حدیث نمبر: 26078
حَدَّثَنَا رَوْحٌ , حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ , أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُرْوَةَ , أَنَّهُ سَمِعَ عُرْوَةَ وَالْقَاسِمَ يُخْبِرَانِ , عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " طَيَّبْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدَيَّ بِذَرِيرَةٍ لِحَجَّةِ الْوَدَاعِ لِلْحِلِّ وَالْإِحْرَامِ حِينَ أَحْرَمَ , وَحِينَ رَمَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ يَوْمَ النَّحْرِ قَبْلَ أَنْ يَطُوفَ بِالْبَيْتِ " .
مولانا ظفر اقبال
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ حجتہ الوداع کے موقع پر میں اپنے دونوں ہاتھوں سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے احرام پر " ذریرہ " خوشبو لگائی ہے جبکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم احرام باندھتے تھے اور طوافِ زیارت سے قبل حلال ہونے کے بعد بھی خوشبو لگائی ہے۔
حدیث نمبر: 26079
حَدَّثَنَا رَوْحٌ , قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْخَزَّازُ ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ , عَنْ عَائِشَةَ , أَنَّهَا قَالَتْ : " طَيَّبْتُ , تَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ أَهَلَّ بِأَطْيَبِ مَا قَدَرْتُ عَلَيْهِ مِنْ طِيبِي " .
مولانا ظفر اقبال
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نے اپنے دونوں ہاتھوں سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے احرام پر عمدہ سے عمدہ خوشبو لگائی ہے جو میرے پاس دستیاب ہوتی تھی۔
حدیث نمبر: 26080
حَدَّثَنَا رَوْحٌ , حَدَّثَنَا شُعْبَةُ , قَالَ : أَخْبَرَنَا الْحَكَمُ ، وَحَمَّادٍ ، وَمَنْصُورٍ ، وَسُلَيْمَانَ ، عَنِ إِبْرَاهِيمَ , عَنْ الْأَسْوَدِ , عَنْ عَائِشَةَ , أَنَّهَا قَالَتْ : " كَأَنَّمَا أَنْظُرُ إِلَى وَبِيصِ الطِّيبِ فِي مَفْرِقِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ " , قَالَ سُلَيْمَانُ : فِي شَعْرِ , وَقَالَ مَنْصُورٌ : فِي أُصُولِ شَعْرِهِ , وَقَالَ الْحَكَمُ وَحَمَّادٌ فِي مَفْرِقِ .
مولانا ظفر اقبال
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ( میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے پاس موجود سب سے عمدہ خوشبو لگاتی تھی اور) گویا وہ منظر اب تک میری نگاہوں کے سامنے ہے کہ میں حالت احرام میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سر پر مشک کی چمک دیکھ رہی ہوں۔
حدیث نمبر: 26081
حَدَّثَنَا رَوْحٌ , حَدَّثَنَا الثَّوْرِيُّ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ النَّخَعِيِّ , عَنْ إِبْرَاهِيمَ , عَنِ الْأَسْوَدِ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ : " كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى وَبِيصِ الْمِسْكِ فِي رَأْسِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ " .
مولانا ظفر اقبال
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ( میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے پاس موجود سب سے عمدہ خوشبو لگاتی تھی اور) گویا وہ منظر اب تک میری نگاہوں کے سامنے ہے کہ میں حالت احرام میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سر پر مشک کی چمک دیکھ رہی ہوں۔
حدیث نمبر: 26082
حَدَّثَنَا رَوْحٌ , حَدَّثَنَا سَعِيدٌ , عَنْ قَتَادَةَ , عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ , عَنْ أَبِي عِيَاضٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ , أَنَّ مَرْوَانَ بْنَ الْحَكَمِ بَعَثَهُ إِلَى أُمِّ سَلَمَةَ وَعَائِشَةَ , فَقَالَ : أَتَيْتُ غُلَامَ أُمِّ سَلَمَةَ نَافِعًا , فَأَرْسَلْتُهُ إِلَيْهَا , فَرَجَعَ إِلَيَّ فَأَخْبَرَنِي أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ , قَالَتْ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصْبِحُ جُنُبًا مِنْ غَيْرِ احْتِلَامٍ , ثُمَّ يُصْبِحُ صَائِمًا " , قَالَ : ثُمَّ لَقِيَ غُلَامَ عَائِشَةَ ، ذَكْوَانَ أَبَا عَمْرٍو , فَبَعَثَهُ إِلَيْهَا , فَسَأَلَهَا عَنْ ذَلِكَ , فَأَخْبَرَتْهُ ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ يُصْبِحُ جُنُبًا مِنْ غَيْرِ احْتِلَامٍ , ثُمَّ يُصْبِحُ صَائِمًا " .
مولانا ظفر اقبال
عبد الرحمن بن حارث کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ مروان بن حکم نے ایک آدمی کے ساتھ مجھے ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اور حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ کے پاس یہ پوچھنے کے لئے بھیجا کہ اگر کوئی آدمی رمضان کے مہینے میں اس حال میں صبح کرے کہ وہ جنبی ہو اور اس نے اب تک غسل نہ کیا ہو تو کیا حکم ہے ؟ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ وسلم صبح کے وقت اختیاری طور پر حالت جنابت میں ہوتے، پھر غسل کرلیتے اور بقیہ دن کا روزہ مکمل کرلیتے تھے اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے جواب دیا کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ وسلم خواب دیکھے بغیر اختیاری طور پر صبح کے وقت حالت جنابت میں ہوتے اور اپنا روزہ مکمل کرلیتے تھے۔
حدیث نمبر: 26083
حَدَّثَنَا رَوْحٌ , قَالَ : حَدَّثَنِي مَالِكٌ , عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَعْمَرٍ الْأَنْصَارِيِّ , عَنْ أَبِي يُونُسَ مَوْلَى عَائِشَةَ , عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ رَجُلًا قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ وَاقِفٌ عَلَى الْبَابِ : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أُصْبِحُ جُنُبًا وَأَنَا أُرِيدُ الصِّيَامَ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَأَنَا أُصْبِحُ جُنُبًا وَأَنَا أُرِيدُ الصِّيَامَ , ثُمَّ أَغْتَسِلُ فَأَصُومُ " , قَالَ الرَّجُلُ : إِنَّكَ لَسْتَ مِثْلَنَا , إِنَّكَ قَدْ غُفِرَ لَكَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ , فَغَضِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ : " وَاللَّهِ , إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ أَكُونَ أَخْشَاكُمْ لِلَّهِ , وَأَعْلَمَ بِمَا أَتَّقِي " .
مولانا ظفر اقبال
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا یا رسول اللہ ! اگر نماز کا وقت آجائے، مجھ پر غسل واجب ہو اور میں روزہ بھی رکھنا چاہتا ہوں تو کیا کروں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر میرے ساتھ ایسی کیفیت پیش آجائے تو میں غسل کر کے روزہ رکھ لیتا ہوں، وہ کہنے لگا، ہم آپ کی طرح نہیں ہیں، اللہ تعالیٰ نے آپ کے تو اگلے پچھلے سارے گناہ معاف فرما دیئے ہیں، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم ناراض ہوگئے اور غصے کے آثار چہرہ مبارک پر نظر آنے لگے اور فرمایا واللہ مجھے امید ہے کہ تم سب سے زیادہ اللہ سے ڈرنے والا اور اس کے متعلق جاننے والا میں ہی ہوں۔
حدیث نمبر: 26084
حَدَّثَنَا حُجَيْنُ بْنُ الْمُثَنَّى , قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ , عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْبَهِيِّ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ , عَنْ عَائِشَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ لَهَا : " نَاوِلِينِي الْخُمْرَةَ مِنَ الْمَسْجِدِ " فَقَالَتْ : إِنِّي حَائِضٌ , فَقَالَ : " إِنَّ حَيْضَتَكِ لَيْسَتْ فِي يَدِكِ " .
مولانا ظفر اقبال
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کہ مسجد سے چٹائی اٹھا کر مجھے دینا، میں نے عرض کیا کہ میں تو ایام سے ہوں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہارا حیض تمہارے ہاتھ میں تو نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 26085
حَدَّثَنَا رَوْحٌ , حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ رُسْتُمَ , عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ , قَالَ : قَالَتْ عَائِشَةُ دَخَلَ عَلَيّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا بِسَرِفَ وَأَنَا أَبْكِي , فَقَالَ : " مَا يُبْكِيكِ يَا عَائِشَةُ ؟ " فَقَالَتْ : قُلْتُ : يَرْجِعُ النَّاسُ بِنُسُكَيْنِ , وَأَنَا أَرْجِعُ بِنُسُكٍ وَاحِدٍ ! قَالَ : " وَلِمَ ذَاكَ ؟ " قَالَتْ : قُلْتُ : إِنِّي حِضْتُ , قَالَ : " ذَاكَ شَيْءٌ كَتَبَهُ اللَّهُ عَلَى بَنَاتِ آدَمَ , اصْنَعِي مَا يَصْنَعُ الْحَاجُّ " , قَالَتْ : فَقَدِمْنَا مَكَّةَ , ثُمَّ ارْتَحَلْنَا إِلَى مِنًى , ثُمَّ ارْتَحَلْنَا إِلَى عَرَفَةَ , ثُمَّ وَقَفْنَا مَعَ النَّاسِ , ثُمَّ وَقَفْتُ بِجَمْعٍ , ثُمَّ رَمَيْتُ الْجَمْرَةَ يَوْمَ النَّحْرِ , ثُمَّ رَمَيْتُ الْجِمَارَ مَعَ النَّاسِ تِلْكَ الْأَيَّامَ , قَالَتْ : ثُمَّ ارْتَحَلَ حَتَّى نَزَلَ الْحَصْبَةَ , قَالَتْ : وَاللَّهِ مَا نَزَلَهَا إِلَّا مِنْ أَجْلِي , أَوْ قَالَ ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ عَنْهَا إِلَّا مِنْ أَجْلِهَا , ثُمَّ أَرْسَلَ إِلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ , فَقَالَ : " احْمِلْهَا خَلْفَكَ حَتَّى تُخْرِجَهَا مِنَ الْحَرَمِ " , فَوَاللَّهِ مَا قَالَ : فَتُخْرِجُهَا إِلَى الْجِعِرَّانَةِ , وَلَا إِلَى التَّنْعِيمِ , فَلْتُهِلَّ بِعُمْرَةٍ , قَالَتْ : فَانْطَلَقْنَا , وَكَانَ أَدْنَى إِلَى الْحَرَمِ التَّنْعِيمُ , فَأَهْلَلْتُ مِنْهُ بِعُمْرَةٍ , ثُمَّ أَقْبَلْتُ فَأَتَيْتُ الْبَيْتَ , فَطُفْتُ بِهِ , وَطُفْتُ بَيْنَ الصَّفَا ، وَالْمَرْوَةِ , ثُمَّ أَتَيْتُهُ فَارْتَحَلَ , قَالَ ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ وَكَانَتْ عَائِشَةُ تَفْعَلُ ذَلِكَ بَعْدُ .
مولانا ظفر اقبال
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ہم نے حج کا تلبیہ پڑھا، جب سرف کے مقام پر پہنچے تو میرے " ایام " شروع ہوگئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو میں رو رہی تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عائشہ ! کیوں رو رہی ہو ؟ میں نے عرض کیا کہ میرے " ایام " شروع ہوگئے ہیں، کاش ! میں حج ہی نہ کرنے آتی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سبحان اللہ ! یہ تو وہ چیز ہے جو اللہ نے آدم علیہ السلام کی ساری بیٹیوں پر لکھ دی ہے، تم سارے مناسک ادا کرو، البتہ بیت اللہ کا طواف نہ کرنا، جب ہم مکہ مکرمہ میں داخل ہوگئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اپنے احرام کو عمرے کا احرام بنانا چاہے، وہ ایسا کرسکتا ہے، الاّ یہ کہ اس کے پاس ہدی کا جانور ہو۔ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دس ذی الحجہ کوا پنی ازواج کی طرف سے گائے ذبح کی تھی، شب بطحاء کو میں " پاک " ہوئی اور عرض کیا یا رسول اللہ ! کیا میری سہلیاں حج اور عمرہ دونوں کے ساتھ واپس جائیں اور میں صرف حج کے ساتھ واپس جاؤں گی ؟ چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عبدالرحمن بن ابی بکر کو حکم دیا اور وہ مجھے تنعیم لے گئے جہاں سے میں نے عمرے کا احرام باندھا۔
حدیث نمبر: 26086
حَدَّثَنَا رَوْحٌ , قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ , عَنِ ابْنِ شِهَابٍ , عَنْ عُرْوَةَ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ : خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ , فَنَزَلْنَا الشَّجَرَةَ , فَقَالَ : " مَنْ شَاءَ فَلْيُهِلَّ بِعُمْرَةٍ وَمَنْ شَاءَ فَلْيُهِلَّ بِحَجَّةٍ " , قَالَتْ عَائِشَةُ : فَأَهَلَّ مِنْهُمْ بِعُمْرَةٍ , وَأَهَلَّ مِنْهُمْ بِحَجَّةٍ , قَالَتْ : وَكُنْتُ أَنَا مِمَّنْ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ , فَأَدْرَكَنِي يَوْمُ عَرَفَةَ وَأَنَا حَائِضٌ , فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " انْقُضِي رَأْسَكِ , وَامْتَشِطِي , وَذَرِي عُمْرَتَكِ وَأَهِلِّي بِالْحَجِّ " , فَلَمَّا كَانَ لَيْلَةُ الْحَصْبَةِ , أَمَرَنِي , فَاعْتَمَرْتُ مَكَانَ عُمْرَتِي الَّتِي تَرَكْتُ .
مولانا ظفر اقبال
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ حجتہ الوداع کے موقع پر ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ روانہ ہوئے، میں نے عمرے کا احرام باندھ لیا، میرے ساتھ ہدی کا جانور نہیں تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اعلان فرما دیا کہ جس کے ساتھ ہدی کے جانور ہوں تو وہ اپنے عمرے کے ساتھ حج کا احرام بھی باندھ لے اور دونوں کا احرام اکٹھا ہی کھولے، میں ایام سے تھی، شب عرفہ کو میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! میں نے عمرے کا احرام باندھا تھا، اب حج میں کیا کروں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سر کے بال کھول کر کنگھی کرلو، عمرہ چھوڑ کر حج کرلو، جب میں نے حج مکمل کرلیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عبدالرحمن کو حکم دیا تو اس نے مجھے پہلے عمرے کی جگہ تنعیم سے عمرہ کروا دیا۔
حدیث نمبر: 26087
حَدَّثَنَا رَوْحٌ , حَدَّثَنَا كَهْمَسٌ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ , قَالَ : سَأَلْتُ عَائِشَةَ أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ شَهْرًا كُلَّهُ ؟ قَالَتْ : " مَا عَلِمْتُهُ صَامَ شَهْرًا كُلَّهُ حَتَّى يُفْطِرَ مِنْهُ إِلَّا رَمَضَانَ , وَلَا أَفْطَرَ شَهْرًا كُلَّهُ حَتَّى يَصُومَ مِنْهُ حَتَّى مَضَى لِوَجْهِهِ , أَوْ لِسَبِيلِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
مولانا ظفر اقبال
عبداللہ بن شقیق کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نفلی روزوں کے متعلق پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ رمضان کے علاوہ مجھے کوئی ایسا مہینہ معلوم نہیں ہے جس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے روزہ رکھا ہو، ناغہ کیا ہو تو روزہ نہ رکھا ہو، تاآنکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم دنیا سے رخصت ہوگئے۔
حدیث نمبر: 26088
حَدَّثَنَا رَوْحٌ , حَدَّثَنَا سَعِيدٌ , عَنْ قَتَادَةَ , عَنْ أَبِي حَسَّانَ الْأَعْرَجِ , أَنَّ رَجُلَيْنِ دَخَلَا عَلَى عَائِشَةَ , فَقَالَا : إِنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ يُحَدِّثُ ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ : " إِنَّمَا الطِّيَرَةُ فِي الْمَرْأَةِ وَالدَّابَّةِ وَالدَّارِ " , قَالَ : فَطَارَتْ شِقَّةٌ مِنْهَا فِي السَّمَاءِ , وَشِقَّةٌ فِي الْأَرْضِ , فَقَالَتْ : وَالَّذِي أَنْزَلَ الْقُرْآنَ عَلَى أَبِي الْقَاسِمِ مَا هَكَذَا كَانَ يَقُولُ , وَلَكِنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ : " كَانَ أَهْلُ الْجَاهِلِيَّةِ يَقُولُونَ : الطِّيَرَةُ فِي الْمَرْأَةِ وَالدَّارِ وَالدَّابَّةِ " , ثُمَّ قَرَأَتْ عَائِشَةُ مَا أَصَابَ مِنْ مُصِيبَةٍ فِي الأَرْضِ وَلا فِي أَنْفُسِكُمْ إِلا فِي كِتَابٍ سورة الحديد آية 22 إِلَى آخِرِ الْآيَةِ .
مولانا ظفر اقبال
ابو حسان کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو بتایا کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ حدیث بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا نحوست عورت، گھر اور سواری کے جانور میں ہوتی ہے تو وہ سخت غصے میں آئیں، پھر اس آدمی نے کہا کہ اس کا ایک حصہ آسمان کی طرف اڑ جاتا ہے اور ایک حصہ زمین پر رہ جاتا ہے، ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ اس سے تو اہل جاہلیت بد شگونی لیا کرتے تھے ( اسلام نے ایسی چیزوں کو بےاصل قرار دیا ہے)
حدیث نمبر: 26089
حَدَّثَنَا رَوْحٌ , قَالَ : حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ , عَنْ بُدَيْلٍ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ اللَّيْثِيِّ , عَنِ امْرَأَةٍ مِنْهُمْ يُقَالُ لَهَا : أُمُّ كُلْثُومٍ , عَنْ عَائِشَةَ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَأْكُلُ فِي سِتَّةٍ مِنْ أَصْحَابِهِ , فَجَاءَ أَعْرَابِيٌّ جَائِعٌ فَأَكَلَ بِلُقْمَتَيْنِ , فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَمَا إِنَّهُ لَوْ ذَكَرَ اسْمَ اللَّهِ لَكَفَاكُمْ , فَإِذَا أَكَلَ أَحَدُكُمْ فَلْيَذْكُرْ اسْمَ اللَّهِ , فَإِنْ نَسِيَ أَنْ يُسَمِّيَ اللَّهَ فِي أَوَّلِهِ , فَلْيَقُلْ بِسْمِ اللَّهِ فِي أَوَّلِهِ وَآخِرِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے چھ صحابہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ بیٹھے کھانا کھا رہے تھے کہ ایک دیہاتی آیا اور دو لقموں میں ہی سارا کھانا کھا گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر یہ بسم اللہ پرھ لیتا تو یہ کھانا تم سب کو کفایت کرجاتا، اس لئے جب تم میں سے کوئی شخص کھانا کھائے تو اسے اس پر بسم اللہ پڑھ لینی چاہیے، اگر وہ شروع میں بسم اللہ پڑھنا بھول جائے تو یاد آنے پر یہ پڑھ لیا کرے " بِسْمِ اللَّهِ فِي أَوَّلِهِ وَآخِرِهِ "
حدیث نمبر: 26090
حَدَّثَنَا رَوْحٌ , حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ , عَنْ نَافِعٍ , عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ , عَنْ عَائِشَةَ , أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ أَنَّهَا اشْتَرَتْ نُمْرُقَةً فِيهَا تَصَاوِيرُ , فَلَمَّا رَآهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَامَ عَلَى الْبَابِ , فَلَمْ يَدْخُلْ , فَعَرَفْتُ فِي وَجْهِهِ الْكَرَاهِيَةَ , فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ , أَتُوبُ إِلَى اللَّهِ وَإِلَى رَسُولِهِ , مَا أَذْنَبْتُ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا بَالُ هَذِهِ النُّمْرُقَةِ ؟ " فَقُلْتُ : اشْتَرَيْتُهَا لِتَقْعُدَ عَلَيْهَا وَلِتَوَسَّدَهَا , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ أَصْحَابَ هَذِهِ الصُّورِ يُعَذَّبُونَ بِهَا , يُقَالُ لَهُمْ أَحْيُوا مَا خَلَقْتُمْ " , وَقَالَ : " إِنَّ الْبَيْتَ الَّذِي فِيهِ الصُّورَةُ لَا تَدْخُلُهُ الْمَلَائِكَةُ " .
مولانا ظفر اقبال
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ انہوں نے ایک تصویر والی چادر لی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دیکھا تو دورازے پر ہی کھڑے رہے، اندر نہ آئے، میں نے ان کے چہرے پر ناپسندیدگی کے آثار دیکھے، میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! میں اللہ اور اس کے رسول کے سامنے توبہ کرتی ہوں، مجھ سے کیا غلطی ہوئی ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا یہ چادر کیسی ہے ؟ میں نے عرض کیا کہ میں نے یہ آپ کے بیٹھنے اور ٹیک لگانے کے لئے خریدی ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ان تصویروں والوں کو قیامت کے دن عذاب میں مبتلا کیا جائے گا اور ان سے کہا جائے گا کہ جو چیزیں تم نے تخلیق کی تھیں، انہیں زندگی بھی دو اور فرمایا جس گھر میں تصویریں ہوں، اس میں رحمت کے فرشتے داخل نہیں ہوتے۔
حدیث نمبر: 26091
حَدَّثَنَا رَوْحٌ , حَدَّثَنَا شُعْبَةُ , قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ يَعْنِي الْجَدَلِيَّ , يَقُولُ : سَأَلْتُ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ عَائِشَةَ عَنْ خُلُقِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ فَقَالَتْ : " لَمْ يَكُ فَاحِشًا وَلَا مُتَفَحِّشًا وَلَا صَخَّابًا فِي الْأَسْوَاقِ , وَلَكِنْ يَعْفُو وَيَصْفَحُ " .
مولانا ظفر اقبال
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کوئی بیہودہ کام یا گفتگو کرنے والے یا بازاروں میں شور مچانے والے نہیں تھے اور وہ برائی کا بدلہ برائی سے نہیں دیتے تھے، بلکہ معاف اور در گذر فرماتے تھے۔
حدیث نمبر: 26092
حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ , قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي , قَالَ : حَدَّثَنِي الزُّبَيْرُ بْنُ عُبَيْدٍ ، عَنْ نَافِعٍ , قَالَ : يَعْنِي : أَبَا عَاصِمٍ , قَالَ أَبِي : وَلَا أَدْرِي مَنْ هُوَ , يَعْنِي : نَافِعٌ هَذَا , قَالَ : كُنْتُ أَتَّجِرُ إِلَى الشَّامِ , أَوْ إِلَى مِصْرَ , قَالَ : فَتَجَهَّزْتُ إِلَى الْعِرَاقِ , فَدَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ , فَقُلْتُ : يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ , إِنِّي قَدْ تَجَهَّزْتُ إِلَى الْعِرَاقِ , فَقَالَتْ : مَا لَكَ وَلِمَتْجَرِكَ , إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِذَا كَانَ لِأَحَدِكُمْ رِزْقٌ فِي شَيْءٍ , فَلَا يَدَعْهُ حَتَّى يَتَغَيَّرَ لَهُ , أَوْ يَتَنَكَّرَ لَهُ " فَأَتَيْتُ الْعِرَاقَ , ثُمَّ دَخَلْتُ عَلَيْهَا , فَقُلْتُ : يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ , وَاللَّهِ مَا رَدَدْتُ الرَّأْسَ مَالٍ , فَأَعَادَتْ عَلَيْهِ الْحَدِيثَ , أَوْ قَالَتْ الْحَدِيثُ كَمَا حَدَّثْتُكَ.
مولانا ظفر اقبال
نافع کہتے ہیں کہ میں شام یا مصر میں تجارت کیا کرتا تھا، ایک مرتبہ میں نے عراق جانے کی تیاری کرلی لیکن روانگی سے پہلے ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان سے عرض کیا کہ اے ام المومنین ! میں عراق جانے کی تیاری کرچکا ہوں، انہوں نے فرمایا کہ تم اپنی تجارت کی جگہ چھوڑ کر کیوں جا رہے ہو ؟ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جب تم میں سے کسی شخص کا کسی چیز کے ساتھ رزق وابستہ ہو تو وہ اسے ترک نہ کرے الاّ یہ کہ اس میں کوئی تبدیلی پیدا ہوجائے یا وہ بگڑ جائے، تاہم میں پھر بھی عراق چلا گیا، واپسی پر ام المومنین کی خدمت میں دوبارہ حاضر ہوا اور عرض کیا اے ام المومنین ! واللہ مجھے اصل سرمایہ بھی واپس نہیں مل سکا، انہوں نے فرمایا کہ میں نے تو تمہیں پہلی ہی حدیث سنا دی تھی۔
حدیث نمبر: 26093
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ , قَالَ : حَدَّثَنَا مَالِكٌ , عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ , عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ , وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ " .
مولانا ظفر اقبال
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بچہ صاحب فراش کا ہوتا ہے اور بدکار کے لئے پتھر ہیں۔
حدیث نمبر: 26094
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ , قَالَ : أَخْبَرَنَا يُونُسُ , عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ , عَنْ عَائِشَةَ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَوْ اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِي مَا اسْتَدْبَرْتُ مَا سُقْتُ الْهَدْيَ , وَلَأَحْلَلْتُ مَعَ الَّذِينَ حَلُّوا مِنَ الْعُمْرَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اگر مجھے اس معاملے کا پہلے پتہ چل جاتا جس کا علم بعد میں ہوا تو میں اپنے ساتھ ہدی کا جانور کبھی نہ لاتا اور ان لوگوں کے ساتھ ہی احرام کھول دیتا جنہوں نے عمرہ کر کے احرام کھول دیا ہے۔
حدیث نمبر: 26095
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ , قَالَ : حَدَّثَنَا يُونُسُ , عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ , عَنْ عَائِشَةَ , أَنَّ الْحَوْلَاءَ بِنْتَ تُوَيْتٍ مَرَّتْ عَلَى عَائِشَةَ , وَعِنْدَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ : فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ , هَذِهِ الْحَوْلَاءُ , وَزَعَمُوا أَنَّهَا لَا تَنَامُ اللَّيْلَ ؟ فَقَالَ : " لَا تَنَامُ اللَّيْلَ ! خُذُوا مِنَ الْعَمَلِ مَا تُطِيقُونَ , فَوَاللَّهِ لَا يَسْأَمُ اللَّهُ حَتَّى تَسْأَمُوا " .
مولانا ظفر اقبال
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ان کے پاس ایک عورت " حولاء " آتی تھی جو عبادات میں محنت و مشقت برداشت کرنے کے لئے حوالے سے مشہور تھی، میں نے جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا تذکرہ کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اتنا عمل کیا کرو جتنی طاقت تم میں ہے، واللہ اللہ تعالیٰ تو نہیں اکتائے گا البتہ تم ضرور اکتا جاؤ گے۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حدیث نمبر: 26096
حَدَّثَنَاه وَهْبٌ , قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ : سَمِعْتُ النُّعْمَانَ , عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ : مَرَّتْ الْحَوْلَاءُ بِنْتُ تُوَيْتِ بْنِ حَبِيبِ بْنِ أَسَدِ بْنِ عَبْدِ الْعُزَّى , فَذَكَرَهُ , وَقَالَ : " فَإِنَّ اللَّهَ لَا يَسْأَمُ حَتَّى تَسْأَمُوا " .
حدیث نمبر: 26097
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ , عَنِ الزُّهْرِيِّ , ، قَالَ عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، أَخْبَرَتْنِي عَائِشَةُ , أَنَّ الْحَوْلَاءَ بِنْتَ تُوَيْتِ بْنِ حَبِيبِ بْنِ أَسَدِ بْنِ عَبْدِ الْعُزَّى , فَذَكَرَ الْحَدِيثَ.
حدیث نمبر: 26098
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ , حَدَّثَنَا يُونُسُ , عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا نَذْرَ فِي مَعْصِيَةِ اللَّهِ , وَكَفَّارَتُهُ كَفَّارَةُ يَمِينٍ " .
مولانا ظفر اقبال
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ کی نافرمانی میں کوئی منت نہیں ہوتی اور اس کا کفارہ وہی ہے جو قسم کا کفارہ ہوتا ہے۔
حدیث نمبر: 26098
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ , قَالَ : حَدَّثَنَا يُونُسُ , عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ , عَنْ عَائِشَةَ , أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا نَذْرَ فِي مَعْصِيَةِ اللَّهِ , وَكَفَّارَتُهُ كَفَّارَةُ يَمِينٍ " .
مولانا ظفر اقبال
ہمارے پاس دستیاب نسخے میں یہاں لفظ " حدثنا " لکھا ہوا ہے۔
حدیث نمبر: 26099
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ , قَالَ : حَدَّثَنَا يُونُسُ , عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ , عَنْ عَائِشَةَ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا تُحَرِّمُ الْمَصَّةُ وَلَا الْمَصَّتَانِ " .
مولانا ظفر اقبال
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کسی عورت کی چھاتی سے ایک دو مرتبہ دودھ چوس لینے سے حرمت رضاعت ثابت نہیں ہوتی۔
حدیث نمبر: 26100
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ , قَالَ : حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ , عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ , أَخْبَرَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ , عَنْ عَائِشَةَ , أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهَا : " أَلَمْ تَرَيْ أَنَّ قَوْمَكِ حِينَ بَنَوْا الْكَعْبَةَ اسْتَقْصَرُوا عَلَى قَوَاعِدِ إِبْرَاهِيمَ ؟ " فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ , أَفَلَا تَرُدُّهَا عَلَى قَوَاعِدِ إِبْرَاهِيمَ ؟ فَقَالَ : " لَوْلَا حِدْثَانُ قَوْمِكِ بِالْكُفْرِ " فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ : إِنْ كَانَتْ عَائِشَةُ سَمِعَتْ هَذَا الْحَدِيثَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَلَا أَرَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَرَكَ اسْتِلَامَ الرُّكْنَيْنِ اللَّذَيْنِ يَلِيَانِ الْحِجْرَ إِلَّا أَنَّ الْبَيْتَ لَمْ يُتَمَّ عَلَى قَوَاعِدِ إِبْرَاهِيمَ .
مولانا ظفر اقبال
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کیا تمہیں معلوم ہے کہ تمہاری قوم نے جب خانہ کعبہ کی تعمیر نو کی تھی تو اسے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی بنیادوں سے کم کردیا تھا ؟ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! پھر آپ اسے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی بنیاد پر کیوں لوٹا نہیں دیتے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تمہاری قوم کا زمانہ کفر نہ ہوتا تو ایسا ہی کرتا، حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث سن کر فرمایا واللہ اگر ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے یہ حدیث نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے تو میرا خیال ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم حطیم سے ملے ہوئے دونوں کونوں کا استلام اسی لئے نہیں فرماتے تھے کہ بیت اللہ کی تعمیر حضرت ابراہیم علیہ السلام کی بنیادوں پر مکمل نہیں ہوئی تھی۔
حدیث نمبر: 26101
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ , قَالَ : حَدَّثَنَا يُونُسُ , عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ : " لَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُومُ عَلَى بَابِ حُجْرَتِي , وَالْحَبَشَةُ يَلْعَبُونَ بِحِرَابِهِمْ , يَسْتُرُنِي بِرِدَائِهِ لِكَيْ أَنْظُرَ إِلَى لَعِبِهِمْ , ثُمَّ يَقُومُ حَتَّى أَكُونَ أَنَا الَّتِي أَنْصَرِفُ " .
مولانا ظفر اقبال
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ عید کے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کچھ حبشی کرتب دکھا رہے تھے، میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کندھے پر سر رکھ کر انہیں جھانک کر دیکھنے لگی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے کندھے میرے لئے جھکا دیئے، میں انہیں دیکھتی رہی اور جب دل بھر گیا تو واپس آگئی۔
حدیث نمبر: 26102
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ , قَالَ : أَخْبَرَنَا يُونُسُ , عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ , أَنَّ عَائِشَةَ , قَالَتْ : " وَإِنْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيُدْخِلُ عَلَيَّ رَأْسَهُ , وَهُوَ فِي الْمَسْجِدِ , فَأُرَجِّلُهُ , وَكَانَ لَا يَدْخُلُ الْبَيْتَ إِلَّا لِحَاجَةٍ إِلَّا إِذَا أَرَادَ الْوُضُوءَ وَهُوَ مُعْتَكِفٌ " .
مولانا ظفر اقبال
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم معتکف ہوتے اور مسجد سے اپنا سر نکال دیتے، میں اسے کنگھی کردیتی اور وہ گھر میں صرف وضو کے لئے ہی آتے تھے۔
حدیث نمبر: 26103
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ , قَالَ : حَدَّثَنَا أُسَامَةُ , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ , عَنْ أُمِّهِ أَسْمَاءَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ : قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ سَفَرٍ وَقَدْ اشْتَرَيْتُ نَمَطًا فِيهِ صُورَةٌ , فَسَتَرْتُهُ عَلَى سَهْوَةِ بَيْتِي , فَلَمَّا دَخَلَ , كَرِهَ مَا صَنَعْتُ , وَقَالَ : " أَتَسْتُرِينَ الْجُدُرَ يَا عَائِشَةُ ؟ " فَطَرَحْتُهُ فَقَطَعْتُهُ مِرْفَقَتَيْنِ , فَقَدْ رَأَيْتُهُ مُتَّكِئًا عَلَى إِحْدَاهُمَا , وَفِيهَا صُورَةٌ .
مولانا ظفر اقبال
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کسی سفر سے واپس آئے، میں نے ایک تصویروں والا پردہ خریدا ہوا تھا جسے میں نے اپنے گھر کے صحن میں لٹکا لیا تھا، جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم گھر میں تشریف لائے تو میرے اس کارنامے پر ناپسندیدگی کا اظہار کیا اور فرمایا اے عائشہ ! دیواروں کو پردوں سے ڈھانپ رہی ہو ؟ چنانچہ میں نے اسے اتار کر اسے کاٹا اور دو تکئے بنا لئے اور تصویر کی موجودگی میں ہی میں نے اس پر اپنے آپ کو ٹیک لگائے ہوئے دیکھا ہے۔
حدیث نمبر: 26104
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ , قَالَ : أَخْبَرَنِي عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ , قَالَ : أَخْبَرَنِي أَبِي , عَنْ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ , وَمُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ , قَالَ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ , قَالَ : أَخْبَرَنِي أَبِي , عَنْ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ , عَنْ عَائِشَةَ , أَنَّهَا سَمِعَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " مَا يُصِيبُ الْمُؤْمِنَ شَيْءٌ إِلَّا كَانَ لَهُ بِهِ أَجْرٌ , أَوْ كَفَّارَةٌ , حَتَّى النَّكْبَةُ وَالشَّوْكَةُ " .
مولانا ظفر اقبال
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کسی مسلمان کو کانٹا چبھنے کی یا اس سے بھی کم درجے کی کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو اس کے بدلے اس کے گناہوں کا کفارہ ہوجاتا ہے۔
حدیث نمبر: 26105
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ , قَالَ : أَخْبَرَنَا يُونُسُ , عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ , عَنْ عَائِشَةَ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيْهَا وَعِنْدَهَا امْرَأَةٌ مِنْ الْيَهُودِ , وَهِيَ تَقُولُ : أُشْعِرْتُ أَنَّكُمْ تُفْتَنُونَ فِي الْقُبُورِ ؟ فَارْتَاعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ : " إِنَّمَا تُفْتَنُ يَهُوَدُ " , قَالَتْ عَائِشَةُ : فَلَبِثْنَا لَيَالِيَ , ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أُشْعِرْتُ أَنَّهُ أُوحِيَ إِلَيَّ أَنَّكُمْ تُفْتَنُونَ فِي الْقُبُورِ " , وَقَالَتْ عَائِشَةُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدُ يَسْتَعِيذُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ .
مولانا ظفر اقبال
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے تو ایک یہودی عورت میرے یہاں بیٹھی تھی اور وہ کہہ رہی تھی کیا معلوم ہے کہ قبروں میں تمہاری آزمائش کی جائے گی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہماری طرف متوجہ ہو کر فرمایا یہودیوں کو ہی آزمائش میں مبتلا کیا جائے گا، کچھ عرصہ گذرنے کے بعد ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کیا تمہیں پتہ چلا کہ مجھ پر وحی آگئی ہے کہ تمہیں قبروں میں آزمایا جائے گا ؟ اس کے بعد میں نے ہمیشہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو عذاب قبر سے پناہ مانگتے ہوئے سنا ہے۔
حدیث نمبر: 26106
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ , قَالَ : أَخْبَرَنَا يُونُسُ , عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ , عَنْ عَائِشَةَ , أَنَّهَا قَالَتْ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ إِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً , فَكَانَتْ تِلْكَ صَلَاتُهُ , يَسْجُدُ فِي السَّجْدَةِ مِنْ ذَلِكَ قَدْرَ مَا يَقْرَأُ أَحَدُكُمْ خَمْسِينَ آيَةً قَبْلَ أَنْ يَرْفَعَ رَأْسَهُ , وَيَرْكَعُ رَكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْفَجْرِ , ثُمَّ يَضْطَجِعُ عَلَى شِقِّهِ الْأَيْمَنِ حَتَّى يَأْتِيَهُ الْمُؤَذِّنُ " .
مولانا ظفر اقبال
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم عشاء اور فجر کے درمیان گیارہ رکعتیں پڑھتے تھے ہر دو رکعت پر سلام پھر دیتے تھے اور ایک رکعت وتر پڑھتے تھے، نوافل میں اتنا لمبا سجدہ کرتے کہ ان کے سر اٹھانے سے پہلے تم میں سے کوئی شخص پچاس آیتیں پڑھ لے، جب مؤذن اذان دے کر فارغ ہوتا تو دو مختصر رکعتیں پڑھتے، پھر دائیں پہلو پر لیٹ جاتے، یہاں تک کہ مؤذن آجاتا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز کی اطلاع دیتا۔
حدیث نمبر: 26107
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ , قَالَ : أَخْبَرَنَا يُونُسُ , عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ , عَنْ عَائِشَةَ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ يَأْمُرُ بِصِيَامِ عَاشُورَاءَ قَبْلَ أَنْ يَنْزِلَ رَمَضَانُ , فَلَمَّا فُرِضَ رَمَضَانُ كَانَ مَنْ شَاءَ صَامَ , وَمَنْ شَاءَ أَفْطَرَ " .
مولانا ظفر اقبال
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رمضان کے روزے فرض ہونے سے پہلے نبی صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ رضی اللہ عنہ کو دس محرم کا روزہ رکھنے کا حکم دیتے رہے، پھر جب ماہ رمضان کے روزے فرض ہوگئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم ماہ رمضان ہی کے روزے رکھنے لگے اور عاشورہ کا روزہ چھوڑ دیا، اب جو چاہے وہ روزہ رکھ لے اور جو چاہے نہ رکھے۔
حدیث نمبر: 26108
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ , قَالَ : أَخْبَرَنَا يُونُسُ , عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ , أَنَّ عَائِشَةَ , قَالَتْ : لَمَّا أُمِرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِتَخْيِيرِ أَزْوَاجِهِ , بَدَأَ بِي , فَقَالَ : " يَا عَائِشَةُ , إِنِّي أَذْكُرُ لَكِ أَمْرًا , وَلَا عَلَيْكِ أَنْ لَا تَسْتَعْجِلِي حَتَّى تُذَاكِرِي أَبَوَيْكِ " , قَالَتْ : وَقَدْ عَلِمَ أَنَّ أَبَوَيَّ لَمْ يَكُونَا لِيَأْمُرَانِي بِفِرَاقِهِ , ثُمَّ قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ يَأَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لأَزْوَاجِكَ إِنْ كُنْتُنَّ تُرِدْنَ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا وَزِينَتَهَا سورة الأحزاب آية 28 حَتَّى بَلَغَ أَعَدَّ لِلْمُحْسِنَاتِ مِنْكُنَّ أَجْرًا عَظِيمًا سورة الأحزاب آية 29 فَقُلْتُ : فِي أَيِّ هَذَا أَسْتَأْمِرُ أَبَوَيَّ ؟ فَإِنِّي قَدْ اخْتَرْتُ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَالدَّارَ الْآخِرَةَ , قَالَتْ : ثُمَّ فَعَلَ أَزْوَاجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا فَعَلْتُ .
مولانا ظفر اقبال
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب آیت تخییر نازل ہوئی سب سے پہلے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلایا اور فرمایا اے عائشہ ! میں تمہارے سامنے ایک بات ذکر کرنا چاہتا ہوں، تم اس میں اپنے والدین سے مشورے کے بغیر کوئی فیصلہ نہ کرنا، میں نے عرض کیا ایسی کیا بات ہے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلا کر یہ آیت تلاوت فرمائی " اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ! اپنی بیویوں سے کہہ دیجئے کہ اگر تم اللہ اور اس کے رسول اور دار آخرت کو چاہتی ہو " يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لِأَزْوَاجِكَ إِنْ كُنْتُنَّ تُرِدْنَ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا وَزِينَتَهَا حَتَّى بَلَغَ أَعَدَّ لِلْمُحْسِنَاتِ مِنْكُنَّ أَجْرًا عَظِيمًا " میں نے عرض کیا کہ کیا میں اس معاملے میں اپنے والدین سے مشورہ کروں گی ؟ میں اللہ اور اس کے رسول کو اختیار کرتی ہوں، اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم بہت خوش ہوئے۔
حدیث نمبر: 26109
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ , حَدَّثَنَا يُونُسُ , عَنِ الزُّهْرِيِّ ، وَجَدْتُ فِي مَوْضِعٍ عَنْ عُرْوَةَ , وَمَوْضِعٍ آخَرَ , عَنْ عَمْرَةَ , كِلَاهُمَا قَالَهُ عُثْمَانُ , عَنْ عَائِشَةَ " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحَرَ عَنْ أَزْوَاجِهِ بَقَرَةً فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ " .
مولانا ظفر اقبال
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حجتہ الوداع کے موقع پر اپنی ازواج مطہرات کی طرف سے گائے کی قربانی کی تھی۔
حدیث نمبر: 26110
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ , حَدَّثَنَا يُونُسُ , عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ , عَنْ عَائِشَةَ , " أَنَّ نِسَاءً مِنَ الْمُؤْمِنَاتِ كُنَّ يَشْهَدْنَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصُّبْحَ , ثُمَّ يَنْقَلِبْنَ مُتَلَفِّعَاتٍ بِمُرُوطِهِنَّ إِلَى بُيُوتِهِنَّ , مَا يُعْرَفْنَ مِنَ الْغَلَسِ " .
مولانا ظفر اقبال
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ نماز فجر میں خواتین بھی شریک ہوتی تھیں، پھر اپنی چادروں میں اس طرح لپٹ کر نکلتی تھیں کہ انہیں کوئی پہچان نہیں سکتا تھا۔
حدیث نمبر: 26111
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ , حَدَّثَنَا يُونُسُ , عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ , عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي عَلَى خُمْرَةٍ , فَقَالَ : " يَا عَائِشَةُ , ارْفَعِي عَنَّا حَصِيرَكِ هَذَا , فَقَدْ خَشِيتُ أَنْ يكونَ يَفْتِنَ النَّاسَ " .
مولانا ظفر اقبال
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک مرتبہ چٹائی پر نماز پڑھ رہے تھے، نماز سے فارغ ہو کر فرمایا عائشہ ! اس چٹائی کو ہمارے پاس سے اٹھا لو، کیونکہ مجھے اندیشہ ہے کہ لوگ فتنے میں نہ پڑھ جائیں۔
حدیث نمبر: 26112
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ , حَدَّثَنَا يُونُسُ , حَدَّثَنَا أَبُو شَدَّادٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ , قَالَ : قَالَتْ عَائِشَةُ ، خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَلَمَّا كُنَّا بِالْحَزِّ , انْصَرَفْنَا وَأَنَا عَلَى جَمَلٍ , وَكَانَ آخِرُ الْعَهْدِ مِنْهُمْ , وَأَنَا أَسْمَعُ صَوْتَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ بَيْنَ ظَهْرَيْ ذَلِكَ السَّمُرِ , وَهُوَ يَقُولُ : " وَا عَرُوسَاهْ " قَالَتْ : فَوَاللَّهِ إِنِّي لَعَلَى ذَلِكَ إِذْ نَادَى مُنَادٍ أَنْ أَلْقِي الْخِطَامَ , فَأَلْقَيْتُهُ , فَأَعْلَقََهُ اللَّهُ بِيَدِهِ .
مولانا ظفر اقبال
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کسی سفر پر روانہ ہوئے، حر کے پاس پہنچ کر ہم واپس روانہ ہوئے، میں اپنے اونٹ پر سوار تھی، جو سب سے آخر میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ملنے والا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس ببول کے درختوں کے درمیان تھے اور میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز سن رہی تھی، کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کہہ رہے ہیں ہائے میری دلہن ! واللہ میں ابھی اسی اونٹ پر تھی کہ ایک منادی نے پکار کر کہا کہ اس کی لگام پھنک دو ، میں نے اس کی لگام پھنک دی تو اللہ نے اسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں دے دیا۔
حدیث نمبر: 26113
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ يَعْنِي أَبَا دَاوُدَ الطَّيَالِسِيَّ , حَدَّثَنَا شُعْبَةُ , عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي عَائِشَةَ , قَالَ : سَمِعْتُ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ يُحَدِّثُ ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَمَرَ أَبَا بَكْرٍ أَنْ يُصَلِّيَ بِالنَّاسِ فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ , فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ يَدَيْ أَبِي بَكْرٍ يُصَلِّي بِالنَّاسِ قَاعِدًا , وَأَبُو بَكْرٍ يُصَلِّي بِالنَّاسِ , وَالنَّاسُ خَلْفَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ مرض الوفات میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا انتظار کر رہے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے پاس یہ پیغام بھیجا کہ آپ لوگوں کو نماز پڑھا دیں، حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کھڑے ہو کر نماز پڑھتے رہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ کر نماز پڑھنے لگے اور لوگ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پیچھے تھے۔
حدیث نمبر: 26114
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ , قَالَ : أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ , عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُمَيْرٍ , قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي مُوسَى , قَالَ أَحْمَدُ ابْنُ أَبِي قَيْسٍ وَهُوَ الصَّوَابُ , مَوْلَى لِبَنِي نَصْرِ بْنِ مُعَاوِيَةَ , قَالَ : قَالَتْ لِي عَائِشَةُ : " لَا تَدَعْ قِيَامَ اللَّيْلِ , فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ لَا يَدَعُهُ , وَكَانَ إِذَا مَرِضَ أَوْ كَسِلَ , صَلَّى قَاعِدًا " .
مولانا ظفر اقبال
عبداللہ بن ابی موسیٰ ( اور زیادہ صحیح رائے کے مطابق عبداللہ بن ابی قیس) " جو کہ بنو نصر بن معاویہ کے آزاد کردہ غلام تھے " سے مروی ہے کہ ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے مجھ سے فرمایا ہے قیام اللیل کو کبھی نہ چھوڑنا، کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسے کبھی ترک نہیں فرماتے تھے، حتیٰ کہ اگر بیمار ہوتے یا طبیعت میں چستی نہ ہوتی تو بھی بیٹھ کر پڑھ لیتے تھے۔
حدیث نمبر: 26115
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ الْبُرْسَانِيُّ , قَالَ : أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي زِيَادٍ , عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ , عَنْ عَائِشَةَ أَتَتْ سَهْلَةُ ابْنَةُ سُهَيْلِ بْنِ عَمْرٍو , فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنَّ سَالِمًا كَانَ يَدْخُلُ عَلَيَّ وَأَنَا وَاضِعَةٌ ثَوْبِي , ثُمَّ إِنَّهُ يَدْخُلُ عَلَيَّ الْآنَ بَعْدَمَا شَبَّ وَكَبِرَ , فَأَجِدُ فِي نَفْسِي مِنْ ذَلِكَ , قَالَ : " فَأَرْضِعِيهِ , فَإِنَّ ذَلِكَ يَذْهَبُ بِالَّذِي تَجِدِينَ فِي نَفْسِكِ " .
مولانا ظفر اقبال
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ سہلہ بنت سہیل ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا یا رسول اللہ ! سالم میرے یہاں آتا تھا، میں اپنا دوپٹہ وغیرہ اتارے رکھتی تھی، لیکن اب جب وہ بڑی عمر کا ہوگیا ہے اور اس کے بال بھی سفید ہوگئے تو اس کے آنے پر میرے دل میں بوجھ ہوتا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم اسے دودھ پلا دو ، یہ بوجھ دور ہوجائے گا۔
حدیث نمبر: 26116
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ , حَدَّثَنَا هَمَّامٌ , حَدَّثَنَا يَحْيَى , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زُرَارَةَ , عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , عَنْ عَائِشَةَ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا تُقْطَعُ الْيَدُ إِلَّا فِي رُبُعِ دِينَارٍ " .
مولانا ظفر اقبال
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم چوتھائی دینار یا اس سے زیادہ کی چوری کرنے والے کا ہاتھ کاٹ دیا جائے۔
…