالَ : دَخَلْتُ عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَرَتْنِي شَعْرًا مِنْ شَعْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَخْضُوبًا بِالْحِنَّاءِ وَالْكَتَمِ " .
مولانا ظفر اقبال
عثمان بن عبداللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم لوگ حضرت ام سلمہ کے پاس گئے تو انہوں نے ہمارے سامنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک بال نکال کر دکھایا جو کہ مہندی اور وسمہ سے رنگا ہوا ہونے کی وجہ سے سرخ ہوچکا تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26737
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5896
حدیث نمبر: 26738
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ الْجَزَّارِ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يُوتِرُ بِثَلَاثَ عَشْرَةَ ، فَلَمَّا كَبِرَ وَضَعُفَ ، أَوْتَرَ بِسَبْعٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ پہلے نبی صلی اللہ علیہ وسلم تیرہ رکعتوں پر وتر بناتے تھے لیکن جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عمربڑھ گئی اور کمزوری ہوگئی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سات رکعتوں پر وتر بنانے لگے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26738
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد اختلف فيه على الاعمش
حدیث نمبر: 26739
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا حَضَرْتُمْ الْمَيِّتَ أَوْ الْمَرِيضَ فَقُولُوا خَيْرًا ، فَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ يُؤَمِّنُونَ عَلَى مَا تَقُولُونَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب تم کسی قریب المرگ یا بیمار آدمی کے پاس جایا کرو تو اس کے حق میں دعائے خیر کیا کرو کیونکہ ملائکہ تمہاری دعاء پر آمین کہتے ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26739
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 919
حدیث نمبر: 26740
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ , أَنَّ فَاطِمَةَ اسْتُحِيضَتْ ، وَكَانَتْ تَغْتَسِلُ فِي مِرْكَنٍ لَهَا ، فَتَخْرُجُ وَهِيَ عَالِيَةُ الصُّفْرَةِ وَالْكُدْرَةِ ، فَاسْتَفْتَتْ لَهَا أُمُّ سَلَمَةَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : " تَنْتَظِرُ أَيَّامَ قُرْئِهَا أَوْ أَيَّامَ حَيْضِهَا فَتَدَعُ فِيهِ الصَّلَاةَ ، وَتَغْتَسِلُ فِيمَا سِوَى ذَلِكَ ، وَتَسْتَثْفِرُ بِثَوْبٍ ، وَتُصَلِّي " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ فاطمہ بنت ابی حبیش کا دم استحاضہ جاری رہتا تھا، وہ اپنے ٹب میں غسل کرکے جب نکلتیں تو اس کی سطح پر زردی اور مٹیالاپن غالب ہوتا تھا حضرت ام سلمہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا حکم دریافت کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ اتنے دن رات تک انتظار کرے جتنے دن تک اسے پہلے ناپاکی کا سامنا ہوتا تھا اور مہینے میں اتنے دنوں کا اندازہ کرلے اور اتنے دن تک نماز چھوڑے رکھے اس کے بعد غسل کر کے کپڑا باندھ لے اور نماز پڑھنے لگے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26740
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، لكن اختلف فيه على أيوب
حدیث نمبر: 26741
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَبُو عَوْنٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ شَدَّادِ بْنِ الْهَادِ يُحَدِّثُ ، قَالَ : قَالَ مَرْوَانُ : كَيْفَ نَسْأَلُ أَحَدًا عَنْ شَيْءٍ وَفِينَا أَزْوَاجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ فَأَرْسَلَ إِلَى أُمِّ سَلَمَةَ فَسَأَلَهَا ، فَقَالَتْ : دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " فَنَشَلْتُ لَهُ كَتِفًا مِنْ قِدْرٍ ، فَأَكَلَ مِنْهَا ، ثُمَّ خَرَجَ إِلَى الصَّلَاةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے شانے کا گوشت تناول فرمایا اسی دوران حضرت بلال آگئے اور نبی علیہ السلا پانی کو ہاتھ لگائے بغیر نماز کے لئے تشریف لے گئے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26741
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 26742
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ , " أَنَّ قِرَاءَةَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَتْ فَوَصَفَتْ ، بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ سورة الفاتحة آية 1 ، حَرْفًا حَرْفًا ، قِرَاءَةً بَطِيئَةً , قَطَّعَ عَفَّانُ قِرَاءَتَهُ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی قرأت کے حوالے سے مروی ہے کہ انہوں نے سورت فاتحہ کی پہلی تین آیات کو توڑتوڑ کر پڑھ کر (ہر آیت پر وقف کر کے) دکھایا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26742
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: رجاله ثقات
حدیث نمبر: 26743
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي الْحَذَّاءَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ , أَنَّهَا كَانَتْ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي لِحَافٍ ، فَأَصَابَهَا الْحَيْضُ ، فَقَالَ : " قُومِي ، فَاتَّزِرِي ، ثُمَّ عُودِي " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک لحاف میں تھی کہ مجھے ایام شروع ہوگئے میں کھسکنے لگی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جا کر ازارباندھو اور واپس آجاؤ !
