حدیث نمبر: 26511
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ : قُلْتُ : فَكَيْفَ بِالنِّسَاءِ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " تُرْخِينَ شِبْرًا " , قُلْتُ : إِذَنْ يَنْكَشِفَ عَنْهُنَّ ؟ قَالَ : " فَذِرَاعٌ ، لَا يَزِدْنَ عَلَيْهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ عورتیں اپنا دامن کتنا لٹکائیں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم لوگ ایک بالشت کے برابر اسے لٹکا سکتی ہو میں نے عرض کیا کہ اس طرح تو ان کی پنڈلیاں کھل جائیں گی ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر ایک گز لٹکا لو اس سے زیادہ نہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26511
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد اختلف فيه على نافع
حدیث نمبر: 26512
حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا هِشَامٌ يَعْنِي ابْنَ عُرْوَةَ ، عَنْ عَوْفِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ الطُّفَيْلِ ، عَنْ رُمَيْثَةَ أُمِّ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي عَتِيقٍ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَتْ : كَلَّمَنِي صَوَاحِبِي أَنْ أُكَلِّمَ رَسُولَ اللَّهِ أَنْ يَأْمُرَ النَّاسَ ، فَيُهْدُونَ لَهُ حَيْثُ كَانَ ، فَإِنَّهُمْ يَتَحَرَّوْنَ بِهَدِيَّتِهِ يَوْمَ عَائِشَةَ ، وَإِنَّا نُحِبُّ الْخَيْرَ كَمَا تُحِبُّهُ عَائِشَةُ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، إِنَّ صَوَاحِبِي كَلَّمْنَنِي أَنْ أُكَلِّمَكَ لِتَأْمُرَ النَّاسَ أَنْ يُهْدُوا لَكَ حَيْثُ كُنْتَ ، فَإِنَّ النَّاسَ يَتَحَرَّوْنَ بِهَدَايَاهُمْ يَوْمَ عَائِشَةَ ، وَإِنَّمَا نُحِبُّ الْخَيْرَ كَمَا تُحِبُّ عَائِشَةُ , قَالَتْ : فَسَكَتَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَلَمْ يُرَاجِعْنِي ، فَجَاءَنِي صَوَاحِبِي ، فَأَخْبَرْتُهُنَّ أَنَّهُ لَمْ يُكَلِّمْنِي ، فَقُلْنَ : لَا تَدَعِيهِ ، وَمَا هَذَا حِينَ تَدَعِينَهُ , قَالَتْ : ثُمَّ دَارَ ، فَكَلَّمْتُهُ ، فَقُلْتُ : إِنَّ صَوَاحِبِي قَدْ أَمَرْنَنِي أَنْ أُكَلِّمَكَ تَأْمُرُ النَّاسَ ، فَلْيُهْدُوا لَكَ حَيْثُ كُنْتَ ، فَقَالَتْ لَهُ مِثْلَ تِلْكَ الْمَقَالَةِ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا ، كُلُّ ذَلِكَ يَسْكُتُ عَنْهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ قَالَ : " يَا أُمَّ سَلَمَةَ ، لَا تُؤْذِينِي فِي عَائِشَةَ ، فَإِنَّهُ وَاللَّهِ مَا نَزَلَ عَلَيَّ الْوَحْيُ وَأَنَا فِي بَيْتِ امْرَأَةٍ مِنْ نِسَائِي غَيْرَ عَائِشَةَ " , فَقَالَتْ أَعُوذُ بِاللَّهِ أَنْ أَسُوءَكَ فِي عَائِشَةَ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ (نبی علیہ السلام کی ازواج مطہرات) میری سہیلیوں نے مجھ سے کہا کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس موضوع پر بات کروں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو یہ حکم دیدیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جہاں بھی ہوں وہ انہیں ہدیہ بھیج سکتے ہیں دراصل لوگ ہدایا پیش کرنے کے لئے حضرت عائشہ کی باری کا انتظار کرتے تھے کیونکہ ہم بھی خیر کے اتنے ہی متمنی ہیں جتنی عائشہ ہیں چنانچہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا یا رسول اللہ مجھ سے میری سہیلیوں نے آپ کی خدمت میں یہ درخواست پیش کرنے کے لئے بات کی کہ آپ لوگوں کو یہ حکم دیدیں کہ آپ جہاں بھی ہوں وہ آپ کو ہدیہ بھیج سکتے ہیں کیونکہ لوگ اپنے ہدایاپیش کرنے کے لئے عائشہ کی باری کا خیال رکھتے ہیں اور ہم بھی خیر کے اتنے ہی متمنی ہیں جتنی عائشہ ہیں اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے اور مجھے کوئی جواب نہ دیا۔ میری سہلیاں آئیں تو میں نے انہیں بتادیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حوالے سے مجھ سے کوئی بات نہیں کی انہوں نے کہا کہ تم یہ بات ان سے کہتی رہنا اسے چھوڑنا نہیں چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب دوبارہ آئے تو میں نے گزشتہ درخواست دوبارہ دوہرادی، دو تین مرتبہ ایسا ہی ہوا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہر مرتبہ خاموش رہے بالآخر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ فرمادیا کہ اے ام سلمہ عائشہ کے حوالے سے مجھے ایذاء نہ پہنچاؤ واللہ عائشہ کے علاوہ کسی بیوی کے گھر میں مجھ پر وحی نہیں ہوتی انہوں نے عرض کیا کہ میں اللہ کی پناہ میں آتی ہوں کہ عائشہ کے حوالے سے آپ کو ایذاء پہنچاؤں
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26512
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد محتمل للتحسين
حدیث نمبر: 26513
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ عَوْفِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ أُخْتِهِ رُمَيْثَةَ ابْنَةِ الْحَارِثِ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، أَنَّ نِسَاءَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْنَ لَهَا : إِنَّ النَّاسَ يَتَحَرَّوْنَ بِهَدَايَاهُمْ ، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ.
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26513
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد محتمل للتحسين
حدیث نمبر: 26514
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ يَعْنِي ابْنَ عُمَيْرٍ ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ سَاهِمُ الْوَجْهِ , قَالَتْ : فَحَسِبْتُ أَنَّ ذَلِكَ مِنْ وَجَعٍ ، فَقُلْتُ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، مَا لَكَ سَاهِمُ الْوَجْهِ ؟ قَالَ : " مِنْ أَجْلِ الدَّنَانِيرِ السَّبْعَةِ الَّتِي أَتَتْنَا أَمْسِ ، أَمْسَيْنَا وَهِيَ فِي خُصْمِ الْفِرَاشِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے تو چہرے کا رنگ اڑا ہوا تھا میں سمجھی کہ شاید کوئی تکلیف ہے سو میں نے پوچھا اے اللہ کے نبی کیا بات ہے آپ کے چہرے کا رنگ اڑا ہوا ہے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دراصل میرے پاس سات دینار رہ گئے ہیں جو کل ہمارے پاس آئے تھے شام ہوگئی اور اب تک وہ ہمارے بستر پر پڑے ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26514
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 26515
حَدَّثَنَا يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ : دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ الْعَصْرِ ، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا هَذِهِ الصَّلَاةُ ، مَا كُنْتَ تُصَلِّيهَا ؟ قَالَ : " قَدِمَ وَفْدُ بَنِي تَمِيمٍ ، فَحَبَسُونِي عَنْ رَكْعَتَيْنِ كُنْتُ أَرْكَعُهُمَا بَعْدَ الظُّهْرِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم عصر کی نماز کے بعد میرے پاس آئے تو دو رکعتیں پڑھیں میں نے عرض کیا یا رسول اللہ اس سے پہلے تو آپ یہ نماز نہیں پڑھتے تھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دراصل بنوتمیم کا وفد آگیا تھا جس کی وجہ سے ظہر کے بعد کی جو دو رکعتیں میں پڑھتا تھا وہ رہ گئی تھیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26515
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 1233، م: 834، قوله: "وفد بني تميم" وهم، صوابه: "وفد من بني عبد القيس"، وقد اختلف فى هذا الاسناد على ابي سلمة
حدیث نمبر: 26516
حَدَّثَنَا قُرَّانُ بْنُ تَمَّامٍ أَبُو تَمَّامٍ الْأَسَدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حُمَيْدٍ ، عَنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمَخْزُومِيِّ ، قَالَ : دَخَلْتُ عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتْ : يَا بُنَيَّ , أَلَا أُحَدِّثُكَ بِمَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : قُلْتُ : بَلَى يَا أُمَّهْ ، قَالَتْ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " مَنْ أَنْفَقَ عَلَى ابْنَتَيْنِ ، أَوْ أُخْتَيْنِ ، أَوْ ذَوَاتَيْ قَرَابَةٍ ، يَحْتَسِبُ النَّفَقَةَ عَلَيْهِمَا ، حَتَّى يُغْنِيَهُمَا اللَّهُ مِنْ فَضْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ ، أَوْ يَكْفِيَهُمَا ، كَانَتَا لَهُ سِتْرًا مِنَ النَّارِ " .
مولانا ظفر اقبال
مطلب بن عبداللہ مخزومی کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت ام سلمہ کی خدمت میں حاضر ہوا تو انہوں نے فرمایا بیٹا میں تمہیں ایک حدیث نہ سناؤں جو میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے ؟ میں نے عرض کیا اماں جان کیوں نہیں انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص اپنی دو بیٹیوں یا بہنوں یا قریبی رشتہ دار عورتوں پر ثواب کی نیت سے اس وقت تک خرچ کرتا رہے کہ فضل الٰہی سے وہ دونوں بےنیاز ہوجائیں یا وہ ان کی کفایت کرتا رہے تو وہ دونوں اس کے لئے جہنم کی آگ سے رکاوٹ بن جائیں گی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26516
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف محمد بن أبى حميد
حدیث نمبر: 26517
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ : " يَصُومُ شَعْبَانَ وَرَمَضَانَ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ماہ شعبان و رمضان کے روزے رکھتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26517
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 26518
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هَارُونُ النَّحْوِيُّ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " قَرَأَهَا إِنَّهُ عَمِلَ غَيْرَ صَالِحٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سورت ہود کی یہ آیت اس طرح پڑھی (آگے آیت ہے) ۔ انہ عمل غیر صالح۔ الخ
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26518
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث محتمل للتحسين بشاهده، وهذا إسناد ضعيف لضعف شهر بن حوشب
حدیث نمبر: 26519
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ بَهْرَامَ ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ : " يَا مُقَلِّبَ الْقُلُوبِ ، ثَبِّتْ قَلْبِي عَلَى دِينِكَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا فرماتے تھے کہ اے دلوں کو ثابت قدم رکھنے والے میرے دل کو اپنے دین پر ثابت قدمی عطا فرما۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26519
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح بشواهده، وهذا إسناد ضعيف لضعف شهر بن حوشب
حدیث نمبر: 26520
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ الْفَضْلِ ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْحَجُّ جِهَادُ كُلِّ ضَعِيفٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ حج ہر کمزور کا جہاد ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26520
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لانقطاعه، أبو جعفر الباقر لم يسمع من أم سلمة
حدیث نمبر: 26521
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي عَائِشَةَ ، عَنْ مَوْلًى لِأُمِّ سَلَمَةَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , كَانَ يَقُولُ فِي دُبُرِ الْفَجْرِ : " اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ عِلْمًا نَافِعًا ، وَعَمَلًا مُتَقَبَّلًا ، وَرِزْقًا طَيِّبًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز فجر کے بعد یہ دعا فرماتے تھے اے اللہ میں تجھ سے علم نافع، عمل مقبول اور رزق حلال کا سوال کرتا ہوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26521
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لإبهام مولى أم سلمة، ثم إنه قد اختلف فيه على سفيان
حدیث نمبر: 26522
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ , عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ حَبِيبٍ يَعْنِي ابْنَ أَبِي ثَابِتٍ ، عَنْ وَهْبٍ مَوْلَى أَبِي أَحْمَدَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيْهَا وَلَمْ تَخْتَمِرْ ، فَقَالَ : " لَيَّةً ، لَا لَيَّتَيْنِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے تو وہ دوپٹہ اوڑھ رہی تھیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے ایک ہی مرتبہ لپیٹنا دو مرتبہ نہیں ( تاکہ مردوں کے عمامے کے ساتھ مشابہت نہ ہوجائے)
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26522
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لجهالة وهب مولى أبى أحمد
حدیث نمبر: 26523
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ أُمِّهِ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يُصَلِّي فِي حُجْرَةِ أُمِّ سَلَمَةَ ، فَمَرَّ بَيْنَ يَدَيْهِ عَبْدُ اللَّهِ أَوْ عُمَرُ ، فَقَالَ : " بِيَدِهِ هَكَذَا " ، قَالَ : فَرَجَعَ ، قَالَ : فَمَرَّتْ ابْنَةُ أُمِّ سَلَمَةَ ، فَقَالَ : " بِيَدِهِ هَكَذَا " ، قَالَ : فَمَضَتْ , فَلَمَّا صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " هُنَّ أَغْلَبُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کے حجرے میں نماز پڑھ رہے تھے کہ سامنے سے عبداللہ بن عمر گزرنے لگے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے انہیں اشارہ کیا تو وہ پیچھے ہٹ گئے، پھر حضرت ام سلمہ کی بیٹی گزرنے لگی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بھی روکا لیکن وہ آگے سے گزرگئی، نماز سے فارغ ہو کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عورتیں غالب آجاتی ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26523
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لجهالة والدة محمد بن قيس
حدیث نمبر: 26524
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَوْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَ وَكِيعٌ شَكَّ هُوَ ، يَعْنِي عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَعِيدٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ لِإِحْدَاهُمَا : " لَقَدْ دَخَلَ عَلَيَّ الْبَيْتَ مَلَكٌ ، لَمْ يَدْخُلْ عَلَيَّ قَبْلَهَا ، فَقَالَ لِي : إِنَّ ابْنَكَ هَذَا حُسَيْنٌ مَقْتُولٌ ، وَإِنْ شِئْتَ أَرَيْتُكَ مِنْ تُرْبَةِ الْأَرْضِ الَّتِي يُقْتَلُ بِهَا , قَالَ : فَأَخْرَجَ تُرْبَةً حَمْرَاءَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ یا ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا میرے گھر میں ایک ایسا فرشتہ آیا جو اس سے پہلے میرے پاس کبھی نہیں آیا اور اس نے مجھے بتایا کہ آپ کا یہ بیٹا حسین شہید ہوجائے گا، اگر آپ چاہیں تو میں آپ کو اس زمین کی مٹی دکھا سکتا ہوں جہاں اسے شہید کیا جائے گا، پھر اس نے سرخ رنگ کی مٹی نکال کر دکھائی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26524
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن بطرقه وشاهده، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، سعيد لم يذكروا له سماعا من عائشة ولا من ام سلمة
حدیث نمبر: 26525
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ : حِضْتُ وَأَنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ثَوْبه , قَالَتْ : فَانْسَلَلْتُ ، فَقَالَ : " أَنُفِسْتِ ؟ " , قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَجَدْتُ مَا تَجِدُ النِّسَاءُ ، قَالَ : " ذَاكَ مَا كُتِبَ عَلَى بَنَاتِ آدَمَ " , قَالَتْ : فَانْطَلَقْتُ ، فَأَصْلَحْتُ مِنْ شَأْنِي ، فَاسْتَثْفَرْتُ بِثَوْبٍ ، ثُمَّ جِئْتُ ، فَدَخَلْتُ مَعَهُ فِي لِحَافِهِ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک لحاف میں تھی کہ مجھے ایام شروع ہوگئے، میں کھسکنے لگی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تمہیں ایام آنے لگے، میں نے کہا یا رسول اللہ مجھے بھی وہی کیفیت پیش آرہی ہے جو دوسری عورتوں کو پیش آتی ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ وہی چیز ہے جو حضرت آدم علیہ السلام کی تمام بیٹیوں کے لئے لکھ دی گئی ہے پھر میں وہاں سے چلی گئی اپنی حالت درست کی اور کپڑا باندھ لیا پھر آکر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لحاف میں گھس گئی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26525
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد اختلف فيه على أبى سلمة
حدیث نمبر: 26526
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ يَعْلَى بْنِ مَمْلَكٍ ، قَالَ : سَأَلْتُ أُمَّ سَلَمَةَ عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِاللَّيْلِ وَقِرَاءَتِهِ ، فَقَالَتْ : مَا لَكُمْ وَلِصَلَاتِهِ وَلِقِرَاءَتِهِ ؟ " كَانَ يُصَلِّي قَدْرَ مَا يَنَامُ ، وَيَنَامُ قَدْرَ مَا يُصَلِّي ، وَإِذَا هِيَ تَنْعَتُ قِرَاءَةً مُفَسَّرَةً حَرْفًا حَرْفًا .
مولانا ظفر اقبال
یعلی بن مملک کہتے ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی رات کی نماز اور قرأت کے متعلق حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا تو انہوں نے فرمایا تم کہاں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز اور قرأت کہاں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جتنی دیرسوتے تھے اتنی دیر نماز پڑھتے تھے اور جتنی دیر نماز پڑھتے تھے اتنی دیرسوتے تھے پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی قرأت کی جو کیفیت انہوں نے بیان فرمائی وہ ایک ایک حرف کی وضاحت کے ساتھ تھی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26526
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لجهالة يعلى ابن مملك
حدیث نمبر: 26527
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا شَرِيكُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ جَامِعِ بْنِ أَبِي رَاشِدٍ ، عَنْ مُنْذِرٍ الثَّوْرِيِّ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : حَدَّثَتْنِي امْرَأَةٌ مِنَ الْأَنْصَارِ هِيَ حَيَّةٌ الْيَوْمَ ، إِنْ شِئْتَ أَدْخَلْتُكَ عَلَيْهَا ، قُلْتُ : لَا ، حَدِّثْنِي , قَالَتْ : دَخَلْتُ عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ ، فَدَخَلَ عَلَيْهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَأَنَّهُ غَضْبَانُ ، فَاسْتَتَرْتُ مِنْهُ بِكُمِّ ذراعي ، فَتَكَلَّمَ بِكَلَامٍ لَمْ أَفْهَمْهُ ، فَقُلْتُ : يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ ، كَأَنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ وَهُوَ غَضْبَانُ ؟ فَقَالَتْ : نَعَمْ ، أَوَمَا سَمِعْتِ مَا قَالَ ؟ قُلْتُ : وَمَا قَالَ ؟ قَالَتْ : قَالَ : " إِنَّ الشَّرَّ إِذَا فَشَا فِي الْأَرْضِ ، فَلَمْ يُتَنَاهَ عَنْهُ ، أَرْسَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بَأْسَهُ عَلَى أَهْلِ الْأَرْضِ " , قَالَتْ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَفِيهِمْ الصَّالِحُونَ ؟ ! قَالَتْ : قَالَ : " نَعَمْ ، وَفِيهِمْ الصَّالِحُونَ ، يُصِيبُهُمْ مَا أَصَابَ النَّاسَ ، ثُمَّ يَقْبِضُهُمْ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَى مَغْفِرَتِهِ وَرِضْوَانِهِ أَوْ : إِلَى رِضْوَانِهِ وَمَغْفِرَتِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حسن بن محمد کہتے ہیں کہ مجھے انصار کی ایک عورت نے بتایا ہے وہ اب بھی زندہ ہیں اگر تم چاہو تو ان سے پوچھ سکتے ہو اور میں تمہیں ان کے پاس لے چلتاہوں راوی نے کہا نہیں آپ خود ہی بیان کردیجئے کہ میں ایک مرتبہ حضرت ام سلمہ کے پاس گئی تو اسی دوران نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان کے یہاں تشریف لے آئے اور یوں محسوس ہو رہا تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم غصے میں ہیں، میں نے اپنی قمیص کی آستین سے پردہ کرلیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی بات کی جو مجھے سمجھ نہ آئی میں نے حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے کہا کہ ام المؤمنین میں دیکھ رہی ہوں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم غصے کی حالت میں تشریف لائے ہیں انہوں نے فرمایا ہاں کیا تم نے ان کی بات سنی ہے میں نے پوچھا کہ انہوں نے کیا فرمایا ہے انہوں نے بتایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے جب زمین میں شرپھیل جائے گا تو اسے روکانہ جاسکے گا اور پھر اللہ اہل زمین پر اپنا عذاب بھیج دے گا میں نے عرض کیا یا رسول اللہ اس میں نیک لوگ بھی شامل ہوں گے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں اس میں نیک لوگ بھی شامل ہوں گے اور ان پر بھی وہی آفت آئے گی جو عام لوگوں پر آئے گی پھر اللہ تعالیٰ انہیں کھینچ کر اپنی مغفرت اور خوشنودی کی طرف لے جائے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26527
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف شريك بن عبدالله ولاضطرابه
حدیث نمبر: 26528
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ ضَبَّةَ بْنِ مُحْصِنٍ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّهُ سَتَكُونُ أُمَرَاءُ تَعْرِفُونَ وَتُنْكِرُونَ ، فَمَنْ أَنْكَرَ ، فَقَدْ بَرِئَ ، وَمَنْ كَرِهَ ، فَقَدْ سَلِمَ ، وَلَكِنْ مَنْ رَضِيَ وَتَابَعَ " , قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَفَلَا نُقَاتِلُهُمْ ؟ قَالَ : " لَا ، مَا صَلَّوْا لَكُمْ الْخَمْسَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا عنقریب چھ حکمران ایسے آئیں گے جن کی عادات میں سے بعض کو تم اچھا سمجھو گے اور بعض پر نکیر کروگے سو جو نکیر کرے گا وہ اپنی ذمہ داری سے بری ہوجائگا اور جو ناپسندیدگی کا اظہار کردے گا وہ محفوظ رہے گا، البتہ جو راضی ہو کر اس کے تابع ہوجائے (تو اس کا حکم دوسرا ہے) صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ کیا ہم ان سے قتال نہ کریں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں جب تک وہ تمہیں پانچ نمازیں پڑھاتے رہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26528
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1854
حدیث نمبر: 26529
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي ابْنُ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَ أُمَّ سَلَمَةَ ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّهُ لَيْسَ أَحَدٌ مِنْ أَوْلِيَائِي تَعْنِي شَاهِدًا ، فَقَالَ : " إِنَّهُ لَيْسَ أَحَدٌ مِنْ أَوْلِيَائِكِ شَاهِدٌ وَلَا غَائِبٌ يَكْرَهُ ذَلِكَ " , فَقَالَتْ : يَا عُمَرُ زَوِّجْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَتَزَوَّجَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَمَا إِنِّي لَا أَنْقُصُكِ مِمَّا أَعْطَيْتُ أَخَوَاتِكِ رَحْيَيْنِ ، وَجَرَّةً ، وَمِرْفَقَةً مِنْ أَدَمٍ ، حَشْوُهَا لِيفٌ " . فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْتِيهَا لِيَدْخُلَ بِهَا ، فَإِذَا رَأَتْهُ ، أَخَذَتْ زَيْنَبَ ابْنَتَهَا ، فَجَعَلَتْهَا فِي حِجْرِهَا ، فَيَنْصَرِفُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَعَلِمَ ذَلِكَ عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ ، وَكَانَ أَخَاهَا مِنَ الرَّضَاعَةِ ، فَأَتَاهَا ، فَقَالَ : أَيْنَ هَذِهِ الْمَشْقُوحَةُ الْمَقْبُوحَةُ الَّتِي قَدْ آذَيْتِ بِهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ فَأَخَذَهَا ، فَذَهَبَ بِهَا ، فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَدَخَلَ عَلَيْهَا ، فَجَعَلَ يَضْرِبُ بِبَصَرِهِ فِي نَوَاحِي الْبَيْتِ ، فَقَالَ : مَا فَعَلَتْ زَنَابُ ؟ فَقَالَتْ : جَاءَ عَمَّارٌ ، فَأَخَذَهَا ، فَذَهَبَ بِهَا ، فَدَخَلَ بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَقَالَ لَهَا : " إِنْ شِئْتِ سَبَّعْتُ لَكِ ، سَبَّعْتُ وَإِنْ سَبَّعْتُ لَكِ سَبَّعْتُ لِنِسَائِي " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں پیغام نکاح بھیجا انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ میرا تو کوئی ولی یہاں موجود نہیں ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہارے اولیاء میں سے کوئی بھی خواہ وہ غائب ہو یا حاضر اسے ناپسند نہیں کرے گا، انہوں نے اپنے بیٹے عمربن ابی سلمہ سے کہا کہ تم نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے میرا نکاح کرا دو چنانچہ انہوں نے حضرت ام سلمہ کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نکاح میں دیدیا۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ میں نے تمہاری بہنوں (اپنی بیویوں) کو جو کچھ دیا ہے تمہیں بھی اس سے کم نہیں دوں گا، دو چکیاں، ایک مشکیزہ اور چمڑے کا ایک تکیہ جس میں کھجور کی چھال بھری ہوئی تھی، اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی ان کے پاس خلوت کے لئے آتے تو وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھتے ہی اپنی بیٹی زینب کو پکڑ کر اسے اپنی گود میں بٹھالیتی تھیں اور بالآخر نبی صلی اللہ علیہ وسلم یوں ہی واپس چلے جاتے تھے، حضرت عماربن یاسر جو کہ حضرت ام سلمہ کے رضاعی بھائی تھے، کو یہ بات معلوم ہوئی تو وہ حضرت ام سلمہ کے پاس آئے اور ان سے کہا کہ یہ گندی بچی کہاں ہے جس کے ذریعے تم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ایذاء دے رکھی ہے اور اسے پکڑ کر اپنے ساتھ لے گئے۔ اس مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور گھر میں داخل ہوئے تو اس کمرے کے چاروں کونوں میں نظریں دوڑا کر دیکھنے لگے پھر بچی کے متعلق پوچھا کہ زناب (زینب) کہاں گئی ؟ انہوں نے بتایا کہ حضرت عمار آئے تھے وہ اسے اپنے ساتھ لے گئے ہیں، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ساتھ خلوت کی اور فرمایا اگر تم چاہو تو میں تمہارے پاس سات دن گزارتا ہوں لیکن پھر اپنی دوسری بیویوں میں سے ہر ایک کے پاس بھی سات سات دن گزاروں گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26529
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: قوله: "ان شئت سبعت لك، وان سبعت لك سبعت لنسائي" صحيح، وهذا اسناد ضعيف لجهالة ابن عمر بن ابي سلمة
حدیث نمبر: 26530
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَمْعَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، وَعَنْ أُمِّهِ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، يُحَدِّثَانِهِ ذَلِكَ جَمِيعًا عَنْهَا ، قَالَتْ : كَانَتْ لَيْلَتِي الَّتِي يَصِيرُ إِلَيَّ فِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَسَاءَ يَوْمِ النَّحْرِ ، قَالَتْ : فَصَارَ إِلَيَّ ، قَالَتْ : فَدَخَلَ عَلَيَّ وَهْبُ بْنُ زَمْعَةَ وَمَعَهُ رَجُلٌ مِنْ آلِ أَبِي أُمَيَّةَ مُتَقَمِّصَيْنِ , قَالَتْ : فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِوَهْبٍ : " هَلْ أَفَضْتَ بَعْدُ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ ؟ " قَالَ : لَا , وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " انْزِعْ عَنْكَ الْقَمِيصَ " , قَالَ : فَنَزَعَهُ مِنْ رَأْسِهِ ، وَنَزَعَ صَاحِبُهُ قَمِيصَهُ مِنْ رَأْسِهِ ، ثُمَّ قَالُوا : وَلِمَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " إِنَّ هَذَا يَوْمٌ رُخِّصَ لَكُمْ إِذَا أَنْتُمْ رَمَيْتُمْ الْجَمْرَةَ أَنْ تَحِلُّوا يَعْنِي مِنْ كُلِّ مَا حُرِمْتُمْ مِنْهُ إِلَّا مِنَ النِّسَاءِ إِذَا أَنْتُمْ أَمْسَيْتُمْ قَبْلَ أَنْ تَطُوفُوا بِهَذَا الْبَيْتِ ، عُدْتُمْ حُرُمًا ، كَهَيْئَتِكُمْ قَبْلَ أَنْ تَرْمُوا الْجَمْرَةَ حَتَّى تَطُوفُوا بِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حجۃ الوداع کے موقع پر جس رات نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے پاس آنا تھا وہ یوم النحر (دس ذی الحجہ) کی رات تھی، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس آگئے، اسی دوران میرے یہاں وہب بن زمعہ بھی آگئے جن کے ساتھ آل ابی امیہ کا ایک اور آدمی بھی تھا اور ان دونوں نے قمیصیں پہن رکھی تھیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وہب سے پوچھا کہ اے ابو عبداللہ کیا تم نے طواف زیارت کرلیا ہے، انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ابھی تو نہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر اپنی قمیص اتاردو، چنانچہ ان دونوں نے اپنے سر سے کھینچ کر قمیص اتادری، پھر کہنے لگے یا رسول اللہ اس کی کیا وجہ ہے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس دن جب تم جمرات کی رمی کر چکو تو عورتوں کے علاوہ ہر وہ چیز جو تم پر حرام کی گئی تھی حلال ہوجاتی ہے لیکن اگر شام تک تم طواف زیارت نہ کرسکو تو تم اسی طرح محرم بن جاتے ہو جیسے رمی جمرات سے پہلے تھے تاآنکہ تم طواف زیارت کرلو۔ ام قیس کہتی ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت عکاشہ بنواسد کے کچھ لوگوں کے ہمراہ میرے یہاں سے نکلے انہوں نے دس ذی الحجہ کی شام کو قمیصیں پہن رکھی تھیں، پھر رات کو وہ میرے پاس واپس آئے تو انہوں نے اپنی قمیص اپنے ہاتھوں میں اٹھا رکھی تھیں، میں نے عکاشہ سے پوچھا کہ اے عکاشہ جب تم یہاں سے گئے تھے تو قمیصیں پہن رکھی تھیں اور جب واپس آئے تو ہاتھوں میں اٹھائے ہوئے انہوں نے بتایا کہ اس دن ہمیں یہ رخصت دی گئی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس دن جب تم جمرات کی رمی کر چکو تو عورتوں کے علاوہ ہر وہ چیز جو تم پر حرام کی گئی تھی حلال ہوجاتی ہے لیکن اگر شام تک تم طواف زیارت نہ کرسکو تو تم اسی طرح محرم بن جاتے ہو جیسے رمی جمرات سے پہلے تھے تاآنکہ تم طواف زیارت کرلو ہم نے چونکہ طواف نہیں کیا تھا اس لئے تم ہماری قمیصیں اس طرح دیکھ رہی ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26530
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف من أجل أبى عبيدة بن عبدالله، وقد اضطرب فيه
حدیث نمبر: 26531
قَالَ قَالَ مُحَمَّدٌ : قَالَ أَبُو عُبَيْدَةَ : وَحَدَّثَتْنِي أُمُّ قَيْسٍ ابْنَةُ مِحْصَنٍ , وَكَانَتْ جَارَةً لَهُمْ ، قَالَتْ : خَرَجَ مِنْ عِنْدِي عُكَّاشَةُ بْنُ مِحْصَنٍ فِي نَفَرٍ مِنْ بَنِي أَسَدٍ مُتَقَمِّصِينَ عَشِيَّةَ يَوْمِ النَّحْرِ ، ثُمَّ رَجَعُوا إِلَيَّ عِشَاءً ، قُمُصُهُمْ عَلَى أَيْدِيهِمْ ، يَحْمِلُونَهَا , قَالَتْ : فَقُلْتُ : أَيْ عُكَّاشَةُ ، مَا لَكُمْ خَرَجْتُمْ مُتَقَمِّصِينَ ، ثُمَّ رَجَعْتُمْ وَقُمُصُكُمْ عَلَى أَيْدِيكُمْ تَحْمِلُونَهَا ؟ فَقَالَ : أَخْبَرَتْنَا أُمُّ قَيْسٍ ، كَانَ هَذَا يَوْمًا قَدْ " رُخِّصَ لَنَا فِيهِ إِذَا نَحْنُ رَمَيْنَا الْجَمْرَةَ ، حَلَلْنَا مِنْ كُلِّ مَا حُرِمْنَا مِنْهُ , إِلَّا مَا كَانَ مِنَ النِّسَاءِ حَتَّى نَطُوفَ بِالْبَيْتِ ، فَإِذَا أَمْسَيْنَا وَلَمْ نَطُفْ بِهِ ، صِرْنَا حُرُمًا ، كَهَيْئَتِنَا قَبْلَ أَنْ نَرْمِيَ الْجَمْرَةَ ، حَتَّى نَطُوفَ بِهِ ، وَلَمْ نَطُفْ ، فَجَعَلْنَا قُمُصَنَا كَمَا تَرَيْنَ " .
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26531
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف من أجل أبى عبيدة بن عبدالله، وقد اضطرب فيه
حدیث نمبر: 26532
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ أَبِي عُبَيْدٍ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " ذُيُولُ النِّسَاءِ شِبْرٌ " , قُلْتُ : إِذَنْ تَبْدُوَ أَقْدَامُهُنَّ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " فَذِرَاعٌ ، لَا تَزِدْنَ عَلَيْهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ عورتیں اپنا دامن کتنالٹکائیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم لوگ ایک بالشت کے برابر اسے لٹکا سکتی ہو میں نے عرض کیا کہ اس طرح تو ان کی پنڈلیاں کھل جائیں گی ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر ایک گزلٹکا لو اس سے زیادہ نہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26532
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لعنعنة ابن إسحاق، وهو مدلس، لكنه توبع
حدیث نمبر: 26533
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُوسَى يَعْنِي ابْنَ عَلِيٍّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي قَيْسٍ ، قَالَ : أَرْسَلَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو إِلَى أُمِّ سَلَمَةَ أَسْأَلُهَا : هَلْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُ وَهُوَ صَائِمٌ ؟ فَإِنْ قَالَتْ : لَا ، فَقُلْ لَهَا : إِنَّ عَائِشَةَ تُخْبِرُ النَّاسَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُقَبِّلُ وَهُوَ صَائِمٌ ؟ قَالَ : فَسَأَلَهَا أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُ وَهُوَ صَائِمٌ ؟ قَالَتْ : لَا ، قُلْتُ : إِنَّ عَائِشَةَ تُخْبِرُ النَّاسَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُقَبِّلُ وَهُوَ صَائِمٌ ؟ قَالَتْ : لَعَلَّهُ إِيَّاهَا كَانَ لَا يَتَمَالَكُ عَنْهَا حُبًّا ، أَمَّا إِيَّايَ , فَلَا .
مولانا ظفر اقبال
ابوقیس کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ مجھے حضرت عبداللہ بن عمرو نے حضرت ام سلمہ کے پاس یہ پوچھنے کے لئے بھیجا کہ کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم روزے کی حالت میں بوسہ دیتے تھے ؟ اگر وہ نفی میں جواب دیں تو ان سے کہنا کہ حضرت عائشہ تو لوگوں کو بتاتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم روزے کی حالت میں انہیں بوسہ دیا کرتے تھے ؟ چنانچہ ابوقیس نے یہ سوال ان سے پوچھا تو انہوں نے نفی میں جواب دیا ابوقیس نے حضرت عائشہ کا حوالہ دیا تو حضرت ام سلمہ نے فرمایا ہوسکتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بوسہ دیا ہو کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان سے بہت جذباتی محبت فرمایا کرتے تھے البتہ میرے ساتھ کبھی ایسا نہیں ہوا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26533
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، تفرد به موسي بن عُلَيِّ، وهو ليس بحجة إذا انفرد
حدیث نمبر: 26534
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُوسَى ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبِي , يَقُولُ : حَدَّثَنِي أَبُو قَيْسٍ مَوْلَى عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، قَالَ : بَعَثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ إِلَى أُمِّ سَلَمَةَ ، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ.
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26534
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، تفرد به موسي بن عُلَيِّ، وهو ليس بحجة إذا انفرد
حدیث نمبر: 26535
حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ يَعْنِي شَيْبَانَ , عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : دَخَلْنَا عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ ، فَأَخْرَجَتْ إِلَيْنَا مِنْ شَعْرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَإِذَا هُوَ مَخْضُوبٌ أَحْمَرُ بِالْحِنَّاءِ وَالْكَتَمِ .
مولانا ظفر اقبال
عثمان بن عبداللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم لوگ حضرت ام سلمہ کے پاس گئے تو انہوں نے ہمارے سامنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک بال نکال کر دکھایا جو کہ مہندی اور وسمہ سے رنگا ہوا ہونے کی وجہ سے سرخ ہوچکا تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26535
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5896
حدیث نمبر: 26536
حَدَّثَنَا سَيَّارٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ يَعْنِي ابْنَ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ حَبِيبٍ خَتَنُ مَالِكِ بْنِ دِينَارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي شَيْخٌ مِنَ الْمَدِينَةِ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ : قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَصْلِحِي لَنَا الْمَجْلِسَ ، فَإِنَّهُ يَنْزِلُ مَلَكٌ إِلَى الْأَرْضِ ، لَمْ يَنْزِلْ إِلَيْهَا قَطُّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا ہماری بیٹھک کو خوب صاف ستھرا کرلو کیونکہ آج زمین پر ایک ایسا فرشتہ اترنے والا ہے جو اس سے پہلے کبھی نہیں اترا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26536
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لإبهام الشيخ الذى روى عن أم سلمة
حدیث نمبر: 26537
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ يُونُسَ بْنِ يَزِيدٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، أَنَّ نَبْهَانَ حَدَّثَهُ ، أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ حَدَّثَتْهُ ، قَالَتْ : كُنْتُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَيْمُونَةُ ، فَأَقْبَلَ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ حَتَّى دَخَلَ عَلَيْهِ ، وَذَلِكَ بَعْدَ أَنْ أَمَرَنَا بِالْحِجَابِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " احْتَجِبَا مِنْهُ " , فَقُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَلَيْسَ أَعْمَى ، لَا يُبْصِرُنَا وَلَا يَعْرِفُنَا ؟ قَالَ : " أَفَعَمْيَاوَانِ أَنْتُمَا ، لَسْتُمَا تُبْصِرَانِهِ ؟ ! " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں اور حضرت میمونہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھی ہوئی تھیں کہ اسی اثناء میں حضرت ابن ام مکتوم آگئے، یہ اس وقت کا واقعہ ہے جب کہ حجاب کا حکم نازل ہوچکا تھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ان سے پردہ کرو ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ کیا یہ نابینا نہیں ہیں ؟ یہ ہمیں دیکھ سکتے ہیں اور نہ ہی پہچان سکتے ہیں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تو کیا تم دونوں بھی نابیناہو ؟ کیا تم دونوں انہیں نہیں دیکھ رہی ہو ؟
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26537
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لجهالة حال نيهان
حدیث نمبر: 26538
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ حَبِيبٍ ، عَنْ وَهْبٍ مَوْلَى أَبِي أَحْمَدَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيْهَا وَهِيَ تَخْتَمِرُ ، فَقَالَ : " لَيَّةً ، لَا لَيَّتَيْنِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے تو وہ دوپٹہ اوڑھ رہی تھیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے ایک ہی مرتبہ لپیٹنا دو مرتبہ نہیں (تاکہ مردوں کے عمامے کے ساتھ مشابہت نہ ہوجائے)
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26538
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لجهالة وهب
حدیث نمبر: 26539
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سَلَّامُ بْنُ أَبِي مُطِيعٍ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ ، قَالَ : دَخَلْتُ عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ ، " فَأَخْرَجَتْ إِلَيْنَا شَعْرًا مِنْ شَعْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَخْضُوبًا بِالْحِنَّاءِ وَالْكَتَمِ " .
