حدیث نمبر: 26463
حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ ، عَنْ سَوَاءٍ الْخُزَاعِيِّ ، عَنِ حَفْصَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ : " يَصُومُ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ : الِاثْنَيْنِ ، وَالْخَمِيسَ ، وَالِاثْنَيْنِ مِنَ الْجُمُعَةِ الْأُخْرَى .
مولانا ظفر اقبال
حضرت حفصہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہر مہینے میں تین دن روزہ رکھتے تھے پیرجمعرات اور اگلے ہفتے میں پیر کے دن۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26463
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لجهالة حال سواء الخزاعي وانقطاع بين عاصم و سواء الخزاعي، وعاصم بن أبى النجود تكلموا فى حفظه، وقد اضطرب فى هذا الإسناد
حدیث نمبر: 26464
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ بَهْدَلَةَ ، عَنْ سَوَاءٍ الْخُزَاعِيِّ ، عَنْ حَفْصَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَتْ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا أَوَى إِلَى فِرَاشِهِ ، اضْطَجَعَ عَلَى يَدِهِ الْيُمْنَى ، ثُمَّ قَالَ : " رَبِّ قِنِي عَذَابَكَ يَوْمَ تَبْعَثُ عِبَادَكَ " ثَلَاثَ مِرَارٍ ، وَكَانَ يَجْعَلُ يَمِينَهُ لِأَكْلِهِ وَشُرْبِهِ ، وَوُضُوئِهِ وَثِيَابِهِ ، وَأَخْذِهِ وَعَطَائِهِ ، وَيَجْعَلُ شِمَالَهُ لِمَا سِوَى ذَلِكَ ، وَكَانَ يَصُومُ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ : الِاثْنَيْنِ ، وَالْخَمِيسَ ، وَالِاثْنَيْنِ مِنَ الْجُمُعَةِ الْأُخْرَى .
مولانا ظفر اقبال
حضرت حفصہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنے بستر پر تشریف لاتے تو دائیں ہاتھ لیٹ جاتے پھر یہ دعا پڑھتے کہ پروردگار مجھے اس دن کے عذاب سے بچانا جس دن تو اپنے بندوں کو جمع فرمائے گا۔ تین مرتبہ یہ دعاء فرماتے تھے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول تھا کہ اپنا داہنا ہاتھ کھانے پینے وضو کرنے کپڑے پہننے اور لینے دینے میں استعمال فرماتے تھے اور اس کے علاوہ مواقع کے لئے بائیں ہاتھ کو استعمال فرماتے تھے اور ہر مہینے میں تین دن روزہ رکھتے تھے پیرجمعرات اور اگلے ہفتے میں پیر کے دن۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26464
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره دون قوله: كان يصوم ثلاثة من كل شهر .... الجمعة الأخرى وهذا إسناده ضعيف لجهالة حال سواء الخزاعي وانقطاع بين عاصم و سواء الخزاعي، وعاصم تكلموا فى حفظه، وقد اضطرب فى هذا الإسناد
حدیث نمبر: 26465
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا أَبَانُ يَعْنِي ابْنَ يَزِيدَ الْعَطَّارَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَاصِمٌ ، عَنْ مَعْبَدِ بْنِ خَالِدٍ ، عَنْ سَوَاءٍ الْخُزَاعِيِّ ، عَنْ حَفْصَةَ ابْنَةِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ : " إِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْقُدَ ، وَضَعَ يَدَهُ الْيُمْنَى تَحْتَ خَدِّهِ الْأَيْمَنِ ، ثُمَّ قَالَ : " اللَّهُمَّ قِنِي عَذَابَكَ يَوْمَ تَبْعَثُ عِبَادَكَ " , ثَلَاثَ مِرَارٍ ، وَكَانَتْ يَدُهُ الْيُمْنَى لِطَعَامِهِ وَشَرَابِهِ ، وَكَانَتْ يَدُهُ الْيُسْرَى لِسَائِرِ حَاجَتِهِ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت حفصہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنے بستر پر تشریف لاتے تو دائیں ہاتھ کو دائیں رخسار کے نیچے رکھ کرلیٹ جاتے پھر یہ دعا پڑھتے کہ پروردگار مجھے اس دن کے عذاب سے بچا نا جس دن تو اپنے بندوں کو جمع فرمائے گا۔ تین مرتبہ یہ دعاء فرماتے تھے۔ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول تھا کہ اپنا داہنا ہاتھ کھانے پینے میں استعمال فرماتے تھے اور اس کے علاوہ مواقع کے لئے بائیں ہاتھ کو استعمال فرماتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26465
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لجهالة حال سواء الخزاعي وانقطاع بين عاصم و سواء الخزاعي، وعاصم تكلموا فى حفظه، وقد اضطرب فى هذا الإسناد
حدیث نمبر: 26466
حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَبُو خَالِدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمُزَنِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَتْنِي حَفْصَةُ ابْنَةُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ قَدْ وَضَعَ ثَوْبَهُ بَيْنَ فَخِذَيْهِ ، فَجَاءَ أَبُو بَكْرٍ فَاسْتَأْذَنَ ، فَأَذِنَ لَهُ وَهُوَ عَلَى هَيْئَتِهِ ، ثُمَّ عُمَرُ بِمِثْلِ هَذِهِ الْقِصَّةِ ، ثُمَّ عَلِيٌّ ، ثُمَّ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِهِ ، وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى هَيْئَتِهِ ، ثُمَّ جَاءَ عُثْمَانُ ، فَاسْتَأْذَنَ ، فَأَذِنَ لَهُ ، فَأَخَذَ ثَوْبَهُ فَتَجَلَّلَهُ ، فَتَحَدَّثُوا ، ثُمَّ خَرَجُوا , قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، جَاءَ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَعَلِيٌّ وَسَائِرُ أَصْحَابِكَ ، وَأَنْتَ عَلَى هَيْئَتِكَ ، فَلَمَّا جَاءَ عُثْمَانُ ، تَجَلَّلْتَ بِثَوْبِكَ ! فَقَالَ : " أَلَا أَسْتَحْيِي مِمَّنْ تَسْتَحْيِي مِنْهُ الْمَلَائِكَةُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت حفصہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے کپڑے سمیٹ کر اپنی رانوں پر ڈال کربیٹھے ہوئے تھے کہ حضرت صدیق اکبر آئے اور اجازت چاہی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اجازت دیدی اور خود اسی کیفیت پر بیٹھے رہے، پھر حضرت عمر پھر حضرت علی اور دیگر صحابہ کرام آتے گئے لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسی کیفیت پر بیٹھے رہے تھوڑی دیر بعد حضرت عثمان نے آ کر اجازت چاہی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اجازت دی اور اپنی ٹانگوں کو کپڑے سے ڈھانپ لیا کچھ دیرتک وہ لوگ بیٹھے باتیں کرتے رہے پھر واپس چلے گئے ان کے جانے کے بعد میں نے عرض کیا یا رسول اللہ آپ کے پاس ابوبکر عمر علی اور دیگر صحابہ آئے لیکن آپ اسی کیفیت پر بیٹھے رہے اور جب حضرت عثمان آئے تو آپ نے اپنی ٹانگوں کو کپڑے سے ڈھانپ لیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا میں اس شخص سے حیاء نہ کروں جس سے فرشتے حیاء کرتے ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26466
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة حال عبدالله بن أبى سعيد، وأبو خالد مجهول لكنه توبع
حدیث نمبر: 26467
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ يَعْنِي شَيْبَانَ , عَنْ أَبِي الْيَعْفُورِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمُزَنِيِّ ، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ عُمَرَ ، قَالَتْ : دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ ، فَوَضَعَ ثَوْبَهُ بَيْنَ فَخِذَيْهِ ، فَجَاءَ أَبُو بَكْرٍ يَسْتَأْذِنُ ، فَأَذِنَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى هَيْئَتِهِ ، ثُمَّ جَاءَ عُمَرُ يَسْتَأْذِنُ ، فَأَذِنَ لَهُ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى هَيْئَتِهِ ، وَجَاءَ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِهِ ، فَأَذِنَ لَهُمْ ، وَجَاءَ عَلِيٌّ يَسْتَأْذِنُ ، فَأَذِنَ لَهُ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى هَيْئَتِهِ ، ثُمَّ جَاءَ عُثْمَانُ بن عفَّان ، فَاسْتَأْذَنَ ، فَتَجَلَّلَ ثَوْبَهُ ، ثُمَّ أَذِنَ لَهُ ، فَتَحَدَّثُوا سَاعَةً ثُمَّ خَرَجُوا ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، دَخَلَ عَلَيْكَ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَعَلِيٌّ وَنَاسٌ مِنْ أَصْحَابِكَ وَأَنْتَ عَلَى هَيْئَتِكَ لَمْ تَتَحَرَّكْ ، فَلَمَّا دَخَلَ عُثْمَانُ تَجَلَّلْتَ ثَوْبَكَ ! فَقَالَ : " أَلَا أَسْتَحْيِي مِمَّنْ تَسْتَحْيِي مِنْهُ الْمَلَائِكَةُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت حفصہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے کپڑے سمیٹ کر اپنی رانوں پر ڈال کربیٹھے ہوئے تھے کہ حضرت صدیق اکبر آئے اور اجازت چاہی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اجازت دیدی اور خود اسی کیفیت پر بیٹھے رہے، پھر حضرت عمر پھر حضرت علی اور دیگر صحابہ کرام آتے گئے لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسی کیفیت پر بیٹھے رہے تھوڑی دیر بعد حضرت عثمان نے آ کر اجازت چاہی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اجازت دی اور اپنی ٹانگوں کو کپڑے سے ڈھانپ لیا کچھ دیرتک وہ لوگ بیٹھے باتیں کرتے رہے پھر واپس چلے گئے ان کے جانے کے بعد میں نے عرض کیا یا رسول اللہ آپ کے پاس ابوبکر عمر علی اور دیگر صحابہ آئے لیکن آپ اسی کیفیت پر بیٹھے رہے اور جب حضرت عثمان آئے تو آپ نے اپنی ٹانگوں کو کپڑے سے ڈھانپ لیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا میں اس شخص سے حیاء نہ کروں جس سے فرشتے حیاء کرتے ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26467
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة حال عبدالله بن أبى سعيد