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26743
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لانقطاعه، عكرمة لم يسمع من أم سلمة، وقد اختلف عليه فيه
حدیث نمبر: 26744
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو حَمْزَةَ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ , رَأَتْ نَسِيبًا لَهَا يَنْفُخُ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَسْجُدَ ، فَقَالَتْ : لَا تَنْفُخْ ، فَإِنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِغُلَامٍ لَنَا يُقَالُ : لَهُ رَبَاحٌ : " تَرِّبْ وَجْهَكَ يَا رَبَاحُ " .
مولانا ظفر اقبال
ابوصالح کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت ام سلمہ کی خدمت میں حاضر ہوا اسی دوارن وہاں ان کا ایک بھتیجا بھی آگیا اور اس نے ان کے گھر میں دو رکعتیں پڑھیں، دوران نماز جب وہ سجدہ میں جانے لگا تو اس نے مٹی اڑانے کے لئے پھونک ماری تو حضرت ام سلمہ نے اس سے فرمایا بھتیجے پھونکیں نہ مارو کیونکہ میں نے نبی علیہ السلا کو بھی ایک مرتبہ اپنے غلام جس کا نام یسار تھا اور اس نے بھی پھونک ماری تھی سے فرماتے ہوئے سنا تھا کہ اپنے چہرے کو اللہ کے لئے خاک آلود ہونے دو ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26744
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف أبى حمزة، وقد اختلف فى تعيين أبى صالح
حدیث نمبر: 26745
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ سَعِيدٍ يَعْنِي ابْنَ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ أَبِي أُمَيَّةَ ، عَنْ أُخْتِهِ أُمِّ سَلَمَةَ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ : " يُصْبِحُ جُنُبًا ، فَيَصُومُ ، وَلَا يُفْطِرُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر صبح کے وقت اختیاری طور پر غسل واجب ہوتا تھا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم روزہ رکھ لیتے تھے اور ناغہ نہ کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26745
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 26746
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ لِفَاطِمَةَ : " ائْتِينِي بِزَوْجِكِ وَابْنَيْكِ " , فَجَاءَتْ بِهِمْ ، فَأَلْقَى عَلَيْهِمْ كِسَاءً فَدَكِيًّا ، قَالَ : ثُمَّ وَضَعَ يَدَهُ عَلَيْهِمْ ، ثُمَّ قَالَ : " اللَّهُمَّ إِنَّ هَؤُلَاءِ آلُ مُحَمَّدٍ ، فَاجْعَلْ صَلَوَاتِكَ وَبَرَكَاتِكَ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ " , قَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ فَرَفَعْتُ الْكِسَاءَ لِأَدْخُلَ مَعَهُمْ ، فَجَذَبَهُ مِنْ يَدِي ، وَقَالَ : " إِنَّكِ عَلَى خَيْرٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت فاطمہ سے فرمایا کہ اپنے شوہر اور بچوں کو بھی بلال اؤ چنانچہ حضرت علی اور حضرات حسنین بھی آگئے۔ نبی علیہ السلام نے فدک کی چادرلے کر ان سب پر ڈال دی اور اپنا ہاتھ باہر نکال کر آسمان کی طرف اشارہ کر کے فرمایا اے اللہ یہ لوگ میرے اہل بیت ہیں تو محمد و آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر اپنی رحمتوں اور برکتوں کا نزول فرما بیشک تو قابل تعریف بزرگی والا ہے، اس پر میں نے اس کمرے میں اپنا سر داخل کرکے عرض کیا یا رسول اللہ میں بھی تو آپ کے ساتھ ہوں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم بھی خیر پر ہو، تم بھی خیر پر ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26746
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف على بن زيد وشهر بن حوشب
حدیث نمبر: 26747