مولانا ظفر اقبال
عثمان بن عبداللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم لوگ حضرت ام سلمہ کے پاس گئے تو انہوں نے ہمارے سامنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک بال نکال کر دکھایا جو کہ مہندی اور وسمہ سے رنگا ہوا ہونے کیوجہ سے سرخ ہوچکا تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26539
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5897
حدیث نمبر: 26540
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَوْفٌ ، عَنْ أَبِي الْمُعَذِّلِ عَطِيَّةَ الطُّفَاوِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ حَدَّثَتْهُ ، قَالَتْ : بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِي يَوْمًا ، إِذْ قَالَتْ الْخَادِمُ : إِنَّ عَلِيًّا وَفَاطِمَةَ بِالسُّدَّةِ ، قَالَتْ : قَالَ لِي : " قُومِي فَتَنَحَّيْ لِي عَنْ أَهْلِ بَيْتِي " , قَالَتْ : فَقُمْتُ فَتَنَحَّيْتُ فِي الْبَيْتِ قَرِيبًا ، فَدَخَلَ عَلِيٌّ وَفَاطِمَةُ ، وَمَعَهُمَا الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ ، وَهُمَا صَبِيَّانِ صَغِيرَانِ ، فَأَخَذَ الصَّبِيَّيْنِ ، فَوَضَعَهُمَا فِي حِجْرِهِ ، فَقَبَّلَهُمَا , قَالَ : وَاعْتَنَقَ عَلِيًّا بِإِحْدَى يَدَيْهِ ، وَفَاطِمَةَ بِالْيَدِ الْأُخْرَى ، فَقَبَّلَ فَاطِمَةَ وَقَبَّلَ عَلِيًّا ، فَأَغْدَفَ عَلَيْهِمْ خَمِيصَةً سَوْدَاءَ ، فَقَالَ : " اللَّهُمَّ إِلَيْكَ ، لَا إِلَى النَّارِ ، أَنَا وَأَهْلُ بَيْتِي " قَالَتْ : فَقُلْتُ : وَأَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ فَقَالَ : " وَأَنْت " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کے گھر میں تھے کہ خادم نے آکر بتایا کہ حضرت علی اور حضرت فاطمہ دروازے پر ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا تھوڑی دیر کے لئے میرے اہل بیت کو میرے پاس تنہا چھوڑ دو ، میں وہاں سے اٹھ کر قریب ہی جا کر بیٹھ گئی، اتنی دیر میں حضرت فاطمہ حضرت علی اور حضرات حسنین بھی آگئے وہ دونوں چھوٹے بچے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں پکڑ کر اپنی گود میں بٹھالیا اور انہیں چومنے لگے پھر ایک ہاتھ سے حضرت علی کو اور دوسرے سے حضرت فاطمہ کو اپنے قریب کرکے دونوں کو بوسہ دیا۔ اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے چادر کا بقیہ حصہ لے کر ان سب پر ڈال دیا اور اپنا ہاتھ باہر نکال کر آسمان کی طرف اشارہ کرکے فرمایا اے اللہ تیرے حوالے نہ کہ جہنم کے میں اور میرے اہل بیت، اس پر میں نے اس کمرے میں اپنا سر داخل کرکے عرض کیا یا رسول اللہ میں بھی تو آپ کے ساتھ ہوں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم بھی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26540
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، أبو المعذِّل ضعيف وأبوه مجهول
حدیث نمبر: 26541
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ هِنْدِ بِنْتِ الْحَارِثِ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا سَلَّمَ ، قَامَ النِّسَاءُ حِينَ يَقْضِي تَسْلِيمَهُ ، وَيَمْكُثُ فِي مَكَانِهِ يَسِيرًا قَبْلَ أَنْ يَقُومَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب سلام پھیرتے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا سلام ختم ہوتے ہی خواتین اٹھنے لگتی تھیں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہونے سے پہلے کچھ دیر اپنی جگہ پر ہی رک جاتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26541
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 837
حدیث نمبر: 26542
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ غَيْلَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا رِشْدِينُ ، حَدَّثَنِي عَمْرٌو ، عَنْ أَبِي السَّمْحِ ، عَنِ السَّائِبِ مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَنَّهُ قَالَ : " خَيْرُ مَسَاجِدِ النِّسَاءِ قَعْرُ بُيُوتِهِنَّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا عورتوں کی سب سے بہترین مسجد ان کے گھرکا آخری کمرہ ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26542
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن بشواهده، وهذا إسناد ضعيف لضعف رشدين، وقد توبع، وجهالة السائب مولى أم سلمة
حدیث نمبر: 26543
حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ يَعْنِي الْفَزَارِيَّ ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ ذُؤَيْبٍ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ : دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أَبِي سَلَمَةَ وَقَدْ شَقَّ بَصَرُهُ ، فَأَغْمَضَهُ ، ثُمَّ قَالَ : " إِنَّ الرُّوحَ إِذَا قُبِضَ تَبِعَهُ الْبَصَرُ " , فَضَجَّ نَاسٌ مِنْ أَهْلِهِ ، فَقَالَ : " لَا تَدْعُوا عَلَى أَنْفُسِكُمْ إِلَّا بِخَيْرٍ ، فَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ يُؤَمِّنُونَ عَلَى مَا تَقُولُونَ " , ثُمَّ قَالَ : " اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِأَبِي سَلَمَةَ ، وَارْفَعْ دَرَجَتَهُ فِي الْمَهْدِيِّينَ ، وَاخْلُفْهُ فِي عَقِبِهِ فِي الْغَابِرِينَ ، وَاغْفِرْ لَنَا وَلَهُ يَا رَبَّ الْعَالَمِينَ ، اللَّهُمَّ افْسَحْ فِي قَبْرِهِ وَنَوِّرْ لَهُ فِيهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابوسلمہ کی میت پر تشریف لائے، ان کی آنکھیں کھلی رہ گئی تھیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم انہیں بند کیا اور فرمایا جب روح قبض ہوجاتی ہے تو آنکھیں اس کا تعاقب کرتی ہیں، اسی دوران گھرکے کچھ لوگ رونے چیخنے لگے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنے متعلق خیر کی ہی دعا مانگا کرو، کیونکہ ملائکہ تمہاری دعا پر آمین کہتے ہیں، پھر فرمایا اے اللہ ابوسلمہ کی بخشش فرما، ہدایت یافتہ لوگوں میں ان کا درجہ بلند فرما، پیچھے رہ جانیوالوں میں اس کا کوئی جانشین پیدا فرما اور اے تمام جہانوں کو پالنے والے ہماری اور اس کی بخشش فرما، اے اللہ اس کی قبر کو کشادہ فرما اور اسے اس کے لئے منور فرما۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26543
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 920
حدیث نمبر: 26544
حَدَّثَنَا أَبُو قَطَنٍ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ يَعْنِي ابْنَ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ : " مَا قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى كَانَ أَكْثَرَ صَلَاتِهِ جَالِسًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا جس وقت وصال ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اکثر نمازیں بیٹھ کر ہوتی تھیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26544
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد خالف فيه يونس بن أبى إسحاق السبيعي الرواة عن أبيه، وهو ممن سمع منه بعد الا ختلاط
حدیث نمبر: 26545
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ هِنْدِ بِنْتِ الْحَارِثِ ، قَالَ الزُّهْرِيُّ : وَكَانَ لِهِنْدٍ أَزْرَارٌ فِي كُمِّهَا ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ : اسْتَيْقَظَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ وَهُوَ يَقُولُ : " لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، مَا فُتِحَ اللَّيْلَةَ مِنَ الْخَزَائِنِ ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، مَا أُنْزِلَ اللَّيْلَةَ مِنَ الْفِتْنَةِ ، مَنْ يُوقِظُ صَوَاحِبَ الْحُجَرِ ، يَا رُبَّ كَاسِيَاتٍ فِي الدُّنْيَا عَارِيَاتٍ فِي الْآخِرَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کو نیند سے بیدار ہوئے تو یہ فرما رہے تھے لا الہ الا اللہ آج رات کتنے خزانے کھولے گئے ہیں لا الہ الا اللہ آج رات کتنے فتنے نازل ہوئے ہیں، ان حجرے والیوں کو کون جگائے گا ہائے دنیا میں کتنی ہی کپڑے پہننے والی عورتیں ہیں جو آخرت میں برہنہ ہوں گی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26545
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1126
حدیث نمبر: 26546
حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا أَفْلَحُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَافِعٍ ، قَالَ : كَانَتْ أُمُّ سَلَمَةَ تُحَدِّثُ , أَنَّهَا سَمِعَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ عَلَى الْمِنْبَرِ وَهِيَ تَمْتَشِطُ : " أَيُّهَا النَّاسُ " , فَقَالَتْ : لِمَاشِطَتِهَا لُفِّي رَأْسِي ، قَالَتْ : فَقَالَتْ : فَدَيْتُكِ إِنَّمَا يَقُولُ : " أَيُّهَا النَّاسُ " , قُلْتُ : وَيْحَكِ ، أَوَلَسْنَا مِنَ النَّاسِ ؟ ! فَلَفَّتْ رَأْسَهَا ، وَقَامَتْ فِي حُجْرَتِهَا ، فَسَمِعَتْهُ يَقُولُ : " أَيُّهَا النَّاسُ ، بَيْنَمَا أَنَا عَلَى الْحَوْضِ ، جِيءَ بِكُمْ زُمَرًا ، فَتَفَرَّقَتْ بِكُمْ الطُّرُقُ ، فَنَادَيْتُكُمْ أَلَا هَلُمُّوا إِلَى الطَّرِيقِ ، فَنَادَانِي مُنَادٍ مِنْ بَعْدِي ، فَقَالَ : إِنَّهُمْ قَدْ بَدَّلُوا بَعْدَكَ ، فَقُلْتُ أَلَا سُحْقًا ، أَلَا سُحْقًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو برسرمنبریہ فرماتے ہوئے سنا اے لوگو اس وقت وہ کنگھی کر رہی تھیں انہوں نے اپنی کنگھی کرنیوالی سے فرمایا میرے سرکے بال لپیٹ دو اس نے کہا کہ میں آپ پر قربان ہوں نبی صلی اللہ علیہ وسلم تو لوگوں سے خطاب کر رہے ہیں، حضرت ام سلمہ نے فرمایا اری کیا ہم لوگوں میں شامل نہیں ہیں ؟ اس نے ان کے بال سمیٹے اور وہ اپنے حجرے میں جا کر کھڑی ہوگئیں، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا اے لوگو جس وقت میں حوض پر تمہارا منتظر ہوں گا اور تمہیں گروہ درگروہ لایا جائے گا اور تم راستوں میں بھٹک جاؤگے، میں تمہیں آواز دے کر کہوں گا کہ راستے کی طرف آجاؤ تو میرے پیچھے سے ایک منادی پکار کر کہے گا انہوں نے آپ کے بعد دین کو تبدیل کردیا تھا، میں کہوں گا کہ یہ لوگ دور ہوجائیں یہ لوگ دور ہوجائیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26546
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2295
حدیث نمبر: 26547
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ , وَعَبْدُ الرَّزَّاقِ , قَالَا : حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ ، قَالَ : عَبْدُ الرَّزَّاقِ , قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ : أَخْبَرَنِي يَعْلَى بْنُ مَمْلَكٍ ، أَنَّهُ , سَأَلَ أُمَّ سَلَمَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , عَنْ صَلَاةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِاللَّيْلِ , قَالَتْ : " كَانَ يُصَلِّي الْعِشَاءَ الْآخِرَةَ ، ثُمَّ يُسَبِّحُ ، ثُمَّ يُصَلِّي بَعْدَهَا مَا شَاءَ اللَّهُ مِنَ اللَّيْلِ ، ثُمَّ يَنْصَرِفُ ، فَيَرْقُدُ مِثْلَ مَا صَلَّى ، ثُمَّ يَسْتَيْقِظُ مِنْ نَوْمَتِهِ تِلْكَ ، فَيُصَلِّي مِثْلَ مَا نَامَ ، وَصَلَاتُهُ الْآخِرَةُ تَكُونُ إِلَى الصُّبْحِ .
مولانا ظفر اقبال
یعلی بن مملک کہتے ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی رات کی نماز اور قرأت کے متعلق حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا تو انہوں نے فرمایا نبی صلی اللہ علیہ وسلم عشاء کی نماز اور نوافل پڑھ کر جتنی دیرسوتے تھے اتنی دیر نماز پڑھتے تھے اور جتنی دیر نماز پڑھتے تھے اتنی دیرسوتے تھے پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کا اختتام صبح پر ہوتا تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26547
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لجهالة يعلى ابن مملك
حدیث نمبر: 26548
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ الْمِصْرِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ أَسْلَمَ , أَنَّهُ قَالَ : حَجَجْتُ مَعَ مَوَالِيَّ ، فَدَخَلْتُ عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقُلْتُ : أَعْتَمِرُ قَبْلَ أَنْ أَحُجَّ ؟ قَالَتْ : إِنْ شِئْتَ اعْتَمِرْ قَبْلَ أَنْ تَحُجَّ ، وَإِنْ شِئْتَ بَعْدَ أَنْ تَحُجَّ ، قَالَ : فَقُلْتُ : إِنَّهُمْ يَقُولُونَ : مَنْ كَانَ صَرُورَةً ، فَلَا يَصْلُحُ أَنْ يَعْتَمِرَ قَبْلَ أَنْ يَحُجَّ ؟ قَالَ : فَسَأَلْتُ أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ ، فَقُلْنَ مِثْلَ مَا قَالَتْ ، فَرَجَعْتُ إِلَيْهَا ، فَأَخْبَرْتُهَا بِقَوْلِهِنَّ ، قَالَ : فَقَالَتْ : نَعَمْ وَأَشْفِيكَ ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " أَهِلُّوا يَا آلَ مُحَمَّدٍ بِعُمْرَةٍ فِي حَجٍّ " .
