حدیث نمبر: 26471
حَدَّثَنَا هُشَيْمُ بْنُ بَشِيرٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّ سُبَيْعَةَ ابْنَةَ الْحَارِثِ وَضَعَتْ بَعْدَ وَفَاةِ زَوْجِهَا بِعِشْرِينَ لَيْلَةً ، أَوْ نَحْوِ ذَلِكَ ، وَأَرَادَتْ التَّزْوِيجَ ، فَقَالَ لَهَا أَبُو السَّنَابِلِ : لَيْسَ لَكِ ذَلِكَ حَتَّى يَأْتِيَ عَلَيْكِ آخِرُ الْأَجَلَيْنِ ، فَذُكِرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " تَزَوَّجُ إِذَا شَاءَتْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوالسنابل سے مروی ہے کہ سبیعہ کے یہاں اپنے شوہر کی وفات کے صرف ٢٣ یا ٢٥ دن بعد ہی بچے کی ولادت ہوگئی اور وہ دوسرے رشتے کے لئے تیار ہونے لگیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کسی نے آکر اس کی خبردی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر وہ ایسا کرتی ہے تو (ٹھیک ہے کیونکہ) اس کی عدت گزر چکی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26471
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، سليمان بن يسار لم يسمع هذا الحديث من ام سلمة
حدیث نمبر: 26472
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ : لَمَّا مَاتَ أَبُو سَلَمَةَ , قُلْتُ : غَرِيبٌ وَمَاتَ بِأَرْضِ غُرْبَةٍ ، فَأَفَضْتُ بُكَاءً ، فَجَاءَتْ امْرَأَةٌ تُرِيدُ أَنْ تُسْعِدَنِي مِنَ الصَّعِيدِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تُرِيدِينَ أَنْ تُدْخِلِي الشَّيْطَانَ بَيْتًا قَدْ أَخْرَجَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مِنْهُ ؟ " قَالَتْ : فَلَمْ أَبْكِ عَلَيْهِ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب میرے شوہر حضرت ابوسلمہ فوت ہوگئے تو یہ سوچ کر کہ وہ مسافر تھے اور ایک اجنبی علاقے میں فوت ہوگئے میں نے خواب آہ وبکاء کی اسی دوران ایک عورت میرے پاس مدینہ منورہ کے بالائی علاقے سے میرے ساتھ رونے کے لئے آگئی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دیکھ کر فرمایا کیا تم اپنے گھر میں شیطان کو داخل کرنا چاہتی ہو جسے اللہ نے یہاں سے نکال دیا تھا حضرت ام سلمہ کہتی ہیں کہ پھر میں اپنے شوہر پر نہیں روئی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26472
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 922
حدیث نمبر: 26473
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ نَبْهَانَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ذَكَرَتْ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِذَا كَانَ لِإِحْدَاكُنَّ مُكَاتَبٌ ، فَكَانَ عِنْدَهُ مَا يُؤَدِّي ، فَلْتَحْتَجِبْ مِنْهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم خواتین میں سے کسی کا کوئی غلام مکاتب ہو اور اس کے پاس اتنا بدل کتابت ہو کہ وہ اسے اپنے مالک کے حوالے کر کے خود آزادی حاصل کرسکتے تو اس عورت کو اپنے غلام سے پردہ کرنا چاہئے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26473
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لجهالة نبهان، ومما يدل على ضعف هذا الحديث عمل السيدة عائشة بخلافه
حدیث نمبر: 26474
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حُمَيْدٍ ، سَمِعَ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا دَخَلَتْ الْعَشْرُ ، فَأَرَادَ رَجُلٌ أَنْ يُضَحِّيَ ، فَلَا يَمَسَّ مِنْ شَعْرِهِ ، وَلَا مِنْ بَشَرِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب عشرہ ذی الحجہ شروع ہوجائے اور کسی شخص کا قربانی کا ارادہ ہو تو اسے اپنے (سرکے) بال یا جسم کے کسی حصے (کے بالوں) کو ہاتھ نہیں لگانا (کاٹنا اور تراشنا) چاہئے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26474
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1977
حدیث نمبر: 26475
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ ابْنِ سُوقَةَ ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ , ذَكَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْجَيْشَ الَّذِي يُخْسَفُ بِهِمْ ، فَقَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ : لَعَلَّ فِيهِمْ الْمُكْرَهَ ، فَقَالَ : " إِنَّهُمْ يُبْعَثُونَ عَلَى نِيَّاتِهِمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس لشکرکا تذکرہ کیا جسے زمین میں دھنسا دیا جائے گا تو حضرت ام سلمہ نے عرض کیا کہ ہوسکتا ہے اس لشکر میں ایسے لوگ بھی ہوں جنہیں زبردستی اس میں شامل کرلیا گیا ہو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انہیں ان کی نیتوں پر اٹھایا جائے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26475
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وقد اختلف على ابن سوقة فيه
حدیث نمبر: 26476
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمَّارٍ يَعْنِي الدُّهْنِيَّ , سَمِعَ أَبَا سَلَمَةَ يُخْبِرُ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " قَوَائِمُ مِنْبَرِي رَوَاتِبُ فِي الْجَنَّةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے منبر کے پائے جنت میں گاڑے جائیں گے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26476
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 26477