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ أَبِي صَغِيرَةَ ، عَنْ الْمُهَاجِرِ ابْنِ الْقِبْطِيَّةِ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَنَّهُ قَالَ : " لَيُخْسَفَنَّ بِقَوْمٍ يَغْزُونَ هَذَا الْبَيْتَ بِبَيْدَاءَ مِنَ الْأَرْضِ " , فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَإِنْ كَانَ فِيهِمْ الْكَارِهُ ؟ قَالَ : " يُبْعَثُ كُلُّ رَجُلٍ مِنْهُمْ عَلَى نِيَّتِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس لشکرکا تذکرہ کیا جسے زمین میں دھنسا دیا جائے گا تو حضرت ام سلمہ نے عرض کیا کہ ہوسکتا ہے اس لشکر میں ایسے لوگ بھی ہوں جنہیں زبردستی اس میں شامل کرلیا گیا ہو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انہیں ان کی نیتوں پر اٹھایا جائے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26747
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 26748
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ , قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الْجَدَلِيِّ ، قَالَ : دَخَلْتُ عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ ، فَقَالَتْ لِي : أَيُسَبُّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيكُمْ ؟ قُلْتُ : مَعَاذَ اللَّهِ ، أَوْ سُبْحَانَ اللَّهِ ، أَوْ كَلِمَةً نَحْوَهَا ، قَالَتْ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " مَنْ سَبَّ عَلِيًّا ، فَقَدْ سَبَّنِي " .
مولانا ظفر اقبال
ابو عبداللہ جدلی کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت ام سلمہ کی خدمت میں حاضر ہوا تو انہوں نے مجھ سے فرمایا کیا تمہاری موجودگی میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو برابھلا کہا جارہا ہے ؟ میں نے کہا معاذ اللہ ! یہ کیسے ہوسکتا ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو علی کو برا بھلا کہتا ہے وہ مجھے برا بھلا کہتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26748
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 26749
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ مُبَارَكٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ يَزِيدَ وَهُوَ أَبُو شُجَاعٍ , قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ هُرْمُزَ الْأَعْرَجَ , يَقُولُ : حَدَّثَنِي نَاعِمٌ مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ , أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ سُئِلَتْ : أَتَغْتَسِلُ الْمَرْأَةُ مَعَ الرَّجُلِ ؟ فَقَالَتْ : نَعَمْ ، إِذَا كَانَتْ كَيِّسَةً ، رَأَيْتُنِي وَرَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " نَغْتَسِلُ مِنْ مِرْكَنٍ وَاحِدٍ ، نُفِيضُ عَلَى أَيْدِينَا حَتَّى نُنْقِيَهَا ، ثُمَّ نُفِيضُ عَلَيْنَا الْمَاءَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے کسی نے سوال پوچھا کہ کیا عورت مرد کے ساتھ غسل کرسکتی ہے ؟ انہوں نے فرمایا ہاں جبکہ وہ باشعور ہو (مراد بیوی ہونا ہے) میں نے وہ وقت دیکھا ہے کہ میں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک ہی ٹب سے غسل کرلیا کرتے تھے، پہلے ہم اپنے ہاتھوں پر پانی بہا کر انہیں اچھی طرح صاف کرتے تھے پھر اپنے جسم پر پانی بہا لیتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26749
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 26750
حَدَّثَنَا عَتَّابُ بْنُ زِيَادٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ مُبَارَكٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُمَرَ بْنِ عَلِيٍّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ كُرَيْبٍ , أَنَّهُ سَمِعَ أُمَّ سَلَمَةَ , تَقُولُ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ يَوْمَ السَّبْتِ وَيَوْمَ الْأَحَدِ أَكْثَرَ مِمَّا يَصُومُ مِنَ الْأَيَّامِ , وَيَقُولُ : " إِنَّهُمَا عِيدَا الْمُشْرِكِينَ ، فَأَنَا أُحِبُّ أَنْ أُخَالِفَهُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم عام دنوں کی نسبت ہفتہ اور اتوار کے دن کثرت کے ساتھ روزے رکھتے تھے اور فرماتے تھے کہ یہ مشرکین کی عید کے دن ہیں اس لئے میں چاہتا ہوں کہ ان کے خلاف کروں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26750
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن