حدیث نمبر: 26671
حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ أُسَامَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ زَيْنَبَ ابْنَةِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَلْ لِي مِنْ أَجْرٍ فِي بَنِي أَبِي سَلَمَةَ أَنْ أُنْفِقَ عَلَيْهِمْ ؟ وَلَسْتُ بِتَارِكَتِهِمْ هَكَذَا وَهَكَذَا ، إِنَّمَا هُمْ بَنِيَّ ؟ قَالَ : " نَعَمْ ، لَكِ فِيهِمْ أَجْرٌ مَا أَنْفَقْتِ عَلَيْهِمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے ایک مرتبہ بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ اگر میں ابوسلمہ کے بچوں پر کچھ خرچ کردوں تو کیا مجھے اس پر اجر ملے گا کیونکہ میں انہیں اس حال میں چھوڑ نہیں سکتی کہ وہ میرے بھی بچے ہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں تم ان پر جو کچھ خرچ کرو گی تمہیں اس کا اجر ملے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26671
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1467، م: 1001
حدیث نمبر: 26672
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ ، عَنْ زَائِدَةَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي رِبْعِيُّ بْنُ حِرَاشٍ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ : دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ سَاهِمُ الْوَجْهِ ، قَالَتْ : فَحَسِبْتُ ذَلِكَ مِنْ وَجَعٍ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَرَاكَ سَاهِمَ الْوَجْهِ ، أَفَمِنْ وَجَعٍ ؟ فَقَالَ : " لَا ، وَلَكِنَّ الدَّنَانِيرَ السَّبْعَةَ الَّتِي أُتِينَا بِهَا أَمْسِ ، أَمْسَيْنَا وَلَمْ نُنْفِقْهَا ، نَسِيتُهَا فِي خُصْمِ الْفِرَاشِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے تو چہرے کا رنگ اڑا ہوا تھا میں سمجھی کہ شاید کوئی تکلیف ہے سو میں نے پوچھا اے اللہ کے نبی کیا بات ہے آپ کے چہرے کا رنگ اڑا ہوا ہے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دراصل میرے پاس سات دینار رہ گئے ہیں جو کل ہمارے پاس آئے تھے شام ہوگئی اور اب تک وہ ہمارے بستر پر پڑے ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26672
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 26673
حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ عَمَّارٍ الدُّهْنِيِّ ، عَنْ امْرَأَةٍ مِنْهُمْ ، أَنَّهَا سَأَلَتْ أُمَّ سَلَمَةَ عَنِ النَّبِيذِ ، فَقَالَتْ : كُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ ، نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ : " الْمُزَفَّتِ ، وَعَنِ الدُّبَّاءِ ، وَالْحَنْتَمِ " .
مولانا ظفر اقبال
ایک خاتون نے حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے نبیذ کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ ہر نشہ آور چیز حرام ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مزفت دباء اور حنتم سے منع فرمایا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26673
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لإبهام المرأة التى روت عن أم سلمة
حدیث نمبر: 26674
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ وَاصِلٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ الْفَضْلِ وَيَزِيدُ بْنُ هَارُونَ , قال : أَخْبَرَنَا الْقَاسِمُ , عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْحَجُّ جِهَادُ كُلِّ ضَعِيفٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ حج ہر کمزور کا جہاد ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26674
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لانقطاعه، أبو جعفر الباقر لم يسمع من أم سلمة
حدیث نمبر: 26675
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، أَنَّ سُلَيْمَانَ بْنَ يَسَارٍ أَخْبَرَهُ , أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ أَخْبَرَهُ ، أَنَّهُ اجْتَمَعَ هُوَ وَابْنُ عَبَّاسٍ عِنْدَ أَبِي هُرَيْرَةَ ، فَبَعَثُوا كُرَيْبًا مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ إِلَى أُمِّ سَلَمَةَ يَسْأَلُهَا , فَذَكَرَتْ أُمُّ سَلَمَةَ : أَنَّ سُبَيْعَةَ الْأَسْلَمِيَّةَ تُوُفِّيَ عَنْهَا زَوْجُهَا ، فَنُفِسَتْ بَعْدَهُ بِلَيَالٍ ، فَذَكَرَتْ سُبَيْعَةُ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، " فَأَمَرَهَا أَنْ تَتَزَوَّجَ " .
مولانا ظفر اقبال
ابوسلمہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ابوہریرہ اور ابن عباس کے درمیان اس عورت کے متعلق اختلاف رائے ہوگیا جس کا شوہر فوت ہوجائے اور اس کے یہاں بچہ پیدا ہوجائے، انہوں نے حضرت ام سلمہ کے پاس ایک قاصد بھیجا تو انہوں نے فرمایا کہ سبیعہ بنت حارث کے شوہر فوت ہوگئے تھے، ان کی وفات کے صرف پندرہ دن یعنی آدھ مہینہ بعد ہی ان کے یہاں بچہ پیدا ہوگیا، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوگئیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم حلال ہوچکی ہو اس لئے جس سے چاہو نکاح کرسکتی ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26675
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 4909، م: 1485
حدیث نمبر: 26676
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَافِعٍ مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَتْنَا أُمُّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِذَا حَضَرَتْ الصَّلَاةُ ، وَحَضَرَ الْعَشَاءُ ، فَابْدَءُوا بِالْعَشَاءِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب رات کا کھانا اور نماز کا وقت جمع ہوجائیں تو پہلے کھانا کھالیا کرو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26676
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 26677
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَافِعٍ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي امْرَأَةٌ أَشُدُّ ضَفْرَ رَأْسِي ، أَفَأَنْقُضُهُ عِنْدَ الْغُسْلِ مِنَ الْجَنَابَةِ ؟ فَقَالَ : " إِنَّمَا يَكْفِيكِ ثَلَاثُ حَفَنَاتٍ تَصُبِّينَهَا عَلَى رَأْسِكِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا یا رسول اللہ میں ایسی عورت ہوں کہ اپنے سر کے بال (زیادہ لمبے ہونے سے) چوٹی بنا کر رکھنے پڑتے ہیں (تو کیا غسل کرتے وقت انہیں ضرور کھولا کروں ؟ ) نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہارے لئے یہی کافی ہے کہ اس پر تین مرتبہ اچھی طرح پانی بہا لو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26677
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 330
حدیث نمبر: 26678
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ الْأَزْرَقِ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ ذَكْوَانَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ : صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعَصْرَ ، ثُمَّ دَخَلَ بَيْتِي ، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، صَلَّيْتَ صَلَاةً لَمْ تَكُنْ تُصَلِّيهَا ، فَقَالَ : " قَدِمَ عَلَيَّ مَالٌ ، فَشَغَلَنِي عَنِ الرَّكْعَتَيْنِ كُنْتُ أَرْكَعُهُمَا بَعْدَ الظُّهْرِ ، فَصَلَّيْتُهُمَا الْآنَ " , فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَفَنَقْضِيهِمَا إِذَا فَاتَتَا ، قَالَ : " لَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کی نماز پڑھائی اس دن کہیں سے مال آیا ہوا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسے تقسیم کرنے کے لئے بیٹھ گئے حتی کہ مؤذن عصر کی اذان دینے لگا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کی نماز پڑھی اور میرے ہاں تشریف لے آئے کیونکہ اس دن میری باری تھی اور میرے یہاں دو مختصر رکعتیں پڑھیں اس پر میں نے عرض کیا یا رسول اللہ یہ دو رکعتیں کیسی ہیں جن کا آپ کو حکم دیا گیا ہے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں بلکہ یہ وہ رکعتیں ہیں جو میں ظہر کے بعد پڑھا کرتا تھا لیکن مال کی تقسم میں ایسا مشغول ہوا کہ مؤذن میرے پاس عصر کی نماز کی اطلاع لے کر آگیا، میں نے انہیں چھوڑنا مناسب نہ سمجھا (اس لئے اب پڑھ لیا) میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! کیا ہم بھی ان کی قضاء کرسکتے ہیں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26678
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صلاة النبى ﷺ بعد العصر ركعتين صحيح، وهذا إسناد اختلف فيه
حدیث نمبر: 26679
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو كَعْبٍ صَاحِبُ الْحَرِيرِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي شَهْرُ بْنُ حَوْشَبٍ ، قَالَ : قُلْتُ لِأُمِّ سَلَمَةَ : يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ ، مَا كَانَ أَكْثَرَ دُعَاءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا كَانَ عِنْدَكِ ؟ قَالَتْ : كَانَ أَكْثَرُ دُعَائِهِ : " يَا مُقَلِّبَ الْقُلُوبِ ، ثَبِّتْ قَلْبِي عَلَى دِينِكَ " , قَالَتْ : فَقُلْتُ لَهُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا أَكْثَرَ دُعَاءَكَ يَا مُقَلِّبَ الْقُلُوبِ ، ثَبِّتْ قَلْبِي عَلَى دِينِكَ ؟ قَالَ : " يَا أُمَّ سَلَمَةَ ، مَا مِنْ آدَمِيٍّ ، إِلَّا وَقَلْبُهُ بَيْنَ أُصْبُعَيْنِ مِنْ أَصَابِعِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ، مَا شَاءَ أَقَامَ ، وَمَا شَاءَ أَزَاغَ " , قَالَ عَبْد اللَّهِ : سَأَلْتُ أَبِي عَنْ أَبِي كَعْبٍ ؟ فَقَالَ : ثِقَةٌ ، وَاسْمُهُ : عَبْدُ رَبِّهِ بْنُ عُبَيْدٍ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اکثریہ دعاء فرمایا کرتے تھے، اے دلوں کو پھیرنے والے اللہ میرے دل کو اپنے دین پر ثابت قدمی عطاء فرما میں نے عرض کیا یا رسول اللہ کیا دلوں کو بھی پھیرا جاتا ہے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں اللہ نے جس انسان کو بھی پیدا فرمایا اس کا دل اللہ کی دو انگلیوں کے درمیان ہوتا ہے پھر اگر اس کی مشیت ہوتی ہے تو وہ اسے سیدھا رکھتا ہے اور اگر اس کی مشیت ہوتی ہے تو اسے ٹیڑھا کردیتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26679
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح بشواهده، وهذا إسناد ضعيف لضعف شهر بن حوشب
حدیث نمبر: 26680
حَدَّثَنَا مُعَاذٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ ، عَنْ الْحَسَنِ ، عَنْ أُمِّهِ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ : مَا نَسِيتُهُ يَوْمَ الْخَنْدَقِ وَقَدْ اغْبَرَّ صَدْرُهُ وَهُوَ يُعَاطِيهِمُ اللَّبِنَ ، وَيَقُولُ : " اللَّهُمَّ إِنَّ الْخَيْرَ خَيْرُ الْآخِرَهْ فَاغْفِرْ لِلْأَنْصَارِ وَالْمُهَاجِرَهْ " , قَالَ : فَأَقْبَلَ عَمَّارٌ ، فَلَمَّا رَآهُ , قَالَ : " وَيْحَكَ ابْنَ سُمَيَّةَ ، تَقْتُلُكَ الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ " , قَالَ : فَحَدَّثْتُهُ مُحَمَّدًا ، فَقَالَ : عَنْ أُمِّهِ ؟ أَمَا إِنَّهَا قَدْ كَانَتْ تَلِجُ عَلَى أَمِّ الْمُؤْمِنِينَ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ بات نہیں بھولتی جو غزوہ خندق کے موقع پر جب کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سینہ مبارک پر موجود بال غبارآلود ہوگئے تھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو اینٹیں پکڑاتے ہوئے کہتے جارہے تھے کہ اے اللہ اصل خیر تو آخرت کی خیر ہے پس تو انصار اور مہاجرین کو معاف فرمادے پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمار کو دیکھا تو فرمایا ابن سمیہ افسوس تمہیں ایک باغی گروہ قتل کردے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26680
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2916
حدیث نمبر: 26681
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، كَيْفَ بِالنِّسَاءِ ؟ قَالَ : " يُرْخِينَ شِبْرًا " , قُلْتُ : إِذَنْ يَنْكَشِفَ عَنْهُنَّ يَا رَسُولَ اللَّهِ , قَالَ : " فَذِرَاعٌ ، لَا يَزِدْنَ عَلَيْهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ عورتیں اپنا دامن کتنا لٹکائیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم لوگ ایک بالشت کے برابر اسے لٹکا سکتی ہو میں نے عرض کیا کہ اس طرح تو ان کی پنڈلیاں کھل جائیں گی ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر ایک گز لٹکا لو اس سے زیادہ نہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26681
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد اختلف فيه على نافع
حدیث نمبر: 26682
حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَطَاءٌ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَتْ : جَعَلَتْ شَعَائِرَ مِنْ ذَهَبٍ فِي رَقَبَتِهَا ، فَدَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَعْرَضَ عَنْهَا ، فَقُلْتُ : أَلَا تَنْظُرُ إِلَى زِينَتِهَا ؟ فَقَالَ : " عَنْ زِينَتِكِ أُعْرِضُ " , قَالَ : زَعَمُوا , أَنَّهُ قَالَ " مَا ضَرَّ إِحْدَاكُنَّ لَوْ جَعَلَتْ خُرْصًا مِنْ وَرِقٍ ، ثُمَّ جَعَلَتْهُ بِزَعْفَرَانٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ کہتی ہیں کہ ایک مرتبہ انہوں نے اپنے گلے میں سونے کا ہارلٹکالیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کے یہاں گئے تو ان سے اعراض فرمایا : انہوں نے عرض کیا کہ آپ اس زیب وزینت کو نہیں دیکھ رہے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں تمہاری زینت ہی سے تو اعراض کر رہا ہوں پھر فرمایا تم اسے چاندی کے ساتھ کیوں نہیں ملاتیں، پھر اسے زعفران کے ساتھ خلط ملط کرلیا کرو جس سے وہ چاندی بھی سونے کی طرح ہوجائیگی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26682
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لانقطاعه، عطاء بن أبى رباح لم يسمع من أم سلمة
حدیث نمبر: 26683
حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ صَيْفِيٍّ ، أَنَّ عِكْرِمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَخْبَرَهُ , أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ أَخْبَرْتُهُ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : حَلَفَ أَنْ لَا يَدْخُلَ عَلَى بَعْضِ أَهْلِهِ شَهْرًا ، فَلَمَّا مَضَى تِسْعَةٌ وَعِشْرُونَ يَوْمًا غَدَا عَلَيْهِمْ أَوْ رَاحَ , فَقِيلَ لَهُ : حَلَفْتَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ لَا تَدْخُلُ عَلَيْهِمْ شَهْرًا ؟ فَقَالَ : " إِنَّ الشَّهْرَ تِسْعَةٌ وَعِشْرُونَ يَوْمًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ قسم کھالی کہ اپنی ازواج کے پاس ایک مہینے تک نہیں جائیں گے، جب ٢٩ دن گزر گئے تو صبح یا شام کے کسی وقت ان کے پاس چلے گئے کسی نے پوچھا کہ اے اللہ کے نبی آپ نے تو قسم کھائی تھی کہ ایک مہیے تک ان کے پاس نہ جائیں گے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مہینہ بعض اوقات ٢٩ دن کا بھی ہوتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26683
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1910، م: 1085
حدیث نمبر: 26684
حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ : حَدَّثَ سَفِينَةُ مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَنَّهُ كَانَ عَامَّةُ وَصِيَّةِ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ مَوْتِهِ : " الصَّلَاةَ الصَّلَاةَ ، وَمَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ " , حَتَّى جَعَلَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُلَجْلِجُهَا فِي صَدْرِهِ ، وَمَا يَفِيضُ بِهَا لِسَانُهُ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی آخری وصیت یہ تھی کہ نماز کا خیال رکھنا اور اپنے غلاموں کے ساتھ حسن سلوک کرنا یہی کہتے کہتے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا سینہ مبارک کھڑکھڑانے اور زبان رکنے لگی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26684
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، قتادة لم يسمعه من سفينة
حدیث نمبر: 26685
حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ الْحَسَنِ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ : " رَبِّ اغْفِرْ وَارْحَمْ ، وَاهْدِنِي السَّبِيلَ الْأَقْوَمَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعاء کیا کرتے تھے، کہ پروردگا مجھے معاف فرما مجھ پر رحم فرما اور سیدھے راستے کی طرف میری راہنمائی فرما۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26685
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف على بن زيد، والحسن البصري لم يسمع من أم سلمة
حدیث نمبر: 26686
حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ عِيسَى ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَارَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَتْنِي أُمُّ وَلَدٍ لِابْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ , قَالَتْ : كُنْتُ امْرَأَةً لِي ذَيْلٌ طَوِيلٌ ، وَكُنْتُ آتِي الْمَسْجِدَ ، وَكُنْتُ أَسْحَبُهُ ، فَسَأَلْتُ أُمَّ سَلَمَةَ ، قُلْتُ : إِنِّي امْرَأَةٌ ذَيْلِي طَوِيلٌ ، وَإِنِّي آتِي الْمَسْجِدَ ، وَإِنِّي أَسْحَبُهُ عَلَى الْمَكَانِ الْقَذِرِ ، ثُمَّ أَسْحَبُهُ عَلَى الْمَكَانِ الطَّيِّبِ ، فَقَالَتْ أُمَّ سَلَمَةَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا مَرَّتْ عَلَى الْمَكَانِ الْقَذِرِ ، ثُمَّ مَرَّتْ عَلَى الْمَكَانِ الطَّيِّبِ ، فَإِنَّ ذَلِكَ طَهُورٌ " .
مولانا ظفر اقبال
ابراہیم بن عبد الرحمن کی ام ولدہ کہتی ہیں کہ میں اپنے کپڑوں کے دامن کو زمین پر گھسیٹ کر چلتی تھی، اس دوران میں ایسی جگہوں سے بھی گزرتی تھی جہاں گندگی پڑی ہوتی اور ایسی جگہوں سے بھی جو صاف ستھری ہوتیں ایک مرتبہ میں حضرت ام سلمہ کے یہاں گئی تو ان سے یہ مسئلہ پوچھا انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ بعد والی جگہ اسے صاف کردیتی ہے۔ (کوئی حرج نہیں )
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26686
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لإبهام أم ولد إبراهيم بن عبدالرحمن بن عوف
حدیث نمبر: 26687
حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا زَمْعَةُ بْنُ صَالِحٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ شِهَابٍ يُحَدِّثُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ وَهْبِ بْنِ زَمْعَةَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ خَرَجَ تَاجِرًا إِلَى بُصْرَى وَمَعَهُ نُعَيْمَانُ وَسُوَيْبِطُ بْنُ حَرْمَلَةَ ، وَكِلَاهُمَا بَدْرِيٌّ ، وَكَانَ سُوَيْبِطٌ عَلَى الزَّادِ ، فَجَاءَهُ نُعَيْمَانُ ، فَقَالَ : أَطْعِمْنِي ، فَقَالَ : لَا ، حَتَّى يَأْتِيَ أَبُو بَكْرٍ ، وَكَانَ نُعَيْمَانُ رَجُلًا مِضْحَاكًا مَزَّاحًا ، فَقَالَ : لَأَغِيظَنَّكَ ، فَذَهَبَ إِلَى أُنَاسٍ جَلَبُوا ظَهْرًا ، فَقَالَ : ابْتَاعُوا مِنِّي غُلَامًا عَرَبِيًّا فَارِهًا ، وَهُوَ ذُو لِسَانٍ ، وَلَعَلَّهُ يَقُولُ : أَنَا حُرٌّ ، فَإِنْ كُنْتُمْ تَارِكِيهِ لِذَلِكَ ، فَدَعُونِي لَا تُفْسِدُوا عَلَيَّ غُلَامِي ، فَقَالُوا : بَلْ نَبْتَاعُهُ مِنْكَ بِعَشْرِ قَلَائِصَ , فَأَقْبَلَ بِهَا يَسُوقُهَا ، وَأَقْبَلَ بِالْقَوْمِ حَتَّى عَقَلَهَا ، ثُمّ قَالَ لِلْقَوْمِ : دُونَكُمْ هُوَ هَذَا ، فَجَاءَ الْقَوْمُ ، فَقَالُوا : قَدْ اشْتَرَيْنَاكَ , قَالَ سُوَيْبِطٌ : هُوَ كَاذِبٌ ، أَنَا رَجُلٌ حُرٌّ ، فَقَالُوا : قَدْ أَخْبَرَنَا خَبَرَكَ , وَطَرَحُوا الْحَبْلَ في رقبته ، فذهبوا به ، فجاء أبو بكر فأخبر ، فذهب هو وأصحاب له ، فردوا القلائص وأخذوه ، فضحك منها النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ حَوْلًا .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت صدیق اکبر تجارت کے سلسلے میں بصری کی طرف روانہ ہوئے ان کے ساتھ دو بدری صحابہ نعیمان اور سویبط بن حرملہ بھی تھے، زادراہ کے نگران سویبط تھے ایک موقع پر ان کے پاس نعیمان آئے اور کہنے لگے کہ مجھے کچھ کھانے کے لئے دیدو سویبط نے کہا کہ نہیں جب تک حضرت صدیق اکبر نہ آجائیں نعیمان بہت ہنس مکھ اور بہت حس مزاح رکھنے والے تھے، انہوں نے کہا کہ میں بھی تمہیں غصہ دلا کر چھوڑوں گا۔ پھر وہ کچھ لوگوں کے پاس گئے جو سواریوں پر بیرون ملک سے سامان لاد کر لا رہے تھے اور ان سے کہا کہ مجھ سے غلام خریدو گے جو عربی ہے، خوب ہوشیار ہے، بڑا زبان دان ہے، ہوسکتا ہے کہ وہ یہ بھی کہے کہ میں آزاد ہوں اگر اس بنیاد پر تم اسے چھوڑنا چاہو تو مجھے ابھی سے بتادو میرے غلام کو میرے خلاف نہ کر دینا، انہوں نے کہا ہم آپ سے دس اونٹوں کے عوض اسے خریدتے ہیں، وہ ان اونٹوں کو ہانکتے ہوئے لے آئے اور لوگوں کو بھی اپنے ساتھ لے آئے، جب اونٹوں کو رسیوں سے باندھ لیا تو نعیمان کہنے لگے یہ رہا وہ غلام لوگوں نے آگے بڑھ کر سویبط سے کہا کہ ہم نے انہیں خرید لیا ہے سویبط نے کہا کہ وہ جھوٹ بول رہا ہے، میں تو آزاد ہوں ان لوگوں نے کہا کہ تمہارے آقا نے ہمیں پہلے ہی تمہارے متعلق بتادیا تھا اور یہ کہہ کر ان کی گردن میں رسی ڈال دی اور انہیں لے گئے۔ ادھر حضرت ابوبکر واپس آئے تو انہیں اس واقعے کی خبر ہوئی وہ اپنے ساتھ کچھ ساتھیوں کو لے کر ان لوگوں کے پاس گئے اور ان کے اونٹ واپس لوٹاکر سویبط کو چھڑا لیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ اس واقعے کے یاد آنے پر ایک سال تک ہنستے رہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26687
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف زمعة بن صالح
حدیث نمبر: 26688
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَتْنِي هِنْدُ ابْنَةُ الْحَارِثِ الْقُرَشِيَّةُ , أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهَا , " أَنَّ النِّسَاءَ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَلَّمَ مِنَ الصَّلَاةِ الْمَكْتُوبَةِ قُمْنَ ، وَثَبَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَثَبَتَ مَنْ صَلَّى مِنَ الرِّجَالِ مَا شَاءَ اللَّهُ ، فَإِذَا قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَامَ الرِّجَالُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب سلام پھیرتے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا سلام ختم ہوتے ہی خواتین اٹھنے لگتی تھیں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہونے سے پہلے کچھ دیر اپنی جگہ پر ہی رک جاتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26688
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 866
حدیث نمبر: 26689
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ , وَحَرَمِيٌّ الْمَعْنَى , قَالَا : حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي الْخَلِيلِ ، عَنْ صَاحِبٍ لَهُ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " يَكُونُ اخْتِلَافٌ عِنْدَ مَوْتِ خَلِيفَةٍ ، فَيَخْرُجُ رَجُلٌ مِنَ الْمَدِينَةِ هَارِبٌ إِلَى مَكَّةَ ، فَيَأْتِيهِ نَاسٌ مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ ، فَيُخْرِجُونَهُ وَهُوَ كَارِهٌ ، فَيُبَايِعُونَهُ بَيْنَ الرُّكْنِ وَالْمَقَامِ ، فَيُبْعَثُ إِلَيْهِمْ جَيْشٌ مِنَ الشَّامِ ، فَيُخْسَفُ بِهِمْ بِالْبَيْدَاءِ ، فَإِذَا رَأَى النَّاسُ ذَلِكَ ، أَتَتْهُ أَبْدَالُ الشَّامِ وَعَصَائِبُ الْعِرَاقِ ، فَيُبَايِعُونَهُ ، ثُمَّ يَنْشَأُ رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ أَخْوَالُهُ كَلْبٌ ، فَيَبْعَثُ إِلَيْهِ الْمَكِّيُّ بَعْثًا ، فَيَظْهَرُونَ عَلَيْهِمْ ، وَذَلِكَ بَعْثُ كَلْبٍ ، وَالْخَيْبَةُ لِمَنْ لَمْ يَشْهَدْ غَنِيمَةَ كَلْبٍ ، فَيَقْسِمُ الْمَالَ ، وَيُعْمِلُ فِي النَّاسِ سُنَّةَ نَبِيِّهِمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَيُلْقِي الْإِسْلَامُ بِجِرَانِهِ إِلَى الْأَرْضِ ، يَمْكُثُ تِسْعَ سِنِينَ " , قَالَ حَرَمِيٌّ : " أَوْ سَبْعَ ".
مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ایک خلیفہ کی موت کے وقت لوگوں میں نئے خلیفہ کے متعلق اختلاف پیدا ہوجائے گا اس موقع پر ایک آدمی مدینہ منورہ سے بھاگ کر مکہ مکرمہ چلا جائے گا، اہل مکہ میں سے کچھ لوگ اس کے پاس آئیں گے اور اسے اس کی خواہش کے بر خلاف اسے باہر نکال کر حجر اسود اور مقام ابراہیم کے درمیان اس سے بیعت کرلیں گے، پھر ان سے لڑنے کے لئے شام سے ایک لشکر روانہ ہوگا جسے مقام بیداء میں دھنسا دیا جائے گا جب لوگ یہ دیکھیں گے تو ان کے پاس شام کے ابدال اور اعراض کے عصائب (اولیاء کا ایک درجہ) آ کر ان سے بیعت کرلیں گے۔ پھر قریش میں سے ایک آدمی نکل کر سامنے آئے گا جس کے اخوال بنوکلب ہوں گے، وہ مکی اس قریشی کی طرف ایک لشکر بھیجے گا جو اس قریشی پر غالب آجائے گا اس لشکر یا جنگ کو بعث کلب کہا جائے گا اور وہ شخص محرم ہوگا جو اس غزوے کے مال غنیمت کی تقسم کے موقع پر موجود نہ ہوگا وہ مالت و دولت تقسم کرے گا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے مطابق عمل کرے گا اور اسلام زمین پر اپنی گردن ڈال دے گا اور وہ آدمی نوسال تک زمین میں رہے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26689
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث ضعيف لابهام صاحب أبى خليل، ولاضطراب قتادة فيه
حدیث نمبر: 26690
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي , حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ الْحَسَنِ ، عَنْ أُمِّهِ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَيْقَظَ مِنْ مَنَامِهِ وَهُوَ يَسْتَرْجِعُ , قَالَتْ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا شَأْنُكَ ؟ قَالَ : " طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي يُخْسَفُ بِهِمْ , ثُمَّ يُبْعَثُونَ إِلَى رَجُلٍ ، فَيَأْتِي مَكَّةَ ، فَيَمْنَعُهُ اللَّهُ مِنْهُمْ ، وَيُخْسَفُ بِهِمْ ، مَصْرَعُهُمْ وَاحِدٌ ، وَمَصَادِرُهُمْ شَتَّى " , قَالَتْ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، كَيْفَ يَكُونُ مَصْرَعُهُمْ وَاحِدًا , وَمَصَادِرُهُمْ شَتَّى ؟ قَالَ : " إِنَّ مِنْهُمْ مَنْ يُكْرَهُ ، فَيَجِيءُ مُكْرَهًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی نیند سے بیدار ہوئے تو انا للہ وانا الیہ راجعون پڑھ رہے تھے، میں نے پوچھا یا رسول اللہ کیا ہوا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میری امت کے ایک گروہ کو زمین میں دھنسادیا جائے گا پھر وہ لوگ ایک لشکر مکہ مکرمہ میں ایک آدمی کی طرف بھیجیں گے، اللہ اس آدمی کی ان سے حفاظت فرمائے گا اور انہیں زمین میں دھنسا دے گا، وہ سب ایک ہی جگہ پچھاڑے جائیں گے، لیکن ان کے اٹھائے جانے کی جگہیں مختلف ہوں گی، میں نے عرض کیا یا رسول اللہ یہ کیسے ہوگا ؟ فرمایا ان میں سے بعض لوگ ایسے بھی ہوں گے جنہیں زبردستی لشکر میں شامل کیا گیا ہوگا تو اسی حال میں آئیں گے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26690
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف على بن زيد
حدیث نمبر: 26691
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ الْحَسَنِ ، عَنْ أُمِّهِ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ : بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ.
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26691
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف على بن زيد ولاضطراب حماد بن سلمة فيه
حدیث نمبر: 26692
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عَلِيٍّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي قَيْسٍ مَوْلَى عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، قَالَ : قُلْتُ لِأُمِّ سَلَمَةَ : " أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُ وَهُوَ صَائِمٌ ؟ قَالَتْ : لَا , قُلْتُ : فَإِنَّ عَائِشَةَ تُخْبِرُ النَّاسَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , كَانَ يُقَبِّلُ وَهُوَ صَائِمٌ ؟ قَالَتْ : قُلْتُ : لَعَلَّهُ أَنْ كَانَ لَا يَتَمَالَكُ عَنْهَا حُبًّا ، أَمَّا أَنَا ، فَلَا " .
مولانا ظفر اقبال
ابوقیس کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ مجھے حضرت عبداللہ بن عمرو نے حضرت ام سلمہ کے پاس یہ پوچھنے کے لئے بھیجا کہ کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم روزے کی حالت میں بوسہ دیتے تھے ؟ اگر وہ نفی میں جواب دیں تو ان سے کہنا کہ حضرت عائشہ تو لوگوں کو بتاتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم روزے کی حالت میں انہیں بوسہ دیا کرتے تھے ؟ چنانچہ ابوقیس نے یہ سوال ان سے پوچھا تو انہوں نے نفی میں جواب دیا ابوقیس نے حضرت عائشہ کا حوالہ دیا تو حضرت ام سلمہ نے فرمایا ہوسکتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بوسہ دیا ہو کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان سے بہت جذباتی محبت فرمایا کرتے تھے البتہ میرے ساتھ کبھی ایسا نہیں ہوا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26692
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث ضعيف بهذه السياقة
حدیث نمبر: 26693
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَيْوَةُ , وَابْنُ لَهِيعَةَ , قَالَا : سَمِعْنَا يَزِيدَ بْنَ أَبِي حَبِيبٍ ، يَقُولُ : حَدَّثَنِي أَبُو عِمْرَانَ ، قَالَ : قَالَتْ لِي أُمُّ سَلَمَةَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " يَا آلَ مُحَمَّدٍ ، مَنْ حَجَّ مِنْكُمْ ، فَلْيُهِلَّ فِي حَجِّهِ أَوْ فِي حَجَّتِهِ " , شَكَّ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اے آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! تم میں سے جس نے حج کرنا ہو وہ حج کا احرام باندھ لے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26693
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 26694
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ شَقِيقٍ ، قَالَ : دَخَلَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ ، فَقَالَ : يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ ، إِنِّي أَخْشَى أَنْ أَكُونَ قَدْ هَلَكْتُ ، إِنِّي مِنْ أَكْثَرِ قُرَيْشٍ مَالًا ، بِعْتُ أَرْضًا لِي بِأَرْبَعِينَ أَلْفَ دِينَارٍ ، فَقَالَتْ : أَنْفِقْ يَا بُنَيَّ ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِنَّ مِنْ أَصْحَابِي مَنْ لَا يَرَانِي بَعْدَ أَنْ أُفَارِقَهُ " ، فَأَتَيْتُ عُمَرَ فَأَخْبَرْتُهُ ، فَأَتَاهَا ، فَقَالَ : بِاللَّهِ أَنَا مِنْهُمْ ؟ قَالَتْ : اللَّهُمَّ لَا ، وَلَنْ أُبَرِّئَ أَحَدًا بَعْدَكَ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت عبدالرحمن بن عوف ان کے پاس آئے اور کہنے لگے اماں جان مجھے اندیشہ ہے کہ مال کی کثرت مجھے ہلاک نہ کردے۔ کیونکہ میں قریش میں سب سے زیادہ مالدار ہوں انہوں نے جواب دیا کہ بیٹا اسے خرچ کرو کیونکہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ میرے بعض ساتھی ایسے بھی ہوں گے کہ میری ان سے جدائی ہونے کے بعد وہ مجھے دوبارہ کبھی نہ دیکھ سکیں گے، حضرت عبدالرحمن بن عوف جب باہر نکلے تو راستے میں حضرت عمر سے ملاقات ہوگئی انہوں نے حضرت عمر کو یہ بات بتائی حضرت عمر خود حضرت ام سلمہ کے پاس پہنچے اور گھر میں داخل ہو کر فرمایا اللہ کی قسم کھا کر بتائیے کیا میں بھی ان میں سے ہوں ؟ انہوں نے فرمایا نہیں لیکن آپ کے بعد میں کسی کے متعلق یہ بات نہیں کہہ سکتی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26694
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 26695
حَدَّثَنَا أَبُو تُمَيْلَةَ يَحْيَى بْنُ وَاضِحٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَبْدُ الْمُؤْمِنِ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أُمِّهِ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَتْ : " لَمْ يَكُنْ ثَوْبٌ أَحَبَّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ قَمِيصٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک قمیص سے زیادہ اچھا کوئی کپڑا نہ تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26695
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، والدة عبدالله بن بريدة لم نقف لها على ترجمة
حدیث نمبر: 26696
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي عَوْنٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ ، قَالَ : قَالَ مَرْوَانُ : كَيْفَ نَسْأَلُ أَحَدًا وَفِينَا أَزْوَاجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ فَبَعَثَ إِلَى أُمِّ سَلَمَةَ فَأَخْبَرَتْهُ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " خَرَجَ إِلَى الصَّلَاةِ ، فَنَشَلَتْ لَهُ كَتِفًا مِنْ قِدْرٍ ، فَأَكَلَهَا ، ثُمَّ خَرَجَ ، فَصَلَّى " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے شانے کا گوشت تناول فرمایا : اسی دوران نبی صلی اللہ علیہ وسلم پانی کو ہاتھ لگائے بغیر نماز کے لئے تشریف لے گئے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26696
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 26697
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي ابْنُ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ بِمِنًى ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ أَصَابَتْهُ مُصِيبَةٌ ، فَلْيَقُلْ : إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ ، اللَّهُمَّ عِنْدَكَ أَحْتَسِبُ مُصِيبَتِي ، فَأْجُرْنِي فِيهَا وَأَبْدِلْنِي بِهَا خَيْرًا مِنْهَا " , فَلَمَّا مَاتَ أَبُو سَلَمَةَ قُلْتُهَا ، فَجَعَلْتُ كُلَّمَا بَلَغْتُ وَأَبْدِلْنِي بِهَا خَيْرًا مِنْهَا ، قُلْتُ فِي نَفْسِي وَمَنْ خَيْرٌ مِنْ أَبِي سَلَمَةَ ، ثُمَّ قُلْتُهَا , فَلَمَّا انْقَضَتْ عِدَّتُهَا ، بَعَثَ إِلَيْهَا أَبُو بَكْرٍ يَخْطُبُهَا ، فَلَمْ تَزَوَّجْهُ ، فَبَعَثَ إِلَيْهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ يَخْطُبُهَا عَلَيْهِ ، فَقَالَتْ : أَخْبِرْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنِّي امْرَأَةٌ غَيْرَى ، وَأَنِّي امْرَأَةٌ مُصْبِيَةٌ ، وَلَيْسَ أَحَدٌ مِنْ أَوْلِيَائِي شَاهِدًا , فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ لَهُ ذَلِكَ ، فَقَالَ : " ارْجِعْ إِلَيْهَا ، فَقُلْ لَهَا : أَمَّا قَوْلُكِ إِنِّي امْرَأَةٌ غَيْرَى ، فَأَدْعُو اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ ، فَيُذْهِبُ غَيْرَتَكِ ، وَأَمَّا قَوْلُكِ : إِنِّي امْرَأَةٌ مُصْبِيَةٌ ، فَسَتُكْفَيْنَ صِبْيَانَكِ ، وَأَمَّا قَوْلُكِ : إِنَّهُ لَيْسَ أَحَدٌ مِنْ أَوْلِيَائِكِ شَاهِدًا ، فَلَيْسَ أَحَدٌ مِنْ أَوْلِيَائِكِ شَاهِدٌ وَلَا غَائِبٌ يَكْرَهُ ذَلِكَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جس شخص کو کوئی مصیبت پہنچے اور وہ اناللہ وانا الیہ راجعون کہہ کر یہ دعا کرلے کہ اے اللہ ! مجھے اس مصیبت پر اجرعطا فرما اور مجھے اس کا بہترین نعم البدل عطاء فرما تو اللہ تعالیٰ اسے اس کی مصیبت پر اجر فرمائے گا اور اسے اس کا نعم البدل عطا فرمائے گا جب میرے شوہر ابوسلمہ فوت ہوئے تو میں نے سوچا کہ ابوسلمہ سے بہتر کون ہوسکتا ہے پھر بھی اللہ تعالیٰ نے مجھے عزت کی قوت دی اور میں نے یہ دعاء پڑھ لی، عدت گزرنے کے بعد حضرات ابوبکر اور عمر نے باری باری پیغام نکاح بھیجا لیکن انہوں نے حامی نہ بھری، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر کو ان کے پاس اپنے لئے پیغام نکاح دے کر بھیجا انہوں نے عرض کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بتا دیجئے کہ میں بہت غیور عورت ہوں، میرے بچے بھی ہیں اور میرا تو کوئی ولی بھی یہاں موجود نہیں ہے، حضرت عمر نے آ کر یہ باتیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بتادیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ان سے جا کر کہہ دو کہ میں اللہ سے دعا کردوں گا اور تمہاری غیرت دور ہو جائیگی باقی رہے بچے تو تم ان کی کفایت کرتی رہنا اور باقی رہا ولی تو تمہارے اولیاء میں سے کوئی بھی خواہ وہ غائب ہو یا حاضر اسے ناپسند نہیں کرے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26697
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: بعضه صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة ابن عمر بن أبى سلمة، وقد اختلف فيه على حماد بن سلمة
حدیث نمبر: 26698
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَابِطٍ ، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ : لَمَّا قَدِمَ الْمُهَاجِرُونَ الْمَدِينَةَ عَلَى الْأَنْصَارِ تَزَوَّجُوا مِنْ نِسَائِهِمْ ، وَكَانَ الْمُهَاجِرُونَ يُجَبُّونَ ، وَكَانَتْ الْأَنْصَارُ لَا تُجَبِّي ، فَأَرَادَ رَجُلٌ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ امْرَأَتَهُ عَلَى ذَلِكَ ، فَأَبَتْ عَلَيْهِ حَتَّى تَسْأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَتْ : فَأَتَتْهُ ، فَاسْتَحْيَتْ أَنْ تَسْأَلَهُ ، فَسَأَلَتْهُ أُمُّ سَلَمَةَ ، فَنَزَلَتْ : نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَكُمْ فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّى شِئْتُمْ سورة البقرة آية 223 , وَقَالَ : " لَا ، إِلَّا فِي صِمَامٍ وَاحِدٍ " ، وقَالَ وَكِيعٌ : ابْنُ سَابِطٍ رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انصار کے مرد اپنی عورتوں کے پاس پچھلے حصے سے نہیں آتے تھے، کیونکہ یہودی کہا کرتے تھے کہ جو شخص اپنی بیوی کے پاس پچھلی جانب سے آتا ہے اس کی اولاد بھینگی ہوتی ہے، جب مہاجرین مدینہ منورہ آئے تو انہوں نے انصاری عورتوں سے بھی نکاح کیا اور پچھلی جانب سے ان کے پاس آتے، لیکن ایک عورت نے اس معاملے میں اپنے شوہر کی بات ماننے سے انکار کردیا اور کہنے لگی کہ جب تک میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا حکم نہ پوچھ لوں اس وقت تک تم یہ کام نہیں کرسکتے۔ چنانچہ وہ عورت حضرت ام سلمہ کے پاس آئی اور ان سے اس کا ذکر کیا، حضرت ام سلمہ نے فرمایا کہ بیٹھ جاؤ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم آتے ہی ہوں گے، جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو اس عورت کو یہ سوال پوچھتے ہوئے شرم آئی لہذا وہ یوں ہی واپس چلی گئی، بعد میں حضرت ام سلمہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات بتائی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس انصاریہ کو بلاؤ ! چنانچہ اسے بلایا گیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے سامنے یہ آیت تلاوت فرمائی " تمہاری بیویاں تمہاری کھیتیاں ہیں سو تم اپنے کھیت میں جس طرح آنا چاہو، آسکتے ہو " اور فرمایا کہ اگلے سوراخ میں ہو (خواہ مرد پیچھے سے آئے یا آگے سے)
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26698
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 26699
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ , وَابْنُ نُمَيْرٍ , قَالَ : حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ ، عَنْ أُمِّهَا ، قَالَتْ : قَالَ مُخَنَّثٌ لَأَخِيهَا عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أُمَيَّةَ : إِنْ فَتَحَ اللَّهُ عَلَيْكُمْ الطَّائِفَ غَدًا ، دَلَلْتُكَ عَلَى بِنْتِ غَيْلَانَ ، فَإِنَّهَا تُقْبِلُ بِأَرْبَعٍ ، وَتُدْبِرُ بِثَمَانٍ ، فَسَمِعَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " أَخْرِجُوا هَؤُلَاءِ مِنْ بُيُوتِكُمْ ، فَلَا يَدْخُلُوا عَلَيْكُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے تو وہاں ایک مخنث اور عبداللہ بن ابی امیہ جو حضرت ام سلمہ کے بھائی تھے بھی موجود تھے وہ ہیجڑا عبداللہ سے کہہ رہا تھا کہ اے عبداللہ بن ابی امیہ اگر کل کو اللہ تمہیں طائف پر فتح عطاء فرمائے تو تم بنت غیلان کو ضرور حاصل کرنا کیونکہ وہ چار کے ساتھ آتی ہے اور آٹھ کے ساتھ واپس جاتی ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی یہ بات سن لی اور حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا آئندہ یہ تمہارے گھر میں نہیں آنا چاہئے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26699
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ:4324 ، م: 2180
حدیث نمبر: 26700
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ , عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي عَائِشَةَ ، عَنْ مَوْلًى لِأُمِّ سَلَمَةَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ فِي حَدِيثِهِ عَمَّنْ سَمِعَ , أُمَّ سَلَمَةَ تُحَدِّثُ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ : يَقُولُ فِي دُبُرِ الْفَجْرِ إِذَا صَلَّى : " اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ عِلْمًا نَافِعًا ، وَعَمَلًا مُتَقَبَّلًا ، وَرِزْقًا طَيِّبًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز فجر کے بعد یہ دعاء فرماتے تھے، اے للہ میں تجھ سے علم نافع عمل مقبول اور اور رزق حلال کا سوال کرتا ہوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26700
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لإبهام مولى أم سلمة
حدیث نمبر: 26701
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي عَائِشَةَ ، عَنْ مَوْلًى لِأُمِّ سَلَمَةَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ : إِذَا صَلَّى الصُّبْحَ حِينَ يُسَلِّمُ ، فَذَكَرَهُ.
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26701
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لابهام مولى أم سلمة
حدیث نمبر: 26702
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ أَبِي يُونُسَ الْبَاهِلِيِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ مُهَاجِرًا الْمَكِّيَّ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَغْزُو جَيْشٌ البَيْتَ حَتَّى إِذَا كَانُوا بِبَيْدَاءَ مِنَ الْأَرْضِ ، خُسِفَ بِهِمْ " , قَالَتْ : قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَرَأَيْتَ الْمُكْرَهَ مِنْهُمْ ؟ قَالَ : " يُبْعَثُ عَلَى نِيَّتِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس لشکر کا تذکرہ کیا جسے زمین میں دھنسا دیا جائے گا تو حضرت ام سلمہ نے عرض کیا کہ ہوسکتا ہے اس لشکر میں ایسے لوگ بھی ہوں جنہیں زبردستی اس میں شامل کرلیا گیا ہو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انہیں ان کی نیتوں پر اٹھایا جائے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26702
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 26703
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو , وَعَبْدُ الصَّمَدِ , قَالَا : حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ : بَيْنَا أَنَا مُضْطَجِعَةٌ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْخَمِيلَةِ , إِذْ حِضْتُ فَانْسَلَلْتُ ، فَأَخَذْتُ ثِيَابَ حَيْضَتِي ، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَنُفِسْتِ ؟ " , قُلْتُ : نَعَمْ , فَدَعَانِي فَاضْطَجَعْتُ مَعَهُ فِي الْخَمِيلَةِ ، وَكَانَتْ هِيَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَغْتَسِلَانِ مِنَ الْإِنَاءِ الْوَاحِدِ مِنَ الْجَنَابَةِ , وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُهَا وَهُوَ صَائِمٌ " , قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ : حَدَّثَنَاه هُدْبَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ الْعَطَّارُ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، بِإِسْنَادِ هَذَا الْحَدِيثِ وَمَعْنَاهُ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک لحاف میں تھی کہ مجھے ایام شروع ہوگئے، میں کھسکنے لگی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تمہیں ایام آنے لگے، میں نے کہا جی یا رسول اللہ پھر میں وہاں سے چلی گئی اپنی حالت درست کی اور کپڑا باندھ لیا پھر آ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لحاف میں گھس گئی اور میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک ہی برتن سے غسل کرلیا کرتی تھی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم روزے کی حالت میں بوسہ بھی دیدیتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26703
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناداه صحيحان، خ: 298، م: 296
حدیث نمبر: 26704
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ : " إِذَا خَرَجَ مِنْ بَيْتِهِ , قَالَ : " بِاسْمِكَ رَبِّي ، إِنِّي أَعُوذُ بِكَ أَنْ أَزِلَّ أَوْ أَضِلَّ ، أَوْ أَظْلِمَ أَوْ أُظْلَمَ ، أَوْ أَجْهَلَ أَوْ يُجْهَلَ عَلَيَّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب گھر سے نکلتے تو یہ دعا پڑھتے، اللہ کے نام سے میں اللہ پر بھروسہ کرتا ہوں اے اللہ ! ہم اس بات سے آپ کی پناہ میں آتے ہیں کہ پھسل جائیں یا گمراہ ہوجائیں یا ظلم کریں یا کوئی ہم پر ظلم کرے یا ہم کسی سے جہالت کا مظاہرہ کریں یا کوئی ہم سے جہالت کا مظاہرہ کرے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26704
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لانقطاعه ، الشعبي لم يسمع من أم سلمة
حدیث نمبر: 26705
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمَّارٍ الدُّهْنِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " قَوَائِمُ الْمِنْبَرِ رَوَاتِبُ فِي الْجَنَّةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے منبر کے پائے جنت میں گاڑھے جائیں گے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26705
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 26706
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ ابْنِ خُثَيْمٍ ، عَنْ ابْنِ سَابِطٍ ، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ : نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَكُمْ فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّى شِئْتُمْ سورة البقرة آية 223 , قَالَ : " صِمَامًا وَاحِدًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تفسیر میں تمہاری بیویاں تمہاری کھیتیاں ہیں سو تم اپنے کھیت میں جس طرح آنا چاہو آسکتے ہو، فرمایا کہ اگلے سوراخ میں ہو (خواہ مرد پیچھے سے آئے یا آگے سے)
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26706
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 26707
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، عَنْ لَيْثِ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي بُكَيْرٌ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَتْ : " قَبَّلَني رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ صَائِمٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم روزہ کی حالت میں انہیں بوسہ دیدیا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26707
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد اختلف فيه على بكير
حدیث نمبر: 26708
حَدَّثَنَا يُونُسُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي بُكَيْرٌ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، فَذَكَرَ مِثْلَهُ بِإِسْنَادِهِ.
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26708
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد اختلف فيه على بكير
حدیث نمبر: 26709
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ , وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ , قَالَا : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ , وَعَبْدُ الرَّزَّاقِ , قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ : " مَا مَاتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى كَانَ : " أَكْثَرَ صَلَاتِهِ قَاعِدًا إِلَّا الْمَكْتُوبَةَ ، وَكَانَ أَحَبُّ الْعَمَلِ إِلَيْهِ مَا دَاوَمَ الْعَبْدُ عَلَيْهِ ، وَإِنْ كَانَ يَسِيرًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا جس وقت وصال ہوا تو فرائض کے علاوہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اکثر نمازیں بیٹھ کر ہوتی تھیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک سب سے پسندیدہ عمل وہ تھا جو ہمیشہ ہو اگرچہ تھوڑا ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26709
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناداه صحيحان
حدیث نمبر: 26710
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، قَالَ : سَمِعْتُ سُفْيَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا عَوْنٍ , يَقُولُ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ شَدَّادٍ , يَقُولُ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ , يَقُولُ : الْوُضُوءُ مِمَّا مَسَّتْ النَّارُ ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ أَوْ ذَكَرَ ذَلِكَ لِمَرْوَانَ ، فَقَالَ : مَا أَدْرِي مَنْ نَسْأَلُ ، كَيْفَ وَفِينَا أَزْوَاجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ فَبَعَثَنِي إِلَى أُمِّ سَلَمَةَ فَحَدَّثَتْنِي , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " خَرَجَ إِلَى الصَّلَاةِ ، فَتَنَاوَلَ عَرْقًا ، فَانْتَهَسَ عَظْمًا ، ثُمَّ صَلَّى ، وَلَمْ يَتَوَضَّأْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے شانے کا گوشت تناول فرمایا اسی دوران حضرت بلال آگئے اور نبی علیہ السلا پانی کو ہاتھ لگائے بغیر نماز کے لئے تشریف لے گئے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26710
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح