حدیث نمبر: 26117
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ , حَدَّثَنَا هَمَّامٌ , حَدَّثَنَا قَتَادَةُ , عَنْ مُطَرِّفٍ , عَنْ عَائِشَةَ " أَنَّهَا صَنَعَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُلَّةً مِنْ صُوفٍ سَوْدَاءَ , فَلَبِسَهَا , فَلَمَّا عَرِقَ وَجَدَ رِيحَ الصُّوفِ فَقَذَفَهَا , قَالَ : وَأَحْسِبُهُ قَالَ : وَكَانَتْ تُعْجِبُهُ الرِّيحُ الطَّيِّبَةُ " .
مولانا ظفر اقبال
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے اون کی ایک سیاہ چادر بنائی، اس چادر کی سیاہی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی رنگت کے اجلا پن اور سفیدی کا تذکرہ ہونے لگا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پہن لیا، لیکن جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو پسینہ آیا اور ان کی بو اس میں محسوس ہونے لگی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اتار دیا کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اچھی مہک کو پسند فرماتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26117
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 26118
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ , قَالَ : حَدَّثَنَا هَمَّامٌ , قَالَ : حَدَّثَنَا قَتَادَةُ , عَنْ كَثِيرٍ , عَنْ أَبِي عِيَاضٍ ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " صَلَّى وَعَلَيْهِ مِرْطٌ مِنْ صُوفٍ عَلَيْهِ بَعْضُهُ وَعَلَيْهَا بَعْضُهُ " .
مولانا ظفر اقبال
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بیدار ہو کر نماز پڑھتے تو لحاف کا ایک کونا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اوپر ہوتا اور دوسرا کونا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر ہوتا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم پڑھتے رہتے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26118
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح
حدیث نمبر: 26119
قال عبد الله بن أحمد : حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ , عَنْ عِمْرَانَ بْنِ أَبِي الْفَضْلِ الْأَيْلِيِّ , عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ يَكْرَهُ أَنْ يُوجَدَ مِنْهُ رِيحٌ يُتَأَذَّى مِنْهُ " .
مولانا ظفر اقبال
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ چیز ناپسند تھی کہ ان سے ایسی مہک آئے جس سے دوسروں کو اذیت ہوتی ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26119
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف جدا لأجل عمران بن أبى الفضل
حدیث نمبر: 26120
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ , عَنْ أَبَانُ , قَالَ : حَدَّثَنَا قَتَادَةُ , قَالَ : حَدَّثَتْنِي صَفِيَّةُ بِنْتُ شَيْبَةَ , عَنْ عَائِشَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ يَغْتَسِلُ بِالصَّاعِ وَيَتَوَضَّأُ بِالْمُدِّ " .
مولانا ظفر اقبال
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک مد کے قریب پانی سے وضو فرما لیتے تھے اور ایک صاع کے قریب پانی سے غسل فرما لیتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26120
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 26121
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ , قَالَ : حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ كَثِيرٍ , عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ تُحِدُّ عَلَى مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلَاثٍ إِلَّا عَلَى زَوْجٍ " .
مولانا ظفر اقبال
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو عورت اللہ پر اور یوم آخرت پر ایمان رکھتی ہو، شوہر کے علاوہ کسی اور میت پر اس کیلئے تین دن سے سوگ منانا حلال نہیں ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26121
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 1491
حدیث نمبر: 26122
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ , وَأَبُو عَامِرٍ , قَالَا : حَدَّثَنَا هِشَامٌ , عَنْ يَحْيَى , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، قَالَ : سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِاللَّيْلِ ؟ فَقَالَتْ : " كَانَ يُصَلِّي ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً , يُصَلِّي ثَمَانِ رَكَعَاتٍ , ثُمَّ يُوتِرُ , ثُمَّ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ , فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ قَامَ فَرَكَعَ , وَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ بَيْنَ النِّدَاءِ وَالْإِقَامَةِ مِنْ صَلَاةِ الصُّبْحِ " .
مولانا ظفر اقبال
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کو تیرہ رکعتیں پڑھتے تھے، پہلے آٹھ رکعتیں، پھر وتر، پھر بیٹھ کردو رکعتیں پڑھتے اور جب رکوع میں جانا چاہتے تو کھڑے ہو کر رکوع کرتے، پھر فجر کی اذان اور نماز کے درمیان دو رکعتیں پڑھتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26122
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 738
حدیث نمبر: 26123
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ وَأَبُو عَامِرٍ الْمَعْنَى ، قَالَا : حَدَّثَنَا هِشَامٌ , عَنْ يَحْيَى , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، قَالَ : قَالَتْ عَائِشَةُ : لَمْ يَكُنْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ مِنَ السَّنَةِ أَكْثَرَ مِنْ صِيَامِهِ مِنْ شَعْبَانَ , فَإِنَّهُ كَانَ يَصُومُ شَعْبَانَ كُلَّهُ , وَكَانَ يَقُولُ : " خُذُوا مِنَ الْعَمَلِ مَا تُطِيقُونَ , فَإِنَّ اللَّهَ لَا يَمَلُّ حَتَّى تَمَلُّوا " , وَإِنَّهُ كَانَ أَحَبُّ الْعَمَلِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا دَاوَمَ عَلَيْهِ وَإِنْ قَلَّ , كَانَ إِذَا صَلَّى صَلَاةً دَاوَمَ عَلَيْهَا .
مولانا ظفر اقبال
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سال کے کسی مہینے میں شعبان سے زیادہ روزے نہیں رکھتے تھے، کہ وہ تقریباً شعبان کا پورا مہینہ ہی روزہ رکھتے تھے اور فرماتے تھے کہ اتنا عمل کیا کرو جتنے کی تم میں طاقت ہو، کیونکہ اللہ تو نہیں اکتائے گا، البتہ تم ضرور اکتا جاؤ گے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ نماز وہ ہوتی تھی جس پر دوام ہو سکے اگرچہ اس کی مقدار تھوڑی ہی ہو اور خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب کوئی نماز پڑھتے تو اسے ہمیشہ پڑھتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26123
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1970، م: 782
حدیث نمبر: 26124
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ , قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي , قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جُحَادَةَ , عَنِ الْحَكَمِ , عَنْ إِبْرَاهِيمَ , عَنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ : " كُنَّا نُقَلِّدُ الشَّاءَ فَنُرْسِلُ بِهَا , وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَلَالٌ لَمْ يُحْرِمْ مِنْهُ " .
مولانا ظفر اقبال
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدی کے جانور یعنی بکری کے قلادے بٹا کرتی تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسے بھیج کر بھی کسی چیز سے اپنے آپ کو نہیں روکتے تھے (جن سے محرم بچتے تھے) ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26124
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5566، م: 1321
حدیث نمبر: 26125
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ , قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي , حَدَّثَنَا يَزِيدُ يَعْنِي الرِّشْكَ , عَنْ مُعَاذَةَ , قَالَتْ : سَأَلَتْ امْرَأَةٌ عَائِشَةَ وَأَنَا شَاهِدَةٌ عَنْ وَصْلِ صِيَامِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَتْ لَهَا : " أَتَعْمَلِينَ كَعَمَلِهِ ؟ فَإِنَّهُ قَدْ كَانَ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ وَمَا تَأَخَّرَ , وَكَانَ عَمَلُهُ نَافِلَةً لَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
معاذہ کہتی ہیں کہ ایک مرتبہ میں ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر تھی کہ ایک عورت نے ان سے نبی کے صوم وصال کے متعلق دریافت کیا، انہوں نے فرمایا کیا تم نبی صلی اللہ علیہ وسلم جیسے اعمال کرسکتی ہو، ان کے اگلے پچھلے گناہ معاف کردیئے گئے تھے اور ان کے اعمال تو نفلی تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26125
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 26126
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ , قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي , قَالَ : حَدَّثَتْنِي أُمُّ الْحَسَنِ , قَالَ عَبْدُ الصَّمَدِ : وَهِيَ جَدَّةُ أَبِي بَكْرٍ الْعَتَكِيِّ , عَنْ مُعَاذَةَ , قَالَتْ : سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنِ الْحَائِضِ يُصِيبُ ثَوْبَهَا الدَّمُ ؟ فَقَالَتْ : " لَقَدْ كُنْتُ أَحِيضُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَ حِيَضٍ جَمِيعًا , لَا أَغْسِلُ لِي ثَوْبًا , وَقَالَتْ : لَقَدْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي وَعَلَيَّ ثَوْبٌ , عَلَيْهِ بَعْضُهُ وَعَلَيَّ بَعْضُهُ , وَأَنَا حَائِضٌ نَائِمَةٌ قَرِيبًا مِنْهُ " .
مولانا ظفر اقبال
معاذہ کہتی ہیں کہ میں نے ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے اس حائضہ عورت کے متعلق پوچھا جس کے کپڑوں کو دم حیض لگ جائے، تو انہوں نے فرمایا کہ بعض اوقات مجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے یہاں تین مرتبہ مسلسل ایام آتے اور میں اپنے کپڑے نہ دھو پاتی تھی اور بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ رہے ہوتے تھے اور میرے جسم پر جو کپڑا ہوتا تھا، اس کا کچھ حصہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر ہوتا تھا اور میں ایام کی حالت میں ان کے قریب سو رہی ہوتی تھی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26126
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: بعضه صحيح، وهذا اسناد ضعيف لجهالة ام الحسن
حدیث نمبر: 26127
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ , حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ يَعْنِي ابْنَ الْفَضْلِ , حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ , عَنْ عَائِشَةَ , أَنَّهَا قَالَتْ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " مَنْ دَايَنَ النَّاسَ بِدَيْنٍ يَعْلَمُ اللَّهُ مِنْهُ أَنَّهُ حَرِيصٌ عَلَى أَدَائِهِ , كَانَ مَعَهُ مِنَ اللَّهِ عَوْنٌ وَحَافِظٌ " , وَأَنَا أَلْتَمِسُ ذَلِكَ الْعَوْنَ .
مولانا ظفر اقبال
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے جس شخص کی نیت قرض ادا کرنے کی ہو تو اللہ تعالیٰ کی مدد اس کے شامل حال رہتی ہے، میں وہی مدد حاصل کرنا چاہتی ہوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26127
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه لأن محمد بن على لم يسمع من عائشة
حدیث نمبر: 26128
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ , قَالَ : حَدَّثَتْنِي أُمُّ نَهَارٍ بِنْتُ دِفَاعٍ ، قَالَتْ : حَدَّثَتْنِي آمِنَةُ بِنْتُ عَبْدِ اللَّهِ , أَنَّهَا شَهِدَتْ عَائِشَةَ , فَقَالَتْ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَلْعَنُ الْقَاشِرَةَ وَالْمَقْشُورَةَ , وَالْوَاشِمَةَ وَالْمُوتَشِمَةَ , وَالْوَاصِلَةَ وَالْمُتَّصِلَةَ " .
مولانا ظفر اقبال
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے چہرے کو مل دل کر صاف کرنے والی، جسم گودنے والی اور گودوانے والی، بال ملانے اور ملوانے والی پر لعنت فرمائی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26128
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح دون قولها: "كان رسول الله ﷺ يلعن القاشرة والمقشورة" وهذا إسناد ضعيف لأجل آمنة بنت عبدالله
حدیث نمبر: 26129
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ , حَدَّثَنَا مَالِكٌ يَعْنِي ابْنَ مِغْوَلٍ , قَالَ : سَأَلْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْأَسْوَدِ عَنِ الطِّيبِ لِلْمُحْرِمِ , فَقَالَ أَخْبَرَنِي أَبِي الْأَسْوَدُ ، عَنْ عَائِشَةَ , أَنَّهَا قَالَتْ : " كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى وَبِيصِ الطِّيبِ فِي مَفْرِقِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ " .
مولانا ظفر اقبال
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے پاس موجود سب سے عمدہ خوشبو لگاتی تھی اور گویا وہ منظر اب تک میری نگاہوں کے سامنے ہے کہ حالت احرام میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سر پر مشک کی چمک دیکھ رہی ہوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26129
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5923، م: 1190
حدیث نمبر: 26130
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ , قَالَ : حَدَّثَتْنِي فَاطِمَةُ بِنْتُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , قَالَتْ : حَدَّثَتْنِي أُمِّي , أَنَّهَا قَالَتْ : سَأَلْتُ عَائِشَةَ , وَأَرْسَلَهَا عَمُّهَا , فَقَالَ : إِنَّ أَحَدَ بَنِيكِ يُقْرِئُكِ السَّلَامَ , وَيَسْأَلُكِ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ , فَإِنَّ النَّاسَ قَدْ شَتَمُوهُ ؟ فَقَالَتْ : لَعَنَ اللَّهُ مَنْ لَعَنَهُ , فَوَاللَّهِ لَقَدْ كَانَ قَاعِدًا عِنْدَ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَإِنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمُسْنِدٌ ظَهْرَهُ إِلَيَّ , وَإِنَّ جِبْرِيلَ لَيُوحِي إِلَيْهِ الْقُرْآنَ , وَإِنَّهُ لَيَقُولُ لَهُ : " اكْتُبْ يَا عُثَيْمُ " , فَمَا كَانَ اللَّهُ لِيُنْزِلَهُ تِلْكَ الْمَنْزِلَةَ إِلَّا كَرِيمًا عَلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ .
مولانا ظفر اقبال
فاطمہ بنت عبدالرحمن اپنی والدہ کے حوالے سے نقل کرتی ہیں کہ انہیں ان کے چچا نے ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس یہ پیغام دے کر بھیجا کہ آپ کا ایک بیٹا آپ کو سلام کہہ رہا ہے اور آپ سے حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے متعلق پوچھ رہا ہے، کیونکہ لوگ ان کی شان میں گستاخی کرنے لگے ہیں، انہوں نے فرمایا کہ جو ان پر لعنت کرے، اس پر اللہ کی لعنت نازل ہو، واللہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوتے تھے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی پشت مبارک میرے ساتھ لگائے ہوتے تھے اور اسی دوران حضرت جبرائیل علیہ السلام وحی لے کر آجاتے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان سے فرماتے تھے اے عثیم ! لکھو اللہ یہ مرتبہ اسی کو دے سکتا ہے جو اللہ اور اس کے رسول کی نگاہوں میں معزز ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26130
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لجهالة فاطمة بنت عبدالرحمن وأمها
حدیث نمبر: 26131
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ , قَالَ : حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ أَبِي زَائِدَةَ , عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْأَسْوَدِ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ : " كَانَ أَكْثَرُ صَلَاةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسًا إِلَّا الصَّلَاةَ الْمَكْتُوبَةَ , وَكَانَ أَحَبُّ الْأَعْمَالِ إِلَيْهِ مَا دَاوَمَ عَلَيْهِ الْإِنْسَانُ , وَإِنْ كَانَ يَسِيرًا " .
مولانا ظفر اقبال
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اکثر نماز بیٹھ کر ہوتی تھی، سوائے فرض نمازوں کے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب عمل وہ ہوتا تھا جو ہمیشہ کیا جائے اگرچہ تھوڑا ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26131
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح
حدیث نمبر: 26132
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ , حَدَّثَنَا زَيْدٌ يَعْنِي ابْنَ مُرَّةَ أَبُو الْمُعَلَّى , عَنِ الْحَسَنِ , عَنْ عَائِشَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَحَلَّ مِنْ قَتْلِ الدَّوَابِّ وَالرَّجُلُ مُحْرِمٌ أَنْ يَقْتُلَ الْحَيَّةَ , وَالْعَقْرَبَ , وَالْكَلْبَ الْعَقُورَ , وَالْغُرَابَ الْأَبْقَعَ , وَالْحُدَيَّا , وَالْفَأْرَةَ , وَلَدَغَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَقْرَبٌ , فَأَمَرَ بِقَتْلِهَا وَهُوَ مُحْرِمٌ " .
مولانا ظفر اقبال
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا محرم ان چیزوں کو مار سکتا ہے، بچھو، چوہا، چیل، باؤلا کتا اور کوا، ایک مرتبہ حالت احرام میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی بچھو نے ڈس لیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے مارنے کا حکم دیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26132
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح دون قولها: "ولدغ رسول الله ﷺ عقرب" وهذا إسناد ضعيف لتدليس الحسن البصري وقد عنعن
حدیث نمبر: 26133
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ وَعَفَّانُ ، قَالَا : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ , قَالَ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ , عَنْ أُمِّ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُكْثِرُ أَنْ يَقُولَ : " يَا مُقَلِّبَ الْقُلُوبِ ثَبِّتْ قَلْبِي عَلَى دِينِكَ وَطَاعَتِكَ " فَقِيلَ لَهُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ عَفَّانُ : فَقَالَتْ لَهُ عَائِشَةُ : إِنَّكَ تُكْثِرُ أَنْ تَقُولَ : " يَا مُقَلِّبَ الْقُلُوبِ ثَبِّتْ قَلْبِي عَلَى دِينِكَ وَطَاعَتِكَ " قَالَ : " وَمَا يُؤْمِنُنِي , وَإِنَّمَا قُلُوبُ الْعِبَادِ بَيْنَ أُصْبُعَيْ الرَّحْمَنِ , إِنَّهُ إِذَا أَرَادَ أَنْ يُقَلِّبَ قَلْبَ عَبْدٍ قَلَّبَهُ " ، قَالَ عَفَّانُ : بَيْنَ أُصْبُعَيْنِ مِنْ أَصَابِعِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ .
مولانا ظفر اقبال
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ کچھ دعائیں ایسی ہیں، جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم بکثرت فرمایا کرتے تھے اے مقلب القلوب ! میرے دل کو اپنے دین پر ثابت قدم فرما، میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! آپ اکثر یہ دعائیں کیوں کرتے ہیں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انسان کا دل اللہ تعالیٰ کی دو انگلیوں کے درمیان ہوتا ہے، اگر وہ چاہے تو اسے ٹیڑھا کر دے اور اگر چاہے تو سیدھا رکھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26133
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف على بن زيد
حدیث نمبر: 26134
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ , قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادٌ , حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ , عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَاهَكَ , عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , عَنْ عَائِشَةَ , أَنَّهَا قَالَتْ : " أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْفَرَعِ مِنْ كُلِّ خَمْسِ شِيَاهٍ شَاةٌ , وَأَمَرَنَا أَنْ نَعُقَّ عَنِ الْجَارِيَةِ شَاةً , وَعَنِ الْغُلَامِ شَاتَيْنِ " .
مولانا ظفر اقبال
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا ہے کہ لڑکے کی طرف سے عقیقے میں دو بکریاں برابر کی ہوں اور لڑکی کی طرف سے ایک بکری نیز یہ حکم بھی دیا ہے کہ ہر پانچ میں سے ایک بکری قربان کردیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26134
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث العقيقة صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف
حدیث نمبر: 26135
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ , قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادٌ , عَنْ ثَابِتٍ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ , عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ لَيُرَبِّي لِأَحَدِكُمْ التَّمْرَةَ وَاللُّقْمَةَ كَمَا يُرَبِّي أَحَدُكُمْ فَلُوَّهُ أَوْ فَصِيلَهُ , حَتَّى يَكُونَ مِثْلَ أُحُدٍ " .
مولانا ظفر اقبال
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ تمہاری ایک کجھور اور لقمہ کی اس پرورش کرتا ہے جس طرح تم میں سے کوئی شخص اپنی بکری کے بچے کی پرورش کرتا ہے، یہاں تک کہ وہ احد پہاڑ کے برابر ہوجاتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26135
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد اختلف فيه
حدیث نمبر: 26136
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ , حَدَّثَنَا زَائِدَةُ , حَدَّثَنَا أَبُو حَصِينٍ , عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ : " صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهِ ثَوْبٌ بَعْضُهُ عَلَيَّ " .
مولانا ظفر اقبال
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کو بیدار ہو کر نماز پڑھتے تو لحاف کا ایک کونا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اوپر ہوتا اور دوسرا کونا مجھ پر ہوتا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26136
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 514
حدیث نمبر: 26137
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ , قَالَ : حَدَّثَنَا زَائِدَةُ , عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي عَائِشَةَ , عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , قَالَ : دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ , فَقُلْتُ : أَلَا تُحَدِّثِينِي عَنْ مَرَضِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ فَقَالَتْ : بَلَى ، ثَقُلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : " أَصَلَّى النَّاسُ ؟ " فَقُلْنَا : لَا , هُمْ يَنْتَظِرُونَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ , قَالَ : " ضَعُوا لِي مَاءً فِي الْمِخْضَبِ " فَفَعَلْنَا , فَاغْتَسَلَ , ثُمَّ ذَهَبَ لِيَنُوءَ فَأُغْمِيَ عَلَيْهِ , ثُمَّ أَفَاقَ فَقَالَ : " أَصَلَّى النَّاسُ ؟ " فَقُلْنَا : لَا , هُمْ يَنْتَظِرُونَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ , فَقَالَ : " ضَعُوا لِي مَاءً فِي الْمِخْضَبِ " فَفَعَلْنَا , فَاغْتَسَلَ , ثُمَّ ذَهَبَ لِيَنُوءَ فَأُغْمِيَ عَلَيْهِ , ثُمَّ أَفَاقَ , فَقَالَ : " أَصَلَّى النَّاسُ ؟ " فَقُلْنَا : لَا , هُمْ يَنْتَظِرُونَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ , قَالَتْ : وَالنَّاسُ عُكُوفٌ فِي الْمَسْجِدِ يَنْتَظِرُونَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِصَلَاةِ الْعِشَاءِ , فَأَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أَبِي بَكْرٍ أَنْ يُصَلِّيَ بِالنَّاسِ , وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ رَجُلًا رَقِيقًا , فَقَالَ : يَا عُمَرُ , صَلِّ بِالنَّاسِ , فَقَالَ : أَنْتَ أَحَقُّ بِذَلِكَ , فَصَلَّى بِهِمْ أَبُو بَكْرٍ تِلْكَ الْأَيَّامَ , ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَدَ خِفَّةً , فَخَرَجَ بَيْنَ رَجُلَيْنِ أَحَدُهُمَا الْعَبَّاسُ لِصَلَاةِ الظُّهْرِ , فَلَمَّا رَآهُ أَبُو بَكْرٍ ذَهَبَ لِيَتَأَخَّرَ , فَأَوْمَأَ إِلَيْهِ أَنْ لَا تَتَأَخَّرَ , وَأَمَرَهُمَا , فَأَجْلَسَاهُ إِلَى جَنْبِهِ , فَجَعَلَ أَبُو بَكْرٍ يُصَلِّي قَائِمًا , وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي قَاعِدًا , فَدَخَلْتُ عَلَى ابْنِ عَبَّاسٍ , فَقُلْتُ : أَلَا أَعْرِضُ عَلَيْكَ مَا حَدَّثَتْنِي عَائِشَةُ عَنْ مَرَضِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ هَاتِ , فَحَدَّثْتُهُ , فَمَا أَنْكَرَ مِنْهُ شَيْئًا , غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ أسَمَّتْ لَكَ الرَّجُلَ الَّذِي كَانَ مَعَ الْعَبَّاسِ ؟ قُلْتُ لَا , قَالَ هُوَ عَلِيٌّ .
مولانا ظفر اقبال
عبیداللہ بن عبداللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ آپ مجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مرض الوفات کے بارے کچھ بتائیں گی ؟ فرمایا کیوں نہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طبیعت جب بوجھل ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا لوگ نماز پڑھ چکے ؟ ہم نے کہا نہیں، یا رسول اللہ ! وہ آپ کا انتظار کر رہے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے لئے ایک ٹب میں پانی رکھو، ہم نے ایسے ہی کیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے غسل کیا اور جانے کے لئے کھڑے ہونے ہی لگے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر بےہوشی طاری ہوگئی، جب افاقہ ہوا تو پھر یہی سوال پوچھا کیا لوگ نماز پڑھ چکے ؟ ہم نے حسب سابق وہی جواب دیا اور تین مرتبہ اسی طرح ہوا۔ ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ لوگ نماز عشاء کے لئے مسجد میں بیٹھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا انتظار کر رہے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے پاس یہ پیغام بھیجا کہ آپ لوگوں کو نماز پڑھا دیں، حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ بڑے رقیق القلب آدمی تھے، کہنے لگے اے عمر ! آپ لوگوں کو نماز پڑھا دیں، انہوں نے کہا اس کے حقدار تو آپ ہی ہیں، چنانچہ ان دنوں میں حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ لوگوں کو نماز پڑھاتے رہے، ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے مرض میں کچھ تخفیف محسوس ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر کی نماز کے وقت دو آدمیوں کے درمیان نکلے جن میں سے ایک حضرت عباس رضی اللہ عنہ تھے، حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو پیچھے ہٹنے لگے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اشارہ کیا کہ پیچھے نہ ہٹیں اور اپنے ساتھ آنے والے دونوں صاحبوں کو حکم دیا تو انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے پہلو میں بٹھا دیا، حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کھڑے ہو کر نماز پڑھتے رہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ کر نماز پڑھنے لگے۔ عبیداللہ کہتے ہیں کہ اس حدیث کی سماعت کے بعد ایک مرتبہ میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے یہاں آیا ہوا تھا، میں نے ان سے کہا کہ کیا میں آپ کے سامنے وہ حدیث پیش کروں جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مرض الوفات کے حوالے سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے مجھے سنائی ہے ؟ انہوں نے کہا ضرور بیان کرو، چنانچہ میں نے ان سے ساری حدیث بیان کردی، انہوں نے اس کے کسی حصے پر نکیر نہیں فرمائی، البتہ اتنا ضرور پوچھا کہ کیا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے آپ کو اس آدمی کا نام بتایا جو حضرت عباس رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا ؟ میں نے کہا نہیں، انہوں نے فرمایا کہ وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ تھے، اللہ کی رحمتیں ان پر نازل ہوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26137
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 687، م: 418
حدیث نمبر: 26138
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ , وَمُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو , قَالَا : حَدَّثَنَا زَائِدَةُ , حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ أَبِي عَائِشَةَ , عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , قَالَ : دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ , فَقُلْتُ لَهَا : أَلَا تُحَدِّثِينِي عَنْ مَرَضِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَتْ : بَلَى , ثَقُلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَذَكَرَ الْحَدِيثَ , وَقَالَ : فَأَوْمَأَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ لَا تَأَخَّرَ , قَالَ مُعَاوِيَةُ يتَأَخَّرْ , وَقَالَ لَهُمَا : " أَجْلِسَانِي إِلَى جَنْبِهِ " فَأَجْلَسَاهُ إِلَى جَنْبِهِ , قَالَتْ فَجَعَلَ أَبُو بَكْرٍ يُصَلِّي وَهُوَ قَائِمٌ بِصَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَالنَّاسُ يُصَلُّونَ بِصَلَاةِ أَبِي بَكْرٍ , وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَاعِدٌ.
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26138
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح وهو مكرر سابقه
حدیث نمبر: 26139
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ , حَدَّثَنَا دَاوُدُ يَعْنِي ابْنَ أَبِي الْفُرَاتِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ , عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ , عَنْ عَائِشَةَ , أَنَّهَا قَالَتْ : سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الطَّاعُونِ ؟ فَأَخْبَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَنَّهُ كَانَ عَذَابًا يَبْعَثُهُ اللَّهُ عَلَى مَنْ يَشَاءُ , فَجَعَلَهُ رَحْمَةً لِلْمُؤْمِنِينَ , فَلَيْسَ مِنْ رَجُلٍ يَقَعُ الطَّاعُونُ , فَيَمْكُثُ فِي بَيْتِهِ صَابِرًا مُحْتَسِبًا يَعْلَمُ أَنَّهُ لَا يُصِيبُهُ إِلَّا مَا كَتَبَ اللَّهُ لَهُ , إِلَّا كَانَ لَهُ مِثْلُ أَجْرِ الشَّهِيدِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے " طاعون " کے متعلق دریافت کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بتایا کہ یہ ایک عذاب تھا جو اللہ جس پر چاہتا تھا بھیج دیتا تھا، لیکن اس امت کے مسلمانوں پر اللہ نے اسے رحمت بنادیا ہے، اب جو شخص طاعون کی بیماری میں مبتلا ہو اور اس شہر میں ثواب کی نیت سے صبر کرتے ہوئے رکا رہے اور یقین رکھتا ہو کہ اسے صرف وہی مصیبت آسکتی ہے جو اللہ تعالیٰ نے اس کے لئے لکھ دی ہے، تو اسے شہید کے برابر اجر ملے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26139
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3474
حدیث نمبر: 26140
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَد , قَالَ : حَدَّثَنَا الْمُثَنَّى يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ , قَالَ : حَدَّثَنَا قَتَادَةُ , عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ , عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَغْتَسِلَ مِنْ جَنَابَةٍ تَوَضَّأَ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ , ثُمَّ صَبَّ عَلَى رَأْسِهِ ثَلَاثَ مِرَارٍ , يُخَلِّلُ بِأَصَابِعِهِ أُصُولَ الشَّعْرِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے غسل جنابت کی تفصیل یوں مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سب سے پہلے نماز جیسا وضو فرماتے تھے، پھر سر کے بالوں کی جڑوں کا خلال فرماتے تھے اور تین مرتبہ پانی بہاتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26140
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، قتادة لم يسمع من عروة
حدیث نمبر: 26141
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ , قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْبٌ , قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى , قَالَ : حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَنْصَارِيُّ , أَنَّ عَمْرَةَ أَخْبَرَتْهُ , أَنَّ عَائِشَةَ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ حَدَّثَتْهَا ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " تُقْطَعُ الْيَدُ فِي رُبُعِ دِينَارٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا چوتھائی دینار یا اس سے زیادہ کی چوری کرنے والے کا ہاتھ کاٹ دیا جائے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26141
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6791، م: 1685
حدیث نمبر: 26142
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ , قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْبٌ , قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى , عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حِطَّانَ , أَنَّ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ عَائِشَةَ , أَخْبَرَتْهُ , وَأَبُو عَامِرٍ , حَدَّثَنَا هِشَامٌ , عَنْ يَحْيَى , عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حِطَّانَ , أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " لَمْ يَكُنْ يَدَعُ فِي بَيْتِهِ ثَوْبًا فِيهِ تَصْلِيبٌ إِلَّا قَضَبَهُ " , قَالَ عَبْدُ الصَّمَدِ فِي حَدِيثِهِ قَالَ وَقَدْ كَانَ خَالَطَ ثِيَابَنَا الْحَرِيرُ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر میں کوئی ایسا کپڑا نہیں چھوڑتے تھے جس میں صلیب کا نشان بنا ہوا ہو، یہاں تک کہ اسے ختم کردیتے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26142
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 5952
حدیث نمبر: 26143
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ , حَدَّثَنَا حَرْبٌ , قَالَ : حَدَّثَنِي يَحْيَى , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ , أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ حَدَّثَهُ ، وَكَانَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ قَوْمِهِ خُصُومَةٌ فِي أَرْضٍ , أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى عَائِشَةَ , فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهَا , فَقَالَتْ : يَا أَبَا سَلَمَةَ , اجْتَنِبْ الْأَرْضَ , فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ ظَلَمَ قِيدَ شِبْرٍ مِنَ الْأَرْضِ , طُوِّقَهُ مِنْ سَبْعِ أَرَضِينَ " .
مولانا ظفر اقبال
ابو سلمہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ وہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس زمین کا ایک جھگڑا لے کر حاضر ہوئے، تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان سے فرمایا اے ابو سلمہ ! زمین چھوڑ دو ، کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے جو شخص ایک بالشت بھر زمین بھی کسی سے ظلماً لیتا ہے، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کے گلے میں سات زمینوں کا وہ حصہ طوق بنا کر ڈالے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26143
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2453، م: 1612
حدیث نمبر: 26144
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ , قَالَ : حَدَّثَنِي الرَّبِيعُ يَعْنِي ابْنَ حَبِيبٍ الْحَنَفِيَّ , قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الرَّقَاشِيَّ , يَقُولُ : سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنْ نَبِيذِ الْجَرِّ , فَأَخْرَجَتْ إِلَيَّ جَرَّةً مِنْ وَرَاءِ الْحِجَابِ , فَقَالَتْ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ يَكْرَهُ مَا يُصْنَعُ فِي هَذِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
ابو سعید رقاشی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مٹکے کی نبیذ کے متعلق پوچھا تو انہوں نے پردہ کے پیچھے سے مجھے ایک مٹکا دکھایا اور فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس جیسے مٹکے بنانے سے منع فرماتے تھے اور اسے ناپسند کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26144
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة أبى سعيد
حدیث نمبر: 26145
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو , قَالَ : حَدَّثَنَا هِشَامٌ , عَنْ يَحْيَى , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عُرْوَةَ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ : " كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُنِي وَهُوَ صَائِمٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم روزے کی حالت میں بوسہ دے دیا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26145
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 1928، م: 1106
حدیث نمبر: 26146
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو , قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ , عَنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، وَالْمُنْذِرِ بْنِ أَبِي الْمُنْذِرِ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَظَرَ إِلَى الْقَمَرِ , فَقَالَ : " يَا عَائِشَةُ , اسْتَعِيذِي بِاللَّهِ مِنْ شَرِّ هَذَا , فَإِنَّ هَذَا الْغَاسِقُ إِذَا وَقَبَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے چاند دکھایا جو طلوع ہو رہا تھا اور فرمایا عائشہ ! اس اندھیری رات کے شر سے اللہ کی پناہ مانگا کرو جب وہ چھا جایا کرے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26146
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 26147
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ , قَالَ : حَدَّثَنَا خَارِجَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ مِنْ وَلَدِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ , عَنْ أَبِي الرِّجَالِ , عَنْ أُمِّهِ عَمْرَةَ , عَنْ عَائِشَةَ , أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا يُمْنَعُ نَقْعُ مَاءٍ فِي بِئْرٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ضرورت سے زائد پانی یا کنوئیں میں بچ رہنے والے پانی کے استعمال سے کسی کو روکا نہ جائے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26147
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خارجة بن عبدالله توبع
حدیث نمبر: 26148
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو , عَنْ زُهَيْرٍ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَخْرُجُ إِلَى الْبَقِيعِ فَيَدْعُو لَهُمْ , فَسَأَلَتْهُ عَائِشَةُ عَنْ ذَلِكَ ؟ فَقَالَ : " إِنِّي أُمِرْتُ أَنْ أَدْعُوَ لَهُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جنت البقیع اور وہاں مدفون مسلمانوں کے لئے دعا فرماتے تھے، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق دریافت کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے ان کیلئے دعا کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26148
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه لأن أبا بكر لم يسمع من عائشة
حدیث نمبر: 26149
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ , قَالَ : حَدَّثَنَا سَعِيدٌ , عَنْ قَتَادَةَ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ , عَنْ عَائِشَةَ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَعَنَ اللَّهُ قَوْمًا اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ان لوگوں پر اللہ کی لعنت ہو جنہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26149
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 436، م: 531
حدیث نمبر: 26150
حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ مَسْعَدَةَ , وقال عَبْد اللَّهِ بن أحمد : حَدَّثَنَا الْقَوَارِيرِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ , عَنْ أَشْعَثَ , عَنِ الْحَسَنِ , عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ , عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنِ التَّبَتُّلِ " , قَالَ عَبْد اللَّهِ : فَحَدَّثَنِيهِ أَبِي , فَقَالَ : أَسْمَعْهُ مِنْ يَحْيَى.
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے گوشہ نشینی سے منع فرما لیا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26150
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح
حدیث نمبر: 26151
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ السَّهْمِيُّ , حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ أَبِي صَغِيرَةَ , عَنْ أَبِي قَزَعَةَ ، أَنَّ عَبْدَ الْمَلِكِ بَيْنَمَا هُوَ يَطُوفُ بِالْبَيْتِ إِذْ قَالَ : قَاتَلَ اللَّهُ ابْنَ الزُّبَيْرِ حَيْثُ يَكْذِبُ عَلَى أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ , يَقُولُ : سَمِعْتُهَا وَهِيَ تَقُولُ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " يَا عَائِشَةُ , لَوْلَا حِدْثَانُ قَوْمِكِ بِالْكُفْرِ لَنَقَبْتُ الْبَيْتَ " قَالَ أَبِي : قَالَ الْأَنْصَارِيُّ : لَنَقَضْتُ الْبَيْتَ حَتَّى أَزِيدَ فِيهِ مِنَ الْحِجْرِ , فَإِنَّ قَوْمَكِ قَصَّرُوا عَنِ الْبِنَاءِ , فَقَالَ الْحَارِثُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ : لَا تَقُلْ هَذَا يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ , فَأَنَا سَمِعْتُ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ تُحَدِّثُ هَذَا , فَقَالَ : لَوْ كُنْتُ سَمِعْتُ هَذَا قَبْلَ أَنْ أَهْدِمَهُ , لَتَرَكْتُهُ عَلَى بِنَاءِ ابْنِ الزُّبَيْرِ .
مولانا ظفر اقبال
ابو قزعہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ خلیفہ عبدالملک بیت اللہ کا طواف کر رہا تھا، دوران طواف وہ کہنے لگا کہ ابن زبیر پر اللہ کی مار ہو، ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرف جھوٹی نسبت کر کے کہتا ہے کہ میں نے انہیں یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے عائشہ ! اگر تمہاری قوم کا زمانہ کفر کے قریب نہ ہوتا تو میں بیت اللہ کو شہید کر کے حطیم کا حصہ بھی اس میں شامل کردیتا کیونکہ تمہاری قوم نے بیت اللہ کی عمارت میں سے اسے چھوڑ دیا تھا، اس پر حارث بن عبداللہ بن ابی ربیعہ نے کہا امیر المومنین ! یہ بات نہ کہیں کیونکہ یہ حدیث تو میں نے بھی ام المومنین سے سنی ہے، تو عبدالملک نے کہا کہ اگر میں نے اسے شہید کرنے سے پہلے یہ حدیث سنی ہوتی تو میں اسے ابن زبیر کی تعمیر پر برقرار رہنے دیتا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26151
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1333
حدیث نمبر: 26152
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ الْبُرْسَانِيُّ , قَالَ : أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ قَيْسٍ , قَالَ : أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ , قَالَ : أَخْبَرَتْنِي عَائِشَةُ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " لَمْ يَدْخُلْ عَلَيْهَا بَعْدَ صَلَاةِ الْعَصْرِ , إِلَّا رَكَعَ عِنْدَهَا رَكْعَتَيْنِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ عصر کی نماز کے بعد جب بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کے گھر میں تشریف لائے تو وہاں دو رکعتیں ضرور پڑھیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26152
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 591، م: 835
حدیث نمبر: 26153
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ , قَالَ : حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ عَيَّاشٍ أَلَيْسَ ذُكِرَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَنَّهُ كَانَ يُصْبِحُ وَهُوَ جُنُبٌ فَيَغْتَسِلُ وَيَصُومُ ؟ " , فَقَالَ سُفْيَانُ : حَدَّثَنِيهِ حَمَّادٌ , عَنْ إِبْرَاهِيمَ , عَنِ الْأَسْوَدِ , عَنْ عَائِشَةَ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم صبح کے وقت حالت جنابت میں ہوتے تو غسل کر کے روزہ رکھ لیتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26153
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح
حدیث نمبر: 26154
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ , ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ , عَنْ مَنْصُورٍ , عَنْ إِبْرَاهِيمَ , عَنِ الْأَسْوَدِ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ : " خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ لَا يَرَوْنَ إِلَّا أَنَّهُ الْحَجُّ , فَلَمَّا طَافَ بِالْبَيْتِ , وَأَمَرَ أَصْحَابَهُ فَطَافُوا , أَمَرَهُمْ فَحَلُّوا , قَالَتْ : وَكُنْتُ قَدْ حِضْتُ , فَوَقَفْتُ الْمَوَاقِفَ كُلَّهَا إِلَّا الطَّوَافَ بِالْبَيْتِ , فَقُلْتُ : يَرْجِعُونَ بِعُمْرَةٍ وَحَجَّةٍ وَأَرْجِعُ بِحَجَّةٍ ؟ قَالَتْ : فَأَرْسَلَ مَعِي أَخِي , فَلَقِيتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُصْعِدًا مُدْلِجًا عَلَى أَهْلِ الْمَدِينَةِ , وَأَنَا مُدْلِجَةٌ عَلَى أَهْلِ مَكَّةَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ روانہ ہوئے، ہماری نیت صرف حج کرنا تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ مکرمہ پہنچے اور بیت اللہ کا طواف کیا لیکن احرام نہیں کھولا کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہدی کا جانور تھا، آپ کو ازواج مطہرات اور صحابہ رضی اللہ عنہ نے بھی طواف و سعی کی اور ان تمام لوگوں نے احرام کھول لیا جن کے ساتھ نہیں تھا۔ میں ایام سے تھی، ہم لوگ اپنے مناسک حج ادا کر کے جب کوچ کرنے کے لئے مقام حصبہ پر پہنچے تو میں نے عرض کے یا رسول اللہ ! کیا آپ کے صحابہ حج اور عمرہ دونوں کے ساتھ اور میں صرف حج کے ساتھ واپس جاؤں گی ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب ہم مکہ مکرمہ پہنچے تھے تو کیا تم نے ان دونوں میں طواف نہیں کیا تھا ؟ میں نے عرض کیا نہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے ساتھ میرے بھائی کو بھیج دیا، پھر میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے رات کے وقت ملی جبکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ کے بالائی حصے پر چڑھ رہے تھے اور میں نیچے اتر رہی تھی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26154
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1561، م: 1211
حدیث نمبر: 26155
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ , قَالَ : حَدَّثَنَا إسْرَائِيلُ , عَنْ مَنْصُورٍ , عَنْ إِبْرَاهِيمَ , عَنِ الْأَسْوَدِ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ : " كُنْتُ أَفْتِلُ الْقَلَائِدَ لِهَدْيِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ يَمْكُثُ , قَالَتْ : وَكَانَ يُهْدِي الْغَنَمَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدی کے جانور یعنی بکری کے قلادے بٹا کرتی تھی، اس کے بعد بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کسی چیز سے اپنے آپ کو نہیں روکتے تھے (جن سے محرم بچتے تھے) ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26155
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1703، م: 1321
حدیث نمبر: 26156
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ , قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ , عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْأَسْوَدِ , عَنْ عَائِشَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ يَنَامُ أَوَّلَ اللَّيْلِ وَيُحْيِي آخِرَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کے پہر میں سو جاتے تھے اور آخری پہر میں بیدار ہوتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند النساء / حدیث: 26156
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1146