مولانا ظفر اقبال
ابوعمران اسلم کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں اپنے مالکوں کے ساتھ حج کے لئے گیا میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ حضرت ام سلمہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ کیا میں حج سے پہلے عمرہ کرسکتا ہوں ؟ انہوں نے فرمایا حج سے پہلے عمرہ کرنا چاہو تو حج سے پہلے کرلو اور بعد میں کرنا چاہو تو بعد میں کرلو، میں نے عرض کیا کہ بعض لوگ کہتے ہیں کہ جس شخص نے حج نہ کیا ہو اس کے لئے حج سے پہلے عمرہ کرنا صحیح نہیں ہے پھر میں نے دیگر امہات المؤمنین سے یہی مسئلہ پوچھا تو انہوں نے بھی یہی جواب دیا، چنانچہ میں حضرت ام سلمہ کے پاس واپس آیا اور انہیں ان کا جواب بتایا، انہوں نے فرمایا اچھا میں تمہاری تشفی کردیتی ہوں میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اے آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم حج کے ساتھ عمرے کا احرام باندھ لو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26548
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 26549
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مِنْ أَصْحَابِي مَنْ لَا أَرَاهُ وَلَا يَرَانِي بَعْدَ أَنْ أَمُوتَ أَبَدًا " , قَالَ : فَبَلَغَ ذَلِكَ عُمَرَ ، قَالَ : فَأَتَاهَا يَشْتَدُّ ، أَوْ يُسْرِعُ شَكَّ شَاذَانُ ، قَالَ : فَقَالَ لَهَا : أَنْشُدُكِ بِاللَّهِ ، أَنَا مِنْهُمْ ؟ قَالَتْ : لَا ، وَلَنْ أُبَرِّئَ أَحَدًا بَعْدَكَ أَبَدًا.
مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے بعض ساتھی ایسے بھی ہونگے کہ میری ان سے جدائی ہونے کے بعد وہ مجھے دوبارہ کبھی نہ دیکھ سکیں گے، حضرت عمر خود حضرت ام سلمہ کے پاس تیزی سے پہنچے اور گھر میں داخل ہو کر فرمایا اللہ کی قسم کھا کر بتائیے کیا میں بھی ان میں سے ہوں ؟ انہوں نے فرمایا نہیں لیکن آپ کے بعد میں کسی کے متعلق یہ بات نہیں کہہ سکتی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26549
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد خالف فيه عاصم، وشريك سييء الحفظ، وقد توبع
حدیث نمبر: 26550
حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ يَعْنِي ابْنَ بَهْرَامَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي شَهْرُ بْنُ حَوْشَبٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أُمَّ سَلَمَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ جَاءَ نَعْيُ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ ، لَعَنَتْ أَهْلَ الْعِرَاقِ ، فَقَالَتْ : قَتَلُوهُ ، قَتَلَهُمْ اللَّهُ ، غَرُّوهُ وَذَلُّوهُ ، لعنهم اللَّهُ ، فَإِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَتْهُ فَاطِمَةُ غَدِيَّةً بِبُرْمَةٍ ، قَدْ صَنَعَتْ لَهُ فِيهَا عَصِيدَةً تَحْمِلُهُ فِي طَبَقٍ لَهَا ، حَتَّى وَضَعَتْهَا بَيْنَ يَدَيْهِ ، فَقَالَ لَهَا : " أَيْنَ ابْنُ عَمِّكِ ؟ " قَالَتْ : هُوَ فِي الْبَيْتِ , قَالَ : " فَاذْهَبِي ، فَادْعِيهِ ، وَائْتِنِي بِابْنَيْهِ " , قَالَتْ : فَجَاءَتْ تَقُودُ ابْنَيْهَا ، كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا بِيَدٍ ، وَعَلِيٌّ يَمْشِي فِي إِثْرِهِمَا ، حَتَّى دَخَلُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَجْلَسَهُمَا فِي حِجْرِهِ ، وَجَلَسَ عَلِيٌّ عَنْ يَمِينِهِ ، وَجَلَسَتْ فَاطِمَةُ عَنْ يَسَارِهِ , قَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ فَاجْتَبَذَ مِنْ تَحْتِي كِسَاءً خَيْبَرِيًّا ، كَانَ بِسَاطًا لَنَا عَلَى الْمَنَامَةِ فِي الْمَدِينَةِ ، فَلَفَّهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ جَمِيعًا ، فَأَخَذَ بِشِمَالِهِ طَرَفَيْ الْكِسَاءِ ، وَأَلْوَى بِيَدِهِ الْيُمْنَى إِلَى رَبِّهِ عَزَّ وَجَلَّ ، قَالَ : " اللَّهُمَّ أَهْلِي ، أَذْهِبْ عَنْهُمْ الرِّجْسَ ، وَطَهِّرْهُمْ تَطْهِيرًا ، اللَّهُمَّ أَهْلُ بَيْتِي ، أَذْهِبْ عَنْهُمْ الرِّجْسَ ، وَطَهِّرْهُمْ تَطْهِيرًا ، اللَّهُمَّ أَهْلُ بَيْتِي أَذْهِبْ عَنْهُمْ الرِّجْسَ وَطَهِّرْهُمْ تَطْهِيرًا " , قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَلَسْتُ مِنْ أَهْلِكَ ؟ قَالَ : " بَلَى ، فَادْخُلِي فِي الْكِسَاءِ " , قَالَتْ : فَدَخَلْتُ فِي الْكِسَاءِ بَعْدَمَا قَضَى دُعَاءَهُ لِابْنِ عَمِّهِ عَلِيٍّ وَابْنَيْهِ وَابْنَتِهِ فَاطِمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب انہیں حضرت امام حسین کی شہادت کا علم ہوا تو انہوں نے اہل عراق پر لعنت بھیجتے ہوئے فرمایا کہ انہوں نے حسین کو شہید کردیا ان پر اللہ کی مار ہو انہوں نے حسین کو دھوکہ دے کر تنگ کیا ان پر اللہ کی مار ہو، میں نے وہ وقت دیکھا ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کے گھر میں تھے کہ حضرت فاطمہ ایک ہنڈیا لے کر آگئیں جس میں خزیرہ تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ اپنے شوہر اور بچوں کو بھی بلالاؤ چنانچہ حضرت علی اور حضرات حسنین بھی آگئے اور بیٹھ کر وہ خزیرہ کھانے لگے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت ایک چبوترے پر نیند کی حالت میں تھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم مبارک کے نیچے خیبر کی ایک چادر تھی اور میں حجرے میں نماز پڑھ رہی تھی کہ اسی دوران اللہ نے یہ آیت نازل فرمادی اے اہل بیت اللہ تو تم سے گندگی کو دور کر کے تمہیں خوب صاف ستھرا بنانا چاہتا ہے۔ اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے چادر کا بقیہ حصہ لے کر ان سب پر ڈال دیا اور اپنا ہاتھ باہر نکال کر آسمان کی طرف اشارہ کر کے فرمایا اے اللہ یہ لوگ میرے اہل بیت اور میرا خام مال ہیں تو ان سے گندگی کو دور کر کے انہیں خوب صاف ستھرا کردے، دو مرتبہ یہ دعا کی اس پر میں نے اس کمرے میں اپنا سر داخل کر کے عرض کیا یا رسول اللہ کیا میں آپ کے اہل خانہ میں سے نہیں ہوں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیوں نہیں تم بھی چادر میں آجاؤ چنانچہ میں بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دعاء کے بعد اس میں داخل ہوگئی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26550
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف شهر بن حوشب ، وعابوا على عبدالحميد بن بهرام كثرة روايته عن شهر بن حوشب