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى ، عَنْ سَعِيدٍ يَعْنِي الْمَقْبُرِيَّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَافِعٍ ، وَهُوَ مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ ، كَذَا قَالَ سُفْيَانُ , أَنَّهَا قَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي امْرَأَةٌ أَشُدُّ ضَفْرَ رَأْسِي , قَالَ : " يُجْزِئُكِ أَنْ تَصُبِّي عَلَيْهِ الْمَاءَ ثَلَاثًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا یا رسول اللہ میں ایسی عورت ہوں کہ اپنے سر کے بال (زیادہ لمبے ہونے سے) چوٹی بنا کر رکھنے پڑتے ہیں (تو کیا غسل کرتے وقت انہیں ضرور کھولا کروں ؟ ) نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہارے لئے یہی کافی ہے کہ اس پر تین مرتبہ اچھی طرح پانی بہا لو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26477
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 330
حدیث نمبر: 26478
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، قَالَ : قَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَشَدَّ تَعْجِيلًا لِلظُّهْرِ مِنْكُمْ ، وَأَنْتُمْ أَشَدُّ تَعْجِيلًا لِلْعَصْرِ مِنْهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ فرماتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تم لوگوں کی نسبت ظہر کی نماز جلدی پڑھ لیا کرتے تھے اور تم لوگ ان کی نسبت عصر کی نماز زیادہ جلدی پڑھ لیتے ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26478
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: تعجيل النبى ﷺ صلاة الظهر صحيح لغيره، وهذا اسناد ضعيف لعنعنة ابن جريج، وهو مدلس
حدیث نمبر: 26479
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، قَالَ : سُئِلَتْ عَائِشَةُ وَأُمُّ سَلَمَةَ : أَيُّ كان أعجب إلى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَتْ : " مَا دَامَ عَلَيْهِ وَإِنْ قَلَّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ اور ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے کسی نے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک سب سے پسندیدہ عمل کون سا تھا انہوں نے فرمایا جو ہمیشہ ہو اگرچہ تھوڑا ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26479
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، أبو صالح وإن كان قد أدرك عائشة وأم سلمة إلا أنه لم يذكر ما يفيد السماع منهما
حدیث نمبر: 26480
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ هُنَيْدَةَ الْخُزَاعِيِّ ، عَنْ أُمِّهِ ، قَالَتْ : دَخَلْتُ عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ ، فَسَأَلْتُهَا عَنِ الصِّيَامِ ، فَقَالَتْ : كَانَ النبيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَأْمُرُنِي أَنْ أَصُومَ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ، أَوَّلُهَا الِاثْنَيْنِ ، وَالْجُمُعَةُ ، وَالْخَمِيسُ .
مولانا ظفر اقبال
ہنیدہ کی والدہ کہتی ہیں کہ میں ایک مرتبہ حضرت ام سلمہ کے پاس حاضر ہوئی اور ان سے روزے کے حوالے سے پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مجھے ہر مہینے میں تین روزے رکھنے کا حکم دیتے تھے جن میں سے پہلا روزہ پیر کے دن ہوتا تھا پھر جمعرات اور جمعہ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26480
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: ضعيف لاضطرابه، والحديث عند مسلم عن عائشة: أن النبى ﷺ كان يصوم من كل شهر ثلاثة ايام، ولم يكن يبالي من اي ايام الشهر يصوم
حدیث نمبر: 26481
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ ، قَالَ : دَخَلْتُ أَنَا وَأَبِي عَلَى عَائِشَةَ وَأُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْا : إنَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كان " يُصْبِحُ جُنُبًَا ، ثُمَّ يَصُومُ " .
مولانا ظفر اقبال
ابوبکر بن عبدالرحمن بن عتاب کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں اپنے والد کے ساتھ حضرت عائشہ اور حضرت ام سلمہ کی خدمت میں حاضر ہوا تو ان دونوں نے فرمایا کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ وسلم خواب دیکھے بغیر اختیاری طور پر صبح کے وقت حالت جنابت میں ہوتے اور اپنا روزہ مکمل کرلیتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26481
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1930، م: 1109 عن عائشة فقط
حدیث نمبر: 26482
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أُمِّهِ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ : مَا نَسِيتُ قَوْلَهُ يَوْمَ الْخَنْدَقِ وَهُوَ يُعَاطِيهِمُ اللَّبَنَ ، وَقَدْ اغْبَرَّ شَعْرُ صَدْرِهِ ، وَهُوَ يَقُولُ : " اللَّهُمَّ إِنَّ الْخَيْرَ خَيْرُ الْآخِرَهْ فَاغْفِرْ لِلْأَنْصَارِ وَالْمُهَاجِرَهْ " قَالَ : فَرَأَى عَمَّارًا ، فَقَالَ : " وَيْحَهُ ابْنُ سُمَيَّةَ تَقْتُلُهُ الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ " , قَالَ : فَذَكَرْتُهُ لِمُحَمَّدٍ يَعْنِي ابْنَ سِيرِينَ , فَقَالَ : عَنْ أُمِّهِ ؟ قُلْتُ : نَعَمْ ، أَمَا إِنَّهَا كَانَتْ تُخَالِطُهَا ، تَلِجُ عَلَيْهَا.
مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ بات نہیں بھولتی جو غزوہ خندق کے موقع پر جب کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سینہ مبارک پر موجود بال غبارآلود ہوگئے تھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو اینٹیں پکڑاتے ہوئے کہتے جارہے تھے کہ اے اللہ اصل خیر تو آخرت کی خیر ہے پس تو انصار اور مہاجرین کو معاف فرمادے پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمار کو دیکھا تو فرمایا ابن سمیہ افسوس تمہیں ایک باغی گروہ قتل کردے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26482
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2916
حدیث نمبر: 26483
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ سَفِينَةَ مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ : كَانَ مِنْ آخِرِ وَصِيَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الصَّلَاةَ الصَّلَاةَ ، وَمَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ " , حَتَّى جَعَلَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُلَجْلِجُهَا فِي صَدْرِهِ ، وَمَا يَفِيصُ بِهَا لِسَانُهُ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی آخری وصیت یہ تھی کہ نماز کا خیال رکھنا اور اپنے غلاموں کے ساتھ حسن سلوک کرنا یہی کہتے کہتے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا سینہ مبارک کھڑکھڑانے اور زبان رکنے لگی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26483
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، قتادة لم يسمعه من سفينة
حدیث نمبر: 26484
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ مَهْدِيٍّ ، عن مَالِكٌ ، عَنْ سُمَيٍّ , وَعَبْدِ رَبِّهِ , عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَائِشَةَ وَأُمِّ سَلَمَةَ ، أن رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ : " يُصْبِحُ جُنُبًا مِنْ جِمَاعٍ غَيْرِ احْتِلَامٍ ، ثُمَّ يَصُومُ " , وَفِي حَدِيثِ عَبْدِ رَبِّهِ : فِي رَمَضَانَ.
مولانا ظفر اقبال
ابوبکربن عبدالرحمن بن عتاب کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں والد کے ساتھ حضرت عائشہ اور حضرت ام سلمہ کی خدمت میں حاضر ہوا تو ان دونوں نے فرمایا کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ وسلم خواب دیکھے بغیر اختیاری طور پر صبح کے وقت حالت جنابت میں ہوتے اور اپنا روزہ مکمل کرلیتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26484
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1930، م: 1109 عن عائشة فقط
حدیث نمبر: 26485
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ زَيْنَبَ ابْنَةِ أُمِّ سَلَمَةَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، أَنَّهَا قَدِمَتْ وَهِيَ مَرِيضَةٌ ، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " طُوفِي مِنْ وَرَاءِ النَّاسِ وَأَنْتِ رَاكِبَةٌ " ,قَالَتْ : فَسَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عِنْدَ الْكَعْبَةِ يَقْرَأُ بِالطُّورِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب وہ مکہ مکرمہ پہنچیں تو بیمار تھیں انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا تذکرہ کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم سوار ہو کر لوگوں کے پیچھے رہتے ہوئے طواف کر لوحضرت ام سلمہ کہتی ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو خانہ کعبہ کے قریب سورت طور کی تلاوت کرتے ہوئے سنا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26485
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 464، م: 1276
حدیث نمبر: 26486
حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ مِقْسَمٍ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يُوتِرُ بِسَبْعٍ وَبِخَمْسٍ ، لَا يَفْصِلُ بَيْنَهُنَّ بِسَلَامٍ ، وَلَا بِكَلَامٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سات یا پانچ رکعتوں پر وتر پڑھتے تھے اور ان کے درمیان سلام یا کلام کسی طرح بھی فصل نہیں فرماتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26486
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لانقطاعه، مقسم لم يسمع من أم سلمة ، وقد اختلف فى إسناده
حدیث نمبر: 26487
حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ابْنِ الْقِبْطِيَّةِ ، قَالَ : دَخَلَ الْحَارِثُ بْنُ أَبِي رَبِيعَةَ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَفْوَانَ وَأَنَا مَعَهُمَا عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ ، فَسَأَلَاهَا عَنِ الْجَيْشِ الَّذِي يُخْسَفُ بِهِ ، وَكَانَ ذَلِكَ فِي أَيَّامِ ابْنِ الزُّبَيْرِ ، فَقَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " يَعُوذُ عَائِذٌ بِالْحِجْرِ ، فَيَبْعَثُ اللَّهُ جَيْشًا ، فَإِذَا كَانُوا بِبَيْدَاءَ مِنَ الْأَرْضِ ، خُسِفَ بِهِمْ " , فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَكَيْفَ بِمَنْ أُخْرِجَ كَارِهًا ؟ قَالَ : " يُخْسَفُ بِهِ مَعَهُمْ ، وَلَكِنَّهُ يُبْعَثُ عَلَى نِيَّتِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " , فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِأَبِي جَعْفَرٍ ، فَقَالَ : هِيَ بَيْدَاءُ الْمَدِينَةِ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ ایک پناہ گزین حطیم میں پناہ لے گا اللہ ایک لشکر بھیجے گا جب وہ لوگ مقام بیداء میں پہنچیں گے تو اسے زمین میں دھنسا دیا جائے گا تو حضرت ام سلمہ نے عرض کیا کہ ہوسکتا ہے اس لشکر میں ایسے لوگ بھی ہوں جنہیں زبردستی اس میں شامل کرلیا گیا ہو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انہیں ان کی نیتوں پر اٹھایا جائے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26487
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2882
حدیث نمبر: 26488
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَارَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أُمِّ وَلَدٍ لِإِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، قَالَتْ : كُنْتُ أَجُرُّ ذَيْلِي ، فَأَمُرُّ بِالْمَكَانِ الْقَذِرِ ، وَالْمَكَانِ الطَّيِّبِ ، فَدَخَلْتُ عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ ، فَسَأَلْتُهَا عَنْ ذَلِكَ ، فَقَالَتْ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " يُطَهِّرُهُ مَا بَعْدَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
ابراہیم بن عبدالرحمن کی ام ولدہ کہتی ہیں کہ میں اپنے کپڑوں کے دامن کو زمین پر گھسیٹ کر چلتی تھی اس دوران میں ایسی جگہوں سے بھی گزرتی تھی جہاں گندگی پڑی ہوتی اور ایسی جگہوں سے بھی جو صاف ستھری ہوتیں ایک مرتبہ میں حضرت ام سلمہ کے یہاں گئی تو ان سے یہ مسئلہ پوچھا انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ بعد والی جگہ اسے صاف کردیتی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26488
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لإبهام أم ولد إبراهيم بن عبدالرحمن
حدیث نمبر: 26489
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ شَقِيقٍ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ : دَخَلَ عَلَيْهَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ ، قَالَ : فَقَالَ : يَا أُمَّهْ ، قَدْ خِفْتُ أَنْ يُهْلِكَنِي كَثْرَةُ مَالِي ، أَنَا أَكْثَرُ قُرَيْشٍ مَالًا ، قَالَتْ : يَا بُنَيَّ ، فَأَنْفِقْ ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِنَّ مِنْ أَصْحَابِي مَنْ لَا يَرَانِي بَعْدَ أَنْ أُفَارِقَهُ " , فَخَرَجَ ، فَلَقِيَ عُمَرَ ، فَأَخْبَرَهُ ، فَجَاءَ عُمَرُ ، فَدَخَلَ عَلَيْهَا ، فَقَالَ لَهَا : بِاللَّهِ مِنْهُمْ أَنَا ؟ فَقَالَتْ : لَا ، وَلَنْ أُبْلِيَ أَحَدًا بَعْدَكَ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت عبدالرحمن بن عوف ان کے پاس آئے اور کہنے لگے اماں جان مجھے اندیشہ ہے کہ مال کی کثرت مجھے ہلاک نہ کردے۔ کیونکہ میں قریش میں سب سے زیادہ مالدار ہوں انہوں نے جواب دیا کہ بیٹا اسے خرچ کرو کیونکہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ میرے بعض ساتھی ایسے بھی ہوں گے کہ میری ان سے جدائی ہونے کے بعد وہ مجھے دوبارہ کبھی نہ دیکھ سکیں گے، حضرت عبدالرحمن بن عوف جب باہر نکلے تو راستے میں حضرت عمر سے ملاقات ہوگئی انہوں نے حضرت عمر کو یہ بات بتائی حضرت عمر خود حضرت ام سلمہ کے پاس پہنچے اور گھر میں داخل ہو کر فرمایا اللہ کی قسم کھا کر بتائیے کیا میں بھی ان میں سے ہوں ؟ انہوں نے فرمایا نہیں لیکن آپ کے بعد میں کسی کے متعلق یہ بات نہیں کہہ سکتی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26489
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 26490
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ : دَخَلَ عَلَيْهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَعِنْدَهَا مُخَنَّثٌ ، وَعِنْدَهَا أَخُوهَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي أُمَيَّةَ ، وَالْمُخَنَّثُ يَقُولُ لِعَبْدِ اللَّهِ : يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أُمَيَّةَ ، إِنْ فَتَحَ اللَّهُ عَلَيْكُمْ الطَّائِفَ غَدًا ، فَعَلَيْكَ بِابْنَةِ غَيْلَانَ ، فَإِنَّهَا تُقْبِلُ بِأَرْبَعٍ ، وَتُدْبِرُ بِثَمَانٍ , قَالَ : فَسَمِعَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ لِأُمِّ سَلَمَةَ : " لَا يَدْخُلَنَّ هَذَا عَلَيْكِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے تو وہاں ایک مخنث اور عبداللہ بن ابی امیہ جو حضرت ام سلمہ کے بھائی تھے بھی موجود تھے وہ ہیجڑا عبداللہ سے کہہ رہا تھا کہ اے عبداللہ بن ابی امیہ اگر کل کو اللہ تمہیں طائف پر فتح عطاء فرمائے تو تم بنت غیلان کو ضرور حاصل کرنا کیونکہ وہ چار کے ساتھ آتی ہے اور آٹھ کے ساتھ واپس جاتی ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی یہ بات سن لی اور حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا آئندہ یہ تمہارے گھر میں نہیں آنا چاہئے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26490
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 4324، م: 2180
حدیث نمبر: 26491
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّكُمْ تَخْتَصِمُونَ إِلَيَّ ، وَلَعَلَّ بَعْضَكُمْ أَنْ يَكُونَ أَلْحَنَ بِحُجَّتِهِ مِنْ بَعْضٍ ، وَإِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ ، أَقْضِي لَهُ عَلَى نَحْوِ مَا أَسْمَعُ مِنْهُ ، فَمَنْ قَضَيْتُ لَهُ مِنْ حَقِّ أَخِيهِ شَيْئًا ، فَإِنَّمَا هُوَ نَارٌ ، فَلَا يَأْخُذْهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تم لوگ میرے پاس اپنے مقدمات لے کرتے ہو، ہوسکتا ہے کہ تم میں سے کوئی شخص دوسرے کی نسبت اپنی دلیل ایسی فصاحت و بلاغت کے ساتھ پیش کردے کہ میں اس کی دلیل کی روشنی میں اس کے حق میں فیصلہ کردوں (اس لئے یاد رکھو) میں جس شخص کی بات تسلیم کرکے اس کے بھائی کے کسی حق کا اس کے لئے فیصلہ کرتا ہوں تو سمجھ لو کہ میں اس کے لئے آگ کا ٹکڑا کاٹ کر اسے دے رہاہوں لہذا اسے چاہئے کہ اسے نہ لے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26491
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1713
حدیث نمبر: 26492
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَمَرَهَا أَنْ تُوَافِيَ مَعَهُ صَلَاةَ الصُّبْحِ يَوْمَ النَّحْرِ بِمَكَّةَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ قربانی کے دن (دس ذی الحجہ کو) فجر کی نماز نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مکہ مکرمہ میں پڑھیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26492
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: رجاله ثقات، وقد اختلف فى وصله و ارساله، وارساله اصح، ابو معاوية اضطرب فى متنة
حدیث نمبر: 26493
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ : جَاءَتْ أُمُّ حَبِيبَةَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَلْ لَكَ فِي أُخْتِي ؟ قَالَ : " فَأَصْنَعُ بِهَا مَاذَا ؟ " , قَالَتْ : تَزَوَّجُهَا ، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَتُحِبِّينَ ذَلِكَ ؟ " فَقَالَتْ : نَعَمْ ، لَسْتُ لَكَ بِمُخْلِيَةٍ ، وَأَحَقُّ مَنْ شَرِكَنِي فِي خَيْرٍ أُخْتِي ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّهَا لَا تَحِلُّ لِي " ، قَالَتْ : فَوَاللَّهِ لَقَدْ بَلَغَنِي أَنَّكَ تَخْطُبُ دُرَّةَ ابْنَةَ أُمِّ سَلَمَةَ بِنْتَ أَبِي سَلَمَةَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَوْ كَانَتْ تَحِلُّ لِي لَمَا تَزَوَّجْتُهَا ، قَدْ أَرْضَعَتْنِي وَأَبَاهَا ثُوَيْبَةُ مَوْلَاةُ بَنِي هَاشِمٍ ، فَلَا تَعْرِضْنَ عَلَيَّ أَخَوَاتِكُنَّ وَلَا بَنَاتِكُنَّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت ام حبیبہ بارگاہ رسالت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا یا رسول اللہ کیا آپ کو میری بہن میں کوئی دلچسپی ہے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا مطلب انہوں نے عرض کیا کہ آپ اس سے نکاح کرلیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا تمہیں یہ بات پسند ہے انہوں نے عرض کیا جی ہاں میں آپ کی اکیلی بیوی تو ہوں نہیں اس لئے اس خیر میں میرے ساتھ جو لوگ شریک ہوسکتے ہیں میرے نزدیک ان میں سے میری بہن سب سے زیادہ حقدار ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے لئے وہ حلال نہیں ہے ( کیونکہ تم میرے نکاح میں ہو) انہوں نے عرض کیا کہ اللہ کی قسم مجھے معلوم ہوا ہے کہ آپ درہ بنت ام سلمہ کے لئے پیغام نکاح بھیجنے والے ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر وہ میرے لئے حلال ہوتی تب بھی میں اس سے نکاح نہ کرتا کیونکہ مجھے اور اس کے باپ (ابوسلمہ) کو بنوہاشم کی آزاد کردہ باندی ثوبیہ نے دودھ پلایا تھا بہرحال تم اپنی بہنوں اور بیٹیوں کو میرے سامنے پیش نہ کیا کرو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26493
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح من حديث أم حبيبة زوج النبى ﷺ، وحديث أم سلمة ، هذا مما أخطا فيه هشام بن عروة بالعراق
حدیث نمبر: 26494
حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا لَيْثٌ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ أَنَّهَا قَالَتْ : دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقُلْتُ : هَلْ لَكَ فِي أُخْتِي ؟ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26494
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5106، م: 1449
حدیث نمبر: 26495
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ بِنْتِ أَبِي سُفْيَانَ , قَالَتْ : قُلْتُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَلَا تَزَوَّجُ أُخْتِي ؟ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26495
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 26496
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، أَنَّ زَيْنَبَ بِنْتَ أَبِي سَلَمَةَ أَخْبَرَتْهُ ، أَنَّ أُمَّ حَبِيبَةَ ابْنَةَ أَبِي سُفْيَانَ أَخْبَرَتْهَا , أَنَّهَا قَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، انْكِحْ أُخْتِي ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ ، قال عبد الله بن أحمد : قَالَ أَبِي وَوَافَقَهُ ابْنُ أَخِي الزُّهْرِيِّ ، وَقَالَ عُقَيْلٌ إِنَّ أُمَّ حَبِيبَةَ قَالَتْ.
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26496
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5107، م: 1449
حدیث نمبر: 26497
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ شَقِيقٍ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا حَضَرْتُمْ الْمَيِّتَ أَوْ الْمَرِيضَ فَقُولُوا خَيْرًا ، فَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ يُؤَمِّنُونَ عَلَى مَا تَقُولُونَ " , قَالَتْ : فَلَمَّا مَاتَ أَبُو سَلَمَةَ ، أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ أَبَا سَلَمَةَ قَدْ مَاتَ ، فَقَالَ : " قُولِي اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي وَلَهُ ، وَأَعْقِبْنِي مِنْهُ عُقْبَى حَسَنَةً " , قَالَتْ : فَقُلْتُ ، فَأَعْقَبَنِي اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مَنْ هُوَ خَيْرٌ لِي مِنْهُ ، مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب تم کسی قریب المرگ یا بیمار آدمی کے پاس جایا کرو تو اس کے حق میں دعائے خیر کیا کرو کیونکہ ملائکہ تمہاری دعاء پر آمین کہتے ہیں جب حضرت ابوسلمہ کا انتقال ہوا تو میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا یا رسول اللہ ابوسلمہ فوت ہوگئے ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم یہ دعاء کرو کہ اے اللہ مجھے اور انہیں معاف فرما اور مجھے ان کا نعم البدل عطاء فرما میں نے یہ دعاء مانگی تو اللہ نے مجھے ان سے زیادہ بہترین بدل خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی صورت میں عطاء فرمادیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26497
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 919
حدیث نمبر: 26498
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّهَا كَانَتْ هِيَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَغْتَسِلَانِ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ مِنَ الْجَنَابَةِ ، وَكَانَ يُقَبِّلُهَا وَهُوَ صَائِمٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وہ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک ہی برتن سے غسل جنابت کرلیا کرتے تھے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم روزے کی حالت میں انہیں بوسہ دیدیا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26498
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 322، م: 296
حدیث نمبر: 26499
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَافِعٍ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا حَضَرَ الْعَشَاءُ ، وَحَضَرَتْ الصَّلَاةُ ، فَابْدَءُوا بِالْعَشَاءِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب رات کا کھانا اور نماز کا وقت جمع ہوجائیں تو پہلے کھانا کھالیا کرو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26499
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 26500
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ فَرُّوخَ ، أَنَّ امْرَأَةً سَأَلَتْ أُمَّ سَلَمَةَ ، فَقَالَتْ : إِنَّ زَوْجِي يُقَبِّلُنِي وَهُوَ صَائِمٌ وَأَنَا صَائِمَةٌ ، فَمَا تَرَيْنَ ؟ فَقَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يُقَبِّلُنِي وَهُوَ صَائِمٌ وَأَنَا صَائِمَةٌ " .
مولانا ظفر اقبال
ایک عورت نے حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ میرا شوہر روزے کی حالت میں مجھے بوسہ دیدیتا ہے جبکہ میرا بھی روزہ ہوتا ہے اس میں آپ کی کیا رائے ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی مجھے روزے کی حالت میں بوسہ دیدیتے تھے جب کہ میں بھی روزے سے ہوتی تھی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26500
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 26501
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي حُمَيْدُ بْنُ نَافِعٍ ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ ، عَنْ أُمِّهَا ، أَنَّ امْرَأَةً تُوُفِّيَ زَوْجُهَا ، فَاشْتَكَتْ عَيْنَهَا ، فَذَكَرُوهَا لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَذَكَرُوا الْكُحْلَ ، قَالُوا : نَخَافُ عَلَى عَيْنِهَا ؟ قَالَ : " قَدْ كَانَتْ إِحْدَاكُنَّ تَمْكُثُ فِي بَيْتِهَا فِي شَرِّ أَحْلَاسِهَا أَوْ فِي أَحْلَاسِهَا ، فِي سِتْرِ بَيْتِهَا حَوْلًا ، فَإِذَا مَرَّ بِهَا كَلْبٌ , رَمَتْ بِبَعْرَةٍ , أَفَلَا أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا ؟ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک عورت جس کا خاوند فوت ہوگیا تھا کی آنکھوں میں شکایت پیدا ہوگئی انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا تذکرہ کیا اور اس کی آنکھوں میں سرمہ لگانے کی اجازت چاہی اور کہنے لگے کہ ہمیں اس کی آنکھوں کے متعلق ضائع ہونے کا اندیشہ ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا (زمانہ جاہلیت میں) تم میں سے ایک عورت ایک سال تک اپنے گھر میں گھٹیاترین کپڑے پہن کر رہتی تھی پھر اس کے پاس سے ایک کتا گزرا جاتا تھا اور وہ مینگنیاں پھینکتی ہوئی باہر نکلتی تھی تو کیا اب چار مہینے دس دن نہیں گزار سکتی ؟
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26501
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5336، م: 1488
حدیث نمبر: 26502
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ ، عَنْ زَيْنَبَ ابْنَةِ أُمِّ سَلَمَةَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَكَلَ كَتِفًا ، فَجَاءَهُ بِلَالٌ ، فَخَرَجَ إِلَى الصَّلَاةِ ، وَلَمْ يَمَسَّ مَاءً " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے شانے کا گوشت تناول فرمایا اسی دوران حضرت بلال آگئے اور نبی علیہ السلا پانی کو ہاتھ لگائے بغیر نماز کے لئے تشریف لے گئے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26502
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 26503
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ هِشَامٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَبِي ، عَنْ زَيْنَبَ ابْنَةِ أُمِّ سَلَمَةَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ : قَالَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ اللَّهَ لَا يَسْتَحْيِي مِنَ الْحَقِّ ، هَلْ عَلَى الْمَرْأَةِ مِنْ غُسْلٍ إِذَا احْتَلَمَتْ ؟ قَالَ : " نَعَمْ ، إِذَا رَأَتْ الْمَاءَ " , فَضَحِكَتْ أُمُّ سَلَمَةَ , قَالَتْ : أَتَحْتَلِمُ الْمَرْأَةُ ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَبِمَ يُشْبِهُ الْوَلَدُ ؟ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت ام سلیم نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ اللہ تعالیٰ حق بات سے نہیں شرماتا یہ بتائے کہ اگر عورت کو احتلام ہوجائے تو کیا اس پر بھی غسل واجب ہوگا ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں جب کہ وہ پانی دیکھے اس پر حضرت ام سلمہ ہنسنے لگیں اور کہنے لگیں کہ کیا عورت کو بھی احتلام ہوتا ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تو پھر بچہ اپنی ماں کے مشابہ کیوں ہوتا ہے ؟
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26503
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 282، م: 313
حدیث نمبر: 26504
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا تَزَوَّجَهَا ، أَقَامَ عِنْدَهَا ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ ، وَقَالَ " إِنَّهُ لَيْسَ بِكِ عَلَى أَهْلِكِ هَوَانٌ ، وَإِنْ شِئْتِ ، سَبَّعْتُ لَكِ ، وَإِنْ سَبَّعْتُ لَكِ ، سَبَّعْتُ لِنِسَائِي " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جب ان سے نکاح کیا تو تین دن ان کے پاس قیام فرمایا اور ارشاد فرمایا کہ تمہارے اہل خانہ کے سامنے اس میں کمی کا کوئی پہلو نہیں ہونا چاہئے اگر تم چاہو تو میں سات دن تک تمہارے پاس رہتا ہوں لیکن اس صورت میں دیگر ازواج مطہرات کے پاس بھی سات سات دن گزاروں گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26504
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1460
حدیث نمبر: 26505
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ثَابِتُ بْنُ عُمَارَةَ ، قَالَ : حَدَّثَتْنِي رَيْطَةُ ، عَنْ كَبْشَةَ ابْنَةِ أَبِي مَرْيَمَ ، قَالَتْ : قُلْتُ لِأُمِّ سَلَمَةَ : أَخْبِرِينِي مَا نَهَى عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَهْلَهُ ؟ قَالَتْ : " نَهَانَا أَنْ نَعْجُمَ النَّوَى طَبْخًا ، وَأَنْ نَخْلِطَ الزَّبِيبَ وَالتَّمْرَ " .
مولانا ظفر اقبال
کبشہ بنت ابی مریم کہتی ہیں کہ میں نے حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ یہ بتائیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اہل خانہ کو کس چیز سے منع کیا تھا انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں کھجور کو اتنا پکانے سے منع فرمایا تھا کہ اس کی گٹھلی بھی پگھل جائے نیز اس بات سے کہ ہم کشمس اور کھجور ملاکرنبیذ بتائیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26505
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: قولها: "ان نخلط الزبيب والتمر" صحيح لغيره، وهذا اسناد ضعيف لجهالة ريطة ولجهالة كبشة بنت ابي مريم
حدیث نمبر: 26506
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَمَّارٌ الدُّهْنِيُّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " قَوَائِمُ الْمِنْبَرِ رَوَاتِبُ فِي الْجَنَّةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے منبر کے پائے جنت میں گاڑے جائیں گے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26506
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 26507
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ , قال عبد الله : وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْ عُثْمَانَ بْنِ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَبِي نَصْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مُسَاوِرٌ الْحِمْيَرِيُّ ، عَنْ أُمِّهِ ، قَالَتْ : سَمِعْتُ أُمَّ سَلَمَة َ , تَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لِعَلِيٍّ : " لَا يُبْغِضُكَ مُؤْمِنٌ ، وَلَا يُحِبُّكَ مُنَافِقٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت علی رضی اللہ عنہ سے یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ کوئی مؤمن تم سے نفرت نہیں کرسکتا اور کوئی منافق تم سے محبت نہیں کرسکتا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26507
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة مساور الحميري وأمه
حدیث نمبر: 26508
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ يَعْنِي ابْنَ أَبِي سُلَيْمَانَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مَنْ سَمِعَ أُمَّ سَلَمَةَ , تَذْكُرُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ فِي بَيْتِهَا ، فَأَتَتْهُ فَاطِمَةُ بِبُرْمَةٍ ، فِيهَا خَزِيرَةٌ ، فَدَخَلَتْ بِهَا عَلَيْهِ ، فَقَالَ لَهَا : " ادْعِي زَوْجَكِ وَابْنَيْكِ " , قَالَتْ : فَجَاءَ عَلِيٌّ , وَالْحُسَيْنُ , وَالْحَسَنُ ، فَدَخَلُوا عَلَيْهِ ، فَجَلَسُوا يَأْكُلُونَ مِنْ تِلْكَ الْخَزِيرَةِ ، وَهُوَ عَلَى مَنَامَةٍ لَهُ عَلَى دُكَّانٍ تَحْتَهُ كِسَاءٌ لَهُ خَيْبَرِيٌّ , قَالَتْ : وَأَنَا أُصَلِّي فِي الْحُجْرَةِ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ هَذِهِ الْآيَةَ إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا سورة الأحزاب آية 33 , قَالَتْ : فَأَخَذَ فَضْلَ الْكِسَاءِ ، فَغَشَّاهُمْ بِهِ ، ثُمَّ أَخْرَجَ يَدَهُ ، فَأَلْوَى بِهَا إِلَى السَّمَاءِ ، ثُمَّ قَالَ : " اللَّهُمَّ هَؤُلَاءِ أَهْلُ بَيْتِي وَخَاصَّتِي ، فَأَذْهِبْ عَنْهُمْ الرِّجْسَ ، وَطَهِّرْهُمْ تَطْهِيرًا , اللَّهُمَّ هَؤُلَاءِ أَهْلُ بَيْتِي وَخَاصَّتِي ، فَأَذْهِبْ عَنْهُمْ الرِّجْسَ ، وَطَهِّرْهُمْ تَطْهِيرًا " , قَالَتْ : فَأَدْخَلْتُ رَأْسِي الْبَيْتَ ، فَقُلْتُ : وَأَنَا مَعَكُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " إِنَّكِ إِلَى خَيْرٍ ، إِنَّكِ إِلَى خَيْرٍ " , قَالَ عَبْدُ الْمَلِكِ : وَحَدَّثَنِي أَبُو لَيْلَى ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، مِثْلَ حَدِيثِ عَطَاءٍ سَوَاءً , قَالَ عَبْدُ الْمَلِكِ : وَحَدَّثَنِي دَاوُدُ بْنُ أَبِي عَوْفٍ أَبُو الْحَجَّافِ ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ بِمِثْلِهِ سَوَاءً.
مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کے گھر میں تھے کہ حضرت فاطمہ ایک ہنڈیا لے کر آگئیں جس میں خزیرہ تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ اپنے شوہر اور بچوں کو بھی بلالاؤ چنانچہ حضرت علی اور حضرات حسنین بھی آگئے اور بیٹھ کر وہ خزیرہ کھانے لگے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت ایک چبوترے پر نیند کی حالت میں تھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم مبارک کے نیچے خیبر کی ایک چادر تھی اور میں حجرے میں نماز پڑھ رہی تھی کہ اسی دوران اللہ نے یہ آیت نازل فرمادی اے اہل بیت اللہ تو تم سے گندگی کو دور کر کے تمہیں خوب صاف ستھرا بنانا چاہتا ہے۔ اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے چادرکا بقیہ حصہ لے کر ان سب پر ڈال دیا اور اپنا ہاتھ باہر نکال کر آسمان کی طرف اشارہ کر کے فرمایا اے اللہ یہ لوگ میرے اہل بیت اور میرا خام مال ہیں تو ان سے گندگی کو دور کر کے انہیں خوب صاف ستھرا کردے، دو مرتبہ یہ دعا کی اس پر میں نے اس کمرے میں اپنا سرداخل کرکے عرض کیا یا رسول اللہ میں بھی تو آپ کے ساتھ ہوں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم بھی خیر پر ہو، تم بھی خیر پر ہو۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26508
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وله أسانيد ثلاثة: أولها ضعيف لإبهام الراوي عن أم سلمة ، وثانيها صحيح، وثالثها ضعيف لضعف شهر بن حوشب
حدیث نمبر: 26509
حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ زَيْنَبَ ابْنَةِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَلْ لِي مِنْ أَجْرٍ فِي بَنِي أَبِي سَلَمَةَ أَنْ أُنْفِقَ عَلَيْهِمْ ، وَلَسْتُ بِتَارِكَتِهِمْ هَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا ، إِنَّمَا هُمْ بَنِيَّ ؟ قَالَ : " نَعَمْ ، لَكِ فِيهِمْ أَجْرٌ مَا أَنْفَقْتِ عَلَيْهِمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے ایک مرتبہ بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ اگر میں ابوسلمہ کے بچوں پر کچھ خرچ کردوں تو کیا مجھے اس پر اجرملے گا کیونکہ میں انہیں اس حال میں چھوڑ نہیں سکتی کہ وہ میرے بھی بچے ہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں تم ان پر جو کچھ خرچ کرو گی تمہیں اس کا اجرملے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26509
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1467، م: 1001
حدیث نمبر: 26510
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهَا اسْتَفْتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي امْرَأَةٍ تُهَرَاقُ الدَّمَ ، فَقَالَ : " تَنْتَظِرُ قَدْرَ اللَّيَالِي وَالْأَيَّامِ الَّتِي كَانَتْ تَحِيضُهُنَّ وَقَدْرَهُنَّ مِنَ الشَّهْرِ ، فَتَدَعُ الصَّلَاةَ ، ثُمَّ لِتَغْتَسِلْ ، وَلْتَسْتَثْفِرْ ، ثُمَّ تُصَلِّي " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس عورت کا حکم دریافت کیا جس کا خون مسلسل جاری رہے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ اتنے دن رات تک انتظار کرے جتنے دن تک اسے پہلے ناپاکی کا سامنا ہوتا تھا اور مہینے میں اتنے دنوں کا اندازہ کرلے اور اتنے دن تک نماز چھوڑے رکھے، اس کے بعد غسل کرکے کپڑا باندھ لے اور نماز پڑھنے لگے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26510
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، لكن اختلف فيه على نافع